شعر و شاعری اردو ادب

شعر و شاعری اردو ادب

Share

اردو ادب اور اس سے متعلق تمام باتیں اور جغرافیای ، اسلا?

11/06/2025

بے اثر ہیں تیری نگاہوں کے وار مجھ پر
مذہب عشق میں ہوں منکر کے مقام پہ

26/10/2024

جان بہاراں
رشک چمن ، غنچہ دہن ، سیمیں بدن
اے جانِ من
جان بہاراں
جنت کی حوریں تجھ پہ فدا
رفتار جیسے موج صبا
رنگیں ادا توبہ شکن
اے جانِ من
جان بہاراں
شمعِ فروزاں آنکھیں تری
ہر اک نظر میں جادوگری
زلفیں تیری مشک ختن
اے جانِ من
جان بہاراں
اے ناز پرور ،،،،،،،،، ناز آفریں
لاکھوں حسیں ھیں تجھ سا نہیں
خندہ جبیں ، ، شیریں سخن
اے جانِ من
جان بہاراں

تنویر نقوی

23/10/2024

دستک کی قدر کیجئے یہ گھروں کو ویران نہیں ہونے دیتیں _________

21/10/2024

سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام
اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام

یہی میری بندگی ہے یہی میری پوجا

ایک کا ساجن مندر میں اور ایک کا پریتم مسجد میں
اور میں

سانسوں کی مالا پہ سمروں میں پی کا نام

پپیہے او پپیہے تو یہ کیوں آنسو بہاتا ہے
زباں پہ تیری پی پی کس لئے رہ رہ کے آتا ہے
صدائے درد و غم کیوں دردمندوں کو سناتا ہے
جو خود ہی جل رہا ہو اور کیوں اس کو جلاتا ہے

کاٹوں تیری چونچ پپیہا رے دارووں پے لون
میں یی کی اور پی مورا تو پی کہے ہے کون

ہر قسمت کے ہاتھ ہیں کس بندھن کی لاج
میں نے تو من لکھ دیا ساونریا کے نام

میں پی کی مورت کو پوجوں، میں پی کی صورت کو پوجوں
ہر دم

پی کے نام کا ہوں میں پجاری نام پی کا ہر سانس میں جاری

ہم اور نہیں کچو کام کے متوارے پی کے نام کے

سجنی باتی کب لکھوں جو پریتم ہو پردیس
تن میں من میں پیا بسے بھیجوں کسے سدیس

ہر ہر میں ہے ہر بسے، ہر ہر کو ہر کی آس
ہر کو ہر ہر ڈھونڈھ پھری اور ہر ہے مورے پاس

دین دھرم سب چھوڑ کے میں تو پی کی دھن میں سدھ بدھ کھوئی
چت جاوں گن پی کے گاوں اور نہیں کوئی دوجا کام

پریم کے رنگ میں ایسی ڈوبی بن گیا ایک ہی روپ
پریم کی مالا جپتے جپتے آپ بنی میں شام

آ پیا ان نینن میں جو پلک ڈھانپ توہے دوں
نہ میں دیکھوں غیر کو نہ توہے دیکھن دوں

پریتم ہم تم ایک ہیں، جو کہن سنن میں دو
من کو من سے دھو لئے تو دو من کبھو نہ ہو

پریتم تمرے سنگ ہے اپنا راج سہاگ
تم نہیں تو کچھو نہیں تم ملے تو جاگے بھاگ

اوگٹ پوجا پاٹ تجے اور لگا پریم کا روگ
پریتم کا بس دھیان رہے یہی ہے اپنا جوگ

ہاتھ چھڑاوت جات ہو، جو نرمل جان کے موہے
ہردے میں سے جاوت ہو تب میں جانوں توہے

ہر دم دیکھو مورا پیہروا سدا راہت مورے گھر ماہی
اندر باہر آپ وہی ہے میں ناہی میں ناہی

جوگنیا کا بھیس بنا کے پری کو ڈھونڈھن جاوں ری
نگری نگری دوارے دوارے پی کی شبد سناوں ری
ترس بھکاری جگ میں ہو کے درشن بچھیا پاوں ری
تن من ان پر واروں پی کی جوگنیا کہلاوں ری

پریتم کا کچھ دوش نہیں ہے وہ تو ہے نردوش
اپنے آپ سے باتیں کر کے ہو گئی میں بدنام
پریم پیالہ جب سے پیا ہے جی کا ہے یہ حال
انگاروں پہ نیند آ جائے کانٹوں پر آرام

جیون کا سنگھار ہے پریتم، مانگ کا ہے سندور

پریتم کی نظروں سے گر کر جینا ہے کس کام
اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام

21/10/2024

سانسوں کی مالا پر سمروں نس دن پی کا نام
اپنے من کی میں جانوں اور پی کے من کی رام

پریم کے رنگ میں ایسے ڈوبی بن گیا ایک ہی روپ
شیام کی مالا جپتے جپتے آپ بنی میں شیام

انگ انگ میں رچی ہوئی ہے یوں موہن کی پریت
ایک آنکھ ورنداون میری دوجی گوکل دھام

پریم پیالہ جب سے پیا ہے جی کا ہے یہ حال
انگاروں پر نیند آ جائے کانٹوں پر آرام

پیتم کا کچھ دوش نہیں ہے وہ تو ہیں نردوس
اپنے آپ سے باتیں کر کے ہو گئی میں بدنام

جاگ اٹھتی ہے جب ہردے میں پریم کی سچی جوت
اس نگری میں ہو جاتا ہے پیتم کا وشرام

جی نے جب سے جان لیا ہے دکھ بھی ہے ان کی دین
پاپ سمجھ رکھا ہے میں نے لینا سکھ کا نام

جیون کا سنگار ہے پریتم مانگ کا ہے سندور
پریتم کی نظروں سے گر کر جینا ہے کس کام

درشن جل کی پیاسی آنکھیں رو رو کر گئیں سوکھ
اندھیاروں میں ڈوب گئے برہن کے صبح و شام

21/10/2024

مجھے ستمبر کے جانے کی خوشی بھی ہے
مجھے اکتوبر کی پہلی پر پریشانی بھی ہے
مجھے پسند بھی ہیں اکتوبر کی ہلکی بارشیں
مجھے سردیوں کی آمد اکتوبر کی آخری راتیں
میرے تنہا کمرے میں نامکمل شاعری کے صفحات
چاٸے کے ہر گھونٹ میں تیری خواہش کی حس
چاٸے کے دوسرے کپ میں ٹھنڈی ہوتی چاٸے
میری مایوسی کو ہمیشہ نٸی ترتیب دیتی ہے
پھر کھڑکی میں کھڑے ہو کے باہر کے مناظر
درختوں پہ چہچہاتے گنگناتے اداس پرندے
نرم دلوں پہ وارد ہوتی سردیوں کی طرح ہواٸیں
ہاں مگر مجھے ان سب سے زیادہ تم پسند ہو
اور میں ہمیشہ خوش رہتا ہوں اور باہمت بھی
کہ ان سب بدلتے رنگوں کے برعکس ہماری محبت
موسموں بارشوں اور مہینوں کی محتاج نہیں
الوداع ستمبر

14/10/2024

دل پریشاں ہے کیا کیا جائے
عقل حیراں ہے کیا کیا جائے

شوق مشکل پسند ان کا حصول
سخت آساں ہے کیا کیا جائے

عشق خوباں کے ساتھ ہی ہم میں
ناز خوباں ہے کیا کیا جائے

بے سبب ہی مری طبیعت غم
سب سے نالاں ہے کیا کیا جائے

باوجود ان کی دل نوازی کے
دل گریزاں ہے کیا کیا جائے

میں تو نقد حیات لایا تھا
جنس ارزاں ہے کیا کیا جائے

ہم سمجھتے تھے عشق کو دشوار
یہ بھی آساں ہے کیا کیا جائے

وہ بہاروں کی ناز پروردہ
ہم پہ نازاں ہے کیا کیا جائے

مصر لطف و کرم میں بھی اے جونؔ
یاد کنعاں ہے کیا کیا جائے

14/10/2024

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ”جو مسلمان بندہ کسی ایسے مریض کی عیادت کرے جس کی موت کا ابھی وقت نہ ہوا ہو اور سات بار یہ دعا پڑھے أَسْأَلُ اللَّهَ الْعَظِيمَ، ‏‏‏‏‏‏رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ أَنْ يَشْفِيَكَ، ”میں عظمت والے اللہ اور عظیم عرش کے مالک سے دعا کرتا ہوں کہ وہ تمہیں اچھا کر دے“ تو ضرور اس کی شفاء ہو جاتی ہے“۔
«سنــن ترمذی-2083»

صلو علیہ و آ له وبارک وسلم 💕

Photos from ‎شعر و شاعری اردو ادب‎'s post 09/10/2024

🎨 خطاط الحرم النبوی شریف ..

✍️ عبد اللہ زہدی افندی النابلسی ہیں، جنہیں کاتب الحرمین الشریفین اور خطاط مصر کے لقب سے نوازا گیا۔ ان کا نسب صحابی جلیل تمیم بن اوس الداری رضی اللہ عنہ سے ملتا ہے، جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر الخلیل عطا کیا تھا۔ ہم انہیں مسجد نبوی شریف، سبیل ام عباس قاہرہ اور دیگر مقامات پر خطاطی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ ان کا پیدائش کا سال 1251 ہجری / 1836 عیسوی ہے اور اسی سال وہ اپنے والد اور اجداد کے ساتھ نابلس سے دمشق، پھر کُتہیہ اور استنبول ترکی ہجرت کر گئے۔

✍️ ان کا خطاطی کا سفر ان کے والد عبد القادر افندی النابلسی کی حوصلہ افزائی سے شروع ہوا۔ انہوں نے اپنے دور کے بڑے خطاطوں جیسے راشد افندی اور مصطفی عزت افندی سے خطاطی سیکھی۔ جب وہ اس فن میں ماہر ہو گئے تو انہیں جامعہ نور عثمانیہ میں خطاطی اور مصوری کا استاد مقرر کیا گیا۔ ان کی شہرت اس وقت بڑھی جب عثمانی سلطان عبد المجید اول نے مسجد نبوی شریف کی تعمیر و توسیع کا حکم دیا اور انہیں خطاطی کے لیے منتخب کیا۔ انہوں نے 1270 ہجری / 1853-1854 عیسوی میں مدینہ منورہ کا سفر کیا اور تقریباً دس سال تک مسجد نبوی میں خطاطی کی۔

✍️ انہوں نے قرآن کی آیات، احادیث نبویہ اور نعتیہ اشعار لکھے۔ ان کی خطاطی آج بھی موجود ہے اور ان کی مہارت کی گواہی دیتی ہے۔ ان کے خطاطی کے نمونے 2000 میٹر سے زیادہ لمبے ہیں، جن میں 240 میٹر جدار قبلہ پر اور 140 میٹر گنبد کی گردن پر ہیں۔

✍️ مسجد نبوی کی خطاطی مکمل کرنے کے بعد وہ ترکی واپس گئے اور پھر 1283 ہجری / 1866 عیسوی میں مصر چلے گئے۔ وہاں کے خدیوی اسماعیل پاشا نے انہیں خطاط مصر اول کا لقب دیا۔ انہوں نے مصر میں مساجد، مدارس اور دیگر عمارات پر خطاطی کی اور قرآن کی آیات کو کسوة کعبہ پر لکھا۔

✍️ ان کی خطاطی کے نمونے آج بھی مختلف عجائب گھروں اور عالمی مجموعات میں محفوظ ہیں۔

01/10/2024

آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جب شاخ کوئی ہاتھ لگاتے ہی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

صندل سے مہکتی ہوئی پر کیف ہوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

اوڑھے ہوئے تاروں کی چمکتی ہوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

جب رات گئے کوئی کرن میرے برابر
چپ چاپ سی سو جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Heart Street
Karachi