12/02/2021
ایک ماہ میں تین،
بیلسٹک میزائل تجربات:
شاھین تھری، غزنوی، بابر:
۔
ایک ماہ سے بھی مختصر عرصے میں پاکستان نے یکے بعد دیگرے تین تباہ کن میزائلوں کے کامیاب تجربات کیے ھیں۔ جنوری کی اکیس یا بائیس تاریخ کو شاھین تھری بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ جبکہ جنوری کے ہی آخر میں غزنوی میزائل کا تجربہ کیا گیا۔ اور گیارہ فروری کو کروز میزائل بابر کا کامیاب تجربہ کیا گیا ھے۔۔۔
پاکستان کی جنگی تیاریاں اور بیلسٹک میزائلوں کے تجربات جو روایتی و غیر روایتی دونوں طرح کے ہتھیار لے جانے کی بھرہور صلاحیت رکھتے ھیں، یہ ظاہر کرتی ھیں کہ پاکستان کو کسی طاقتور ترین دشمن کی جانب سے جنگ مسلط کیے جانے کا خدشہ ھے. اسی خدشے کے پیش نظر پاکستان بھی اپنے میزائل سسٹمز کو بار بار ٹیسٹ کر رہا ھے۔۔۔
الحمدلله وطن عزیز کے دفاع کے لیے پاکستان کی مسلح افواج دن رات چوکس ھیں۔ لیکن افغانستان میں جنگ کے شعلے ایک بار پھر بھڑکنے والے ھیں. امریکہ ایک بار پھر افغان طالبان کے خلاف پاکستان سے کچھ بڑے مطالبات کرنے جا رہا ھے. کل کور کمانڈرز کانفرنس میں پاک فوج نے کچھ بڑے فیصلے کر لیے ھیں۔۔۔
پاک فوج کسی صورت بھی امریکہ کی مدد کرنے یا امریکہ کو جنگی سپلائی کیلیے راستہ دینے کے موڈ میں نہیں ھے۔ امریکہ کی جانب سے افغان امن معاہدہ توڑنے کی تیاری کی خبریں سن کر افغان طالبان نے اعلامیہ جاری کیا ھے کہ اب اگر امریکہ نے امن خراب کرنے کی کوشش کی تو امریکہ کو. پوری تاریخِ انسانی میں نشان عبرت بنائیں گے۔۔۔
اس کے علاوہ افغان طالبان نے پاکستان سے مطالبہ کیا ھے کہ امریکہ کو کسی صورت بھی جنگی سامان سپلائی کے لیے راستہ مت دینا اور نہ ہی کسی قسم کی مدد یا سہولت کاری کرنا۔ طالبان کے اس مطالبے کو بھی مدنظر رکھا گیا اور خود پاکستان نے بھی یہ فیصلہ کر لیا ھے کہ اب امریکہ کی کسی جنگ میں پاکستان شریک نہیں ھو گا۔۔۔
امریکی مطالبات ماننے سے انکار کی صورت میں ممکن ھے کہ بھارتی سرزمین سے یا مشرق و مغرب دونوں سمتوں سے پاک امریکہ جنگ چھڑ جائے، اسی خطرے کے پیش نظر اب بڑے پیمانے کی بڑی جنگی تیاریاں کی جا رہی ھے۔ قوم متحد ھو کر رہے کیونکہ دشمن ایک بار پھر میدان جنگ میں لڑنے کی بجائے اسی کوشش میں ھو گا کہ میدان جنگ سے زیادہ پاکستان کو داخلی انتشار میں دھکیلا جائے۔۔۔
داخلی وار کو ناکام بنانے کے کیے ھمیں متحد ھو کر رہنا ھو گا، تمام طرح کے سیاسی، لسانی، مسلکی معاملات میں نرم انداز اختیار کرنا ھو گا. بہرحال داخلی حالات چاھے جیسے بھی ھوں پاکستان کی پاک افواج ہر چیز سے قطع نظر صرف دفاع وطن عزیز کی جانب متوجہ ھیں. میزائل تجربات اسی سلسلے کی کڑی ھیں۔۔۔
میزائل تجربات سے دشمن کو بھی باور کروایا جا رہا ھے کہ پاکستان پر کسی بھی قسم کی جنگ مسلط کرنے کی غلطی مت کرنا ورنہ ردعمل تمھاری سوچ سے کہیں زیادہ سخت ھو گا. پاکستان ایک امن پسند ملک ھے لیکن کسی بھی قسم کی جارحیت کا جواب حیران کن انداز سے دیا جائے گا۔ جیسے 27 فروری 2019 میں دیا گیا تھا۔۔۔
عزیز ھم وطنو! افواج پاکستان اپنی سی تیاریاں کررہی ھیں. بحیثیت پاکستانی قوم ھمیں بھی کسی بھی جنگ سے نمٹنے کے لیے تیاری کرنی ھو گی. ھمیں ہر حال میں اپنی محافظ افواج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ھونا ھو گا۔۔۔

11/02/2021
10/02/2021
08/02/2021
08/02/2021