ملک ڈیفالٹ کے خطرے میں گھرا ہے لیکن کروڑوں فارغ پینشنرز کو فارغ رہنے کا معاوضہ کام کرنے والوں سے کئی گنا زیادہ دیا جا رہا ہے -
ایک ریٹائرڈ سرکاری پرائمری سکول ٹیچر ریٹائرمنٹ پہ بیس- پچیس لاکھ گریجویٹی کے علاؤہ چالیس ہزار تک کی پنشن لیتا ہے لیکن ایک ہائی سکول کا پرائیوٹ ٹیچر پورا مہینہ پڑھا کر بھی بیس ہزار تنخواہ بھی نہیں لے پاتا اور اسے گرمیوں کی چھٹیوں کی تنخواہ بھی نہیں ملتی -
یہ صرف صوبائی محکمہ تعلیم کی صورتحال ہے - وفاقی اداروں اور دفاعی اداروں کی مالیاتی عیاشی کا محکمہ تعلیم سے کوئی تقابل ہی نہیں -
ریاست کو دیوالیہ کی نوبت تک پہچانے کی ذمہ داری (نوکر شاہی) سول ملٹری بیوروکریسی نے اپنی مراعات کے فارمولے ملٹری ادوار میں خود طے کئے ہیں
جسے سویلین حکمران تبدیل کرنے کی جرات نہیں کرتے -
اس پہ سخت ترین نظر ثانی کی ضرورت ہے -
زکریا سعید لدھیانوی (ایڈوکیٹ)
کراچی ، 15 مئی 2022
Umma Salvation Front نجات امت محاذ
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Umma Salvation Front نجات امت محاذ, Political organisation, I. I. Chundrigar Road, Karachi.
ریاست پاکستان میں شعبہ تعلیم میں ممکنہ طور پہ لاکھوں اساتذہ سرکاری سکول سرکاری کالجز سرکاری یونیورسٹیوں میں فرائض سر انجام دے رہے ہیں
بالکل اسی طرح ممکنہ طور پہ لاکھوں اساتذہ دینی مدارس گھریلو سکول، نجی سکول نجی کالجز نجی یونیورسٹیوں میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دے رہے ہیں -
لیکن ان کو عوض ملنے میں بہت بڑا تضاد ہے
اس تضاد پہ اہل حق کا شرعی نکتہ نظر کیا ہونا چاہیئے ؟؟؟
اگرچہ فرائض کی انجام دہی میں نجی شعبہ سرکاری شعبے سے کسی طرح کم نہیں بلکہ اس کا عمومی تاثر یہی ہے کہ نجی شعبہ میں بمقابلہ سرکاری شعبہ محنت نظم و ضبط میں کڑی نگرانی ہوتی ہے -
سول، فوجی پنشن کا نظام انتہائی ظالمانہ جہت اختیار کر چکا ہے یہ ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی صرف معاونت نہیں کر رہا بلکہ انھیں ریاست اور عوام پہ نہ ختم ہونے والا بوجھ بنا دیا گیا ہے جس کی ادائیگی مزدور، کسان، غربت زدہ لوگ اپنے خون پسینے سے کرتے ہیں -
مزدور کی کم ازکم تنخواہ سارا مہینہ مزدوری کرکے بھی قریب بیس ہزار روپے یے بعض جگہوں دیہات وغیرہ میں اتنی تنخواہ بھی نہیں ملتی جبکہ اوسط درجہ کا سرکاری ملازم بھی پچاس ہزار سے دو دولاکھ تک پنشن لے رہے ہیں -
یعنی مزدوری کرنے والا جوان مزدور فارغ ریٹائرڈ بوڑھے سے بھی کم کماتا ہے یہ منصفانہ ہے ؟؟؟
اتنی عیاشی تو نوآبادیاتی دور میں انگریزوں نے بھی اپنے ملازمین کو نہیں کروائی حالانکہ انھیں مقامی ملازمین کی وفاداری خریدنا ہوتی تھی -
میرے خیال میں اس ناانصافی کا حل یہ ہے کہ ملکی پنشن کا سارا فنڈ ملکی 65 سال سے زائد ابادی پہ برابر تقسیم کر دیا جائے تاکہ ہر معمر شخص کو معاونت مل سکے اس سے غربت و افلاس ختم کرنے میں بہت تیزی سے مدد ملے گی -
ایڈوکیٹ زکریا سعید لدھیانوی
کراچی، 13 مئی 2022
12/05/2022
میرے والد محترم
مولانا حافظ احمد سعید لدھیانوی رحمتہ اللہ علیہ
وفات 23 اگست 2016
مدفون آبائی قبرستان ٹوبہ ٹیک سنگھ
12/05/2022
میرا فلسطین
08/05/2022
08/05/2022
دنیا کی موسمیاتی تبدیلی جلد انسانیت کو یہ احساس دلا دے گی کہ جس ترقی کو وہ اپنا نصب العین سمجھ کر حاصل کرنا چاہتے ہیں وہی ترقی "قاتل فطرت" ہے
ہم پہ پرامن زندگی کیلئے مالیاتی ترقی نہیں فطری تحفظ زیادہ ضروری ہے !!!
08/05/2022
At protest before Karachi Press club
نجات امت محاذ (ن ا م)
Ummah Salvation Front
مقاصد
1) زمینی جغرافیائی تقسیم کو فطری حقائق کی بنیاد پہ تسلیم کیا جائے اس سلسلے میں بیداری شعور کی کوشش کی جائے گی اور اس بات پہ قائل کیا جائے گا کہ یورپ اور ایشیاء کسی بھی طرح سے الگ براعظم نہیں ہیں ہر سطح پہ ان کی بطور الگ براعظم شناخت کو ختم کیا جائے گا اور انھیں فطری طور پہ "ایک" براعظم مانا جائے اس کا نام جو بھی رکھیں لیکن یہ کسی طور پہ الگ نہیں ہیں -
یورپ کو ایشیا سے الگ ایک براعظم کہنا یورپی نسلی و برتری کے تعصب کی علامت ہے جسے مسترد کیا جاتا ہے -
2) نوع انسانیت کو مالیاتی غلامی سے نجات دلانے کیلئے اس بات پہ قائل کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ تمام لین دین تجارت خدمات مساوی القیمت دھاتی سکے سے کی جائیں تاکہ انسانیت کاغذی کرنسی اور کسی بھی طریقے سے زر کی غیر فطری غیر حقیقی تخلیق کو غیر اخلاقی غیر قانونی قرار دیا جائے اور اس جعلی تخلیق زر کو ختم کیا جائے تاکہ ہر ریاست قرض اور سود کی کا لامتناہی اکاس بیل سے نجات پا کر راہ فلاح و نجات حاصل کر سکے -
3)اس امر کی کوشش کی جائے گی کہ تمام قدرتی وسائل کی عوام الناس میں منصفانہ تقسیم کی جائے
اس کے ابتدائی مرحلے میں ملک میں تمام خاندانوں کو " ایک خاندان ایک رہائش " کے اصول کے تحت رہائش فراہم کی جائے -
ایک سے زائد رہائش کی ملکیت پہ سخت پابندی نافذ کی جائے تاکہ سب شہری مساوی طور پہ رب کی زمین سے استفادہ کریں
اسی طرح تمام مزروعہ زمین کی منصفانہ تقسیم کی جائے ملک کی تمام مزروعہ زمین وہاں کے مقامی افراد میں ایک اصول کے تحت تقسیم کی جائے جس کا تقسیمی حد مثال کے طور پہ پانچ ایکڑ کم ازکم سے لے کر 20 ایکڑ زیادہ سے زیادہ تک ہو -
20 ایکڑ سے زائد زمین بحق سرکار ضبط کر کے حق دار بے زمین کسانوں ہاریوں اور مزدوروں میں تقسیم کر دی جائے-
4) اس امر کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملک میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دی جائے اور ہر مادری زبان کو مساوی سطح پہ ترقی ترویج اشاعت پہ پھلنے پھولنے کا موقع دیا جائے -
ملکی سطح پہ ہر بدیشی زبان کے لازمی استعمال اشاعت و ترویج پہ پابندی عائد کی جائے گی -
5) نظام انصاف کو آسان اور موثر بنانے کیلئے ہر محلے اور گاؤں کی سطح پہ پبلک جیوری کی طرز پہ عدالتیں بنائیں جائیں گی اور وہاں مقامی پولیس کو ان عدالتوں کے ماتحت اپنے فرائض ادا کرنے کا پابند کیا جائے اسی طرز پہ یہی پبلک جیوری کو بتدریج اعلی عدلیہ تک لاگو کیا جائے گا -
6) ہمارے خطے کی تاریخ جو ہزاروں سال پہ محیط ہے اس کا کم ازکم پچھلے پانچ ہزار سال کا احاطہ کیا جائے گا اور اس پہ تحقیق ترویج و اشاعت کا انتظام ریاستی سطح پہ کیا جائے گا -
تاریخ کو بلا تفریق رنگ نسل زبان مذہب کے ایک باقاعدہ مضمون کی حیثیت میں پڑھایا جائے گا - ہر علاقے کی تاریخ کو ابتدائی سطح، پرائمری تعلیم سے لے کر یونیورسٹی تک پڑھایا جائے گا -
7) قرآن پاک اور دینی تعلیم کے انتظامات سکول کالج کی سطح پہ بھی کئے جائیں گے تاکہ طلباء ہر مسلک و فقہ کی تعلیم سکول کالج اور یونیورسٹی میں بھی حاصل۔کر سکیں -
8) ہر فرد میں رب تعالیٰ نے کچھ خاص صلاحیت اور اہمیت رکھی ہے اس کو سمجھنے اور اس کے مطابق فرد اور معاشرے کے بہترین مفاد میں صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کیلئے اور ریاست کو اپنی امور بطریق احسن ادا کرنے کیلئے ہر فرد کو تین سال کیلئے معاشرتی خدمات Social Services کی لازمی خدمات کا قانون بنایا جائے گا - ہر فرد کی صلاحیت کے مطابق ان سے ریاستی خدمات لی جائیں یا ہر فرد کو اس کی صلاحیت اور شوق کی بنیاد پہ آگے تعلیم حاصل کرنے ہنر سیکھنے یا کام کرنے کی ترغیب دی جائے گی -
9) انسانی اور حیوانی خوراک میں جدید دور میں استعمال ہونے والے مضر صحت کیمیکلز، اشیاء پہ فوری پابندی لگائی جائے گی اور ایسے تمام اشیاء کا استعمال ترک کیا جائے گا جو انسانی صحت اور فطری ماحول کیلئے تباہ کن ہے ان کے متبادل تلاش کر کے ان اشیاء پہ پابندی عائد کی جائے گی -
بانی : ایڈوکیٹ زکریا سعید لدھیانوی
ولد مولانا حافظ احمد سعید لدھیانوی ولد مولانا یحییٰ لدھیانوی ولد مولانا زکریا لدھیانوی ولد مولانا شاہ محمد لدھیانوی ولد مولانا عبد القادر لدھیانوی -
از کراچی ، 27 دسمبر 2021
کہا آپ چاہتے ہیں کہ انسانیت قرض کے نا ختم ہونے والے بوجھ سے آزاد ہو ؟
کیا آپ چاہتے ہیں کہ انسانیت کرایہ داری کے وبال سے آزاد ہو ؟
کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہر کسان کو کھیتی کیلئے بلا معاوضہ زمین ملے تاکہ وہ محنت کرے اور فصل کا فایدہ حاصل کرے ؟؟؟
تو Ummah Salvation Front کا ساتھ دیں جو انسانیت کو ان عفریت سے نجات دلوانے کیلئے جدو جہد کر رہی ہے -
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the business
Telephone
Website
Address
I. I. Chundrigar Road
Karachi
74000
