07/09/2025
LӨvє iƧ мY Lifє
You are the sun in my day, the wind in my sky, the waves in my ocean, and the beat in my heart. All my dreams came true the day that I met you. I Love You!
ℓovє is a ϝєєℓiηg тнaт мaкєs μr нєaят siηg ωнєтнєя μ aяє ϝaя oя ηєaя iт is ℓiкє ωнisρєяiηg iη мy єaя. ωнєη μ ϝiηძ тяuє ℓovє iт is soмєтнiηg μ кєєρ ωiтнiη μя нєaят You are the sunshine of my life! Thanks for brightening my world with the warmth of your Love... You are the fire that burns the passion within my soul. I love You with all my heart... I want to be your arms, I want to feel your touch, I want your lips on mine, I need you very much. Loving You Is My Life. www.FB.com/LoveIzMyLife
07/09/2025
Male or Female Driver?
مجھے بچے کے لیے ایک سائیکل خریدنی تھی۔ سرگودھا سائیکل مارکیٹ گیا تو ایک مشہور دکان پر رکا۔ رش زیادہ تھا، اپنی باری کا انتظار کرنے لگا۔
اسی دوران ایک والد اپنے بیٹے کے لیے سائیکل لے رہا تھا۔ بیٹے کو جو سائیکل پسند تھی وہ باپ کی قوتِ خرید سے بہت زیادہ تھی، بچہ ضد کر رہا تھا اور مان نہیں رہا تھا۔ والد نے نہ جانے کان میں کیا کہا کہ بچہ اچانک خاموش ہوگیا۔ پھر دوسری سائیکل لی اور دونوں چلے گئے۔
میں نے اپنی سائیکل طے کی اور نماز کے لیے چلا گیا۔ کچھ دیگر کام نمٹا کر جب دو گھنٹے بعد واپس آیا تو وہی شخص دوبارہ سائیکل سمیت دکان پر کھڑا تھا۔
وہ ساٸیکل واپس کرنا چاہتاتھا لیکن دوکاندار کا سیل مین واپس نہیں کررہاتھا۔ بلکہ انتہاٸ کرخت لب و لہجے میں اسے بری طرح دھتکار رہاتھا۔ وہ منتیں کررہاتھا لیکن سیل مین نہیں مان رہا تھا، اسکے لہجے کی بےبسی مجھے کھٹک رہی تھی۔
میں آگے بڑھا، اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔ قریب ہی پانی کا کولر رکھا تھا، اسے پانی پلایا اور پوچھا: "بھائی! سائیکل کیوں واپس کرنا چاہتے ہو؟"
بے بسی کا بوجھ شاید بہت دیر سے دبا ہوا تھا، ضبط نہ رہ سکا۔ اس نے رومال آنکھوں پر رکھ کر زار و قطار رونا شروع کردیا۔
کچھ دیر بعد بولا:
"مولوی صاحب! اصل میں بیوی کے چیک اپ کے لیے آیا تھا۔ بچے سے وعدہ تھا کہ سرگودھا جاؤں گا تو سائیکل ضرور دلاؤں گا۔ آج خرید بھی لی۔ مگر ہسپتال پہنچا تو بیوی کے ٹیسٹ اکیس ہزار کے نکلے۔ میرے پاس صرف اٹھارہ ہزار ہیں۔ تیس ہزار قرض لے کر آیا تھا، اگر سائیکل واپس نہ ہوئی تو بیوی کے علاج کے پیسے بھی نہیں بچیں گے۔"
میں نے اسے حوصلہ دیا اور دوکان کے اصل مالک کےپاس گیا۔ جانے سے پہلے درود شریف کا ہدیہ انہیں کردیا تھا۔
سلام کیا تو وہ مسکرا کر بولے: "جی مولانا! بس آپ کی سائیکل تیار ہو رہی ہے، ادھر پنکھے کے سامنے بیٹھ جائیں۔"
میں قریب ہوکر آہستہ سے بولا:
"محترم! جنت برائے فروخت ہے، خریدنا چاہیں گے؟"
وہ چونک کر بولے: "مولانا! کچھ سمجھا نہیں۔"
میں نے کہا:
"بزرگوں سے ایک واقعہ سنا ہے۔ ایک شخص نے دکان بنائی۔ کچھ دن تک کاروبار کرتے رہے۔ ایک دن ایک گاہک خریدا ہوا سامان واپس لے آیا۔ انہوں نے خوشی خوشی سامان واپس لیا اور رقم لوٹائی۔ پھر دکان بند کرنے لگے۔
لوگوں نے پوچھا: کیوں؟
انہوں نے نظریں جھکا کر کہا:
میں نے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سنا تھا کہ: "جو شخص کسی مسلمان کا سودا واپس کر دے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی لغزش معاف فرما دے گا۔"
میں نے دکان اسی نیت سے کھولی تھی۔ آج وہ موقع مل گیا، اب دکان کی ضرورت نہیں۔"
محترم یہی موقع آج آپکے پاس ہے، اس شخص سے ساٸیکل واپس لے لیجیے اور جنت خرید لیجیے۔ اور یہ بھی جان لیں کہ اس بچارے کی بیوی بیمار ہے، اسکے ٹیسٹوں کیلیے پیسے کم پڑگٸے تھے،، تبھی وہ بیچارہ آپکے پاس آیا ہے، کچھ ترس کھاٸیے اس مجبور پر“
یہ سن کر دکاندار کے چہرے پر پسینہ آگیا۔ گھبرا کر بولے: "کیا واقعی بیوی بیمار ہے؟"
میں نے ہاں میں سر ہلایا تو انہوں نے دراز کھولی، پندرہ ہزار نکال کر مجھے دیے اور کہا:
"مولانا! میں بہت شرمندہ ہوں۔ کاش پہلے پتہ چلتا کہ وہ اتنا مجبور ہے۔ میری بیوی فوت ہوۓ سات ماہ ہوگٸے، بیوی کتنی بڑی نعمت ہے، چند دنوں میں ہی جان گیا ہوں،اللہ تعالیٰ ساتھ کبھی کسی کا نہ توڑے، یہ گیارہ ہزار سائیکل کے اور باقی میری طرف سے۔ آپ اسے دے دیجیے۔"
میں نے سائیکل واپس کروائی، اپنی طرف سے بھی کچھ رقم ملائی اور اس شخص کو جاکر رقم دے دی۔ وہ شخص آنسو بھری آنکھوں سے دعائیں دینے لگا۔ بڑی مشکل سے اسے رخصت کیا اور پھر دکان پر لوٹ آیا۔
احبابِ گرامی!
جنت کمانے کے مواقع ہمارے اردگرد بکھرے ہوئے ہیں، مگر ہم اکثر ان پر توجہ نہیں دیتے۔ خصوصاً کاروباری حضرات کے پاس ایسے مواقع زیادہ ہوتے ہیں۔ خوش اخلاقی، نرمی، اور گاہک کی خوشی کے لیے خریدا ہوا مال واپس کر دینا، یہ معمولی بات نہیں۔ بلکہ یہ جنت کمانے کا ذریعہ ہے۔
آئیے! ایسے مواقع کی تلاش میں رہیں، خود بھی فائدہ اٹھائیں اور دوسروں کو بھی اس کی نصیحت کریں۔
..منقول...
Like Share Follow comment
20/08/2025
مرا بچھڑا رانجھن موڑ سجن
مجھے چاہ نہ کوئی اور سجن
میں نے اوڑھا رنگ سیاہ فقط
دئے کنگن چوڑی توڑ سجن
میں نے تجھ سے سچا عشق کیا
دی ساری دنیا چھوڑ سجن
تری یاد سے باہر نکلوں میں
مجھے آ کر یوں جھنجھوڑ سجن
میں ہر درگاہ پہ جاؤں گی
ہو سندھ ہو یا لاہور سجن
کوئی دھاگا تجھ سے جوڑے تو
منت کی باندھوں ڈور سجن
چل مجھ سے عشق دوبارہ کر
چل پھر سے ناتا جوڑ سجن
چل نام نہ دے اک شام ہی دے
مری بات پہ کر کچھ غور سجن
تو نے مانگا ہجر جدائی بس
کچھ مانگ کے تکتا اور سجن
مرا جرم محبت ہے سائیں
میں ہوں زندہ درگور سجن
تجھے میری بات کا مان نہیں
جا رہنے دے بس چھوڑ سجن
کیوں ہرجائی کو یاد کرے
چل چھوڑ کنولؔ بس چھوڑ سجن
کنول ملک ✍
08/08/2025
لوگ کہتے ہیں کسی کا بچھڑ جانا بہت بڑا دُکھ ہے۔۔۔
میں کہتا ہوں کہ کسی ایسے کا ملنا جو آپ کا ہوتے ہوئے بھی دوسرا کا بھی ہوجائے، اُس سے بھی بڑا دُکھ ہے ۔ کوئی نہ ملے تو شاید صبر آ جاتا ہے لیکن اپنی محبت، اپنی ذات کی ناقدری پر کبھی صبر نہیں آتا—
دل کو بہلانے کو لاکھ حیلے بہانے ڈھونڈ لو اس تڑپ کا کوئی سکون نہیں ہے —
کاش کوئی یہ سمجھ پاتا کہ وہ اچھے بھلے انسان کو کیسے نفسیاتی بنا دیتا ہے۔
کاش فلموں ڈراموں کی طرح حقیقی زندگی میں بھی لوگوں کو احساس ہوتا ، لوگ معافی مانگتے، سب کُچھ ٹھیک ہوجاتا۔۔۔
لیکن اصل زندگی میں نہ کوئی پچھتاتا ہے نہ آپ کی قدر کرتا ہے—-
08/08/2025
" عورت کے سینسز اِتنے تیز ہوتے ہیں کہ ؛ وہ نظر ، نیت اور بدلتے لہجے پہچان لیتی ہے ،
دراصل وہ دھوکہ اُس وقت کھاتی ہے جب وہ خود کو دھوکہ دے رہی ہوتی ہے!✨
اگر کوئی آپ کو چھوڑ کے خوش ہے۔۔۔
تو خود سے لڑنا چھوڑ دیں۔۔۔۔
خود بھی خوش رہیں ۔۔
اسے بھی خوش رہنے دیں ۔۔
زبردستی اچھی نہی ہوتی میری جان۔
۔۔۔
09/07/2025
صبح ہی صبح میاں بیوی کا خوب جھگڑا ہو گیا، بیگم صاحبہ غضبناک ہو کر بولیں... "بس، بہت کر لیا برداشت، اب میں مزید ایک منٹ بھی تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی"
میاں جی بھی طیش میں تھے... بولے...
"میں بھی تمہاری شکل دیکھ دیکھ کر تنگ آ چکا ہوں... دفتر سے واپس آوں تو مجھے نظر نہ آنا گھر میں... اٹھاو اپنا ٹین ڈبّا اور نِکلو یہاں سے"... میاں جی غصے میں ہی دفتر چلے گئے...
بیگم صاحبہ نے اپنی ماں کو فون کیا اور بتایا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بچوں سمیت میکے واپس آ رہی ہے... اب مزید نہیں رہ سکتی اس جہنم میں... ماں نے کہا "بندے کی پتر بن کے آرام سے وہیں بیٹھ، تیری بڑی بہن بھی اپنے میاں سے لڑ کر آئی تھی، اور اسی ضد میں طلاق لے کر بیٹھی ہوئی ہے، اب تو نے وہی ڈرامہ شروع کر دیا ہے.. خبردار جو ادھر قدم بھی رکھا تو.... صلح کر لے میاں سے... اب وہ اتنا بُرا بھی نہیں ہے"... ماں نے لال جھنڈی دکھائی تو بیگم صاحبہ کے ہوش ٹھکانے آئے اور وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں... جب رو کر تھکیں تو دل ہلکا ہو چکا تھا... میاں کے ساتھ لڑائی کا سین سوچا تو اپنی بھی کافی غلطیاں نظر آئیں...
منہ ہاتھ دھو کر فریش ہوئی اور میاں کی پسند کی ڈش بنانی شروع کر دی... اور ساتھ سپیشل کھیر بھی بنا لی... سوچا شام کو میاں جی سے معافی مانگ لوں گی، اپنا گھر پھر بھی اپنا ہی ہوتا ہے...
شام کو میاں جی گھر آئے تو بیگم نے ان کا اچھے طریقے سے استقبال کیا... جیسے صبح کچھ بھی نہ ہوا ہو...
میاں جی کو بھی خوشگوار حیرت ہوئی...
کھانا کھانے کے بعد میاں جی جب کھیر کھا رہے تھے تو بولے
"بیگم، کبھی کبھار میں بھی زیادتی کر جاتا ہوں.. تم دل پر مت لیا کرو، بندہ بشر ہوں، غصہ آ ہی جاتا ہے"....
میاں جی بیگم کے شکر گزار ہو رہے تھے... اور بیگم صاحبہ دل ہی دل میں اپنی ماں کو دعائیں دے رہی تھی ...ورنہ تو جذباتی فیصلے نے گھر تباہ کر دینا تھا...!!
سبق: اگر والدین اپنی شادی شدہ اولاد کی ہر جائز ناجائز بات کو سپورٹ کرنا بند کر دیں تو 90فیصد بگڑنے والے رشتے بچ جاتے ہیں۔
21/05/2025
گرمیاں اب ویسی نہیں رہیں جیسے پہلے ہوا کرتی تھیں۔
ایک وقت تھا جب گرمی کی شدت محسوس ہی نہیں ہوتی تھی۔
دن میں اسکول جاتے تھے، وہاں صرف پنکھے ہوتے تھے،لیکن کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہاں اے سی بھی ہونا چاہیے۔
گھر آ کر ٹیوشن جانا ہوتا،
وہاں گرم زمین پر پانی ڈالا جاتا،
چٹائی بچھائی جاتی اور ہم وہیں بیٹھ جاتے۔
سامنے ایک پیڈسٹل فین چل رہا ہوتا،
جب کبھی روٹیشن پہ سامنے آتا تو ہوا لگ جاتی.
پھر گھر آکر رات کو صبح سے تپے ہوئے فرش پر پانی ڈال کر کولر لگا لیتے،
سامنے قطار میں سب کی چارپائیاں لگی ہوتیں۔
پہلی چارپائی پر سونے کے لیے بہن بھائیوں میں لڑائی ہوتی۔
رات کو آسمان کے تارے دیکھتے دیکھتے نیند آ جاتی۔
کبھی آنکھ کھلتی تو آسمان پر جہاز کی روشنی نظر آتی،
یا کسی ٹوٹتے ہوئے ستارے کی چمک —
اور پھر صبح ہو جاتی۔
تب کبھی محسوس نہیں ہوتا تھا کہ شور ہے تو سائلنٹ روم ہونا چاہیے،
گرمی ہے تو اے سی چاہیے،
صبح روشنی ہوتی ہے تو بلائنڈرز چاہئیں۔
وقت بدل گیا ہے۔
اب نہ روزانہ فرش ٹھنڈا کرنا پڑتا ہے،
نہ چارپائی نکالنی، نہ بستر بچھانا،
نہ کولر میں پانی ڈالنا، نہ رات میں پینے کے لیے ٹھنڈا پانی بھر کے رکھنے کی ضرورت رہی۔
ہر صبح ان سب چیزوں کو سمیٹنے کا تکلف بھی نہیں رہا۔
اب سونے کے لیے ٹھنڈا کمرہ ہے،
بلائنڈرز ہیں،
خاموشی ہے،
اب اے سی کے سامنے سونے کے لیے لڑنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔
مگر اب نہ وہ نیند ہے،
نہ وہ بےفکری،
نہ وہ گھر ہے،
اور نہ وہ لوگ۔
اب گرمی میں وہ ٹھنڈک نہیں، جو پہلے دل کو محسوس ہوتی تھی۔"
کہنے کو تو ہم بہت کچھ حاصل کر چکے ہیں،
ہماری لائف اسٹائل کمفرٹیبل ہو گیا ہے۔
لیکن کیا واقعی ہم نے کچھ پایا ہے؟
21/05/2025
جب میں نے پہلی بار Ivan Pavlov کا تجربہ پڑھا، تو ایسا لگا جیسے کسی نے میرے دماغ کے دروازے پر ایک گھنٹی بجا دی ہو۔ بطور ایک نفسیات کے طالبعلم، بہت سے نظریے پڑھنے کو ملتے ہیں، لیکن پاولوو کا تجربہ کچھ الگ ہی تھا۔
پاولوو نے یہ دیکھا کہ جب بھی کتے کو کھانا دیا جاتا، وہ خود بخود رال ٹپکانے لگتا تھا، یہ ایک قدرتی ردِعمل تھا۔ لیکن پاولوو نے تجربہ کرتے ہوئے ہر بار کھانے سے پہلے ایک گھنٹی بجانی شروع کی۔ کچھ دنوں بعد، کتے نے صرف گھنٹی کی آواز سن کر بھی رال ٹپکانا شروع کر دی، چاہے کھانا سامنے موجود نہ ہو۔
یہ تھی classical conditioning، یعنی ایک غیر متعلقہ آواز (گھنٹی) کو ایک قدرتی ردِعمل (رال ٹپکنے) سے جوڑ دینا۔ یوں دماغ نے سیکھ لیا کہ "گھنٹی کا مطلب ہے کھانا"، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں تھا۔
اب یہاں سے ایک حیرت انگیز سوال جنم لیتا ہے: کیا ہم انسان بھی ایسی ہی "گھنٹیوں" کے غلام ہیں؟ کیا ہماری خوشی کسی مخصوص آواز، چہرے یا جگہ سے جڑی ہوئی ہے؟ کیا ہمارا غصہ، خوف، یا اعتماد کسی انجانی conditioning کا نتیجہ ہے؟ ہم روزمرہ کی زندگی میں جانے انجانے کتنے ردِعمل ایسے دیتے ہیں جو دراصل سیکھے ہوئے ہوتے ہیں، نہ کہ فطری۔
پاولوو کا تجربہ مجھے ہر بار یہ یاد دلاتا ہے کہ انسان ایک ریموٹ کنٹرول کی طرح ہے، بس فرق یہ ہے کہ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں نہیں بلکہ ہماری اپنی یادداشتوں، تجربوں، اور عادتوں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن سب سے امید افزا بات یہ ہے کہ اگر رویے سیکھے جا سکتے ہیں، تو انہیں بدلا بھی جا سکتا ہے۔ ہم اپنے اندر کی "گھنٹیوں" کو پہچان کر، نئے سگنلز سے خود کو دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں۔ شاید یہی خود شناسی کا پہلا قدم ہے، اپنی conditioning کو سمجھنا، اور پھر خود کو نئی روشنی میں دیکھنا۔
21/05/2025
جب ایک نر ڈولفن جال میں پھنسی مادہ کے لئے مدد مانگنے پہنچا:
افسانوی شہرت کے حامل اٹلی کے غوطہ خور "انزو میالیورکا" سسلی کے قریب سیراکوسا کے ساحل پر غوطہ خوری کی مشق کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی "روسانا" بھی تھی، جو کشتی پر ہی رکی ہوئی تھی۔
اچانک پانی کے اندر انزو کو اپنی پشت پر ایک نرم سا لمس محسوس ہوا۔ جب انہوں نے پلٹ کر دیکھا تو ایک ڈولفن سامنے تھی، مگر وہ کھیلنے کے لیے نہیں آئی تھی بلکہ وہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی۔
ڈولفن نیچے کی طرف غوطہ لگاتی گئی، اور انزو اس کے پیچھے پیچھے گیا۔ قریب پندرہ میٹر گہرائی میں ایک اور ڈولفن پھنسی ہوئی تھی، جو ایک پرانے مچھلی پکڑنے والی جال میں الجھ چکی تھی اور زندگی کی جنگ لڑ رہی تھی۔
انزو نے فوراً اپنی بیٹی کو آواز دی کہ وہ غوطہ خوری کا چاقو دے، اور اس نے جلدی سے جال کاٹ کر ڈولفن کو آزاد کر دیا۔ وہ ڈولفن اتنی نڈھال ہو چکی تھی کہ ڈوبنے کے قریب تھی، اور ایک چیخ نکالی ایک ایسی چیخ جو انزو کے مطابق تقریباً انسانی لگ رہی تھی۔
ڈولفن زیادہ سے زیادہ دس منٹ تک سانس روک سکتی ہے، اور یوں وہ اپنی آخری حد پر تھی۔ انزو اور اس کی بیٹی نے مل کر اسے پانی کی سطح تک پہنچایا۔
سطح پر پہنچنے کے فوراً بعد یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ وہ ڈولفن حاملہ تھی، اور کچھ ہی دیر بعد اس نے ایک ننھے بچے کو جنم دیا۔ تب اسکا ساتھی ڈولفن جو غالباً جوڑے کا نر تھا جس نے مدد کے لئے انزو کو بلایا تھا، پانی میں ان کے گرد تیرنے لگا۔
پھر اس نے انزو کی طرف بڑھ کر اس کے گال کو چھوا جیسے شکرگزاری سے بوسہ دے رہا ہو، اور پھر وہ اپنی ننھی سی فیملی کے ساتھ سمندر کی وسعتوں میں گم ہو گیا۔
اس واقعے کے بعد انزو نے سوچ میں ڈوب کر کہا:
"جب تک انسان فطرت کا احترام کرنا اور جانوروں کی زبان سمجھنا نہیں سیکھے گا، وہ زمین پر اپنا اصل مقام کبھی نہیں جان پائے گا۔"
یہ واقعہ ہمیں فطرت کی ذہانت اور ہماری اس ذمہ داری کی یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اسے بچانا ہے، سنبھالنا ہے۔
ترجمہ طاہر راجپوت
تصویر میں انزو اور اسکی بیٹی
20/05/2025
اگر آپ نے روسی ادب نہیں پڑھا تو پھر آپ نے ادب پڑھا ہی نہیں۔۔۔۔ اس کی بار بار میں مثالیں دیتا رہتا ہوں اور آج پھر سے ایک مثال پیش کر رہا ہوں ۔۔۔
یہ عالمی ادب کی تاریخ کی سب سے حیرت انگیز مختصر کہانیوں میں سے ایک ہے، روسی مصنف انتون چیخوف کے نام:
کچھ دن پہلے مجھے اپنے آفس روم میں بلایا گیا، جہاں میرے بچوں کی نینی (یولیا واسیلیونا) اپنا حساب چکانے آئی تھی۔
میں نے اس سے کہا:
"بیٹھو، یولیا... آؤ، حساب کتاب کر لیتے ہیں۔ تمہیں اکثر پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن تم اتنی شرمیلی ہو کہ خود نہیں مانگتی۔ خیر، ہم نے ماہانہ تیس روبل طے کیے تھے۔"
یولیا نے کہا:
"چالیس۔"
میں نے کہا:
"نہیں، تیس... میرے پاس ریکارڈ موجود ہے۔ میں ہمیشہ نینی کو تیس روبل ہی دیتا ہوں۔"
اس نے کہا:
"ٹھیک ہے۔"
میں نے پوچھا:
"ہم نے کتنے مہینے کام کیا؟"
یولیا نے جواب دیا:
"دو مہینے اور پانچ دن۔"
میں نے کہا:
"ٹھیک ہے، دو مہینے۔ میرے پاس یہی درج ہے، تو تم ساٹھ روبل کی حق دار ہو۔ لیکن ہم اتوار کے نو دن منہا کریں گے، کیونکہ تم نے ان دنوں میں کولیا کو نہیں پڑھایا، بس اس کے ساتھ رہی تھیں۔ پھر تین دن کی چھٹی بھی لیں۔"
یولیا واسیلیونا کا چہرہ زرد پڑ گیا، اور اس کی انگلیاں کپڑوں میں الجھنے لگیں، مگر اس نے کوئی شکایت نہ کی۔
میں نے مزید کہا:
"ہم تین چھٹیوں کے بارہ روبل کم کرتے ہیں۔ کولیا چار دن بیمار تھا، تو تم نے صرف فاریہ کو پڑھایا، اس کے سات روبل اور کم ہوئے۔ پھر تین دن تمہارے دانت میں درد تھا، تو میری بیوی نے تمہیں دوپہر کے بعد پڑھانے دیا، اس کے بھی بارہ روبل کم۔ تو کل انیس کم کر کے باقی اکتالیس روبل بنتے ہیں، ٹھیک؟"
یولیا واسیلیونا کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں، اس کی ٹھوڑی کانپنے لگی، مگر وہ اب بھی خاموش رہی۔
میں نے مزید حساب لگایا:
"نئے سال سے پہلے تم نے ایک کپ اور پلیٹ توڑ دی، اس کے لیے چھ روبل کاٹنے ہوں گے۔ پھر، کولیا نے تمہاری لاپرواہی کے سبب درخت پر چڑھ کر اپنی جیکٹ پھاڑ لی، اس کے دس روبل کم۔ نوکرانی نے ایک جوتا چوری کر لیا اور یہ سب کچھ دیکھنا تمہاری ذمہ داری تھی، تو اس کے پانچ روبل اور کم۔ اور 10 جنوری کو تم نے مجھ سے دس روبل ادھار لیے تھے۔"
یولیا واسیلیونا نے سرگوشی کی:
"میں نے نہیں لیے تھے۔"
میں نے کہا:
"مگر میرے پاس ریکارڈ میں لکھا ہے۔"
وہ بولی:
"ٹھیک ہے، جیسا آپ کہیں۔"
میں نے حساب مکمل کیا:
"اکتالیس سے ستائیس کم کریں تو باقی چودہ روبل بچتے ہیں۔"
یولیا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اس کی لمبی خوبصورت ناک پر پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔
اس نے ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا:
"میں نے صرف ایک بار تین روبل ادھار لیے تھے، اس سے زیادہ نہیں۔"
میں نے چونک کر کہا:
"واقعی؟ میں نے تو یہ ریکارڈ میں نہیں لکھا! تو چودہ میں سے تین نکال کر گیارہ بچتے ہیں۔ لو، یہ لو تمہارے گیارہ روبل!"
میں نے سکے اس کی ہتھیلی پر رکھ دیے۔ اس نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے انہیں جیب میں ڈال لیا اور آہستہ سے کہا:
"شکریہ۔"
مجھے غصہ آ گیا۔ میں نے پوچھا:
"کس چیز کا شکریہ؟"
اس نے جواب دیا:
"پیسوں کا۔"
میں نے کہا:
"لیکن میں نے تو تمہیں دھوکہ دیا، تم سے لوٹ مار کی، تمہارا حق مارا! اور تم پھر بھی شکریہ ادا کر رہی ہو؟"
اس نے کہا:
"دوسری جگہوں پر تو کچھ بھی نہیں ملتا۔"
میں نے حیرت سے کہا:
"کیا؟ تمہیں کچھ بھی نہیں دیا جاتا؟ کمال ہے! میں تو تم سے مذاق کر رہا تھا، تمہیں سبق سکھا رہا تھا! یہ لو، تمہارے اصل اسی روبل، جو میں نے تمہارے لیے لفافے میں رکھے تھے!"
میں نے رقم اس کے حوالے کی اور مزید کہا:
"لیکن کیا تم اتنی بے بس ہو؟ تم نے احتجاج کیوں نہیں کیا؟ تم خاموش کیوں رہیں؟ کیا دنیا میں ایسا ممکن ہے کہ تم اپنا حق مانگنے سے بھی قاصر ہو؟ کیا تم واقعی اتنی بے بس ہو؟"
یولیا نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"ہاں، ایسا ممکن ہے۔"
میں نے اسے بغور دیکھا، پھر سوچنے لگا: کتنا دردناک ہے اس دنیا میں کمزور ہونا!
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Www. Fb. Com/loveizmylife
Karachi
71000
