Ishaq be darda

Ishaq be darda

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Ishaq be darda, Social service, Karachi.

12/08/2024

آپ نے فٹ بال کے کھلاڑیوں کو ٹی وی سکرین پر میچ کھیلنے اگر غور سے دیکھا ہوگا تو یہ ایک بہت غیر مہذب سی حرکت کرتے ہیں. یہ پیاس میں پانی کی بوتل منگواتے ہیں بھر کر ایک گھونٹ منہ میں لیتے ہیں اور پھر اسے میدان میں تھوک کر بوتل واپس کر دیتے ہیں. ذہن میں سوال آتا ہے بھائی جب پینا ہی نہیں تھا تو تھوکنے کیلئے کیوں منگوایا.؟

لیکن کھلاڑی یہ اُس کیفیت میں کرتے ہیں جب انکا جسم جواب دینے لگتا ہے. یہ میٹھا شربت منگوا کر جب منہ میں لیتے ہیں تو دماغ کو ضروری ڈوپامائن مل جاتے ہیں. دماغ خوش ہو جاتا ہے. لیکن یہی مٹھاس معدے کیلئے وہ بوجھ ہے جو ان کی توانائی مزید نچوڑ لے گا. اس لئے یہ اپنے دماغ کو تو خوش کر دیتے ہیں لیکن معدے پر یہ بوجھ نہیں ڈالتے.

کسی بھی بڑے مقام کیلئے شہرت یہی امتحان ہے. کچھ لوگ اسے تھوک دیتے ہیں اور کچھ اسے تھوک نہیں پاتے. جو تھوک نہیں پاتے انکا نفس اسے اپنی ذات کا ویسے ہی بوجھ بنا لیتا ہے جیسے چربی چڑھا کوئی شخص اپنے ہی وزن سے ہانپ رہا ہوتا ہے. یہی نفس ہے جو پھر چوک چوراہوں پر اپنے بت سجاتا ہے. اور یہی بت پھر وقت گراتا ہے جیسے کل شیخ مجیب کے بت گرائے گئے. صدام اور لینن کے بت گرائے گئے.

انسان دل سے صرف انسانیت کی قدر کرتا ہے. بت چاہے جتنا بھی بڑا ہو اسکا طلسم ٹوٹ ہی جاتا ہے. کسی بھی انسان کا اصل مقام انسانیت میں ہے اسے بت نہیں بنانا چاہئے.

منقول

04/05/2024

برداشت کی صلاحیت خوش نصیبوں کو ھی ملتی هے.
انسان پریشانیوں کی گنتی کرنے کا ماھر ھے لیکن نعمتون کا حساب بھول جاتا هے.
اخلاق کا حسن جس انسان میں آجاۓ وہ خالق اور مخلوق دونوں کا محبوب بن جاتا ھے.
الله سبحانہ وتعالی ہم سب کو حوادث زمانہ، دیدہ ونادیدہ حاسدین کےشرسےمحفوظ رکھےاور ہم سب کی قسمت میں ایمان خالص، بہترین صحت، فرمانبردار اولاد اور رزق کی کشادگی لکھ دے‎
*آمین یا رب العالمین*
Asalam o Alekum……

07/07/2023

ڪروڙين رپين جا بنگلا ۽ گاڏيون ٺاهڻ بلڪل عزت جون نيشانيون آهن، جيڪڏهن ڪمائي جو ذريعو مثبت هجي، جنهن سان معاشري ۾ ترقي پڻ ٿي هجي، پر جيڪڏهن پگهار لک رپيا آهي، ۽ ڪروڙين رپين جون گاڏيون، بنگلا ۽ لائف اسٽائل ارب پتي ڪاروباري ماڻهن جيان آهي ته اهي ماڻهو نفرت جي لائق آهن، اهي تڏهن قابل فخر هجڻ گهرجن جڏهن انهن پئسا ٺاهڻ ۾ معاشري ۾ مثبت ڪردار ادا ڪيو هجي.
جيئن خانگي انجنيئر، ڊاڪٽر، وڪيل، ڪاروباري شخصيتون معاشري ۾ مثبت ڪردار ادا ڪندي ماڻهن کي روزگار جا موقعا ۽ طريقا ڏين ٿا، جن سان ماڻهن جو فائدو ٿئي ٿو، معاشري سان گڏ پاڻ به ترقي ڪن ٿا، اهي عزت جي لائق آهن.
پر جيڪڏهن 17 يا 18 گريڊ جي نوڪري وٺي اتي اوهان رياستي اختيارن جو ناجائز استعمال ڪري، روينيو چوري ڪيو ٿا، منشيات، ڏوهارين کي پروموٽ ڪيو ٿا، سرڪاري انجنيئر ٿيڻ سان غلط تعميرات ڪيو ٿا، سرڪاري ڊاڪٽر ٿي غريبن لاءِ آيل دوائون چوري ڪيو ٿا، پئسا ٺاهي، بنگلا ۽ ڪروڙن جون گاڏيون وٺي سمجهو ٿا ته عزت ٺاهي آهي ته بلڪل غلط آهي، ڪونه ٿا عزت ٺاهيو، اوهان ڪرمنل نظر اچو ٿا، لک رپين جي پگهار مان ڪروڙين رپين جا بنگلا وڏيون گاڏيون ٺاهڻ مان ائين لڳي رهيا آهيو، جيئن هڪ عورت نڪاح واري مڙس بدران ٻين سان ناجائز لڳاپا رکندي آهي، ۽ معاشرو ان کي خراب چوندو آهي، اوهان به ائين آهيو.
سوسائٽي تڏهن ترقي ڪندي آهي جڏهن عام ماڻهو گهٽ آمدني واري وٽ ڪروڙين رپيا ڏسن ته انهن کان نفرت ڪن، عملدار سمجهن ٿا ته ڪروڙين رپين جي گاڏي ۽ بنگلا سندن عزت آهي، پر اهي معاشري ۾ وڏا ڪرمنل آهن، جيڪڏهن اوهان کي ڪروڙين رپيا ڪمائڻ جو شوق آهي ته اوهين 17 ۽ 18 گريڊ جي نوڪري ۾ اچڻ بدران ڪاروبار، خانگي ڊاڪٽر، انجنيئر، سميت ٻين انيڪ ڌنڌا ڪيو، جن سان اوهان جي ترقي سان گڏ معاشرو ترقي ڪندو، جڏهن ته اوهان هن وقت ڪرمنل ذهنيت جا ماڻهو آهيو، اوهان جي گهٽ پگهار مان ڪروڙين رپين جو گاڏيون ۽ بنگلا نظر اچڻ سان اوهان پاڻ سان ڪرمنل، ڏوهاري، بدماش هجڻ جو سرٽيفڪيٽ کڻي گڏ هلي رهيا آهيو، متان سمجهو ته اوهان وڏين گاڏين ۽ ڪروڙين رپين جي بنگلن ۾ رهڻ سان عزت ٺاهي آهي

28/05/2023

ھي بسون سکر راڻيپور کان ڪنڊيارو نوشھرو فيروز مورو ھالا حيدآباد ڪراچي تائين

ھلايون وڃن

ھتي پرائيويٽ گاڏين ڪرايا تمام مھنگا ڪري ڇڏيا آھن

سکر راڻيپور ڪنڊيارو نوشھرو فيروز مورو ھالا حيدرآباد جا دوست وڌ کان وڌ شيئر ڪريو

تہ جيئن سنڌ گورنمينٽ کي سنڌ جي شھرن جو خيال اچي

21/05/2023

پاکستان میں فیملی سسٹم کا زوال ،،

ھمارے زمانے میں ھمارے دادا جی کے کوئی سولہ سترہ بچے اور 4 بیویاں تھیں ،،
بچوں میں سے کسی نے بھی اسکول کا منہ نہ دیکھا ،، اردو پڑھنا بھی سپارہ پڑھ کر سیکھا ،جس نے بھی سیکھا ،،

بچے سر اٹھاتے تو فصلوں اور کھیتوں میں دھکیل دئے جاتے ،، جو گائے دوسرے گاؤں سے جفتی کرا لاتا وہ پرائمری پاس کر لیتا ،جو ہل کی ہتھی پکڑ لیتا وہ میٹرک پاس کر لیتا ،جو کسی مل میں ملازم ھو جاتا وہ ایم اے کر لیتا ،، یوں والدین کا خرچہ کچھ نہیں تھا منافع ھی منافع تھا ،، لہذا والدین کبھی فرسٹریشن کا شکار ھو کر بچوں کی ماں بہن ایک نہیں کرتے تھے ،، راوی چین ھی چین لکھتا تھا ،بچے کی مونچھیں بھیگتی یا مسیں پھوٹتیں تو اسی حویلی میں سے ایک کڑی پکڑ کر اس کے ساتھ بیاہ دی جاتی اور چارپائی اور پانی کی بالٹی چھت پر چڑھا دی جاتی ،، شادیاں عموماً 16 سال کا لڑکا اور 14 سال کی لڑکی کے حساب سے ھوتی تھیں،، سارے دیہات کا تقریباً یہی رواج تھا ،، والدین میں سکھی تھے ،بچے ایک منہ اور دو ھاتھ لے کر آتے تھے ،، بچے دس بھی ھوں تو مونگ پھلی بھی چن کر لاتے تو بھی اپنی اپنی اس دن کی روٹی خود کما کر شام کو گھر آ جاتے تھے ،،

نہ زیور بکتا تھا ، نہ ایجنٹوں کا دھوکا تھا ، نہ نادرا کے دھکے تھے ، نہ والدین کے کوسنے تھے اور نہ اولاد کا ڈیپریشن تھا سالوں میں بھی کوئی معاشی خود کشی نہیں ھوتی تھی ،جو ایک آدھ کیس دو چار سال میں ھوتا وہ عشق کی ناکامی کے سبب ھی ھوتا تھا ،، فرسٹریشن دونوں نسلوں میں نہیں تھی ،،،،،،،،،،،،

پھر دور تبدیل ھوا ،، منگلا نے کشمیریوں کو لندن پہنچایا تو باقی علاقون نے بھی انگڑائی لی ،، لوگوں نے زمینیں بیچیں ، زیور بیچے اور بچوں کو ایران کے رستے یونان اور دبئ کی طرف روانہ کیا گیا ،، کچھ پہنچے کچھ رستے میں ھی خواھشات کے جنگل میں مر کھپ گئے ، جو پہنچے ان کا حال اے ٹی ایم یا گو کیش کارڈ کا سا تھا ،، وہ کما کر بھیجتے گئے اور کوشش کی کہ ان کی اولاد پڑھ لکھ جائے اور کسی اچھے جاب پر لگ جائے ،، تعلیم میں مقابلہ بازی شروع ھوئی کیونکہ انڈیا کے لوگ پڑھے لکھے تھے وہ آفس جاب میں لگتے جبکہ پاکستانی نچلے درجے کے کام کرتے تھے ،،

دیہات میں بجلی آئی تو ڈاولینس کو بھی لائی ،اور دیگر بجلی کا سامان بھی امپورٹ ھوا ، والدین مشین کی طرح کما کر اولاد پر لگاتے چلے گئے اور اپنی جوانی اور اس سے متعلق جزبات کو قربان کر دیا ،، والد 4 ، 4 سال بعد ملک کا چکر لگاتے وہ بھی ایک ماہ کے لئے مہمان کے طور پر آتے ،، ایک ماہ میں بچوں کا کیا پتہ چلتا ھے ،فاتحہ خوانی پوری نہیں ھوتی تھی کہ چھٹی ختم ھو جاتی ،، سہولیات ملیں تو بچے بگڑتے چلے گئے اور والدہ چھپاتی چلی گئ اور مرد اندھا دھند 16 ، 16 گھنٹے کام کر کے کما کر گھر بھیجتے چلے گئے،،

اولاد پر لعن طعن شروع ھوا ، اخراجات کا حساب کتاب شروع ھوا ، تعلیم کو کوسا گیا اور والدین اور بچوں کے درمیان سرد جنگ شروع ھو گئ ،،تعلیم دن بدن ٹف ھوتی چلی گئ وہ آج سے چالیس سال پہلے والی تعلیم نہیں تھی جب انگلش چھٹی کلاس سے شروع ھوتی تھی اور میٹرک تک ھمیں انگلش کے حروفِ ابجد ھی درست کرنا سکھایا جاتا ،، مائی بیسٹ فرینڈ ، مائی فادر ،، ھنگری فاکس اور تھرسٹی کرو پر میٹرک ھو جاتی تھی ،، اب انگلش کچی یعنی کے جی ون سے ھی شروع ھو جاتی ھے ، بستے بڑے ھوتے گئے اور رشتے چھوٹے ھوتے چلے گئے ،، ساری ساری رات پڑھ کر بھی بچہ پاس نہ ھو تو بھی گھر میں اس قدر ذلیل کیا جاتا ،، اس کو لٹرلی ماں بہن سے گالیاں دی جاتیں ، مار اس قدر شدید کہ پڑوسی آ کر چھڑائیں تو چھڑائیں ماں بھی قریب جانے کی ھمت نہ کرے ،، یوں والدین اور اولاد کے درمیان نفرت کی نادیدہ مگر محسوس دیوار بننا شروع ھوئی ،،

ریزلٹ کے دنوں میں نہر کے پلوں پر پولیس پہرہ لگ جاتا ھے کیونکہ ناکام ھونے والے بچے ریزلٹ سن کر گھر جانے کی بجائے قبر میں جانے کو ترجیح دیتے ھیں ،، والدین اپنی جگہ اخراجات کے گوشوارے دکھاتے پھرتے ھیں اور بچہ اپبے جسم پر پڑے نیل کے نشان دکھاتا پھرتا ھے ،، یعنی کہ اس تعلیم کی بجائے ، ان اخراجات کی بجائے کچھ بھی نہ ھوتا تو والدین اور اولاد کا تعلق تو قائم رھتا ،، جب ھر لمحہ ان اخراجات کو کوسا جاتا رھے ،، تو وہ ناسور بن جاتے ھیں ،، ایک عورت بیرون ملک سے آئی تو گاؤں کی ایک غریب عورت کے لئے ایک سوٹ لے کر آئی اور اس کو کہا کہ آپ یہ سلا کرپہن لیں ،، مگر اس عورت نے شاید وہ سوٹ اپنی بیٹی کو دے دیا ھو گا ،، لیکن یہ خاتون جہاں اس غریب عورت کو دیکھتی فورا ً پوچھتی کہ " ماسی وہ سوٹ ابھی نہیں سلوایا ؟ " یہانتک کہ ماسی نے اس خاتون کو دیکھ کر ھی رستہ تبدیل کرنا شروع کر دیا ،، پھر وہ ان اوقات مین اس گلی سے گزرتی جب اس خاتون کے رستے میں ملنے کے امکانات نہ ھوتے ،مگر ایک دن صبح صبح بیچاری پکڑی گئ اور اس خاتون نے ابھی ماسی ھی کہا تھا کہ ماسی دونوں ہاتھ جوڑ کر کھڑی ھو گئ " خدا کا واسطہ ھے اگر ایک سوٹ مجھے دے ھی دیا ھے تو اب مجھے جینے دو "

یہی حال اولاد کا ھو جاتا ھے کہ خدا کا واسطہ ھے اگر پڑھا ھی رھے ھو تو یہ رات دن کا راگ بھیرویں مت سنایا کریں ، سن سن کر ڈیپریشن ھو گیا ھے ،،
والدین بچے میں نفرت بہت پہلے سے بھر چکے ھوتے ھیں ،، جب اس کی شادی ھوتی ھے اور وہ کمانے لگتا ھے تو والدین سے اس کا رویہ سرد مہری کا ھوتا ھے ،جس سے سمجھا یوں جاتا ھے گویا کہ آنے والی نے کان بھرے ھیں ، ورنہ ھمارا چاند تو ایسا نہیں تھا ،، الغرض والدین سب کچھ داؤ پر لگا کر ، اپنی جوانی کی قربانی دے کر صرف اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے بازی ھار جاتے ھیں ،، پھر جو بیٹے تابعدار ھوتے ھیں والدین خواھشات کا ایسا بار ان پر ڈالتے ھیں کہ وہ اپنے بچوں کے حقوق پورے کرنے سے عاجز آ جاتا ھے ،، یوں گھر کے اندر ایک جنگ شروع ھو جاتی ھے جب بیوی اپنے بچوں کا حق بھی پیچھے جاتے دیکھتی ھے ،، والدین ابھی بھی یہی گردان کر رھے ھوتے ھیں کہ ھم نے اتنا لگایا ھے اور اتنا کھپایا ھے ،لہذا سب کچھ ھمارا ھے ،، اور حدیث کوٹ کی جاتی ھے کہ تو اور تیرا مال تیرے والد کے ھو ،، جبکہ شریعت میں اولاد کی موجودگی میں چھٹا حصہ والد کا ھے اور چھٹا حصہ ماں کا ھے بیوی کو اٹھواں حصہ ملتا ھے اور باقی اولاد کا ھے ،مگر اس حدیث کو بیان کر کے اولاد کا حق بھی مار لیا جاتا ھے،،

والد صاحب بیٹیوں کی شادی کے لئے 10 لاکھ اور اٹھارہ لاکھ مانگتے ھیں ،، پلاٹ اور مکان کی قسطیں الگ ھیں ،، گویا پوری کوشش کی جاتی ھے کہ کمانے والے بیٹے کو ھینڈ ٹو ماؤتھ رکھا جائے اور وہ اپنی بیوی اور بچوں کا کچھ بھی نہ بنا سکے ،، بیٹا اپنے بچے پاکستان بھیج کر والدین کے تقاضے پورے کرے تو وھاں اس کے بچے بیمار ھو جائیں تو کوئی اسپتال لے جانے کا روادار نہیں ھوتا ،، بیٹا پیارا ھے اور اس کی بیوی اور اولاد سے دشمنی ھے ،، بیٹا ذھنی مریض بن جاتا ھے والدین اس کا پاکستان ھیں اور اولاد اس کی ھندوستان بنا دی جاتی ھے جن کی خدمت کر کے وہ والدین کا غدار قرار پاتا ھے ،،

پاکستان جاتا ھے تو گھریلو سیاست سے ماحول کو آلودہ کر دیا جاتا ھے ،عین اس وقت جب کھانا لگ چکا ھے ، بچے بیٹھے ھوئے ھیں کہ بہن یا بھانجی کا فون آ جائے گا کہ کھانا ھمارے ساتھ کھانا ھے ، اور وہ بھی سب کچھ لگا لگایا بچوں کے سامنے پڑا رہ جاتا ھے اور وہ بھانجیوں کے ساتھ کھانے چلا جاتا ھے ،، بیوی اپنا سا منہ لے کر رہ جاتی ھے اور بہن بھائی کو گھر بلا کر بغلیں بجا رھی ھوتی ھے اور اس ڈھگے کو اس سیاست کی کوئی سمجھ نہیں لگتی ،، اس اولاد میں بھی پھوپھو اور چاچو اور دادا دادی کے خلاف نفرت بھرتی چلی جاتی ھے جو عموماً یہ سمجھا جاتا ھے کہ ان کی ماں بھرتی ھے جبکہ اصل میں باپ اور ددھیال کا رویہ ان میں زھر بھرتا ھے ،،

اب جب باری آتی ھے رشتے ناتوں کی تو پھر ایک دوسرے کے یہاں رشتے کرنے کا امکان ختم ھو چکا ھوتا ھے ،، اور دونوں فریق رشتے باھر ڈھونڈتے پھرتے ھیں ،، دادا دادی اپنی ھی اولاد کو ایک دوسرے کا اس قدر دشمن بنا دیتے ھیں اپنی سیاست کی وجہ سے کہ مزید رشتے داری ممکن ھی نہیں رھتی ، ھر فریق دوسرے سے بدکتا ھے کہ یہ میری بیٹی سے بدلے لے گا ،، اور ایک فریق کہتا ھے کہ انہوں نے پہلے میرا شوھر ورغلائے رکھا تھا اب میں بیٹا ان کو کیسے سونپ دوں ،،

الغرض پاکستان میں برادری سسٹم صرف شناختی کارڈ مین باقی ھے ،، عملی طور پر اپنا وجود کھو چکا ھے ،، کوئی مانے یا نہ مانے حقیقت یہی ھے ،،

15/05/2023

بابا ڏاڍو ڊپ ٿو لڳي
ابا پنجابي ۽ پٺاڻ تہ پنھنجي حقن خاطر وڙھن پيا ايئن نہ ٿئي جو.پاڻ وارا ٿڪل سنڌي پنجابين ۽ پٺاڻن کي ڏسي غيرت ڪري وجھن اُو پٽ ڏاڍو سادو ۽ اياڻو آھين ڪڏھن پينو قوم وڙھندي آھی ڇا ڪڏهن ٻڌو اٿئي ڪا تاريخ ۾ پينن وڙھي حق ورتا ھجن پُٽ تون پريشان نہ ٿئي مان سنڌي قوم کي اھڙو پروفيشنل اخلاقي پيناڪ بڻايو آھي جو صبح جو سوير اٿندي .ئي سنڌين جون مايون بينظير انڪم سپورٽ پروگرام آفيس تي پھچي وڃن ٿيون صبح جو سوير لوسي ڇوري لوفر ڊيوائيز واري وٽ پھچي ڇوري ڊوائيز واري کي چون ٿيون جلدي ڪر اسان جو ڪم ڪر تہ مو وارو مڙس انتظار ۾ آھي انھن جا غيرتي مڙس ڀائر شھپرن کي تيل ڏيئي ھُوٽل تي ويھي چانھ جا ڇسڪا وٺن ٿا ۽ بار بار پنھنجي زال کي فون ڪري پڇن ٿا ڏي خبر پئيسا مليا مائي فون تي چئي ٿي پئيسا تہ مليا آھن پر ڇورو ڊيوائيز وارو نٿو ڇڏي چئي ٿو ڪجھ وقت اڳيان ويھ ته توکي ڏسان ويٺو اڙي رن ڇوري کي چئو ٻئي ڀيري سوير ايندس ھاڻي ڇڏ مون وارو مڙس ھُوٽل تي ويٺو آھي ان کي پئيسا ڏيئان ته ُھوٽل جو بل ڀري پٽ دلجاء ڪر سنڌين کي مان اھڙي ڌنڌي سان لڳائي ڇڏيو آھي جو ھُو راشن خيرات ميلاد عرس ميلن ملاکڙن نيازن ۾ رڌل آھن ڪوبہ سنڌي قوم جي جاڳڻ جو فڪر نہ ڪر سنڌي ماڻھون ڪونہ جاڳندا اگر جاڳن تہ بينظير واري قسط جلدي جاري ڪندو رھجان ۽ جيئن ھُو سوير اٿندي ئي رني مردين قسط وٺڻ ۾ گھٽين ۾َٿڪون کائيندا رھن سمجھي ته ڪجھ جاڳڻ جي چرپر ڪن ٿا تہ جلدي ڏٽو ڏيئن تہ توھان جي لاء ٻيا پئيسا جلدي اچن ٿا...

Photos from Ishaq be darda's post 15/04/2023

💥اذكار : ) *لیلة القدرطاق راتوں) میں ان میں سے جو چاہیں جتنے چاہیں اذكار کر سکتی ہیں لیکن جو پڑھیں پوری توجہ سے سمجھ کے پڑھیں چاہے تھوڑے اذکار کر لیں لیکن سمجھ کر پڑھیے*

صحیح احادیث سے ثابت شدہ؛

ان تمام اذکار کی بڑی فضیلت ہے

♦️سُبْحَانَ اللّٰه
♦️اَلْحَمْدُ لِلّٰه
♦️اَللّٰهُ اَكْبَر
♦️لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰه
♦️لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلّٰا بِاللّٰه
♦️يَا ذَالْجَلَالِ وَ الْاِكْرَام
♦️سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم
♦️سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِهِ
♦️سُبْحَانَ اللّٰهِ الْعَظِيْم وَبِحَمْدِهِ
♦️اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ
♦️أَسْتَغْفِرُ اللّٰهُ دل سے
♦️اَسْتَغْفِرُاللّٰهَ الَّذِي لَآ إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ
♦️رَبِّ اغْفِرْ وَتُبْ عَلَىَّ اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَابُ الْغَفُوْر
♦️اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ عَفُوٌ (كَرِيْمٌ) تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
♦️أَللّٰهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰى نَبِيِّنَا مُحَمَّد
♦️اَللّٰهُمَّ صَلِّى عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰٓى اٰلِ مُحَمَّدٍ
♦️لَآ إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبۡحٰنَکَ إِنِّى كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ
♦️حَسْبُنَا/حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْل
♦️يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْثُ
♦️لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُٓ لَا شَرِيْكَ لَهُٓ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ
♦️سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَآ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اللّٰهُ أَكْبَر وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ الّٰهُمَّ اغْفِرْلِىْ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْنِىْ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِىْ
♦️درود إبراهيمی
♦️سُبْحَانَ اللّٰهِ وَ بِحَمْدِه عَدَدَ خَلْقِه وَرِضٰى نَفْسِه وَزِنَةَ عَرْشِه وَمِدَادَ كَلِمٰتِه
♦️سُبْحَانَ اللّٰهِ وَبِحَمْدِه ، سُبْحَانَ اللّٰهِ عَدَدَ خَلْقِه ، سُبْحَانَ اللّٰهِ رِضٰى نَفْسِه ، سُبْحَانَ اللّٰهِ زِنَةَ عَرْشِه ، سُبْحَانَ اللّٰهِ مِدَادَ كَلِمٰتِه
♦️ رات کے اذکار
♦️سورۃ الاخلاص
♦️سورۃ الملک ، سورة السجده
♦️سورۃ البقرہ کو آخری 2 آیات 1 بار
♦️سورۃ آل عمران کا آخری رکوع (1 بار)
♦️سورۃ الکھف کی پہلی 10 اور آخری 12 آیات (1 بار)
*قرآن زیادہ سے زیادہ*

❤️❤️ماہ رمضان کی 23 شب
سورہ رحمن 1 مرتبہ
سورہ یسین 1 مرتبہ

❤️❤️ماہ رمضان کی 23 شب
8 رکعت نماز 4 سلام کے ساتھ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر 1 مرتبہ سورہ اخلاص 1 مرتبہ پڑھے
بعد سلام کے 70 مرتبہ کلمہ تمجيد پڑھے

ماہ رمضان کی 23 شب

♥️♥️4 رکعت نماز 2 سلام کے ساتھ پڑھے ہی رکعت سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر 1 مرتبہ سورہ اخلاص 3 مرتبہ پڑھے

14/04/2023

*یہ دعا آج پڑھیں اور نقطوں کی جگہ اپنے بچوں کا نام لیں ...*

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اس دعا کے ساتھ ہم سب کے بچے اللہ کی حفاظت میں ہوں گے ۔

.....نقطوں کی جگہ اپنے بچوں کا نام لے کر دعا پڑہیں
سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم
سبحان الله ألحمدلله الله اكبر لا اله إلا الله
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد
يارب العالمين يا رحمان يا رحيم يا ذوالجلال والإكرام يا مالك القدوس
اے پروردگار.......کو اس حال میں مجھے عطا کیا جب میں بہت ناتواں تہی ،اسی لیے .......کو اپنے پناہ میں رکھنا کیوں کہ میں انکو پناہ دینے میں توانائی نہیں رکھتی ۔
يا عليمم بذات الصدور......کو ہر برائی ،شر اور نقصان سے محفوظ فرما۔

يا أرحم الراحمين ........کو ہر بیماری سے محفوظ فرما ۔

اے مہربان رب میرا امتحان اور آزمائش ........میں قرار نہ دینا ۔

يا ودود يا الله .........کو اپنی آشکار اور پنہاں آزمائشوں میں کامیاب فرما۔

اے رب کریم ......کو اپنے صالحین میں سے قرار دے ،اور .....کو دین و عبادت و اخلاق میں بہترین لوگوں میں سے اور زندگی میں سعادتمندوں میں سے مقرر فرما۔

يا رب العالمين.........کو حلال کے ذریعے حرام سے روک دینا اور فضل و کرم الہی سے اپنے سوا کسی کے محتاج نہ کرنا ۔

يا رب رحیم جس طرح اپنی کتاب پاک کی قیامت تک حفاظت کرنی ہے ........کو شیطان رجیم کے شر محفوظ رکھنا ۔

يا رب مہربان اپنے پاکیزہ ترین بندوں کے ساتھ دوستی اور قرب اور اپنی ذات پر توکل ........کو نصیب فرما ۔

ياحي ياقيوم وہ تمام بیماریاں جو روح و جسم کو نقصان پہنچاتی ہیں ........سے دور فرما ،اور اپنے ارادہ خیر کے ذریعہ مجھے توفیق فرما میں .......کے لیے بہترین امیدیں اور آرزوئیں کروں اور ان دعائوں کو قبول فرما
یا حنان و یا منان ۔

يا الله مجھ تک ........کا احسان اور نیکی میری اپنی زندگی میں مجھے نصیب فرما اور انکی دعاؤں کے ذریعے مجھے موت کے بعد خوشی اور سکون عطا فرما ۔

يا رب رحمان و رحیم میں اپنے بچوں کو جو میرے جگر کا ٹکڑا ہیں تیرے سپرد کرتی ہوں ،جس وقت وہ میری نظروں سے اوجھل ہیں تیری نگاہ کے سامنے ہیں ،انہیں اس عظمت کے ساتھ محفوظ فرما جو تیرے شان میں ہے ۔

ياسميع الدعاء سب والدین کی دعا اولاد کے حق میں قبول ہوتی ہے يا الله يا رحمان وہ جو میری زبان سے نہیں نکلا لیکن تیری حکمت و علم سے پوشیدہ نہیں ہے وہ عطا فرما
برحمتک یا ارحم الراحمین
اولاد کے لئے دل کی گہرائیوں سے نکلی دعا ❤️

اے الله میں تیرے صمد نام کے ساتھ ، تیرے عظمت والے نام کیے ساتھ دعا کرتی ہوں کہ اے رب کریم میری اولاد کے احوال کو درست فرما کر مجھ پر احسان فرما !

اے الله ! انکی عمر میں صحت و عافیت اور اپنی اطاعت و رضا کیساتھ برکت پیدا فرما دے ۔۔۔

اے الله! ا انکے ضعف اور مرض کو قوة اور شفا میں بدل دے !

یا رب !انکے بدن و کان و آنکھ و جان و اعضاء میں عافیت پیدا فرما !

اے اللہ ! اپنی رحمت سے انکی ہر بلا ، گناہ ،گمراہی اور غلطیوں سے حفاظت فرما !
اے الله ! انکو اپنا فرمانبردار بنا !

اے الله ! انکی تربیت کرنے میں،انکی نیکی میں اور انکو مؤَدب بنانے میں میری مدد فرما !

اے الله انکو میرے لئے خیر بنا دے !

اے الله ! میں اپنی اولاد کو تیری ضمانت و امانت میں دیتی ہوں،
اے وہ عظیم ذات کہ جو أمانت کو ضائع نہیں کرتا،
میں ہر آفت و ہر بری بیماری اور رات و دن کے شر اور ہر حاسد کی آنکھ کے شر سے حفاظت کا سوال کرتا ہوں ۔

اے الله ! انکی حفاظت فرمائیے سامنے سے ، پیچھے سے،دائیں سے، بائیں سے اور اوپر سے، اور نیچے سے !

اے الله ! میری اولاد کے دل میں اپنی محبت ڈال دے ۔اور انہیں اپنا اور اپنے پیارے حبیب کے فرمان حکام پر عمل کرنے والابنا لے

اے الله! ان کی آنکھ کو نامحرم کے دیکھنے سے، ان کے دل کو نامحرم کی محبت میں مبتلا ہونے سے بچا لیجیئے !

اے الله! میری اولاد کی محبت اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال دے، ان کیلئے دلوں کو مسخر فرما دے !

اے الله !میری اولاد کو دین و علم و اخلاق اور لوگوں کی محبت میں سے حصہ عطا فرما !

اے خالق کائنات ! ان کی توانائیوں ، صلاحیتوں، اوقات، مال اور رزق میں آپ کے دین کا حصہ ہو، دین کے دشمنوں کا کوئی حصہ نہ ہو۔

اے الله، میری اولاد کو دو جہاں میں کامیابی اور بلند مقام عطا فرما !

اے الله! انکو نیک بخت اور أتقیاء و أغنیاء اور أسخیاء و بردبار و علم والے اور نصیحت کرنیوالوں میں سے بنا دے !

آمین یا رب العالمین یا سمیع الدعوات
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد
تقبل الله منا ومنكم
آپ اپنی اولاد کیلئے ان مبارک دنوں میں دعا کیجیئے اور اس میسیج کو ہر ماں باپ تک پہنچا دیں یہاں تک کہ وہ اپنی اولاد کیلئے دعا کریں اور آپ اجر کمائیں۔۔۔
آپ روزانہ اپنی اولاد کیلئے دعا کریں سُستی مت کیجیئے اس حال میں کہ آپ پر یہ برکت والے ایام گزر جائیں ، بےشک ہم اور آپ اور ہر ماں باپ حاجتمند ہیں ۔۔۔❤️❤️❤️

10/04/2023

پيپلن جي اڳ ڄائي پيء زرداريء جي ڪرپشن کي يورپي نصاب ۾ شامل ٿيڻ تي مبارڪباد پيش ڪجي ٿي.

09/04/2023

پیشِ خدمت ہے ساحر صاحب کے قلم کا ایک اور شاہکار....

ظاہر اور باطن کے درمیان ایک فیصلہ کن جنگ اور .......دنیا کی حیرانی

ناول : بہروپ

مصنف: ساحر جمیل سید

قسط نمبر 2
•••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

تینوں افراد نے اپنے چہرے چھپا رکھے تھے اور تینوں ہی کے پاس پستول موجود تھے۔

"خدا کے لیے.... خدا کے لیے میری بچیوں کو کچھ مت کہو۔ چھوڑ دو انہیں تم .....تمہیں خدا رسول کا واسطہ ہے انہیں چھوڑ دو۔" اماں ہاتھ جوڑتے ہوۓ بری طرح گڑگڑا اٹھی تھیں ۔

"چھوڑ تو دیں مگر ..... ہم نہیں چاہتے کہ یہ شور مچائیں اور ہمارے ہاتھوں ماری جائیں۔" جس شخص نے حنا کو دبوچ رکھا تھا اس نے دانت کچکچاتے ہوۓ کہا۔

"نن.... نہیں شور مچائیں گی ... کوئی شور نہیں مچاۓ گا۔ تم چھوڑ دو انہیں۔ حنا، ہما! تم شور نہیں مچانا۔ تم لوگوں کو قرآن کا واسطہ ہے۔ میری بچیوں کو کچھ مت کہو، چھ....... چھوڑ دو نہیں۔“ اماں نے روتے ہوۓ کہا، وہ بری طرح حواس باختہ اور وحشت زدہ دکھائی دے رہی تھیں۔

"آواز نیچی رکھ۔" اماں کے قریب کھڑا شخص غرایا تھا۔

"چل تیرے کہنے پر چھوڑ دیتے ہیں لیکن اگر انہوں نے شور مچانے کی کوشش کی تو ہم گولی مار کر چپ کرائیں گے۔"

ان دو میں سے ایک نے جیسے دھمکی دی اور پھر انہوں نے ہما اور حنا کو چھوڑ دیا۔ آزاد ہوتے ہی دونوں بہنیں تڑپ کر ان سے دور ہٹیں اور روتے ہوۓ اماں کی طرف لپکی تھیں۔

"آواز نہیں۔"

"چپ کر جاؤ ۔" ان میں سے تیسرے بھیڑیے کی غراہٹ پر اماں نے فوراً انہیں رونے سے منع کرتے ہوۓ اپنی بانہوں میں سمیٹ لیا۔ وہ دونوں بہنیں یوں اماں کے بازوؤں میں آ کر دبک گئیں جیسے دنیا کی کسی محفوظ ترین پناہ گاہ میں پہنچ گئی ہوں ۔ دونوں کے وجود خزاں رسیدہ پتوں کی طرح لرز رہے تھے۔ ننھے ننھے دل سینوں میں یوں سہم کر رہ گئے تھے جیسے عقاب کو سر پر دیکھ کر چڑیا سہم جاتی ہے۔

"دیکھو، ہم ڈاکو ہیں۔ گھر میں جتنا کیش اور زیور ہے وہ شرافت اور سکون سے ہمارے حوالے کر دو تو ہم جیسے آۓ ہیں ویسے ہی چپ چاپ ....."ان میں سے ایک شخص ابھی بات ہی کر رہا تھا کہ اماں بے اختیار بول پڑیں۔

"لے جاو ......ادھر... نیچے والے ٹرنک میں ہے۔ زیور بھی اور پیسے بھی اور بھی جو لے جانا چاہتے ہو لے جاؤ۔ بس ہمیں بخش دو۔ ہمیں کچھ مت کہو ۔"

اماں نے ایک طرف اوپر نیچے رکھے ہوۓ لوہے کے تین ٹرنکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ اماں کی بات سن کر ان تینوں نے پہلے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر ان میں سے دو ٹرنکوں کی طرف بڑھ گئے، جبکہ ایک وہیں کھڑا رہا۔ اب تک تو بدحواسی میں اماں یہی خیال کر رہی تھیں کہ مچھل اور اس کے بدمعاش دوست دیوار پھاند کر ان کو بے آبرو اور رسوا کرنے کی نیت سے آن پہنچے ہیں، آج تک ان کے دل کو دھڑکا بھی اسی بات کا لگا رہا تھا۔ مگر اب اچانک جیسے انہیں احساس ہورہا تھا کہ یہ لوگ مچھل کے دوست وغیرہ نہیں ہیں۔

مچھر پہلوان، بٹ، خان، خالد نیازی اڈے والا، گلو اور استاد پپو کے علاوہ بھی مچھل کے جتنے یار دوست وہاں آتے جاتے تھے ۔ان سب کی آوازیں اور لب و لہجے اماں کو اچھی طرح ذہن نشین تھے۔ جبکہ ان تینوں افراد کی آوازیں ان کے لیے قطعی اجنبی اور سماعت نا آشا تھیں۔ یقینی طور پر وہ تینوں ڈاکو ہی تھے۔

مال، جان اور عزت سے زیادہ اہم تو ہوتا نہیں۔اسی لیے اماں نے انہیں اپنی برسوں کی جوڑی ہوئی جمع پونجی کی خبر دینے میں کسی حیل و حجت کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔

"یہ کیا... بس اتنا ہی!" صندوقوں کے پاس سے پلٹتے ہوۓ ایک ڈاکو کسی قدر مایوسی سے بولا۔ اس کے ہاتھ میں اماں کی اب تک کی ساری جمع پونجی دبی ہوئی تھی۔ انہوں نے صندوق کا سارا سامان تلپٹ کر مارا تھا اور ان میں سے ایک ساتھی اب دوسرے صندوقوں کی طرف متوجہ تھا۔
"میں بیوہ عورت ہوں، کمانے والا کوئی آدمی ہے نہیں۔ بس یہی تین تولے زیور اور چالیس ہزار کی رقم ہے گھر میں۔ یہ جمع کرنے میں بھی مجھے کئی سال لگے ہیں ،تم لوگ لے جاؤ ...... کوئی اور چیز لے جانا چاہتے ہو تو وہ بھی لے جاؤ ہمیں ... ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔"

اماں جیسے گھگیائی تھیں۔ ان کے قریب آ کر اس ڈاکو نے ہاتھ میں پکڑا ہوا زیور اور رقم پہلے سے وہاں کھڑے اپنے ساتھی کو تھما دی اور خود انتہائی سرد لہجے میں اماں سے مخاطب ہوا۔

" یہ مال کم ہے اور بتا کہاں کہاں چھپا رکھا ہے؟"

"اور کچھ نہیں ہے، یہ..... ہی کچھ ہے۔ بس دو چار سو روپیہ اس جگ میں پڑا ہوگا۔" اماں نے سامنے الماری میں دھرے ایک اسٹیل کے جگ کی طرف اشارہ کیا۔

"دیکھ مائی! سیدھی طرح سچ سچ بتا دے کہ اور مال کہاں رکھا ہے ورنہ تم مشکل میں آجاؤ گے۔“ وہ اماں کو گھورتے ہوئے خشک لہجے میں بولا ۔

"میں نے بالکل سچ کہا ہے۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ گھر میں بس یہی زیور اور یہی رقم ہے، بس
اور نہیں ہے۔"

وہ شخص پستول ہاتھ میں لیے کھڑا کچھ دیر اماں کو یک ٹک گھورے گیا، جیسے ان کے چہرے اور آنکھوں سے ان کے سچ جھوٹ کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا ہو۔ اماں کو اس کی آنکھوں سے خوف آرہا تھا۔ چند لمحے اماں کی آنکھوں میں جھانکتے رہنے کے بعد اس کی نظریں پہلے حنا کی طرف پھسلیں۔ پھر کچھ دیر کے لیے ہما پر ٹک گئیں۔ پھر وہ اپنے قریب کھڑے ساتھی سے مخاطب ہوا۔

"مال دولت کم نہیں ہے.....سونا سنگھار نہیں تو تھوڑی سی حسن کی دولت لوٹ لیتے ہیں۔ اس کی تو یہاں کوئی کمی نہیں ہے.... چل اس چھوٹی والی کو دوسرے کمرے میں لے چل! "اس نے ہما کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا تو اماں کی روح لرز کر رہ گئی، انہوں نے ہما اور حنا دونوں کو اپنی پوری قوت سے بازوؤں میں بھینچ لیا۔

"تمہیں تمہاری ماؤں بہنوں کا واسطہ۔ ہمیں کچھ مت کہو۔ میں نے خداکی قسم سچ کہا ہے۔ گھر میں اور زیور یا پیسا نہیں ہے۔ جو تھا اس کا خود تمہیں بتا دیا ہے۔ یہ لے جاؤ۔"
اماں نے بری طرح گڑگڑانا شروع کر دیا۔

”دیکھو! زیادہ چیں پاں کی تو عزت کے ساتھ ساتھ جان بھی جاۓ گی۔ لہذا بہتر یہی ہے کہ چپ چاپ تعاون کرو "

ان میں سے ایک نے آگے بڑھتے ہوئے اماں کو جیسے پچکارا اور ہما کو بازو سے پکڑ لیا۔ ہما کے منہ سے بے اختیار چیخ نکل گئی۔

"اوۓ! چپ... خبر دار جو آواز نکالی تو ۔" اس شخص نے دانت کچکچاتے ہوۓ ہما کے بال مٹھی میں دبوچے تو وہ مارے درد کے ایک بار پھر چیخ اٹھی۔ دوسرے ڈاکو نے فوراً آگے بڑھ کر ہما کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا۔ ہما، حنا اور اماں تینوں ایک دوسرے سے لپٹی دبی دبی آواز میں روۓ جارہی تھیں اور ان لوگوں کے منت ترلے کرتے ہوۓ ان کو طرح طرح کے واسطے بھی دے رہی تھیں۔ اسد بھی ہنوز اپنی جگہ خوفزدہ سا بیٹھا پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔ عالم نیند میں ہی ان سب پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔
ان کے حواس ٹھیک طرح بیدار ہونے سے پہلے ہی بری طرح خوف و گھبراہٹ کا شکار ہوکر رہ گئے تھے۔

"کیا کاں کاں لگوا رکھی ہے یار! ایک ایک گولی ان کے بھیجے میں اتارو اور قصہ پاک کرو۔" ان کے تیسرے ساتھی نے ایک صندوق کی تلاشی لیتے ہوۓ ان کی طرف گردن موڑ کر بیزاری سے کہا۔

"چل بھئی ! ان دونوں کو ٹھنڈا کر دے۔ اس کا فیصلہ بعد میں کریں گے۔ "

جس نے ہما کا بازو پکڑ رکھا تھا۔ اس نے اماں اور حنا کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ اپنے ساتھی کو مخاطب کیا اور ہما کو بازو سے پکڑ کر کھینچا۔

" چل ری! تو جینا چاہتی ہے تو آ میرے ساتھ .....اٹھ ۔“ اس نے جھٹکا دے کر ہما کو اماں کی بغل سے باہر کھینچ لیا۔

دونوں بہنوں سمیت اماں کا چہرہ بھی بالکل زرد پڑ گیا تھا۔ ہما کے وجود میں تو جیسے جان ہی نہیں تھی۔ اس کا سارا بدن کسی لاش کی طرح سرد ہورہا تھا۔

""خدا کے لیے ایسا ظلم مت کرو۔“ اماں جی جان سے تڑپ اٹھی تھیں۔ ”تمہیں خدا کا واسطہ ہے۔ بے شک ہم سب کو گولی مار دو مگر ایسا مت کرو... مت کرو۔“ اماں چار پائی سے کھسک کر ان ڈاکوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گئیں۔ ان کی حالت اتنی ابتر اور دگرگوں تھی کہ انہیں کچھ سجھائی ہی نہیں دے رہا تھا کہ ہما کو اس درندگی سے بچانے کے لیے کیا کریں اور کیا نہ کریں؟

غالباً رات کا آخری پہر تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں بے فکر پڑے گہری نیند سورہے تھے۔ باہر مکمل ہو کا عالم تھا۔ اس لیے انہیں کسی قسم کی بیرونی مدد کی بھی کوئی توقع نہیں تھی۔

" ککڑوں..... کڑوووں ۔ "رستم نے جیسے اپنے بیدار ہونے کا اعلان کیا تھا۔" علی....حیدر......"
اگلے ہی لمحے کمرے میں مچھل کی مخصوص بھاری اور پاٹ دار آواز گونجی اور سبھی کے سبھی بری طرح چونک پڑے۔ تینوں ڈاکو تو یوں اچھلے تھے جیسے ان کے قدموں میں کوئی بم پھٹ پڑا ہو۔ سبھی نے ایک ساتھ دروازے کی طرف دیکھا جہاں مچھل کھڑا اپنی موٹی موٹی آنکھوں سے ان سب کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے میلی سی شلوار پر ڈھیلی ڈھالی سی بنیان پہن رکھی تھی۔ دائیں ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی اور اپنا بایاں ہاتھ اس نے دروازے کی چوکھٹ پر یوں ٹکا رکھا تھا جیسے سہارا لیے کھڑا ہو۔ یقیناً وہ کچھ دیر پہلے ہما کے چیخنے کی آواز سن کر متوجہ ہوا ہوگا اور پھر رات کے اس پہر دبی گھٹی آوازوں اور اماں لوگوں کی سسکیوں سے صورت حال کے متعلق مشکوک ہونے کے بعد دیوار پھلانگ کر ادھر چلا آیا تھا۔

""یہ بالکل غلط بات ہے بھئی!" مچھل نے ناک سکیٹرتے ہوۓ جیسے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔ ”اپنی روزی روٹی کو بھول کر تم لوگ منہ کالا کرنے کے چکر میں پڑ گئے ہو۔ کوئی خاندانی ڈاکو تو ایسی کمینی حرکت نہیں کر سکتا۔"

"خدا کے لیے ہم پر رحم کرو۔ ہمیں بخش دو۔ "اماں پھر سے گڑگڑائیں مگر اس بار وہ کسی سے مخاطب نہیں تھیں۔
تینوں ڈاکو جو مچھل کے بلند آہنگ نعرے سے گڑ بڑا گئے تھے وہ بھی سنبھل گئے۔

"اوۓ! چل یہاں منہ کے بل لیٹ ..... "اماں کے قریب کھڑا ایک ڈاکو مچھل کو گالی دیتے ہوۓ اس کی طرف بڑھا۔ وہ مچھل پر اپنا مخصوص حربہ استعمال کرنے کی نیت رکھتا تھا کہ دو چار الٹی سیدھی ٹکا کر آنے والے کو بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ میں مبتلا کر کے قابو کر لیا جاۓ۔ مگر مچھل نے جیسے فوراً ہی اس کا ارادہ بھانپ لیا۔ وہ خود ہی ایک قدم کمرے کے اندر آ گیا۔

"اوۓ کھوتے کے پتر! کوئی عقل کو ہتھ مار “ مچھل نے بوتل والا ہاتھ اس کی طرف اٹھاتے ہوۓ کھردرے لہجے میں کہا تو وہ دوسرے ہی قدم پر ٹھٹک کر رک گیا۔

"اپنی ماں کے یار کو دوبارہ گالی بکی تو یہیں لٹا ماروں گا...... (نا قابل اشاعت)کو۔"

اماں لوگ اور وہ دونوں ڈاکو مچھل کے سامنے قدرے دائیں ہاتھ پانچ چھ قدم کے فاصلے پر تھے جبکہ تیسرا ڈاکو مچھل کے بائیں ہاتھ تقریبا چار قدم کے فاصلے پر موجود تھا۔ تینوں کے ہاتھوں میں پکڑے ہوۓ پستولوں کا رخ مچھل ہی کی طرف تھا مگر وہ کمرے کے دروازے کے سامنے یوں پر سکون اور بے فکری سے کھڑا تھا جیسے اسے ڈاکوؤں یا ان کے ہاتھوں میں پکڑے ہوۓ پستولوں کی ایک ذرا بھی پروانہ ہو۔

اس کی یہی بے خوفی اور بے پروائی ان تینوں کو تذبذب میں مبتلا کر گئی۔ تینوں کے ذہن میں ایک ہی خیال آیا تھا کہ یہ بندہ نشے میں اس حد تک دھت ہے کہ اس کے حواس ہی سن ہوئے پڑے ہیں اور یقیناً اسی باعث یہ صورت حال کی سنگینی کو سمجھنے کی حالت میں نہیں ہے۔

"میری بچیوں کو کچھ مت کہو، تمہیں خدا رسول کا واسطہ ہے ۔" اماں سسک رہی تھیں ۔

""ہاتھ گردن پر رکھ کر منہ کے بل لیٹ جا۔ "اسی ڈاکو نے پستول کا اشارہ کرتے ہوۓ غراہٹ آمیز لہجے میں کہا۔

"کدھر؟" مچھل نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی۔

” "یہیں زمین پر لیٹ جا۔"

"تو بادشاہو! پہلے یہاں کوئی چٹائی شٹائی تو بچھاؤ۔“

مچھل نے جیسے فرمائش کی تو ڈاکو کچھ مزید کرخت لہجے میں بولا۔ "جو کہہ رہا ہوں وہ چپ چاپ کر ورنہ ماتھے میں سوراخ بنادوں گا۔"

"میری بچی کو چھوڑ دو ۔ "اماں اس ڈاکو سے مخاطب ہوکر گھگیائیں جو ہما کو بازو سے پکڑے کھڑا تھا۔"تمہاری اپنی بھی کوئی بہن ہوگی ۔تمہیں تمہاری اسی بہن کا واسطہ ہے میری بیٹی کو چھوڑ دو....تم یہ زیور اور پیسے لے جاؤ مگر میری بچی کو بخش دو ۔" اماں کو صرف ایک ہی پریشانی، ایک ہی خوف تھا۔وہ جیسے صرف عزت و آبرو کے تحفظ کا اطمینان چاہتی تھیں۔

"او چاچی! تو تو چپ کر یار!"مچھل نے اماں کی طرف دیکھتے ہوۓ انتہائی بیزاری سے کہا۔ ”دیکھ بھی رہی ہے کہ کوئی تیری بات سن ہی نہیں رہا پھر بھی کھپ ڈالے جارہی ہے۔ اب ذرا کچھ دیر کے لیے تو اپنا یہ ریڈیو بند کر اور ہم لوگوں کو بات کرنے دے۔“ پھر وہ دوسرے ڈاکو سے مخاطب ہوا۔ "اپنے اس نطفے کو کچھ سمجھا..... مجھے لگتا ہے کہ اس کی نظر کچھ کمزور ہے۔ اسے یہ....."مچھل نے اپنی مونچھوں کی طرف اشارہ کیا۔"یہ نظر نہیں آرہیں اسے..... اس بھوتنی کے بچے کو بتا کہ اس کے سامنے مرد کھڑا ہے....عورت نہیں۔"

آج سے پہلے ان لوگوں کا ایسی صورت حال سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا۔ مزاحمت کا سامنا تو انہوں نے پہلے بھی کئی بار کیا تھا۔ مگر مچھل کا انداز اور اس کے تیور کچھ الگ ہی تھے۔ اس کا اعتماد اور بے فکری ان کے لیے قطعی غیر متوقع اور تقریبا نا قابل یقین ہی تھی۔ اسی باعث اس کے سامنے کے رخ کھڑے دونوں ڈاکو ہی ایک عجیب سے مخمصے میں پھنس گئے تھے۔ البتہ اس کے بائیں ہاتھ کھڑا ڈاکو اچانک ہی لپک کر اس کے قریب پہنچ گیا۔ بائیں ہاتھ سے اس نے پستول کی نال مچھل کی ٹھوڑی سے لگائی اور دائیں ہاتھ کا ایک بھر پور تھپڑ اس کی گدی میں جماتے ہوۓ غرایا۔" تیری ...... لیٹ نیچے..... لیٹ۔"

تھپڑ پر مچھل نے ایک ذرا آگے کو جھول کھایا اور ساتھ ہی اپنا بایاں ہاتھ اس ڈاکو کے پستول پر ڈالتے ہوۓ دائیں ہاتھ میں پکڑی ہوئی شراب کی بوتل اس زور سے اس کے سر پر ماری کہ بوتل کے ٹکڑے چاروں طرف بکھر گئے۔ ڈاکو کے منہ سے ایک کربناک چیخ خارج ہوئی اور وہ دونوں ہاتھوں سے سر پکڑتے ہوۓ بے اختیار نیچے بیٹھتا چلا گیا۔ اس کا پستول مچھل ہی کے ہاتھ میں رہ گیا تھا۔ مچھل نے ہاتھ میں رہ جانے والی بوتل کی گردن ایک طرف پھینکی اور پستول اپنے سیدھے ہاتھ میں کرلیا۔ ٹھیک اسی لمحے کمرے میں یکے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے۔ اماں لوگوں کی بے ساختہ چیخیں نکلیں اور مچھل کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کے سینے کے عین پیچ اور پسلیوں میں دو گرم اور دہکتی ہوئی سلاخیں گھسیڑ دی ہوں۔ سنبھلنے کی لاکھ کوشش کے باوجود وہ لڑکھڑا کر دروازے کے بائیں طرف دیوار کے ساتھ قطار میں رکھی ہوئی کرسیوں سے ٹکرایا اور نیچے سر پکڑے بیٹھے ڈاکو ہی پر ڈھیر ہو گیا۔پستول مچھل کے ہاتھ میں آتے دیکھ کر باقی دونوں ڈاکو بری طرح گھبرا گئے تھے اور اسی گھبراہٹ میں ان میں سے ایک نے مچھل پر فائر کر دیے تھے۔ اس کے بعد وہ دونوں ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بنا دروازے کی طرف لپکے۔
ان کا تیسرا ساتھی بھی فائرز کی آواز پر جیسے فورا ہی اپنی ساری تکلیف بھول گیا۔ مچھل کے خود پر گرتے ہی وہ اسے دھکیلتا ہوا تڑپ کر ایک طرف ہٹا اور اٹھ کر دروازے کی طرف دوڑ پڑا۔ مچھل نے بھی اٹھنے میں دیر نہیں لگائی تھی۔ مگر اتنی دیر میں دو ڈاکو تو باہر نکل چکے تھے۔ البتہ پھٹے سر والا ابھی دروازے ہی میں تھا کہ مچھل نے فائر کر دیا۔ گولی اس ڈاکو کی گردن کی ہڈی کو توڑتی ہوئی پار ہوگئی۔ وہ باہر نکلتے ہوۓ دروازے سے ٹکرایا اور برآمدے کے فرش پر گر کر تڑپنے لگا۔
ہما پھر سے اماں کی بغل میں دبک چکی تھی۔ مچھل انہیں اور ان کی چیخوں کو نظر انداز کرتا ہوا چیتے کی سی پھرتی سے دروازے میں آپہنچا۔ باقی دونوں ڈاکو بیرونی دروازے کے قریب پہنچ چکے تھے۔مچھل نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر ان پر فائر کھول دیا۔ یکے بعد دیگرے اس نے پورا میگزین خالی کر دیا۔ ایک ڈاکو بیرونی دروازے سے دو قدم ادھر ہی ڈھیر ہوا تھا۔ جبکہ دوسرا دروازہ کھول کر باہر نکلنے ہی والا تھا کہ اس کی کمر میں ایک ساتھ تین انگارے اترتے چلے گئے اور وہ منہ کے بل دھڑام سے باہر گلی میں جا گرا۔
اس کے گرتے ہی مچھل کی سکڑی ہوئی بھویں ڈھیلی پڑ گئیں۔ جبڑوں کی سختی کم ہوئی اور تکلیف کی شدت سے بھینچے ہوۓ ہونٹوں پر ایک فتح مندانہ سی مسکراہٹ دوڑ گئی۔ اس نے اس خیال سے اپنے اندر اطمینان سا پھیلتا ہوا محسوس کیا کہ چلو اگر مر رہا ہوں تو مردوں کی طرح تین کو مار کر مر رہا ہوں۔ کسی ایک بھی کتے کوزندہ بچ کر تو نہیں جانے دیا نا!
اس نے ایک گہرا سانس لینا چاہا تو سینے اور پسلیوں میں گڑی ہوئی سلاخوں کو جیسے کسی نے ایک جھٹکے سے بل دیا۔ تکلیف کی نا قابل برداشت لہروں نے اس کی ٹانگوں کو کپکپا دیا۔ اسے خطرہ محسوس ہوا کہ میں لڑکھڑا کر گر پڑوں گا۔ ہاتھ سے دروازے کا سہارا لیا تو سینے اور پسلیوں میں پھر سے بجلیاں سی تڑپ اٹھیں۔ ٹانگوں کی بڑھتی ہوئی لرزش نے اسے احساس دلا یا کہ اب ایک قدم بھی آگے پیچھے کرنا ممکن نہیں۔ اس نے دروازے کے ساتھ اپنی کمر لگائی اور آہستہ آہستہ وہیں دروازے کے بیچ ٹانگیں پسار کر بیٹھتا چلا گیا۔

ہما، حنا اور اماں تینوں ایک دوسرے سے لپٹی خوف و دہشت سے پھٹی پھٹی آنکھوں کے ساتھ مچھل ہی کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ جس کے سینے اور پسلیوں سے بھل بھل خون بہہ رہا تھا اور چہرے پر شدید تکلیف کے آثار پھیلے ہوۓ تھے۔ اس کے چہرے پر سمٹ آنے والی سرخی اور پسینے کی نمی بتا رہی تھی کہ وہ اس وقت برداشت کے پل صراط سے گزر رہا ہے۔
اس کی نظر اماں لوگوں پر پڑی تو اسے یوں محسوس ہوا جیسے ان تینوں کی آنکھوں میں خوف اور وحشت کے ساتھ ساتھ کچھ حیرت اور بے یقینی بھی کسمسا رہی ہے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک مضمحل سی مسکراہٹ تڑپ کر رہ گئی ۔ پھر شاید اس نے کچھ بولنا چاہا تھا مگر منہ کھولا تو منہ سے خون ابل پڑا۔ اس نے منہ میں بھر آنے والا خون ایک طرف تھوکتے ہوۓ کلائی کی مدد سے ہونٹ پونچھے پھر اماں کو اشارے سے سمجھایا کہ بے فکر ہوجاؤ۔ تینوں مارے گئے ہیں۔ اماں کے ساتھ ساتھ حنا اور ہما بھی بخوبی اس کی بات سمجھ گئی تھیں۔ اس نے ایک بار پھر خون تھوکا اور اماں کو اشارے سے اپنے قریب آنے کو کہا۔اماں فوراً ہی اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھیں جبکہ حنا اور ہما نے جا کر اپنے ڈرے سہمے بھائی کو لپٹا لیا۔ دروازے کے ساتھ ہی اس طرف برآمدے میں ایک ڈاکو کی لاش پڑی تھی۔ دوسری لاش بیرونی دروازے کے قریب تھی اور تیسرے کا بے جان وجود باہر گلی میں دروازے کے بالکل سامنے پڑا دکھائی دے رہا تھا۔
صورت حال کی موجودہ تبدیلی نے اماں کو جیسے گنگ کر کے رکھ دیا تھا۔ عزت کے دشمن تینوں ڈاکو مردہ پڑے تھے اور مچھل ...... جس کے حوالے سے اماں کو ہمیشہ یہ خدشہ لاحق رہا تھا کہ یہ بدمعاش کسی دن عزتوں کا لٹیرا بن کر دیوار نہ پھلانگ آۓ۔ وہ آج دیوار پھلانگ آیا تھا مگر لٹیرا بن کر نہیں ..... محافظ بن کر...... رحمت کا ایک فرشتہ اور خدا کی طرف سے ان کے لیے غیبی مدد بن کر ...... اماں کے لیے جیسے خدا کی اس کارسازی پر یقین کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ اب سے چند گھنٹے پہلے تک جسے وہ دنیا کا بدترین انسان اور اپنی بچیوں کی عزت و آبرو کے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتی آئی تھیں، وہی شخص ..... اس وقت ان کی عزت و ناموس پر اپنی جان قربان کیے بیٹھا تھا اور اماں کی نظر میں وہ یک بہ یک ہی جیسے شیطان سے ایک
فرشتے کی سی حیثیت اختیار کر گیا تھا۔ اماں انتہائی عجیب اور متضاد احساسات کا شکار تھیں۔
سب اناّ فاناّ ہی تو ہو گزرا تھا! اب وہ مچھل کے قریب آ کر بیٹھ تو گئی تھیں مگر فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم تھیں کہ فی الوقت، فوری طور پر انہیں کیا کہنا یا کرنا چاہیے؟

"پولیس آۓ گی۔ "مچھل بولا تو اس کے منہ سے سانس کے ساتھ خون کا ایک باریک سا غبار خارج ہوا۔ "ساری کہانی ..... صاف، صاف بیان کک.. کردینا۔ گھبرانا شبهرانا بالکل نہیں۔ ہاں ...... کچھ دن پریشانی کا سامنا تو.....کرنا پڑے گا مگر تو پرے ... پریشان مت ہوتا۔ بعد میں پھر سکون ہی.....سکون ۔“ اس نے خون تھوکا اور چہرے پر ایک مجروح سی مسکراہٹ سمیٹتے ہوۓ دھیمی آواز میں بولا ۔

”میرا کانٹا بھی نکل گیا۔ اب ..... پڑوس والے کنجر خانے سے بھی تیری جان چھوٹ گئی۔"

"مم....منصور بیٹا!“ اماں سے کوئی بات نہیں بن پائی۔ اندر سے آنسوؤں کا ایک گولا سا اٹھا اور ان کے حلق میں آ گھلا۔

"اوبس چاچی! ره..... رہنے دے۔" مچھل نے جلدی سے کہا پھر کلائی رگڑ کر ہونٹ پونچے اور دوبارہ بولا۔ "کچھ مت کہہ، مجھے معلوم ہے کہ... سب میرے متعلق.... کیا راۓ رکھتے ہیں! مجھے کسی کی پر...... پروا نہیں ہے۔ لوگوں کو مم....... میں برا اور بد...... بدمعاش لگتا ہوں تو ٹھیک ہے ۔بد.....معاش ہی سہی، مگر چا..... چی! یہ بدمعاش بے..... غیرت نہیں ہے۔ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ رانا من... منصور نواز نے محلے کی کسی بہن بیٹی کو کبھی مے..... میلی آنکھ سے دے...." اچانک ہی پھر اسے منہ بھر خون کی قے آئی اور اس کی حالت مزید ابتر ہوگئی۔ چہرے پر شدید اذیت کے تاثرات اور پورے وجود پر تشنج کی سی کیفیت اتر آئی۔ اماں کا دل اچانک ہی بری طرح متلانے لگا اور وہ فوراً ہی اٹھ کر پیچھے ہٹ گئیں، مچھل پر کچھ دیر تک لرزہ طاری رہا پھر اس کے ہاتھ پیر ڈھیلے پڑتے چلے گئے اور مزید کچھ ہی دیر بعد وہ بے حس و حرکت ہو چکا تھا۔
وہ..... جس کی موت کے لیے وہ ایک عرصہ خدا کے حضور دن رات دعائیں مانگتی آئی تھیں۔ وہ اس وقت ان کے سامنے مردہ حالت میں پڑا تھا اور اماں اس کی موت پر خوش ہونے کے بجائے الٹا اداس اور ملول کھڑی تھیں۔
مچھل کے والدین کا خیال آجانے پر وہ ہمیشہ حیرت سے سوچا کرتی تھیں کہ ٹھیک ہے ماحول اور دوست اچھے
نہیں ملے لیکن دودھ اور خون کی اپنی بھی تو ایک تاثیر ہوتی ہے ..... وہ مچھل میں کبھی محسوس کیوں نہیں ہوئی.... آج انہیں پوری شدتوں سے یہ احساس ہورہا تھا کہ شاید اس خون اور دودھ کو کبھی ڈھنگ سے اپنا رنگ دکھانے کا موقع ہی میسر نہیں آیا تھا، یا پھر وہ تاثیر ایک عرصہ مچھل کی ذات کے اندر کہیں گہرائیوں میں خوابیدہ رہنے کے بعد آج اچانک اور بالکل بر وقت موقع پر تڑپ کر بیدار ہو آئی تھی۔

"کوئی نہیں کہہ سکتا کہ رانا منصور نواز نے محلے کی کسی بہن، بیٹی کو کبھی میلی آنکھ سے دیکھا ہے۔"

اماں کا لاشعور خود سے مچھل کے ادھورے جملے کو مکمل کر کے سوچے جارہا تھا کہ واقعی یہ بات تو کبھی کسی نے نہیں کہی تھی..... یہ بات تو وہ خود بھی نہیں کہہ سکتی تھیں ۔ ککڑوں ..... کڑوں۔ رستم اپنے مالک کو پکار رہا تھا، مگر وہ اس کی پکار سننے یا اس کی پکار کا جواب دینے کی حد سے بہت دور جا چکا تھا..... ہمیشہ ہمیشہ کے لیے! اس لمحے جیسے اماں پر حقیقی معنوں میں بدمعاش اور بدکردار کا فرق واضح ہوا کہ مچھل بہ باطن بدکردار نہیں، صاحب کردار تھا اور پھر ان کی آنکھیں جھلملا اٹھیں ۔
••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••

آج اس بھیانک اور اجل خیز رات کو سات سال گزر چکے ہیں۔ ہما اور حنا کی شادیاں ہوچکی ہیں اور وہ دونوں اپنے اپنے گھر میں شاد ہیں۔ ہما کے دو بیٹے ہیں اور حنا کی ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہے۔
اسد ایف۔ایس سی کرنے کے بعد پولیس میں بہ طور اے۔ ایس آئی ملازم ہو گیا تھا اور آج کل اماں اس کا گھر بسانے کی فکر میں تھیں۔ رانا منصور نواز عرف مچھل علاقے کے لوگوں کے لیے ایک قصہ پارینہ بن چکا۔ شاید ہی کبھی کسی کو اس کا خیال آتا ہو۔ البتہ اسد ، ہما، حنا اور اماں کو نہ تو کبھی وہ دہشت ناک رات بھول سکی اور نا ہی مچھل۔

"ایسے ہی موت آنی ہوتی تو رانا کب کا مر گیا ہوتا۔ میں کچھ کر کے مروں گا.....کوئی بڑا کارنامہ.....ایسے نہیں مرتا میں...."

مچھل کے یہ الفاظ اکثر اماں کے کانوں میں گونجتے ہیں اور انہیں یاد دلاتے رہتے ہیں کہ وہ واقعی اتنا بڑا کارنامہ....ان پر اتنا بڑا احسان کر کے مرا ہے کہ جس کا بدلہ و ہ کسی صورت ،کبھی نہیں چکا پائیں گی۔۔

ختم شد

#خانزادہ

••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••••
اپنی رائے کا اظہار کریں شکریہ♥️

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi