23/05/2026
خوشی کی خبر ۔ الحمدللہ ❤️
جےیوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو اور ڈاکٹر ابراہیم جتوئی ایس ایس پی شکار پور ، قبائلی زعماء کی کوششوں سے مغوی بچی حورم بازیاب ہوچکی ہے ۔ الحمدللہ
تھوڑی دیر میں ان شاءاللہ العزیز جےیوآئی ضلع شکار پور کے امیر مولانا عبداللہ مہر اور ایس ایس پی شکار پور ودیگر معززین مغوی بچی حورم کو والدین کے حوالے کریں گے ۔
میری ابھی چند منٹ قبل علامہ راشد محمود سومرو اور مولانا عبداللہ مہر ، الحمدللہ ثم الحمدللہ ، اس عمل میں جتنے حضرات نے کرادر ادا کیا ہے بالخصوص میر امان اللہ بڑیچ ، میر کرم خان بڑیچ ، جہانگیر خان بڑیچ سمیت دیگر اللہ کریم سب کو جزائے خیر عنایت فرمائے ۔۔! آمین
22/05/2026
آج صبح جمعیت علمائے اسلام کی صوبائی مجلس عاملہ کے اراکین کی صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو سے کچے میں بچی کے اغوا والے معاملے کے حوالے سے طویل مشاورت ہوئی ۔
مجھ سمیت صوبائی نائب امیر قاری محمد عثمان صاحب ، مولانا محمد غیاث صاحب اس مشاورتی عمل میں شریک رہے۔
اس معاملے میں کل سے اب تک جس طرح کے نشیب و فراز آئے وہ ہمارے لئے حیران کن اور پریشان کن تھے ، ہم نے بچی کے والد کے نمبر یا کسی طرح سے بھی متاثرہ خاندان سے رابطے کا ذریعہ ہوں کی رسائی کی بھی ہرممکن کوشش کی ۔
اس موقع پر مشاورت کے دوران راشد سومرو صاحب نے اپنے تمام ذرائع استعمال کئے ، با اثر افسران اور قبائلی عمائدین سے رابطے کئے ۔ جن کا صرف اتنا کہنا تھا کہ آپ کوئی مصدقہ معلومات فراہم کریں تاکہ ہم بچی کی بازیابی میں اپنا کردار ادا کریں ۔
ایک ایف آئی آر جو سوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی اس نمبر پر بھی بارہا رابطے کی کوشش کی گئی اس سے بھی جواب موصول نہیں ہورہا تھا ۔ متعلقہ تھانے کے تک سے رابطہ کیا گیا ۔
لیکن چونکہ اب تک واقعہ مفروضوں اور ڈراپ سین پر مشتمل ہے ، حقیقت تک پہنچنے کی بسیار کوشش کے باوجود کوئی رابطہ اور مصدقہ معلومات حاصل نہیں ہوسکیں ۔
بہرحال چونکہ انسانیت کے ناطے مجھ سمیت ہر ایک نے اس معاملے میں پوسٹ کی ہے اور یہ پہلے مرحلے میں ہمارا فرض تھا ۔ لیکن اس کیساتھ ایک افسوسناک پہلو جو دیکھنے میں آیا وہ بعضے ساتھیوں کا بلا سوچے سمجھے نفرت اور تعصب تھا جو کسی نہ کسی طرح باہر آیا وہ انتہائی افسوسناک تھا ۔
راشد سومرو صاحب سمیت جمعیت علمائے اسلام کی قیادت اور کارکنان چاہے وہ جس صوبے سے تعلق رکھتے ہوں سبھی اس واقعہ پر افسردہ ہیں اور میں نے پہلے لکھا ہے اس واقعہ کے اصل محرکات سے کسی کو آگاہی نہیں تھی ۔ سو اس لئے صرف زبانی جمع خرچ کرنے سے بہتر تھا واقعہ کیلے اصل حقائق فراہم کئے جاتے ۔
بہرحال ایسے مواقع پر صبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہئے یوں کہیں سے بھی توپ لیکر کسی پر چڑھ دوڑنا آپ کی اپنی شخصیت کو متنازعہ کردیتا ہے ۔ اب ایسی رویہ رکھنے والے کہاں کھڑے ہیں ۔
کئی حضرات کی طرف سے ایسی پوسٹس اور کمنٹس بھی پڑھنے کو ملے کہ اگر یہ کوئی سندھی بچی ہوتی تو شاید ایکشن لیا جاتا ، البتہ ان میں سے کسی نے اس کی کوئی نظیر پیش نہیں کہ ماضی میں ایسا کب ہوا ۔
کوشش کرنی چاہئے کہ تماش بینوں اور مداریوں کی طرح کردار ادا نا کریں بلکہ سنجیدگی کیساتھ تعمیری کردار ادا کرنا ہے بات بات پر اپنی قیادت کو کٹہرے میں لانے جس بات کی بنیاد ہی نا ہو ۔
اب اس معاملے میں بھی کوئی حقیقی صورتحال سامنے آئے اور ورثا سے رابطہ ہوسکے تو اس معاملے میں جماعت کلیدی کردار ادا کرسکتی ہے ۔ اور مستقبل میں بھی کبھی ایسی وقوعہ پیش آئے تو ان شاءاللہ جماعت آپ کو صرف اوّل میں نظر آئے گی ۔
یہ یاد رکھیں متوجہ کرنے اور رسوا کرنے میں فرق کو سمجھیں ، ہمارا کام ایسے مواقع پر تحقیق کیساتھ شائستہ انداز میں اپنی قیادت کو متوجہ کرنے کا ہے اگر ایسا ہوگا تو اللہ سے امید رکھیں آپ کی پرخلوص کوشش کامیاب ہی ہوگی ۔ ان شاءاللہ العزیز
20/05/2026
مولانا راشد محمود سومرو عبیداللہ سندھی کی طرح انقلابی سوچ کے مالک اور مزاحمتی سیاست کی توانا آواز ہیں ، سندھی لوگ خوش قسمت ہیں کہ انہیں مولانا راشد محمود سومرو جیسے عوام کے سچے خیر خواہ اور بہادر لیڈر میسر ہیں❤️
Rashid Mahmood Soomro