Danish Kada

Call Directions

Danish Kada Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Danish Kada, Library, 72 Q Block 6 P. E. C. H. S, Karachi.

📚 Sheikh Moazzam Khan
✍️ Columns | Current Affairs | Public Awareness

🎥 Daily Videos on History, Mysteries & Current Issues
⚖️ Awam k haq k liye awaaz
🇵🇰 Pakistan k masail par haqeeqat par mabni baat

📩 Contact for Promotion & Collaboration

28/09/2026

Karachi, KMC, Mustafa Kamal, the federal government and Pakistan’s political system — all these issues point toward one bigger question:

Why is Pakistan still struggling to move forward?

The debate over Karachi’s governance is not just about one city or one institution. It raises deeper questions about political structure, distribution of powers, accountability, resources and the relationship between the federation, provinces and local governments.

Against this backdrop, Sheikh Moazzam Khan presents his own analysis and asks a fundamental question:

If governments, institutions and political systems continue to change, why do the basic problems of the country remain unresolved?

Is the real problem the system itself, the way power is exercised, or the lack of accountability?

Watch Sheikh Moazzam Khan’s analysis on Pakistan’s political system, Karachi’s situation and the bigger question: Why is the country not getting better?

کیا پاکستان کی سیاستعوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ہےیا صرف اقتدار کی جنگ کے لیے؟جب سیاسی قوتیں اقتدار کی کشمکش میں مصروف ...
28/09/2026

کیا پاکستان کی سیاست
عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے ہے
یا صرف اقتدار کی جنگ کے لیے؟

جب سیاسی قوتیں اقتدار کی کشمکش میں مصروف ہوں،
تو مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولیات
عوام کے لیے کب ترجیح بنیں گی؟

اقتدار کی لڑائی جتنی بڑھے گی،
اس کی قیمت آخر عام آدمی ہی کیوں ادا کرے؟

شیخ معظم خان

28/09/2026

زندگی میں انسان کو اتنا ضرور سمجھنا چاہیےکہ اصل عظمت دولت، طاقت یا عہدے میں نہیں، انسانیت میں ہے۔کسی کے دکھ کو سمجھ لینا، کسی کا ہاتھ تھام لینا اور کسی کے لیے آسانی پیدا کرنا ہی حقیقی انسانیت ہے۔شیخ معظم خان

کیا صرف دولت ہی قانون ہے؟کیا طاقتور کے لیے قانون الگاور کمزور کے لیے الگ ہے؟اگر دولت سے انصاف خریدا جا سکتا ہے،تو پھر قا...
28/09/2026

کیا صرف دولت ہی قانون ہے؟

کیا طاقتور کے لیے قانون الگ
اور کمزور کے لیے الگ ہے؟

اگر دولت سے انصاف خریدا جا سکتا ہے،
تو پھر قانون کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے؟

ریاست میں قانون کی حکمرانی تب ہی قائم ہوتی ہے
جب امیر اور غریب، طاقتور اور کمزور،
سب ایک ہی قانون کے تابع ہوں۔

کیونکہ جہاں انصاف بکتا ہو،
وہاں قانون صرف کتابوں میں رہ جاتا ہے۔

27/09/2026
ہم ایک غریب اور مشکلات میں گھرا ہوا ملک ہیں، مگر ہماری حکمرانی کا انداز اکثر ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ہمارے پاس وسائل کی...
27/09/2026

ہم ایک غریب اور مشکلات میں گھرا ہوا ملک ہیں، مگر ہماری حکمرانی کا انداز اکثر ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے ہمارے پاس وسائل کی کوئی کمی ہی نہیں۔

یہاں بڑی بڑی سرکاری گاڑیاں، خصوصی طیارے، شاہانہ پروٹوکول، بھاری مراعات اور بڑی بڑی تنخواہیں ریاستی خزانے پر بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔ سوال صرف یہ نہیں کہ یہ اخراجات قانوناً ممکن ہیں یا نہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا ملک یہ بوجھ برداشت کرنے کی پوزیشن میں ہے؟

جب کروڑوں بچے غربت اور وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم ہوں، خاندان بنیادی ضروریات کے لیے پریشان ہوں، انصاف عام آدمی کے لیے مشکل ہو اور انسانی حقوق کے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کر پا رہے ہوں، تو ریاستی وسائل کے استعمال پر سوال اٹھانا عوام کا حق ہے۔

پارلیمان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا ہوگا کہ قوم نے اپنے نمائندے قانون سازی کے لیے منتخب کیے ہیں۔ پاکستان سے لے کر نچلی سطح تک اگر منتخب نمائندے سارا وقت ٹک ٹاک، فیس بک، تصویریں بنانے اور اپنی تشہیر میں صرف کریں گے تو نظامِ حکومت نہیں چلے گا۔ پارلیمان کا اصل کام قانون سازی، نگرانی، قومی پالیسی پر بحث اور عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔

یہ کہنا کہ “ہم نے فلاں اسکیم کے لیے پیسے دے دیے” بھی درست تصورِ حکمرانی نہیں۔ حکمران اپنی جیب سے نہیں، عوام کے ٹیکس اور قومی خزانے سے رقم خرچ کرتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کے تحت ریاستی اختیار عوامی امانت ہے، ذاتی ملکیت نہیں۔ قومی خزانے کی رقم کسی فرد یا جماعت کا ذاتی پیسہ نہیں۔

آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شخص کو قانون کے مطابق سلوک اور قانونی تحفظ کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 25 قانون کے سامنے برابری کا اصول بیان کرتا ہے۔ آرٹیکل 37 تعلیم، انصاف اور معاشرتی بہبود سے متعلق ریاستی ذمہ داریوں کی سمت متعین کرتا ہے۔ اسی طرح آئین کے مالیاتی ڈھانچے میں عوامی رقم کے استعمال کو قانونی اور آئینی طریقۂ کار سے جوڑا گیا ہے۔

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ پارلیمان اپنی اصل ذمہ داری کی طرف واپس آئے۔ قانون کو مضبوط کیا جائے، اداروں کو جواب دہ بنایا جائے، سرکاری اخراجات میں شفافیت لائی جائے اور ہر عوامی رقم کے استعمال کا حساب دیا جائے۔

دنیا کی جمہوری ریاستوں میں بھی حکومتی عہدہ ذاتی آسائش کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ سرکاری وسائل کے استعمال، سرکاری سفر اور حکومتی مراعات کے لیے قواعد، بجٹ، نگرانی اور جواب دہی کے نظام موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی شخصیات نہیں، اداروں اور قانون کو مضبوط کرنا ہوگا۔

غریب ملک کو شاہانہ طرزِ حکمرانی نہیں چاہیے۔
اسے مضبوط قانون، مؤثر پارلیمان، آزاد احتساب، فوری انصاف، معیاری تعلیم اور عوام کے پیسے کا ذمہ دارانہ استعمال چاہیے۔

کیونکہ ریاست کا خزانہ حکمرانوں کی جاگیر نہیں، عوام کی امانت ہے۔

شیخ معظم خان

عورت کو کم تر نہ سمجھوکبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ عورتیں کسی محفل میں داخل ہوتی ہیں تو انہیں اپنی موجودگی کا اعلان کرنے...
27/09/2026

عورت کو کم تر نہ سمجھو

کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ کچھ عورتیں کسی محفل میں داخل ہوتی ہیں تو انہیں اپنی موجودگی کا اعلان کرنے کے لیے ایک لفظ بھی بولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ نہ وہ بلند آواز میں گفتگو کرتی ہیں، نہ ہر بات میں اپنی رائے ٹھونسنے کی کوشش کرتی ہیں، نہ دوسروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کسی مصنوعی انداز کا سہارا لیتی ہیں، مگر پھر بھی محفل کی نگاہیں خود بخود ان کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ اس کشش کی وجہ خوبصورتی، مہنگے لباس، میک اپ یا ظاہری وجاہت ہے۔ مگر انسانی نفسیات ہمیں ایک مختلف تصویر دکھاتی ہے۔ اصل کشش اکثر چہرے سے زیادہ شخصیت میں ہوتی ہے، لباس سے زیادہ کردار میں ہوتی ہے اور الفاظ سے زیادہ انسان کے رویے میں ہوتی ہے۔

ایک ذہین عورت اپنے جذبات کو سمجھتی ہے۔ وہ غصے میں فوری فیصلہ نہیں کرتی۔ وہ ہر الزام کا جواب چیخ کر نہیں دیتی۔ وہ جانتی ہے کہ بعض اوقات خاموشی شکست نہیں بلکہ شعور کی علامت ہوتی ہے۔ مشکل حالات میں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا Emotional Regulation کہلاتا ہے، اور یہی صلاحیت انسان کو ردِعمل دینے کے بجائے سوچ سمجھ کر جواب دینے کے قابل بناتی ہے۔

دنیا کی تاریخ میں ایسی خواتین کی کمی نہیں جنہوں نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ عورت کمزور مخلوق نہیں۔ کلیوپیٹرا سے لے کر ملکہ الزبتھ اول تک، ماری کیوری سے لے کر روزا پارکس تک، مدر ٹریسا سے لے کر وانگاری ماتھائی تک، اور ملالہ یوسفزئی سے لے کر میریڈتھ جیسی بے شمار خواتین تک، تاریخ میں عورت نے اپنے عزم، علم اور حوصلے سے ایسے نقوش چھوڑے ہیں جنہیں وقت مٹا نہیں سکا۔

ماری کیوری نے علم کی دنیا میں وہ مقام حاصل کیا جہاں ان کے نام کے ساتھ صرف عورت ہونے کی شناخت کافی نہیں تھی؛ ان کی علمی محنت خود ان کی پہچان بن گئی۔ روزا پارکس نے ایک عام سی نشست کو تاریخ کے ایک بڑے علامتی واقعے میں بدل دیا۔ وانگاری ماتھائی نے ماحول، معاشرے اور انسانی وقار کے لیے کام کیا۔ اور ملالہ نے تعلیم کے حق میں اپنی آواز بلند کی تو دنیا کے سامنے یہ حقیقت دوبارہ آئی کہ ایک لڑکی کی آواز بھی کروڑوں انسانوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یہاں اصل سبق یہ نہیں کہ ہر عورت کو لازماً انہی عظیم شخصیات جیسا بننا ہے۔ سبق یہ ہے کہ عورت کی صلاحیت کو اس کی جنس کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔

ایک باوقار عورت “نہیں” کہنا جانتی ہے۔

وہ ہر درخواست قبول نہیں کرتی۔ ہر رشتے کو بچانے کے لیے اپنی عزت قربان نہیں کرتی۔ ہر شخص کو خوش رکھنے کے لیے اپنے اصول تبدیل نہیں کرتی۔ اس کی Boundaries واضح ہوتی ہیں۔ وہ کسی کو ذلیل کیے بغیر انکار کر سکتی ہے اور کسی سے نفرت کیے بغیر اپنے راستے الگ کر سکتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بعض مردوں کو اپنی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

عورت کا انکار آپ کی توہین نہیں۔

عورت کا اپنی مرضی سے فیصلہ کرنا آپ کی بے عزتی نہیں۔

عورت کا مالی طور پر خودمختار ہونا آپ کے خلاف بغاوت نہیں۔

اور عورت کا اپنی زندگی کے بارے میں رائے رکھنا کسی مرد کے اختیار کو چیلنج کرنا نہیں۔

ایک صحت مند معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں مرد اور عورت ایک دوسرے کو مقابل نہیں بلکہ انسان سمجھتے ہیں۔

ذہین عورت کم بول سکتی ہے، مگر کم سمجھ نہیں رکھتی۔ وہ محفل میں ہر بحث کا حصہ بننے کے بجائے لوگوں کو دیکھتی، سنتی اور سمجھتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ بعض لوگوں کو جواب دینا دراصل اپنی توانائی ضائع کرنا ہے۔

اس کا حلقۂ احباب بھی عموماً سوچ سمجھ کر بنتا ہے۔ وہ جانتی ہے کہ مسلسل منفی لوگوں کے درمیان رہنے سے ذہنی سکون متاثر ہوتا ہے۔ اس لیے وہ تعلقات کی تعداد کے بجائے ان کے معیار کو اہمیت دیتی ہے۔

ایک مضبوط عورت ناکامی سے بھی نہیں ڈرتی۔

وہ ناکام ہوتی ہے تو دنیا کو الزام دینے کے بجائے اپنے حصے کی ذمہ داری دیکھتی ہے۔ غلطی تسلیم کرنا اس کے لیے ذلت نہیں بلکہ ترقی کا راستہ ہے۔ وہ جانتی ہے کہ زندگی میں گر جانا شکست نہیں؛ گر کر وہیں پڑے رہنا شکست ہے۔

وہ خود پر سرمایہ کاری کرتی ہے۔

کتاب پڑھتی ہے، ہنر سیکھتی ہے، اپنے پیشے میں آگے بڑھتی ہے، اپنی صحت کا خیال رکھتی ہے، اپنی ذہنی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ زیور، لباس اور ظاہری حسن وقت کے ساتھ بدل سکتے ہیں، لیکن علم اور کردار انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔

اور ایک اہم بات—وہ اپنی مالی زندگی کو بھی سمجھتی ہے۔

اپنے پیسے کو سنبھالنا، مستقبل کے لیے بچت کرنا اور ضرورت کے وقت اپنے فیصلے خود کر سکنا غرور نہیں، شعور ہے۔ ایک عورت اگر معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے رشتوں یا خاندان کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بے بسی کو کم کرنا چاہتی ہے۔

وہ ہمدرد بھی ہوتی ہے، مگر اپنی ہمدردی کی قیمت اپنی تباہی سے ادا نہیں کرتی۔

وہ کسی کا دکھ سنتی ہے، مدد کرتی ہے، ساتھ کھڑی ہوتی ہے، مگر اگر کوئی مسلسل اس کی نرمی کا فائدہ اٹھانے لگے تو وہ پیچھے ہٹنا بھی جانتی ہے۔

اور شاید سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ وہ اکیلے رہنے سے نہیں ڈرتی۔

وہ جانتی ہے کہ تنہائی اور تنہا پن ایک چیز نہیں۔ کبھی انسان لوگوں کے ہجوم میں بھی تنہا ہوتا ہے، اور کبھی اکیلے کمرے میں بیٹھ کر اپنی ذات کے ساتھ مکمل سکون محسوس کرتا ہے۔

دنیا کی کئی عظیم خواتین نے اپنے سفر میں ایسے مراحل دیکھے جہاں انہیں تنقید، مخالفت، تنہائی اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے اپنے وجود کی قیمت دوسروں کی منظوری سے طے نہیں کی۔

یہاں مردوں کے لیے ایک بات بہت اہم ہے۔

عورت کو کم تر نہ سمجھو۔

اس کی خاموشی کو کمزوری نہ سمجھو۔

اس کے صبر کو بزدلی نہ سمجھو۔

اس کی نرمی کو اجازت نہ سمجھو۔

اور اس کی محبت کو اپنا حق نہ سمجھو۔

عورت بہادر ہے، دلیر ہے، حساس ہے، مضبوط ہے۔ وہ گھر سنبھال سکتی ہے، کاروبار چلا سکتی ہے، علم حاصل کر سکتی ہے، میدانِ عمل میں مقابلہ کر سکتی ہے، بچوں کی پرورش کر سکتی ہے، خاندان کا سہارا بن سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنے حق کے لیے تنہا کھڑی بھی ہو سکتی ہے۔

لیکن ایک بات یاد رکھیے: مضبوط انسان کو بھی مسلسل دباؤ میں رکھا جائے تو وہ ٹوٹ سکتا ہے۔

اس لیے عورت کو مجبور نہ کریں۔ اسے خوف زدہ نہ کریں۔ اسے ذہنی اذیت نہ دیں۔ اس کی عزت کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔

محبت اگر قید بن جائے تو محبت نہیں رہتی۔

رشتہ اگر خوف بن جائے تو رشتہ نہیں رہتا۔

اور اختیار اگر دوسرے انسان کی آزادی چھین لے تو وہ اختیار نہیں، ظلم بن جاتا ہے۔

عورت کو سمجھنے کی کوشش کیجیے، اسے فتح کرنے کی نہیں۔

کیونکہ عورت کوئی جنگ نہیں جسے جیتا جائے۔

وہ ایک انسان ہے، جسے عزت، اعتماد، آزادی، محبت اور تحفظ چاہیے۔

اور شاید یہی ایک مہذب معاشرے کی سب سے بڑی پہچان ہے کہ وہاں طاقتور انسان کمزور کو دبانے کے بجائے اس کا ہاتھ تھامتا ہے۔

عورت کو کم تر سمجھنے والا شاید یہ بھول جاتا ہے کہ اس کی پہلی استاد بھی ایک عورت تھی، اس کی پہلی محبت بھی اکثر ایک عورت تھی، اس کے وجود کی پہلی محافظ بھی ایک عورت تھی۔

اس لیے عورت کو عزت دینا کسی پر احسان نہیں۔

یہ انسانیت کا بنیادی تقاضا ہے۔

شعر

عورت کو کم نہ سمجھ، یہ حوصلوں کی جان ہے
وہ خاموش ہو تو صبر ہے، بولے تو اک جہان ہے

اسے قید مت کرو کہ وہ پرواز جانتی ہے
وہ ٹوٹ کر بھی جڑنے کا انداز جانتی ہے

شیخ معظم خان

بالکل۔ میں پچھلی تحریر میں کوئی حصہ کاٹے بغیر یہ نکتہ شامل کر رہا ہوں، اور اسے مزید مؤثر انداز میں جوڑ رہا ہوں:ویوز، لائ...
27/09/2026

بالکل۔ میں پچھلی تحریر میں کوئی حصہ کاٹے بغیر یہ نکتہ شامل کر رہا ہوں، اور اسے مزید مؤثر انداز میں جوڑ رہا ہوں:

ویوز، لائکس اور پیسہ — کیا صحافت کا مقصد یہی رہ گیا ہے؟

آج کے ڈیجیٹل دور میں ویوز، لائکس، شیئرز، فالوورز اور پیسہ کمانا بذاتِ خود کوئی بری بات نہیں۔ مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب یہ چیزیں صحافت اور اظہارِ رائے کا اصل مقصد بن جائیں۔

بعض اوقات خبر اس انداز میں پیش کی جاتی ہے جیسے خبر دینے والا ملک کی ہر بڑی میٹنگ میں موجود ہو، اعلیٰ ترین افسران کے ساتھ بیٹھا ہو، ہر فیصلے کا عینی شاہد ہو اور اسے اندر کی ہر بات معلوم ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہر خبر کا ذریعہ اتنا باخبر ہوتا ہے، یا بعض اوقات خبر کو صرف اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے تاکہ سنسنی پیدا ہو، لوگ متوجہ ہوں اور ویوز بڑھیں؟

جان بوجھ کر ایسی سرخی، ایسا جملہ یا ایسی خبر پیش کی جائے جس کے بارے میں پہلے ہی اندازہ ہو کہ اس سے کسی کو تکلیف پہنچے گی، ردِعمل آئے گا، گالیاں دی جائیں گی اور بحث شروع ہوگی، تو پھر وہ غصہ بھی ایک طرح کا کاروبار بن جاتا ہے۔

گالی دینے والا بھی ویو بن جاتا ہے، بدتمیزی کرنے والا بھی ویو بن جاتا ہے، مخالف بھی ویو بن جاتا ہے اور حمایتی بھی ویو بن جاتا ہے۔

پھر سوال یہ ہے کہ مقصد خبر دینا ہے یا ردِعمل بیچنا؟

اور بعض اوقات تو صورتِ حال یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ سوشل میڈیا کی شہرت کو اپنی اصل سماجی حیثیت سمجھ لیا جاتا ہے۔ کیمرے کے سامنے ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے پورا معاشرہ ان کی بات سننے کو بے قرار ہے، مگر اصل عزت کا پیمانہ کیمرہ، لائکس اور فالوورز نہیں؛ انسان کا کردار، گھر والوں کا اعتماد اور معاشرے میں اس کا حقیقی رویہ ہے۔

یہاں ایک بنیادی بات بھی یاد رکھنی چاہیے: کوئی کام چھوٹا نہیں ہوتا۔ گھر میں صفائی کرنے والا ہو، دفتر کا ملازم ہو یا کوئی افسر—ہر محنت کرنے والے انسان کی عزت اپنی جگہ ہے۔ کسی انسان کی تذلیل کرکے دوسرے کی عزت ثابت نہیں کی جا سکتی۔

اور سب سے حساس معاملہ ہماری بیٹیاں اور ہماری عورتیں ہیں۔ بیٹیاں کسی ایک گھر کی نہیں ہوتیں، بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔

جب کسی سیاسی اختلاف، ذاتی دشمنی یا ویوز کے لالچ میں کسی عورت کو گھسیٹا جاتا ہے، اس کی ذاتی زندگی کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے، اس کے خاندان یا نجی معاملات کو اچھالا جاتا ہے، تو ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس کا معاشرے پر کیا اثر پڑے گا؟

آج آپ کسی کی بیٹی کو موضوعِ تضحیک بنائیں گے، کل کوئی دوسرا آپ کی بیٹی کے بارے میں یہی زبان استعمال کرے گا۔ آج آپ کسی کی عزت کو ویوز کے لیے استعمال کریں گے، کل یہی رویہ پورے معاشرے کے لیے معمول بن جائے گا۔

جب بیٹیوں کی عزت بھی ویوز، لائکس اور سیاسی مفادات کے ترازو میں تولی جانے لگے تو پھر معاشرے کی اخلاقی بنیادیں کمزور ہوتی ہیں۔

ہمیں اختلاف ضرور کرنا چاہیے، سوال ضرور اٹھانا چاہیے، احتساب بھی ہونا چاہیے، لیکن کسی کی ماں، بہن، بیٹی یا ذاتی زندگی کو تماشہ بنا کر نہیں۔

کیونکہ قومیں صرف معیشت سے نہیں بنتیں؛ قومیں اپنے اخلاق، اپنی زبان، اپنی اقدار اور اپنی آنے والی نسلوں کی تربیت سے بنتی ہیں۔

اگر ہم نے اپنی گفتگو سے گالی، تضحیک، کردار کشی اور ذاتی حملوں کو معمول بنا دیا تو سب سے بڑا نقصان کسی ایک شخص کا نہیں ہوگا؛ نقصان ہماری آنے والی نسلوں کا ہوگا۔

ٹاک شوز میں بھی بعض اوقات بلند آواز، تلخ جملے اور ایک دوسرے پر الزامات اصل موضوع سے زیادہ اہم دکھائی دیتے ہیں۔ سیاست میں حکومت اور اپوزیشن بھی ایک دوسرے کے خلاف سخت بیانات کے ذریعے عوام کی توجہ حاصل کرتی ہیں۔

سوال یہ نہیں کہ ویوز کیوں آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہم ویوز حاصل کرنے کے لیے کیا قیمت ادا کر رہے ہیں؟

اگر کسی کی عزت مجروح کرکے، معاشرے میں نفرت بڑھا کر، لوگوں کو آپس میں لڑا کر یا جان بوجھ کر اشتعال پیدا کرکے شہرت اور پیسہ کمایا جائے تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا:

کیا صحافت کا مقصد عوام کو آگاہ کرنا ہے، یا عوام کے غصے کو بھی ایک قابلِ فروخت چیز بنا دینا ہے؟

ویوز، شہرت اور پیسہ کامیابی کا پیمانہ ہو سکتے ہیں، لیکن کردار اور ذمہ داری کے متبادل نہیں۔

شیخ معظم خان

Address

72 Q Block 6 P. E. C. H. S
Karachi
75400

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 09:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

03212505957

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Danish Kada posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category