Kitab aor Kahani

Kitab aor Kahani

Share

Achi achi Kitaben aor mazedar kahanian

31/05/2026

یہ دعا بہت پیاری ہے اِسے سکون سے پڑھیں اور دل میں آمین کہیں اور اسے دوسروں تک پہنچائیں. ھو سکتا ہے کہ دوسرے لوگوں کی آمین سے اپنی دعا قبول ھو جائے(آمین)😰😭
⚡اے اللہ رب العزت
💧اے ساری کائنات کے شہنشاہ
💧اے ساری مخلوق کے پالنے والے
💧اے زندگی موت کا فیصلہ کرنےوالے
💧اے آسمانوں اور زمینوں کے مالک
💧اے پہاڑوں اور سمندروں کے مالک
💧اے انسانوں اور جناتوں کے معبود
💧اے عرشِ اعظم کے مالک
💧اے فرشتوں کے معبود
💧اے عزت اور ذلت کے مالک
💧اے بیماروں کو شِفا دینے والے
💧اے بادشاہوں کے بادشاہ
💧اے اللہ ہم تیرے گناہگار بندے ہیں
💧تیرے خطاکار بندے ہیں
💦ہمارے گناہوں کو معاف فرما🙏🙏
💦ہماری خطاؤں کو معاف فرما🙏
💦اے اللہ ہم اپنے اگلےپچھلے،صغیرہ کبیرہ سبھی گناہوں،خطاؤں اور نافرمانیوں کی معافی مانگتے ہیں🙏🙏
💦اے اللہ رب العزت ہم اپنے گناہوں سے توبہ کرتے ہیں ہماری توبہ قبول فرما
💦اے اللہ ہم گناہگار ہیں،سیاہ کار ہیں،بدکار ہیں تیرے احکام کے نافرمان ہیں،ناشُکرے ہیں لیکن میرے معبود تیرے نام لیوا بندے ہیں، تیری توحید کی گواہی دیتے ہیں.
💦تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے
💦تیرے سوا کوئی بندگی کے لائق نہیں ہے
💦تیرے سوا کوئی تعریف کے لائق نہیں ہے
💦ہمارے معبود ہمارے گناہ تیری رحمت سے بڑے نہیں ہیں
💦تو اپنی رحمت سے ہمارے گناہ معاف کر دے🙏🙏🙏
💦اے اللہ پاک ہمیں گمراہی کے راستے سے ہٹا کر صراط المستقیم کے راستے پہ چلنے والا بنا دے
💦اے اللہ ایسی نماز پڑھنے کی توفیق عطا کر جس نماز سے تو راضی ہو جائے
💦زندگی میں ایسے نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کر جن اعمالوں سے تو راضی ہو جائے
💦ہمیں ایسی زندگی گزارنے کی توفیق عطا کر جس زندگی سے تو راضی ہو جائے
💦ایمان پہ زندہ رکھ اور ایمان پہ ہی موت عطا کر
💦اے اللہ ہمیں تیرے احکام کی فرمابرداری کرنے والا بنا
💦اور تیرے پیارے حبیب جنابِ محمد رسول اللہ(صلی للہ علیہ وآلہ وسلم) کے نیک اور پاکیزہ آداب کو اپنانے والا بنا دے
💦اے اللہ ہماری پریشانیوں کو دور کر دے
💦اے اللہ جو بیمار ہیں اُنہیں شفاءکاملہ عطا فرما
💦اے اللہ جو قرض کے بوجھ تلے دبے ھوئے ہیں اُنکا قرض جلد سے جلد ادا کروا دے
💦اے رب العزت شیطان سے ہماری حفاظت فرما
💦اے اللہ اسلام کے دشمنوں کو ہدایت عطا فرما
💦اے اللہ حلال رزق کمانے کی توفیق عطا فرما
💦اے پروردگارِ عالم ہمیں تُجھ سے مانگنا نہیں آتا لیکن تجھے دینا آتا ہے تو ھر چیز پہ قادر ہے
💦اے اللہ جو مانگا وہ بھی عطا فرما اور جو مانگنے سے رِہ گیا وہ ب ھی عنائت فرما
💦ہماری دعا اپنے رحم سے اپنے کرم سے قبول فرما اور جس نے یہ دعا بھیجی ہے اور اِسے آگے بڑھا رہا ہے اُسکی ساری پریشانیوں،تکلیفوں اور بیماریوں کو دور فرما اور صحت تندرستی عطا كر: یہ دُعا پوری ضرور پڑھیں
"اے میرے پروردگار اپنےپیارےمحبوب حضرت محمدﷺ کے صدقے پوری دُنیا میں جتنے لوگ وفات پا چُکے ہیں اُن کی مغفرت فرما، اُنہیں قبر کے عذاب سے بچا۔ جو بیمار ہیں یا پریشان ہیں تُو اُن کو اپنے کرم سے معاف فرما اور اُن کی بیماری اور پریشانیوں کو دُور فرما۔"
اے میرےالله اپنے پیارے حبیبﷺ کے صدقے جس نے مجھے یہ دُعا بھیجی ہے اُس کے تمام گُناہوں کو معاف فرما اور ہر کام میں کامیابی عطا فرما اور اُس کا نَصیب کھول دے۔ اٰمئین!
اپنے لئے ضرور دُعا کرؤایں نجانے کس کی زبان سے آپ کی تقدیر کھول جائے۔
نوٹ: آج کے دِن اگر یہ دُعا آگے شير نہ کر سکیں تو واپس مجھے ہی بھیج دیں۔

30/05/2026

*راجستھان کی ریت پر ایک نام ایسا بھی تھا جسے سن کر شامیں جلدی ڈھلنے لگتی تھیں۔*
ماں اپنے بچوں کو خاموش کرانے کے لیے اس کا نام لیتی، قافلے راستہ بدل لیتے، اور رات کے مسافر دعائیں پڑھتے ہوئے سفر کرتے تھے۔ وہ ایک خطرناک ڈاکو تھا۔ اتنا خوفناک کہ خود ریاست کے سپاہی بھی اس کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے وصیتیں لکھ کر نکلتے تھے۔
اور وہ ڈاکو تھا رُستم سنگھ راٹھوڑ۔

پوسٹ اچھی لگے تو لائک اور شیئر ضرور کریں تا کہ آپ کی وجہ سے باقی بھی اچھی بات جان سکیں۔۔۔
ایسی مزید اچھی پوسٹس کے لیے ہمیں فالو ضرور کریں۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaQZeg49hXFFt1Fo591y

لوگ کہتے تھے کہ راجہ کی حکومت دن میں چلتی ہے،
مگر راتیں رُستم سنگھ راٹھوڑ کی ہوتی ہیں۔

اسی زمانے میں ایک بارات راجستھان کے ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں جا رہی تھی۔ ڈھول کی تھاپ، اونٹوں کی گھنٹیاں، عورتوں کے گیت، اور دلہے کے دوستوں کی ہنسی پورے صحرا میں گونج رہی تھی۔ مگر جوں جوں سورج ڈھلنے لگا، قافلے کی خوشی خاموشی میں بدلنے لگی۔

کیونکہ سب جانتے تھے،
رات سے پہلے منزل نہ ملی تو پھر شاید منزل کبھی نہ ملے۔

اصل منصوبہ یہ تھا کہ راستے میں ایک جان پہچان کی بستی میں قیام کیا جائے گا، مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ اونٹ سست پڑ گئے، راستہ طویل ہو گیا، اور شام اندھیرے میں بدلنے لگی۔

اب ہر شخص بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتا تھا۔
کوئی اپنے زیورات کپڑوں میں چھپا رہا تھا، کوئی رقم جوتوں میں ڈال رہا تھا، اور کوئی دل ہی دل میں آخری دعائیں مانگ رہا تھا۔

پھر اچانک، دور صحرا میں گرد اٹھی۔
گھوڑوں کی ٹاپیں سنائی دیں۔
اور چند لمحوں بعد تلواریں چمکنے لگیں۔

“ڈاکو!”

یہ لفظ سنتے ہی جیسے سب کی روح جسم سے نکل گئی۔
ڈاکوؤں نے پل بھر میں پورا قافلہ گھیر لیا۔
کوئی رونے لگا، کوئی ہاتھ جوڑنے لگا، اور کوئی زمین پر بیٹھ کر اپنی قسمت کو کوسنے لگا۔

لوٹ مار شروع ہو گئی۔
زیورات، رقم، سامان، سب چھینا جانے لگا۔

اسی دوران چند ڈاکوؤں ایک دلہن کو پکڑ کر ڈاکوؤں کے سردار یعنی رُستم سنگھ راٹھوڑ کے سامنے لے آئے۔

“سردار! یہ زیورات نہیں اتارتی۔

سردار غصے سے آگے بڑھا۔
مگر جیسے ہی اس کی نظر دلہن کے چہرے پر پڑی، وہ اچانک رک گیا۔

اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا ارتعاش ابھرا۔ جیسے برسوں پرانی کوئی یاد اچانک زندہ ہو گئی ہو۔

اسے یاد آیا، کئی سال پہلے کی ایک دوپہر۔

وہ شدید زخمی حالت میں صحرا میں بھٹک رہا تھا۔ پیاس سے اس کا گلا خشک ہو چکا تھا، اور پیچھے سپاہی اس کا تعاقب کر رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ اب شاید وہ زندہ نہ بچے۔
تب ایک بارہ تیرہ سال کی لڑکی کنویں سے پانی بھر کر واپس جا رہی تھی۔
اس نے اس اجنبی کو دیکھا۔

خوفزدہ بھی ہوئی، مگر پھر بھی رک گئی۔

ڈاکو نے کانپتی آواز میں صرف اتنا کہا تھا:

“پانی”

اور اس بچی نے بغیر کچھ پوچھے اپنا گھڑا اس کے آگے کر دیا تھا۔

وہ پانی اس وقت اس کے لیے صرف پانی نہیں تھا،
زندگی تھا۔

اور آج،
وہی لڑکی دلہن بن کر اس کے سامنے کھڑی تھی۔

رُستم سنگھ راٹھوڑ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر دھیمی آواز میں بولا:

“تم نے کئی سال پہلے ایک نیکی کی تھی، یاد ہے؟”

لڑکی نے غور سے اسے دیکھا، اسے بھی سب کچھ یاد آگیا:
لڑکی نے چند لمحے خاموش رہ کر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں خوف تو تھا، مگر نفرت نہیں تھی۔ پھر وہ آہستہ سے بولی:

“اگر مجھے اُس دن یہ بھی معلوم ہوتا کہ جس شخص کو میں پانی پلا رہی ہوں، وہی ایک دن میری بارات لوٹنے کے لیے میرے سامنے کھڑا ہوگا، تب بھی خدا کی قسم میں اُسے پانی ضرور پلاتی۔ کیونکہ پیاسے کو پانی پلانا میرے رب کی رضا تھی اور نیکی اس ڈر سے نہیں چھوڑی جاتی کہ سامنے والا بعد میں کیسا نکلے گا۔”
لڑکی کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی، مگر آواز میں عجیب سا سکون تھا۔ وہ دھیرے سے بولی:

“ آپ نے آج ہمارے ساتھ جو کچھ کیا، اس کے باوجود اگر وقت دوبارہ پلٹ جائے، اور آپ پھر اسی صحرا میں پیاس سے تڑپتے ہوئے مجھے مل جاؤ، تو میں آج بھی تمہیں اپنے ہاتھوں سے پانی پلانے کے لیے تیار ہوں۔ کیونکہ نیکی انسان چہروں کو دیکھ کر نہیں کرتا، اپنے رب کو دیکھ کر کرتا ہے۔”

یہ جملہ سن کر جیسے صحرا کی ساری گرمی اس سردار
کے چہرے پر آ گری۔
وہ شخص جس کے نام سے بستیاں کانپتی تھیں، آج ایک لڑکی کے احسان کے سامنے جھک گیا تھا۔

اس نے فوراً تلوار نیچے پھینکی اور زور سے حکم دیا:

“جو کچھ لوٹا ہے، سب واپس کرو!”
ڈاکو حیران رہ گئے۔

مگر سردار کی آنکھوں میں پہلی بار شرمندگی تھی۔
اس نے صرف سامان واپس نہیں کروایا، بلکہ اپنے خزانوں میں سے بھی بہت سا مال دلہن کو دیا اور خود گھوڑے پر ان کے قافلے کے ساتھ چلتا رہا تاکہ راستے میں کوئی اور انہیں نقصان نہ پہنچا سکے۔

لوگ حیرت سے اسے دیکھتے رہے۔

وہی شخص،
جو کبھی لوگوں کی خوشیاں لوٹ لیتا تھا،
آج ایک نیکی کے احترام میں محافظ بن کر چل رہا تھا۔

کہتے ہیں، پرانے وقتوں کے لوگ دشمنی میں چاہے آگ ہوتے تھے، مگر احسان کبھی نہیں بھولتے تھے۔

اور حقیقت بھی یہی ہے،
نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی۔

کبھی وہ دعا بن کر لوٹتی ہے،
کبھی سایہ بن کر،
اور کبھی ایک ایسے لمحے میں جان بچا لیتی ہے، جہاں انسان کو اپنے سائے پر بھی یقین نہیں رہتا۔

حاصلِ سبق:

انسان کی کی ہوئی نیکی وقت کے صحرا میں کبھی گم نہیں ہوتی۔
وہ کسی نہ کسی دن، کسی نہ کسی موڑ پر، ضرور واپس آتی ہے۔
🌸🎀🌸

30/05/2026

*‏🔴 روس کے دارالحکومت ماسکو میں تقریباً دو لاکھ مسلمانوں نے عید کی نماز ادا کی۔ ایمان افروز مناظر*

29/05/2026

دنیا میں سب سے زیادہ قربانی کس ملک اور کس شہر میں ہوتی ہے ویڈیو دیکھیں

29/05/2026

29/05/2026

(یہ کہانی سچی ہے. تمام کرداروں سے واقفیت ہے. اس لیے شناخت چھپانے کے لیے کچھ ردوبدل کیا ہے.)

خدارا میری کہانی سن لیں. میرا نام اسماء ہے. میں ایک مڈل کلاس گھرانے کی بیٹی ہوں اور ایک کھاتے پیتے متمول بلکہ ہماری برادری میں بہت زیادہ باعزت مانے جانے والے خاندان کی بڑی بہو ہوں. میرے شوہر چھ بہن بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں. میری شادی کے وقت صرف ایک نند کی شادی ہوئی تھی. آپ کو حیرت ہوئی نا کہ برادری کے ایک مشہور و معروف، متمول گھرانے نے ایک مڈل کلاس فیملی کی بیٹی کو کیوں چنا شادی کے لیے.

اس کی وجہ میں بتا دیتی ہوں. میرے شوہر نکھٹو ہیں. میٹرک تک نہیں کر سکے. آٹھویں میں تین بار فیل ہونے کے بعد میرے ساس سسر نے سوچا کہ یہ پڑھ تو نہیں سکے گا، اس کو خاندانی کاروبار میں کھپا دیتے ہیں. لیکن وہاں پر بھی اپنے نکمے پن اور کام چوری کی وجہ سے نہ صرف باپ بلکہ بعد میں پڑھائی مکمل کر کے کاروبار سنبھالنے والے چھوٹے بھائیوں سے بھی جھڑکیاں کھاتے رہے. لیکن فطرت میں بے عزتی محسوس کرنے کی صفت ہی نہیں تھی اس لیےکبھی بھی سدھرنے کی کوشش نہیں کی. اس زمانے میں موبائل وغیرہ تو ہوتے نہیں تھے. اس لیے اپنے جیسے دوستوں کے ساتھ فلمیں دیکھنا، ٹیپ ریکارڈ کی کیسٹس جمع کرنا اور ہنڈا ففٹی پر گھومنا ہی زندگی کا نصب العین تھا. گھر میں دو گاڑیاں ہونے کے باوجود ان کو گاڑی کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں تھی.

ظاہر ہے جب ایسے حالات ہوں تو خاندان میں بلکہ خاندان سے باہر اپنے ہم پلہ لوگوں میں رشتہ ملنا مشکل تھا. اس لیے میری ساس نے رشتہ کرانے والی خاتون سے کہا کہ کسی مڈل کلاس فیملی کی خوش شکل، چھوٹی عمر کی لڑکی ڈھونڈیں. خوش شکل اس لیے کہ نسل خوبصورت رہے ( میرے سسرال میں سارے خوبصورت ہیں) اور چھوٹی عمر کی لڑکی کو دبانا آسان ہوگا.

جب میرے لیے اس فیملی سے رشتہ آیا تو کجھ دیر تک تو میری والدہ کو یقین نہیں آیا. ہم تین بہنیں تھی. میری عمر اس وقت سولہ سال تھی. امی کے تو پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے. بار بار یہی کہتی تھیں کہ اتنے بڑے لوگ ہمارے گھر آئے ہیں. اب دیکھنا چھوٹیوں کے لیے بھی ایسے ہی بڑے گھرانوں کے رشتے آئیں گے. میری بھولی ماں کو عقل ہی نہیں تھی کہ وہ اپنا کھوٹا سکہ لے کر آپ کی چاندی کی گڑیا لے کر جا رہی ہیں.

والد صاحب میرے سیدھے سادے سے تھے. ان کو لگتا تھا کہ یہ معاملات عورتوں کے دیکھنے کے ہوتے ہیں. بلکہ جب وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ لڑکا دیکھنے گئے تو گھر، گاڑی، برادری کے بڑے بڑے لوگوں کو دیکھ کر ہی مرعوب ہوگئے. اس طرح دو سیدھے سادے لوگوں نے اپنی سولہ سالہ بیٹی کو زندگی بھر کے عذاب میں ہنسی خوشی دھکیل دیا.
رہی میں تو ایک سولہ سال کی بچی کسی اکتیس سال کے مرد سے شادی پہ خوشی سے راضی نہیں ہوگی لیکن پھر سسرال سے مسلسل آنے والے تحائف، منگنی پر بے تحاشہ قیمتی انگوٹھی کے ساتھ بیش بہا کنگن اور ساتھ میں دیدہ زیب ملبوسات، امپورٹڈ میک اپ، جوتے پرس، جن کا نام بھی کبھی نہیں سنا تھا، دیکھ کر وہ نادان کم عمر بچی بہل گئی.

شادی جلد از جلد کردی گئی. شادی کے بعد جس شخص کو ساری زندگی جھڑکیاں ملی تھیں، اس کو بمشکل کوئی رعب جمانے والی ہستی مل گئی. ساری زندگی کی محرومیاں یہاں پر نکالی گئیں. ساس کو لگا کہ چھوٹے گھر کی لڑکی کو زیادہ سر پہ چڑھانے کی اب ضرورت نہیں. اس لیے کچھ دنوں بعد ہی کچن کا راستہ دکھا دیا گیا. شادی کے چار سالوں میں دو بیٹیاں پاؤں کی زنجیر بن گئیں. اگر نہ بھی بنتیں تو میں یا میرا میکہ کس جوگے تھے.

آہستہ آہستہ نندوں، دیوروں کی شادیاں ہوتی گئیں. میں بس نام کی بڑی بہو لیکن گھر میں سب کو معلوم تھا کہ ایک خادمہ روٹی کپڑے کے عوض رکھی گئی ہے. مجھے نندوں اور دیورانیوں کی اور بچوں کو ان کے بچوں کی اترن ملنے لگی. اکثر میری ساس کہہ دیتیں کہ کھانا سب کو کھلا کر کھایا کرو. مقصد یہ ہوتا کہ جھوٹا کھانا ٹھکانے لگے. دنیا کی شرما حضوری میں بچوں کو اسی اسکول میں بھیجا گیا جہاں خاندان کے دوسرے بچے جاتے تھے. اس طرح میری دونوں بیٹیاں اور بیٹا پڑھ گئے.

اتفاق سے میری نند کا ایک بیٹا میرے شوہر جیسا نکل آیا. نظر انتخاب میری بیٹی پر پڑی. اس دن میں بولی. نہ صرف ساس کے سامنے بلکہ اپنے والدین کو بھی جو دل میں بیس سالوں سے دبا تھا کہہ ڈالا. پہلی بار میرے شوہر نے میرا ساتھ دیا. بیٹی تھی نا.

لوگ کہتے ہیں کہ والدین ہمیشہ اچھا ہی سوچتے ہیں. میں کہتی ہوں میرے والدین نے میرے لیے کیا اچھا سوچا. صرف اس لیے کہ برادری میں ناک اونچی رہے، بیٹی کو جیتے جی جہنم میں جھونک دیا، جہاں دن رات ذلت کی لپٹیں اور حقارت کی تپش تھی. سنا ہے والدین کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے بہت عذاب ہے. مجھے کوئی بتا دے کہ اولاد کے لیے غلط فیصلے کرنے والے والدین اور پھر ساری زندگی اپنی غلطی نہ ماننے والے والدین کا بھی کوئی حساب ہوگا کہ نہیں. اللہ مجھے معاف کرے. میں نے اہنے والدین کو معاف نہیں کیا ہے.

للہ اولاد کے فیصلے ان کی اچھی زندگی کے لیے کیجیے. اپنے شملے اونچے رکھنے کے لیے نہیں.

https://whatsapp.com/channel/0029VaQZeg49hXFFt1Fo591y

29/05/2026

طالبان کیسے بنے اس کی شروعات 1994 سے ہوئی سوویت جنگ کے بعد افغانستان میں مرکزی حکومت ختم ہو گئی ہر صوبے میں مقامی کمانڈر قابض تھے قندھار کے علاقے میں لوٹ مار اغوا اور چیک پوسٹوں کا نظام تھا ایک دن سنگیسار کے علاقے میں دو کمانڈروں نے دو لڑکیوں کو اغوا کیا مقامی لوگ ملا محمد عمر کے پاس آئے جو اس وقت اپنے مدرسے میں تیس چالیس طلبہ کو پڑھا رہے تھے ملا عمر نے طلبہ کو جمع کیا اور مسلح ہو کر ان کمانڈروں پر حملہ کیا کمانڈروں کو قتل کر کے لڑکیوں کو بازیاب کرایا

اس واقعے کے بعد قریبی دیہات کے لوگ ملا عمر کے پاس آنے لگے کہ ہمارے علاقے سے بھی ڈاکو ختم کرو ملا عمر نے اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا اور فیصلہ کیا کہ صرف ایک گاؤں نہیں پورے علاقے سے ظلم ختم کرنا ہے یہی سے تحریک طالبان کا آغاز ہوا طالبان کا مطلب دین کے طالب علم ہے شروع میں تعداد پچاس سے کم تھی سب مدرسے کے طلبہ اور نوجوان مولوی تھے
افغانستان پر قبضہ اس کی ترتیب یہ تھی اکتوبر 1994 میں ملا عمر کے ساتھیوں نے سپین بولدک پر قبضہ کیا یہ قندھار کے جنوب میں پاک افغان سرحد پر بڑا تجارتی راستہ تھا وہاں اسلحہ کا بڑا ڈپو بھی ہاتھ آیا جس میں ہزاروں کلاشنکوف اور گولیاں تھیں اس اسلحے سے طاقت بڑھی
نومبر 1994 میں قندھار شہر پر حملہ کیا اس وقت قندھار پر گلبدین حکمت یار کے کمانڈر تھے لڑائی دو دن چلی طالبان جیت گئے قندھار فتح ہوتے ہی پورے صوبے کے کمانڈر یا بھاگ گئے یا طالبان سے مل گئے عوام نے استقبال کیا کیونکہ سڑکیں محفوظ ہو گئیں اور بھتہ ختم ہو گیا
سویت جنگ پر میں نے تفصیلی بات کی ہیں اس میں گلبدین حکمت یار مسعود وغیرہ کمانڈر کی تعارف کی ہیں ۔۔
فلحال موضوع یہ ہیں کہ
1995 میں پیش قدمی جاری رہی فروری 1995 میں ہلمند اور پھر مغرب میں فراہ نیمروز پر قبضہ کیا ستمبر 1995 میں ہرات پر حملہ کیا ہرات اسمعیل خان کے پاس تھا تین دن کی لڑائی کے بعد ہرات بھی فتح ہو گیا اب مغربی افغانستان طالبان کے کنٹرول میں آ گیا
مشرق کی طرف کابل کا محاصرہ شروع کیا 1995 اور 1996 کے دوران کابل پر برہان الدین ربانی اور احمد شاہ مسعود کی حکومت تھی شہر پر راکٹ برستے تھے طالبان نے جلال آباد اور لغمان پر قبضہ کیا اور کابل کے قریب پہنچ گئے
ستمبر 1996 کو طالبان نے جلال آباد سے پیش قدمی کی اور بغیر بڑی مزاحمت کے کابل میں داخل ہو گئے احمد شاہ مسعود اور حکومتی فوجی شمال کی طرف پنجشیر وادی چلے گئے کابل فتح ہوتے ہی صدارتی محل پر سفید جھنڈا لہرا دیا گیا
اکتوبر 1996 سے 1998 تک طالبان نے شمال کی طرف دھکیلنا شروع کیا 1997 میں مزار شریف پر حملہ کیا مگر رشید دوستم اور شیعہ ہزارہ ملیشیا نے شکست دی سینکڑوں طالبان مارے گئے اگست 1998 میں دوبارہ حملہ کیا اس بار مزار شریف فتح ہو گیا اس جنگ میں ایرانی سفارتکار بھی مارے گئے جس پر ایران اور طالبان کے تعلقات خراب ہوئے۔بعد میں ایران نے بہت بڑا انتقام لیا یہ بات کسی کو شاید معلوم نہ ہو لیکن یہ بات یہاں اس لئے نہیں کررہا کہ پھر لوگ کہیں گے آپ نے ایران پر الزام لگایا۔۔
ستمبر 1998 تک ملک کے نوے فیصد رقبے پر طالبان کا کنٹرول ہو چکا تھا صرف بدخشاں اور پنجشیر کے پہاڑی علاقے احمد شاہ مسعود کے پاس رہ گئے تھے اس کو شمالی اتحاد کہا جاتا تھا جنگ 2001 تک جاری رہی
قبضے کی رفتار کی تین بڑی وجہیں تھیں پہلی وجہ عوام تنگ تھی اور طالبان کو امن لانے والا سمجھ کر راستہ دے دیتی تھی دوسری وجہ بہت سے کمانڈر لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیتے تھے کیونکہ ان کے سپاہی تنخواہ نہ ملنے پر ساتھ چھوڑ جاتے تھے تیسری وجہ پاکستان کی سرحد سے آنے والے ہزاروں مدرسوں کے طلبہ تھے جو سمر کی چھٹیوں میں جہاد کے لیے شامل ہو جاتے تھے.لیکن یہ بات بین اقوامی رپورٹس کی مطابق ہیں اور اسرائیل نواز میڈیا کی ہیں۔
اس طرح چار سال کے اندر ایک مدرسے کی جماعت پورے ملک پر قابض ہو گئی ستمبر 1996 کو کابل فتح کے بعد امارت اسلامیہ افغانستان کا اعلان ہوا اور ملا محمد عمر کو امیر المومنین کہا گیا۔۔جاری ہیں

حوالے آخر میں احمد رشید کتاب طالبان دی سٹوری آف دی افغان وار لارڈز سال 2000 انٹونی ڈیوس مقالہ ہاؤ دی طالبان بیکیم ا ملٹری فورس 1998 عبدالسلام ضعیف کتاب مائی لائف ود دی طالبان

27/05/2026

✍🏻 السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

اکی گائی (Ikigai) جاپانی زبان کا ایک خوبصورت لفظ ہے جس کا مطلب ہے "جینے کی وجہ" یا "زندگی کا مقصد"۔
یہ دو جاپانی الفاظ سے ملا ہے:
Iki (اکی) → زندگی (to live)
G*i (گائی) → قدر، فائدہ یا معنی (worth, value)
یعنی وہ چیز جو زندگی کو جینے کے لائق بناتی ہے — وہ وجہ جس کی خاطر تم صبح اٹھتے ہو، خوش رہتے ہو اور زندگی میں سکون پاتے ہو۔
Ikigai کا مشہور ڈایاگرام (4 دائرے)
اکثر لوگ اسے چار چیزوں کے اوورلیپ سے بیان کرتے ہیں:
جو تمہیں پسند ہے (What you love)
جس میں تم اچھے ہو (What you are good at)
جس کے لیے دنیا تمہیں پیسے دے سکتی ہے (What you can be paid for)
جس کی دنیا کو ضرورت ہے (What the world needs)
جب یہ چاروں چیزیں ایک جگہ آ جائیں تو وہی تمہارا اکی گائی ہے۔
Okinawa (جاپان) کا راز
جاپان کے Okinawa جزیرے میں بہت سے لوگ 100+ سال تک صحت مند اور خوش رہتے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا راز اکی گائی کو تلاش کرنا اور اس پر عمل کرنا بتایا جاتا ہے۔
تمہارا اکی گائی کیا ہو سکتا ہے؟
مثال کے طور پر:
پڑھانا
لکھنا
لوگوں کی مدد کرنا
کوڈنگ
موسیقی
فیملی کا خیال رکھنا
یا کوئی چھوٹی سی چیز جو تمہیں سکون دے۔

تو بتاؤ، تمہارا اکی گائی کیا ہے یا اسے تلاش کرنے میں مدد چاہئے

اوکیناوا (Okinawa) جاپان کا ایک جزیرہ ہے جو دنیا کے بلو زونز (Blue Zones) میں سے ایک ہے۔ یہاں دنیا بھر میں سب سے زیادہ سینٹینیئرز (100 سال سے زیادہ عمر والے صحت مند لوگ) پائے جاتے ہیں۔ اوکیناوا کی صحت مند عادات نہ صرف لمبی عمر بلکہ بیماریوں سے پاک، خوش اور فعال زندگی کا راز ہیں۔

یہاں اوکیناوا کی سب سے اہم صحت مند عادات ہیں:

1. Hara Hachi Bu (ہارا ہاچی بو) – 80% پورا کھانا
ہر کھانے سے پہلے یہ جملہ بولتے ہیں: "ہارا ہاچی بو" یعنی پیٹ کا 80% بھر جانے پر کھانا روک دو۔
اس سے کیلوریز کم استعمال ہوتی ہیں، وزن کنٹرول رہتا ہے اور نظام ہاضمہ بہتر رہتا ہے۔

2. پلانٹ بیسڈ ڈائیٹ (سبزیوں پر مبنی غذا)
روایتی غذا میں 90% سے زیادہ حصہ پودوں پر مبنی ہوتا ہے۔
اہم غذائیں:
جامنی اور نارنجی شکر قندی (Sweet Potatoes) — سب سے زیادہ کیلوریز کا ذریعہ
سبزیاں (bitter melon، گوبھی، پیاز، لہسن، ادرک)
سویا پروڈکٹس (ٹوفو، میسو)
سمندری گھاس (Seaweed)
ہری چائے (خاص طور پر Sanpin-cha — جاسمین ملا ہوا)
گوشت، دودھ کی مصنوعات اور انڈے بہت کم کھاتے ہیں۔ مچھلی بھی محدود۔

3. قدرتی حرکت اور روزمرہ کی سرگرمیاں (Natural Movement)
جم یا شدید ورزش نہیں کرتے بلکہ روزمرہ کی حرکت سے جسم فعال رکھتے ہیں۔
باغبانی (Gardening) — تقریباً تمام بوڑھے لوگ باغ لگاتے یا لگاتے رہے ہیں۔
پیدل چلنا، گھر کے کام، فرش پر بیٹھنا، اور ہلکے پھلکے کام۔
یہ جسم کو لچکدار اور مضبوط رکھتی ہے۔

4. اکی گائی (Ikigai) – زندگی کا مقصد
صبح اٹھنے کی وجہ (reason to wake up)۔
بوڑھے لوگ بھی واضح بتاتے ہیں کہ ان کا اکی گائی کیا ہے — فیملی، باغ، کمیونٹی کی مدد وغیرہ۔
یہ ذہنی سکون اور موٹیویشن دیتا ہے۔

5. مویائی (Moai) – لائف لانگ دوستوں کا گروپ
دوستوں کا ایک چھوٹا گروپ جو زندگی بھر ساتھ رہتا ہے۔
باقاعدگی سے ملتے ہیں، بات کرتے ہیں، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔
یہ تناؤ کم کرتا ہے اور جذباتی سپورٹ دیتا ہے — صحت کا بہت بڑا راز۔

6. دیگر اہم عادات
کم تناؤ والا طرز زندگی: سست رفتار، فطرت سے جڑے رہنا، شکر گزاری۔
مقامی اور تازہ غذا: جو گھر کے قریب اگائی جائے۔
سماجی تعلقات اور فیملی: کھانا اکثر ساتھ کھاتے ہیں۔
باقاعدگی: جلدی سونا، جلدی اٹھنا، اور مصروف رہنا (بغیر ریٹائرمنٹ کے)۔
اوکیناوا کی عادات کو اپنی زندگی میں کیسے اپنائیں؟
روزانہ سبزیاں اور پھل زیادہ کھائیں (خاص طور پر شکر قندی، ٹوفو، سبز چائے)۔
کھانے میں 80% کا اصول آزمائیں۔
روزانہ باغبانی، پیدل چلنا یا گھر کے کام کریں۔

قریبی دوستوں کا ایک چھوٹا سرکل بنائیں جو باقاعدگی سے ملے۔
یہ عادات نہ صرف عمر بڑھاتی ہیں بلکہ آخر تک صحت مند اور خوش رکھتی ہیں۔
بہت اچھا! اب ہم اکی گائی تلاش کرنے کے لیے عملی سوالات کی طرف آتے ہیں۔اکی گائی کو ڈھونڈنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ چاروں دائروں پر الگ الگ غور کریں۔ میں نے یہ سوالات سادہ، موثر اور عملی بنائے ہیں جو آپ آسانی سے اپنے نوٹ بک میں لکھ کر جواب دے سکتے ہیں۔

1. جو تمہیں پسند ہے (What you Love)یہ وہ چیزیں ہیں جو تمہیں خوشی دیتی ہیں، وقت بھول جاتے ہو، اور دل لگ جاتا ہے۔تمہیں کون سی سرگرمی کرتے ہوئے وقت کا پتہ نہیں چلتا؟ (Flow state)بچپن میں تم کیا کرنا سب سے زیادہ پسند کرتے تھے؟

2. اپنے فارغ وقت میں تم کیا کرتے ہو جو تمہیں واقعی خوش کرتا ہے؟

3. اگر پیسے کی کوئی فکر نہ ہو تو تم پورا دن کیا کرو گے؟کون سی بات تم گھنٹوں تک بات کر سکتے ہو بغیر بور ہوئے؟پچھلے مہینے تمہیں سب سے زیادہ زندہ محسوس کب ہوا؟ اس وقت تم کیا کر رہے تھے؟

4. جس میں تم اچھے ہو (What you are Good at)تمہاری قدرتی صلاحیتیں اور طاقتیں۔تم کس کام میں قدرتی طور پر اچھے ہو؟ (جو دوسروں کو مشکل لگتا ہے)لوگ تم سے کس چیز کی مدد مانگتے ہیں یا مشورہ لیتے ہیں؟

5. کون سے کام تمہیں آسان لگتے ہیں لیکن دوسروں کو مشکل؟

6. تمہاری سب سے بڑی طاقتیں (strengths) کیا ہیں؟

7. اگر کوئی کام تمہیں بار بار کرنے کو کہا جائے تو کون سا کام تم بغیر تھکے کر سکتے ہو؟

8. جس کی دنیا کو ضرورت ہے (What the world needs)وہ چیز جو دوسروں کی مدد کرے یا مسئلہ حل کرے۔

9. تمہیں کون سی چیز دیکھ کر دل دکھتا ہے یا غصہ آتا ہے؟ (جیسے تعلیم کا نظام، ماحولیات، تنہائی وغیرہ)تم کس قسم کے لوگوں کی مدد کرنا چاہتے ہو؟

10. دنیا میں کون سا مسئلہ تم حل کرنا چاہتے ہو؟

11. تمہارے نزدیک معاشرے یا لوگوں کو سب سے زیادہ کیا درکار ہے؟

12. تم کس چیز میں حصہ ڈال کر خوشی محسوس کرو گے؟

13. جس کے لیے تمہیں پیسے مل سکتے ہیں (What you can be paid for)عملی پہلو — کیریئر، کاروبار یا سروس۔تمہاری موجودہ مہارتیں یا علم کس چیز میں پیسہ کما سکتے ہیں؟

14. لوگ تم سے کیا خریدنے یا سروس لینے کو تیار ہوں گے؟تم کون سی چیز بنا کر، سکھا کر یا حل کر کے پیسہ کما سکتے ہو؟

15. اگر تم ایک چھوٹا کاروبار شروع کرو تو کیا ہو سکتا ہے؟اضافی اہم سوالات (جو پورے اکی گائی کو جوڑتے ہیں)صبح اٹھ کر تمہیں سب سے زیادہ کیا کرنے کا دل کرتا ہے؟

16. تمہیں کیا کرتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ "یہ ہی میری وجہ ہے"؟

17. تم دنیا سے کیا یاد رکھے جانا چاہتے ہو؟

18. تمہاری زندگی کا سب سے بہترین دن کیسا تھا؟

19. اس دن تم کیا کر رہے تھے؟کیسے استعمال کریں؟پرسکون جگہ بیٹھو اور ایک ایک دائرے کے سوالات کے جواب لکھو (جلدی بازی نہ کرو)۔

20. جوابات دیکھ کر اوورلیپ تلاش کرو — جہاں تمہاری پسند، مہارت، دنیا کی ضرورت اور پیسہ کمانے کا امکان ملے، وہی تمہارا اکی گائی ہو سکتا ہے۔

21. یہ ایک بار کا کام نہیں — کئی دن یا ہفتوں میں بھی جواب بدل سکتے ہیں۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaQZeg49hXFFt1Fo591y

26/05/2026

💔 اُس بوڑھے موچی نے ساری زندگی دوسروں کے جوتے سیے… مگر جب اُس کی اپنی قبر کے لیے کفن خریدنے کا وقت آیا، تو اُس کی جیب میں صرف سترہ روپے تھے۔۔ 🥹🥀

پرانے لاہور کی ایک تنگ گلی میں، جہاں بارش کے بعد مٹی کی خوشبو دیواروں سے بھی اٹھنے لگتی تھی، ایک چھوٹی سی دکان تھی۔

اتنی چھوٹی کہ اگر ایک آدمی سیدھا کھڑا ہو جائے تو دوسرا اندر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔

اُس دکان کے باہر ایک زنگ آلود بورڈ لٹکتا تھا:

“نذیر موچی”

بس اتنا۔

نہ موبائل نمبر۔

نہ ڈگریاں۔

نہ “پچاس سالہ تجربہ” لکھا ہوا۔

صرف نام۔

اور شاید یہی اُس آدمی کی پوری شخصیت تھی۔

سادہ۔

خاموش۔

بے آواز۔

نذیر موچی کی عمر کوئی پچھتر برس ہوگی۔

سفید داڑھی۔

کمزور ہاتھ۔

موٹے شیشوں والی عینک۔

اور آنکھیں…

ایسی جیسے اُن میں بہت کچھ دفن ہو۔

وہ صبح فجر کے بعد دکان کھولتا، ایک پرانی سی چارپائی سیدھی کرتا، چولہے پر چائے چڑھاتا اور پھر جوتے سینا شروع کر دیتا۔

پورے محلے میں اُس کی ایک عجیب شہرت تھی۔

وہ کبھی کسی سے پورے پیسے نہیں لیتا تھا۔

اگر کوئی غریب مزدور آتا تو کہتا:

“چل یار، دو روپے کم دے دینا۔”

اگر کوئی بچہ پھٹے جوتے لے آتا تو اکثر مفت مرمت کر دیتا۔

اور اگر کوئی بوڑھا آدمی آہستہ آواز میں کہتا:

“استاد جی… ابھی پیسے نہیں ہیں…”

تو نذیر بس ہاتھ ہلا دیتا۔

“پہلے چلنا ضروری ہے… حساب بعد میں ہو جائے گا۔”

لوگ کہتے تھے:

“یہ آدمی کاروبار نہیں کرتا… صدقہ بانٹتا ہے۔”

مگر عجیب بات یہ تھی کہ اُس نے کبھی کسی سے مدد نہیں مانگی۔

کبھی نہیں۔

حالانکہ اُس کے اپنے کپڑوں پر بھی کئی جگہ پیوند لگے ہوتے تھے۔

ایک بار محلے کے ایک نوجوان نے مذاق میں پوچھ لیا:

“بابا، ساری زندگی دوسروں کے جوتے ٹھیک کیے… اپنے لیے کیا بنایا؟”

نذیر نے سوئی دھاگہ رکھتے ہوئے مسکرا کر کہا:

“بیٹا… انسان اگر دوسروں کا سفر آسان کر دے نا… تو اپنا راستہ اللہ خود بنا دیتا ہے۔”

اُس وقت کسی نے خاص توجہ نہیں دی تھی۔

کیونکہ بڑے جملے ہمیشہ مرنے کے بعد سمجھ آتے ہیں۔

پھر ایک سرد دسمبر آیا۔

ایسا دسمبر جس میں دھند شام سے پہلے ہی گلیوں پر اتر آتی تھی۔

کئی دن نذیر دکان پر نہیں آیا۔

لوگوں نے سوچا بیمار ہوگا۔

پھر تیسرے دن محلے کے نانبائی نے دکان کا آدھا کھلا شٹر دیکھا۔

اندر اندھیرا تھا۔

وہ آواز دیتا ہوا اندر گیا۔

“بابا نذیر؟”

کوئی جواب نہیں آیا۔

بس کمرے کے کونے میں رکھی انگیٹھی ٹھنڈی پڑی تھی۔

اور چارپائی پر نذیر خاموش لیٹا تھا۔

ایسے…

جیسے تھکن آخرکار جیت گئی ہو۔

خبر پورے محلے میں پھیل گئی۔

لوگ جمع ہونے لگے۔

کوئی کہہ رہا تھا:

“بڑا نیک آدمی تھا۔”

کوئی کہہ رہا تھا:

“کبھی کسی کو خالی نہیں لوٹایا۔”

مگر اصل خاموشی اُس وقت چھائی…

جب محلے کے امام صاحب نے اُس کی جیب سے پرانا سا بٹوہ نکالا۔

اندر صرف سترہ روپے تھے۔

بس سترہ۔

ایک عمر جوتے سی کر گزار دینے والے آدمی کے پاس مرنے کے بعد سترہ روپے بچے تھے۔

لوگوں کی نظریں جھک گئیں۔

مگر حیرت ابھی باقی تھی۔

چارپائی کے نیچے ایک پرانا ٹین کا صندوق رکھا تھا۔

جب اُسے کھولا گیا…

تو پورا محلہ خاموش رہ گیا۔

اندر پیسے نہیں تھے۔

رسیدیں تھیں۔

درجنوں۔

سیکڑوں۔

کسی بچے کی اسکول فیس۔

کسی بیوہ کی دوائی۔

کسی رکشہ والے کی بیٹی کی شادی۔

کسی مزدور کے بیٹے کی یونیفارم۔

اور ہر رسید کے نیچے صرف ایک جملہ لکھا تھا:

“کسی کو بتانا نہیں۔”

امام صاحب کی آواز کانپ گئی۔

“یہ آدمی… ساری زندگی لوگوں کی مدد کرتا رہا…”

ایک نوجوان رونے لگا۔

“بابا نے میری کالج فیس دی تھی… اور کہا تھا کسی کو مت بتانا۔”

پھر دوسرا بولا:

“میرے ابو کے جنازے کے پیسے بھی انہی نے دیے تھے…”

پھر ایک عورت چیخ مار کر رو پڑی:

“میرے بچے کی دوائی… بابا نذیر لاتے تھے…”

اور پھر پہلی بار…

اُس چھوٹی سی گلی میں لوگوں نے سمجھا کہ خاموش لوگ اکثر سب سے امیر ہوتے ہیں۔

صرف اُن کی دولت جیب میں نہیں ہوتی۔

جنازے والے دن عجیب منظر تھا۔

وہی نذیر موچی…

جسے لوگ ایک معمولی آدمی سمجھتے تھے…

اُس کے جنازے میں پورا شہر آیا تھا۔

دکاندار۔

وکیل۔

استاد۔

رکشہ والے۔

وہ بچے بھی…

جن کے جوتے اُس نے مفت سیے تھے۔

نمازِ جنازہ کے بعد ایک چھوٹا بچہ اپنے ابا کا ہاتھ پکڑ کر قبر کے پاس آیا اور بولا:

“ابو… یہی وہ بابا ہیں نا جو کہتے تھے جوتے ہمیشہ صاف رکھنے چاہئیں کیونکہ انسان کو پتہ نہیں ہوتا اُسے اگلا قدم کہاں رکھنا ہے؟”

اور اُس لمحے شاید سب کو احساس ہوا…

کہ بعض لوگ مرنے کے بعد دفن نہیں ہوتے۔

وہ شہر کی روح میں شامل ہو جاتے ہیں۔


Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Karachi