16/12/2025
یہ ہیں پاکستان کے نام ور قوال ۔۔ واجد علی اور یاور علی جو مٹکے والے قوال کے نام سے مشہور تھے ۔ یہ 1960ء کی دہائی سے 1990ء کی دہائی تک متحرک رہے اور ریڈیو پاکستان و پاکستان ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ مختلف محافل میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہے ۔ ان کا انداز روایتی درگاہی قوالی پر مبنی تھا جس میں سر اور سازوں کی بجائے الفاظ اور ان کے معنی پر ہی زور دیا جاتا۔ انھیں مٹکے والے کہنے کی وجہ ان کا قوالی کے دوران مٹکا بجانا بھی شامل تھا ۔
مٹکے والے قوال نے جہاں بے شمار قوالیاں پیش کیں وہاں انھوں نے جنگِ ستمبر کے فوراً بعد ریڈیو پاکستان ٹرانسکرپشن سروس پر اردو کے خاتم الشعراء استاد قمر جلالوی کے تحریر کردہ ملی ترانے بھی ریکارڈ کروائے جن میں پوربی لہجے میں بھارتی فوج کا منظر "اٹھ گوری برتن بھاڑے باندھ, بھاگ چل آگیو پاکستان " اور " اے مجاہد آج دنیا بھر میری تیری دھوم ہے" شامل تھے ۔ ان نغموں کو کولمبیا گراموفون کمپنی نے ونائل گراموفون ریکارڈ پر جاری کیا ۔ 1980ء کی دہائی میں انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے لیے علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی شہرہ آفاق نظم "شکوہ" اور "جوابِ شکوہ" بھی پیش کی ۔اس طرح واجد علی یاور علی نے ملّی نغموں گا کر خود کو قومی فنکار کے طور پر بھی منوالیا ۔
( ابصار احمد )
10/12/2025
سانحۂ مشرقی پاکستان کے بعد خواجہ پرویز کا تحریر کردہ قومی یک جہتی کا ملی نغمہ جسے مسعود رانا، رجب علی اور اداکار ندیم نے ریکارڈ کروایا جسے نذیر علی موسیقی سے آراستہ کیا تھا ۔ یہ نغمہ ریڈیو پاکستان لاہور کی پیشکش تھا تاہم 1976ء میں بننے والی فلم 786 میں اسے شامل کیا گیا ۔ فلم تو ریلیز نہ ہوسکی لیکن فلم کی بدولت یہ گراموفون ڈسک پر محفوظ ہو کر عوام کی دسترس میں آگیا ۔
10/12/2025
جناب صہبا اختر کا تحریر کردہ مقبول ملی نغمہ جس میں انھوں نے فنا فی الوطن کا نظریہ پیش کرتے ہوئے حب الوطنی سے ارشاد ہر اہلِ وطن کو پاکستانی کی بجائے ایک از خود پاکستان قرار دیا ۔ یہ نغمہ سب سے پہلے ٹرانسکرپشن سروس ریڈیو پاکستان کراچی پر 1974ء کو ریحانہ یاسمین نے نذر حسین کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا جس کے انترے تھوڑے مختلف تھے تاہم 1978ء کو پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے لیے اسے سہیل رعنا کی موسیقی میں جب محمد علی شہکی نے پیش کیا تو یہ نہ صرف گلوکار کی پہچان بنا بلکہ ہر پاکستانی دل کی آواز کے ساتھ ساتھ ہمارا سدا بہار ملی نغمہ بھی گیا ۔ سنہ 1979ء میں گراموفون کمپنی آف پاکستان کے تحت اینجل ریکارڈ نے ونائل فارم میں اس کی گراموفون ڈسک جاری کی تو اس میں غلطی سے شاعر کا نام "جمیل الدین عالی" درج ہوگیا۔ نغمہ سب ہی نے سنا ہے تاہم یاددہانی کے لیے اس کا متن دوبارہ ملاحظہ کیجیے ۔
( تحریر و تحقیق : ابصار احمد )
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے
تُو تو میری جان ہے، تُو تو میری ان ہے
تو میرا ایمان ہے ۔۔۔۔
کہتی ہے یہ راہِ عمل آؤ ہم سب ساتھ چلیں
مشکل ہو یا آسانی ، ہاتھ میں ڈالے ہاتھ چلیں
دھڑکن ہے پنجاب اگر، دل اپنا مہران ہے
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے
گلشن ہو یا پربت ہو ہم سے کوئی دور نہیں
کس کس کی تعریف کریں ہر گوشی ہے آپ حسیں
سورج ہے خیبر کی زمیں چاند بلوچستان ہے
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے
پاکستان عقیدہ بھی پاکستان یقیں بھی ہے
پاکستان نظریہ بھی پاکستان زمیں بھی ہے
رنگ برنگی دنیا میں اس کی یہ پہچان ہے
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے"
12/06/2025
سنہرا زمانہ ۔۔۔ سنہرے ملٌی نغمات
وہ وقت جب آڈیو کیسٹ کے اِن لے کارڈ کو بھی خوبصورتی سے سجایا جاتا۔ کبھی سادہ تو کبھی قومی رہنماؤں اور قومی نشانات سے مزین ان کارڈز میں ہی کشش تھی۔
12/06/2025
"ہوگا دنیا میں تو بے مثال ۔۔ میرے بچے میرے نونہال"
ہمدرد گرائپ واٹر کے اشتہار میں نغمے کے یہ بول تو یقیناً بہت سے افراد نے سنے ہوں گے جسے مہناز بیگم نے گایا تھا ۔ مگر ہمدرد لیبارٹری وقف پاکستان کے تحت یہ مکمل نغمہ بھی ہے جو 1974ء کو ہمدرد کی جانب سے ای ایم آئی پاکستان نے جاری کیا۔ یہ بچوں کے لیے دراصل ایک ملٌی نغمہ ہی ہے جس میں ایک ماں اپنے بچے کے لیے ملی جذبات کا اظہار کچھ یوں کرتی ہے ؛
" ماں کے خوابوں کی تعبیر ہے تو
ملک و ملت کی تقدیر ہے تو
تیری معصومیت میں پنہاں ہے
صبحِ فردہ کی تصویر ہے تو
منتظر ہیں ترے ماہ و سال
میرے بچے ! میرے نونہال
پھول کی طرح کانٹوں میں جینا
ہے یہی زندگی کا خزینہ
ٹیپو سلطانؒ و حیدر علیؒ سے
سیکھنا زندگی کا قرینہ
تاکہ تو بھی بنے بے مثال
میرے بچے ! میرے نونہال"
اس نغمے کے خالق مشرقی پاکستان کی فلموں میں بے شمار گیت لکھنے والے شاعر سرور بارہ بنکوی تھے جبکہ فانی نے اس کی موسیقی ترتیب دی۔ ہمدرد لیبارٹری کی جانب سے یہ نغمہ 1978ء تک ریڈیو پاکستان پر بارہا نشر ہوتا رہا ۔ پھر پاکستان ٹیلی ویژن پر جب گرائپ واٹر کا اشتہار آیا تو اس میں اس کا مختصر حصہ بھی شامل کیا گیا تاہم اب یہ نغمہ نایاب شمار ہوتا ہے۔
12/06/2025
1971ء میں جب بھارت نے جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی کے نہتے شہریوں پر فضائی بمباری کی جس میں کورنگی میں 20 افراد معصوم افراد شہید ہوئے تو اس موقع پر ممتاز شاعر رئیس امروہوی نے کراچی کے شہریوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہ ملٌی نغمہ تحریر کیا جس میں شہرِ قائدِ اعظمؒ کی تاریخی عظمت کے اعتراف کے ساتھ ساتھ زندہ دلانِ کراچی کی ہمت کو بھی سلام پیش کیا گیا۔ ریڈیو پاکستان کراچی پر اس نغمے کو احمد رشدی اور ساتھیوں نے لعل محمد کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا جس کا ایکسٹینڈڈ پلے گراموفون ریکارڈ بھی جاری ہوا ۔
26/02/2025
"ہر تان پاکستان" سے انتخاب ۔ صفحہ 78
26/02/2025
" ہر تان پاکستان" سے انتخاب ۔۔ صفحہ 48
25/02/2025
پاکستانی ملٌی نغموں کی مکمل تاریخ "ہر تان پاکستان" طباعت سے آراستہ ہوچکی ہے جو 702 صفحات پر مشتمل ملٌی نغموں کا انسائیکلوپیڈیا ہے جسے ملٌی نغموں کے اولین محقق اور نوجوان صحافی و براڈکاسٹر ابصار احمد نے تحریر کیا ہے۔ مصنف کا نام اس وقت ملٌی نغموں کی تحقیق میں سند کے طور پر لیا جاتا ہے جن کی تحقیقی صلاحیتیوں اور اس شعبے میں گرفت کا اعتراف ملک کی کئی ممتاز علمی شخصیات بھی کرتی ہیں۔
"ہر تان پاکستان" کو مصنف نے 13 ابواب میں تقسیم کیا ہے جس کا آغاز 1911ء سے ہوتا ہے جب پہلی بار علامہ محمد اقبالؒ کی ملٌی نظم موسیقی سے آراستہ ہو کر نغمہ بن کر گراموفون ڈسک پر جاری ہے۔ پہلا باب قیامِ پاکستان سے قبل تک گراموفون اور آل انڈیا ریڈیو سے جاری ہونے والے ملی نغموں پر مشتمل ہے جن میں کلامِ اقبالؒ، نغماتِ تحریکِ پاکستان اور قائدِ اعظمؒ شامل ہیں۔ دوسرا باب قیامِ پاکستان سے لے کر 1956ء تک محیط ہے جس میں گراموفون اور ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ملی نغموں کے ساتھ ساتھ فلم نگری کے ملٌی نغمے بھی موجود ہیں ۔ اس طرح اگلے ابواب میں پاکستان ٹیلی ویژن، نجی چینلز، پرائیویٹ کیسٹس ریکارڈنگ اور پھر سوشل میڈیا سے باضابطہ نشر ہونے والے ملٌی نغموں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب کا دلچسپ پہلو اس میں شامل فنکاروں کے متعلق نایاب معلومات اور ان کی تصاویر کے ساتھ ساتھ ہر باب میں موجود سرخیاں ہیں جنھیں ابصار احمد نے نہایت دلچسپی سے پیش کیا ہے۔ ابصار چونکہ خود بھی بہترین قلم کار ہیں اسی لیے ان کا تحریری انداز ایسا ہے کہ قاری کو فوراً اپنی گرفت میں لے اور جو اس موضوع سے زیادہ دلچسپی نہ بھی رکھے تو وہ سرخیوں کی مدد سے پڑھتا ہی چلا جائے۔ سرخیوں کی مثال کچھ یوں ہے، پاکستان کی اولین اور واحد یہوی قومی فنکارہ، چمٹے کی چھن چھن میں جوشِ وطن"، قوال اور ملٌی تال، پکے راگوں میں بھی دیپک راگ، پاکستان کا اولین انگریزی ملٌی نغمہ وغیرہ
" ہر تان پاکستان" میں صرف اردو ہی میں نہیں بلکہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والے صوبائی اور علاقائی زبانوں کے ملی نغموں کا تذکرہ بھی موجود ہے یہاں تک کہ مشرقی پاکستان میں بننے والے بنگالی زبان کے ملٌی نغموں کا تفصیلی ذکر اور ان کے بول مع فنکار موجود ہیں جن سے ان ملی نغموں مکھڑے دیکھے جاسکتے ہیں جو اب کہیں موجود نہیں۔ کتاب میں کئی نایاب اور مقبول ملی نغموں کا مکمل متن، پس منظر اور ان پر مصنف کی جانب سے تبصرہ بھی درج ہے۔ "ہر تان پاکستان" کے متعلق ڈاکٹر عقیل عباس جعفری، طاہر حسن (ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان)، ڈاکٹر پیٹر فرانسس(ریسرچ اسکالر، بوسٹن امریکا)، حافظ محمد نوراللہ(ڈپٹی کنٹرولر سینٹرل پروڈکشنز ریڈیو پاکستان)، ڈاکٹر پیٹر فرانسس(ریسرچ اسکالر،بوسٹن امریکا) امجد شاہ(جنرل منیجر پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز)، اجنبی(معروف براڈکاسٹر)، بریگیڈیئر صولت رضا(معروف مصنف) نجم آراء(قومی ترانے کی فنکارہ)، ڈاکٹر یوسف عالمگیرین(مدیر ہلال، آئی ایس پی آر) ڈاکٹر انصر عباس(صدر شعبہ ء اردو میانوالی یونیورسٹی)، سید محبوب شاہ(سابق بین الاقوامی کرکٹ امپائر)،ڈاکٹر جیمس فرانسس، ڈاکٹر سید علی امام اور طارق رئیس فروغ جیسے صاحبانِ علم و فن کے تاثرات بھی شامل ہیں جنھوں نے "ہر تان پاکستان" کو ملٌی ادب اور تحقیق کا ایک منفرد شاہکار قرار دیا ہے۔
24/12/2023
"قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ کو نغماتی خراجِ تحسین"
( نغماتِ قائدِ اعظم پر اولین تحقیقی مضمون )
تحریر و تحقیق : ابصار احمد
اگر یہ کہا جائے کہ موسیقی سے آراستہ ہمارے ملٌی نغموں کا آغاز کلامِ اقبالؒ کے بعد بانی ء پاکستان قائدِ محمد علی جناحؒ پر بنائے گئے نغمات سے ہوتا ہے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ ملٌی کلامِ اقبالؒ جو بطور "قومی نغمہ" بھی گراموفون کمپنیوں نے جاری کیے اس کے بعد قائدِ اعظمؒ ہی کی شخصیت تھی جس کی بناء پر مسلمانانِ ہند کے لیے نغمہ طرازی ہوتی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے وقت گراموفون ریکارڈ اور ریڈیو کے ذریعے موسیقی اپنے عروج پر تھی اسی لیے برطانیہ نے "وار پبلسٹی" کے نام سے جنگی ترانوں کا شعبہ بھی قائم کر رکھا تھا جس میں نامی و گرامی شعراء اپنا نام واضح کیے بناء خدمات انجام دے رہے تھے۔ ماہرین نفیسات کے مطابق موسیقی اور نغموں کے اثرات دیرپا ہوتے ہیں جس کا اظہار ہم اپنی زندگی میں بھی کرسکتے ہیں کہ کوئی گانا جو ہم نے عمر کے کسی حصے میں بھی سنا ہو وہ اگر سن لیں تو ہم اسی دور میں پہنچ جاتے ہیں جس کے لیے الفاظ نہیں بس احساس ہی محسوس کرتے ہیں پھر اگر کوئی نغمہ اپنی شاعری میں گہرائی رکھتا ہو تو وہ بہت جلد کسی بھی انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ جنگوں سے لے کر ریاستی بیانیوں، سیاسی جماعتوں اور نظریوں کی تشہیر کے فروغ میں نغموں کو خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے اسی لیے جب برطانوی ہند کے لیے نغمے تیار ہو رہے تھے تو 1942ء میں آل انڈیا مسلم لیگ نے بھی خصوصی نغمے بنانے کا فیصلہ کیا تاکہ عوام میں نظریہ ء پاکستان کو اجاگر کیا جاسکے مگر آل انڈیا مسلم لیگ اس معاملے میں اتنی پاکیزہ سوچ کی حامل تھی کہ اس کی جانب سے کچھ شرائط تھیں جن میں اہم شرط ان نغموں کو گانے والے فنکاروں نے برطانوی ہند کی مدح سرائی نہ کی ہو شامل تھی اس لیے کئی نامور فنکار اس سے باہر ہی ہوگئے۔ اس وقت برطانوی ہند کے ساتھ ساتھ سبھاش چندر بوس کی آزادی ء ہند فوج اور کانگریس کے ترانے بھی منظرِ عام پر آ رہے تھے جبکہ مسلمانوں میں رفیق غزنوی اور امراء ضیاء بیگم کے گائے گئے کلامِ اقبالؒ ہی بطور ملٌی نغمہ تصور کیے جاتے ہاں چند اسلامی نظمیں اور سبق آموز واقعات پر مبنی قوالیاں ضرور تھیں جو مسلم قوم میں مقبول تھیں جن کو مختلف فنکاروں نے گراموفون کمپنیوں پر ریکارڈ کروایا تھا جن میں بنگال کے شاعرِ اسلام قاضی نذرالاسلام اور مولانا الطاف حسین حالی کی مسدس اہم تھے۔ مگر اب پاکستان کے لیے باضابطہ نغموں کا آغاز ہوا چاہتا تھا تو اس ضمن میں لاہور ریڈیو کے میوزک پروڈیوسر قادر فریدی نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اس منصوبے کو خود لیا اور اپنی نگرانی میں ماسٹر عنایت حسین کی موسیقی میں میاں بشیر احمد کی قائدِ اعظمؒ کو خراجِ تحسین پیش کرتی دو نظمیں "ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ" اور "ملت ہے فوج، فوج کا سردار ہے جناحؒ" ریکارڈ کروائیں جن کو ہز ماسٹرز وائس نے جاری کیا۔ اس کے بعد لاہور کے ممتاز فنکار اور سائیں اختر حسین کے بڑے بھائی ماسٹر اعجاز علی نے نازش رضوی کا تحریر کردہ نغمہ "ملت کا افتخار محمد علی جناحؒ" بھی ریکارڈ کروایا جو تحریکِ پاکستان کے زمانے کا ایک اہم نغمہ شمار ہوتا ہے۔ آغا حیدر نامی پشاور کے فنکار نے "اے جناحؒ اے دیدہ ور تجھ پہ خدا کی رحمتیں" اور ماسٹر ممتاز دہلوی نے "ظلمت میں آفتاب محمد علی جناحؒ، تاروں میں ماہتاب محمد علی جناحؒ" ریکارڈ کروائے جو بانی ء پاکستان کو قیامِ پاکستان سے قبل ہی بہترین نغماتی خراجِ تحسین تھے ۔
14 اور 15 اگست 1947ء کو پاکستان قائم ہوا تو اسی دن لاہور ریڈیو سے عبدالعزیز سیالکوٹی نے صحرائی گورداسپوری کا تحریر کردہ جو نغمہ پیش کیا اس میں قائدِ اعظمؒ کا ذکر ان الفاظ میں شامل تھا :
" قائد اعظمؒ توں میں اپنی جندڑی گول گھماواں
دن دیہاڑے ملی آزادی دل وچ خوشیاں مناواں "
پشاور ریڈیو پر احمد ندیم قاسمی نے جو تین نغمے لکھے ان میں ایک نغمہ قائدِاعظمؒ پر بھی تھا جسے پشاورا خان، سجاد سرور نیازی اور ساتھیوں نے گایا۔ اس طرح قائدِ اعظمؒ محمد علی جناحؒ پر نغموں کا جو سلسلہ شروع ہوا اس میں اضافہ ہی ہوتا رہا۔ ابتدائی دور میں ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ملٌی نغموں میں کلامِ اقبالؒ کے علاوہ جو متن زیادہ واضح تھے وہ قائدِ اعظمؒ کو خراجِ تحسین پر مبنی نغمے ہی تھے جن میں تمام شعراء اور فنکار اپنے اس عظیم محسن کے احسان کو یاد کرکے ان کو خراجِ تحسین پیش کرتے۔
اسی دوران نسیم اختر اور حافظ عطاء محمد قوال نے فیاض ہاشمی کے تحریر کردہ دو نغمے "تو مردِ مجاہد ہے تجھے مان گئے ہم، اے قائدِ اعظمؒ" اور "نچھاور تم پہ جان و دل ہمارے قائدِ اعظم" بھی ریڈیو پاکستان لاہور سے پیش کیے جو گراموفون ڈسک پر بھی جاری ہوئے۔
پاکستان مسلم دنیا کی ایک نظریاتی مملکت کے طور پر وجود میں آیا تھا جس پر اسی جذبے کے تحت کسی غیر ملکی زبان میں پاکستان کے لیے پہلا ملٌی نغمہ مشرقی افریقہ کے مسلمانوں نے سواحلی زبان میں "ای بابائے پاکستان" بنایا جس کی 78 کی رفتار والی گراموفون ڈسک بھی جاری ہوئی۔ یہ نغمہ قائدِ اعظمؒ کی وفات پر ان کو خراجِ تحسین تھا۔
11 ستمبر 1948ء کو قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ قوم کی کشتی پار لگا کر ابدی نیند سو گئے تو اسی دن کراچی ریڈیو سے شیر محمد اور لاہور ریڈیو سے عبدالشکور بیدل نے تنویر نقوی کا تحریر کردہ خصوصی مرثیہ " السلام اے قائدِ اعظمؒ سلام " بھی پیش کیا جبکہ ناصر جہاں نے " محمد اور علی مل کے اک نام ہوگیا" بھی اپنی آواز میں عوام کو سنوایا جسے ارم لکنھوی نے تحریر کیا تھا۔
25 دسمبر 1948ء کو پہلا یومِ قائدِ اعظمؒ تھا جب قائدِ اعظمؒ قوم میں نہیں تھے اس لیے اس موقع پر فیاض ہاشمی کے تحریر کردہ خصوصی نغمے ریڈیو پاکستان نے تیار کرکے قوم کو حوصلہ مندی کا پیغام دیا جن میں منور سلطانہ نے "اللہ اللہﷻ حوصلہ اے قائدِ اعظم ترا" لاہور ریڈیو سے 6 بار براہِ راست سنایا اور بعد میں منور سلطانہ کے علاوہ اسے ستارہ بیگم کی آواز میں گراموفون ریکارڈ پر بھی جاری کیا گیا جس میں قائدِ اعظمؒ کی وفات پر مبنی ان اشعار نے سننے والوں کے جگر چیر کر رکھ دیے :
" ہم نہیں کہتے کہ بے وفائی تو نے کی
لیکن وقت سے بھی پہلے جدائی تو نے کی
عالمِ اسلام میں آج ہے ماتم ترا"
14 اگست 1949ء کو قائدِ اعظمؒ کے بغیر پاکستان کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منور سلطانہ، علی بخش ظہور، حسینہ فیاض اور ساتھیوں نے فیاض ہاشمی کا تحریر کردہ نغمہ "قائدِ اعظمؒ زندہ ہے" لاہور ریڈیو سے پورے پاکستان کو سنایا جس میں اہلِ پاکستان کی طرف سے روحِ قائد سے یہ وعدہ بھی شامل تھا :
" جنت یہ زمیں بن جائے گی
ہر سالگرہ آزادی کی یہ کہتے ہوئے اب آئے گی
قائدِ اعظمؒ زندہ ہے ہاں زندہ ہے"
کراچی ریڈیو پر احمد ندیم قاسمی کا تحریر کردہ نغمہ "بحرِ ہستی میں اسلام کی لہر تھا، قائدِ ہند کیا قائدِ دہر تھا" مختلف فنکاروں نے گایا جبکہ لاہور ریڈیو سے زینت بیگم اور حافظ محمد عطاء کی مشترکہ آوازوں میں طفیل ہشیارپوری کا تحریر کردہ نغمہ "تو نے ہم کو جذبہء ایماں عطاء کیا" 1950ء کی دہائی کی ابتداء میں پیش ہوئے۔ تاہم قائدِ اعظمؒ پر سب سے مقبول ترین ملٌی نغمہ فلم بیداری میں شامل فیاض ہاشمی مرحوم کا تحریر کردہ وہ ملٌی نغمہ ہے جسے سن کر آج بھی ہر دل میں جہاں قائدِ اعظم کی جدوجہد کا منظر نامہ سامنے آتا ہے وہاں اس کا آخری انترا سن کر آنکھیں بھی اشک بار ہوجاتی ہیں ۔یہ نغمہ آج بھی مختلف فنکار گا کر اپنے قائدؒ کو خراجِ تحسین ان الفاظ میں پیش کرتے ہیں :
" یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائدِ اعظمؒ تیرا احسان ہے احسان"
کچھ عرصے سے بغضِ پاکستان رکھنے والا یا بھارت سے مرعوب اور پاکستان سے لاشعوری طور نفرت کرنے والا یا پھر فیشن کے طور پر "اٹینشن سیکر" طبقہ اسے بھارتی فلمی گیت کا "چربہ" قرار دے کر اس پر "پابندی" کا مطالبہ کرتا ہے جبکہ اس کا جواب فیاض ہاشمی خود دے چکے ہیں بلکہ یہ طبقہ اپنی بات منوانے کے لیے اس حد تک گرتا ہے کہ اسے ملٌی شاعری کے باوجود "ملٌی نغمہ" ماننے سے بھی انکار کردیتا ہے ۔ آج کل ایک فرد تو اب مجھ سے ذاتی بغض میں ہر قومی تہوار کے موقع پر اپنی فیس بک وال سیاہ کرتے ہوئے اس پر " سرکاری پابندی کا مطالبہ" کرتے ہوئے چیختے دکھائی دیتے ہیں جن کی ہم نوائی کرنے والوں میں اکثر کی وال پاکستان کے خلاف نفرتی کنایوں سے بھری دکھائی دے گی۔ ان کے خود ساختہ "سند یافتہ محقق" بھی آپ کو من گھڑت واقعات اور فنکاروں کی ہتک کرتے، ان صاحب چیخوں کا پرچار کرتے دکھائی دیں گے ۔ اس طبقے کے سرخیل اور پی ٹی وی پر پاکستانی موسیقی پر پروگرام کرنے کے باوجود بھی "بھارت کے ہمدرد محقق" کراچی سے رواں سال سفرِ آخرت پر روانہ ہوچکے ہیں جبکہ لاہور میں بیٹھے صاحب اور ان کے ہم نوا سرکاری ریڈیو اور ٹی وی پر جب بھی یہ نغمہ سنتے یا دیکھتے ہیں تو تلملاتے ہیں مگر الحمدللہ صد الحمدللہ 1957ء سے لیکر آج تک قائدِ اعظمؒ پر یہ اثر انگیز نغمہ ہر اسکول اور تقاریب میں نشر ہوکر فیاض ہاشمی کے الفاظ میں قائدِ اعظمؒ کا احسان پوری قوم کو یاد دلا رہا ہے ۔۔!
ریڈیو پاکستان کی ٹرانسکرپشن سروس (جو اب سینٹرل پروڈکشنز کا شعبہ کہلاتا ہے)ریڈیو پاکستان کا مضبوط شعبہ بن چکی تھی اس نے جہاں کئی ملٌی نغمے ریکارڈ کیے وہاں 1964ء میں بانی ء پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ پر بھی دس نئے نغمات تیار کیے جن میں حمایت علی شاعر کا تحریر کردہ نغمہ "اے قائدِ اعظمؒ تو زندہ رہے گا پائندہ رہے گا" ، ترانہ ء پاکستان کے خالق ابوالاثر حفیظؔ جالندھری کا "کشتی میں تھا وہ عزم کا دریا لیے ہوئے" اور اطہر نفیس کا "اپنا وہ میرِ کارواں" بے حد مقبول ہوئے جنھیں کورس میں تاج ملتانی، کوکب جہاں، زوار حسین اور خورشید بیگم نے پنڈت غلام قادر خاں اور استاد نتھو خاں کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا۔
ستمبر 1965ء کی جنگ کے دوران جب 11 ستمبر کا دن آیا تو اس دن ناصر کاظمی نے "آج تیری یادوں کا دن ہے" جیسا نغمہ لکھا جو بہت عرصے بعد مجاہد حسین کی موسیقی میں انور رفیع اور ساتھیوں نے سینٹرل پروڈکشن یونٹ ریڈیو پاکستان لاہور جبکہ کراچی پر افشاں احمد نے نیاز احمد کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا۔ افشاں احمد کی والدہ اسماء احمد کی آواز میں "میرے محبوب قائدؒ میرے محترم" بھی ریڈیو پاکستان کراچی کا ایک مقبول نغمہ ء قائد اعظمؒ ہے جو 1976ء کو قائدِ اعظمؒ کے صد سالہ جشن کے موقع پر ریکارڈ کیا گیا۔ 1984ء میں ساقی فاروقی کا تحریر کردہ نغمہ "اک کرن مسکراتی ہوئی اک کرن جو دریچے سے نیچے اتر آئی تھی" ناہید اختر اور ساتھیوں نے استاد نذر حسین کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا تو وہ بھی اس موضوع پر مقبول نغمہ قرار پایا۔
قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ پر ریڈیو پاکستان کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی ویژن نے بھی یادگار نغمات تیار کیے جن میں سجاد علی، بینجمن سسٹرز اور ساتھیوں کی آوازوں میں نثار بزمی کی موسیقی سے آراستہ محشر بدایونی کا تحریر کردہ نغمہ "اے روحِ قائدؒ آج کے دن ہم تجھ سے وعدہ کرتے ہیں" آج بھی روزِ اول کی طرح مقبول ہے جو 1985ء کو پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز نے پیش کیا۔ قائد اعظمؒ کے صد سالہ جشن کے موقع پر پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز نے تاج دار عادل کی پیشکش میں جمیل الدین عالیؔ مرحوم کا تحریر کردہ نغمہ "سننے والو! یاد کرو قائدِ اعظمؒ کی باتیں" محمد افراہیم اور ساتھیوں کی آوازوں میں ریکارڈ کیا تو وہ اس سال سرکاری تقاریب کا نغمہ قرار پایا جس میں قائدؒ کے اقوال کو نہایت خوب صورتی ست منظوم کیا گیا تھا ۔ پی ٹی وی کے پروگرام "دنیائے پاکستان" میں جمیل الدین عالیؔ کا تحریر کردہ نغمہ ء قائدِ اعظمؒ "کیسے کیسے دکھ سہتا تھا لوگو! یہ مت بھولنا" کو نیاز احمد کی موسیقی میں بلبلِ صحراء ریمشاں نے گایا جو اپنے وقت کا مشہور نغمہ ء قائد بھی قرار پایا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کے مایہ ناز پروڈیوسر اور سابق جنرل منیجر اطہر وقار عظیم اپنی کتاب "ہم بھی وہاں موجود تھے" میں لکھتے ہیں کہ معروف شاعر کلیم عثمانی نے ایک دن انھیں فون کرکے بتایا کہ انھوں نے ایک ایسا نغمہ لکھا ہے جو قائدِ اعظمؒ کی طرف سے قوم کے نام کے ایک تمثیلی پیغام ہے کہ اگر قائدِ اعظمؒ زندہ ہوتے تو وہ قوم سے کیا فرماتے۔ اس کے لیے انھوں نے بجائے اپنے خیالات استعمال کرنے کے اقوالِِ قائدِ اعظمؒ سے ہی مدد لی ہے۔ کلیم عثمانی نے کہا کہ اس کی موسیقی نثار بزمی ہی ترتیب دلوائیں اور اگر شہنشاہِ غزل مہدی حسن خاں اسے گائیں تو کیا ہی بات ہوگی۔ اطہر وقار عظیم نے نثار بزمی سے موسیقی مرتب کرواکر مہدی حسن خاں سے یہ نغمہ ریکارڈ کروایا تو اس طرح 23 مارچ 1978ء کو "یہ وطن تمھارا ہے تم ہو پاسباں اس کے" جیسا ملٌی نغمہ وجود میں آیا۔۔!!
1985ء میں خلیل احمد کی موسیقی میں قائدِ اعظمؒ محمد علی جناحؒ پر 23 مارچ 1940ء کو میاں بشیر احمد کا پیش کیا گیا نغمہ "ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ" مسعود رانا کی آواز میں نشر کیا گیا تو اس نغمے نے اس کی تمام سابقہ طرزیں فرموش کروادیں ورنہ یہ نغمہ کئی فنکار مختلف طرزوں کے ساتھ گاچکے تھے مگر اب اس کی یہی طرز مستند مانی جاتی ہے۔ کچھ سال قبل پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے یوسف صلاح الدین کی موسیقی میں اسے راحت فتح علی خاں نے بھی ریکارڈ کروایا تھا جو اپنی موسیقی کے اعتبار سے ایک اچھا ملٌی شاہکار قرار پایا۔
پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز نے 2005ء میں تاج دار عادل کی پیشکش میں پروگرام "ملت کا پاسباں" پیش کیا جس میں مہناز بیگم، عارف انصاری، شبانہ کوثر و شازیہ کوثر ، عبدالوہاب خان اور سجاد یوسف نے شاندار نغمات پیش کیے جبکہ 2007ء سے پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز کے موجودہ جنرل منیجر امجد حسین شاہ تقریباً ہر سال یومِ قائدِ اعظمؒ پر خصوصی میوزیکل پروگرام پیش کر رہے ہیں جن میں قائدِ اعظمؒ پر مبنی ملٌی نغمات شامل ہوتے ہیں۔
2016ء میں راقم الحروف کی توجہ پر پاکستان ٹیلی ویژن کراچی مرکز نے پروڈیوسر ڈاکٹر غلام مصطفیٰ سولنگی کی پیشکش میں قائدِ اعظمؒ پر میثاقِ لکھنؤ کے بعد لکھی گئی تاریخ کی پہلی نظم کو ٹھیک سو سال بعد نغمے کا جامہ پہنایا۔ اس تاریخی نغمے کے خالق برصغیر کے عظیم عالمِ دین علامہ سید سلیمان ندویؒ تھے جنھوں نے اپنے وجدان سے اس وقت یہ بات کہی تھی:
" ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید
ڈاکٹر اس کا اگر محمد علی جینا رہا "
واضح رہے کہ اس وقت قائدِ اعظمؒ جناح نہیں بلک "جینا" کہلاتے تھے ۔ اس تاریخی نغمے کو موسیقار شاہد بھٹو کی موسیقی میں اشتیاق بشیر مرحوم اور وحید خیال نے گایا۔
دسمبر 2020ء میں راقم الحروف نے قائدِ اعظمؒ کے لیے نغمہ "زندہ باد زندہ باد، قائدِ اعظمؒ زندہ باد" تحریر کیا تو یہ گائے گئے نغمات میں یہ پہلا نغمہ تھا جس میں یہ مشہور نعرہ نغمے کے قالب سے ہمکنار ہوا اور پھر یہ پہلا موقع بھی تھا کہ چھ تعلیمی اداروں کے فنکار طالبِ علموں نے اسے باضابطہ ریکارڈ کرواکر اپنے ہر دل عزیز قائد کو سلام پیش کیا ان فنکاروں میں ایاز شیخ، بسمہ طارق، مصطفٰی جمانی، ملک رمیض اور روحا سلیم شامل تھے۔
اردو زبان کے علاوہ صوبائی اور علاقائی زبانوں میں بھی قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ پر نڑی تعداد میں ملٌی نغمات ریکارڈ ہوئے جن میں سندھی زبان میں مخدوم طالب المولیٰ کا تحریر کردہ "السلام اے قائدِ اعظمؒ وطن جا پاسباں" اور شمشیر الحیدری کا لکھا ہوا "سلام اے قائدِ اعظمؒ" ریڈیو پاکستان حیدرآباد نے ماسٹر محمد ابراہیم، روبیمہ قریشی، استاد محمد جمن اور ساتھیوں کی آوازوں میں 1976ء میں ریکارڈ کیے۔ بلوچی زبان میں عطاء شاد کے تحریر کردہ نغمات فیض محمد بلوچ اور مرید بلیدی نے گائے اپشتو میں سلیم لاجورد، سمندر خان سمندر اور عبدالرحمٰن مجذوب جیسے شعراء نے لکھا جنھیں گانے والوں میں سبز علی، ہدایت اللہ، کشور سلطان اور گلنار بیگم کے نام اہم ہیں۔ معروف پشتو گلوکارہ وغمہ نے بھی 2007ء میں قائدِ اعظمؒ پر خصوصی نغمے ریڈیو پاکستان پشاور پر ریکارڈ کروائے جو حال ہی میں انتقال فرمانے والے ریڈیو پاکستان کے سابق کنٹرولر لائق زادہ لائق نے تحریر کیے تھے۔ کچھ برس قبل معروف پشتو فنکارہ نازیہ اقبال کی آواز میں "اے قائدِ اعظمؒ تیرا حسان ہے احسان" کا پشتو سازینوں کے ساتھ اردو طرز میں پشتو ترجمہ اے وی ٹی خیبر نے تیار کیا ہے جو ہر سال 25 دسمبر کو اے وی ٹی کے ساتھ ساتھ پی ٹی وی خیبر پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ پنجابی زبان میں اسمعٰیل متوالا، ڈاکٹر رشید انور، صحرائی گوراسپوری اور صوفی غلام مصطفیٰ تبسم جیسے شعراء نے قائدِ اعظمؒ کے حضور نذرانے تحریر کیے جبکہ جنوبی پنجاب کی زبان سرائیکی میں بابائے سرائیکی عبدالحق مہر، عبداللطیف بھٹی، حبیب فائق جیسے شاعروں نے ملتان اور بہاولپور ریڈیو کے لیے نغماتِ قائدِ اعظمؒ لکھے جنھیں گانے والوں میں ثریا ملتانیکر، سلیم گردیزی، جمیل پروانہ نصیر مستانہ، بیگم نسیم اختر، شمشاد بانو، سجاد رسول اور اے ڈی ساغر جیسے فنکار شامل ہیں۔
مشرقی پاکستان میں بھی قائدِ اعظمؒ کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے بیش بہا نغمے تیار ہوئے جن میں کوی جسیم الدین کا تحریر کردہ نغمہ عبدالعلیم اور ساتھیوں کی آوازوں میں "قائدِ اعظمؒ امار مہان نیتا" اور کوی عبدالوہاب الکمال کا لکھا ہوا نغمہ " امار بندھو قائدِ اعظمؒ" جسے دل آراء ہاشم اور ساتھیوں نے گایا بے حد مقبول تھے جبکہ عباس الدین احمد نے بھی بنگلہ زبان میں قائدِ اعظمؒ کو مسیح العالم کا لکھا ہوا نغمہ گا کر خراجِ تحسین پیش کیا۔
بانیء پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ پر گائے گئے ملٌْی نغموں کا یہ صرف سرسری تعارف تھا جس میں اس موضوع پر کئی اہم ملٌی نغمات کا ذکر نہیں ہوسکا۔ اس موضوع پر میری کتاب "ْہر تان پاکستان" میں تفصیلات مل جائیں گی جبکہ نغماتِ قائدِ اعظمؒ پر مکمل کتاب بھی مکمل کرچکا ہوں جو ان شاء اللہ جلد زیورِ طباعت سے آراستہ ہوجائے گی۔ اس کتاب میں قائدِ اعظمؒ پر موسیقی میں بنائے گئے تمام نغموں کی نہ صرف تفصیلات شامل ہیں بلکہ نغموں کا مکمل متن بھی درج ہے۔ ان شاء اللہ یہ کتاب ملٌی نغموں کی تاریخ میں ایک اہم اضافہ ثابت ہوگی نیز یہ مضمون بھی موسیقی سے آراستہ نغماتِ قائدِ اعظمؒ پر اولین مضمون ہے جو امید ہے ہر محبِ وطن اور پاکستانی موسیقی سے شغف رکھنے والے قاری کو ضرور پسند آیا ہوگا۔
(ابصار احمد)
محقق و آرکائیوسٹ پاکستانی ملٌی نغمات