IK Warriors

IK Warriors

Share

political organization
news up dates

11/01/2026

باغ جناح کراچی 11جنوری 2026

11/01/2026

باغ جناح کراچی 11جنوری 2026

Photos from IK Warriors's post 11/01/2026

باغ جناح کراچی 11جنوری 2026

16/10/2025

کیا آپ نے صوبہ خیبرپختونخواہ کے علاوہ کبھی کسی صوبے کے وزیر اعلیٰ کو اس طرح عوام کے درمیان دیکھا ہے یا کسی صوبے کی عوام کو اس طرح اپنے وزیر اعلیٰ سے پیار محبت کرتے دیکھا ہے،😍🔥✌🏻
آج کے دن کے تاریخی مناظر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سہیل خان آفریدی۔۔!!✌🏻🔥💪🏻

16/10/2025
27/09/2025

خواجہ آصف بڑا خوش تھا کہ امریکہ پہنچنے پر مہدی حسن کی جانب سے اسے اپروچ کیا گیا ہے۔ اسے لگا کہ جیسے اب وہ بھی عمران خان کی طرح عالمی میڈیا پر ایک مقبول لیڈر کے طور پر ابھرے گا۔ لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ مہدی حسن کے سوالات کی تپش کس قدر جھلسا دینے والی ہوتی ہے

پہلا وار تب ہوا جب مہدی حسن نے عام سے سوالات کے بعد اچانک کہا: "مسٹر آصف، آپ پر الزام ہے کہ آپ نے آٹھ فروری کے انتخابات میں عوامی مینڈیٹ چرایا ہے۔ آپ کی حکومت ایک چوری شدہ مینڈیٹ پر کھڑی ہے۔ فارم 47 کے ذریعے آپ لوگوں کو اقتدار میں لایا گیا۔"

یہ سنتے ہی خواجہ آصف کا چہرہ بجھ گیا۔ اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ وہ چونک کر اینکر کی طرف دیکھنے لگا، جیسے کوئی طالبعلم امتحان میں مشکل سوال دیکھ کر گھبرا جائے۔ اس نے ہکلانے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ سب الزامات ہیں، مگر اینکر نے اگلے ہی لمحے ویڈیو کلپ چلایا جس میں خواجہ آصف خود کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس فارم 45 موجود ہیں اور ان کی بنیاد پر وہ شکست تسلیم کر چکا ہے۔

ابھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ مہدی حسن نے ایک اور نشتر مارا۔ اس نے کہا: "عمران خان کو غیر قانونی طور پر قید کیا گیا ہے۔ کیا یہ سیاسی انتقام نہیں؟" خواجہ آصف نے حسبِ روایت کہا کہ عمران خان کرپٹ ہیں۔ لیکن مہدی حسن نے فوراً پلٹ کر کہا: "کیا وجہ ہے کہ ان کے خلاف کرپشن کے یہ مقدمے ان کی حکومت کے دوران سامنے نہیں آئے؟ ان کے ساڑھے تین سالہ دور میں تو کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا۔ بلکہ آپ کی حکومت کے دوران تو سکینڈلز کی بھرمار ہو گئی۔ پھر یہ کیسے مان لیا جائے کہ عمران خان کرپٹ تھے؟"

خواجہ آصف نے عدالتوں کا ذکر کیا مگر مہدی حسن نے کمال مہارت سے جواب دیا: "کون سی عدالتیں؟ وہی عدالتیں جنہیں آپ نے 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کنٹرول کر لیا؟ وہی عدالتیں جن پر خود ججز نے خط لکھ کر اداروں کی مداخلت کا اعتراف کیا؟"

یہاں خواجہ آصف کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ پسینے میں شرابور ہونے لگا۔ پانی کے گھونٹ لیتا، مائیک کو دیکھتا اور بار بار گلا کھنکھارتا۔ لیکن مہدی حسن کہاں باز آنے والا تھا۔

انٹرویو کے دوران ایک موقع پر اینکر نے کہا: "پاکستان میں تحریک انصاف کو الیکشن سے باہر نکالا گیا جبکہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کو کھلی چھوٹ دی گئی۔ کیا یہ سب ریاستی اداروں کے مکمل تعاون کے بغیر ممکن تھا؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایسا کیا۔ مگر مہدی حسن نے تیز لہجے میں کہا: "سپریم کورٹ نے صرف انٹرا پارٹی الیکشنز کی بنیاد پر فیصلہ کیا تو پھر نون لیگ اور پیپلز پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کی جانچ کیوں نہیں ہوئی؟ کیا یہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ کھیل نہیں تھا؟"

یہ سوال سنتے ہی خواجہ آصف کے ہاتھوں کی انگلیاں بے قابو ہو کر میز پر بجنے لگیں۔ اس نے سر جھکا کر کچھ مبہم سا کہا، لیکن جھوٹ کا بوجھ اتنا بھاری تھا کہ اس کے چہرے پر عیاں ہو گیا۔

اس کے بعد مہدی حسن نے انسانی حقوق کے حوالے سے سوال اٹھایا۔ "پاکستان کی جیلوں میں خواتین قید ہیں، ہزاروں کارکنان بغیر مقدمے کے گرفتار ہیں، صحافیوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ کیا یہ سب آپ کی حکومت نہیں کر رہی؟" خواجہ آصف نے کہا کہ یہ سب نو مئی کے ملزمان ہیں۔ مہدی حسن نے فوراً وار کیا: "نو مئی کی تحقیقات کہاں ہیں؟ اگر تحقیقات ہی نہیں ہوئیں تو پھر کس بنیاد پر ہزاروں کارکنان کو جیلوں میں ڈالا گیا؟"

یہاں تو خواجہ آصف کی زبان لڑکھڑانے لگی۔ اس نے کہا کہ شواہد کی بنیاد پر گرفتاریاں ہوئیں۔ مگر مہدی حسن نے سوال کیا: "کیا واقعی پاکستان کی پولیس اتنی تیز ہے کہ دو دن کے اندر ہزاروں لوگوں کے شواہد حاصل کر لیے گئے اور پھر ان کی بنیاد پہ پندرہ ہزار لوگوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کر لیا گیا؟ یہ دنیا کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے۔"

یہ سن کر خواجہ آصف کی آنکھوں میں گھبراہٹ صاف جھلکنے لگی۔

پھر آئینی ترامیم کی بات آئی۔ مہدی حسن نے کہا: "26ویں آئینی ترمیم کو پاکستان کی تاریخ کی سیاہ ترین ترمیم کہا جا رہا ہے۔ اس کے ذریعے عدالتوں کو کنٹرول کیا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں ہے؟"

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ترامیم پارلیمنٹ کے ذریعے آئیں۔ مگر مہدی حسن نے فوراً جواب دیا: "کیا یہ سچ نہیں کہ سینیٹرز کو اغوا کیا گیا، دباؤ ڈالا گیا اور زبردستی ووٹ لیے گئے؟ اختر مینگل کے اپنے سینیٹرز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں دھمکایا گیا۔ تو پھر یہ ترامیم کیسے آزادانہ طور پر منظور ہوئیں؟"

یہاں خواجہ آصف کی حالت اس قیدی جیسی تھی جو قاضی کے سامنے جھوٹ بولنے کی کوشش کرے اور قاضی اس کے سامنے ہر ثبوت رکھ دے۔ وہ بار بار موضوع بدلنے کی کوشش کرتا رہا مگر مہدی حسن بار بار اصل سوال کی طرف لے آتا۔

انٹرویو کے آخری لمحات میں خواجہ آصف مکمل طور پر ہار چکا تھا۔ اس کی آواز بیٹھ گئی تھی، الفاظ ٹوٹ پھوٹ گئے تھے۔ وہ بار بار "یہ عدالتوں کا کام ہے" دہراتا رہا یہ جملہ اب ایک بے بسی کی چیخ بن چکا تھا۔ دوسری طرف مہدی حسن فاتحانہ انداز میں بیٹھا تھا، جیسے شکاری اپنے شکار کو بے بس دیکھ کر مسکرا رہا ہو۔

26/09/2025

‏“میرے خلاف بنائے گئے جھوٹے کیسز کے ٹرائل بھی کسی قانون یا رول کے مطابق نہیں چلائے جاتے۔ گزشتہ دو سماعتوں سے، جب سے نام نہاد وٹس ایپ ٹرائیل کا آغاز کیا گیا ہے نہ تو مجھے کاروائی کی کوئی آواز پہنچتی ہے نہ ہی میرے وکلاء تک میری کوئی بات پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی مجھے جج اور وکلأ نظر آتے ہیں۔ کئی گواہوں کے بیانات میری غیرموجودگی میں کر لیے گئے ہیں، ایسے ماحول میں شفاف ٹرائل کیسے ممکن ہے؟ یہ میرا قانونی حق ہے کہ میری موجودگی میں ٹرائل چلایا جائے۔

نو مئی کے کیسز میں ان کے پاس دو ہی جھوٹے سرکاری گواہ ہیں جنہیں ہر کیس میں پیش کر دیا جاتا ہے۔ سرگودھا کی دہشتگردی عدالت کے جج محمد عباس نے ان دونوں کے جھوٹا ثابت ہونے پر ان کی مضحکہ خیز گواہی بالکل ہی رد کر دی تھی، لیکن پھر بھی ہر جگہ انھیں جھوٹی گواہی کے لیے پیش کر دیا جاتا ہے۔

چھبیسویں آئینی ترمیم کے خلاف دی گئی درخواست کا “آئینی بینچ” کے سامنے ہی لگنا مضحکہ خیز ہے۔ جو بینچ خود اس ترمیم کے نتیجے میں وجود میں آیا ہے وہ اس کے خلاف کیا ہی فیصلہ دے گا؟

چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ مکمل طور پر غلام بن چکی ہے اور اس کی حیثیت ایک سرکاری ادارے سے بڑھ کر نہیں رہی۔ چھبیسویں آئینی ترمیم آئین و قانون کی بالادستی اور جمہوریت پر حملہ ہے۔

بوگس انتخابات کے نتیجے میں وجود پانے والی فراڈ حکومت کے دور میں ہر جانب تباہی ہے۔ ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے اور بے روزگاری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عوام معیشت سے مایوس ہو کر تیزی سے بیرون ملک منتقل ہو رہی ہے مگر قابض حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔

میں بار ہا کہہ رہا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ہمارے دور میں افغانستان سے تعلقات بھی بہتر تھے اور قبائلی علاقوں میں امن بھی تھا۔ آپریشن سے جو collatoral damage کے نام پر معصوم جانوں کا ضیاع ہوتا ہے اس سے دہشتگردی کو ہوا ملتی ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات اور بات چیت کرنے میں ہے۔ ملٹری آپریشنز کبھی عوام کا مفاد نہیں ہوتا۔

مجھے اور میری اہلیہ بشرٰی بیگم کو مکمل قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور جیل مینیول کے مطابق ہماری ملاقات بھی نہیں کروائی جاتی۔ میری صحت ماشأللہ ٹھیک ہے مگر 72 سال کی عمر میں میرے جو روٹین ٹیسٹ ہوتے رہنے چاہئیں وہ نہیں کروائے جاتے اور میرے ذاتی ڈاکٹر کو بھی چیک اپ کی اجازت نہیں دی جاتی۔ آخری مرتبہ میرے میڈیکل ٹیسٹ ایک سال قبل کروائے گئے تھے جو کہ جیل مینول کی خلاف ورزی ہے”

سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو (25 ستمبر، 2025)

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Karachi
92