Block L North Nazimabad 74700 Karachi

Block L North Nazimabad 74700 Karachi

Share

Block L is part of "North Nazimabad" one of the best planned localities in Pakistan.

Welcome New Members :)

Rules :

1) DO NOT POST VULGAR STUFF
2) DO NOT ABUSE IN THE GROUP
3) DO NOT POST ANYTHING RELATED TO POLITICS
4) DO NOT POST YOUR OWN PICTURES. If anybody break the Rules then we will ban him/her permanently ;-)

Regards
Admin

30/07/2025

اگر انڈونیشیا کے دو بوڑھے میاں بیوی باوجود بڑھاپے کے دس لاکھ درخت لگا سکتے ہیں اور اقوام متحدہ انہیں امریکہ بلوا کر اُن کی خدمات کا اعتراف کرتے ہیں ؟؟
اگر انڈیا کا غریب سائیکل والا بابا اپنے علاقے کے 1000 کنال کےوسیع رقبے کو ایک گھنے جنگل میں تبدیل کر کے گینیز بُک آف ولڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروا سکتا ھے ۔ یہاں تک کہ اس کے علاقے کی خوبصورتی دیکھ کر سنگا پور کے نایاب خوبصورت پرندے سنگا پور جیسے خوبصورت خطے کو چھوڑ کر اسکے علاقے کو رونق بخشتے ہیں ؟؟؟
اگر جنوبی افریقہ کے دو دوست پہلے سے موجود زوما کے جنگل جیسا ایک اور جنگل اُگا سکتے ہیں جو ہمارے چھانگا مانگا سے دوگناہ ھے ؟؟؟
تو تُم پاکستانی بھائیو میرے بچو اور بیٹیو ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟؟؟ جن کا دین و مذہب بھی ایسی سرگرمی کی حمایت کرتا ہے، ہمارے محبوب آخری نبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی کئی احادیث شجر کاری سے متعلق ہیں،ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ اگر تمارے ہاتھ میں پودا ہو اور ساتھ ہی دنیا کا آخری وقت آن پہنچے یعنی قیامت کا اعلان ہو جائے پھر بھی جو پودا تمارے ہاتھ میں ھے اسے لگا دو۔
ہماری تو مٹی بھی زرخیز ہے، اپنے حصے کا 1درخت ضرور لگائیں🌺
Copied

25/06/2025

‏فرعون ٹیکنالوجی اور سائنس میں ہم سے بہت آگے تھے۔۔۔۔
یہ سات ہزار سال قبل سات سو کلو میٹر دور سے ایک کروڑ پتھر مصر لائے ہر ایک پتھر 25 سے 28 ٹن وزنی تھا
یہ ون پیس تھا اور یہ پہاڑ سے چوڑائی میں کاٹا گیا تھا
یہ پتھر صحرا کے عین درمیان 170 میٹر کی بلندی پر لگائے گئے
‏قدیم مصری آرکیٹیک نے 8 ہزار قبل ایسا ڈیزائن بنایا جو ہر طرف سے بند بھی تھا لیکن بندش کے باوجود اندر سورج کی روشنی بھی آتی تھی۔۔۔اندر کا درجہ حرارت بھی باہر کے ٹمپریچر سے کم تھا
اُن لوگوں نے8 ہزار سال قبل لاشوں کو (محفوظ) کرنے کا طریقہ بھی ایجاد کر لیا تھا۔۔۔یہ خوراک کو ہزار سال ‏تک محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی جان گئے
قاہرہ کے علاقے گیزہ کے بڑے اہرام
میں 23 لاکھ بڑے پتھر ہیں۔۔۔
ابوالہول دنیا کا سب سے بڑا ون پیس اسٹرکچر ہے
اور
یہ لوگ جانتے تھے شہد دنیا کی واحد خوراک ہے جو کبھی خراب نہیں ہوتی ان اہراموں میں 5 ہزار سال پرانا شہد نکلا اور یہ مکمل طور پر ‏استعمال کے قابل تھا۔۔۔

قرآن والوں کیلئے آل فرعون کے یہ کمالات بالکل کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔۔۔ کیونکہ قرآن نے یہ بات واضح طور پر بتا دی ہے کہ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں وہ مادی ترقی میں تم سے دس گنا زیادہ ترقی یافتہ تھے۔۔۔ ملاحظہ فرمائیں آئت
سبا 45
وَكَذَّبَ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡۙ وَمَا بَلَـغُوۡا مِعۡشَارَ مَاۤ اٰتَيۡنٰهُمۡ فَكَذَّبُوۡا رُسُلِىۡ فَكَيۡفَ كَانَ نَكِيۡرِ
اسی طرح اِن سے پہلوں نے جھٹلایا حالانکہ یہ لوگ خوشحالی میں اُن کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو ہم نے اُن کو دیا تھا پس اُنہوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا۔ پھر دیکھا کیسا انجام ہوا میرے انکار کا۔؟34/45

جامع آئت ہے جس میں ان فرعونوں سمیت پچھلی تمام اقوام کی مادی ترقی کا بھی ذکر ہے اور انکی تباہی کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی کہ وہ انبیاء و رسل کی لائی رسالت کا انکار کرنے والے تھے۔۔۔ قرآن ایسی آیات سے بھرا پڑا ہے جن میں سابقہ اقوام کی تباہی کی وجہ کذبو بآیاتنا کفرو بآیاتنا لکھی ہے۔۔

البقرہ 39
وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَكَذَّبُوۡا بِـاٰيٰتِنَآ اُولٰٓٮِٕكَ اَصۡحٰبُ النَّارِ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ‏
اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہمارے احکام کو جھٹلایا یہی لوگ آگ والے ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔2/39

سورۂ الاعراف میں پانچ انبیاء ( نوح ھود صالح شعیب لوط سلام علیھم) پر اللّٰه کی آیات کا انکار کرنے کی پاداش میں عذاب نازل کرنے کے بعد اللّٰه 96 نمبر آئت میں کیا فرما رہے ہیں ملاحظہ فرمائیں

الاعراف 96
وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡقُرٰٓى اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـفَتَحۡنَا عَلَيۡهِمۡ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ وَلٰـكِنۡ كَذَّبُوۡا فَاَخَذۡنٰهُمۡ بِمَا كَانُوۡا يَكۡسِبُوۡنَ‏
کاش بستیوں والے ایمان لے آتے اور اللہ کی نا فرمانی سے بچتے تو یقینا ہم اِن پر سمٰوات وارض کی برکات کھول دیتے لیکن انہوں نے اللہ کے پیغام کو جھٹلایا پھر ہم نے اِن کو پکڑا کہ وہ خلاف ِ قرآن کام کرتے تھے(6/44,46/26)۔7/96

سیرو فی الارض ، سیرو فی الارض قرآن میں ان الفاظ کے ساتھ شروع ہونے والی بہت سی آیات ہیں اور ان سب آیات میں ایک ہی بات بار بار دہرائی گئی ہے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھ لو ان بستیوں کا حال جنہوں نے ہماری آیات کی عملاً تکذیب کی تھی۔۔۔
ملاحظہ فرمائیں ان میں سے ایک آئت

فاطر 44
اَوَلَمۡ يَسِيۡرُوۡا فِى الۡاَرۡضِ فَيَنۡظُرُوۡا كَيۡفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِهِمۡ وَكَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡهُمۡ قُوَّةً ؕ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعۡجِزَهٗ مِنۡ شَىۡءٍ فِى السَّمٰوٰتِ وَلَا فِى الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّهٗ كَانَ عَلِيۡمًا قَدِيۡرًا‏
کیا بھلا اُنہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں دیکھا۔ پس وہ دیکھتے کہ اِن سے پہلوں کا انجام کیسا ہوا تھا اور وہ اِن سے قوت میں بھی زیادہ سخت تھے۔ اور اللہ ایسا نہیں ہے کہ اُسے کوئی سمٰوات و ارض میں ذرا سا بھی عاجز کر سکے۔ یقینا وہی علم والا قدرت والا ہے۔35/44

گذارشات پر غور فرمائیں اور رجوع الی القرآن کیساتھ تمام غیر قرآنی کتب اور ان کتب میں سے بنائے مصنوعی دین کو چھوڑ کر قرآن میں اللّٰه کے مکمل دین پر کاربند ہو جائیں تاکہ اس دنیا کی نحوست و رذالت سے نجات پاکر آخرت میں جنت کی فوز العظیم کے حقدار بن جائیں۔

وما علینا الاالبلاغ المبین

فقط اللّٰه کا عبد اور آپ سب کا دلی طور پر خیر خواہ

عبدالناصر
Copied content

18/06/2025

پاکستان میں 61 سال بعد سب سے زیادہ گرم مارچ، اپریل اور مئی ریکارڈ پر آ چکے ہیں۔ ہم دنیا کے اُن 10 ممالک میں شامل ہیں جہاں موسم کی تبدیلی سب سے تیزی سے ہو رہی ہے۔ پچھلے صرف 12 سالوں میں ہمارے ملک کا درجہ حرارت 4 ڈگری بڑھ چکا ہے، جب کہ پچھلے پچاس سال میں یہ اضافہ صرف 3 فیصد تھا۔ یہ الارم نہیں، وارننگ ہے۔

اس بحران کا ایک ہی سادہ، پائیدار اور فوری حل ہے — درخت۔

ہمارے گھروں کے خالی کونوں سے لے کر گلیوں، محلوں، کالونیوں اور سڑک کنارے تک، جہاں بھی تھوڑی سی زمین نظر آئے، وہاں درخت یا پودا لگائیں۔ اگر پھلدار درخت ہوں تو یہ نہ صرف سایہ دیں گے بلکہ خوراک کا ذریعہ بھی بنیں گے۔ یہ انسانی اور ماحولیاتی بھوک دونوں کا علاج ہیں۔

اب اگر ہم نے درختوں کی اہمیت کو نہ سمجھا، تو اگلی نسل کا سوال نہیں، ہم خود اگلے سال مزید خوفناک گرمیوں کا سامنا کریں گے۔ آج جو بیج ہم زمین میں نہیں بوئیں گے، وہ کل ہمارے بچوں کے لیے سانس لینے کی جگہ نہیں چھوڑے گا۔

درخت لگانا اب نیکی نہیں، ضرورت بن چکی ہے۔

27/02/2025

ﮈﺍﮐﭩﺮ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﺣﻘﮯ ﭘﺮ ﭘﺎﺑﻨﺪﯼ ﻟﮕﺎﺋﯽ
ﺗﻮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺣﻘﮧ ﮔﻮﺩﺍﻡ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮﺍ ﺩﯾﺎ۔
ﯾﻮﮞ ڈیرے ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﺍﭨﺮﯾﮑﺸﻦ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
انہی ﺩﻧﻮﮞ ’’ﺍﯾﮑﺲ ﭼﯿﻨﺞ‘‘ ﮐﯽ ’’ﺍﭖ ﮔﺮﯾﮉﯾﺸﻦ‘‘ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﻓﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻋﺎﺭﺿﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ۔
ﯾﻮﮞ ڈیرے ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺍﭨﺮﯾﮑﺸﻦ ﺑﮭﯽ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﺟﻮ ﺭﻭﺯ ﺻﺒﺢ ﺳﻮﯾﺮﮮ ہمارے ڈیرے ﭘﺮ ﺍٓ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ڈیرے ﭘﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔
ﮨﻢ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭼﺎﭼﺎ ﺟﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﺟﻮ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻭﻧﭽﯽ ﺍٓﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ حاجی ﺻﺎﺣﺐ ﮐﺎ ﻧﻌﺮﮦ ﻟﮕﺎﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﮔﮭﻨﭩﻮﮞ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﯽ ﺗﻌﺮﯾﻔﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺳﺐ ﺑﮭﯽ ﻏﺎﺋﺐ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺷﮑﻠﯿﮟ ﺗﮏ ﺑﮭﻮﻝ ﮔﺌﮯ۔
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﺮﺍﺋﻤﺮﯼ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮯ ﺫﮨﻦ ﮐﮯ لئے ﯾﮧ صورتحال ﮨﻀﻢ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﺗﮭﺎ۔
ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻭﺍﻟﺪ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ؛ ’’ﺍﺑﺎ ﺟﯽ! ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﮐﮩﺎﮞ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ؟‘‘
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ، ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍبھیگی ہوئی تھیں۔
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﺭﻭﻣﺎﻝ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍٓﻧﮑﮭﯿﮟ ﺻﺎﻑ ﮐﯿﮟ، ﺳﺮ ﭘﺮ ﮨﺎﺗﮫ ﭘﮭﯿﺮﺍ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛
’’ﺑﯿﭩﺎ! ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ،
ﯾﮧ ﺣﻘﮯ ﺍﻭﺭ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻘﮧ ﺑﻨﺪ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﮐﭧ ﮔﯿﺎ، ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﮐﭧ ﮔﺌﮯ۔
ﺟﺲ ﺩﻥ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺣﻘﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺩﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺍٓ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔‘‘
ﻣﯿﺮﮮ ﮐﭽﮯ ﺫﮨﻦ ﻧﮯ ﯾﮧ ﻓﻠﺴﻔﮧ ﺳﻤﺠﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﻭﺍﻟﺪ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﮐﯽ ﮔﻮﻣﮕﻮ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ۔ ﻭﮦ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﻮ
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺟﺐ ﺍٓﭖ ﮐﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﻌﻤﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻧﻌﻤﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻧﺌﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺍٓﺗﯽ ﮨﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﮨﻢ ﻧﻌﻤﺖ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮫ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔
یہی ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﮯ ﻭﻗﻮﻓﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﯾﮧ ﻧﻌﻤﺖ ﺟﺲ ﺩﻥ ﭼﻠﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﮭﯽ ﺭﺧﺼﺖ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ؛
’’ﺑﯿﭩﺎ ﺍٓﭖ ﮐﺎ ﺍﺻﻞ ﮐﻤﺎﻝ ﯾﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ کے ﺍٓﭖ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺭﮨﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺍٓﭖ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﻧﮧ ﺑﻨﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺗﻢ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺎﯾﻮﺱ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﮯ۔‘‘
’’ﺑﯿﭩﺎ! ﺍٓﭖ ﮐﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ،
ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺎﺭﻭﺑﺎﺭ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﻋﮩﺪﮮ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﻤﺠﮭﻮ ۔۔۔
ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﺗﮏ ﻧﮧ ﭘﮩﻨﭽﻨﮯ ﺩﻭ۔
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻝ ﮐﺒﮭﯽ ﺯﺧﻤﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﺎ۔ ﺗﻢ ﮐﺒﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﻭﺅ ﮔﮯ۔
منقول

21/02/2025

Information
Types of Car Smoke and Their Causes

1. White Smoke
- Causes: Blown head gasket allowing coolant or water into the pistons.
- Indication: Coolant in the combustion chamber.
- Solution: Inspect and replace the head gasket.

2. Blue Smoke
- Causes: Worn piston rings letting engine oil seep into the combustion chamber.
- Indication: Burning engine oil.
- Solution: Replace the piston rings.

3. Black Smoke
- Causes: Incomplete fuel combustion caused by poor fuel quality, airflow issues, faulty spark plugs, or bad ignition coils.
- Indication: Inefficient fuel burn.
- Solution: Check and replace spark plugs, ignition coils, or fuel injectors.

4. Grey Smoke
- Causes: Oil consumption, faulty PCV valve, transmission fluid leak, or a failing turbocharger.
- Indication: Engine or transmission problem.
- Solution: Inspect and fix the PCV valve, transmission fluid lines, or turbocharger.

15/02/2025

ابو پچاس روپے ہیں

’’تم نے ابھی صبح تو ہزار روپے لیے تھے‘ اب دوبارہ مانگ رہے ہو‘‘ بزرگ نے حیرت سے پوچھا‘ دوست نے شرما کر جواب دیا ’’ابو اب چوہدری صاحب آ گئے ہیں‘ انھیں بھی کافی پلانی پڑے گی‘ صبح کے ہزار روپے صبح کے دوستوں پر خرچ ہو گئے‘‘۔

بزرگ نے جیب میں ہاتھ ڈالا‘ گن کر سو سو روپے کے دس نوٹ نکالے اور اس کے بعد لمبی دعا دی‘ ہم باہر آ گئے‘ کافی شاپ گھر سے ذرا سے فاصلے پر تھی‘ ہم پیدل چل پڑے‘ میں نے راستے میں دوست سے پوچھا ’’کیا تم اب بھی اپنے والد سے پیسے لیتے ہو؟‘‘ میرے دوست نے ہنس کر سر ہاں میں ہلایا اور بولا ’’بالکل میں روزانہ کئی مرتبہ والد صاحب سے پیسے لیتا ہوں‘کبھی پچاس روپے‘ کبھی سو روپے اور اگر تم جیسا کوئی معزز مہمان آ جائے تو پانچ سو اور ہزار روپے بھی لے لیتا ہوں‘‘۔

میں یہ سن کر حیران ہوا اور پھر پوچھا ’’آپ پچاس سال کی عمر میں والد سے پیسے لینے والے پہلے شخص ہو‘ اللہ نے آپ کو بہت کچھ دے رکھا ہے‘ آپ کے اپنے بچے بھی بڑے ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود والد سے روزانہ پیسے مانگنا مجھے منطق سمجھ نہیں آئی‘‘۔

میرا دوست مسکرایا‘ رکا‘ اپنا دایاں ہاتھ نیچے رکھا اور بایاں اس کے اوپر رکھ کر بولا ’’آپ بتاؤ ہمارے دو ہاتھ ہیں‘ ایک نیچے والا ہاتھ جسے ہم لینے والا ہاتھ کہتے ہیں اور دوسرا اوپر والا ہاتھ ہے جسے ہم دینے والا ہاتھ کہتے ہیں‘ ان دونوں میں سے افضل کون سا ہے؟‘‘۔

میں نے فوراً جواب دیا ’’اوپر والا یعنی دینے والا ہاتھ‘‘ اس نے مسکرا کر دیکھا اور پھر پوچھا ’’آپ اب ذرا فرض کرو آپ پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے ہو‘ آپ نے عمر بھر اپنی اولاد اور دائیں بائیں موجود لوگوں کو صرف دیا ہو لیکن پھر اچانک آپ نیچے والا ہاتھ بن جائیں اور آپ کو معمولی معمولی ضرورت کے لیے دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے تو پھر آپ کی فیلنگ کیا ہو گی؟‘‘ میں نے ذرا سا سوچ کر کہا ’’آپ بالکل ٹھیک کہتے ہیں‘ انسان اپنے آپ کو کمتر اور محتاج سمجھے گا‘‘۔

وہ مسکرایا اور پھر بولا ’’بالکل صحیح میرے والد پوری زندگی اوپر والا ہاتھ رہے‘ ہم جوانی تک ان سے مانگتے تھے‘ جوتے لینے ہوں یا کپڑے یا پھر مہمان ہوں ہم ابو سے پیسے مانگ کر اپنا خرچ چلاتے تھے‘ ابو ہمارا واحد سورس آف انکم تھے لیکن پھر ہم معاشی طور پر آزاد ہوتے چلے گئے اور والد کے سورس آف انکم کم ہوتے چلے گئے۔

ابو نے پوری زندگی کسی سے مانگا نہیں تھا‘ میں نے دیکھا یہ مجھ سے بھی نہیں مانگتے تھے‘ ان کی جیب مہینہ مہینہ خالی رہتی تھی‘ جوتے اور کپڑے بھی پرانے ہو جاتے تھے اور اگر ان کو دوا کی ضرورت پڑتی تھی تو بھی یہ خاموش رہتے تھے‘ میں شروع شروع میں اس رویے پر غصہ کرتا تھا۔

میرا خیال تھا والدین کا اپنی اولاد کی دولت پر حق ہوتا ہے لیکن مجھے اندازہ ہی نہیں تھا اوپر والا ہاتھ کبھی نیچے نہیں آ سکتا اور اگر اسے کبھی آنا پڑجائے تو اس کے لیے مر مٹنے کا مقام ہوتا ہے‘ میرے والد خود کو محتاج سمجھنے لگے تھے اور آہستہ آہستہ کمرے تک محدود ہو گئے تھے۔

میرا خیال تھا یہ بڑھاپے کی وجہ سے ہو رہا ہے‘ والد کی عمر 75 سال ہو چکی ہے‘ یہ علیل بھی رہنے لگے ہیں چناں چہ یہ ایکٹو لائف سے نکل رہے ہیں لیکن پھر میرے ساتھ ایک عجیب واقعہ پیش آیا‘ میرا بیٹا 17 سال کا تھا‘ اس نے اچانک مجھ سے پیسے لینا بند کر دیے۔

میں نے تحقیق کی تو پتا چلا یہ تعلیم کے ساتھ ساتھ آن لائین کام کرتا ہے اور اسے اس سے ٹھیک ٹھاک آمدنی ہو جاتی ہے چنانچہ اب اسے جیب خرچ کی ضرورت نہیں رہتی‘ یہ ماں اور اپنی بہنوں کوبھی پیسے دینے لگا۔

آپ یقین کریں مجھے برا لگا اور میں خود کو غیر ضروری اور محتاج سا محسوس کرنے لگا‘ مجھے اس وقت سمجھ آئی اوپروالا ہاتھ جب نیچے والا بنتا ہے تو اسے کتنی تکلیف ہوتی ہے‘ مجھے اس وقت اپنے والد کی تکلیف کا اندازہ ہوا‘ میں سیدھا ان کے پاس گیا اور بچپن کی طرح ان سے پوچھا‘ ابو کیا آپ کے پاس پچاس روپے ہیں۔

میرے والد اس وقت اداس بیٹھے تھے‘ آپ یقین کریں یہ الفاظ ان کے کانوں سے ٹکرانے کی دیر تھی‘ ان کے جسم میں توانائی آ گئی‘ یہ سیدھے ہو کر بیٹھے‘ بے اختیار جیب میں ہاتھ ڈالا اور 50 روپے نکال کر میرے ہاتھ پر رکھ دیے‘ مجھے پچاس روپے دینے کے بعد ان کی باڈی لینگوئج ہی بدل گئی‘ یہ چہکنے لگے۔

بس وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں اپنے والد سے روزانہ ایک دو مرتبہ پیسے مانگتا ہوں‘ میں ان سے باہر جانے سے قبل اجازت بھی لیتا ہوں‘ یہ شروع میں انکار کرتے ہیں‘ حالات کی خرابی کا شکوہ کرتے ہیں‘ احتیاط کا مشورہ دیتے ہیں اور اس کے بعد مجھے جانے کی اجازت دے دیتے ہیں‘ اس سے میرے ان کے ساتھ تعلقات بھی اچھے ہو گئے ہیں اور یہ خوش بھی ہیں‘‘ وہ خاموش ہو گیا۔

میں نے اس سے پوچھا ’’لیکن تم والد کو پیسے کیسے دیتے ہو؟ ان کا سورس آف انکم تو کوئی نہیں‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’میں نے اپنی تنخواہ کا آدھا حصہ ان کے نام ٹرانسفر کر دیا ہے‘ یہ رقم سیدھی ان کے اکاؤنٹ میں آتی ہے‘ چیک بک بھی ان کے پاس ہے‘ یہ رقم نکلواتے ہیں اور اپنی جیب اور الماری میں رکھ لیتے ہیں اور وہاں سے نکال نکال کر مجھے دیتے رہتے ہیں۔

میں نے سبزی اور فروٹ کی ذمے داری بھی ان کو سونپ دی ہے‘ ملازمین ان سے پیسے لیتے ہیں اور فروٹ اور سبزی خرید کر کچن میں دیتے ہیں‘ دودھ اور گوشت بھی ابو کی ڈیوٹی ہے‘ یہ خود دودھ خریدتے ہیں‘ دودھی کو ’’پے منٹ‘‘ بھی کرتے ہیں‘ گوشت کی دکان سے بھی انھی کا رابطہ ہے‘ جس دن قصاب کے پاس اچھا گوشت ہوتا ہے یہ ابو کو فون کر کے بتا دیتا ہے اور ابو جی خوش ہو جاتے ہیں۔

میں کپڑے بھی ان کی مرضی کے خریدتا ہوں اور اگر آپ جیسے دوست آ جائیں تو ان سے پیسے مانگ کر انھیں چائے کافی بھی پلاتا ہوں‘ اس سے میرے والد کی صحت بھی اچھی ہو گئی اور ہمارے تعلقات بھی‘‘ وہ خاموش ہو گیا‘ میں نے اس سے عرض کیا ’’آپ یہ بھی دیکھیں آپ کو یہ حقیقت اس وقت پتا چلی جب آپکا اپنا بیٹا خود مختار ہوا اور آپ نے خود کو نیچے والا ہاتھ محسوس کیا‘‘ اس نے ہاں میں سر ہلا دیا۔

میں نے عرض کیا ’’ہم سب کی یہی ٹریجڈی ہے‘ ہمیں زندگی کی حقیقتوں کا ادراک اس وقت ہوتا ہے جب وقت کا پہیہ گھوم کر ہمارے پاس آجاتا ہے‘ مجھے چند دن قبل کامیڈین اور اداکار افتخار ٹھاکر کا ایک کلپ دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ ٹھاکر صاحب نے اس میں بتایا‘ میرابھائی رات کو عموماً لیٹ گھر واپس آتا تھا‘ میرے والد اس کے انتظار میں صحن میں بے چین ہو کر پھرتے رہتے تھے‘ وہ جب آتا تھا تو والد اس سے صرف اتنا پوچھتے تھے تم کہاں رہ گئے تھے اور اس کے بعد سونے کے لیے چلے جاتے تھے۔

یہ روز کا معمول تھا‘ بھائی ایک رات زیادہ لیٹ ہو گئے‘ وہ واپس آیا اور والد کو پریشان دیکھا تو ناراض ہو کر بولا‘ ابو آپ ساری رات صحن میں کیوں پھرتے رہتے ہیں‘ میں اب بڑا ہو گیا ہوں‘ آپ مجھے بچہ سمجھنا بند کریں‘ والد نے یہ سن کر صرف اتنا کہا‘ بیٹا میں اللہ سے صرف اتنی دعا کر رہا تھا یہ تمہیں جلد سے جلد صاحب اولاد بنائے تاکہ تمہیں میری پریشانی کا اندازہ ہو سکے۔

اللہ کی کرنی کیا ہوئی؟ میرے بھائی کی شادی ہو گئی‘ اللہ تعالیٰ نے اسے اولاد کی نعمت سے نوازدیا‘ بیٹا ذرا بڑا ہوا تو اس نے بھی رات گھر سے غائب ہونا شروع کر دیا‘ ایک رات میرا بھتیجا لیٹ ہو گیا‘ میرا بھائی باہر تھڑے پر بیٹھ کر اس کا انتظار کر رہا تھا‘ والد آئے اور بھائی کو تسلی دے کر بولے‘ بیٹا تم کیوں پریشان ہو رہے ہو تمہارا بیٹا اب سیانا ہو گیا ہے‘ یہ کوئی بچہ تو نہیں‘ آ جائے گا‘ یہ سن کر بھائی کو اپنی جوانی یاد آ گئی‘ وہ اٹھا اور والد کی ٹانگوں سے لپٹ کر رونا شروع کر دیا‘ افتخار ٹھاکر صاحب نے یہ واقعہ سنا کر کہا‘ میرے بھائی کو والد کی تکلیف کا احساس اس وقت ہوا جب یہ خود باپ بنا اور اس کے بیٹے نے بھی وہ غلطی شروع کر دی جو یہ جوانی میں کرتا تھا‘‘۔ یہ سن کر میرے دوست کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔

ہم اس دوران کافی شاپ پہنچ گئے‘ کافی کا آرڈر دیا اور اس کے بعد میں نے اسے اپنا واقعہ سنایا‘ میں نے بتایا‘ آج سے 20 سال قبل میرے گھر کی پانی کی موٹر خراب ہو گئی تھی‘ گرمیوں کے دن تھے‘ خوف ناک دھوپ پڑ رہی تھی اور میں مکینک کے ساتھ کھڑا ہو کر موٹر ٹھیک کرا رہا تھا‘ میرے والد مجھے بار بار کہہ رہے تھے گرمی بہت زیادہ ہے‘ دھوپ ہے‘ سائے میں آ جاؤ‘ تمہیں سن اسٹروک ہو جائے گا لیکن میں ان کا مشورہ اگنور کر رہا تھا۔

میرا خیال تھا میں نے اگر موٹر ٹھیک نہ کرائی تو ٹینکی میں پانی ختم ہو جائے گا‘ ابا جی کہتے رہے اور میں اگنور کرتا رہا‘ یہ سلسلہ تھوڑی دیر چلتا رہا‘ والد اس دوران اندر گئے‘ میرے بیٹے کو اٹھا کر لائے اور اسے میرے ساتھ دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ میں نے تڑپ کر احتجاج کیا‘ اباجی یہ چھوٹا بچہ ہے اور آپ نے اسے دھوپ میں کھڑا کر دیا‘ آپ کتنے ظالم ہیں۔

میرے والد اس وقت تک برآمدے میں بیٹھ چکے تھے‘ وہ ہنسے اور اونچی آواز میں کہا‘ بیٹا تم بھی میرے بیٹے ہو اگر تم اپنے بیٹے کو دھوپ میں برداشت نہیں کر سکتے تو میں اپنے بیٹے کو دھوپ میں کیسے دیکھ سکتا ہوں چناں چہ جب تک تم میرے بیٹے کو دھوپ میں کھڑا رکھو گے اس وقت تک تمہارا بیٹا بھی دھوپ میں رہے گا۔

مجھے شروع میں برا لگا لیکن پھر میں نے ٹھنڈے دل سے سوچا تو میرے والد کی بات ٹھیک تھی‘ میں اگر اپنے بچے کی تکلیف نہیں دیکھ سکتا تھا تو میرے والد میری تکلیف کیسے برداشت کر سکتے تھے؟‘‘ میں نے اس کے بعد اس سے کہا ’’ہم سب کی بدقسمتی ہے ہم حقیقتوں کو اس سے پہلے انڈر اسٹینڈ نہیں کر پاتے جب تک ہم خود اس صورت حال کا شکار نہیں ہوتے

Copied

14/01/2025

تم اور میں کبھی بیوی اور شوہر تھے؛
پھر
تم ماں بن گئیں اور میں باپ بن کے رہ گیا

تم نے گھر کا نظام سنبھالا اور میں نے زریعہ معاش کا
اور پھر تم
"گھر سنبھالنے والی ماں" بن گئیں اور میں کمانے والا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔۔

بچوں کو چوٹ لگی تو تم نے گلے لگایا اور میں نے سمجھایا
تم محبت کرنے والی ماں بن گئیں اور میں صرف سمجھانے والا باپ ہی رہ گیا۔۔

بچوں نے غلطیاں کیں تم ان کی حمایت کر کے "understanding mom" بن گئیں اور میں
"نہ سمجھنے والا" باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔

"بابا ناراض ہوں گے" یہ کہہ کر تم اپنے بچوں کی"best friend" بن گئیں۔۔۔ اور میں غصہ کرنے والا باپ بن کے رہ گیا....

تم سارا دن بچوں سے راز و نیاز کرتے ہوئے اپنا مستقبل محفوظ بناتے ہوئے بچوں کے ذہنوں میں گھر کرتی چلی گئیں۔۔۔
اور میں فقط گھر کا مستقبل بنانے کے لیے اپنا آج برباد کرتا چلا گیا۔

تمہارے آنسوؤں میں ماں کا پیار نظر آنے لگا اور میں بچوں کی انکھوں میں فقط بے رحم باپ بن کے رہ گیا۔۔۔۔

تم چاند کی چاندنی بنتی چلی گئیں اور پتہ نہیں کب میں سورج کی طرح آگ اگلتا باپ بن کر رہ گیا۔۔۔

تم ایک "رحم دل اور شفیق ماں" بنتی گئیں اور میں تم سب لوگوں کی زندگی کا بوجھ اٹھانے والا صرف ایک باپ بن کر رہ گیا۔

یہ ایک انتہائی تلخ معاشرتی تصویر ہے۔

*بہت کم ایسی مائیں ملیں گی جو اپنے بچوں کے سامنے اُنکے باپ کا مقام بُلند کرکے رکھتی ہیں جو بچوں کو یہ بتاتی ہیں کہ کیسے اُنکا باپ اپنے آگے کا نوالہ اپنے بچوں کو کھلا کر خود بھوکا رہ جاتا ہے۔ کیسے ایک باپ سارا دن اپنے بچوں کے رزق کیلئے مارا مارا پھرتا ہے۔ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کیلئے کیا کیا قربانیاں دیتا ہے اور کن کن تکالیف کا سامنا کرتا ہے- کسطرح اُنکو اُنکے پیروں پر کھڑا کرنے کیلئے اپنے آپ کو برباد کر لیتا ہے خود کو ختم کر لیتا ہے۔ تب کہیں جاکر اولاد کسی قابل بنتی ہے۔*
*مگر اولاد کو یہ بتانے اور سمجھانے والی مائیں اُنکو یہ نہیں بتا پاتیں۔ اسی لیئے اولاد اُس وقت تک اس بات کو سمجھ ہی نہیں پاتی جب تک وہ خود باپ نہ بن جائے اور تب تک بہت دیر ہو چُکی ہوتی ہے۔
ک
Copied

Affordable Web Hosting Services - Arham Technologies 06/11/2024

Affordable Web Hosting Services - Arham Technologies Arham Technologies offers budget-friendly web hosting services that are perfect for individuals and small businesses. Our hosting plans come with reliable performance, excellent customer support, and easy-to-use features.

16/10/2024

16اکتوبر یوم شہادت
لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922ء میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی۔ 1923ء میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1936ء میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔
سولہ اکتوبر1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسۂ عام سے خطاب کرنا تھا۔ اوائل سرما کی اس شام نوابزادہ لیاقت علی خان پونے چار بجے جلسہ گاہ میں پہنچے۔ ان کےاستقبال کے لیے مسلم لیگ کا کوئی مرکزی یا صوبائی رہنما موجود نہیں تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنماؤں نے ان کا استقبال کیا۔ مسلم لیگ گارڈز کے مسلح دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ پنڈال میں چالیس پچاس ہزار کا مجمع موجود تھا
مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد لیاقت علی خاں مائیک پر آئے۔انہوں نے ابھی ’برادران ملت‘ کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔
وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر شہیدہوگئے۔
اگلے روز 17 اکتوبر 1951ء کو شہید ملت لیاقت علی خان کو قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے احاطے میں دفن کردیا گیا۔ حکومت پاکستان نے شہید ملت کے قتل کے اسباب کی تحقیقات کے لیے دو خصوصی کمیشن بھی تشکیل دیے مگر وہ دونوں کمیشن بھی سوائے اس کے کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ لیاقت علی خان کا قتل سید اکبر کا انفرادی فعل تھا
شہید ملت لیاقت علی خاں نے ایک نوزائیدہ ملک کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا عظیم کارنامہ سر انجام دیا اور اس کی اقتصادی صورتحال کو مستحکم کیا۔ ان کے دور میں ایک سو پاکستانی روپے ، 144 بھارتی روپوں کے برابر تھے۔
تقسیم کے بعد ہونے والے فسادات اور ان کے نتیجہ میں لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کی آمد سے پیدا ہونے والے مسائل سے عہدہ برآہ ہونے میں بھی کامیاب رہے۔
ان کے دور میں دنیا کی سب سے بڑی جوٹ مل قائم کی گئی تھی اور کوٹری بیراج کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا۔
انہی کے دور میں کراچی میں ناظم آباد کے ایک بڑے رہائشی منصوبے کا آغاز بھی کیا گیا تھا۔
انہوں نے عوامی جمہوریہ چین کو تسلیم کیا اور روس میں سفیر مقرر کر کے دور اندیشی کا ثبوت دیا تھا۔
شہادت کے بعد جب شہید ملت کی شیروانی اتاری گئی تو اس کے نیچےکرتا موجود نا تھا اور جو بنیان آپ نے پہن رکھا تھا وہ بھی پھٹا ہوا
تھا ملک کےوزیراعظم ہونےکےباوجود
شہادت کے بعد ان کے بینک اکاونٹ میں محض چند روپے تھے
آج 16 اکتوبر قائد ملت شہید ملت لیاقت علی خاں کی برسی تھی جو ہر سال کی طرح اس بار بھی خاموشی سے گزر گئی ملک کا سیاسی درجہ حرارت ضمنی انتخابات ہار جیت تیر بلا شیر ہی ہم سب کا موضوع سخن رہا اور اکابرین تحریک پاکستان کی یاد اور ان کی قربانیاں ہمیں نا تو ہمیں یاد رہی اور شائد نا ہی ہم یاد رکھنا چاہتے ہیں
ت

15/10/2024

"نواذیبو کی ٹرین"، جسے "ریگستان کی قطار" بھی کہا جاتا ہے، موریتانیا میں نقل و حمل کا ایک منفرد اور اہم ذریعہ ہے، اور ہزاروں لوگوں کے لیے زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ ٹرین شمالی موریتانیا کے دو اہم شہروں ازویرات اور نواذیبو کے درمیان سفر کرتی ہے، جو تقریباً 700 کلومیٹر طویل صحرا کے علاقے کو عبور کرتی ہے۔ ٹرین نہ صرف ان شہروں کے باشندوں کو سفر اور رابطے کا موقع فراہم کرتی ہے بلکہ یہ موریتانیا کی معیشت میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

نواذیبو ٹرین کے بارے میں مزید اہم حقائق:

1. دنیا کی سب سے طویل ٹرین:

اس کا کل طول تقریباً 2.5 کلومیٹر ہے، جو اسے دنیا کی سب سے لمبی ٹرینوں میں شمار کرتا ہے۔

اس میں تقریباً 250 بوگیاں ہوتی ہیں، جن میں سے زیادہ تر خام مال، بالخصوص لوہے کی خام دھاتیں لے جانے کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔

2. دنیا کی سب سے سست اور بھاری ٹرین:

ٹرین کی رفتار بہت کم ہوتی ہے اور یہ تقریباً 15 گھنٹے میں 700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔

ہر بوگی تقریباً 80 ٹن سرخ مٹی، جو لوہے کی بڑی مقدار پر مشتمل ہوتی ہے، لے جاتی ہے، جس سے ٹرین کا کل وزن 32,000 ٹن سے زیادہ ہو جاتا ہے۔

3. معیشتی اہمیت:

ٹرین ازویرات کے پہاڑی علاقوں سے خام لوہا نواذیبو کی بندرگاہ تک پہنچاتی ہے، جہاں سے یہ لوہا عالمی منڈیوں تک برآمد کیا جاتا ہے۔

یہ موریتانیا کی معیشت کے لیے اہم ہے، کیونکہ ملک کی بڑی آمدنی لوہے کی برآمدات سے ہوتی ہے۔

یہ ٹرین مسافروں اور مویشیوں کی بھی نقل و حمل کرتی ہے، خاص طور پر دیہی اور قبائلی علاقوں کے لوگوں کے لیے یہ ایک ضروری ذریعہ ہے۔

4. سفر کی سختیاں:

ٹرین کے مسافروں کو سخت موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ بیشتر لوگ بوگیوں میں بغیر کسی چھت کے سفر کرتے ہیں، جس سے وہ دھول، ریت، اور تیز ہواؤں کا شکار ہوتے ہیں۔

مسافروں کو اپنی حفاظت اور آرام کے لیے بہت زیادہ تیاری کرنی پڑتی ہے، کیونکہ ٹرین پر سہولیات محدود ہوتی ہیں۔

5. مقامی زندگی پر اثرات:

یہ ٹرین ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے زندگی کا ایک اہم حصہ ہے، کیونکہ یہ ان کی معاشرتی اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکزی ذریعہ ہے۔

دیہی علاقوں کے لوگ اس ٹرین کے ذریعے نہ صرف اپنے جانوروں اور سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں بلکہ اپنے کاروبار اور روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی اس پر انحصار کرتے ہیں۔

6. سیاحتی دلکشی:

حالیہ برسوں میں، دنیا بھر سے سیاح بھی اس ٹرین کا تجربہ کرنے کے لیے موریتانیا کا رخ کر رہے ہیں، کیونکہ یہ ٹرین صحرائی منظرناموں اور منفرد سفری تجربات کے لیے مشہور ہے۔

تاہم، اس کے سفر میں آرام کم ہے، اور زیادہ تر مسافر اپنے سفر میں مشکلات اور تھکاوٹ کا سامنا کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ایک نادر تجربہ فراہم کرتا ہے۔

نواذیبو ٹرین کا یہ منفرد اور طویل سفر موریتانیا کی تاریخ، معیشت، اور معاشرت کا ایک اہم جزو ہے، جو نہ صرف تجارتی اہمیت رکھتا ہے بلکہ مقامی لوگوں کے لیے روزمرہ زندگی میں بھی ایک لازمی کردار ادا کرتا ہے۔

26/09/2024

Important alert:

24/08/2024

💎 موریطانیہ کی ٹرین، جو دنیا کی سب سے لمبی اور بھاری ترین ٹرینوں میں سے ایک ہے، اس کی لمبائی 3 کلومیٹر ہے، 704 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے، اور 200-300 بوگیاں کھینچتی ہے، ہر ایک کا وزن 84 ٹن تک ہوتا ہے۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Block L North Nazimabad Karachi
Karachi
74700