Health & Population Welfare Department, Sindh

Health & Population Welfare Department, Sindh

Share

Official page of the office of Minister for Health and Population Welfare, Government of Sindh, Pakistan

14/05/2026
Photos from Health & Population Welfare Department, Sindh's post 14/05/2026

ڈاکٹر رتھ کے۔ ایم۔ فاؤ سول اسپتال کراچی میں “ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ ری ہیبلیٹیشن اینڈ ایکسپینشن پروجیکٹ” کے تحت جدید اور توسیع شدہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کا افتتاح کیا گیا۔
افتتاحی تقریب کی مہمانِ خصوصی وزیرِ صحت و بہبودِ آبادی حکومتِ سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو تھیں، جبکہ سیکریٹری صحت سندھ طاہر حسین سانگی نے مہمانِ اعزاز کی حیثیت سے شرکت کی۔

منصوبے کے تحت ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی مجموعی بیڈ گنجائش 45 سے بڑھا کر 85 بیڈز کر دی گئی ہے، جن میں ڈینگی، کورونا، ملیریا اور ہیٹ اسٹروک کے مریضوں کے لیے 20 بیڈز پر مشتمل خصوصی آئسولیشن وارڈ بھی شامل ہے۔ 4 بیڈز پر مشتمل آئی سی یو بھی قائم کیا گیا ہے تاکہ انتہائی نگہداشت کے مریضوں کو فوری طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کو جدید تقاضوں کے مطابق مختلف خصوصی حصوں میں منظم کیا گیا ہے، جن میں فاسٹ ٹریک زون شامل ہے جہاں چل پھر سکنے والے اور کم خطرے کے حامل مریضوں کا فوری علاج کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ٹرائی ایج ایریا، مکمل سہولیات سے آراستہ ریسسٹیٹیشن روم، ڈاکٹروں اور عملے کے لیے علیحدہ کمرے، سہولتی انتظامات اور سیمینار روم بھی قائم کیے گئے ہیں۔

مریضوں کو فوری تشخیصی سہولیات کی فراہمی کے لیے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں ایکسرے اور الٹراساؤنڈ سروسز بھی نصب کی گئی ہیں تاکہ بروقت تشخیص اور بہتر علاج ممکن بنایا جا سکے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ حکومتِ سندھ عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی اور صحت کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔

سیکریٹری صحت سندھ جناب طاہر حسین سانگی نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ مریضوں کی نگہداشت، ایمرجنسی رسپانس اور موسمی وباؤں سے نمٹنے کی صلاحیت کو مزید مؤثر بنائے گا۔

تقریب میں سینئر ڈاکٹرز، فیکلٹی ممبران، اسپتال انتظامیہ، محکمہ صحت کے افسران اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔

11/05/2026

عالمی یومِ (8 مئی) تھیلیسیمیا کے موقع پر صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کا خصوصی پیغام

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے عالمی یومِ تھیلیسیمیا 8 مئی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ تھیلیسیمیا کے خلاف جنگ صرف طبی ماہرین کی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ملک سے اس موروثی بیماری کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

وزیرِ صحت نے زور دیا کہ "احتیاط علاج سے بہتر ہے"۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ شادی سے قبل خون کا معائنہ (Screening) لازمی کروائیں تاکہ آنے والی نسلوں کو اس تکلیف دہ بیماری سے بچایا جا سکے۔

حکومتِ سندھ تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں خون کی منتقلی (Blood Transfusion) اور ادویات کی مفت فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔

حکومت شادی سے قبل تھیلیسیمیا ٹیسٹ کو لازمی قرار دینے کے حوالے سے قانون سازی پر مزید سختی سے عملدرآمد کروانے کے لیے پرعزم ہے۔

11/05/2026

Meeting with WHO mission on the joint efforts to address the HIV and M-Pox cases in Sindh

11/05/2026

صوبائی وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر اذرا فضل پیچوہو نے خصوصی پولیو بوسٹر مہم کا افتتاح کر دیا

“سندھ کو پولیو فری بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیرِ صحت سندھ

کراچی، 11 مئی 2026:
صوبائی وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر اذرا فضل پیچوہو نے صوبے میں پولیو وائرس کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے خصوصی پولیو بوسٹر مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔

کراچی میں سندھ سیکریٹریٹ میں منعقدہ مرکزی افتتاحی تقریب کے دوران وزیرِ صحت نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی اضافی خوراک (پولیو بوسٹر ڈوز) مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگھي، ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن اور محکمۂ صحت کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات نہایت اہم ہیں اور اس ضمن میں والدین کا تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ 4 سے 10 سال عمر کے بچوں کو پولیو بوسٹر ڈوز لازمی دلوائیں تاکہ انہیں مستقل معذوری کے خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے۔

وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی اور حساس علاقوں تک رسائی کے لیے مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ہر بچے تک ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت، والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور سول سوسائٹی کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو اس مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔

اس خصوصی مہم کے تحت کراچی کی 89 یو سیز سمیت مختلف اضلاع میں لاکھوں بچوں کو گھر گھر جا کر اور قائم کردہ مراکز پر پولیو سے بچاؤ کی اضافی خوراک (بوسٹر ڈوز) فراہم کی جائے گی۔

Photos from Health & Population Welfare Department, Sindh's post 11/05/2026

صوبائی وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر اذرا فضل پیچوہو نے خصوصی پولیو بوسٹر مہم کا افتتاح کر دیا

“سندھ کو پولیو فری بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے، وزیرِ صحت سندھ

کراچی، 11 مئی 2026:
صوبائی وزیرِ صحت سندھ ڈاکٹر اذرا فضل پیچوہو نے صوبے میں پولیو وائرس کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے خصوصی پولیو بوسٹر مہم کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔

کراچی میں سندھ سیکریٹریٹ میں منعقدہ مرکزی افتتاحی تقریب کے دوران وزیرِ صحت نے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کی اضافی خوراک (پولیو بوسٹر ڈوز) مہم کا آغاز کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری صحت طاہر حسین سانگھي، ای او سی کوآرڈینیٹر شہریار میمن اور محکمۂ صحت کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے کہا کہ سندھ حکومت صوبے سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو پولیو جیسے موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات نہایت اہم ہیں اور اس ضمن میں والدین کا تعاون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے والدین پر زور دیا کہ وہ 4 سے 10 سال عمر کے بچوں کو پولیو بوسٹر ڈوز لازمی دلوائیں تاکہ انہیں مستقل معذوری کے خطرے سے محفوظ بنایا جا سکے۔

وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ مہم کے دوران پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی اور حساس علاقوں تک رسائی کے لیے مؤثر انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ ہر بچے تک ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت، والدین، اساتذہ، علمائے کرام اور سول سوسائٹی کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کو اس مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔

اس خصوصی مہم کے تحت کراچی کی 89 یو سیز سمیت مختلف اضلاع میں لاکھوں بچوں کو گھر گھر جا کر اور قائم کردہ مراکز پر پولیو سے بچاؤ کی اضافی خوراک (بوسٹر ڈوز) فراہم کی جائے گی۔

Photos from Health & Population Welfare Department, Sindh's post 28/04/2026

صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کا افتتاح کر دیا

صوبائی سندھ کے تمام بچوں کو ویکسین کی 100 فیصد فراہمی کا عزم

کراچی – 28 اپریل 2026 : صوبائی وزیر برائے صحت و بہبودِ آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے آج ایس ایم بی فاطمہ جناح گورنمنٹ اسکول میں عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2026 کا باضابطہ افتتاح کیا۔

صوبائی سطح پر منعقدہ اس تقریب میں سرکاری حکام، عالمی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جو سندھ کے تمام اضلاع میں زندگی بچانے والی ویکسین کی خدمات کو تیز کرنے کے عزم کا آغاز ہے۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اس بات پر زور دیا کہ حفاظتی ٹیکہ جات محض ایک طبی ضرورت نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔

ویکسین معذوری اور موت کے خلاف ہمارا سب سے طاقتور ڈھال ہے۔ ہمارا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ سندھ کا ہر بچہ چاہے وہ کراچی کی بلند و بالا عمارتوں میں ہو یا تھرپارکر کے کسی دور دراز گاؤں میں بیماریوں سے محفوظ رہے۔

وزیرِ صحت کی قیادت میں ایمونائزیشن کے توسیعی پروگرام (EPI) سندھ نے ریکارڈ ساز پیش رفت دکھائی ہے
باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (Routine Immunization) مجموعی کوریج 80 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی۔
پینٹا-1 (Penta-1) کی کوریج 95 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو کہ مہم کے آغاز میں والدین کے بھرپور اعتماد کی عکاسی ہے۔

بی سی جی (BCG) کی کوریج 90 فیصد سے زائد ہو گئی۔
صوبےسندھ کی 91 فیصد آبادی تک ویکسینیشن کی سہولیات براہِ راست پہنچ چکی ہیں۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ حکومتِ سندھ نے ان بچوں تک پہنچنے کے لیے جدید طریقے اپنائے ہیں جو اب تک ایک بھی خوراک (Zero-dose) حاصل نہیں کر سکے پیدائشی خوراک (Birth Doses) بڑے ہسپتالوں میں پیدائش کے فوری بعد ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ملازمت پیشہ والدین کی سہولت کے لیے ویکسینیشن سینٹرز اب شام اور ویک اینڈ پر بھی خدمات فراہم کر رہے ہیں ویکسین کے ساتھ ساتھ بنیادی غذائیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں کی نشوونما مکمل طور پر صحت مند ہو۔

صوبائی وزیرِ صحت نے اس موقع پر 11 مئی سے 24 مئی 2026 تک چلائی جانے والی اہم (پولیو بوسٹر مہم ) کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے اسکولوں، کمیونٹی رہنماؤں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اسی جوش و خروش کا مظاہرہ کریں جو عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے دوران نظر آ رہا ہے۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے نظامِ تعلیم میں صحت کی آگاہی شامل کرنے پر شہزاد رائے اور زندگی ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں اور ای او سی (EOC) سندھ کی فیلڈ ٹیموں کی انتھک محنت کو بھی سراہا۔

تقریب کے اختتام پر وزیرِ صحت نے عوام کو یاد دلایا کہ حکومت یہ تمام ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، لیکن اصل ذمہ داری سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا میں ہر والدین اور استاد سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ 'ویکسین چیمپئن' بنیں۔ ہم سب مل کر اپنی سرزمین سے خسرہ، پولیو اور نمونیا کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

28/04/2026

صوبائی وزیر صحت سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کا افتتاح کر دیا

صوبائی سندھ کے تمام بچوں کو ویکسین کی 100 فیصد فراہمی کا عزم

کراچی – 28 اپریل 2026 : صوبائی وزیر برائے صحت و بہبودِ آبادی سندھ ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے آج ایس ایم بی فاطمہ جناح گورنمنٹ اسکول میں عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2026 کا باضابطہ افتتاح کیا۔

صوبائی سطح پر منعقدہ اس تقریب میں سرکاری حکام، عالمی شراکت داروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی، جو سندھ کے تمام اضلاع میں زندگی بچانے والی ویکسین کی خدمات کو تیز کرنے کے عزم کا آغاز ہے۔

اپنے خطاب میں ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے اس بات پر زور دیا کہ حفاظتی ٹیکہ جات محض ایک طبی ضرورت نہیں بلکہ ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔

ویکسین معذوری اور موت کے خلاف ہمارا سب سے طاقتور ڈھال ہے۔ ہمارا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ سندھ کا ہر بچہ چاہے وہ کراچی کی بلند و بالا عمارتوں میں ہو یا تھرپارکر کے کسی دور دراز گاؤں میں بیماریوں سے محفوظ رہے۔

وزیرِ صحت کی قیادت میں ایمونائزیشن کے توسیعی پروگرام (EPI) سندھ نے ریکارڈ ساز پیش رفت دکھائی ہے
باقاعدہ حفاظتی ٹیکہ جات (Routine Immunization) مجموعی کوریج 80 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی۔
پینٹا-1 (Penta-1) کی کوریج 95 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو کہ مہم کے آغاز میں والدین کے بھرپور اعتماد کی عکاسی ہے۔

بی سی جی (BCG) کی کوریج 90 فیصد سے زائد ہو گئی۔
صوبےسندھ کی 91 فیصد آبادی تک ویکسینیشن کی سہولیات براہِ راست پہنچ چکی ہیں۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے بتایا کہ حکومتِ سندھ نے ان بچوں تک پہنچنے کے لیے جدید طریقے اپنائے ہیں جو اب تک ایک بھی خوراک (Zero-dose) حاصل نہیں کر سکے پیدائشی خوراک (Birth Doses) بڑے ہسپتالوں میں پیدائش کے فوری بعد ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

ملازمت پیشہ والدین کی سہولت کے لیے ویکسینیشن سینٹرز اب شام اور ویک اینڈ پر بھی خدمات فراہم کر رہے ہیں ویکسین کے ساتھ ساتھ بنیادی غذائیت پر بھی توجہ دی جا رہی ہے تاکہ بچوں کی نشوونما مکمل طور پر صحت مند ہو۔

صوبائی وزیرِ صحت نے اس موقع پر 11 مئی سے 24 مئی 2026 تک چلائی جانے والی اہم (پولیو بوسٹر مہم ) کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے اسکولوں، کمیونٹی رہنماؤں اور والدین سے اپیل کی کہ وہ اس مہم کو کامیاب بنانے کے لیے اسی جوش و خروش کا مظاہرہ کریں جو عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے دوران نظر آ رہا ہے۔

ڈاکٹر عذرا پیچوہو نے نظامِ تعلیم میں صحت کی آگاہی شامل کرنے پر شہزاد رائے اور زندگی ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں اور ای او سی (EOC) سندھ کی فیلڈ ٹیموں کی انتھک محنت کو بھی سراہا۔

تقریب کے اختتام پر وزیرِ صحت نے عوام کو یاد دلایا کہ حکومت یہ تمام ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے، لیکن اصل ذمہ داری سرپرستوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا میں ہر والدین اور استاد سے اپیل کرتی ہوں کہ وہ 'ویکسین چیمپئن' بنیں۔ ہم سب مل کر اپنی سرزمین سے خسرہ، پولیو اور نمونیا کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔

دفتر وزیر برائے صحت و بہبودِ آبادی
حکومتِ سندھ، کراچی۔

27/04/2026

سندھ میں خسرہ کی صورتحال اور میڈیا رپورٹس پر وضاحتی اعلامیہ

کراچی: محکمہ صحت سندھ کے ترجمان نے صوبے بھر میں خسرہ کی حالیہ صورتحال کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی رپورٹس پر وضاحت جاری کر دی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، محکمہ صحت صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے اور متاثرہ علاقوں میں فوری جوابی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

محکمہ صحت کے ریکارڈ کے مطابق:
خیرپور میں اب تک 14 اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
سکھر میں 4 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔
ٹھٹھہ میں 5 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔
رپورٹ کردہ کل 40 بچوں کی اموات میں سے صرف 3 کی تصدیق لیبارٹری سے ہوئی ہے، جبکہ 18 طبی طور پر مشتبہ (Clinically Compatible) اور 13 اموات وبائی روابط (Epidemiologically Linked) کی بنیاد پر ریکارڈ کی گئی ہیں۔ 6 بچوں کے ٹیسٹ منفی آئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، انتقال کر جانے والے بچوں میں سے 6 بچے 9 ماہ سے کم عمر تھے جو کہ خسرہ کی ویکسین (MR Vaccine) کے لیے مقررہ عمر سے کم ہونے کی وجہ سے اہل نہیں تھے۔ صرف 5 بچے ایسے تھے جنہوں نے ویکسین کا مکمل کورس کر رکھا تھا۔

محکمہ صحت کے مطابق، خسرہ کے پھیلاؤ کی بڑی وجوہات انکاری کمیونٹیز ہے بعض علاقوں میں ویکسینیشن سے انکار ایک بڑا چیلنج ہے، جس پر قابو پانے کے لیے ای پی آئی ٹیمیں آگاہی مہمات چلا رہی ہیں۔
بچوں میں غذائی قلت (Malnutrition) بیماری کی شدت میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

نومبر 2025 میں چلائی گئی مہم کے بعد خسرہ کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ جہاں بھی نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں، ای پی آئی (EPI) کی ٹیمیں فوری طور پر وہاں آؤٹ بریک رسپانس سرگرمیاں شروع کر دیتی ہیں۔ محکمہ صحت سندھ حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح کو بہتر بنانے اور اس بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔
جاری کردہ:
محکمہ صحت و بہبودِ آبادی
حکومت سندھ

25/04/2026

صوبائی وزیرِ صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کی جانب سے **عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات 2026 (World Immunization Week)** کے موقع پر پیغام

اسلام علیکم
آج ہم دنیا بھر کے ساتھ مل کر عالمی ہفتہ برائے حفاظتی ٹیکہ جات منا رہے ہیں۔ یہ ہفتہ ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کرواتا ہے کہ ویکسینز یا حفاظتی ٹیکے انسانی تاریخ کی وہ عظیم ایجاد ہیں جنہوں نے کروڑوں جانوں کو مہلک بیماریوں سے بچایا ہے۔

حفاظتی ٹیکے صرف ایک طبی عمل نہیں، بلکہ ہمارے بچوں کا بنیادی حق اور ان کے روشن مستقبل کی ڈھال ہیں۔ پولیو، خسرہ، نمونیہ، کالی کھانسی اور ہیپاٹائٹس جیسی بارہ مہلک بیماریوں سے بچاؤ کا واحد اور سب سے مؤثر طریقہ بروقت ویکسینیشن ہے۔

حکومتِ سندھ کا عزم
ہماری حکومت "توسیع شدہ پروگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات" (EPI) کے ذریعے ملک بھر میں مفت اور معیاری ویکسینز کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے۔ ہمارا مشن ہے کہ صوبائی سندھ کا کوئی بھی بچہ، چاہے وہ کسی بھی دور دراز علاقے میں ہو، ان جان لیوا بیماریوں کا شکار نہ ہو۔

میری تمام والدین، سرپرستوں اور اساتذہ سے گزارش ہے کہ:
* اپنے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس ہر صورت مکمل کریں۔
اگر کسی وجہ سے کوئی خوراک چھوٹ گئی ہے، تو فوری طور پر قریبی مراکزِ صحت سے رجوع کریں۔

یاد رکھیں، ویکسین کے دو قطرے یا ایک ٹیکہ آپ کے بچے کو عمر بھر کی معذوری سے بچا سکتا ہے۔

آئیے مل کر عہد کریں کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو ایک صحت مند اور بیماریوں سے پاک معاشرہ فراہم کریں گے۔

صوبائی وزیرِ صحت و پاپولیشن سندھ
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


3rd Floor, Sindh Secretariat No. 1, Kamal Atta Turk Road
Karachi

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00