ردِ الحاد Rejection of atheism

ردِ الحاد Rejection of atheism

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from ردِ الحاد Rejection of atheism, Child protection service, Karachi.

20/07/2024

#ردُّالالحاد_کورس #قسط:7
"نظریہ ارتقاء ایک فریب" (حصہ اول)
نظریہ ارتقاء کا تعارف:
نظریہ ارتقاء کے مطابق ساری جاندار اشیاء ایک اکیلے خلیے سے وجود میں آئیں،
پہلا خلیہ کیسے وجود میں آیا ؟ اس معمے کا نظریہ ارتقاء کے حامیوں کے پاس کوئی جواب نہیں ہے سوائے اس کے کہ غیر جاندار اجزا نے اتفاقا ایک خلیہ پیدا کر دیا۔ خلیے کے وجود میں آنے سے پانی میں انتہائی چھوٹے جاندار اجسام پھیلنا شروع ہو گئے اسی دور میں پانی میں مچھلیاں نمودار ہوئیں مچھلیاں عمل ارتقا کے زریعے بحری حیوانات میں تبدیل ہو گئیں "جانور" جو پہلے صرف پانی تک محدود تھے ، اب خوارک کی کمی یا محفوظ جائے پناہ کی خاطر پانی سے خشکی کی طرف منتقل ہونے لگے پھر زمین پر آئے اور رینگنے والی مخلوق میں تبدیل ہو گئے ان کی ابتدا چھوٹے جانوروں سے ہوئی۔ ان کے پچھلے پر دو ٹانگیں اور دم نمودار ہو گئی زمین پر رینگتے ہوئے جاندار خوراک کی تلاش میں درختوں پر چڑھنے لگے یہ ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتے پھرتے تھے اور یونہی چھلانگیں لگاتے لگاتے ان کے پر نکل آئے۔ کچھ رینگنے والوں کے جب پاوں نکلے تو انھوں نے مکھیاں پکڑنے کی کوشش میں دوڑتے ہوئے اپنے اگلے بازو لہرانے شروع کیے، آہستہ آہستہ ان کے اگلے بازو پروں میں تبدیل ہو گئے، یوں تمام جانوروں کی نسلیں ایک مشترکہ جدا امجد سے بذریعہ عمل ارتقا وجود میں آئیں۔
(حوالہ: احمد رضا، نظریہ ارتقاء اور اسلامی تعلیمات ، مقالہ : علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، ص ۱۰)
انسانی ارتقاء کا منظر نامہ انیسویں صدی سے قبل مندرجہ بالا خیات و نظریات ایک گم نام نظریے کی حیثیت رکھتے تھے ۔ ۱۸۵۹ء میں چارلس ڈارون نے ایک فطری انتخاب کے ذریعے انواع کا ظہور ) نامی کتاب لکھ کر اس نظریے کو باضابطہ طور پر پیش کیا۔ ڈروان کے مطابق انسان اور بندر کا جد امجد ایک ہی ہے، گویا انسان بندر کا چچیر ابھائی ہے۔ ڈارون کے ہم نواؤں نے موجود انسان کا ارتقائی رشتہ چمپینزی جیسے بندروں سے ملایا ہے کچھ انتہا پسندوں نے تو انسان کو بندر کی اولاد تک قرار دے دیا ہے ان کے مطابق اس منزل تک پہنچے پہنچتے انسان کو چالیس لاکھ سال لگے پھر وہ آہستہ آہستہ شعور کی منزلیں طے کرنے لگا، لباس کا استعمال سیکھا، پتھر کا ہتھیار استعمال کرنا شروع کیا مزید لاکھوں سالوں بعد آگ کا استعمال اور غاروں میں رہنا شروع کیا۔
نظریہ ارتقاء کی تفصیل:
نظریہ ارتقاء اور جس طرح اس کا دفاع کیا جاتا ہے، اسے پیش کرنے والا ایک انگریز غیر پیشہ ور نیچری یا فطرت پرست چارلس رابرٹ ڈارون تھا۔
ڈارون نے حیاتیات کی رسمی تعلیم کبھی بھی حاصل نہیں کی تھی۔ اسے نیچر یا فطرت اور جاندار چیزوں کے موضوع میں
صرف شوقیہ حد تک دلچسپی تھی۔ اس کی یہ دلچسپی بڑھی تو اس نے رضا کارانہ طور پر ایک مہم میں شامل ہو کر H.M.S.Beagle نامی بحری جہاز کے ذریعے ۱۸۳۲ء میں انگلستان سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور پانچ برس کے عرصے میں دنیا کے مختلف خطے دیکھ ڈالے۔ ڈارون مختلف جانداروں کو دیکھ کر بے حد متاثر ہوا۔ بالخصوص جزائر Galapagos میں نظر آنے والی سنہری چڑیوں نے اسے بہت متاثر کیا تھا۔ اس کے خیال میں ان کی چونچوں کا مختلف ہونا ان کے وطن یا جائے پیدائش کے مختلف ہونے کی وجہ سے تھا جس کے مطابق یہ مختلف شکلوں
میں ڈھل گئی تھیں۔
اس خیال کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نے یہ فرض کر لیا تھا کہ زندگی کا آغاز اور جانداروں کی ابتدا اسی تصور "ماحول و جگہ سے مطابقت پذیری " میں پوشیدہ ہے۔
ڈارون کے خیال میں مختلف جانداروں کو اللہ نے علیحدہ علیحدہ تخلیق نہیں کیا تھا بلکہ ان سب کا ایک ہی مشترکہ مورث اعلیٰ یا جد امجد تھا اور یہ بعد میں قدرتی حالات کے نتیجے میں ایک دوسرے سے مختلف ہو گئے تھے۔
ڈارون کے اس قیاس یا بے دلیل دعوے کی بنیاد کسی سائنسی دریافت یا تجربے پر مبنی نہ تھی۔
تاہم کچھ وقت گزرنے کے بعد اس نے اسے ایک جھوٹے دعوے پر منحصر نظریے کی شکل دے دی تھی جس کے لئے اسے اپنے عہد کے مشہور مادہ پرست حیاتیات دانوں کی حمایت اور حوصلہ افزائی حاصل تھی۔
اس تصور کے مطابق افراد نے اپنے وطن اور جائے پیدائش کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیا تھا اور پھر
بہتر سے بہتر طور پر اپنی خوبیاں بعد میں آنے والی نسلوں کو منتقل کر دی تھیں۔ یہ سود مند اوصاف وقت کے ساتھ ساتھ جمع ہوتے گئے اور انہوں نے ایک فرد کو اس کے آباؤ اجداد سے بالکل مختلف شکل میں ڈھال دیا تھا۔ (ان سود مند خوبیوں کے آغاز کے بارے میں اس وقت کچھ معلوم نہ تھا)۔
ڈارون کی رائے میں اس میکانکی عمل کا نہایت ترقی یافتہ نتیجہ انسانی شکل میں سامنے آیا۔ ڈارون نے اس سارے عمل کو "ارتقاء بذریعہ فطری انتخاب “ کا نام دیا۔ اسے خیال گزرا کہ اس نے جانداروں کی ابتداء کا راز معلوم کر لیا ہے۔ اور یہ کہ ایک جاندار کی ابتدائے آفرینش کسی دوسرے جاندار سے ہوئی۔
اس نے ان خیالات کا اظہار ۱۸۵۹ء میں اپنی
( The Origin of Species by means of Natura Selection)
جانداروں کی ابتداء بذریعہ فطری انتخاب میں کیا تھا۔
(حوالہ: ہارون یحیی، نظریہ ارتقاء ایک فریب، اسلامک ریسرچ سینٹر پاکستان، لاہور ، طبع ۲۰۰۲، ص ۲۱،۲۲۰).
(....... جاری ہے. حصہ دوم قسط نمبر.8 میں ملاحظہ فرمائیں)
(مستفاد از: الحادی نظریات کا تحقیقی مطالعہ)

19/07/2024

#ردُّالالحاد_کورس #قسط:06
تخلیقِ کائنات کا اسلامی نظریہ.
کائنات کی تعریف سادہ الفاظ میں تو یوں کی جاسکتی ہے کہ وہ سب کچھ جو موجود ہے وہی کائنات ہے۔ اور بنیادی طور پر دو ہی چیزیں ہیں جو موجود کے دائرے میں آتی ہیں۔ ایک مادہ اور دوسری توانائی ، لہذا تمام مادے اور توانائی کو ملا کر مشترکہ طور پر کائنات کہا جاتا ہے۔ گو عموما کائنات سے مراد اجرام فلکی اور ان کے مابین موجود فضائیں اور ان کے مربوط نظام لی جاتی ہے جو قدرت کی طرف سے بنائے گئے ہیں، مگر در حقیقت کائنات میں وہ سب کچھ ہی شامل ہے جو موجود ہے۔ بعض اوقات اس لفظ کا استعمال انسانی حیات اور اس سے متعلقہ چیزوں کے لیے بھی کیا جاتا ہے اور یہاں بھی اس سے مراد "ہر موجود شے" کی ہوتی ہے، یہاں تک کہ انسانی تجربات اور خود انسان بھی اس دائرے میں آجاتے ہیں۔ علم الکائنات کی تعریف کے مطابق کائنات ، ذرات (particles) اور توانائی کی تمام موجودہ اقسام اور زمان و مکال (time and space) کا وہ مجموعہ جس میں تمام عوامل و واقعات رونما ہوتے ہیں۔
۱۹۲۹ء میں امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نے فلکیات کی تاریخ میں ایک عظیم دریافت کی۔ جس وقت وہ ایک بڑی دور بین کے ذریعے ستاروں کا مشاہدہ کر رہا تھا، اس نے دیکھا کہ ان سے نکلنے والی روشنی، طیف (Spectrum) کے سرخ سرے میں منتقل ہو رہی ہے اور جو ستارہ زمین سے جتنا دور ہے، یہ منتقلی اتنی ہی نمایاں ہے۔ سائنس کی دنیا میں یہ ایک تہلکہ خیز دریافت تھی، کیونکہ طبیعیات کے مُسَلَّمَہ اصولوں کے مطابق اگر کسی روشنی کا طیف (Spectrum) نقطہ مشاہدہ (پوائنٹ آف آبزرویشن) کی جانب سفر کر رہا ہو تو وہ بنفشی رنگ میں تبدیل ہو جائے گا، جبکہ روشنی کا یہ طیف نقطہ مشاہدہ سے دور ہو رہا ہو تو اس کی روشنی سرخ ہو جائے گی۔ ہبل نے اپنے مشاہدات میں دیکھا کہ روشنی سرخ ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ستارے ہم سے مسلسل دور ہوتے جارہے ہیں۔
اس سے پہلے ہبل نے ایک اور اہم دریافت کی تھی۔ اس نے دیکھا کہ ستارے اور کہکشائیں نہ صرف ہم سے بلکہ ایک دوسرے سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں۔ اس مشاہدے سے کہ جہاں ہر شے دوسری شے سے دُور ہو رہی ہے ، صرف یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ کائنات مستقل پھیل رہی ہے۔
اس بات کو مزید اچھی طرح سمجھنے کے لیے آپ پھولتے غبارے کی سطح کا تصور کیجئے۔ بالکل اسی طرح جیسے پھولتے ہوئے غبارے کی سطح کے نقطے (پوائنٹس) ایک دوسرے سے دُور ہوتے چلے جاتے ہیں، بالکل اسی طرح پھیلتی ہوئی کائنات میں خلا میں موجود اجسام (ستارے، سیارے وغیرہ) ایک دوسرے سے دور ہو رہے ہیں۔
نظری طور پر تو یہ بات اس سے پہلے ہی دریافت کی جاچکی تھی۔ چنانچہ معروف سائنس داں البرٹ آئن سٹائن نے یہ بات نظری طور پر ثابت کی تھی کہ کائنات ساکن (Static) نہیں ہو سکتی۔ تاہم اس نے اپنے نظریے کا پر چار نہیں کیا، کیونکہ اس وقت ساکن کائنات کا نمونہ (Static Universe Model) وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا تھا۔ بعد میں اس بات کو ہبل کے مشاہدات نے ثابت کر دیا کہ کائنات پھیل رہی ہے۔ لیکن کائنات کی تخلیق کے سلسلے میں کائنات کے پھیلاؤ کی کیا حیثیت ہے ؟ کائنات کے پھیلاؤ کو ہم اگر پہلے کے وقت میں دیکھیں تو یہ ثابت ہو گا کہ کائنات ایک واحد نقطے (سنگل پوائنٹ) سے وجود میں آئی ہے۔ تخمینہ جات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس ” واحد نقطے “ (جس میں تمام کائنات کا مادہ سمایا ہوا ہو گا) کا حجم صفر اور کثافت لامتناہی (Infinite) ہو گی۔ چنانچہ ایک دھماکے کے بعد اس کائنات کا آغاز "صفر حجم “ (زیر و والیم ) سے ہوا ہو گا۔ یہ عظیم دھما کا جس سے کائنات کا آغاز ہوا، ایک نظریئے کے طور پر ”بگ بینگ“ کے نام سے جانا جاتا
ہے۔
صفر حجم “ ایک نظری وضاحت ہے جس کے ذریعے سائنس کسی شے کے ”عدم وجود “ کو ثابت کرتی ہے جو انسانی فہم سے ماورا ہے، لہذا ایک نقطے کو صفر حجم تسلیم کر کے ہی بات واضح کی جاسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ "صفر حجم والے ایک نقطے “ کا مطلب اس کا ” عدم وجود ہے۔ گویا کائنات ”عدم سے وجود میں آئی ہے۔ بالفاظ دیگر یہ ”تخلیق کی گئی ہے۔
بگ بینگ نظریہ بیان کرتا ہے کہ ابتدا میں تمام اجسام ایک ٹکڑا تھے اور پھر یہ علیحدہ علیحدہ ہوئے۔
یہ بات انتہائی قابل توجہ ہے کہ سائنس نے جو دریافتیں بیسویں صدی اور بالخصوص اس کی آخری چند دہائیوں میں حاصل کی ہیں قرآن مجید انہیں آج سے ١۴۰۰ سال پہلے بیان کر چکا ہے۔ تخلیق کائنات کے قرآنی اصولوں میں سے ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ ابتدائے خلق کے وقت کائنات کا تمام بنیادی مواد ایک اکائی کی صورت میں موجود تھا، جسے بعد ازاں پارہ پارہ کرتے ہوئے مختلف حصوں
میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس سے کائنات میں توسیع کا عمل شروع ہوا جو ہنوز مسلسل جاری و ساری ہے۔
قرآن مجید اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا.
(سورۃ الانبیاء 30)
اور کیا کافر لوگوں نے نہیں دیکھا کہ جملہ آسمانی کائنات اور زمین (سب) ایک اکائی (singularity) کی شکل میں جڑے ہوئے تھے ، پس ہم نے انہیں پھاڑ کر جدا کر دیا۔
اس آیت کریمہ میں دو الفاظ ”رتق" اور "فتق" خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ رتق کے معنی کسی شے کو ہم جنس مواد پیدا کرنے
کے لئے ملانے اور باندھنے کے ہیں۔ رتق، متضاد ہے فتق، کا، جس کا معنی توڑ نے ، جدا کرنے اور الگ الگ کرنے کا عمل ہے۔ قرآن مجید نے آج سے ۱۴ صدیاں قبل تخلیق کائنات کی یہ حقیقت عرب کے ایک جاہل معاشرے میں بیان کر دی تھی اور لوگوں کو یہ دعوتِ فکر دی تھی کہ وہ اس حقیقت کے بارے میں سوچیں۔ صدیوں کی تحقیق کے بعد بیسویں صدی کے وسط میں جدید علم تخلیقیات کے ماہرین نے بالکل وہی نظریہ منظر عام پر )astrophysics( اور علم فلکی طبیعیات )astronomy( علم فلکیات ،)cosmology( پیش کیا ہے کہ کائنات کی تخلیق ایک صفر درجہ جسامت کی اکائیت سے ہوئی۔ عظیم دھماکے کا نظریہ ( (Big Bang Theory) اس کی معقول تشریح و توضیح ہے۔
قرآن مجید میں تخلیق کائنات کے متعلق متعدد آیات ملتی ہیں جو کہ درج زیل ہیں :
إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَوتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْأَمْرُ .
حقیقت یہ ہے کہ تمھارا پرودگار اللہ ہے جس نے سارے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر اس نے عرش پر اس طرح استوا فرمایا کہ وہ ہر چیز کا انتظام کرتا ہے۔
سُبْحَنَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنْبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنْفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ
پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے پیدا کیے ہیں، اس پیداوار کے بھی جو زمین اگاتی ہے ، اور خودان انسانوں کے بھی، اور ان چیزوں کے بھی جنھیں ، لوگ (ابھی) جانے تک نہیں ہیں۔
وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَنْ تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ
اور ہم نے زمین میں مضبوط پہاڑ بنا دیئے تا کہ ایسا (نہ) ہو کہ کہیں (زمین اپنے مدار میں ) حرکت کرتے ہوئے انھیں لے کر کانپنے لگے اور ہم نے اس (زمین) میں کشادہ راستے (درے) بنائے تا کہ لوگ ( مختلف منزلوں تک پہنچنے کے لیے راہ پاسکیں۔
زمین کی بالائی فضا کی جانب اللہ رب العزت نے اہل زمین کے تحفظ کے لیے جو سات نہیں بنائی ہیں ان کا ذکر قرآن مجید میں اس طرح آیا ہے۔
ارشاد باری تعالی ہے۔
وبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًا شِدَادًا .
ترجمہ: اور ہم نے تمھارے اوپر سات مضبوط (آسمان) بنائے۔
طویل ترین بارشوں کے نتیجے میں زمین کو قابل زندگی بنانے کے سلسلے میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے :
وَأَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً بِقَدَرٍ فَأَسْكَتْهُ فِي الْأَرْضِ وَإِنَّا عَلَى ذَهَابَ بِهِ لَقَدِرُونَ
اور ہم ایک مقررہ مقدار میں ( عرصہ دراز تک ) بادلوں سے پانی برساتے رہے، پھر جب زمین ٹھنڈی ہو گئی تو ہم نے اس پانی کو زمین کی نشیبی جگہوں ) میں ٹھہر ادیا ( جس سے ابتدائی سمند ر وجود میں آئے) اور بے شک ہم اسے ( بخارات بنا کر اڑا دینے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔
چاند کو سونپے گئے فطری طریق تقویم کے بارے میں اللہ تعالی نے کلام مجید میں فرمایا:
وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللهُ ذَلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ
اس ( چاند ) کے لیے (کم و بیش دکھائی دینے کی منزلیں مقرر کیں تا کہ تم برسوں کا شمار اور اوقات کا) حساب معلوم کر سکو اور اللہ نے
یہ (سب کچھ) درست تدبیر کے ساتھ ہی پیدا کیا ہے۔ وہ ( ان کا ئناتی حقیقتوں کے ذریعے اپنی خالقیت، وحدانیت اور قدرت کی) نشانیاں علم رکھنے والوں کے لیے تفصیل سے واضح فرماتا ہے۔
وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ .
اور ہم نے چاند کی منازل طے کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ (اپنی پہلی حالت کو پلٹ کر کھجور کی) پرانی بوسیدہ شہنی جیسا ہو جاتا ہے۔
ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْضِ اِئْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْهًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائعِينَ .
پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اس وقت محض دھواں تھا، اس نے آسمان اور زمین سے کہا: " وجود میں آجاؤ، خود تم چاہو، یانہ چاہو "
دونوں نے کہا: ہم آگئے فرماں برداروں کی طرح۔
یوں تو ہر جاندار کی تخلیق میں پانی ایک بنیادی عنصر کے طور پر موجود ہے ، تاہم اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق میں بطور خاص پانی کا ذکر کیا ہے۔
ارشاد رب العالمین ہے:
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ مِنَ الْمَاءِ بَشَرًا
اور وہی ہے جس نے پانی سے آدمی کو پیدا کیا۔
وَالْجَانَّ خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ
اور اُس سے پہلے ہم نے جنوں کو شدید جلا دینے والی آگ سے پیدا کیا، جس میں دھواں نہیں تھا.
(مستفاد از: الحادی نظریات کا تحقیقی مطالعہ)
وما علینا الا البلاغ

28/06/2024

#ردُّالالحاد_کورس #قسط:5
الحاد کا نظریہ تخلیق کائنات

ملحدین کے ہاں تخلیق کائنات کے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظریہ یہ ہے کہ اس کا ئنات کی نہ کوئی ابتداء ہے اور نہ ہی کوئی انتہا۔ یہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یہ کائنات ازل سے نہیں ہے بلکہ تخلیق ہوئی ہے اور ایک مقررہ مدت کے بعد یہ کائنات ختم ہو جائے گی۔ تخلیق کائنات کے بارے میں کئی تھیوریز پیش کی گئی جس میں سب سے مقبول بگ بینگ تھیوری ہے۔ جس کے مطابق یہ کائنات ایک بہت بڑے دھماکے سے وجود میں آئی۔ اور یہ کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ اور معینہ مدت کے بعد یہ ختم ہو جائے گی۔ اسکی مزید تفصیل ذیل میں پیش کی جاتی ہے۔

بگ بینگ تھیوری:

انیسویں صدی میں سائنسی ترقی جس مقام پر پہنچی اس نے کم و بیش یہ بات طے کر دی کہ خدا کا تصور ماضی کا ایک افسانہ تھا جو توہم پرست انسانوں نے اپنی کم علمی کی بنا پر گھڑ لیا تھا۔ یہ کائنات اور جو کچھ اس میں نظر آتا ہے وہ محض بخت و اتفاق کی کار فرمائی ہے جس کے پیچھے کوئی شعور اور ارادہ موجود نہیں۔

بگ بینگ انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بڑے دھماکے کے ہیں۔ بگ بینگ در اصل وہ دھما کہ ہے جس سے ہماری یہ کا ئنات وجود میں آئی ہے۔ اس نظریے کے مطابق کائنات کے وجود میں آنے سے پہلے تمام مادہ ایک سوئی کے ہزارویں حصے کے برابر نہایت خفیف جگہ میں قید تھا۔ اگر مادے میں بہت زیادہ توانائی ہو ، دنیا کے کسی بھی ذریعے سے حاصل کر دہ توانائی سے زیادہ، تو کشش ثقل یعنی گریویٹی چیزوں کو اپنی جانب کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے سے دور دھکیلنے والی قوت بن جاتی ہے۔

عظیم دھما کے (Big Bang) سے رو پذیر ہونے والے عمل انشقاق ( پھٹنے کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی ایک سیکنڈ کے سوویں حصے (hundredth part) میں وہ اکائیت پھیل کر ابتدائی آگ کا گولا (primordial fireball) بن گئی اور دھماکے کے فوری بعد اس کا درجہ حرارت ایک کھرب سے ایک کھرب ۸۰ ارب سینٹی گریڈ کے درمیان جا پہنچا۔ تاہم عظیم دھماکے سے ایک منٹ بعد ہی کائنات کا درجہ حرارت تیزی سے گرتے ہوئے دس گنا کم ہو کر ۱۰ ارب سے ۱۸ ارب سینٹی گریڈ کے درمیان آن پہنچا۔ یہ سورج کے مرکز کے موجودہ درجۂ حرارت سے تقریباً ایک ہزار گنا زیادہ حرارت تھی۔ اس وقت کا ئنات زیادہ تر فوٹان، الیکٹران ، نیوٹریناس اور
اس کے مخالف ذرات کے ساتھ ساتھ کسی حد تک پروٹان اور نیوٹران پر مشتمل تھی۔

چنانچہ سائنس کے مطابق یہی بگ بینگ کا وہ نکتہ ، آغاز تھا، جب تمام مادہ ایک دھما کے جیسی صور تحال کے بعد انتہائی تیزی سے ایک دوسرے سے دور ہونے لگا اور خلاء میں پھیل گیا۔ اس وقت اس کی رفتار اس قدر زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ کائنات تیزی سے پھیلنے لگی۔

آج اس 'بگ بینگ'، یعنی ہماری کائنات کے نکتہء آغاز کو ۱۳۰۸ ارب سال ہو چکے ہیں۔ آپ میں سے اکثر لوگ یہ سوچیں گے کہ بھلا کائنات کی عمر کوئی کیسے بتا سکتا ہے ؟ تو اس کا جواب ہمیں " ہبل خلائی دور بین " نے دیا ہے۔ اس دور بین کی مدد سے لی گئی تصاویر میں ہمیں جو سب سے پرانی کہکشاں ملتی ہے ، وہ زمین سے ۱۳.۴ ارب نوری سال دور واقع ہے۔

نوری سال در اصل وقت کا پیمانہ نہیں ہے بلکہ فاصلے کا پیمانہ ہے اور ایک نوری سال کا فاصلہ تقریباً 1 کھرب کلومیٹر کے برابر ہے۔ یہ فاصلہ روشنی ایک سال میں طے کرتی ہے۔ اب آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جہاں ایک نوری سال ہی ۱۰ کھرب گلو میٹر کے برابر ہے تو ۱۳۸ ارب نوری سال کتنے کلو میٹر کے برابر ہوں گے۔ اگر ہم پیمائش کر سکیں کہ کسی دور دراز ستارے یا کہکشاں سے روشنی ہم تک آنے میں کتنے سال لگے ہیں، تو ہم اس طرح قدیم سے قدیم تر کہکشاؤں کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ اب تک ہم نے جس قدیم ترین کہکشاں کا مشاہدہ کیا ہے، وہ چوں کہ ۴، ۱۳ ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے ، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ کائنات کی عمر اس کے آس پاس ہی بنتی ہے۔

چلیے کائنات کے وجود میں آنے کے بعد کے حالات پر واپس آتے ہیں۔

۱۳۸ ارب سال پہلے نہ یہ سورج تھا، نہ یہ ستارے، نہ یہ کہکشاں، نہ یہ نظارے ، بلکہ صرف دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بڑے بڑے ہائیڈ روجن گیس کے بادل تھے۔ خلاء میں موجود ان بادلوں کے جن حصوں میں ہائیڈ روجن اور ہیلیئم کی مقدار زیادہ تھی، ان حصوں میں گیسز سکڑنے لگیں اور سکڑتے سکڑتے کافی گرم اجسام کی شکل اختیار کر گئیں جنہیں ہم "ستارے " کہتے ہیں۔ مزید بر آں ان ستاروں کے آس پاس جہاں گیسز کی مقدار کم تھی، وہاں بھی گیسٹر سکڑتی گئیں اور گرم (ستاروں سے کم گرم ) اجسام بنے جو ستاروں سے چھوٹے تھے ، اور کسی اپنے سے بڑے نزدیکی ستارے کی بہت زیادہ کشش کی وجہ سے اس ستارے) کے گرد مدار میں چکر لگانے لگے ۔ ان اجسام کو ہم سیارے کہتے ہیں۔

کئی ستارے آپس کی کشش کی وجہ سے جھرمٹ کی شکل اختیار کر گئے اور اس طرح کہکشائیں وجود میں آئیں۔ ہمارا سورج اور زمین جس کہکشاں میں ہے اس کا نام "ملکی وے " ہے۔ اس کا نام ملکی وے اس لیے رکھا گیا ہے کیوں کہ اس کے بہت سے ستارے سفید نظر آتے ہیں، اس کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے " دودھ کی نہر یا راستہ " ہو۔ "ملکی وے " کا اردو ترجمہ ہے " دو دھیار استہ ۔ "

کائنات کی تخلیق کا یہ عمل ملحدین کے نزدیک بغیر کسی خالق یا بغیر کسی بنانے والے کے خود بخود ہو گیا ہے۔ یعنی کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے۔ یہ کائنات اور اس میں موجود تمام اشیاء محط اتفاق سے ہی پیدا ہو گئے ہے۔
(مستفاد از الحادی نظریات کا تحقیقی مطالعہ
تصنیف: محمد عابد حفظہ اللہ)

نوٹ: اسلام کا نظریہ تخلیقِ کائنات قسط نمبر 06 میں بیان کیا جائے گا ان شاءاللہ.

ردُّ الإِلْحاد عصر کا اہم تقاضا ہے، لھذا میری ٹوٹی پوٹی کاوش دوستوں کے ساتھ بھی شئر کر لیا کریں!
جزاک اللہ خیرا ❤️
Ask M***i Luqman Akhtar

Muhammad Asim Hassan

26/06/2024

#ردُّالالحاد_کورس
#قسط : 04

سیکولرازم(Secularism) کا فروغ:

جب مغربی ممالک میں الحاد کی بنیاد پر سیکولرازم کا نظریہ وجود پذیر ہوا جو مذہب اور الحاد کے درمیان تطبیق (Reconciliation) کی حیثیت رکھتا تھا۔ فلسفیانہ اور ملحدانہ نظریات نے اہل مغرب کی اشرافیہ کو بری طرح متاثر کر دیا تھا۔ ان کے ہاں تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ہی ملحد اور لادین ہونا تھا۔
دوسری طرف عوام الناس میں اہل مذہب کا اثر و رسوخ خاصی حد تک باقی تھا۔
اہل مذہب کا ایک اور مسئلہ یہ بھی تھا کہ وہ بہت سے فرقوں میں منقسم تھے اور ایک فرقے کے لئے یہ نا ممکن تھا کہ وہ دوسرے کی بالا دستی قبول کر سکے۔
ان حالات میں انہوں نے یہ طے کر لیا کہ ہر فرد کو اپنی ذات میں تو اپنے عقیدے پر قائم رہنے کی آزادی دی جائے لیکن اجتماعی اور ریاستی سطح پر مذہب سے بالکل لا تعلق ہو کر خالص عقل و دانش اور جمہوریت کی بنیادوں پر نظام حیات کو مرتب کر لیا جائے۔ اگر حکومت کا کوئی سرکاری مذہب ہو بھی تو
اس کی حیثیت محض نمائشی ہو ، اسے معاملات زندگی سے کوئی سروکار نہ ہو.

سیکولر ازم کے اس نظریے کا فروغ دراصل مذہب کی بہت بڑی شکست اور الحاد کی بہت بڑی فتح تھی۔ اہل مغرب نے اپنے سیاسی، عمرانی اور معاشی نظاموں کو مذہب کی روشنی سے دور ہو کر خالصتا ملحدانہ بنیادوں پر استوار کیا۔ مذہب کو چرچ تک محدود کر دیا گیا۔
تمام قوانین جمہوری بنیادوں پر بنائے جانے لگے۔ عیسائیت میں بھی فری سیکس گناہ کی حیثیت رکھتا ہے لیکن جمہوری اصولوں کے مطابق اکثریت کی خواہش پر اسے جائز قرار دیا گیا، حتی کہ ہم جنس پرستی کو بھی قانونی مقام دیا گیا اور ایک ہی جنس میں شادی کو بھی قانونی ٹھہر الیا گیا۔
سود ہمیشہ سے آسمانی مذاہب میں ممنوع رہا ہے ، لیکن معیشت کا پورا نظام سود پر قائم کیا گیا۔

سیکولرازم کے نتیجے میں الحاد اہل مغرب کے نظام حیات میں غالب قوت بن گیا ۔ ان کی اکثریت اگرچہ اب بھی خدا کی منکر نہیں ہے لیکن عملی اعتبار سے وہ خدا، نبوت ورسالت اور آخرت کا انکار کر چکی ہے۔ اگر کوئی مذہب کو حق مانتا ہے تو پھر یہ لازم ہے کہ وہ اسے اپنی پرائیویٹ لائف کے ساتھ ساتھ پبلک لائف میں بھی اپنائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو خدا کو ماننے کے باوجود وہ عملاً خدا، نبوت اور آخرت کا انکار کر کے الحاد کو اختیار کر ہی چکا ہے۔ اب اس کے بعد صرف انسانی اخلاقیات یا دین فطرت ہی باقی رہ جاتا ہے جسے ملحدین بھی مانتے ہیں۔ اہل مغرب اگر چہ ان میں سے بہت سے اصولوں کو چھوڑ چکے ہیں لیکن اب بھی وہ ان اخلاقی اصولوں کے بڑے حصے کو اپنائے ہوئے ہیں۔
(مستفاد از "الحاد ایک تعارف")

وما علینا الا البلاغ.

25/06/2024

#ردُّالالحاد_کورس #قسط:3
اغلاط الملاحدہ یعنی الحادی مغالطے:

انسانیت پرستی (Humanism) :

انسان ہی زندگی کے ہر معاملے میں فکر و عمل کا محور ہے، اور وہ اپنے فیصلوں میں کسی مذہبی یا الہامی توجیہ کا محتاج اور پابند نہیں۔

ارتقائیت (Evolutionism):

کائنات ہو یا اس کا مکین انسان، وہ کسی مافوق الفطرت ہستی کی تخلیق نہیں ہے۔ اس کا ماخذ محض ایک چھوٹا سا خلیہ ہے، جو سادگی سے پیچیدہ شکل اختیار کرتا چلا گیا، اور یہ اب بھی خود بخود ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے جس کے نتیجے میں مذہبی بھول بھلیوں سے نکل کر مابعد الطبیعیاتی تصورات سے جان چھڑا کر سائنس کے سائے میں آگیا ہے۔

عقلیت (Rationalism):

اگر چہ علم کے ماخذ مختلف ہو سکتے ہیں لیکن آخر کار یہ انسانی عقل ہے، جو منطق اور دلیل کے ذریعے صحیح علم تک رسائی حاصل کرتی ہے، جب کہ عقیدہ اور ایمان اس کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں ۔

ایجابیت (Positivism):

جو چیز مشاہدے اور تجربے سے ثابت نہیں، وہ قابلِ بھروسا نہیں ۔ مذہبی عقائد انسانیت کا بچپن ہیں، جب کہ اس کی بلوغت انسانی فکر کو مافوق الفطرت تصورات اور تو ہمات سے آزاد کرنا ہے تا کہ مشاہدے اور تجربے سے اخذ شدہ نتائج اس کی رہنمائی کر سکیں ۔

سائنسیت (Scienticism):

سائنسی سوچ ہی علم اور سچائی کا مستند ذریعہ ہے۔
الہامی و مذہبی علوم پر مبنی دعوے سچائی سے مطابقت نہیں رکھتے۔

سکے کا ایک رخ دیکھنا:

اکثر ملاحدہ یا متشککین اس غلطی کے مرتکب ہیں کہ وہ مزہب پر متقدمین ملاحدہ، مستشرقین، عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں، منکرین حدیث، قادیانیوں اور دیگر ضال مضل فِرَق کے اعتراضات تو مطالعہ تو کرتے ہیں لیکن اسلام اور ابناء الإسلام نے ان اعتراضات کے کیا جوابات کیے ہیں ان کا مطالعہ نہیں کرتے جو سنگین غلطی ہے، یعنی کہ یہ صرف سکے کا ایک رخ دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں اور مزہب بیزاری اختیار کرتے ہیں،

مذہبی پیشواؤں پر بدگمانی:

اکثر لوگوں کے الحاد کا سبب یہ بھی بنا ہے کہ وہ مذہبی پیشواؤں پر بدگمان ہوتے ہیں کہ ان کے پاس سوالات کے جوابات نہیں ہیں، جب ایک متشکک یا ملحد شخص خود مطالعہ نہیں کرتا اور بدگمانی کی بنا پر مذہبی رہنماؤں کی رہنمائی حاصل نہیں کرتا تو یہ ملحد ہونے اور الحاد پر ڈٹے رہنے کا سبب بن جاتا ہے،

تحریر کا بعض حصہ "سیکولرازم الحاد کا ساتھی" سے لیا گیا ہے،

وما علینا الا البلاغ
Ask M***i Luqman Akhtar
Muhammad Asim Hassan

23/06/2024

#ردُّالالحاد_کورس #قسط:2
الحاد کے اسباب و سد باب:

الحاد کے أسباب:
عوام الناس نظریہ الحاد کو مندرجہ ذیل اسباب کی وجہ سے قبول کرتے ہیں۔

1.مذہبی حالات:

الحادی نظریے کا ایک بڑا سبب مذہبی حالات بھی ہیں جو کہ اپنی اصل سے دور ہوتے ہیں ، مذہب کی غلط تشریح اور اس پر شدت پسندی کے ساتھ عمل کرنا اور اس کی ترغیب دینا بھی مذہب سے دوری کا باعث بنتا ہے۔

محمد قطب، ڈارون کے انکار خدا کی وجوہات کا اس طرح تجزیہ کرتے ہیں کہ ڈارون کے وجود خداوندی کے اعتراف سے گریز کی دو وجہیں ہیں:

اس وقت سائنس اور کلیسا میں زبر دست جنگ برپا تھی، کلیسا سائنس دانوں پر ہر قسم کے مظالم توڑ رہا تھا، جس کے نتیجے میں سائنس دانوں اور کلیسا میں اس قدر کشیدگی پیدا ہو گئی تھی کہ سائنس دان کسی ایسی بات کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے جس کو کلیسا بھی مانتا ہو ، خواہ خدا کے وجود کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔ گویا ڈارون کلیسا کے خدا کا اس لیے منکر تھا کہ کلیسا خود متلاشیان حقیقت کی کوئی بات انگیز کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ کلیسا کے خداوند کا اعتراف در اصل ان تمام خرافات کا تسلیم کر لینا تھا جو کلیسا نے مذہب کے نام پر گھڑی ہوئی تھیں اور عوام نے انہیں مذہب سمجھ کر اپنا رکھا تھا۔ "

بالکل یہی صورتِ حال آج بعض مسلمانوں نے بنا رکھی ہے،
بے جا تشدد، عصری تعلیم کے مفید شعبجات کا بھی سختی سے انکار اور رد، بے جا فتوی بازی، مسلکی اختلاف کو ذاتیات تک لے جانا وغیرہ،

2.مادیت پرستی:

مادیت پرستی بھی الحاد کی طرف رغبت کا ایک بڑا سبب ہے ، انسان عموماً ظاہری چیزوں سے متاثر ہوتا ہے ، دولت کی ریل پیل، آسائشیں ، ترقی، عزت، اچھا کھانا، پہنا، بہترین رہائش، بچوں کی اعلیٰ تعلیم یہی چیزیں انسان کا مطمع نظر ہوتی ہیں اور جب اہداف صرف یہی ہوں تو انکار خدا کا نظریہ باآسانی اذہان میں نفوذ پذیر ہو جاتا ہے۔

3.موروثیت:

بعض گھرانے صرف اپنے بڑوں کی وجہ سے ملحد ہو جاتے ہیں، یہ بالکل اسی طرح ہے کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والا عموما
مسلمان ہی ہوتا ہے۔

4.ناامیدی (مایوسی)

اکثر ملحدین یا ایگنوسٹک سے جب سامنا ہوا، تو میں ان سے الحاد کی وجہ پوچھتا کہ آپ کے ملحد ہونے اور مذہب بے زاری کی وجہ پوچھتا تو اکثر کا جواب یہ ہوتا، کہ مجھ پر قرضہ ہے میں نے اتنا عرصہ اللہ سے دعائیں مانگی اور میری ایک دعا بھی قبول نہیں ہوئی، اگر اللہ ہوتا تو ضرور قبول کرتا،
کسی نے کہا میں نے اللہ سے محبوب مانگا، لیکن نہیں ملا
اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا نہیں ہے اگر ہوتا تو میری ضرور سنتا وغیرہ وغیرہ

5.آزاد خیالی (لبرلزم)

الحاد کا ایک عام سبب یہ بھی ہے کہ نوجوا لڑکے اور لڑکیاں آزاد خیالی کا شکار ہیں، میری جسم میری مرضی جیسی مہلک ایمان نعروں سے آپ بخوبی واقف ہیں، آزاد خیالی کی بنا پر دین سے دوری اور مذہب کے پیشواؤں کے ساتھ بغض اکثر الحاد کا سبب بن جاتا ہے،

6.قلت مطالعہ:

الحاد اور ملحدین کے اعتراضات کے باب میں عوام و خواص کا قلت مطالعہ کمزور مسلمانوں کی حوصلہ شکنی کا سبب ہے،
اکثر نوجوان پر جب سوال ہوتا ہے یا اعتراض ہوتا ہے تو وہ کم علمی کی بنیاد پر خاموش ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کا مذہب پر مطالعہ نہیں ہوتا، اکثر اس خاموشی سے ان کے دل میں یہ بات پیدا ہو جاتی ہے کہ شاید مزہب کے پاس بھی اس کا جواب نہیں ہوگا،
اور اگر وہ مزہبی پیشواؤں اور علماء کی طرف رجوع کرتے ہیں تو بھی علماء الحاد کے باب میں قلت مطالعہ کی بنیاد پر انہیں مطمئن نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان نوجوانوں کے دل میں اس بات کا یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ مزہب کے پاس جواب نہیں،
اور اسی بناء پر وہ الحاد کا سفر شروع کر لیتے ہیں،

7.کالج اور یونیورسٹیز کے پروفیسرز:

جو پروفیسر حضرات باہر ممالک میں پڑھے ہوتے ہیں اکثر کی برین واشنگ ہوئی ہوتی ہے، اور فکری الحاد کا شکار ہوتے ہیں،
اور مصیبت یہ ہیکہ پھر وہ پروفیسرز یہ جراثیم اپنے آپ تک محدود نہیں رکھتے، اور ان ایمان لیوا جراثیم کو اپنے شاگردوں میں بھی منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اور پاکستان میں الحاد کی سب سے بڑی وجہ ایسے شیطان صفت پروفیسرز ہیں،
یاد رہے! میں عصری تعلیم حاصل کرنے کو وقت کا تقاضا سمجھتا ہوں لیکن عصری تعلیم کی آڑ میں الحاد کو پروموٹ کرنے والے مجھے اور میری ٹیمز کو اپنا مد مقابل پائیں گے،🙂

سد باب :

اگر سوال مرض ہے تو معقول جواب اس کا علاج ہے،
بالفاظ دیگر سستی کا علاج چستی🥰
سد باب کے سلسلے میں چند امور پیش کیے جاتے ہیں،

1.ٹھوس مطالعہ
الحاد کے تعارف، تاریخ، اقسام، موجِد، اساب وجود، اہدافِ وجود، طریقہ واردات اور مشہور اعتراضات پر ٹھوس مطالعہ ہونا ضروری ہے،
اہم مضامین کی نشاندہی👇
1.تصور خدا
2.وجودِ باری تعالیٰ
3.صفات باری تعالیٰ
4.نظریہ ارتقاء
5.معجزات
6.عصمت انبیاء
7.حضور ص کی سیرت
8 حفاظت قرآن
9.حجت حدیث

2.سوشل میڈیا

جید اور مشاہیر علماء کا سوشل میڈیا پر ان کے مشہور اعتراضات پر مدلل کلپ ریکارڈ کرنا،
اور سوال و جواب کی سیشن مقرر کرنا، جس میں نوجوان اپنے سوالات پوچھ کر اپنی الجھنیں ختم کر سکے،
اور مستعد اور مناظر نوجوان علماء کا ملحدین سے لائیو ڈیبیٹس کرنا، صرف دو شرائط کی بنیاد پر مناظرہ ہو،
1.گفتگو مہذب ہوگی،
2.ہارنے والا تسلیم ہوگا،

3.ضلعی سطح پر کمیٹی

ہر ضلع میں الحاد کے سد باب کیلئے تمام مکاتبِ فکر کی مشترکہ کمیٹیاں تشکیل دینا،
کمیٹی مندرجہ بالا امور پر کام کرے،
1.ملحد یا متشکک کو ایک دو مرتبہ فرینڈلی ماحول میں بٹا کر ان کی الجھنیں ختم کرنے کی کوشش کرنا،
2.مذکور اخلاقی رویے کے باوجود اگر وہ پھر معاشرے کے لئے مضر ثابت ہو تو انکو تنبیہ کے بعد حکومت وقت کے حوالے کرنا، 😉
3.اپنے ضلع کی سطح پر موجود کالج و یونیورسٹی میں لیگل طریقے سے کمیونٹیز تشکیل دینا.

4.رد الإلحاد پر لکھی گئیں کتابوں کی نشر و اشاعت

الحاد و اخوات کی رد میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، مسلمانوں میں اور بالخصوص علماء میں ان کتابوں کی نشر و اشاعت کرنا،
اور کالج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات تک ان کتب کو ضرور بالضرور پہنچانا.

5.مثبت رویہ

رد الإلحاد پر کام کرنے والوں کو اپنا رویہ مثبت رکھنا اور نہج نبوت و قرآن کو مد نظر رکھنا،

6 خطبات جمعہ

خطابت کے منصب سے وابستہ علماء کو چاہیے کہ ہر جمعے کے بیان میں اس فتنے پر رد کرے، اور اس فتنے سے بچنے کی ترغیب دے.

وما علینا الا البلاغ
#ردُّالالحاد_کورس
#قسط :2

22/06/2024

#ردُّالالحاد_کورس #قسط:1
الحاد کی تعریف، تاریخ اور أقسام؟

الحاد کی تعریف

الحاد کے معنی سیدھے راستے سے کتر جانا، دین حق سے پھر جانا، ملحد ہو جانا ۔ علامہ ابن منظور الحاد کے معنی کی تحقیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ " الملحد العادل عن الحق المدخل فيه ما لیس فیہ " یعنی ملحد اس شخص کو کہتے ہیں جو حق سے روگردانی کرے اور اس میں ایسی چیز کی آمیزش کرے جو اس میں نہیں ہے، اس کا ایک اور مفہوم بھی بتایا گیا ہے : یلحدون اي يعترضون ۔ یعنی وہ اعتراض کرتے ہیں۔

مریم ویبسٹر ڈکشنری کے مطابق:
" The belief that there is no God*
ایسا عقیدہ جس میں کسی خدا کا تصور موجود نہ ہو "

جولین بیجینی نے
"Atheism: A Very Short Introduction"
میں الحاد کی تعریف اس طرح بیان کی ہے۔
"Iy is the belief that there is no God or Gods"
"ایک خدا یا کسی بھی خدا کو نا ماننے کا نام ایتھیزم یا الحاد ہے "

الحاد کا بنیادی مفہوم یہی ہے کہ ایسا عقید رکھنا کہ خدا اور سول اور آخرت کا کوئی تصور موجود نہیں ہے.

الحاد بطور گمان:
نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دور میں بیشتر وہ لوگ تھے ، جو کسی نہ کسی صورت میں خدا کو مانتے تھے۔ لیکن چند لوگ ایسے بھی تھے جو خدا کے منکر تھے۔ ان کا تذکرہ قرآن کی سورت جاشیہ میں ہوا ہے :
وَقَالُوا مَا هِيَ إِلَّا حَيَاتُنَا الدُّنْيَا نَمُوْتُ وَنَحْيَا وَمَا يُهْلِكُنَا إِلَّا الدَّهْرُ وَمَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ إِنْ هُمْ إِلَّا يَظُنُّونَ
ترجمہ: اور یہ قیامت کے منکر یوں کہتے ہیں کہ ہماری اس دنیوی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی نہیں ہے، ہم مرتے اور جیتے نہیں ہیں اور ہم کو کوئی نہیں مارتا مگر زمانہ اور ان منکروں کے پاس اپنے اس کہنے پر کوئی دلیل نہیں ہے یہ لوگ محض خیالی باتیں کیا کرتے ہیں "

اللہ رب العالمین نے اس دہریت کا جواب یہاں صرف یہ دیا ہے کہ ان حضرات کے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، عصر حاضر کی دہریت کی حقیقت بھی یہی ہے ، بلا ثبوت رائے کوئی بھی بنا سکتا ہے، جیسا یہ لوگ فقط گمان کی بنیاد پر اندازے لگارہے ہیں جیسا کہ عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دہریوں نے بنا رکھی تھی۔

الحاد کی تاریخ:

الحادی فلسفہ کوئی نیا نہیں ہے ، اس کی تاریخ بہت پرانی ہے، نمرود کا ابراہیم علیہ السلام کے سامنے انا أحي وأميت کا دعوی اور فرعون كا انار بكم الأعلى کا نعرہ بھی در اصل نظریہ الحاد کی سوچ کو تقویت دیتا ہے۔ قرآن میں الحاد کی طرف اس طرح اشارہ کیا گیا ہے:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا لَا یَخْفَوْنَ عَلَیْنَاؕ-اَفَمَنْ یُّلْقٰى فِی النَّارِ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ یَّاْتِیْۤ اٰمِنًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْۙ-اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ (سورۃ حم السجدہ 40)
ترجمہ:
بیشک جو لوگ ہماری آیتوں میں سیدھی راہ سے ہٹتے ہیں وہ ہم پر پوشیدہ نہیں ہیں تو کیا جسے آ گ میں ڈالا جائے گا وہ بہتر ہے یا وہ جو قیامت میں امان سے آئے گا۔ تم جو چاہو کرتے رہو،بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔

پہلے زمانے میں مذہب کے مقابلے میں الحاد و دہریت کا پھیلاؤ اس لیے بھی کم رہا کہ انبیاء کرام علیہم السلام اللہ تعالی کے پیغام کی تبلیغ کیا کرتے تھے ، جب کہ ملحد الحاد کے کبھی داعی نہیں رہے، اس لیے ایک جانب توحید کے دعوے دار تھے اور دوسری جانب کسی نہ کسی صورت میں شرک پر عمل پیرا تھے ، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ بڑے مذاہب میں صرف بدھ مت ہی ایسا مذ ہب ہے جس میں کسی خدا کا تصور نہیں پایا جاتا۔

الحاد کو با قاعدہ نظریہ کے طور پر شناخت 17ویں صدی میں ملی،
17ترہویں صدی عیسوی سے قبل سائنس کی تحقیق کا مقصد تحقیقِ کائنات تھا لیکن 17ویں صدی عیسوی کے بعد سائنس کا مقصد تسخیرِ کائنات بن گیا، حقیقت اعلیٰ کی تلاش ختم ہو گئی کیونکہ نفس انسانی کو ہی اصل حقیقت قرار دیا گیا، لہذا فلسفہ جدید میں سب سے بڑی حقیقت یعنی اقتدار اعلی ( بھگوان ، خدا، کرشن ، دیوتا) کوئی نہیں بلکہ انسان ہی کو سمجھ لیا گیا۔
"کانٹ کی دلیل یہ تھی
"I think therefore I am"
میں سوچ سکتا ہوں اس لیے میں ہوں۔
اس نے کہا کہ کائنات میں صرف میرا وجود یقینی ہے اس کے علاوہ جو میں دیکھ رہا ہوں ، ہو سکتا ہے وہ خواب ہو مگر یہ طے ہے کہ میں خود تو موجود ہوں جو یہ خواب دیکھ رہا ہے۔

اٹھارویں صدی میں الحادی نظریے کو اُس وقت عروج ملنا شروع ہوا جب یورپ میں مذہب کی مخالفت میں اضافہ ہوا اور سیاسی طور پر بھی مذہب مخالف سوچ نے زور پکڑا،

لیکن انیسویں صدی میں جب چارلس ڈارون کے نظریہ ارتقاء کو قبول عام حاصل ہوا تو گویا الحاد نے ایک مذہب کی صورت اختیار کر لی، جس کار ہنماڈارون تھا اور اس کا نظریہ اس مذہب کی مقدس کتاب قرار پائی،
بس پھر اس صدی میں الحاد کی ترویج شروع ہوئی اور اس کے عالمگیری اثرات سے بشمول اسلامی معاشروں کے پوری دنیا متاثر ہوئی۔

ڈارون کے نظریہ ارتقاء میں الحاد کے نظریاتی اور فلسفیانہ پہلو اہم تھے جس نے خصوصاً الہامی ادیان کے وہ عقائد جن پر ان ادیان کی اساس تھی یعنی وجود باری تعالی ، رسالت اور تصور آخرت پر حملہ کیا۔
لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فکری میدان میں الحاد کو اسلام کے مقابلے میں متوقع کامیابی حاصل نہ ہو سکی البتہ عیسائیت کے مقابلے میں اسے جزوی فتح حاصل ہوئی۔

انیسویں صدی میں الحاد مزید پھیلا۔
بڑے بڑے ملحد مفکرین جیسے مار کس اینجلز ، نٹشے، ڈر خم اور فرائڈ نے سائنس اور فلسفے کی مختلف شاخوں کے علم کو الحادی بنیادوں پر منظم کیا۔
ان میں سے مارکس اور اینجلز ماہر معاشیات (Economist)،
ڈرخم ماہر عمرانیات (Sociologist)،
نٹشے ماہر فلسفہ (Philosopher)،
اور فرائڈ ماہر نفسیات (Psychologist) تھے۔

ہارون یحییٰ الحاد کی ترویج کے حوالے سے ڈارون کا کردار بیان کرتے ہیں:
"الحاد کو سب سے زیادہ مدد ماہر حیاتیات (Biologist) چارلس ڈارون سے ملی جس نے تخلیق کائنات کے نظریے کو رد کر کے اس کے برعکس ارتقا (Evolution) کا نظریہ پیش کیا۔ ڈارون نے اس سائنسی سوال کا جواب دے دیا تھا جس نے صدیوں سے ملحدین کو پریشان کر رکھا تھا۔
وہ سوال یہ تھا کہ " انسان اور جان دار اشیا کس طرح وجود میں آتی ہیں؟"
اس نظریے کے نتیجے میں بہت سے لوگ اس بات کے قائل ہو گئے کہ فطرت میں ایسا آٹومیٹک نظام موجود ہے جس کے نتیجے میں بے جان مادہ حرکت پذیر ہو کر اربوں کی تعداد میں موجود جان دار اشیا کی صورت اختیار کرتا ہے "۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بے جان مادہ کو حرکت دینے والی ایک ذات موجود ہے اور وہی ذات خالق کا ئنات ہے،
پہلی جاندار اشیاء اور پہلے انسان کو بھی اس نے پیدا کیا"۔

خدا کے تصور کے منکر سائنسدانوں میں ایک بڑا نام اسٹیفن ہاکنگ کا ہے،
۱۹۴۲ء میں انگلینڈ میں پیدا ہونے والے اسٹیفن کو سائنس کی دنیا میں انفرادیت حاصل تھی اور اس انفرادیت کی وجہ اس کی فالج کی بیماری تھی جس کے سبب اس کا جسم اور قوت گویائی بھی ساتھ چھوڑ گئی تھی لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی آنکھوں اور پلکوں کی مدد سے کمپیوٹر کو استعمال کرتے ہوئے سائنسی تصورات پیش کرتا رہا۔

پروفیسر محمد رفعت، اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے لکھتے ہیں: " تخلیق کائنات کے تصور کے بعد اسٹیفن ہاکنگ خدا کے بارے میں گفتگو کرتا ہے کہ ہمیں خدا کے تصور کی ضرورت اس وقت تھی جب سائنس نے ترقی نہیں کی تھی اور ہم کائنات کی توجیہ کے لیے خدا کے تصور کا سہارا لیتے تھے ، اب ہم سائنس کے نظریات و حقائق کو جانتے ہیں اس لیے ہمیں خداکے تصور کی ضرورت نہیں ہے "

یہ خدا کو محض سائنس تک ہی محدود کرتا ہے کہ اب چونکہ سائنس کے میدان میں خدا کی ضرورت نہیں لہذا خدا کے تصور کی ضرورت نہیں ہے، جبکہ خود اس کی غیر معمولی بیماری میں اس کا غیر معمولی کام خود اس بات کی شہادت کے لیے کافی تھا کہ پہلے صحت بھی خدا کی دی ہوئی تھی اور خدا نے جب چاہا لے لی اور پھر اس مرض میں یہ صلاحیت بھی خدا کی دی ہوئی تھی۔

نظریہ ارتقا کو تقویت ملنے کے بعد کے اثرات کو بیان کرتے ہوئے گسٹیوائی دون لکھتے ہیں:
نتیجتا اللہ کی حکومت اور سلطان کی حکومت الگ الگ پروان چڑھنے لگیں، سیاسی اور سماجی زندگیاں دو سطحوں پر بسر کی جانے لگا لگیں، اللہ کا قانون جو اس نے اپنے بندوں کے لیے وضع کیا تھا، ناکام ہو گیا کیونکہ اس نے تبدیلی کے عصر کو نظر انداز کر دیا تھا یہ ناکامی آج تک چلی آرہی ہے۔
لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ تاریخ میں الحادی نظریہ کو تقویت در اصل نظریہ ارتقا کی وجہ سے ملی ہے۔

سید جلال الدین عمری اپنےمقالے میں لکھتے ہیں کہ :
زمانہ جدید نے کائنات کی جو توجیہ کی وہ خدا کے تصور سے خالی ہے ، اس نے کہا اس کا ئنات کا کوئی خالق ہے نہ مالک، یہ محض مادہ کا ظہور ہے ، مادہ ہی اس کا خالق ہے ، مادہ ہی نے اتفاق سے ایک نامعلوم عرصے میں مختلف سیاروں اور ستاروں کی شکل اختیار کر لی اس میں یہ ہمارا انتظام شمسی بھی داخل ہے، یہاں پائی جانے والی ساری جاندار اور بے جان چیزیں اور خود انسان کا وجود بھی اسی اتفاق کا کرشمہ ہے ، اس زمین و آسمان میں نہ کہیں خدا کا وجود ہے اور نہ اسے ماننے کی فی الواقع کوئی ضرورت ہے، کائنات کی یہ توجیہ آج کے دور کی علمی و سائنٹیفک توجیہ مان لی گئی۔
یہی وہ مادہ پرستانہ سوچ ہے جو کہ عقل سے ہی متصادم ہے اور اس حوالے سے روز مرہ کے معاملات ہی یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ ایک چھوٹی سی گھڑی کی سوئی بغیر کسی سیل کے آگے نہیں بڑھ سکتی تو اتنی بڑی کائنات کو چلانے کے لیے ایک مادہ کو خدا کے برابر لانے کا تصور کیسے کر لیا گیا ہے۔

الحاد کی اقسام:

ہے۔

دور حاضر میں الحاد کی تین بڑی اقسام ہیں جنہیں مروجہ اصطلاح میں Deism ،Agnosticism Gnosticism کہا جاتا ہے.

1. الحاد مطلق (Gnosticism):

اس سے مراد معرفت یا علم رکھنا، یہ ملحدین کی وہ قسم ہے جو خدا کے انکار کے معاملے میں متشدد ہیں۔ یہ لوگ روح، دیوتا، فرشتے،
جنت و دوزخ اور مذہب سے متعلقہ روحانی امور اور مابعد الطبعیاتی (Meta Physical) امور کو کسی صورت تسلیم نہیں کرتے۔ ان کا
دعوی ہے کہ وہ اس بات کا اچھی طرح علم رکھتے ہیں کہ انسان اور کائنات کی تخلیق میں کسی خالق کا کمال نہیں ہے بلکہ یہ خود بخود وجود میں آئی ہے اور فطری قوانین (Laws of nature) کے تحت چل رہی ہے۔ اس نقطہ نظر کے حامل لوگوں کو Gnostic Atheist کہا جاتا ہے۔

2.لاادریت (Gnosticism):

اگناسٹک اس فرد کو کہتے ہیں جو خدا کے ہونے یا نہ ہونے کے بارے یقین یا علم میں کمی کی کیفیت میں ہو اور کہے کہ مجھے خدا کے وجود کی آگاہی اور ادراک نہیں ہے ، وہ دراصل تذبذب کا شکار ہوتا ہے نہ وہ خدا کی موجودگی کا اقرار کرتا ہے اور نہ ہی انکار ۔ عصر حاضر میں مبشر علی زیدی اس کی مثال ہیں، مبشر زیدی نے کہا کہ وہ اعلانیہ اگناسٹک ہے ، یعنی خدا سے متعلق شک میں مبتلا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ وہ علمی جستجو میں ہے اور اسلام میں علم کی راہ میں مرنے والا شہید کہلاتا ہے۔ یہ اس نے اس لیے بتایا کہ اسے ملحد نہ سمجھا جائے۔ ملحدین خدا کا انکار کرتے ہیں جبکہ اگناسٹک خدا کے ہونے یا نہ ہونے کے معاملے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
مزید اس نے کہا کہ :
سائنسی فکر اور غیب پر ایمان یکجا نہیں ہو سکتے لہذا ہمیں اختلاف رائے پر اتفاق کر لینا چاہئے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اسلام آج کے دور میں آتا تو خواتین کا ترکے میں حصہ کم نہ ہوتا، گواہی آدھی نہ ہوتی، انہیں گھروں میں بند رہنے کو نہ کہا جاتا ، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا حکم ہوتا، پسند کی شادی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ، اکیسویں صدی میں آنے والا اسلام غلامی کو بر قرار نہ رکھتا، سنگسار کی سزا نہ ہوتی، چور کے ہاتھ نہ کاٹے جاتے ، غیر مذہب کے شہریوں سے جزیہ طلب نہ کیا جاتا۔

3.ڈی ایزم (Deism)‏:

اس کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ اگر چہ خدا ہی نے اس کا ئنات کو تخلیق کیا ہے، لیکن اس کے بعد وہ اس سے بے نیاز ہو گیا ہے۔ اب یہ کائنات خود بخود ہی چل رہی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس تحریک کا ہدف رسالت اور آخرت کا انکار تھا۔ اس تحریک کو فروغ ڈیوڈ ہیوم اور مڈلٹن کے علاوہ مشہور ماہر معاشیات ایڈم سمتھ کی تحریروں سے بھی ملا.

عصر حاضر میں الحاد کی مختلف صورتیں:

مری تھومس اپنی کتاب سیکولر بلیف سسٹم کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں:
"Five well-known nonreligious philosophical position are 1.Naturalism
2.Meterialism
3.Humanism
4.Agnosticism
5.Atheism"

عصر حاضر میں یہ الحاد کی پانچ مشہور صورتیں ہیں جو کہ مختلف ناموں کے ساتھ اپنے نظریے کا پر چار کر رہی ہیں ان میں نیچر لزم جسے عقل پرستی کا نام دیا گیا ہے ، میٹیلر زم جسے مادہ پرستی کہا جاتا ہے اور ہیومنزم جسے بظاہر انسانیت کا درس دینے والا نظریہ گردانا جاتا ہے جبکہ اسلام ان سارے نظریات کو اپنے اندر سموتے ہوئے انسان کو اپنے خالق کو پہچانے کا حل پیش کرتا ہے۔
حافظ محمد عبد القیوم نے بھی اپنے مضمون میں اس کی تائید کی ہے.

عصر حاضر میں لفظ سیکولرزم اپنے دامن میں ایک نیا پہلو لیے ہوئے ہے، لیکن ان سب معانی و مفاہیم کے باوجود سیکولرزم کسی فلسفے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ در اصل دہریت (Atheism) کو قبول کرنے کا نسبتا ایک نرم (Soft) لفظ ہے ، وگرنہ عہد روشن خیالی کے مغربی مفکرین نے تو دہریت کو فروغ دیا تھا، مگر معاشرہ میں عدم قبولیت کی وجہ سے متبادل لفظ سیکولرزم تلاش کیا گیا۔

اس عبارت سے یہ وضاحت ہوتی ہے کہ بنیادی طور پر یہ نظریہ الحادی فکر پر مبنی تھا، عصر حاضر میں اس کی جدید صورت سیکولرزم کی شکل میں سامنے آئی ہے لہذا الحاد کا اگر مقابلہ کرنا ہے تو پہلے بیشتر اسلامی معاشروں میں قابل قبول نظریہ سیکولرزم کو شکست دینی ہو گی ور نہ بر اور است الحاد کو ختم کرنا آسان نہیں ہو گا۔ زمانہ قدیم میں الحاد بالکل واضح اور اپنی اصل شکل میں تھا جس نے صراحتا خدا کے وجود کا انکار کیا تھا، اور خدا کی عدم موجودگی کے نظریہ کو باطنی لباس میں چھپانے کے بجائے ظاہری طور پر پیش کیا تھا، لیکن آج الحاد مختلف صورتوں میں اپنے نظریات کی ترویج کر رہا ہے جس میں سیکولرزم پیش پیش ہے ، مندرجہ بالا حوالوں سے یہ ثار ، ثابت ہوتا ہے کہ عصر حاضر میں الحاد جدید کی نوعیت قدیم دور کے الحاد سے یکسر مختلف ہے اور بہت پیچیدہ ہے جس کا مقابلہ کرنا ناممکن تو نہیں لیکن مشکل ضرور دکھائی دیتا ہے۔

وما علینا الا البلاغ
ردِ الحاد Rejection of atheism

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Karachi