Karachi current status
Infrastructure ❌
Security ❌
Water Supply ❌
Sewerage system ❌
Rain emergency System ❌
Electricity ❌
Metropolitan city facilities ❌
E- Challan ✅
Tanker Mafia ✅
Dumper Mafia ✅
Dakait ✅
Corrupt govt ✅
Corrupt police ✅
Corrupt govt departments✅
Accountability zero ✅
Mazeed jo yad aty jae add krty jaen...
𝐉𝐈𝐊 𝐓𝐞𝐚𝐦 𝐔𝐩𝐝𝐚𝐭𝐞
جماعت اسلامی کی ہر قسم ویڈیوز کیلئے ہمارے پیج کو فالوں کرے !پیج کو زیادہ سےزیادہ شیرز کرے !
اجتماع عام امید کی نئی کرن ثابت ہوگا۔
انشاء اللہ
22/10/2025
40 کاونٹرز پر مشتمل کراچی کا سب سے بڑا نادر ا میگا سینٹر گلبرگ ٹاؤن میں قائم ہوگا، گلبرگ ٹاؤن اور نادرا کے درمیان MOU پر دستخط، روزانہ 4ہزار درخواست گزاروں کو سہولت فراہم کرے گا، پاسپورٹ کاؤنٹر بھی قائم ہوگا
زبردست!
20/10/2025
الخدمت فاؤنڈیشن نے غزہ کی بحالی کیلئے 15 ارب روپے پر مشتمل ’ری بلڈ غزہ‘ پروگرام کا آغاز کردیا۔
صدر الخدمت فاؤنڈیشن ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے غزہ میں ریلیف سرگرمیوں کے حوالے سے مصر کے دورے سے واپسی پر پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اب تک غزہ کے متاثرین کے لیے 8 ارب 10 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ 5 ہزار ٹن امدادی سامان پر مشتمل 35 کنسائنمنٹس ائیر کارگو اور بحری راستوں سے غزہ روانہ کی جا چکی ہیں جن میں خیمے، کمبل، خوراک، آٹا، چاول، ہائی جین کٹس، ڈلیوری کٹس اور بے بی کٹس سمیت دیگر ضروری اشیائے خوردونوش شامل تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’ری بلڈ غزہ‘‘ پروگرام کے پہلے مرحلے میں 6 ہزار خاندانوں کے لیے فوڈ پیکجز، 100 ٹن امدادی سامان اور 100 ٹن چاول قاہرہ سے غزہ بھیجے جا رہے ہیں جبکہ 100 ٹن قربانی کے گوشت کو ریڈی ٹو ایٹ پیکٹس کی صورت میں تیار کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہناتھاکہ غزہ میں الخدمت کے چھ واٹر فلٹریشن پلانٹس پہلے ہی کام کر رہے ہیں جنہیں بڑھا کر پینے کے صاف پانی کے 100 منصوبوں تک توسیع دی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسمِ سرما کی آمد کے پیش نظر آئندہ ہفتے پاکستان سے دو کارگو فلائٹس روانہ کی جائیں گی جن میں شیلٹرز، خیمے، کمبل، گرم کپڑے اور سلیپنگ بیگز شامل ہوں گے۔
ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں دو شیلٹر اسکول فعال ہیں جبکہ مختلف صوبوں میں مزید پانچ اسکول قائم کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں الخدمت اسکالرشپس پر موجود 404 فلسطینی طلبہ کی تعداد کو ایک ہزار تک بڑھایا جائے گا جبکہ غزہ میں یتیم بچوں کی کفالت 750 سے بڑھا کر 3 ہزار تک کی جا رہی ہے۔
صدر الخدمت کے مطابق شہدا فیملیز کی رجسٹریشن 1550 خاندانوں تک مکمل ہو چکی ہے جن میں سے 50 خاندانوں کی کفالت کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
طبی سہولیات کے حوالے سے بتایا گیا کہ اب تک 394 ٹن ادویات اور تین ایمبولینسز غزہ میں خدمات فراہم کر رہی ہیں جبکہ 500 زخمیوں کو پاکستان لا کر علاج فراہم کرنے کا منصوبہ بھی حتمی مراحل میں ہے، الخدمت نے فیلڈ ہاسپٹل کی تیاری مکمل کر لی ہے جہاں مصنوعی اعضا کی تیاری کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی جبکہ ’’ری بلڈ غزہ‘‘ کے تحت پانچ شیلٹر مساجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے جسے بتدریج 25 تک بڑھایا جائے گا۔
ڈاکٹر حفیظ الرحمان نے کہا کہ یہ پروگرام محض ریلیف نہیں بلکہ غزہ کے لوگوں کی پائیدار بحالی کی جانب ایک جامع قدم ہے، پاکستانی عوام کا تعاون ہمارا حوصلہ ہے اور ہم غزہ کے عوام کو باوقار زندگی کی طرف لوٹانے تک اپنی کاوشیں جاری رکھیں گے۔
19/10/2025
سینیٹر مشتاق کی علیحدگی —اصل حقائق کیا ہے؟
مشتاق احمد خان کا جماعتِ اسلامی سے نہ کوئی اصولی اختلاف تھا اور نہ ہی نظریاتی۔ وہ جماعت کی پالیسیوں یا حکمتِ عملی سے اختلاف کی بنیاد پر علیحدہ نہیں ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ چند انتظامی معاملات کو انہوں نے انا کا مسئلہ بنایا اور خود کو جماعت کے نظم کے مقابل لاکھڑا کیا۔ بالخصوص امیرِ جماعت سراج الحق کے حوالے سے انہوں نے نہایت نامناسب طرزِ عمل اختیار کیا۔
بات کو گھمانے میں مہارت رکھنے والے موصوف نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گویا جماعتِ اسلامی نے انہیں نکالنے یا دور کرنے پر مجبور کیا، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
جناب سراج الحق ہوں یا موجودہ امیرِ جماعت حافظ نعیم الرحمن دونوں نے انہیں منانے اور ساتھ رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے وفود بنے، جرگے ہوئے، اور ان کے قریبی احباب کے ذریعے انہیں دوبارہ اجتماعیت کے دائرے میں لانے کی کاوشیں جاری رہیں۔ حتیٰ کہ دونوں امرائے جماعت نے خود ان سے بالمشافہ ملاقاتیں بھی کیں۔
جب حافظ نعیم الرحمن امیرِ جماعت منتخب ہوئے تو انہوں نے بڑے پن کا ثبوت دیتے ہوئے موصوف کو مرکزی ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، مگر انہوں نے اس پیشکش سے معذرت کرلی۔ انہی کے مطالبے پر انہیں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں مدعو کیا گیا اور بات رکھنے کا مکمل موقع دیا گیا۔ وہاں انہوں نے خود امیرِ جماعت سے ملاقات اور ان کی خواہش کے ساتھ اپنی معذرت کا اعتراف بھی کیا۔ تاہم جب مرکزی مجلسِ شوریٰ نے متفقہ طور پر فیصلہ دیا کہ وہ تمام غیر تنظیمی سرگرمیوں کو ترک کر کے جماعت کے نظم کے تحت کام جاری رکھیں، تو موصوف نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
نومنتخب امیرِ جماعت کی قیادت میں جماعت میں ایک مثبت اور متحرک فضا قائم ہوئی۔ امیرِ جماعت قومی و بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں ہونے لگے اور عوامی سطح پر انہیں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔ بظاہر یہ صورتحال موصوف کے لیے ناقابلِ برداشت ثابت ہوئی اور انہوں نے تنظیمی یکجہتی کو متاثر کرنے اور قیادت کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔
اس تمام تر صورتحال میں امیرِ جماعت اور نظمِ جماعت نے غیر معمولی صبر و تحمل اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا۔ متعدد احباب کی تجویز پر رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا گیا۔ انفرادی اور اجتماعی ملاقاتیں بھی ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ انہی کے اصرار پر امیرِ جماعت نے ایک بار پھر ان سے ون ٹو ون ملاقات کی، مگر موصوف بدستور اسی مؤقف پر قائم رہے کہ وہ جماعت میں رہتے ہوئے آزادانہ سیاسی سفر جاری رکھیں گے یعنی وہی ایجنڈا آگے بڑھائیں گے جسے وہ اپنے استعفے کا ’’جواز‘‘ قرار دیتے ہیں۔
تقریباً چار سال تک اسی ہٹ دھرمی اور تضادِ رویہ کے بعد بالآخر انہوں نے حالات کا رخ دیکھتے ہوئے ’’اطاعتِ نظم‘‘ کا ارادہ فرمایا اور احباب کے اصرار پر امیرِ جماعت کے نام خط لکھا، جسے خود انہوں نے ’’معافی نامہ‘‘ بھی کہا۔
امیرِ جماعت اور نظمِ جماعت نے فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کا عذر قبول کیا اور صوبائی نظم کو ہدایت کی کہ انہیں مناسب حکمتِ عملی کے ساتھ دوبارہ تنظیمی دائرے میں شامل کیا جائے۔ صوبائی نظم نے رابطہ برقرار رکھا اور ضلع نظم، جہاں ان کی رکنیت تھی ،کو ہدایت کی گئی کہ انہیں مقامی پروگراموں میں شریک رکھا جائے۔
مگر ابھی اس ’’سرِ تسلیم خم‘‘ کیے چند ماہ ہی گزرے تھے کہ غزہ فلوٹیلا کا اعلان سامنے آگیا اور ان کا ’’باغی مزاج‘‘ دوبارہ انگڑائی لے کر جاگ اٹھا۔ انہوں نے نظمِ جماعت کو اعتماد میں لیے بغیر ملائشیا فلوٹیلا کے منتظمین سے براہ راست رابطہ کیا۔ وہاں سے انہیں بتایا گیا کہ پاکستان میں رابطہ اسلامی جمعیت طلبہ کے ذریعے ہوگا۔ جمعیت کے ذمہ داران نے جماعت کو اس حوالے سے آگاہ کیا تو نظمِ جماعت نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب موصوف خود رابطہ کریں گے تو مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔
جمعیت نے یہی پیغام انہیں پہنچایا تو انہوں نے ردِعمل میں اپنے کیے ہوئے وعدوں اور ’’اطاعتِ نظم‘‘ کو نظرانداز کرتے ہوئے کسی متبادل ذریعے سے فلوٹیلا میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہاں سے ان کی خبریں اور بیانات مسلسل نشر ہوتے رہے، جس پر غزہ کے مظلوموں کے ساتھ فطری وابستگی رکھنے والے عوام نے انہیں بھرپور پذیرائی دی اور ان کی سوشل میڈیا فالوونگ لاکھوں میں پہنچ گئی۔ یہ صورتحال ان کے لیے ایک نیا اعتماد بن گئی اور انہوں نے اپنا علیحدہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔ اسی دوران انہوں نے فلوٹیلا ہی سے جماعتِ اسلامی کی رکنیت سے استعفیٰ بھی بھجوادیا۔
امیرِ جماعت نے اعلیٰ تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کے استعفے کو نظرانداز کیا اور فلوٹیلا مشن کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ جماعتی حلقوں نے واضح طور پر انہیں اپنا نمائندہ قرار دیا۔ امیرِ جماعت نے بڑے اجتماعات، پریس کانفرنسوں اور میڈیا گفتگو میں ان کا نام لے کر یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کی گرفتاری کی مذمت کی گئی اور ملک گیر ’’یومِ احتجاج‘‘ منایا گیا۔ رہائی پر خوشی کا اظہار کیا گیا اور وطن واپسی پر استقبال کی تیاریاں کی گئیں۔
مگر چونکہ موصوف پہلے ہی ’’علیحدہ پرواز‘‘ کا فیصلہ کرچکے تھے، لہٰذا انہوں نے اردن سے یہ اعلان کردیا کہ ان کا استقبال ’’سیاسی‘‘ نہیں ہوگا اور کوئی سیاسی جماعت ،خصوصاً جماعتِ اسلامی اپنا جھنڈا ساتھ نہ لائے۔ جماعتی ذمہ داران کو واضح طور پر استقبال سے روک دیا گیا۔ اس کے باوجود جماعت اسلامی کی قیادت بالغ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے استقبال میں شریک ہوئی اور ذمہ داران و کارکنان موجود رہے۔ مگر وطن واپسی پر موصوف نے اقامتِ دین کی منظم جدوجہد سے لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے ’’ایشوز اور مسائل کی آزاد سیاسی جدوجہد‘‘ کے نام پر اپنی راہیں جدا کرنے کا باقاعدہ اعلان کردیا۔
افتخار احمد
16/10/2025
"بدل دو نظام"ــــ اجتماع عام، جماعت اسلامی پاکستان
23 ,22, 21,نومبر
📍مینارِ پاکستان، لاہور
ظلم کے ہر اقدام کو بدلو۔۔۔چہرے نہیں نظام کو بدلو
گزشتہ 78 سالوں سے وطن عزیز پر قابض کرپٹ حکمرانوں، اشرافیہ ، جرنیلوں اور بیوروکریسی نے عام پاکستانی کو ظلم، ناانصافی، جعلی انتخابات اور طبقاتی نظام کے بوجھ تلے دبا کر رکھا ہوا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس فرسودہ طبقاتی نظام کو بدلا جائے۔
جماعتِ اسلامی پاکستان نا صرف ملک گیر دیانتدار قیادت کی حامل واحد حقیقی جمہوری پارٹی کا درجہ رکھتی ہے، بلکہ شفاف سیاست کی ایسی علامت ہے جو کلٹ اور شخصیات کی سیاست کی بجائے منصفانہ نظام، ایک نصاب اور ایک زبان پر مبنی پاکستان کی جدوجہد کر رہی ہے۔ اسی سلسلے میں خیبر سے کراچی تک کے لاکھوں مردو خواتین اور نوجوانوں کو تعمیری انقلاب کے لیے اکٹھا کرنے کے لیے جماعت اسلامی پاکستان 21,22,23 نومبر کو مینار پاکستان لاہور پر "بدل دو نظام" اجتماع عام کا انعقاد کر کے ایک زبردست عوامی تحریک کا آغاز کر رہی ہے۔
آئیے ۔۔۔آگے بڑھیئے! ناانصافی ،ظلم اور طبقاتی نظام کو بدلنے کی جماعت اسلامی پاکستان کی اس تحریک کا آپ بھی حصہ بن جاہیے۔
16/10/2025
ہم پاکستان کے نوجوانوں کو مایوس نہیں ہونے دیں گے، بنوقابل اب ملک کے نوجوانوں کا نعرہ بن چکا ہے، یہ تعمیر اور ترقی کا ایجنڈا ہے۔
ملتان میں ہزاروں نوجوان الخدمت کے تحت ہونے والے مفت آئی ٹی کورسز کے پروگرام بنوقابل کے داخلہ ٹیسٹ میں شریک ہوئے، کراچی سے شروع ہونے والا یہ پروگرام ملک کے گوشے گوشے میں لاکھوں نوجوانوں کو آئی ٹی کی تعلیم سے جوڑ رہا ہے۔
12/10/2025
حکمران طبقہ پاکستان کے عوام کو ذاتوں ، برادریوں اور مسالک میں تقسیم کرتا ہے۔ان حکمرانوں کی جانب سے آئین کے مطابق حقوق، تعلیم اور روزگار نا دیئے جانے کی وجہ سے نوجوان پاکستان سے مایوس نا ہوں۔ نوجوان پاکستان کی ترقی اور قوم کو متحد کرنے کا کام کریں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Karachi Pakistan
Karachi
