09/01/2026
تھانہ بلوچ کالونی کے حدود محمود اباد نمبر تین حنفیہ مسجد کے قریب ڈکیتی کے دوران ڈکیتوں کی فائرنگ سے تین افراد زخمی
نام ایچ سی حماد علی ولد غلام علی عمری 40 سال
بکل نمبر 25610
پوسٹنگ تھانہ بلوچ کالونی
دائیں طرف سینے پہ گولی لگی ہے
نام محمد عرش ولد مدثر حسین عمری 12 سالہ
پیٹ میں ایک گولی لگی ہے
نام محمد علی ولد سعید عمری 25 سالہ
دائیں ہاتھ پہ گولی لگی ہے
جو کہ بذریعہ موٹر سائیکل+ رکشہ جناح ہسپتال لائے گئے
30/08/2025
چنیسر ٹاؤن کے علاقے اعظم بستی چاندنی چوک میں قدیم ممی کی دریافت
کراچی (نامہ نگار) — چنیسر ٹاؤن کے علاقے اعظم بستی چاندنی چوک میں ایک پرانے مکان (ڈب) کی کھدائی کے دوران ایک حیران کن دریافت سامنے آئی ہے۔ مزدوروں کو کھدائی کرتے وقت ایک لکڑی کا صندوق ملا، جسے کھولنے پر اندر سے ایک حنوط شدہ انسانی لاش برآمد ہوئی۔
ماہرین کے مطابق یہ ممی تقریباً دو ہزار سال پرانی ہے اور غالب امکان ہے کہ اس کا تعلق اسکندرِ اعظم کے لشکر کے کسی سپاہی سے ہے۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ اسکندر کا لشکر جب برصغیر سے گزرا تو چند سپاہی راستہ بھٹک کر موجودہ اعظم بستی (چینایسر ٹاؤن) کی طرف نکل آئے تھے۔ انہی میں سے ایک سپاہی نے اپنے آپ کو حنوط کروا کر ایک یونانی زبان میں تحریر بھی ساتھ دفن کی تھی۔
غازی آباد کی یونیورسٹی آف ماڈرن اینڈ اولڈ لینگویجز کے ماہرین نے اس تحریر کا ترجمہ کیا تو متن کچھ یوں تھا:
"جب چاندنی چوک کی سڑک بن جائے تو مجھے جگا دینا۔"
29/07/2025
والدین کے اکلوتے بیٹے اور دو بہنوں کے اکلوتے پڑھے لکھے بھائی جنید کا اپنے محلے کے ایک نوجوان سے جھگڑا ہو گیا. ہاتھا پائی ہوئی اور کچھ گالیوں کا تبادلہ بھی ہوا.جنید گھر آیا اور اپنے کمرے میں بیٹھ گیا. اس نے اپنے دشمن کو مارنے کا فیصلہ کر لیا اور الماری سے پستول نکال لیا. اچانک اسے اپنے ایک دوست کی نصیحت یاد آ گئی. دوست نے اسے ایسا کوئی بھی انتہائی قدم اٹھانے سے پہلے 30 منٹ کے لئے واردات کے بعد کی صورتحال تصوراتی طور پر دیکھنے کا کہا تھا.
جنید نے تصور میں اپنے دشمن کے سر میں تین گولیاں فائر کر کے اسے ابدی نیند سلا دیا. ایک گھنٹے بعد وہ گرفتار ہو گیا. گرفتاری کے وقت اس کے والدین اور دو بہنیں پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھیں. اس کی ماں بے ہوش ہو گئی. مقدمہ شروع ہوا تو گھر خالی ہونا شروع ہو گیا. ایک کے بعد ایک چیز بکتی گئی. بہنوں کے پاس تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا اور ان کے ڈاکٹر بننے کے خواب مقدمے کی فائل میں خرچ ہو گئے.بہنوں کے رشتے آنا بند ہو گئے اور ان کے سروں میں چاندی اترنے لگی. جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہر ہفتے والدین اور بہنیں ملاقات کے لئے جاتے. بہنوں کا ایک ہی سوال ہوتا کہ بھیا اب ہمارا کیا ہو گا؟ ہم اپنے بھائی کے بستر پر کسے سلائیں گی؟ ہم بھائی کے ناز کیسے اٹھائیں گی؟ بھائی کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا. فیصلے کا دن آیا اور جنید کو سزائے موت ہو گئی. سزائے موت کی تاریخ مقرر ہو گئی. 25 منٹ گزر چکے تھے اور جنید کے جسم پر لرزہ طاری ہو چکا تھا. جیل میں وہ اپنی موت کے قدم گن رہا تھا اور گھر میں والدین اور بہنیں اپنے کرب اور اذیت کی جہنم میں جھلس رہے تھے. جنید کی آنکھوں پر کالی پٹی باندھ دی گئیں اور اسے پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا گیا. 29 منٹ ہو چکے تھے. پھانسی گھاٹ پر پیر رکھتے ہی 30 منٹ پورے ہو گئے. جنید پسینہ پسینہ ہو چکا تھا. اس کے جسم میں کپکپی طاری تھی. اس نے پستول واپس الماری میں رکھ دیا. اس نے میز سے اپنی بہنوں کی دو کتابیں اٹھائیں اور بہنوں کے پاس گیا. بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری پیاری بہنو تمہارے پڑھنے کا وقت ہو گیا ہے. خوب دل لگا کر پڑھو کیونکہ تمہیں ڈاکٹر بننا ہے.
چند ماہ بعد جنید ایک بینک میں اچھی پوسٹ پر ملازم ہو گیا. جنید کی دونوں بہنیں ڈاکٹر بن گئیں. وہ ایک کامیاب اور بھرپور زندگی گزار رہے ہیں. ان 30 منٹ کی تصوراتی واردات اور 30 منٹ کے مقدمے کی کارروائی نے ایک پورے گھر کو اجڑنے سے بچا لیا. آپ اپنی زندگی میں یہ 30 منٹ اپنے لئے ضرور بچا کے رکھئیے گا، یہ 30 منٹ کی تصوراتی اذیت آپ کو زندگی بھر کی اذیت سے بچا لے گی!
20/04/2025
سبزی تولتے وقت اگر مکھی کانٹے پر بیٹھ جائے تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
لیکن یہی مکھی اگر سونا تولتے وقت کانٹے پر بیٹھ جائے تو اس کی قیمت 10، 20 ہزار کی ہو جائے گی۔
یہاں وزن معنی نہیں رکھتا، آپ کس جگہ بیٹھے ہیں وہ اہمیت رکھتی ہے۔
اس لیے کوشش کریں کہ اچھی محفلوں میں بیٹھا جائے اور اپنا وقار بحال رکھا جائے۔