دنیا کی زندگی کی حقیقت

دنیا کی زندگی کی حقیقت

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from دنیا کی زندگی کی حقیقت, Library, Keamari, Karachi.

15/06/2023

‏میرا بیٹا کامران کو کینسر تھا تو میں اسے یہودی ایجنٹ عمران خان کے کینسر ہسپتال لاھور لے گیا۔ ڈاکٹروں نے علاج اخراجات کے حوالے سے بتایا کہ کامران کے علاج پر 20 تا 25 لاکھ روپے ابتدائی خرچ آسکتا ھے۔ اگر اس رقم سے علاج مکمل نہ ھوا تو مزید لاکھوں روپے اخراجات آسکتے ہیں۔ ڈاکٹروں نے مجھ سے پوچھا کیا آپ یہ اخراجات برداشت کر سکتے ھو؟
۔
میں ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے جواب دیا کہ میں نے کے۔پی۔کے۔ ضلع دیر سے لاھور تک آنے کا کرایہ دوستوں سے قرض لیا تو 20 یا 25 لاکھ روپے خرچ کیسے برداشت کروں؟
۔
میرا جواب سن کر ڈاکٹروں نے کہا پریشان مت ھونا کامران کا علاج یہودی ایجنٹ عمران خان مفت کرائے گا اور اسی وقت کامران کیلئے فری کمپیوٹرائزڈ کارڈ دیا گیا اور کامران مفت علاج کے بعد مکمل صحتیاب ھوا اور باقاعدہ سکول جاتا ھے۔
۔
یہ کہانی صرف ایک کامران کی نہیں بلکہ اس ہسپتال سے ہزاروں کامران مفت علاج کراکر صحتیاب ھوئے اور یہودی ایجنٹ عمران کیلئے دعائیں دیتے ہیں۔ میں جو خان کیخلاف نہیں لکھتا اس کی بڑی وجہ کامران کی حقیقت پر مبنی داستان اور احسان ھے جو مجھ پر قرض ھے۔

21/02/2022

لونڈی اور بیوی میں کیا فرق ہے؟ ڈاکٹر اسرار احمد

21/02/2022

نماز میں دل کیوں نہیں لگتا؟ ڈاکٹر اسرار احمد

21/02/2022

اصل کامیابی کیا ہے؟ ڈاکٹر اسرار احمد

10/10/2021

یہ قوم آپ کی احسان مند رہے گی 😪

إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

Photos from ‎دنیا کی زندگی کی حقیقت‎'s post 06/10/2021

دن میں 5 وقت سمندر میں تیر کر مسجد جاتا ہوں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ںماز پڑھنے کے لئے دن میں 5 وقت مسجد جانا ہمیں دشوار لگ رہا ہوتا ہے اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو گھر میں رہ کر نماز نہیں پڑھتے، مگر آج ہم آپ کو ایک ایسے شخص کی کہانی بتانے جا رہے ہیں
جو دن میں 5 وقت گہرے سمندر میں تیر کر نماز پڑھنے جاتا ہے۔

بنگلہ دیش کے ایک گاؤں میں سیلاب آگیا تھا جس کی وجہ سے سارا علاقہ ڈوب گیا اور قریب میں کوئی مسجد نہیں تھی، مسجد کے امام روزانہ دن میں 5 مرتبہ گہرے سمندر میں تیر کر مسجد میں آزان دیتے اور نماز پڑھنے جاتے ہیں۔ امامِ مسجد کہتے ہیں کہ ” پہلے جب سیلاب نہیں آیا تھا تو مسجد آنا آسان تھا، لیکن اب زمینی راستے ختم ہوگئے، اس لئے میں روزانہ اب تیر کر آتا ہوں، کبھی کشتی مل جاتی ہے تو اس میں بیٹھ کر آجا تا ہوں اور کبھی میں تیر کر آتا ہوں، ایسے حالات میں آگے بڑھنا اور نماز کے لئے آنا مشکل ہے البتہ جب میں آسکتا ہوں تو کیوں نہ آؤں، اللہ نے بسترِ مرگ پر بھی نماز کو کسی طرح پڑھنے کا حکم دیا ہے تو زندہ جاوید آدمی کیوں نماز نہ پڑھے۔ ”
مزید کہتے ہیں کہ رات کے وقت میں مسجد کی چھت پر سو جاتا ہوں تاکہ فجر اور تہجد ادا کرسکوں اور ازان دیتا ہوں تاکہ اللہ کو یاد کرنے والے یہاں نماز کی ادائیگی وقت پر کریں۔

منقول

04/06/2021
19/05/2021

دنیا کا سب سے بہادر جوان، فرشتوں کا مسجود، مسلمانوں کا فخر

Photos from ‎دنیا کی زندگی کی حقیقت‎'s post 18/05/2021

غزہ:وحشیانہ اسرائیلی بمباری اس پہر بھی جاری ہے۔درندگی اور بربریت کی نئی مثالیں قائم کی جا رہی ہیں۔
"اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے"

07/04/2021

جنرل اور چرواہا ............👉
یہ 1917 کی بات ہے عراق کے پہاڑوں میں برطانوی جنرل
سٹانلی ماودے کا ایک چرواہے سے سامنا ہوا.
جنرل چرواہے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنے مترجم سے کہا ان سے کہہ دو کہ جنرل تمہیں ایک پاونڈ دے گا بدلے میں تمہیں اپنے کتے کو ذبح کرنا ہوگا.
کتا چرواہے کے لئے بہت اہم ہوتا ہے یہ اس کی بکریاں چراتا ہے،دور گئے ریوڑ کو واپس لاتا ہے،درندوں کے حملوں سے ریوڑ کی حفاظت کرتا ہے،لیکن پاونڈ کی مالیت تو آدھا ریوڑ سے بھی زیادہ بنتی ہے چرواہے نے یہ سوچا اس کے چہرے پر لالچی مسکراہٹ پھیل گئی،اس نے کتا پکڑ لایا اور جنرل کے قدموں میں ذبح کر دیا.
جنرل نے چرواہے سے کہا اگر تم اس کی کھال بھی اتار دو میں تمہیں ایک اور پاونڈ دینے کو تیار ہوں،چرواہے نے خوشی خوشی کتے کی کھال بھی اتار دی،جنرل نے کہا میں مزید ایک اور پاونڈ دینے کے لئے تیار ہوں اگر تم اس کی بوٹیاں بھی بنا دو چرواہے نے فوری یہ آفر بھی قبول کرلی جنرل چرواہے کو تین پاونڈ دے کر چلتا بنا.
جنرل چند قدم آگے گئے تھے کہ اسے پیچھے سے چرواہے کی آواز سنائی دی وہ پیچھے پیچھے آ رہا تھا اور کہہ رہا تھا جنرل اگر میں کتے کا گوشت کھا لوں آپ مجھے ایک اور پاونڈ دیں گے؟
جنرل نے انکار میں سر ہلایا کہ میں صرف تمہاری نفسیات اور اوقات دیکھنا چاہتا تھا،تم نے صرف تین پاونڈ کے لئے اپنے محافظ اور دوست کو ذبح کر دیا اس کی کھال اتار دی،اس کے ٹکڑے کیا اور چوتھے پاونڈ کے لئے اسے کھانے کے لئے بھی تیار ہو،اور یہی چیز مجھے یہاں چاہئے.
پھر جنرل اپنے ساتھیوں سے مخاطب ہوئے کہ اس قوم کے لوگوں کی سوچیں یہ ہیں لہذا تمہیں ان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے.
آج یہی حال مسلم ملکوں اور معاشروں کا ہے،اپنی چھوٹی سی مصلحت اور ضرورت کے لئے اپنی سب سے قیمتی اور اہم چیز کا سودا کر دیتے ہیں.
اور یہ وہ ہتھیار ہے جسے ہر استعمار،ہر قابض،ہر شاطر دشمن ہمارے خلاف استعمال کرتا رہا ہے،اسی کے ذریعے اس نے حکومت کی ہے اور اسی کے ذریعے ملکوں کو لوٹا ہے.
آج ہمارے درمیان ہمارے ملکوں میں کتنے ہی ایسے 'چرواہے' ہیں جو نہ صرف کتے کا گوشت کھانے کے لئے تیار ہیں بلکہ اپنے ہم وطن بھائیوں کا گوشت کھا رہے ہیں اور چند ٹکوں کے عوض اپنا وطن بیچ رہے ہیں.

04/03/2021

ايک شخص ابراھیم بن ادھمؒ سے بحث کر رہا تھا کہ برکت نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی.
*ابراہیم بن ادھمؒ نے کہا، "تم نے کتے اور بکریاں دیکھی ہیں؟ ".وہ شخص بولا، "ہاں ،".ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "سب سے زیادہ بچے کون جنتا ہے کتے یا بکری..؟" وہ بولا، "کُتے"۔ ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "تم کو بکریاں زیادہ نظر آتی ہیں یا کتے..؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔
" وہ بولا، "بکریاں ". ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "جبکہ بکریاں ذبح ہوتی ہیں، مگر پھر بھی کم نہیں ہوتیں، تو کیا برکت نہیں ہے ؟ اسی کا نام برکت ہے". پھر وہ شخص بولا، "ایسا کیوں ہے، کہ بکریوں میں برکت ہے اور کتے میں نہیں ؟". ابراھیم بن ادھمؒ بولے، "بکریاں رات ہوتے ھی فورا سو جاتی ہیں اور فجر سے پہلے اٹھ جاتی ہیں.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ نزولِ رحمت کا وقت ہوتا ہے، لہذا ان میں برکت حاصل ہوتی ھے ،اور کتے رات بھر بھونکتے ہیں ، اور فجر کے قریب سو جاتے ہیں، لہذا رحمت و برکت سے محروم ہوتے ہیں"۔ پس غور و فکر کا مقام ہے، آج ہمارا بھی یہی حال ہے۔۔۔۔۔۔.
ہم اپنی راتوں کو فضولیات میں گزارتے ہیں، اور وقتِ نزولِ رحمت، سو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے آج نہ ہی ہمارے مال میں اور نہ ہی ہماری اولاد میں اور نہ ہی کسی دوسری چیز میں برکت رہی ہے.
ذرا نہیں... پورا سوچیئے ......
شیٸر بھی کیجیۓ.........

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Keamari
Karachi
75620