Urdu Novel Nagri

Urdu Novel Nagri

Share

Promote All Writers and Novels

31/01/2026

#رہنمائے دل
#ام-امامہ
#قسط نمبر 29
(Last Episode)
Don't copy paste without my permission
°°°°°
(پانچ سال بعد)
اپنا سامان اٹھا کر وہ باہر جانے لگا جب اسکے باہر جانے سے پہلے شایان اندر آگیا
"آپ گھر نہیں گئے سر"اسنے مشارب کو دیکھ کر پوچھا
"شایان اگر میں گھر گیا ہوتا تو تمہیں یہاں نظر آتا"
"نہیں مطلب میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا" اسکے انداز میں جھجک تھی اور ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ شایان اس سے کوئی بات کرتے ہوئے جھجک رہا تھا
ان گزرے سالوں میں انکے عہدے تبدیل ہوچکے تھے جہاں پہلے وہ ایس پی مشارب راحم شیرازی تھا اب وہیں ایس ایس پی مشارب راحم شیرازی بن چکا تھا
لیکن اسکے باوجود بھی شایان کا رویہ اسکے ساتھ ہمیشہ کی طرح ہی رہا تھا پھر آج وہ کیا بات کرنے آیا تھا جس کے لیے اتنا جھجک رہا تھا
"شایان کیا کہنا ہے"
"وہ امی جان چاہتی ہیں کہ میں اب شادی کرلوں"
"تو تم کیا مجھ سے اجازت لینے آئے ہو" وہ بےساختہ ہنسا
"نہیں وہ دراصل مجھے ایک لڑکی پسند ہے لیکن امی جان کے سامنے اسکا ذکر کرنے سے پہلے میں چاہتا ہوں میں خود اس سے ملوں اس کی رائے جان لوں اور یہ سب آپ کی مدد کے بنا نہیں ہوسکتا"
"اچھا کون ہے وہ لڑکی" مشارب کے پوچھنے پر وہ اپنا گلا کھنکارنے لگا
"صالحہ"
"صالحہ حبیب" اسنے تصدیق کرنی چاہی
"جی"
"پوری دنیا میں تمہیں وہی ایک لڑکی ملی تھی"
"یہ تو دل کا معاملہ ہے سر میں کیا کرسکتا ہوں" اسنے دانتوں کی بھرپور نمائش کی
"خیر تمہاری زندگی ہے تم جس کے ساتھ گزارنا چاہو لیکن اس معاملے میں تمہاری مدد علیحہ ہی کرسکتی ہے میں اس سے بات کرلوں گا"
"تھینک یو سر" اسکے چہرے پر خوشی کے تاثرات آئے جسے دیکھ کر مشارب نے مسکراتے ہوئے اسکا کندھا تھپتھپایا اور وہاں سے چلا گیا
°°°°°
آج واپسی معمول کے مطابق دیر سے ہوئی تھی اسکا ارادہ سیدھا کمرے میں جانے کا تھا جب چلتے قدم لاونج میں بیٹھی دعا کو دیکھ کر رکے
جو اپنا سر ٹیبل پر رکھے سورہی تھی یقیناً اسکا انتظار کرتے کرتے ہی وہ یہاں سوگئی ہوگی
"دعا اٹھو" اسکے قریب جاکر مشارب نے اسکا بازو ہلایا جس پر وہ چونک کر اٹھی اور اسکے اٹھتے ہی وہ بنا کچھ کہے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
دعا نے گہری سانس لے کر اسکی پشت کو دیکھا اور اٹھ کر کمرے میں چلی گئی مشارب نے اس سے کوئی بات نہیں کی تھی یقینا اسکی ناراضگی ہنوز جاری تھی
"مشارب آپ اب بھی مجھ سے ناراض ہیں" اسنے مشارب کے پیچھے آکر کہا جو اسکے کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے گھورنے لگا
"یہ یہاں کیا کررہا ہے" اسنے بیڈ پر سوئے میکائیل کی طرف اشارہ کیا
"اسے میرے پاس سونا تھا اسلیے یہاں آگیا"
"دعا میں نے اسکا الگ کمرہ دیکھنے کے لیے نہیں بنوایا"
اسنے میکائیل کے لیے ایک الگ کمرہ بنوایا تھا لیکن پھر بھی وہ اسکے کمرے میں آکر دھمک جاتا جس کی وجہ سے مشارب نے اپنے کمرے میں ہی اسکے لیے ایک چھوٹا سا بیڈ رکھوالیا تھا لیکن پتہ نہیں اس لڑکے کو کیا مسلہ تھا
مشارب کی غیر موجودگی میں تو وہ اپنے کھیل میں مگن رہتا لیکن اسکے گھر میں داخل ہوتے ہی میکائیل کو یاد آجاتا کہ اسکی ایک عدد ماں بھی ہے اور پھر اسکی گود میں چڑھ کر پتہ نہیں وہ کون سے جہان کی باتیں کرتا رہتا
اسکا مقصد بس اپنی ماں کو اپنے باپ سے دور رکھنا ہوتا تھا اس معاملے میں وہ بہت پوزیسو تھا یہ بات اسے بلکل برداشت نہیں ہوتی تھی کہ اسکی ماں اسکی موجودگی میں کسی اور کو پیار کرے لیکن مشارب سے وہ اس معاملے میں وہ لڑ نہیں سکتا تھا اسلیے اسکے گھر میں داخل ہوتے ہی وہ ایلفی کی طرح دعا کے ساتھ چپک جاتا
رات بھی اسنے یہی کیا تھا اپنے کمرے کو چھوڑ کر اسکے کمرے میں آگیا اور مشارب کے منع کرنے کے باوجود بھی اسکے بیڈ پر ہی چپکا رہا
مشارب جانتا تھا کہ اگر دعا اسے کمرے سے جانے کا کہتی تو وہ چلا جاتا اسلیے اسنے دعا سے یہی کہا تھا لیکن وہ بھلا کچھ کیوں کہتی وہ تو اسکی بات کو اگنور کرکے میکائیل کو اپنے قریب کرکے سوگئی
اسکی اس حرکت پر مشارب غصے سے کمرے سے باہر چلا گیا اور تب سے ہی دعا سے اسکی ناراضگی چل رہی تھی
"مشارب کیا ہوگیا ہے بچہ ہے سونے دیں یہاں پر"
"ٹھیک ہے سونے دو اسے یہاں اور اب اسے ہی اپنے پاس سلانا"اپنا سامان ڈریسنگ پر رکھ کر وہ غصے سے باہر جانے لگا جب اسکا ہاتھ پکڑ کر دعا نے اسکا رخ اپنی جانب کیا اور اسکے سینے سے لگ گئی
"پلیز مشارب اب اپنی یہ ناراضگی ختم کردیں"
"اچھا تو تمہیں فکر ہے میری ناراضگی کی"
"بلکل ہے"
"تو پھر اسے اٹھا کر کمرے سے باہر پھینکو" اسکے کہنے پر دعا نے خفگی سے اسے دیکھا
"مشارب وہ بیٹا ہے آپ کا"
"میرے لیے میرے بیٹے کا ٹائم الگ ہے اور بیوی کا الگ اور یہ وقت میرا میری بیوی کے لیے ہے
اسلیے میں نہیں چاہتا کوئی اور اس میں دخل اندازی کرے"
بیڈ پر سوئے میکائیل کو اٹھا کر اسنے وہاں رکھے اسکے چھوٹے بیڈ پر لٹا دیا
"کھانا کھالیں"
"مجھے اس وقت صرف تمہیں کھانا ہے یہاں پر آؤ اور میری ناراضگی دور کرو" بیڈ پر بیٹھ کر اسنے دعا کو اپنے قریب آنے کا اشارہ کیا
"میرے خیال سے آپ کی ناراضگی دور ہوچکی ہے" اسکے قریب بیٹھ کر دعا نے اسے بتانا چاہا کہ اپنی ناراضگی وہ ختم کرچکا ہے
"نہیں ہوئی ہے" اسکے بال ایک طرف کرکے اسنے نرمی سے دعا کی گردن کو اپنے لبوں سے چھوا
"مشارب"
"چلو کس کرو مجھے"اسکے کہنے پر دعا نے مسکراتے ہوئے ہلکے سے اسکے لبوں کو چھو لیا
"یہ کس نہیں ہوتی"
"مشارب آپ آج کل کچھ زیادہ ہی بگڑتے جارہے ہیں"
"مجھے بگاڑنے والی تم ہی تو ہو" اسکے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں لے کر مشارب نے اسے بیڈ پر لٹا دیا
اس وقت کمرے میں صرف ایک سائیڈ لیمپ جل رہا تھا جو کمرے میں روشنی کرنے کا سبب بن رہا تھا
لیکن مشارب ہاتھ بڑھا کر اسے بھی بند کرچکا تھا
°°°°°
واشروم سے نکلتے ہی اسکی پہلی نظر بیڈ پر بیٹھے میکائیل پر گئی جو اپنے ہاتھ میں گن لے کر بیٹھا ہوا تھا
"بڑے بابا دیکھو" وجدان کو دیکھتے ہی اسنے گن اسکی طرف کرکے دکھائی
"میکائیل ادھر دو کہاں سے آئی تمہارے پاس"
"عالی نے دی ہے" عالی کہنا علیحہ نے ہی اسے سکھایا تھا کیونکہ بڑی ماما پھوپھو خالا سننا اسے پسند نہیں تھا
"میکائیل ادھر دو یہ بچوں کے کھیلنے کی چیز نہیں ہے" وجدان اسکی جانب بڑھا جب اسے اپنی جانب بڑھتے دیکھ کر وہ تیزی سے کمرے سے بھاگ گیا
غصے سے وجدان بھی اسکے پیچھے گیا جبکہ چلاتے ہوئے علیحہ کو پکارنا وہ نہیں بھولا تھا
°°°°°
کمرے سے نکلتے ہی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا میکائل کے پیچھے گیا اور اسے بازو سے کھینچ کر پکڑ لیا ڈھائی فٹ کا تو تھا وہ کہاں تک بھاگ سکتا تھا
"علیحہ"
"کیا مسلہ ہے جج صاحب کیوں چلارہے ہو" اسکے چلانے کی آواز سن کر وہ کچن سے نکل کر اسکے پاس آئی
جب سے وہ جج کے عہدے پر فائز ہوا تھا تب سے علیحہ اسے بیرسٹر صاحب چھوڑ کر جج صاحب کہنے لگی تھی
"یہ چیز کوئی بچوں کے ہاتھ میں دیتا ہے" اسنے میکائیل کے ہاتھ سے بندوق لی جسے لیتے ہی اندازہ ہوگیا کہ میکائیل کے ہاتھ میں یہ چیز تھما کر علیحہ اتنے آرام سے کیوں گھوم رہی تھی
"خالی ہے یہ گن تمہارے دماغ کی طرح"
"تمہارے کچرے والے دماغ سے تو میرا خالی دماغ ہی بہتر ہے"
"بس کرو تم دونوں اب صبح صبح لڑنا مت شروع کردینا" ناز بیگم کی آواز سن کر ان دونوں نے اپنی بحث روکی
وہ دونوں اچھے خاصے سمجھدار تھے لیکن جب ایک دوسرے کے سامنے ہوتے تھے تو بچوں کی طرح لڑنا شروع کر دیتے تھے
وجدان تو پھر بھی کبھی خاموشی ہو جاتا تھا لیکن علیحہ جب تک دل کی بھڑاس نہیں نکال لیتی تب تک خاموش نہیں ہوتی تھی اور جب بھی اسکی علیحہ سے بحث ہوتی تھی تب اسے بس ایک ہی لمحہ یاد آتا جب علیحہ پریگنینٹ تھی
اس وقت اسکی تکلیف دیکھ کر وجدان کو تکلیف ہورہی تھی لیکن اس لڑکی نے اپنی بحث ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی جاری رکھی تھی
"مشارب جلدی سے گاڑی نکالو" علیحہ کا وجود اپنی بانہوں میں اٹھائے اسنے چلاتے ہوئے کہا جسے سن کر مشارب جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا
"بس علیحہ کچھ نہیں ہوا ہے ہم ابھی ہاسپٹل پہنچ جائیں گے" گاڑی میں اسے اپنے ساتھ بٹھا کر اسنے علیحہ کا وجود اپنے سینے سے لگایا جس کے چہرے پر تکلیف دہ تاثرات تھے
"ت-تمہاری وجہ سے ہورہا ہے یہ سب"
"اچھا میری وجہ سے ہو رہا ہے"
"ہاں"
"مجھے اپنی ادائیں تم ہی دکھاتی ہو اور اب کہہ رہی ہو میری وجہ سے ہورہا ہے"
"ہاں تمہاری وجہ سے ہورہا ہے"
"زبان دراز لڑکی تکلیف میں ہو تم کچھ تو خیال کرلو ابھی بھی بحث کیے جارہی ہو چپ ہوجاؤ"
"تم کررہے ہو میری تکلیف کا خیال جو میں چپ ہوجاؤں"
ان دونوں کی بحث دیکھ کر گاڑی چلاتے مشارب نے چلا کر کہا
"بس کرو تم دونوں وجدان تم ہی خاموش ہوجاؤ اسکی حالت نہیں دکھ رہی ہے تمہیں" اسکی بات سن کر وجدان بھی خاموش ہوگیا کیونکہ پتہ تھا اس تکلیف میں بھی علیحہ میڈم نے اپنی بحث جاری ہی رکھنی تھی
علیحہ کے ساتھ گزرا لمحہ وہ جب بھی یاد کرتا تھا تو لبوں پر مسکراہٹ چھو جاتی لیکن یہ وہ واحد لمحہ تھا جسے وہ جب بھی یاد کرتا تو سمجھ نہیں آتا اس لمحے کو سوچ کر غصہ کرے یا پھر ہنسے
°°°°°
ناشتہ لگتے ہی گھر کے سارے افراد ڈائیننگ ٹیبل پر بیٹھ گئے جب ناز بیگم نے نظریں اٹھا کر مشارب اور دعا کو دیکھا
"ناراضگی ختم ہوگئی تم دونوں کی"
مشارب اس سے ناراض تھا اور یہ بات وہ کل سے نوٹ کررہی تھیں
"امان جان ہماری کوئی ناراضگی نہیں چل رہی تھی" مشارب نے انکی غلط فہمی دور کرنی چاہی
لیکن وہ جھوٹ کہہ رہا تھا اور یہ بات وہاں بیٹھی دعا کے ساتھ ساتھ میکائیل بھی بخوبی جانتا تھا لیکن وہ اپنی ماں کی طرح اپنے باپ کے جھوٹ میں اسکا ساتھ ہرگز نہیں دینے والا تھا
"نہیں دادو ڈیڈ ناراض تھے ماما سے لیکن ماما نے رات کو انہیں منا لیا" اسکی بات سنتے ہی دعا اور مشارب نے ایک ساتھ سر اٹھا کر اسے دیکھا
"ڈیڈ نے کہا کہ میری ناراضگی دور کرو اور مجھے کس کرو پھر ماما نے انہیں کس کردیا" اسکی بات سنتے ہی دعا اپنا ناشتہ ٹیبل پر چھوڑ کر وہاں سے چلی گئی جبکہ مشارب تو اس وقت اسے گھور بھی نہیں پارہا تھا
"میرے خیال سے ماما کے کس کرنے سے ڈیڈ کی ناراضگی"
"بس بہت کھالیا" اپنی جگہ سے اٹھ کر اسنے جلدی سے میکائیل کو اپنی گود میں اٹھایا اور اسے لے کر وہاں سے چلا گیا جبکہ ٹیبل پر بیٹھے باقی افراد اپنی ہنسی ضبط کرنے کی کوشش میں لگے رہے
°°°°°
اسے کمرے میں لاکر مشارب بیڈ پر بیٹھ گیا اور اسے اپنے سامنے کھڑا کرلیا
وہ دکھنے میں دعا کی طرح تھا جبکہ چہرے پر موجود معصومیت تو دعا سے بھی زیادہ تھی اسنے اپنے باپ سے بس گہری سیاہ آنکھیں لی تھیں
لیکن انداز میں وہ کس پر گیا تھا یہ تو کوئی بھی نہیں جانتا تھا وہ ایک نمبر کا ڈھیٹ انسان تھا
ایک دفعہ اسنے حیا کو تھپڑ مارا تھا جس کی وجہ سے مشارب نے اسے ڈانٹ دیا اسکے ڈانٹنے کر خفا ہوکر اسنے دعا سے یہ کہا کہ اسکے لیے نئے ڈیڈی لائے جائیں
پھر ہونا کیا تھا میکائیل شیرازی کا نرم گال تھا اور مشارب شیرازی کا بھاری ہاتھ
اسکے تھپڑ مارنے پر میکائیل رونا شروع ہوچکا تھا اور اپنے رونے سے وہ پورا گھر پر سر اٹھا چکا تھا
سب اسے چپ کروا کر تھی چکے تھے لیکن وہ تب تک چپ نہیں ہوا جب تک اسکا خود کا موڈ ٹھیک نہیں ہوا لیکن اس دن کے بعد سے ایک بات جو اسنے اپنے چھوٹے سے دماغ میں بھٹالی تھی وہ یہ تھی کہ اسکے نئے ڈیڈی کبھی نہیں آئینگے اسلیے اسے جو کام چلانا ہے انہی ڈیڈی سے چلانا ہوگا
"میکائیل جو پوچھوں گا اسکا صاف صاف جواب دینا'' اسکے کہنے پر میکائیل نے شرافت سے اپنا سر ہلایا
"رات کو جاگ رہے تھے تو بتایا کیوں نہیں"
"اگر میں بتادیتا کہ میں جاگ رہا ہوں تو آپ مجھے کمرے سے نکال دیتے اور پھر مجھے میرے کمرے میں بھیج دیتے"
"رات کو کیا دیکھا تھا"
"رات کو آپ کمرے میں آئے پھر ماما سے لڑنے لگے اور پھر ماما کو اپنے پاس بٹھایا"وہ تفصیل سے اسے ایک ایک بات بتانے لگا
"پھر کیا دیکھا" اسنے جلدی سے پوچھا اسے اس وقت بس یہ فکر ستا رہی تھی کہ میکائیل نے رات کو کیا دیکھا
"پھر آپ نے ماما سے کس کرنے کو کہا ماما نے آپ کو کس کیا"
"پھر"
"اس سے زیادہ کچھ دیکھ ہی نہیں پایا آپ نے لائٹ جو بند کردی تھی اور لائٹ بند ہوتے ہی میں بھی سوگیا تھا" اسکے کہنے پر مشارب نے سکون بھرا سانس لیا
دعا ٹھیک کہتی تھی اسکا بیٹا اب بڑا ہورہا تھا اسلیے اپنے بے لگام جذباتوں کو اسے تھوڑا لگام ڈالنے کی ضرورت تھی
°°°°°
مشارب کے کمرے سے نکلتے ہی وہ حیا کو ڈھونڈنے لگا جو اسے باہر لان میں بیٹھی نظر آگئی
لائٹ پرپل کلر کی فراک پہنے وہ دو پونیاں بنائے گھاس توڑ کر اپنے منہ میں ڈال رہی تھی
وہ ساڑھے تین سال کی تھی اور دکھنے میں وہ بلکل اپنے باپ کی طرح تھی اپنی ماں سے اسنے کچھ نہیں لیا تھا
اسکی گندمی رنگت تھی اور وجدان کی طرح بھورے رنگ کی بڑی بڑی آنکھیں
کہنے کو وہ علیحہ کی بیٹی تھی لیکن اس سے بلکل مختلف تھی وہ ہر چھوٹی چھوٹی بات پر گھبرا جاتی اور کسی تیز آواز پر وہ رونا شروع کر دیتی تھی
اسے ٹھیک سے ابھی بولنا نہیں آتا تھا اور وہ بولتی بھی بہت کم تھی اسلیے اسے کیا کہنا ہوتا تھا اسکے کہنے سے پہلے ہی میکائیل کہہ دیتا تھا
"یہ تم کیا کررہی ہو حیا" اسکے قریب جاکر میکائیل نے صدمے سے کہا جس پر وہ گھبرا کر اسکی طرف دیکھنے لگی جیسے اسنے کتنی بڑی غلطی کردی ہو لیکن غلطی کیا کی تھی یہ اسے نہیں پتہ تھا
"تم گھاس کیوں کھارہی ہو یہ کھانا اچھی بات نہیں ہوتی"
"کیوں"
"یہ گندے لوگ کھاتے ہیں اور جو اسے کھاتے ہیں وہ بھی گندے ہو جاتے ہیں" کمر کر ہاتھ رکھ کر وہ بڑے لوگوں کی طرح اسے سمجھانے لگا
جبکہ اسکے منہ سے اپنے لیے گندا لفظ سن کر اسکی بڑی بڑی آنکھیں پانی سے بھر چکی تھیں
اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ کر اس سے پہلے میکائیل کچھ کہہ پاتا وہاں پر وجدان آچکا تھا جس نے وہاں بیٹھی حیا کو اپنی گود میں اٹھا لیا لیکن اسکی بھیگی آنکھیں دیکھ کر وہ خود بھی چونک گیا
"کیا ہوا حیا رو کیوں رہی ہو" اسکے پوچھنے پر حیا نے میکائیل کی طرف اشارہ کیا
"اسنے مجھے گندا کہا"وہ جملے تیزی سے نہیں بول پاتی تھی لیکن آسان لفظوں کی اردو اسے آسانی سے سمجھ آتی تھی
اسکے کہنے پر وجدان نے گھور کر میکائیل کو دیکھا
"تو نے رلایا ہے میری بیٹی کو"
"نہیں نہیں نہیں" اسکے گھورنے پر میکائیل نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنا سر نفی میں ہلایا کہیں وجدان اسے غلط سمجھ کر مارنا ہی نہ شروع کردے
"یہ گھاس کھا رہی تھی بڑے بابا میں نے تو بس منع کیا تھا کہ یہ کھانا اچھی بات نہیں ہوتی" اسکی بات سن کر وجدان نے اپنی گود میں موجود حیا کو دیکھا
"حیا گھاس کیوں کھا رہی تھیں بھوک لگی تھی تو ماما سے کہتیں"
"مجھے اتھی(اچھی) لگتی ہے" اسکی بات سن کر وجدان اتنا تو سمجھ گیا تھا کہ یہ حرکت اسنے پہلی دفعہ نہیں کی تھی
"میکائیل ایک ذمیداری سونپ رہا ہوں تمہیں"
"کیا"
"آج کے بعد حیا کبھی بھی یہ حرکت کرے تو تم اسے روکو گے"
"اوکے"
اسنے جوش اور جذبے سے کہا یہ جوش اور جذبہ اسکے اندر اکثر جاگتا رہتا تھا کبھی مشارب کو پولیس یونیفارم میں دیکھ کر تو کبھی وجدان کو بلیک گاؤن میں دیکھ کر
اسلیے وجدان اسکے لیے اسکے سائز کے مطابق ایک پولیس یونیفارم اور بلیک کوٹ بھی لاکر دے چکا تھا تاکہ اپنا شوق وہ پورا کرسکے
"وجدان"
علیحہ کی آواز پر اسنے مڑ کر دیکھا
"مام کا فون آیا تھا ہاسپٹل جانا ہے"
°°°°°
"ہائے کتنی پیاری ہے یہ" علیحہ نے اپنی گود میں موجود اس بچی کو دیکھتے ہوئے کہا جسے دنیا میں آئے ہوئے ابھی چند گھنٹے ہوئے تھے
فائنلی وہ پھوپھو بن ہی گئی تھی
ازہار جانتا تھا آیت کو پڑھائی کا کتنا شوق ہے اسلیے یہ عہد اسنے خود سے کیا تھا کہ جب تک آیت کی پڑھائی مکمل نہیں ہوجاتی تب تک وہ اس پر بچوں کی کوئی ذمیداری نہیں ڈالنے والا تھا
"شکریہ علیحہ تم نے بتادیا ہمیں تو پتہ ہی نہیں تھا یہ کتنی پیاری ہے" ازہار کی بات پر اسنے منہ بنا کر اسے دیکھا لیکن پھر اگنور کرکے دوبارہ اس بےبی کو دیکھنے میں مصروف ہوگئی
"ماما نے مجھے تو اتنا تیار(پیار) نہیں کیا" مشارب کی گود میں چڑھی حیا نے خفگی سے اس نئے وجود کو دیکھا جو مزے سے اسکی ماں سے پیار لے رہی تھی
اسنے کہا تو آہستہ آواز میں ہی تھا لیکن علیحہ پھر بھی اسکی آواز سن چکی تھی
"ہائے میری جان ایسے مت بولو ادھر آؤ ماما پیار کریں تمہیں"اسے ازہار کی گود میں دے کر اسنے حیا کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے جو مسکراتے ہوئے بنا دیر کیے اسکی گود میں آگئی
"انکل ہمیں بھی دکھا دیں" میکائیل نے سر اٹھا کر ازہار کو دیکھتے ہوئے کہا جس پر اسنے جھک کر اس بےبی گرل کو اسکے سامنے کردیا
"یہ بات نہیں کرتی"
"ابھی چھوٹی ہے نہ پہلے سیکھے گی"
"تو کھیلے گی بھی نہیں"
"جب سو کر اٹھے گی تو پھر کھیلے گی" اسکے کہنے پر میکائیل نے اپنے لب دانتوں میں دبائے اور اسکے گال پر تھپڑ مار کر اسے اٹھانے لگا اور اس کوشش میں کامیاب بھی ٹہرا کیونکہ اسکا تھپڑ کھاتے ہی وہ رونا شروع ہوچکی تھی اور اسے روتے دیکھ کر میکائیل گھبراتے ہوئے بھاگ کر وہاں کھڑی دعا کے پیچھے چھپ گیا
ورنہ ازہار کچھ کرے نہ کرے مشارب نے اسکا کان ضرور کھینچنا تھا
°°°°°
ہاسپٹل سے واپس آتے ہوئے کافی رات ہوچکی تھی جبکہ حیا اور میکائیل گاڑی میں ہی سوچکے تھے
اسلیے انہیں اپنی گود میں اٹھا کر مشارب اور وجدان خاموشی سے اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تاکہ انکی نیند خراب نہ ہو
°°°°°
میکائیل کو اسکے کمرے میں لٹا کر وہ اپنے کمرے میں آگیا جہاں دعا واشروم سے نکل رہی تھی اسنے نائٹ سوٹ پہنا ہوا تھا اور یقینا اب سونے کی تیاری تھی لیکن مشارب کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا
"دعا سونا مت"
"مشارب مجھے نیند آرہی ہے"
"میں کہہ چکا ہوں بعد میں نیند خراب ہو تو مجھ سے شکایت مت کرنا" اپنی بات کہہ کر اسنے وارڈروب سے اپنا ٹراؤزر اور شرٹ نکالا اور واشروم میں چلا گیا
دعا نے گھور کر واشروم کے دروازے کو دیکھا جیسے اسے نہیں مشارب کو دیکھ رہی ہو اور اسکی بات کو اگنور کرکے سونے کے لیے لیٹ گئی
جب تھوڑی دیر بعد نیند میں اسے اپنے چہرے پر مشارب کا لمس محسوس ہوا ہو
وہ نیند میں تھی لیکن اسکا لمس اپنے چہرے پر محسوس کرکے اسکی لبوں پر مسکراہٹ بکھر چکی تھی
جسے دیکھ کر مشارب اسکے لبوں پر جھک گیا
"مشارب مجھے نیند آرہی ہے" اسکے دور ہٹتے ہی دعا نے منہ بنایا
"ہر وقت تو تمہارا ٹڈا ساتھ رہتا ہے ایسے موقع مجھے کم ہی میسر آتے ہیں جب وہ ہمارے درمیان نہ ہو اور ایسے موقع میں ضائع نہیں کرنا چاہتا"
"آپ میرے بیٹے کو ٹڈا کہہ رہے ہیں"
"ہاں ٹڈا کہہ رہا ہوں پتہ نہیں کیا چیز ہے ایسا لگتا ہے اسنے تمہارے اندر کوئی الارم فٹ کیا ہے جب بھی میں تمہارے قریب آتا ہوں الارم بج جاتا ہے اور وہ ٹڈا اڑ کر ہمارے درمیان آجاتا ہے"
اسکی بات سن کر وہ بےساختہ ہنسی جس پر مشارب نے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے
جب اسکے کانوں میں دروازے ناک ہونے کی آواز آئی
"دعا کیا یہ آواز تمہیں بھی آرہی ہے یا میرے کان بج رہے ہیں" اسنے تصدیق کرنی چاہی جس پر دعا نے اپنا سر ہلادیا
اسکا سر ہاں میں ہلتا دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور جاکر دروازہ کھول دیا جہاں اسکے اندازے کے عین مطابق وہ ٹڈا ہی کھڑا تھا
نیند میں ڈوبا ہوا جبکہ دونوں ہاتھوں میں اسنے اپنا چھوٹا سا تکیہ پکڑا ہوا تھا
"آپ مجھے اس کمرے میں اکیلا چھوڑ آئے ڈیڈ" اسنے معصومیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے تھے لیکن وہ مشارب شیرازی کی ہی اولاد تھا جسکی وہ رگ رگ سے واقف تھا اسلیے اسکی معصومیت میں کم از کم وہ تو نہیں آنے والا تھا
"میرا بیٹا جب اکیلے کمرے میں سو گے تو ہی بہادر بنو گے"
"تو پھر آپ کیوں ماما کے ساتھ سوتے ہو" اسکے کہنے پر دعا نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی دبائی جبکہ مشارب گہرا سانس لے کر رہ گیا
"کیونکہ تمہاری ماں اکیلے سونے سے ڈرتی ہے اسلیے مجھے اسکے ساتھ سونا پڑتا ہے"
"میں بھی بچہ ہوں اور میں بھی اکیلے سونے سے ڈرتا ہوں" تکیہ سینے سے لگائے وہ اندر کمرے میں داخل ہوا جب دروازہ بند کرکے مشارب نے اسے اپنی گود میں اٹھایا
"بچہ حرکتیں ہیں بچوں والی" اسکا تکیہ بیڈ پر پھینک کر وہ اسکے پیٹ پر گدگدی کرنے لگا جس کی وجہ سے کمرے میں میکائیل کی ہنسی گونجنے لگی
وہ ہنستے ہوئے اپنی ماں کو مدد کے لیے بلارہا تھا اور ایسا کیسے ہوسکتا تھا کہ وہ دعا کو پکارتا اور وہ نہ جاتی اسلیے وہ اپنے معصوم بیٹے کو اسکے ظالم باپ سے بچانے کی جدو جہد میں لگ گئی
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب وہ بھی مشارب کے شکنجے میں آچکی تھی جس کی وجہ سے میکائیل کے ساتھ ساتھ کمرے میں دعا کی بھی ہنسی گونجنے لگی
°°°°°
اپنے کمرے میں داخل ہوکر وجدان نے نے آرام سے اسے بیڈ پر لٹایا اور اٹھ کر خود چینج کرنے کے لیے چلا گیا
چینج کرکے وہ باہر نکلا جب نظر بیڈ پر حیا کے پاس بیٹھی علیحہ پر گئی جو گہری نظروں سے سوتی حیا کو دیکھ رہی تھی
"میری بیٹی کو نظر لگاؤ گی"
"میں سوچتی تھی کہ حیا کو بھی اپنے جیسا بناؤں گی مظبوط جو ہر طرح کے معاملے کو فیس کرنا جانتی ہو لیکن لگتا نہیں ہے یہ ایسی بنے گی"
"مجھے اسے بنانا بھی نہیں ہے میرے لیے ایک ہی علیحہ کافی ہے میں یہ چاہتا ہوں کہ میری حیا عام لڑکیوں کی طرح رہے" اسکے کہنے کر علیحہ آنکھیں چھوٹی کرکے اسے گھور کر دیکھنے لگی
"کیا مطلب ہے میں لڑکی نہیں ہوں"
"نہیں یار میں نے تو یہ کہا ہے کہ یہ عام لڑکیوں کی طرح بنے شرمیلی سی معصوم سی تمہاری طرح زبان دراز نہ ہو"
"وجدان صاحب تم نے ہی کہا تھا کہ میری زبان درازی تمہیں ساری عمر خوشی سے قبول ہے"
ارے یار نیا نیا محبت کا خمار چڑھا تھا جب اترا تو پتہ چلا کہ اس وقت کیا کہہ دیا تھا"
اسکے کہنے پر علیحہ نے وہاں رکھا کشن اسکے اوپر پھینکا جو سیدھا اسکے منہ پر جا لگا جبکہ وجدان کی گھورتی نظریں اب اس پر ٹکی تھیں
"بچ کر دکھاؤ تم مجھ سے"کشن سائیڈ پر پھینک کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا جبکہ اسے اٹھتے دیکھ کر وہ جلدی سے کمرے سے باہر جانے لگی لیکن اس سے پہلے ہی اسکا ہاتھ پکڑ کر وجدان اسے صوفے پر گرا چکا تھا
"پہلے حساب تو چکاو"
"وجدان حیا اٹھ جائے گی"
"وہ اپنی نیند پوری کیے بنا نہیں اٹھتی ہے"
"میکائیل آجائے گا"
"وہ اس وقت مشارب کا دماغ کھا رہا ہوگا"
"اماں جان نے بلایا تھا"
"رات کے اس وقت وہ تمہیں نہیں بلانے والی"
وہ خاموش ہوگئی اسکے ہر ںےتکے سوال کا جواب وجدان کے پاس موجود تھا
"کیا کرنا ہے مجھے"
"تمہیں کچھ نہیں کرنا جو کرنا ہے مجھے کرنا ہے" اسکی بات سن کر علیحہ نے مسکراتے ہوئے اپنی نظریں جھکالیں جب وجدان نے کارپٹ پر پھکا کشن اٹھایا اور اس کے منہ پر مار دیا
اسکی اس حرکت کے باعث علیحہ کی مسکراہٹ غائب ہوئی اسے تو لگ رہا تھا وجدان کوئی رومینٹک سی حرکت کرے گا لیکن یہ بندہ بھی نہ
صوفے سے اٹھ کر اسنے کشن اٹھا کر دوبارہ وجدان کے اوپر پھینکا
پھر کیا تھا شروع ہوگئی علیحہ اور وجدان کی لڑائی
°°°°°
"آیت میں کیا سوچ رہا ہوں"عادت کے مطابق وہ دھڑام سے بیڈ پر گرا جس پر آیت نے گھور کر اسے دیکھا
کیونکہ اسکی اس حرکت سے بےبی کی نیند خراب ہوسکتی تھی جسے اتنی مشکل سے مناہل سلا کر گئی تھی
"کیا سوچ رہے ہیں"
"ہم اسکا نام حرا رکھ دیں"
"کوئی ضرورت نہیں ہے اپنی سوچ اپنے پاس رکھیں"
"ارے یار اسنے بھی تو اپنے بیٹے کا نام ازہار رکھا ہے میں سوچ رہا تھا ہم بھی حرا رکھ لیتے ہیں"
حرا کی شادی یونیورسٹی لائف میں ہی ہوگئی تھی جس پر آیت نے شکر بھرا سانس لیا لیکن پھر حیرت کا شدید جھٹکا اسے تب لگا جب اسنے اپنے بیٹے کا نام ازہار رکھا تھا صرف اسلیے کیونکہ اسکی محبت کا نام ازہار تھا
"جی نہیں میں اپنی بیٹی کا نام حرا نہیں رکھنے والی اسکا تو میں کوئی پیارا سا نام رکھوں گی"
"جیسے"
"جیسے" وہ سوچنے لگی
"ایمان ازہار درانی"
"اچھا جی ٹھیک ہے تو پھر اب سے آپ ایمان ازہار درانی ہیں"وہ کمبل میں لپٹے اس ننھے وجود کو بتانے لگا جبکہ اسکا انداز دیکھ کر آیت بےاختیار ہسی
°°°°°
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسے کمرہ خالی ملا
مناہل کی غیر موجودگی دیکھ کر وہ واپس باہر اسے دیکھنے کے لیے جانے لگا جب وہ اسے بیلکونی میں کھڑی دکھائی دی وہ خود بھی وہیں چلا گیا
"مناہل یہاں کیا کررہی ہو ٹھنڈ ہورہی ہے"
"میں کچھ سوچ رہی تھی سکندر"
"کیا سوچ رہی تھی" سکندر نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا
"میں نے آج تک آپ کا شکریہ ادا نہیں کیا"
"تمہیں میرا شکریہ کس بات کے لیے ادا کرنا تھا مناہل"
"ہر اس چیز کے لیے جو آپ نے میرے لیے کی تھی میں نے آپ کو برا بھلا کہا آپ کی بات نہیں سنی آپ نے پھر بھی میرا ساتھ نہیں چھوڑا میرے ماں باپ کے سامنے ہمیشہ میری عزت رکھی علیحہ کو قبول کیا مجھے عزت بھری زندگی دی" بولتے بولتے اسکی آواز رندھ گئی
"مناہل شکریہ ادا کرنا ہو تو ہمیشہ اللہ کا کرنا چاہیے سچ کہوں تو میں نے بھی تو اپنا ہی فائدہ دیکھا تھا محبت تھیں تم میری میں تمہیں چھوڑ نہیں سکتا تھا اسلیے تمہیں اپنانے کے لیے یہ سب کیا"
"محبت میں بھی ہر کوئی ساتھ نہیں دیتا سکندر اور جہاں تک بات ہے اللہ کا شکر ادا کرنے کی تو یہ کام میں ہر نماز میں کرتی ہوں اور ساری زندگی بھی شکر ادا کرتی رہوں تو بھی ٹھیک سے شکر ادا نہیں کر پاؤں گی کہ خدا نے مجھے آپ جیسا تحفہ دیا"
اسکے کہنے پر سکندر کے چہرے پر دلکش مسکراہٹ نمودار ہوئی آج پہلی بار وہ اس طرح کھلے لفظوں میں اپنے جذبات کا اظہار کررہی تھی وہ کیسے خوش نہیں ہوتا
اسے اپنے قریب کرکے سکندر نے نرمی سے اسکے ماتھے پر اپنے لب رکھے اور اسے اپنے سینے سے لگالیا
°°°°°
ختم شد

29/11/2025

are only mine

-e-omama

no:22

Episode

Don't copy paste without my permission
°°°°°
(چھ سال بعد)
°°°°°°
رولنگ چئیر پر بیٹھی وہ سامنے رکھے لیپ ٹاپ پر تیز تیز انگلیاں چلاتی جارہی تھی
جب پیچھے سے اچانک کسی نے اسکی رولنگ چئیر گھما کر اسکا رخ اپنی طرف کر لیا

"جہان آپ کب آئے"

اسے دیکھتے ہی وہ چہکتے ہوئے جگہ سے اٹھتی بےاختیار اسکے سینے سے جا لگی

"جب تم اپنی کہانی لکھ رہی تھیں کہاں تک پہنچی"

"آج سے تو شروعات ہی کی ہے"

اسے جواب دیتی وہ مڑ کر لیپ ٹاپ بند کرنے لگی

"دیکھو روح تمہاری ایک کہانی مشہور ہوگئی تھی اسکا یہ مطلب تھوڑی ہے ہر کہانی ہی مشہور ہو جائے گی"

"اور کیوں نہیں ہوگی''

دونوں ہاتھ آپس میں باندھ کر وہ اسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی
داد اور عائزہ کی شادی اور انکی تین سالہ بیٹی کے ساتھ ساتھ ان چھ سالوں میں ایک اور کام بھی ضرور ہوا تھا
جو ڈر روحیہ حسین کو جہانزیب کاظمی سے تھا وہ درمیان میں اب کہیں نہیں رہا تھا البتہ ایک چیز کا اضافہ ضرور ہوا تھا
روحیہ حسین جہانزیب کاظمی پر حد سے زیادہ رعب جمانے لگ گئی تھی اور کسی کی نہ ماننے والا جہانزیب کاظمی فقط اس چھوٹی سی گڑیا کے رعب میں ہی آتا تھا

"کیونکہ ہر کہانی میں جہانزیب کاظمی جیسا ہیرو نہیں ہوتا"

اسنے اپنی زندگی میں پہلا ناول اپنی ہی زندگی کی کہانی پر لکھا تھا جو بہت مقبول بھی ہوا پر اس مقبولیت نے روحیہ حسین کو ہمیشہ اداس ہی کیا تھا
کیونکہ کہانیوں کے کردار میں جہانزیب کاظمی پہلا ایسا کردار تھا جس کا تعلق حقیقی زندگی سے جڑا ہوا تھا
کتنی ہی لڑکیاں تھیں جو اسکے خواب سجائے بیٹھی تھیں اور جب جب اسے یہ بات پتہ چلتی تھی تب تب اسے اپنی لکھائی پر غصہ آتا تھا
اسکی خواہش تھی کے اسکی کہانیاں مشہور ہوں لیکن یہ خواہش تو اسنے کبھی نہیں کی تھی کے لڑکیاں کسی مچھر یا مکھی کی طرح اسکے شوہر کے پیچھے ہی پڑی رہیں

"مجھے وہ کہانی یاد مت دلایا کریں"

"تمہیں تو خوش ہونا چاہیے تمہاری کہانی اتنی زیادہ پاپولر ہوئی تھی"

"ضرور خوش ہوتی اگر لوگ صرف کہانی پاپولر کرواتے یہاں تو سب لڑکیاں میرے شوہر کے ہی پیچھے پڑ گئی ہیں"

اسکے منہ بنا کر کہنے پر جہانزیب نے ہنستے ہوئے اسے اپنے حصار میں لے لیا

"کیا فرق پڑتا ہے کوئی ہمارے متعلق کیا سوچتا ہے میں اس بارے میں نہیں سوچتا تم بھی مت سوچا کرو بس اتنا یاد رکھو کے تم میری اور میں تمہارا ہوں کہانی میں بھی اور حقیقی زندگی میں بھی"

اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں کے پیالے میں بھرے وہ جھک کر اسکی پیشانی پر اپنے لب رکھ گیا

"میرا بےبی کیسا ہے"

"ٹھیک ہے اچھا کیا میں آج ماما کے گھر چلی جاؤں"

"نہیں آج مجھے ایک جگہ پر جانا ہے اور تم نے بھی میرے ساتھ چلنا ہے"

"کہاں"

"ایک دوست کی ویڈنگ اینیورسری ہے اسنے انوائیٹ کیا ہے شام تک تیار رہنا"

اسکے کہنے پر اپنا سر ہلاتی وہ اپنے کپڑے سلیکٹ کرنے کی غرض سے واشروم کی طرف چلی گئی
°°°°°
گھر میں داخل ہوتے ہی اسکی پہلی نگاہ گارڈن ایریا میں بیٹھی حنین پر گئی مسکراتے ہوئے اسنے ہاتھ میں پکڑا بیگ زمین پر رکھا اور اسکے قریب چلا گیا

"حنین"

اسکی آواز سنتے ہی اپنی ڈول سے کھیلتی حنین نے حیرت سے مڑ کر اسکی طرف دیکھا اور اسے دیکھتے ہی اپنی جگہ سے اٹھ کر بھاگتے ہوئے اسکے قریب چلی گئی
اپنی ٹانگ سے چپکی حنین کو گود میں اٹھائے وہ مسکراتے ہوئے اسکے روحیہ جیسے پھولے پھولے گالوں پر اپنے لب رکھ گیا
مہینوں بعد بیٹی سے ملاقات کی تھی اسلیے بنا پلکیں جھپکائے وہ اپنی بیٹی کو دیکھ رہا تھا

"مجھے مس کیا"

"بہت میں دو بار آپ کو یاد کرکے روئی بھی تھی"

اسکے بتانے پر احد کو اس گڑیا پر مزید پیار آیا

"میرا بچہ"

ایک مرتبہ پھر اسکے گالوں کو اپنے لبوں سے چھوتے ہوئے وہ اندر کی طرف چلا گیا
حنین کے بتانے پر اسے علم ہوا تھا کے زہرہ بیگم اور حسین صاحب دعوت پر گئے ہوئے تھے اسلیے ان سے ملاقات بعد میں ہی ہونی تھی
البتہ اپنی جان عزیز بیوی اور اس نئی جان سے تو وہ اس وقت مل ہی سکتا تھا نہ
کمرے میں داخل ہوتے ہی اسکی نگاہ بیڈ پر لیٹی حریم اور اسکے قریب سوئے اس نئے وجود پر گئی
دو ماہ کے اس بچے کو آج وہ پہلی مرتبہ دیکھنے جارہا تھا
حنین کو گود سے اتار کر اسنے بلینکٹ میں قید سفیان کو دیکھا اور بیڈ کے دوسری طرف بیٹھتے ہوئے اسنے جھک کر سفیان کو اپنی بانہوں میں اٹھالیا اور اپنے بچپن کو دیکھتے ہی نم آنکھوں کے ساتھ اسکی چھوٹی سی سفید پیشانی پر اپنے لب رکھ دیے
اسے ایسا کرتے دیکھ کر بیڈ پر بیٹھتی حنین نے بھی بھائی کے ساتھ یہی عمل دہرایا جسے دیکھتے ہوئے وہ بھیگی آنکھوں کے ساتھ مسکرا اٹھا

"تو آپ نے طے کر رکھا ہے میرے تکلیف دہ وقت میں میرے پاس کبھی نہیں ہوں گے"

حریم کی آواز پر اسنے نظروں کا رخ اسکی جانب کیا جو اپنی نیند سے بھری آنکھیں کھولے اسے ہی دیکھ رہی تھی
اسکے کہنے پر احد اسے بتا نہ سکا کے اسکی تکلیف یاد کرنے پر ہی وہ کس قدر کرب میں مبتلا ہوجاتا تھا
پر یہ اسکی مجبوری تھی کے دونوں مرتبہ ہی وہ اپنے فرض کے باعث اپنی بیوی کے پاس نہ رہ سکا

"معذرت چاہتا ہوں جان احد جو سزا دو قبول ہے"

"میں آپ کو کبھی سزا نہیں دے سکتی احد"

اٹھ کر بیٹھتے ہوئے وہ حنین کو اپنے قریب کھینچتی احد کے کندھے پر اپنا سر رکھ گئی

"پھر ایک کام کرتے ہیں ہم اب تیسرے بےبی کی پلیننگ کرتے ہیں اور میرا وعدہ ہے اسکی پیدائش کے وقت میں تمہارے پاس ہی رہوں گا"

اسکے شرارتا کہنے پر حریم نے مسکراہٹ دبا کر اسکے بازو پر زور دار مکا رسید کیا جسے دیکھتے ہی احد حسین نے قہقہہ لگاتے ہوئے اپنی زندگی سے جڑی ان تین جانوں کو اپنے مزید قریب کر لیا
°°°°°
گاڑی مطلوبہ جگہ پر رکتے ہی وہ باہر نکلا اور روحیہ کے اترتے ہی اسکا ہاتھ تھامے اسے اپنے ساتھ لیے اندر کی طرف چلا گیا
جہاں اندرونی دروازے پر کھڑا وہ شخص کلائی میں پہنی گھڑی پر نظریں جمائے یقیناً انہی کا منتظر تھا

"ارہان"

جہانزیب کے پکارنے پر ارہان نے چونک کر اسکی طرف دیکھا اور اسے دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے اسکے قریب چلا گیا
جہانزیب سے ملتے ہی وہ اس سے دور ہوا اور بےاختیار نظروں کا رخ روحیہ کی جانب کر لیا
یہ ان دونوں کی دوسری ملاقات تھی لیکن پہلی ملاقات جیسے گزری تھی تو اس حساب سے اس ملاقات کو ہی پہلی ملاقات کہا جائے گا
جہانزیب اور اسکی دوستی اتفاقی طور پر ہوئی تھی
جہانزیب نے اسے اپنا نمبر دیا تھا تاکہ جب بھی ارہان کو اسکی ضرورت ہو تو اسے یاد کرلے
ضرورت تو نہ سہی البتہ اس چیز نے ان دونوں کی دوستی ضرور کروادی تھی اسی چیز کے زریعے ترکی میں رہتے ہوئے بھی ارہان لاشاری اور جہانزیب کاظمی کی دوستی ہوگئی البتہ جب سے وہ یہاں شفٹ ہوا تھا تب سے اسکے گھر جہانزیب کاظمی نے اتنے سالوں کی دوستی کے باوجود بھی پہلی بار قدم رکھا تھا

"روح یہ میرا دوست ہے ارہان"

"ہاں بلکل مجھے اچھے سے یاد ہے انکے دوست یا شاید کسی عزیز کی وجہ سے ہی آپ مجھے ترکی لے کر گئے تھے اور بنا گھومائے ہی واپس لے آئے"

ارہان کو دیکھتے ہی وہ مسکراتے لبوں کے ساتھ جہانزیب کے سامنے طنز کرنا بھولی نہیں تھی
یہ غم اسے زندگی بھر رہنا تھا یا شاید تب تک جب تک جہانزیب نے اسے واپس ترکی لے جاکر ٹھیک سے گھوما نہیں دینا تھا
وہ المیر کے باعث اسے لے کر ترکی گیا تھا لیکن جلدی ہی واپسی کرنی پڑھ گئی اور اس بات کو روحیہ آج دن تک نہیں بھولی تھی

"خیر اندر آجاؤ"

اسکے کہنے پر سر کو ہولے سے جنبش دے کر وہ روحیہ کا ہاتھ تھامے اسے لیے اندر کی طرف چلا گیا
جہاں اس وقت ارہان کے گھر میں کافی افراد نظر آرہے تھے

"کیا تم نے اپنے پورے خاندان کو دعوت دی ہے"

اسکے کہنے پر ارہان نے ہنستے ہوئے سر کو نفی میں ہلایا

"نہیں یہ سب میرال کے گھر والے ہیں گاوں میں رہتے ہیں اور اپنے خاص دن پر تو مجھے انہیں بلانا ہی تھا ویسے یہاں ایک شخص تم سے بلکہ یوں کہوں خاص تم سے ہی ملنے آیا ہے"

"کون"

اسنے اچھنبے سے پوچھا

"بتاتا ہوں بلکہ میرے بتانے کی شاید ضرورت نہ پڑے وہ تمہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود تمہارے پاس آ جائے گا یہاں بیٹھو میں تب تک انہیں میرال کے پاس چھوڑ آتا ہوں"

اسے بیٹھنے کا اشارہ کرکے وہ روحیہ کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرکے وہاں سے چلا گیا تاکہ اسے میرال اور دیگر لڑکیوں کے پاس چھوڑ دے
اسکے جاتے ہی جہانزیب نے ہاتھ گرے کوٹ کی جیبوں میں ڈالتے ہوئے ایک تفصیلی نگاہ اسکے گھر پر ڈالی جب اپنے قریب کسی کی موجودگی محسوس کرکے پیشانی پر بل ڈالے اسنے چہرے کا رخ پھیرا
اس سے چند انچ کے فاصلے پر ایک لڑکی کھڑی تھی وائٹ کیپری اور وائٹ کلر کی ہی فراک پہنے وہ لڑکی مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہی تھی اور اسکے دیکھنے پر بنا دیر کیے اسکے قریب آ گئی

"ہیلو میں عائشہ ہوں آپ کو پتا ہے جیسے ہی مجھے کل شام کو علم ہوا آپ یہاں آنے والے ہیں میں ارجنٹ فلائٹ کے ساتھ صبح ہی یہاں آگئی صرف آپ سے ملنے کی خاطر آپ کو پتا ہے آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں جہانزیب"

اسکی کہی باتوں کے باعث جہانزیب کو جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگا تھا کے تھوڑی دیر پہلے ارہان اسکے سامنے کس کا ذکر کررہا تھا

"مجھے ارہان بھائی نے آپ کا نمبر دیا تھا لیکن ساتھ ہی انہوں نے مجھے آپ سے ڈرا بھی دیا تھا کے اگر میں نے آپ کو تنگ کیا تو آپ مجھے مار دیں گے اسلیے کبھی نمبر ملانے کی ہمت ہی نہیں ہو سکی لیکن جب آپ سے ملنے کا موقع ملا اور میں یہ موقع بھی گنوانا نہیں چاہتی تھی"

اسے مسلسل بولتے دیکھ کر جہانزیب کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ بکھری
چہرے پر ہاتھ پھیرتے اسنے روحیہ کو ڈھونڈنا چاہا جو فلوقت اسے کہیں نظر نہیں آئی
اچھا ہی تھا اگر روحیہ اس لڑکی کو اپنے بیسٹ کے قریب دیکھ لیتی تو بنا جگہ کا لحاظ کیے اس لڑکی پر اپنا غصہ دکھانا شروع کردیتی

"کیا نام بتایا تم نے اپنا"

اسکے پوچھنے پر عائشہ نے جلدی سے اپنا نام بتایا

"عائشہ"

"سنو عائشہ"

اسکے کہنے پر عائشہ حیرت و خوشی کے تاثرات چہرے پر سجائے اسکے تھوڑا اور قریب ہوئی

"جانتی ہو نہ میں ایک بیسٹ ہوں"

"ہاں اور میں تو آپ کی اسی بات پر فدا ہوں کیسے مارتے ہیں آپ لوگوں کو کہانی میں تو یہی سب دکھایا تھا اور ارہان بھائی نے بتایا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے"

"بلکل ایسا ہی مجھے ہر چھوٹی بات پر غصہ آ جاتا ہے اور اگر میری بیوی کے علاؤہ کوئی اور میرے نزدیک آ جائے تو میں غصے میں اسکے لیے بھی بیسٹ بن جاتا ہوں اسلیے بچے آج کے بعد مجھ سے فاصلے پر رہنا"

ہنسی ضبط کرتے ہوئے وہ بظاہر سنجیدگی سے کہنے لگا
جبکہ اسکی بات سنتے ہی عائشہ نے اسکے اور اپنے درمیان بنا فاصلہ دیکھا
وہ اسکے اس قدر قریب بھی نہیں کھڑی تھی البتہ خوف اسے پھر بھی آنا شروع ہوچکا تھا
اسلیے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائے وہ اسے بائے کا اشارہ کرتی بھاگنے کے انداز میں وہاں سے چلی گئی اور اسکے جاتے ہی جہانزیب نے اپنی ضبط کی گئی مسکراہٹ کو مزید نہیں روکا تھا
نظروں کا رخ پھیر کر اسنے اپنے قریب آتے المیر کو دیکھا جو اسے دیکھتے ہوئے اسکے قریب آکر حیرت و خوشی کے ساتھ اس سے مل رہا تھا
جبکہ تھوڑی دور بھاگتی عائشہ بنا رکے سیدھا حمزہ کے پاس گئی تھی
جو بات کرنے کی غرض سے باہر لان کے حصے کی جانب کھڑا تھا

"میر"

"کیا ہوا"

کال بند ہوتے ہی وہ اسکی طرف دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا

"بڑی جلدی بات ختم ہوگئی مسٹر بیسٹ سے"

"اسنے کہا اگر اسے غصہ آجائے تو وہ سب کو مار دیتا ہے مجھے خوف آیا تو میں اس سے دور ہوگئی"

"اچھا تو اسلیے میرے پاس آئی ہو ورنہ اسکے پاس ہی رہنے کا ارادہ تھا"

"سوری"

اسکے خفگی بھرے انداز پر وہ منمناتے ہوئے کہنے لگی
اسکا غصہ کرنا جائز تھا پورے راستے وہ اسکے سامنے جہانزیب نامی نارا ہی تو لگاتی آئی تھی اور اسے یہ بھی بتا چکی تھی کے لاہور آنے کا مقصد صرف جہانزیب سے ملنا تھا ایسے میں حمزہ اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے اسے یہاں لے آیا تھا یہی بڑی بات تھی

"اندر جاؤ عائشہ"

"سوری نہ میر"

بچوں جیسے انداز میں کہتے وہ اسکے سینے سے چپک گئی جس کے باعث حمزہ ناچاہتے ہوئے بھی مسکرا اٹھا اور اسکے گرد اپنا حصار قائم کردیا
°°°°°
ارہان کے گھر سے واپسی کے بعد اسنے گاڑی گھر کے راستے پر ڈالنے کے بجائے دوسری طرف موڑ لی تھی
انجان راہ کی طرف جاتی گاڑی پر اسنے حیرانگی سے جہانزیب کی طرف دیکھا البتہ کچھ پوچھا نہیں
تھوڑی دیر بعد اسنے گاڑی ایک ساحل سمندر کے قریب جا کر روکی اور اسے اترنے کا اشارہ کرکے خود بھی اتر گیا
رات کے پہر اس وقت وہ جگہ کم ہی لوگوں سے بھری ہوئی تھی
البتہ لہروں کا شور اور وجود کو چھوتی ٹھنڈی تیز ہوائیں ماحول کو خاصا خواشگوار بنا رہی تھیں

"ہم یہاں کیوں آئے ہیں جہان"

اسکے قریب آتے ہی وہ اپنے ہوا کے زریعے اڑتے بالوں کو سمیٹتے ہوئے پوچھنے لگی

"تاکہ یہ ماحول تمہیں سکون بخشے"

اسے کار بونٹ پر بٹھاتے ہوئے وہ خوش دلی سے کہنے لگا جسے سن کر روحیہ کے لب مسکراہٹ میں جا ڈھلے

"مجھے سکون بخشنے کے لیے آپ کی بانہوں کا حصار ہی کافی ہے"

"ہاں لیکن ہو سکتا ہے ہماری ننھی سی جان کو اس ماحول کی ضرورت ہو"

اسکے کہنے پر روحیہ بےاختیار اپنی نظروں جھکا گئی البتہ ہاتھ بےساختہ طور پر اپنے معدے سے نیچے کی طرف جانے لگا

"زرا مجھے بتاؤ اسکے آنے میں کتنا وقت ہے"

اسکے اطراف میں اپنے دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے اسنے وہ سوال دہرایا جو وہ تین مہینوں سے دہراتا آرہا تھا

"چھ مہینے ہیں اسکے آنے میں"

"جانتی ہو روح میری کیا خواہش ہے"

"یہی کے آپ کو بیٹی چاہیے"

اسکے بتانے پر جہانزیب نے اپنا سر اثبات میں ہلایا

"ہاں مجھے بیٹی چاہیے ایک ایسی لڑکی جو مظبوط ہو جو بلکل میری طرح ہو میں ایک زائشہ کو بےآبرو ہونے سے نہیں بچا سکا تھا لیکن اپنی بیٹی کو میں اس قدر بہادر بناؤں گا کے لوگ اسکی طرف دیکھتے ہوئے بھی خوف کھائیں"

"سیدھے سیدھے کہیں نہ اسے غنڈی بنانا چاہتے ہیں"

اسکی بات سنتے ہی جہانزیب کھل کر ہنسا

"جو کہنا چاہو کہہ لو پر یہ حقیقیت ہے اگر میری بیٹی ہوئی تو میں اسے ایک مظبوط لڑکی بناؤں گا مجھے لوگ بیسٹ کے نام سے جانتے ہیں تو لوگ اسے بھی اسی نام سے پہنچانے گے اور میں اسکا نام زائشہ رکھوں گا زائشہ جہانزیب کاظمی"

"اور میرا کیا ہوگا آپ تو ابھی سے اس لڑکی کے ہوگئے جو دنیا میں آئی نہیں ہے جب آ جائے گی تب میرا کیا ہوگا"

اسکے خفگی بھرے انداز پر جہانزیب نے اسے نیچے اتارا اور اسے اپنے حصار میں لیے اپنے سینے سے لگا گیا

"تم تو میری سانوں میں بستی ہو روح جہانزیب کاظمی کی جان ہے تم میں چاہے زندگی کتنی ہی آگے بڑھ جائے چاہے حالات کسی بھی موڑ پر آجائیں جہانزیب کاظمی سر تہ پیر تمہارا ہے اور جہان کی روح سر تہ پیر اسکی ہے"

اسے اپنے حصار میں لیے وہ دھیمے لہجے میں کہتا روحیہ کو سکون بخش رہا تھا
اتنا کے کوئی حد نہیں
اسے اکثر حیرت ہوتی تھی وہ وہی جہانزیب کاظمی تھا جس کے وہ سائے سے بھی ڈرتے تھی اور اب اسی شخص کے بنا جینے کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھی
وہ جیسے اب مکمل ہی جہانزیب سے تھی ایک ایسا انسان جو صرف اور صرف اسکا تھا اور وہ پوری کی پوری اپنے جہان کی تھی
وہ جہان کی روح تھی
مطلب جہانزیب کاظمی کی سانسوں میں بستی ایک ایسی لڑکی جسے اگر کچھ ہوا تو جہانزیب کاظمی نے بھی خود کو فنا کردینا تھا
وہ اسے جہان کی روح درست کہا تھا
اور وہ روحیہ کا جہان تھا
ایک ایسا جہان جس کے علاؤہ اب اسے کہیں اور جانے کی تمنا نہیں رہی تھی
°°°°°
ختم شد

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Clifton
Karachi