01/06/2026
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے صوبائی محتسب اعلیٰ ڈاکٹر سہیل راجپوت کی ملاقات ہوئی، جس میں ڈاکٹر سہیل راجپوت نے وزیراعلیٰ سندھ کو ادارے کی سالانہ کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ رپورٹ کے مطابق سندھ محتسب کو 2025 میں 25,217 عوامی شکایات موصول ہوئیں جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 236 فیصد نمایاں اضافہ ہے۔ ڈاکٹر سہیل راجپوت نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا کہ محتسب سندھ نے 2025 میں 8,789 کیسز میں شہریوں کو ریلیف فراہم کیا جبکہ شہریوں کو ادارے کے ذریعے 4.29 ارب روپے کا مالی فائدہ حاصل ہوا۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شکایات میں اضافہ عوام کے ادارے پر اعتماد کی علامت ہے۔
01/06/2026
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی یومِ والدین پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ والدین کی محبت، قربانی اور تربیت مضبوط سماج کی بنیاد ہے۔ بچوں کی بہتر پرورش اور روشن مستقبل میں والدین کا کردار سب سے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماں باپ بچوں کے لیے اپنی خوشیاں قربان کرکے ان کی کامیابی کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔ سندھ حکومت بچوں، والدین اور خاندانوں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔
31/05/2026
سندھ میں پانی کی مسلسل قلت اور ارسا کی جانب سے سندھ کے ساتھ غیر منصفانہ رویے پر سندھ حکومت کا احتجاج
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ 1991 کے واٹر اپورشنمنٹ ایکارڈ کے تحت سندھ کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جانا چاہیے۔ کسی بھی صوبے کو دوسرے صوبے کے حصے پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ ایک جانب سندھ کے زرعی علاقوں میں پانی کی شدید قلت ہے، دوسری جانب چشمہ جہلم اور تونسہ پنجند لنک کینالز کے ذریعے بڑی مقدار میں پانی منتقل کیا جا رہا ہے۔ وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ارسا کے فیصلوں کا فوری نوٹس لے۔
31/05/2026
سندھ میں پانی کی مسلسل قلت اور ارسا کی جانب سے سندھ کے ساتھ غیر منصفانہ رویے پر سندھ حکومت کا احتجاج
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ 1991 کے آبی معاہدے کے مطابق سندھ کو اس کا مکمل اور جائز حصہ فراہم کرنے کے لیے وفاق عملی اقدامات کرے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت سندھ کے عوام کے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہر آئینی، قانونی اور جمہوری فورم پر سندھ کے حقِ آب کا بھرپور دفاع جاری رکھا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے حصے کے پانی پر کسی قسم کی کٹوتی یا غیر منصفانہ تقسیم پورے صوبے کے مفادات کے خلاف ہے۔ سندھ کے عوام کا مطالبہ ہے کہ ارسا کو اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
31/05/2026
سندھ میں پانی کی مسلسل قلت اور ارسا کی جانب سے سندھ کے ساتھ غیر منصفانہ رویے پر سندھ حکومت کا احتجاج
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ کراچی کو پانی کی فراہمی کا انحصار دریائے سندھ پر ہے اور سندھ کے حصے میں مسلسل کمی کا براہِ راست اثر کراچی پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی پہلے ہی پانی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑے فرق کا سامنا کر رہا ہے۔ ارسا سندھ کے جائز اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے نام نہاد "شارٹیج ایکولائزیشن" کے نام پر صوبے کا حصہ مزید کم کر رہا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔
31/05/2026
سندھ میں پانی کی مسلسل قلت اور ارسا کی جانب سے سندھ کے ساتھ غیر منصفانہ رویے پر سندھ حکومت کا احتجاج
سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ارسا کا حالیہ طرزِ عمل 1991 کے آبی معاہدے کی خلاف ورزی اور سندھ کے عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ گزشتہ کئی روز سے 22 فیصد پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ گڈو بیراج پر 42 فیصد اور کوٹری بیراج پر 29 فیصد تک پانی کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے حصے کے پانی میں غیر منصفانہ کمی کراچی جیسے معاشی مرکز شہر کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔
31/05/2026
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم بے بنیاد الزامات اور پرانی فرسودہ کہانیوں کے سہارے اپنی سیاست زندہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی سیاست ہمیشہ نعروں، الزامات اور بحران پیدا کرنے کے گرد گھومتی رہی ہے، آج بھی وہی پرانا طرزِ عمل دہرایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی خودمختاری، آئینی اختیارات اور بلدیاتی نظام کو سب سے زیادہ ایم کیو ایم نے متنازع بنانے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں جاری ترقیاتی منصوبے زمینی حقائق ہیں جنہیں کسی بھی پروپیگنڈے سے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
31/05/2026
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی اداروں کو نہ صرف اختیارات دیے ہیں بلکہ مالی وسائل اور قانونی معاونت بھی فراہم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کسی ایک جماعت کی جاگیر نہیں بلکہ پاکستان کا معاشی مرکز ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو عناصر ترقی کے ہر قدم پر تنقید کو اپنا سیاسی ہتھیار بناتے ہیں، وہ دراصل خود اپنے سیاسی زوال کا اعتراف کر رہے ہوتے ہیں۔