26/02/2026
شہید محترم بینیظر بہٹو میڈیکل یونیورسٹی اور چانڈکا میڈیکل کالج میں ہراسانی کا سلسلہ جاری، ایک اور شرمناک واقعہ سامنے آ گیا
چانڈکا میڈیکل کالج اور اس سے منسلک شہید بینظیر بھٹو یونیورسٹی میں طالبات اور لیڈی ڈاکٹرز کے ساتھ جنسی ہراساں کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ برسوں سے یہ ادارہ بیٹیوں کے لیے غیر محفوظ بنتا جا رہا ہے، مگر انتظامیہ کی خاموشی اور بااثر افراد کی پشت پناہی نے مظلوموں کو انصاف سے محروم رکھا ہوا ہے۔
لوگ آج بھی نمرتا کماری کا دردناک واقعہ نہیں بھولے، جسے مبینہ طور پر بلیک میل اور ہراساں کیا گیا، پھر قتل کے بعد اسے خودکشی کا رنگ دے کر فائل بند کر دی گئی۔ شفاف تحقیقات نہ ہونے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک اور بیٹی نوشین شاہ بھی اسی ظلم کا شکار بنی، اور اس کے خون کو بھی خودکشی قرار دے کر دبا دیا گیا۔ آخر کب تک بیٹیوں کی لاشوں پر پردہ ڈالا جاتا رہے گا؟
اب ایک بار پھر پروفیسر حنیف شیخ پر سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے ایک سینیئر لیڈی ڈاکٹر کو مبینہ طور پر ہراساں کیا، جس پر متاثرہ ڈاکٹر کے اہلِ خانہ نے وائس چانسلر کو تحریری شکایت جمع کرا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق 2019 اور 2023 میں بھی ان کے خلاف طالبات اور لیڈی ڈاکٹروں کو ہراساں کرنے کی شکایات آ چکی ہیں، لیکن کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی۔
پروفیسر حنیف شیخ پر ڈونیشن کے نام پر غیر قانونی فنڈز وصول کرنے کے الزامات بھی ہیں، جو کرپشن ہے۔
اہلِ خانہ نے سندھ حکومت اور صوبائی وزیر برائے جامعات محمد اسماعیل راہو سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر سخت کارروائی کی جائے۔
تعلیمی ادارے اگر بیٹیوں کے لیے محفوظ نہ ہوں تو وہ علم کے مراکز نہیں بلکہ خوف کے اڈے بن جاتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بااثر مجرموں کو بچانے کے بجائے انصاف کو ترجیح دی جائے، تاکہ آئندہ کسی نمرتا یا نوشین کی زندگی یوں برباد نہ ہو۔
Lal Dino Luhur لاڙڪاڻي شھر جو آواز Niaz Hussain Dahri Adv Javeed Buledi Dr. Mazhar Mughal - SUP Wah Wah Sindh Adv Arbab Burdi Adv Sattar Hulio Adv Sadam Bhatti Adv Asif Khan Jatoi Zafarullah Dayo Dastgir Bhatti Nisar Khokhar Dilshad Bhutto Ameer Bhanbhro
