13/07/2024
With Abdul Habib Attari – I just got recognized as one of their rising fans! 🎉
Political Party striving for Islamic Politics
13/07/2024
With Abdul Habib Attari – I just got recognized as one of their rising fans! 🎉
آج کا دن | جولائی 12 | اسلامی تارخ کے آئنہ میں
اسلامی تاریخ کے تین اہم تاریخی واقعات جو 12 جولائی کو پیش آئے:
1. جنگ حطین (1187 عیسوی): یہ فیصلہ کن جنگ 12 جولائی 1187 کو صلیبی جنگوں کے دوران ہوئی۔ صلاح الدین کی قیادت میں، مسلم افواج نے صلیبی فوج کو شکست دی، جس سے مقدس سرزمین کی اسلامی فتح کی جدوجہد میں ایک اہم موڑ آیا۔
2. سقوط غرناطہ (1492 عیسوی): 12 جولائی، 1492 کو، ابو عبداللہ محمد دوازدہم، جسے بوعبدل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی قیادت میں امارت غرناطہ کی مسلم افواج نے کیتھولک بادشاہوں، فرڈینینڈ اور ازابیلا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جس سے اندلس میں مسلمانوں کا عہد اختتام پذیر ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون
3. امام غزالی کی وفات (1111 عیسوی): معروف اسلامی ماہر الہیات، فلسفی اور صوفی ابو حامد الغزالی کا انتقال 12 جولائی 1111 کو ہوا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔
براہ کرم نوٹ کریں کہ اسلامی کیلنڈر قمری ہے، اس لیے گریگورین کیلنڈر پر ہر سال تاریخیں تھوڑی مختلف ہو سکتی ہیں۔
کیا یزید پہلے اس جیش اسلام کا امیر تھا جس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا؟
کون کون تحقیق کا متمنی ہے؟
11/07/2024
بنی اسرائیل کے غیر سیاسی پرہیز گاروں کا عبرتناک انجام
"اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ"
نہی عن المنکر سے غافل غیر سیاسی علماء ظالم کے مددگار اور ظالم ہیں
ازقلم: ابن آدم
اللہ ﷻ نے امتِ محمد مصطفی ﷺ کی راہنمائی اور ہدایت کے لئے قومِ بنی اسرائیل کے کثیر واقعات کو قرآن مجید فرقان حمید میں بیان فرمایا۔ ان میں سے ایک واقعہ 'ہفتہ کے روز حد سے بڑھ جانے والوں' کا بھی ہے۔ یہ اصحاب سبت کا واقعہ بھی کہلاتا ہے جو سورۃ الاعراف میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ کچھ یوں ہے کہ اللہ ﷻ نے قومِ بنی اسرائیل کو ہفتہ کے روز تمام دنیاوی امور ترک کر کے عبادت کے لئے خاص کرنے کا حکم فرمایا۔ جب اللہ ﷻ نے ان کی آزمائش کرنی چاہی تو معاملہ یوں فرمایا کہ ہفتہ کے روز دریا میں کثیر مچھلیاں آتیں اور سطح پانی پر قومِ بنی اسرائیل ان کو دیکھتی، جبکہ اتوار کے روز یہ مچھلیاں غائب ہو جاتیں۔ ابلیس نے قومِ بنی اسرائیل کے دل میں وسوسہ ڈالا کہ ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار کرنے کی ممانعت ہے لہٰذہ تم دریا سے نالیاں کھود کے حوض بنا لو۔ مچھلیاں ہفتہ کے روز اس حوض میں آئیں گی تو تم انہیں شکار نہ کرنا بس روک لینا، اور اتوار کو ان کا شکار کر لینا۔ چنانچہ قوم میں سے ایک گروہ اس منہج پر عمل پیرا ہو گیا۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ وہ شکار کی ممانعت کے حکم سے روگردانی نہیں کر رہے، اور اپنے دل کو اس تاویل سے تسکین دی کہ ہم ہفتہ کے روز مچھلی کو پانی سے نہیں نکالتے، شکار تو تب ہوتا جب ہم مچھلی کو پانی سے نکال کر مار دیتے۔ ایک عرصہ تک وہ لوگ اس تاویل پر عمل پیرا رہے اور اس دوران قومِ بنی اسرائیل تین گروہوں میں تقسیم ہو گئی۔
ایک گروہ خطاکار لوگوں کا تھا، جو ہفتہ کے روز مچھلی کا اپنے حوضوں میں شکار کرتے تھے۔
ایک گروہ صالحین کا تھا جو مچھلی کا شکار نہ کر کے 'معروف' پر عمل پیرا تھے، اور شکار کرنے والے خطاکاروں کو منع کر کے 'نہی عن المنکر' کا فرض بھی نبھا رہے تھے۔
ایک گروہ اس دور کے غیر سیاسیوں کا تھا جو خود کو متقی پرہیزگار گردانتے تھے۔ وہ ظاہری طور پر معروف پر عمل پیرا تھے لیکن نہی عن المنکر کے فریضہ سے اس طرح غافل و لاتعلق بنے ہوئے تھے کہ وہ خود تو شکار نہیں کرتے تھے لیکن شکار کرنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے۔ یہ غیر سیاسی پرہیزگاروں کا گروہ ان صالحین پر بھی تنقید کرتا تھا جو 'نہی عن المنکر' کا فرض ادا کرتے ہوئے شکار کرنے والوں کو ہفتہ کے روز شکار سے منع کرتے تھے۔ یہ صالحین کو کہا کرتے تھے کہ تم ان لوگوں کو کیوں منع کرتے ہو جن کو اللہ ﷻ انتہائی سخت عذاب دیکر ہلاک کرنے والا ہے۔ دوسرے معنوں میں یہ 'نہی عن المنکر' کا فرض ادا کرنے والوں کو فساد و انتشار کا موجب گردانتے تھے۔ چنانچہ یہ سلسلہ چلتا رہا، اور منع کرنے کے باوجود باز نہ آنے پر صالحین کے گروہ نے خطاکاروں کے گروہ کو کہا کہ تم اپنی معصیت سے باز نہیں آ رہے، لہٰذہ ہم تمہارا مقاطع کرتے ہیں۔ صالحین نے ایک دیوار تعمیر کر کے بستی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور یوں ان خطاکاروں اور غیر سیاسی پرہیزگاروں سے الگ ہو گئے۔ صالحین نے اپنے لئے الگ دروازہ بنایا اور کام کاج کے سلسلہ میں اپنے اس دروازہ سے بستی میں آتے جاتے۔ جبکہ خطاکار و غیر سیاسی پرہیزگار معمول کے مطابق پرانے دروازہ سے آتے جاتے۔ ایک دن ہوا یوں کہ صبح کے وقت خطاکاروں کے دروازہ سے کوئی باہر نہیں نکلا، نہ ہی خطاکار اور نہ ہی غیر سیاسی پرہیز گار۔ صالحین نے سمجھا شاید وہ شراب کے نشہ میں دھت پڑے ہوں گے۔ حالات کا جائزہ لینے کی خاطر صالحین نے دیوار پر چڑھ کے دیکھا تو خطاکاروں اور غیر سیاسی پرہیزگاروں کی بستی میں تمام کے تمام افراد مسخ ہو چکے تھے۔ دھتکارے ہوئے بندر بنا دئیے گئے تھے۔ صالحین بستی کے اس حصہ میں داخل ہوئے اور ان خطاکار اور غیر سیاسی پرہیزگار کے بنے بندروں سے مخاطب ہوئے کہ کیا ہم نے تمہیں منع نہیں کیا تھا کہ اللہ ﷻ کی حدود کی پامالی نہ کرو۔ جواب میں دھتکارے بندر سر ہلا کر اس بات کی تصدیق کرتے۔ دھتکارے بندر اپنے رشتہ دار صالحین کو پہچانتے اور ان کے پاس آ کر ان کے کپڑے سونگھتے۔ جبکہ صالحین ان مسخ شدہ خطاکار و غیر سیاسی پرہیز گاروں سے بنے بندروں کو پہچان نہیں پاتے تھے کہ کون سا بندر کون سا غیر سیاسی پیر یے، کون سا بندر کون سا غیر سیاسی مرید ہے، اور کون سا بندر ہفتہ کے روز شکار کرنے والا خطاکار ہے۔ تین دن کے اندر یہ تمام مسخ شدہ خطاکار و غیر سیاسی پرہیزگار کے دھتکارے بندر ہلاک کر دئیے گئے۔
احباب! یہ اصحاب سبت کا واقعہ ہے اور آپ جانتے ہیں کہ اس کو آج آپ مسلمان بھائیوں کے سامنے کیوں دوہرایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ ﷻ فرماتا ہے کہ، "اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ" کہ "ہم نے بچا لیے وہ جو برائی سے منع کرتے تھے"، اور باقیوں بارے فرمایا کہ "وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَىٕیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ"، مفہوم کہ، "اور ظالموں کو برے عذاب میں پکڑا بدلہ ان کی نافرمانی کا"۔
یہاں سب سے اہم بات ہے کہ اللہ ﷻ نے غیر سیاسی پرہیزگاروں کو باوجود ان کی پرہیزگاری کے خطاکاروں کے گروہ کے ساتھ مسخ اور ہلاک فرما دیا۔ 'نہی عن المنکر' کے فریضہ پر عمل پیرا نہ ہونا غیر سیاسی پرہیزگاروں کے ظلم کی وجہ ٹھہری۔ یہاں پر ایک حدیث مبارکہ بھی آپ احباب کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا، "جو ظالم کی مدد کرے گا اللہ تعالیٰ اسی ظالم کو اس پر مسلط کر دے گا"۔
احباب! مندرجہ بالا قرآن مجید فرقان حمید میں بیان کردہ اصحاب سبت کے واقعہ اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں میرا تمام برادران اسلام سے سوال ہے کہ
1۔ آج غیر سیاسی پرہیزگاروں کا گروہ کون سا ہے؟
2۔ آج کے غیر سیاسی پرہیز گار کیا قومِ بنی اسرائیل کے غیر سیاسی پرہیزگاروں سے زیادہ بڑے بندر بننے کے مستحق ہیں یا نہیں؟ یہ بھی یاد رکھیں کہ قومِ بنی اسرائیل کے غیر سیاسی پرہیزگار تو نہ صرف خطاکاروں کے فعل کی مذمت کرتے تھے، بلکہ ان کو عذابِ الٰہی کا مستحق گردانتے تھے۔ جبکہ آج قربِ قیامت کے غیر سیاسی پرہیز گار تو خطاکار ظالموں کو ریاستِ مدینہ کے تصور کا پیش کرنے والا متقی پرہیز گار مانتے ہیں، انہیں پروٹوکول دیتے ہیں، ان کے لئے اپنا دامن وسیع ہیں، ان کی تعظیم کر کے پھر تشہیر بھی کرتے ہیں، امتِ محمد مصطفی ﷺ کے غیر عالم سادہ لوح لوگوں سے ہاتھ چموا کے، نذرانے لیکر پھر ان پر ظالم خطاکاروں کو مسلط کرتے ہیں، آقا کریم ﷺ کے گستاخوں ساتھ دعا دیکر مرحمت والا معاملہ کرتے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
امید کرتا ہوں کہ عوام اہلسنت اپنے اصل مجرم دورِ حاضر کے غیر سیاسی پرہیز گاروں کو بہت جلد پہچان لے گی۔
وما توفیقی الا باللہ۔
ٰ
#منبر #محراب #سیاست #اسلام #خلافت #جمہوریت #فلسطین #عثمانی #غزہ #امتحانات #تعلیم #تربیت #جامعات #سکول #کالج #پاکستان #ایمان #اتحاد #تنظیم #عوام #عزم
09/07/2024
آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آواز میں خطبہ حجۃ الوداع کی ریکارڈنگ
از قلم: ابو محمد
محترم جسٹس (ر) غازی نذیر احمد صاحب کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں آپ نے کہا ہے کہ فرانس کی ایک کمپنی آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آواز میں خطبہ حجۃ الوداع ریکارڈ کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے، اور اب صرف آڈیو کوالٹی کو امپروو کرنے پر کام ہو رہا ہے، ممکنہ طور پر 2030 تک عوام آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی زبانِ مبارک سے خطبہ حجۃ الوداع سن سکے گی۔ عامۃ المسلمین کو جان لینا چاہیے کہ جس دور میں آپ رہ رہے ہیں وہ دورِ فتن ہے جس میں ہر چیز کو بلا دلیل و تحقیق مان لینا اپنے آپ کو ہلاکت میں مبتلا کرنے کے مترادف ہو گا۔ اس لئے ناگزیر ہے کہ ہم قدم پھونک پھونک کر رکھیں اور کسی بھی بات پر یقین کرنے سے پہلے ہر پہلو پر غور کریں۔
بندہ ناچیز بحیثیت انجینئر یہ بات وثوق سے کہنا چاہتا ہے کہ ماضی کی آواز (صوتی لہروں) کی بازیافت کر کے حال میں اسے ریکارڈ کرنا ناممکن ہے۔ انسانی آواز یا صوتی لہریں مکینیکل لہریں ہوتی ہیں جو ہوا جیسے میڈیم کے ذریعے پھیلتی ہیں اور توانائی کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتی ہیں۔ ایک بار جب آواز کی لہریں سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر جاتی ہے، تو یہ منتشر ہو جاتی ہے اور اس مکینیکل صورت میں باقی نہیں رہتی کہ کسی مستقبل کے سپیس اور وقت کے کسی نقطہ پر انکی دوبارہ بازیافت کر کے ریکارڈ کیا جا سکے۔ آج بھی انسانی آواز جو براڈکاسٹ کی جاتی ہے وہ ماڈولیشن کے ذریعہ ممکن ہوئی ہے۔ مختلف قسم کی ماڈولیشن ٹیکنالوجی استعمال کر کے انسانی آواز یا صوتی لہروں کی ویولینتھ، فریکوئنسی اور انرجی کو تبدیل کر کے براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ وسیع علاقہ پر اس کی ریسیونگ ممکن بنائی جا سکے۔ اس کے باوجود یہ ماڈولیٹڈ صوتی لہریں، جن کو مختلف ماڈولیشن ٹیکنالوجیز استعمال کر کے براڈ کاسٹ کیا جاتا ہے، اور جس کے تمام پیرامیٹرز (فریکوئنسی، ویو لینتھ اور انرجی) معلوم ہوتے ہیں، اور دنیا بھر میں ریسیونگ انٹینا انہی پیرامیٹز پر ٹیون بھی ہوتے ہیں، جب سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر جاتی ہے تو دوبارہ ریکارڈ نہیں کی جا سکتی۔ اگر ایسا ممکن ہوتا تو ماضی میں استعمال ہونے والا ٹی وی انٹینا یا موجودہ دور میں مستعمل سیٹلائٹ ٹی وی اینٹینا ایک ہی انفارمیشن کو بار بار دکھاتے، کیونکہ اس کے پاس کئی قسم کی صوتی و صوتی لہریں ریفلیکشن اور ٹرانسمیشن کے ذریعہ بلاواسطہ و بالواسطہ پہنچ رہی ہوتی ہیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہم نے آج ایک ڈرامہ دیکھنے کے لئے ٹی وی آن کیا ہو اور اچانک ہم نے دیکھا کہ کل والا ڈرامہ پھر ٹی وی پر غلطی سے آ رہا ہے، حالانکہ کل والا ڈرامہ بھی آج والے ڈرامہ کے پیرامیٹرز (فریکوئنسی، ویو لینتھ اور انرجی) پر ہی براڈکاسٹ کیا گیا ہوتا ہے، اور اس کی صوتی و صوری لہریں بدستور فضائے بسیط میں کہیں نہ کہیں معلق و موجود ہوتی ہے۔ تو پھر اس سب کے باوجود دنیا بھر میں کوئی ٹی وی اینٹنا ماضی کے سگنل کو کیوں نہیں دکھا پاتا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ماضی کی ٹرانسمٹ کی ہوئی صوتی و صوری لہریں فضائے بسیط میں ڈسٹارٹ ہو جاتی ہیں، اپنی اصلی ہیت کھو دیتی ہیں، مختلف میڈیم وغیر سے ٹکرا کر انکی انرجی اس قدر کم ہو جاتی ہے جو قابلِ محسوس یا اینٹینا کی ڈیٹیکشن کے قابل نہیں رہتی، سائنس کی زبان میں کہا جائے گا کہ انکی انرجی ایٹیونیٹ ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کسی صورت بھی ممکن نہیں کے ماضی کی آواز جو سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ سے گزر چکی ہے اسے حال یا مستقبل کے سپیس اور وقت کے کسی خاص نقطہ پر ریکارڈ کیا جا سکے۔ اب جو بات محترم جسٹس (ر) غازی نذیر احمد صاحب کہہ رہے ہیں، شاید ان کو بھی یہ معلوم نہ ہو کہ یہ بات پہلی بار نہیں ہو رہی۔ سب سے پہلے اس مفروضہ کو بطورِ خواہش پیش کرنے والا مرزا بشیر الدین مرتد قادیانی زنیم تھا۔ سورۃ نباء کی آیت نمبر 29 میں اللہ جل جلالہ کا فرمانِ عظیم الشان ہے کہ، "وَ کُلَّ شَیۡءٍ اَحۡصَیۡنٰہُ کِتٰبًا"، مفہوم کہ، "اور ہم نے ہر چیز کو لکھ کر محفوظ کر رکھا ہے"۔ مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم اپنی ملحدانہ تفسیر کبیر میں اس آیت مبارکہ (قادیانی کتاب میں نمبر آیت 30 ہے) کے تحت یہ مفروضۃ پیش کرتا ہے کہ،
"مطلب یہ کہ وہ ایسی جگہ محفوظ ہیں جہاں سے کوئی چیز ضائع نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کوئی انسانی عمل ایسا نہیں جو ضائع ہو جاتا ہو بلکہ وہ ضرور کسی نہ کسی شکل میں محفوظ ہوتا ہے۔ ریڈیو کی ایجاد نے اس صداقت کو بہت بڑا ثبوت مہیا کر دیا ہے ہزاروں میل پر ایک شخص اپنی زبان سے کوئی لفظ نکالتا ہے تو فورا ہم تک پہنچ جاتا ہے اور ہم گھر بیٹھے ہزاروں ہزار میل دور کی آواز اس طرح سن لیتے ہیں جیسے وہ ہمارے پاس بیٹھا باتیں کر رہا ہے۔ مجھے خیال آیا کرتا ہے کہ کوئی تعجب نہیں اگر یہ علوم ترقی کرتےکرتے اس حالت کو پہنچ جائیں کہ گزشتہ زمانہ کی آواززوں کو بھی ریکارڈ کیا جا سکے۔ اگر کوئی ایسا آلہ نکل آئے تو ہو سکتا ہے ہم رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ حدیثیں جو آج کتابوں میں پڑھتے ہیں خود رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے سن لیں۔ یہ بات موجودہ زمانہ کی ایجاد کو دیکھتے ہوئے اب ناممکن نظر نہیں آتی۔ زمانہ بہت ترقی کر چکا ہے ممکن ہے آئندہ چل کر کوئی ایسا آلہ ایجاد ہو جائے اور گزشتہ زمانہ کو بھی اپنے کنٹرول میں لایا جا سکے۔ اس صورت میں ہمیں گزشتہ زمانہ کی آوازیں آسانی سے سنائی دینے لگیں گی۔ ہم جس صدی کے جس سال کی کوئی بات سننا چاہیں گے اس صدی کے اس سال پر اس آلہ کو نصب کر دیں گے اور آوازوں کو سننا شروع کر دیں گے کاش دنیا اس ترقی سے صداقت کی طرف آئے"۔
چنانچہ یہاں پر سب سے اہم بات جسے ملحوظ خاطر رکھا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ آقاکریم سیدی عالم ﷺ کی آواز مبارک کو تلاش اور ریکارڈ کر کے مرزا بشیر الدین قادیانی مرتد زنیم کا دنیا کو کس صداقت کی طرف بلانا مقصود ہے؟ بلاشبہ وہ قادیانی ارتدا ہی ہے۔ یاد رکھا جائے کہ یہ ملحدانہ کتاب (تفسیر کبیر) 1940 تا 1962 شائع ہوتی رہی۔ چنانچہ اس دور میں ایسی کوئی ٹیکنالوجی میسر ہی نہ تھی جس سے کسی مرتد زنیم کے دماغ میں امکانات پر مبنی یہ تصورات ابھر سکیں کہ ماضی کی صوتی لہروں کو تلاش کیا جائے اور ان کو ریکارڈ کیا جائے، حتیٰ کہ آج کے دن بھی ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے جس کے ذریعہ ماضی کی فریکوئنسی یا صوتی لہر کو ریکارڈ کیا جا سکے۔ چنانچہ، یقین رکھا جائے کہ آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی آوازِ مبارک کو ریکارڈ کرنے کا تصور پیش کرنا تب بھی پلانٹڈ تھا اور اب بھی یہ ریکارڈ کر لینے کا دعویٰ پلانٹڈ ہے، جس کی قبل از وقت عامۃ المسلمین میں کسی خاص مقصد کے ساتھ تشہیر کی جا رہی ہے۔ سائنس میں ایک فیلڈ ہے جس میں کسی بھی تاریخی مقام کی ہسٹوریکل اکاسٹک (تاریخی صوتیات) کا مطالعہ کیا جاتا ہے، اس تاریخی مقامات یا ماحول کی صوتیات کا مطالعہ کرکے، محققین بعض اوقات اس بارے میں محتاط اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ماضی میں ان جگہوں پر کیسی آوازیں آتی رہی ہوں گی۔ پھر اس اندازہ کی بنیاد پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے ان ماضی کی آوازوں سے ملتی جلتی آوازیں پیدا کی جاتی ہیں، جو کہ فی الحقیقت ماضی کی آوازیں یا صوتی لہریں نہیں ہوتی، بلکہ اس تاریخی مقام کے ماضی کے صوتیاتی پیٹرن کے مطالعہ پر جنریٹ کی گئی جدید آوازیں یا صوتی لہریں ہوتی ہیں۔ لہٰذہ یہی ٹیکنالوجی موجودہ (مذکورہ) صورتحال میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے، اس سے زیادہ کوئی امکانات موجود نہیں۔ چنانچہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ کہانت کا ایک نیا باب کھلے گا جو آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی بعثت مبارکہ کے ساتھ بند ہو گیا تھا۔ طاغوت عامۃ المسلمین کو ان صوتی لہروں (آواز) بارے قائل کرے گا کہ (نعوذ باللہ) یہ آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی مبارک آواز ہے، اور پھر (نعوذ باللہ) ان صوتی لہروں میں مسلمانوں کو سینکڑوں جھوٹ سنائے گا، اور ان کو گمراہ کرنے میں اپنا حصہ ڈالے گا۔
لہٰذہ تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ بارے عامۃ المسلمین کو باضابطہ تعلیم دی جانی چاہیے تاکہ ان کو اس ممکنہ دجل سے بچایا جا سکے۔ فتنہ اپنی پلاننگ صدیوں کی کر کے بیٹھا ہے جبکہ اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے علمِ نبوت کے وارث کہنے والے علمائے اہلسنت بد قسمتی سے غیر سیاسی بن کے بیٹھے ہیں۔ اور غیر سیاسی اذہان جہالت کی آماجگاہ کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے جو عامۃ المسلمین کو ہر قسم کے نظریاتی شکاری کا آسان شکار بنا دیتے ہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
ٰ
لبیک یا اقصیٰ مارچ
13 جولائی 2024
تمام مسلمان شرکت کو یقینی بنائیں
08/07/2024
پیغامِ کربلا
درسگاہِ دین و عشق
بزبان اولیاء
فقر عریاں گرمی بدر و حنین
فقر عریاں بانگ تکبیر حسینؓ
عریاں فقر بدر اور حنین کے معرکوں کی گرمی ہے، عریاں فقر کربلا میں حضرت امام حسینؓ کی تکبیر کی آواز ہے
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ
"شریعت اسلامیہ کے خلاف قوانین کسی صورت بھی مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔ اور پہلی فرصت میں ایسے انسانی تخیلات کا ازالہ اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے۔ یہ وقت نازک ترین وقت ہے۔ اس کی نزاکت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا"
خطبات شیخ الاسلام حضرت خواجہ الحافظ محمد قمر الدین سیالوی نور اللہ مرقدہ
عاجز فقیر ابنِ آدم
"آقا کریم سیدی عالم ﷺ کی حیات ظاہری کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی خلافت راشدہ ختم ہوئی اور بعد ازاں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال کے بعد یزید پلید نے جب اسلام کی حاکمیت پر نقب ذنی کی تو خلافتِ راشدہ کے احیاء کی مبارک عمارت کی بنیادوں کو سیدنا امام حسینؓ نے کربلا میں اپنے اہل و عیال و اصحاب و اپنے آپ کی عظیم شہادت سے استوار کیا، اور ان بنیادوں پر خلافتِ راشدہ کی عمارت کا احیاء ہی پیغام کربلا ہے"
08/07/2024
اسلام میں جمہوری انتخابات کا جواز
از قلم: ابن آدم
عرصہ سو سال سے امتِ مسلمہ اسلامی ریاست اور نظام کے سایہ سے محروم اور صیہونی سیکولر ورلڈ آرڈر کی غلام ہو کر رہ گئی ہے۔ جب سے برصغیر پاک و ہند میں سیکولر صیہونی ورلڈ آرڈر نے جمہوری انتخابات کا طریقہ رائج کیا ہے تب سے علمائے امت میں ایک موضوع زیرِ بحث چلا آ رہا ہے کہ اسلام میں جمہوری سیاست کی حیثیت کیا ہے۔ مزید ظلم یہ ہوا ہے کہ صیہونی ورلڈ آرڈر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ابن الوقت صیہونی نواز علماء نے صیہونی ورلڈ آرڈر کی سوشل انجینئرنگ پالیسیز پر عمل پیرا ہوتے ہوئے منبر و محراب سے سیاست کے متعلقہ احکاماتِ شرعی کو بیان کرنا چھوڑ دیا ہے۔
آج جب کی غیر سیاسی پیر یا عالم کے مریدین یا وابستگان کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اپنے پیر و علماء سے منبر و محراب سے سیاست کے متعلقہ احکاماتِ شرعی بیان کرنے کا مطالبہ کریں تو وہ طوطے کی طرح رٹا رٹایا سبق سنا دیتا ہے کہ "اسلام میں جمہوری سیاست کہاں سے آ گئی"، اور بعض تو یہاں تک چلے جاتے ہیں کہ "جمہوریت کفر ہے"۔
دراصل یہ سب عوامی جہالت موجودہ دور کے غیر سیاسی علماء، پیر و مشائخ کے بے بصیرت طرزِ عمل کا نتیجہ ہے اور اس پر کثیر دلائل دئیے جا سکتے ہیں، تاہم ہمارا مقصد یہاں کسی شخصیت کو ٹارگٹ کرنا نہیں بلکہ علماء کو حق گوئی کی طرف دعوت دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نظام مصطفی ﷺ کے اس فورم سے منبر و محراب سے سیاست کے متعلق احکام شرعیہ کے بیان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جو علمائے امت کا فریضہ ہے۔ عصرِ حاضر کی یہ اہم ترین ضرورت شرعی بن چکی ہے اور علماء کی مجرمانہ غفلت قابلِ گرفت ہے۔ تاہم ان محترم پاکستانیوں کو کچھ عرض کرنا چاہوں گا جو جمہوریت کو مطلق کفر کہہ کر اپنا دامن بچا کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، کہ شاید ان میں حق شناسی اور تحقیق کا جذبہ پیدا ہو جائے اور یہ ادراک کر سکیں کہ ہم کیوں منبر و محراب سے سیاست کے احکامِ شرعیہ کے بیان کا مطالبہ کرتے آ رہے ہیں، اور وہ احکام شرعیہ کون کون سے ہیں جن کو بیان کرنے سے غیر سیاسی علماء مجرمانہ طور پر راہِ فرار اختیار کئے ہوئے ہیں۔
برادران! جمہوریت کوئی سیاسی نظریہ نہیں جو آپ شب و روز 'جمہوری سیاست' کی اصطلاح استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ جمہوریت ایک انتخابی طریقہ کار ہے جس میں امام کا انتخاب بالواسطہ یا بلا واسطہ عوامی رائے دہی سے ہوتا ہے۔ اس انتخابی طریقہ کار کا مقصد قوم کے کثیر افراد کو حکومت سازی میں اپنی رائے دینے کا حق فراہم کرنا ہے تاکہ طوائف الملوکی اور استبدادی حکماء کے مسلط ہونے کی راہیں کم سے کم کی جا سکیں۔ جہاں تک سیاسی نظریہ کی بات ہے تو سیاسی نظریہ یا تو سیکولر ہوتا ہے یعنی دین سے جدائی کے نظریہ پر استوار یا پھر دین کی حاکمیت کا نظریہ ہوتا ہے جسے نظامِ مصطفیٰ ﷺ کہتے ہیں۔ چنانچہ، جمہوریت پر مطلق کفر کا الزام دراصل اہل علم کہلانے والوں کی مطلق جہالت یا منافقت کا ائینہ دار ہے، جو وہ جمہوریت سے کلی طور پر سیاست کو مشروط کر رہے ہیں۔ اب رہی بات کہ کیا جمہوری انتخابات کا طریقہ کار اسلام میں مشروع ہے، یا ہو سکتا ہے یا نہیں ہے، یا نقل سے کہیں سے ثابت ہے یا نہیں؟ اس کا جواب دینے سے پہلے عرض کر دوں کے انتخابی طریقہ کار ہمیشہ سے ایک اجتہادی مسئلہ رہا ہے جو ہر دور میں وقت کے تقاضوں کے تحت بدلتا آیا ہے۔ اسلام میں کوئی خاص انتخابی طریقہ کار کا تعین نہیں، تاہم اصول متعین ہیں۔ اگر آپ کا دعویٰ ہے کہ اسلام میں کوئی انتخابی طریقہ کار متعین ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا تو آپ اس پر مجھے دارلافتاء اہلسنت سے فتویٰ لا کر دیں تب مزید بات ہو سکے گی۔ تاہم فی الحال میں آپ کو دعوت دوں گا کہ آپ امام ابو الحسن علی بن محمد حبیب الماوردی (متوفی 1058ء) کی کتاب "الاحکام السلطانیہ" کا مطالعہ کریں۔ اگر اللہ عز و جل آپ کو مطالعہ کی توفیق دے تو آپ کو پہلے باب میں ہی ایک شہہ سرخی ملے گی "انتخابی ادارہ"، جس میں امام کے انتخاب کے ادارہ بارے احکام شرعی بیان ہوئے ہیں۔
امام حبیب الماوردی فرماتے ہیں کہ، "امامت کا قیام جہاد اور حصولِ علم کی طرح سے فرض کفایہ ہے۔ جو بھی اس کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو اگر وہ اسے ادا کر دے تو امت کے تمام لوگوں سے یہ ذمے داری ساقط ہو جائے گی۔ اور اگر کوئی اس ذمے داری کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہو، تو امت کے افراد دو قسم کے ہوں گے، ایک جو اہل الرائے ہوں گے اور وہ کسی امام کو منتخب کریں گے، اور دوسرے وہ لوگ جو امامت کے منصب پر فائز ہونے کے مستحق ہوں گے۔ ان دونوں قسم کے افراد کے علاوہ باقی افراد امت پر امامت کے انعقاد کی تاخیر پر کوئی گناہ یا ذمے داری نہیں ہے"۔
مزید وہ لوگ جن کو امام کے انتخاب کا اختیار دیا جائے ان (اہل الرائے) کی صفات بارے امام حبیب الماوردی لکھتے ہیں کہ،
1 – ان میں مکمل طریقے پر حق اور انصاف کی رعایت کی صلاحیت موجود ہو
2 – انہیں یہ علم حاصل ہو کہ امامت کی مختلف شرائط کے پیش نظر کون شخص اس منصب کا اہل ہے اور امت کے مصالح کو بہتر جانتا اور ان کی نگہبانی کر سکتا ہے۔
3 – ان میں دانائی اور فکر کی صلاحیتیں موجود ہوں تاکہ وہ بہترین اہلیت رکھنے والے آدمی کا انتخاب کر سکیں۔
اگر آپ اس کتاب کا مزید مطالعہ کریں تو آپکو ایک شہہ سرخی ملے گی "امام کے انتخاب کا طریقہ"۔ چنانچہ اس کے تحت امام حبیب الماوردی لکھتے ہیں کہ
"امام کے انتخاب کے دو طریقے ہیں۔ ایک یہ کہ اہل رائے اور صاحب فہم لوگ جو معاملات و مسائل کو سمجھتے ہوں وہ منتخب کریں۔ اور دوسرے یہ کہ امام اپنے عہدِ امامت ہی میں اپنا جانشین مقرر کر دے"۔
اب کیونکہ امام اپنا جانشین متعین کر دے تو فی زمانہ غیر سیاسی اور مذہبی و سیکولر اذہان بھی موروثیت کے نام پر شور مچا دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ امام کے انتقال کے بعد بھی اگر مجلسِ شوریٰ امام ہی کے بیٹے کو جانشین متعین کر دے تو بھی بعض کے پیٹ میں جہالت کے مروڑ اٹھنے لگتے ہیں اور وہ موروثیت کا واویلا کرتے ہیں، لیکن یاد رکھیں نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں یہ طریقہ کار جائز ہے۔ جبکہ دوسرا طریقہ کار جس میں امام کا تعین اہل رائے کرتے ہیں اس بارے امام حبیب الماوردی لکھتے ہیں کہ،
"پہلی صورت میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ اہل رائے کی تعداد کتنی ہونی چاہیے (یعنی متعین نہیں)۔ بعض کی رائے یہ ہے کہ امامت کے انعقاد کیلئے ہر شہر کے اہل رائے کا انتخاب ضروری ہے تاکہ امامت پوری امت کے اتفاق سے قائم ہو"۔
اس کی کثیر تفاصیل "احکام سلطانیہ" و دیگر کتب میں موجود ہیں تاہم زیرِ غور سوال کے جواب کے پیش نظر فقط اتنا ہی بیان کرنے پر اکتفا کرنا مناسب ہے۔
یہاں اہل رائے کے انتخاب کی ضرورت بیان ہو گئی۔ امتِ مسلمہ کی اجتماعی اتفاق رائے سے امام کے انتخاب کے لئے ہر شہر سے اہلِ رائے کے انتخاب کی ضررت بھی بیان ہو گئی۔ چنانچہ اگر کوئی اپنی غیر سیاسی منہج کو ایک طرف کر کے اپنے شعور کی کھڑکی کھولے تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ فی زمانہ یہی طریقہ کار جمہوریت کے نام سے نافذ العمل ہے۔
اگر غیر سیاسی علماء نے عامہ المسلمین کو سیاست کی تعلیم و تربیت و ترغیب دی ہوتی تو آج آپ جیسے بھائیوں کو معلوم ہوتا کہ ہم جو ہر حلقہ میں اپنے انتخابی امیدوار کو منتخب کرتے ہیں وہ ہمارا منتخب "اہل رائے" قرار پاتا ہے، اور اس کی رائے سے قوم کے امام کا انتخاب ہونا ہے۔
لہٰذہ یہاں اہم یہ ہے کہ ووٹر کی تعلیم و تربیت کی جائے تاکہ اسے معلوم ہو کہ اس نے کیسے اہلِ رائے کو منتخب کرنا ہے۔ چنانچہ ووٹر کی ذمہ داری کے متعلقہ شرعی احکام کے بیان کی ضرورت اور ووٹر کی تعلیم و تربیت ناگزیر ہے، اور اس ضرورت کی خاطر ہی بعض حلقوں کی جانب سے منبر و محراب سے سیاست کی تعلیمات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔
علماء کا فرض ہے کہ وہ عوام الناس کو جمہوریت بارے جھوٹ بتانے اور سیاست سے غافل و بیزار کرنے کی بجائے منبر و محراب سے ان کو ووٹ کے متعلقہ شرعی احکامات کی تعلیمات دیں اور سیاسی علم سے منور کریں تاکہ وہ امامت کے قیام کے لئے اپنے ووٹ کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ذی شعور اور باشرع اہل رائے کا انتخاب کر سکیں۔
یہ صرف اسی صورت ممکن ہو سکتا ہے جب ووٹر کو اہل رائے کے فرائض معلوم ہوں۔ اگر امام ماوردی کی کتاب "احکام سلطانیہ" کو مزید کھنگالا جائے تو پہلے باب میں ہی ایک شہہ سرخی "اہل رائے کے فرائض" کے نام سے مل جائے گی۔ جس میں امام حبیب الماوردی لکھتے ہیں کہ،
"جس وقت اہل رائے کسی امام کو مقرر کریں تو سب سے پہلے انہیں یہ غور کرنا چاہیے کہ کون کون لوگ امامت کے اہل ہیں اور ان میں امامت کی کون کون سی شرائط کس حد تک پوری ہیں [یعنی امام کی اہلیت بارے اہل رائے کو قطعی معلومات ہونی چاہیے]"۔
چنانچہ امام حبیب الماوری نے ایک ہزار سال قبل جس طریقہ کار کو نقل کر دیا، جو فہقاء کے نزدیک جائز ہے اس کو آج ہزار سال بعد آنے والے غیر سیاسی مذہبی علماء اپنی صیہونیت نواز غیر سیاسی دعوت و تبلیغ کی منہج کو جواز فراہم کرنے کے لئے مکروہ، حرام، بدعت یا کفر کیسے کہہ سکتے ہیں؟ علماء کی اس گمراہ کن روش کی وجہ سے آج اسلام کی دائمی اہلیت پر سوال اٹھ گیا ہے، کہ کیا اسلام فی زمانہ تہذیبِ انسانی کی عالمگیر ثقافتی تحریک کی راہنمائی کرنے کے لائق ہے بھی یا نہیں؟ علماء کو تو شکر کرنا چاہیے کہ ہمارے پاس ایک ایسا طریقہ کار ہے جس میں ہم خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر سیاسی عمل کے ذریعہ اسلام کے نفاذ کی راہ ہموار کر سکتے ہیں، لیکن اس کے برعکس علماء اپنی ذمہ داریوں سے مطلق راہِ فرار اختیار کر کے نہ صرف غیر سیاسی بنے ہوئے ہیں بلکہ اپنی بزدلانہ حرکتوں کی وجہ سے سیاسی میدان میں اقامتِ دین کی کاوش کرنے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہے ہیں، اور صیہونی ورلڈ آرڈر کی خوشنودی کے لئے ان پر طعن کرتے آ رہے ہیں۔ اللہ رب العزت یا ان غیر سیاسیوں علماء کو بصیرت عطا فرما دے اور یہ منبر و محراب سے سیاست کے متعلقہ احکامِ شرعی بیان کرنا شروع کر دیں، اور اگر یہ ممکن نہیں تو اللہ رب العزت ان کے شر سے امتِ مسلمہ کو ابدی نجات عطا فرما دے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الملاحم یا رب العالمین۔
#عمرفاروق #عمر ٰ
احیائے امتِ مسلمہ کیلئے دعوتِ اسلامی کیا کیا فوائد سمیٹے ہوئے ہے؟ اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں
07/07/2024
مرادِ نبی ﷺ
دامادِ علی رضی الله تعالیٰ عنہ
امیر المومنین رضی الله تعالیٰ عنہ
مکینِ جنت
جانشین صدیق اکبر رضی الله تعالیٰ عنہ
فاتح قیصر و کسریٰ
سیدنا فاروقِ اعظم عمر ابن الخطاب
رضی الله تعالیٰ عنہ
کا یومِ شہادت
#عمرفاروق #عمر #اہلسنت #پاکستان ٰ ﷺ #نظام #امام #مہدی #نفاذاسلام #خلافت
یکم محرم الحرام
07/07/2024
و تقسیم فارمولا اور دبر کی مالش 👇
کہتے ہیں ایک بادشاہ نے یہ جاننے اور جانچنے کیلٸے کہ
عوام میں اس کے خلاف بغاوت کرنے، اٹھ کھڑے ہونے اور مخالفت کرنے کا کس قدر جذبہ موجود ھے؟
اپنے وزیراعظم کو یہ شاہی فرمان جاری کرنے کا حکم دیا کہ
کل سے ہر اس شخص کو جو کسی بھی کاروبار یا روزگار سے وابستہ ھے اس کیلٸے لازم ھے کہ وہ علی الصبح شاہی محل کے سامنے حاضر ھو، مرغا بنے، دبر پر 20 جوتے کھاٸے اور پھر اپنے کام کاج پر نکلے
رعایا نے اس حکم نامے پر بغیر کوٸی جارحانہ و مخالفانہ ردعمل یا و غصے کا اظہار کٸے بغیر تعمیل شروع کردی
چنانچہ
ہر خاص و عام شاہی محل کے سامنے آکر قطار لگا کر کھڑا ھوتا
باری آنے پر جمع شدہ خلقت کے سامنے عزت و بےعزتی کی سوچ و فکر سے عاری ہوکر مرغا بنتا
شاہی محل کا ایک سپاہی اسے دبر اونچی کرنے کا کہتا پھر پوری قوت سے 20 جوتے رسید کرتا اور دوسرے کو طلب کر لیتا
بادشاہ محل کے یہ جھروکے سے یہ منظر دیکھتا اور سوچتا کہ شاید کوٸی اس جبر کے خلاف بولے کوٸی شاہی فرمان کی تعمیل سے انکار کردے
لیکن
بادشاہ کی امید بھر نہیں آٸی وہ سوچتا شاید کل کوٸی اٹھ کھڑا ھو
لیکن
مہینہ بھر گزر گیا
کسی نے مزاحمت نہیں کی
جن لوگوں کےکام اہم یا جلدی کرنے کےہوتے تھے وہ اتنا ہی سویرے شاہی محل کے نیچے آکر بیٹھ جاتے تھے
حتیٰ کہ
اب لوگ جوتا کھانے سے جلد فارغ ہونے اور جلد باری لینے کیلٸے رات سے ہی وہاں ڈیرہ جمانے لگے
31ویں روز صبح سویرے محل کے نیچے شدید شور برپا ہوگیا پتا چلتا تھا کہ ہزاروں افراد محل پر ہلہ بول کر اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے
بادشاہ سمجھا شاید میری رعایا میں جذبہ غیرت عود کر آیا ھے
وہ جوتا خوری کے عمل کے خلاف متحد ہوگٸے ہیں
اور اس عمل کو اپنی اجتماعی قوت و طاقت کے ذریعے بادشاہ سے بند کرانے کا مطالبہ کرنے آٸے ہیں
اس نے فی الفور وزیراعظم کو طلب کیا اور اسے معاملے سے آگاہی کیلٸے روانہ کیا
وزیر اعظم کچھ ہی دیر بعد لوٹ آیا
بادشاہی پر بےحد بےچینی طاری تھی وہ شدید اضطراب کی کیفیت میں ادھر ادھر ٹہل رہا تھا
وزیراعظم کو دیکھتے ہی بےتابی سے پوچھا
میری رعایا کیا کہتی ھے؟
میرے حکم پر آٸندہ سے عمل نہ کرنے کا کہا ھے؟
میری بےحد مخالف ہوگٸی؟
وزیر اعظم نے جواب دیا
جان پناہ
ان تینوں میں سے کوٸی ایک بات بھی نہیں ھے
بادشاہ کی آنکھیں حیرت و خوف سے پھٹ پڑیں
کیا وہ شدید غم و غصہ و مسلسل بےعزتی کے سبب میری جان کے در پہ تو نہیں ہوگٸے ہیں؟
کہیں مجھے اپنے حوالے کرنے کا مطالبہ تو نہیں کررہے ہیں کہ
میں ان کے ہاتھ لگوں اور وہ میری تکہ بوٹی کردیں
وزیراعظم نے زیرلب مسکرا کر کہا
حضور والا یہ بات بھی نہیں ھے
وہ صرف یہ مطالبہ کرنے کیلٸے جمع ہوٸے ہیں کہ
جوتے مارنے کیلٸے صرف ایک سپاہی مقرر ھے جب کہ شہر بھر کے لوگ بہت زیادہ ہیں
چنانچہ
رات گٸے محل کے نیچے نمبر لگانے کے باوجود بھی صبح کو بہت دیر سے باری اتی ھےجس کے سبب ان کے معمولات زندگی درہم بھرم ہوکر رہ گٸے ہیں
چنانچہ
بادشاہ سے یہ رحم مہربانی اور احسان کرنے کی دست بدستہ التجا اور درخواست ھے کہ
بےشک جوتوں کی تعداد 40 کر دی جاٸے
لیکن
جوتے لگانے والے سپاہیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جاٸے
چونکہ
ایسا کرنے سے شاہی خزانے پر اضافی بوجھ پڑے گا چنانچہ ہر شخص ایک درہم بطور جرمانہ ادا کرےگا
یہ سن کر بادشاہی کی ہنسی چھوٹ گٸی
اس وزیراعظم سے کہا کہ ایسی رعایا کو سبق سکھانے کیلٸے ضروری ھے کہ ان پر مزید سختی کی جاٸے
اس نے حکم نامہ جاری کردیا کہ
کل سے جوتے لگانے کے عمل پر 100 شاہی سپاہی مقرر ھوں گے
ان کی تنخواہ کی مدد میں ہر جوتا کھانے والے کو 2 درہم بطور جرمانہ ادا کرے گا اور 50 جوتے ہر روز کھاٸے گا
عوام نے نٸے شاہی حکم کے مطابق جرمانے اور جوتوں کی تعداد دونوں کو بلا چوں و چرا تسلیم کرلیا
اور اب اس پر عمل درآمد کرنے لگے
اب ایک نیا مسٸلہ کھڑا ھوگیا
مسلسل جوتے کھانے کے سبب ان کے دبر سوجھنے لگے ان میں درد کی ناقابل برداشت ٹیسیں اور درد اٹھنے لگا، شدید بخار نے بھی انھیں آلیا اور ان کی حالت غیر ہونے لگی
ان کیلٸے بیٹھنا بھی دشوار ھوگیا جس کے بعد ان کے کام کاج، کاروبار اور روزگار سب ٹھپ ہوکر رہ گٸے
اس شدید صورت حال کو دیکھتے ھوٸے کچھ مذھبی سماجی و فلاحی تنظیمیں سامنے آگٸیں
انھوں نے مخیر حضرات سے اپیل کی وہ ان کی مالی معاونت کریں
وہ شاہی محل کے قریب ابتداٸی طبی امداد کیلٸے ایمرجینسی سینٹر قاٸم کرنا چاھتے ہیں
جن میں جوتے کھانے والے ہر شخص کو اس کی ایماء پر طبی امداد مہیا کی جاٸے گی، متاثرہ جگہ پر مرہم لگاٸی جاٸے گی، مالش کا اہتمام کیا جأٸے گا، درد کش و بخار کی ادویات فراہم کی جاٸیں گے
طبی امداد کیلٸے فیلڈ اسپتال قاٸم کٸے جاٸیں گے کیونکہ متاثرین کی تعداد بےحد زیادہ ھے طبی عملے اور آلات کی بھی ضرورت ھوگی
چنانچہ
مذہبی فلاحی سماجی و رفاعی تنظیموں نے عوام کیلٸے مختلف پیکجز کا اعلان کردیا
رجسٹریشن کیلٸے تحریری درخواستیں طلب کی گٸیں
پانچ ہزار روپے ایڈوانس جمع کرانے کا کہا گیا
دو ضمانتی بھی مانگے گٸے، محلے و علاقے میں جاکر ضرورت مند اور مستحق ھونے کی تصدیق بھی لازمی قرار دی گٸی
طبی امداد کی مد میں خرچ ہونے والی رقم کی کی وصولی کیلٸے ماہانہ قسط بھی طے کی گٸی
طبی امداد کی پیکجز اس طرح تھے
۱۔ وقتی طبی امداد کا پیکج
مبلغ دس ہزار روپے ماہانہ
۲۔ گھر پر دواٸیں فراہم کرنے کا پیکج
مبلغ پندرہ ہزار ماہانہ
۳۔ گھر پر دواٶں اور طبی عملے کی فراہم کی سہولت کا پیکج
پچیس ہزار روپے ماہانہ
ان پیکجز کی مجموعی رقم کی مرحلہ وار واپسی کیلٸے الگ مالیت کی ماہانہ اقساط بھی طے کی گٸیں
اب شاہی سپاہی ہر شخص کی دبر کو جوتے مار مار کر لال سرخ کرتے اور
یہ مذھبی سماجی فلاحی رفاعی تنظیموں ان کے دبروں پر مرہم لگاتیں، مالش کرتیں دواٸیں فراہم کرتیں، ماہانہ اقساط وصول کرتیں اور
روای چین ہی چین لکھتا
بعینیہ
یہی طرز عمل اور صورت حال سیلانی اور دعوت اسلامی کی ھے
انھوں نے بھی لوڈشیڈنگ کے مارے حکومتی مظالم کا شکار، مظلوم عوام کیلٸے سولر سسٹم تقسیم کرنے کا اعلان کیا ھے
مخیر حضرات سے مالی تعاون کی اپیل بھی کردی ھے
سولر سسٹم کی نقد و آسان اقساط پر فراہمی کیلٸے مختلف پیکجز بھی ترتیب دے دیٸے گٸے ہیں
لیکن
حیران کن عمل یہ ھے کہ ان دونوں تنظیموں نے (جو دونوں ہی مذھبی تنظیمیں ہیں اور ان کے سربراہان خود کو علمی و روحانی شخصیات کہلانے کے بھی دعویدار ہیں) حکومت سے یہ مطالبہ نہیں کیا ھے کہ
اسلام ریاست کو پابند کرتا ھے کہ وہ اپنے عوام کو ضروریات زندگی کی ہر بنیادی سہولت فراہم کرے
لہذا حکومت ظلم بند کرے، لوڈشیڈنگ کا مکمل طور پر خاتمہ کرے، حکومتی عہدیداروں اور ماتحت اداروں کے ذمہ داران کو بجلی کی مفت فراہمی بند کی جاٸے
بصورت دیگر
عوام کے حقوق کے حصول کیلٸے ہر راست قدم اٹھایا جاٸے گا
اور
اس کیلٸے جس حد تک جانا پڑے جایا جاٸے گا
بالخصوص
دعوت اسلامی جس کا 200 ممالک تک داٸرہ کار ھے پاکستان میں اس کے بلامبالغہ لاکھوں کی تعداد میں وابستگان ہیں
سب کو ایک ہی وقت میں احتجاج کیلٸے بلایا جاٸےتو حکومت کے ہاتھوں کے طوطے اڑ جاٸیں اور پیروں تلے سے زمین نکل جاٸے
لیکن
کیا کیا جاٸے
دعوت اسلامی نے دین میں کتر بیونت کرکے سیاست جو عین اسلام ھے اسے دین سے خارج کردیا
عوام کو گزشتہ 40 برسوں سے سیاست سے برگشتہ کٸے رکھا
غیر سیاسی ہونے کے نظریٸے اور فلسفے کا پرچار کرکے اسے اپنے وابستگان کے قلوب و اذہان پر پتھر پر لکیر کی طرح کندہ کردیا
چنانچہ
عوام نظام حکومت اور سیاسی سے مکمل طور پر منقطع ھو کر رہ گٸے
صاحب دین و علم لوگ اسمبلیوں اور پارلیمنٹ تک نہیں پہنچ سکے
فاسق و فاجر دین دشمن اور مغربی ہم نواٶں کیلٸے اقتدار کےراستے وا کٸے
اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے یہ ارباب اقتدار برسہا برس سے چہرےاور جماعتیں بدل بدل کر عوام کو مہنگاٸی، بدامنی اور لاقانونیت سمیت ظلم کی ہر چکی میں پیس رہے ہیں
ان کے جرم میں برابر کی شریک دعوت اسلامی اور اس کے ہی تربیت یافتہ افراد پر مشتمل سیلانی خاموش تماشاٸی کا کردار ادا کر رہے ہیں
لوگوں کو بھیک دینے اور بھیک لینے کے مکروہ عمل پر لگا دیا ھے
عزت نفس، خوداری اور شخصی وقار کا سرے سے خاتمہ کردیا ھے
ان کی چار دہاٸیوں کی ذہنی تربیت کے سبب ان سے وابستہ کروڑوں لوگ سامراجی نظام کی کٹھ پتلیاں بن کر رہ گٸے ہیں
لوگ بےشرم، بےغیرت، ڈھیٹ اور سوچ و فکر سے عاری ہوکر ہاتھ پھیلانے اور قطاروں میں دھکے کھانےکی خوگر اور عادی ھوگٸے ہیں
ان تنظیموں کےوابستگان بھی ذہنی و جسمانی بلکہ ان کی روحیں بھی اس قدر غلام ہوچکی ہیں کہ وہ اپنی مذہبی قیادت کے بولے گٸے ہر لفظ کو حکم الوہیت کا درجہ دیتے ہیں اور نہ صرف بلا سوچے سمجھے اس کی تعمیل کرتے ہیں بلکہ اگر کوٸی سمجھانے کی کوشش کرے تو اس پر مردار خور گدھوں اور لکڑ بھگوں کی طرح پل پڑتے ہیں اسے خوب بھنبھوڑتے اور نوچ کھاتے ہیں
عالمی ساوہوکارانہ، سرمایہ دارانہ اور سامراجی نظام کی ہمنوا یہ دونوں تنظیمیں کبھی بھی حکومت کو نہ مشورہ دیں گی نہ ان پر دباٶ ڈالیں گی
نہ ان کےخلاف کلمہ حق بلند کریں گی کہ وہ بجلی کی پیداوار پوری کریں کیونکہ پاکستان میں صدیوں کیلٸے کافی کوٸلے اور پانی کے ذخاٸر موجود ہیں
سولر سسٹم تو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کے تابع ھے ان کی بیرون ملک سے خریداری پر پاکستان کا قیمتی زرمبادلہ بھی یہ عالمی ساہوکار لوٹیں گے اور دونوں ہاتھوں سے کا منافع بھی جیبوں میں بھریں گے
پھر ان کے مقامی تنخواہ دار بھی اپنی تجوریاں لبریز کریں گے
اور یہ تنظیمیں سولر سسٹم دے کر عوام سے قسطوں کی مد میں بھی مال اینٹھ لیں گی
نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی رنگ چوکھا
ان کی ہر صورت پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں اور سر کڑاہے میں کہ یہ عالمی سرمایہ دارانہ مظام کی کتھ پتلیاں ہیں
یونہی
یہ سالانہ اربوں روپے مالیت کے صدقات خیرات، راشن تقسیم کرنے اور کھانا کھلانے کے بہانے اور آڑ میں قوم کو بھکاری بنا رہے ہیں
لیکن
یہ اپنے ڈونرز کو کبھی یہ راہ نہیں دکھاٸیں گے وہ غرباء و مساکین کو رزق حلال اور محنت کی کماٸی کا حصول ممکن بنانے کیلٸے بطور خاص چھوٹی اور بڑی صنعتیں لگاٸیں
اگر انھوں نے ایسا کیا تو خود ان کے پاس دولت کی ریل پیل کیسے ھوگی
اور
بلیک مارکیٹرز کی اربوں ڈالر کی منی کیسے واٸٹ ھوگی
لہذا
انھوں نے ظالم کو ظلم سے کبھی نہیں روکنا ھے لیکن
غریبوں کی ہمددریاں سمیٹنے اور ان کے ذریعے کروڑوں کمانے کیلٸے مظلوموں کے ساتھ داد رسی کا ڈرامہ رچاٸے رکھنا ھے
اور
یہی ان کو عالمی قوتوں نے ٹاسک دے رکھا
DawateIslami Madni channel Government of Pakistan