24/04/2026
On April 24, we observe the International Day of Multilateralism and Diplomacy for Peace — a reminder that understanding, cooperation, and respect are the foundations of a peaceful world.
At GGELS Rehmowali, Ghotki, we instill these same values in our classrooms every day. Our students learn to listen with empathy, respect diverse perspectives, and work together to find solutions. These small lessons shape responsible citizens and future leaders.
Peace doesn’t begin in global forums — it begins in classrooms, in conversations, and within each of us.
23/04/2026
A School Specific Budget (SSB) Awareness Workshop was successfully held on April 22, 2026, by the Directorate of School Education (ES&HS/Primary), Shaheed Benazir Abad Division in collaboration with the PDF Wing of SELD.
The session brought together key education officials and stakeholders to strengthen understanding of effective, transparent, and accountable utilization of school-level funds. A comprehensive briefing highlighted SSB frameworks, compliance requirements, and best practices for timely and efficient financial management.
An engaging interactive session allowed participants to raise field-level challenges, which were addressed in detail, ensuring clarity, confidence, and improved implementation at the grassroots level.
The workshop reaffirmed SELD’s commitment to transparency, good governance, and improved service delivery, emphasizing collective responsibility to enhance school infrastructure and learning environments across Sindh.
23/04/2026
— اساتذہ بھرتیوں کے ویٹنگ امیدواروں پر سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس، ون ٹائم موقع، دوبارہ ٹیسٹ اور عمر میں رعایت سمیت مختلف تجاویز زیر غور —
کراچی (23 اپریل 2026) سندھ میں اساتذہ بھرتیوں کے مرحلے میں ویٹنگ امیدواروں کے معاملے پر قائم سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا پہلا اجلاس سندھ اسمبلی کے اسپیکر سید اویس قادر شاہ کی زیر صدارت بطور چیئرمین منعقد ہوا۔ اجلاس میں ویٹنگ امیدواروں سے متعلق مختلف تجاویز اور آئندہ لائحہ عمل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جبکہ فیصلہ کیا گیا کہ اگلے اجلاس میں حتمی سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
اجلاس میں ویٹنگ امیدواروں کو ایک بار دوبارہ یا ون ٹائم موقع دینے، دوبارہ ٹیسٹ لینے، عمر کی حد میں رعایت دینے اور آئندہ ہونے والی تمام اساتذہ بھرتیوں کو پارلیمانی کمیٹی کی نگرانی میں کرانے جیسے مختلف آپشنز پر غور کیا گیا۔
خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا لنجار، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی، رکن سندھ اسمبلی جمیل سومرو، ایم پی اے محمد شبیر قریشی، وزیراعلیٰ سندھ کی معاون خصوصی ایم پی اے تنزیلہ ام حبیبہ، ایم پی اے محمد راشد خان اور دیگر اراکین کے علاوہ سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی اور دیگر افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے اساتذہ بھرتیوں، خالی آسامیوں، ویٹنگ امیدواروں اور مستقبل کی پالیسی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ سندھ میں 2019 کے دوران تقریباً 50 ہزار اساتذہ کی خالی آسامیاں سامنے آئیں۔ ریٹائرمنٹ اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے بڑھتے رجحان کے پیش نظر بھرتیوں کے عمل کا دورانیہ بڑھایا گیا، جبکہ 2022 میں بڑے پیمانے پر بھرتیوں کا عمل شروع کیا گیا۔ جون 2025 تک سندھ بھر میں 95 ہزار سے زائد اساتذہ کو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر بھرتی کیا گیا، جسے قومی سطح پر ایک بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔
اسپیکر سندھ اسمبلی سید اویس قادر شاہ نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں شفاف اور میرٹ پر اساتذہ کی بھرتیاں سندھ حکومت کا تاریخی اقدام ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرٹ، شفافیت اور تعلیمی بہتری کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا اور کمیٹی کے سامنے پیش کیے گئے تمام ڈیٹا کا تکنیکی جائزہ لیا جائے گا۔
وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے تجویز دی کہ آئندہ تمام اساتذہ بھرتیوں کے مراحل بھی پارلیمانی کمیٹی کی نگرانی میں ہونے چاہییں تاکہ ضرورت، شفافیت اور میرٹ کو مستقبل میں بھی یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کی بہتری ایک اجتماعی ذمہ داری ہے، سندھ اسمبلی جو کہ سندھ کے عوام کی نمائندگی کا فورم ہے اس کے نمائندوں کی شمولیت اس عمل کو مزید مضبوط بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس روایت کے قائم ہونے سے تعلیم کو صرف آج نہیں بلکہ مستقبل کے لیے بھی محفوظ بنانا ہوگا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ اساتذہ کی بھرتیاں 6 مراحل میں مکمل کی گئیں اور ٹیسٹ پاس امیدواروں کو تعلقہ سطح پر تعینات کیا گیا تاکہ دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ تاہم ہارڈ ایریاز میں کم پاسنگ شرح کے باعث متعدد آسامیاں اب بھی خالی ہیں۔ کمیٹی نے او ایم آر اور ای ایم آر پر مبنی شفاف ٹیسٹنگ سسٹم کو سراہا۔
وزیر قانون و پارلیمانی امور ضیا لنجار نے کہا کہ تمام فیصلے قانونی دائرہ کار اور پالیسی فریم ورک کے اندر رہ کر کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ امیدوار تنظیموں کے احتجاج کے سبب عوامی مشکلات سے بچنے کے لیے معاملے کا مستقل اور متوازن حل ضروری ہے، جبکہ نوجوانوں اور نئے گریجویٹس کے لیے مساوی مواقع بھی برقرار رکھنا ہوں گے، انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو اب نئی مواقع کی امید کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
اجلاس میں ویٹنگ امیدواروں کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے اس امکان کا جائزہ لیا کہ طویل عرصے سے انتظار کرنے والے امیدواروں کو جون 2026-27 تک ایک آخری یا ون ٹائم موقع دیا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ تجویز بھی زیر غور آئی کہ پرانے نتائج پر غیر معینہ مدت تک انحصار کے بجائے امیدواروں سے دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے۔ اجلاس میں ویٹنگ لسٹ کے لیے واضح ٹائم فریم مقرر کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ نئے امیدواروں اور فریش گریجویٹس کے لیے بھی مواقع برقرار رہیں۔
رکن سندھ اسمبلی جمیل سومرو، جن کی درخواست پر پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی، نے کہا کہ کئی امیدوار برسوں سے انتظار کر رہے ہیں، اس لیے معاملے کو انسانی ہمدردی، معاشرتی مسائل اور عمر کی حد ختم ہونے والے امیدواروں کے حالات کو مدنظر رکھ کر دیکھا جانا چاہیے۔ ایم پی اے محمد شبیر قریشی نے تجویز دی کہ ویٹنگ امیدواروں کو دوبارہ ٹیسٹ کا موقع دینا بھی ایک مؤثر آپشن ہو سکتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا کہ سندھ میں اتنی بڑی تعداد میں میرٹ پر بھرتیوں سے سرکاری اسکولوں کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور تعلیم کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کا مؤقف یکساں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ ارلی چائلڈ ہڈ ٹیچرز اور سائنس ٹیچرز کے ٹیسٹ میں مناسب گنجائش اور رعایت کا پہلو بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ اساتذہ کی کمی دور کرنے کے ساتھ نئے امیدواروں کو پہلے کی طرح ٹیسٹ کرائٹیریا میں رعایت دینے کے ساتھ انصاف کے تقاضے بھی پورے کیے جا سکیں۔
اجلاس میں اس بات کو بھی سراہا گیا کہ 32 ہزار سے زائد خواتین امیدواروں کی پاسنگ شرح نمایاں رہی، پاکستان میں پہلی بار خواتین کو اتنی بڑی تعداد میں روزگار کا موقع ملا، جبکہ اوپن میرٹ، خواتین، اقلیتی اور معذور کوٹہ کے تحت حکومتی پالیسی کے مطابق شفاف بھرتیوں کا عمل مکمل کیا گیا۔ کمیٹی نے زور دیا کہ مستقبل کی بھرتیوں میں اسٹوڈنٹ ٹیچر ریشو (STR) کو مدنظر رکھتے ہوئے اساتذہ کی ضرورت اور ویکنسی ریشنلائزیشن کا جائزہ لیا جائے۔
کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں آئی بی اے سکھر کے تحت ہونے والے ٹیسٹ سے متعلق تمام ریکارڈ، مواد اور ڈیٹا کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، جبکہ ای سی ٹی اور سائنس ٹیچرز کی 55 فیصد تھریش ہولڈ میں نرمی کے معاملے پر بھی تجاویز زیر غور لائی جائیں گی۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ تمام سفارشات کو میرٹ، شفافیت، قانونی تقاضوں اور منظور شدہ پالیسی کے مطابق حتمی شکل دی جائے گی۔
23/04/2026
اسکول اسپیسفک بجٹ اقدامات: مسائل کی نشاندہی اور اس حل کے حوالے سے محکمہ فنانس نے 34 ہزار سے زائد نامزد ڈی ڈی اوز کی تصدیق کردی اسکول سربراہان اب بجٹ استعمال کرنے لیے اسکول کی ضروریات کے مطابق معاملات حل کر سکتے ہیں۔
23/04/2026
The important topic “Movement of Shah Waliullah” was effectively taught to Grade 10 students in Pakistan Studies at GBHS Karoondi, Taluka Faiz Ganj, District Khairpur Mirs through a multimedia digital board. Modern teaching techniques, including visual presentations and interactive discussions, were used to enhance students’ understanding and keep them actively engaged throughout the lesson.
This initiative reflects our commitment to promoting digital learning and improving educational standards through innovative teaching methods.
23/04/2026
Our enthusiastic Nursery students from the Government Adopted School Kiran Foundation DCTO Campus, Lyari enjoyed a joyful and educational field trip to the Karachi Zoo. It was a memorable day filled with curiosity, excitement, and hands-on learning beyond the classroom.
Our little learners explored a variety of animals and experienced the beauty of nature up close. Their eyes sparkled with wonder as they connected classroom concepts with real-world observations, making learning truly come alive.
Kiran Foundation DCTO Campus