سوچ کا سفر

سوچ کا سفر

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سوچ کا سفر, Library, Karachi.

Let's search the truth in the light of ISLAM,which is not only the name of worship but also includes all matter of life i.e religion,society,politics,business,family etc

21/05/2020

📢 *خبردار ہوشیار .........!*

🔥 *لڑکیوں میں ہم جنسیت کا بڑھتا ہوا رجحان..* 🔥

آج کل یورپ کی طرح مسلم دنیا بھی اس فعل بد کی لپیٹ میں ھے ،
وجہ سادہ سی ہے کہ ہم میں سے بعض والدین ، سربراہ اپنے بچوں کی طرح بچیوں کو بھی آزاد ماحول فراہم کرنے کی تگ و دو میں ھیں ،
اور یہ سمجھتے ھیں کہ اس سے انکا ⁦🎗️⁩ *confidence* بحال ھوگا ،
اور انکو انکی زندگی کے فیصلوں میں مکمل آزادی دے کر یہ بھول جاتے ھیں اسلامی رو سے انکے حقوق کیا ھیں جس اسلام نے عورت کو اپنے بند کمرے میں بھی بلند آواز سے تلاوت کرنے سے منع کیا ھو آج اس اسلام کی بیٹی آج اپنی قلبی تسکین کیلئے ہر جائز اور ناجائز کام کو اپنا اخلاقی حق سمجھنے لگی ھے اور ایسے ایسے مقامات کی طرف قدم اٹھانے لگ جاتی ھے جہاں اگر ایک بار پاؤں پھسل جائے تو یہ صرف اس کی ذات یا خاندان نھیں بلکہ پوری قوم کیلئے بدنما داغ بن جاتا ھے ۔
تمام والدین کی یہ خواہش ھے کہ آج اسکی اولاد جدید ٹیکنالوجی سے واقف ھو ،
ایسا سوچنا غلط نھیں ھے انھیں اس میں مہارت ھونی چاھئے مگر اس کی ایک حد ھونی چاھئے جہاں تک علمی ترقی کا حصول ممکن ھو ۔
اور آج کی ٹیکنالوجی مثلاً انٹرنیٹ، سوشل میڈیا ، ٹی وی وغیرہ اخلاقیات کتنا نقصان پہنچارہی ھے کہ ھم سوچ بھی نھیں سکتے ۔
اور ان تمام چیزوں کا استعمال ھم اپنی اولاد کا بنیادی حق سمجھتے ہیں ،
انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ذہنی انحطاط کا ضامن ہے اور ھمارے بچے ، بچیاں اس کو استعمال کرنے کی احتیاط سے ناواقف ھیں اور اپنے متعلق تمام تر معلومات چند سیکنڈز میں یہ جانے بغیر اپلوڈ کردیتے ھیں کہ یہ انکی پرائیویسی کیلئے کس قدر خطرناک ھے اس کے نتیجے میں آئے دن ھماری بچیاں جنسی ہراسانی کا شکار ھوتی رہتی ھیں ،
بعض کے ذہنوں میں یہ سوال بھی آئگا کہ ھم جو ڈیٹا سوشل میڈیا یا نیٹ پہ اپلوڈ کرتے ھیں اس پر پرائیویسی کا خیال رکھتے ہیں کہ اسے ھمارے علاوہ کوئی اور دیکھ بھی نھیں سکتا ،
انکو یہ بات ذہن میں رکھنی چاھئے کہ یہ نیٹ اور سوشل میڈیا کس کے تسلط میں ھے آپ جو بھی پرائیویسی سیٹنگ کرلیں وہ آپکا سارا ریکارڈ اسی پرائیویسی کے ذریعے محفوظ کرلیتے ھیں ،
انکی آپکے اسٹیٹس ، ڈی پی ، اور پوسٹس پر ہر وقت نظر رہتی ھے جس سے آپ کی شخصیت کا پتہ چلتا ھے اور وہ اپنے طریقے سے آپ کے ذہن کو بدلتے ھیں ،
آپ نے غور تو کیا ھوگا کے نیٹ استعمال کرتے ھوئے بعض اوقات کچھ ناپسندیدہ ایڈز آپکی نظروں کے سامنے آجاتے ھیں اس سے آپکے ذہن کو پرکھا جاتا ھے اگر آپ کسی ایسے ایڈ کو اوپن کرتے ھیں تو وہ پھر آپ کیلئے راستے کھولتے جاتے ھیں اور آپ آگے بڑھنے کی لگن میں ایسے مقام تک پہنچ جاتے ھیں جہاں شاید ھی کوئی ( الا ماشاءاللہ ) دامن بچا سکے ۔
پھر آپ اس کے عادی ھوجاتے ھیں اور پھر آپ انکے ہاتھ میں کٹھ پتلی بن جاتے ھیں ۔
آپ کو یہ جان کر حیرانی ھوگی کہ جدید تحقیق کے مطابق انٹرنیٹ ویب کی دنیا میں تقریباً 80 ٪ ویب سائٹس پورنو گرافی کو پروموٹ کر رھی ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور یورپ میں یہ فقط انٹرٹینمںٹ نھیں بلکہ بزنس بن چکا ھے ،
اور اس کا سب سے زیادہ نقصان مسلم دنیا کو ھے جس کی نوجوان نسل اس گڑھے میں گرتی جارہی ھے ،
اور اب حال یہ ہے کہ ھماری بچیاں بھی دن بدن اس وائرس کا شکار ھوتی جارھی ھیں ،
خدارہ 🙏 اس بارے میں سوچیں اور اپنی بچیوں کی activities پر نظر رکھیں ،
بہتر ھے انہیں اس انٹرنیٹ کے فتنے سے ہی دور رکھیں اگر ایسا ممکن نہ ھو تو پھر ان احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے انکی عزت و آبرو کے محافظ بن جائیں ۔۔۔۔۔👇👇
اپنی بچیوں کو انکی سہیلیوں سے دوستی میں حد سے نہ گزرنے دیں.
انکے گھر رات گزارنے کی اجازت بالکل نہ دیں.
اس قسم کے جملوں پر فوراً متنبہ ہو جائیں:
میں تو اس سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتی ہوں.
میں تو اسکے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی.
اسی طرح سہیلی کے حسن کی حد سے زیادہ تعریف پر بھی کان کھڑے کر لیں.
حتی کہ انکی استانیوں کی ان میں غیر معمولی دلچسپی پر بھی شک کریں. کئی کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جن میں استانیوں نے اپنی سٹوڈنٹ لڑکیوں کو ورغلا کر جنسی تعلق قائم کیا.
بالخصوص گرلز ہاسٹلز میں یہ وباء بہت عام ہو چکی ہے.
بات یونیورسٹیوں اور کالجز سے ہوتی ہوئی اب سکولز تک آ چکی ہے.
بچیاں کونسا لٹریچر پڑھ رہی ہیں، ٹی وی، لیپ ٹاپ موبائل وغیرہ پر کیا دیکھ رہی ہیں، اس پر نظر رکھیں. ایسے طریقے موجود ہیں کہ آپ بچوں کے لیپ ٹاپ اور موبائل کی ہر خبر رکھ سکیں اور انہیں پتہ بھی نہ چلے. ان طریقوں کو ماہرین سے سیکھیں. ٹیکنالوجی میں بچوں سے ایک سٹیپ آگے رہنے کی کوشش کریں. لیکن بچوں کو ہرگز علم نہ ہو کہ انکی مانیٹرنگ ہو رہی ہے. بھاڑ میں گیا انگریزوں کا "پرائیویسی" کا درس.
یہ خبیث بچوں کو پرائیویسی کے بہانے والدین سے الگ کرتے ہیں اور پھر اس پرائیویسی کے دوران ان کے ذہنوں میں اپنی کتابوں اور میڈیا کے ذریعے زہر انڈیلتے ہیں اور ہم جنسیت کو ایک نارمل انسانی رویہ باور کرواتے ہیں.
آجکل ہر دوسرے بیسٹ سیلر ناول میں الحاد اور ہم جنسیت کی تعلیم ہے. ان دونوں کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے.
کوئی بھی مذہب اس قبیح فعل کی اجازت نہیں دیتا. اسی لیے ہم جنسیت سے اگلا پڑاؤ الحاد ہے. ہم جنس پرستی کفر نہیں لیکن کفر کی طرف لے جانے والا راستہ اور شیطان کا ہتھیار ضرور ہے.
اور میرے نزدیک ایک انقلابی تجویز یہ ہے کہ اگر آپ کسی وجہ سے کم عمری میں انکی شادی کرکے ان پر یہ ذمہ داری نہیں ڈالنا چاہتے تو کم از کم انکے نکاح میں تاخیر نہ کریں.

اپنے بچوں پر توجہ دیں، انکی جان کی ہی نہیں بلکہ انکے ایمان کی اور حیا کی بھی حفاظت کریں.

18/06/2019

شیعوں کے نزدیک متعہ کی اہمیت اور اس کی فضلیت
فتنہ رافضیت کو پہچانئیے
🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥🔥

متعہ (زنا) شیعہ مذہب کا مشہورومعروف مسئلہ ہے جو ان کی کتابوں کا زنیت بنا ہوا ہے لیکن بہت کم لوگ ہوں گے جو يہ جانتے ہوں کہ شیعہ مذہب میں متعہ (زنا) صرف جائز اور حلال ہی نہیں ہے بلکہ اعلی درجہ کی عبادت ہے اور اس کا اجر وثواب نماز ۔روزہ۔حج۔ زکوة جیسی عبادات سے درجہا زیادہ ہے۔ دنیا میں کوئی دوسرا ایسا مذہب نہیں جس میں کسی ایسے فعل کو اس درجہ کی عبادت اور ترقی درجات کا ایسا وسیلہ بتایا گیا ہو۔اس سلسلہ میں شیعہ کی معتبر تفسیر منہج الصادقین کے حوالہ سے ايک روایت آگے آرہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ايک دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ امام حسین رضی اﷲ عنہ کا مقام پائے گا اور جو شخص دو مرتبہ متعہ (زنا) کرے گا وہ امام حسن رضی اﷲ عنہ کا مقام پائے گا اور جوشخص تین مرتبہ متعہ (زنا) کرے گا وہ علی رضی اﷲ عنہ کا مقام حاصل کر ے گا اور جو شخص چار مرتبہ متعہ کرے گا وہ میرا درجہ حاصل کر ے گا (نعوذ باﷲ) اسی روایت کو مدنظر رکھ کر ہر انسان اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان کے نزديک متعہ کا مقام کتنا اعلی اور بلند ہے۔علاوہ اس کے نماز ، روزہ، حج ،زکوة وغیرہ سے ائمہ کرام کا مقام حاصل نہیں ہو سکتا اگر کوئی ملنگ مقام رسول حاصل کرنا چاہتا ہے (نعوذ باﷲ) تو متعہ (زنا) سے حاصل کر سکتا ہے۔

باقی متعہ (زنا) کیا ہے ،بہت سے حضرات اس سے ناواقف ہوں گے۔ اس لئے مختصراً گذارش ہے کہ متعہ کا مطلب يہ ہے کہ کوئی مردکسی بھی بے نکاحی غیر محرم عورت سے وقت کے تعین کے ساتھ مقررہ اجرت پر (جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے) متعہ (زنا) کے عنوان سے معاملہ ملے کر لے تو اس وقت کے اندر اندر ہی دونوں مباشرت اور ہمبستری کر سکتے ہیں اور اس کے اندر نہ ہی کسی گواہ کا اور نہ قاضی اور وکیل کا ہونا ضروری ہے بلکہ کسی تیسرے آدمی کو بھی خبردينے کی ضرورت نہیں ہے۔چوری چھپے يہ سب کچھ ہو سکتا ہے جیسا کہ عموماً آج کل اس پر عمل ہو رہا ہے۔ اﷲ تعالی ہر سنی مسلمان کو اس برائی سے محفوظ رکھے۔

آمین ثم امین

متعہ (زنا) کی فضلیت جو شیعہ کتب میں موجود ہے اس کی قدرے تفصیل ملاحظہ فرمائیں

بقول شیعہ متعہ (زنا) کی ابتدا جناب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم

نے فرمائی (نعوذ باﷲ تعالی)

فروع کافی ج5ص449۔تفسیر صافی ج6ص346۔ تفسیر منہج الصادقین ج2ص492۔ترجمہ مقبول ص161 وغیرہ وسائل الشیعہ ج7ص437

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا متعہ (زنا) کا حکم قران کریم میں نازل ہوا اور متعہ کا اجراءآنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کیا ۔

اور من لایحضرہ الفقہ ج3ص297۔تفسیر البرہان ص45۔وسائل الشیعہ ج14ص442 کتاب النکاح پر ہے۔

بے شک مومن کامل ایمان والا نہیں ہوتا جب تک متعہ (زنا) نہ کرے۔

اور تفسیر منہج الصادقین ج3ص487۔من لا یحضرہ الفقہ ج3ص297۔تفسیر البرہان ص46۔وسائل الشیعہ ج4ص442۔کتاب النکاح پر ہے

ايک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ رسول خدا صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی متعہ (زنا) کیا ہے تو جواب دیا ہاں رسول خدا نے بھی متعہ کیا ہے ۔ استغفراﷲ
بقول شیعہ امام جعفر نے فرمایا متعہ (زنا) پر ایمان نہ رکھنے

والا ہم سے نہیں ہے

تفسیر صافی ج1ص347۔ تفسیر منہج الصادقین ج2ص488۔ خلاصة المنہج ص 291۔ حق الیقین ج2ص248۔برہان المتعہ ص45۔ ترجمہ مقبول ص71۔ من لایحضرہ الفقیہ ج3ص291۔ وسائل الشیعہ ج7ص438

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص ہمارے دوبارہ آنے پر اور متعہ (زنا) کے حلال ہونے پر ایمان نہیں رکھتا وہ ہم سے نہیں۔

اور تفسیر منہج الصادقین ج2ص492۔برہان المتعہ ص51پر ہے

آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص ايک بار متعہ (زنا) کرے اس کے جسم کا تیسرا حصہ دوزخ سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اور شخص دو دفعہ متعہ (زنا) کرے اس کے دو ثلث آزاد اور جو تین بارمتعہ (زنا)کرے اس کا سب جسم دوزخ سے آزاد ہوجاتا ہے۔

بقول شیعہ تین دفعہ متعہ (زنا) کرنے والا قیامت

کے دن حضور ﷺ کے ساتھ ہوگا

تفسیر منہج الصادقین ص 493۔ برہان المتعہ ص51

جوآدمی ايک دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ دوزخ کی آگ سے بے خوف ہو جاتا ہے۔ اور جوآدمی دو دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ نیک لوگوں کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔اور جو آدمی تین دفعہ متعہ (زنا) کرے وہ میرے ساتھ (یعنی محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے ساتھ) جنت کے باغات میں ہوگا۔

اور من لایحضرہ الفقیہ ج3ص298۔ برہان المتعہ48۔ وسائل الشیعہ ج7ص438میں ہے

اﷲ تعالی نے ہمارے شیعوں پر ہر نشہ والی چیز کو حرام کر دیا اور اس کے بدلے میں متعہ (زنا) کرنے کی اجازت دی۔

بقول شیعہ متعہ (زنا) کرنے میں جسم کے

بالوں کے برابر نیکیاں حاصلی ہوتی ہیں

منہج الصادقین ص488۔برہان المتعہ ص49۔ من لایحضرہ الفقیہ ج3ص295۔ رسائل الشیعہ ج9ص442

صالح بن عقبہ کے باپ نے حضرت امام باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ متعہ (زنا) کرنے والے کےلئے ثواب سے توحضرت کے لئے کیوں نہیں۔ جب صرف اﷲ کی رضا حاصل کرنے اور متعہ (زنا) کے منکروں کی مخالفت کے لئے متعہ (زنا) کرے تو متعہ (زنا) کرنے والوں جنتی بھی باتیں خلوف میں عورت کے ساتھ کرے گا اتنی نیکیاں لکھی جائیں گے۔ اور جس وقت اس کی شہوت کے ساتھ ہاتھ کرےگا تو اس کے لئے نیکی لکھی جائے گی اور جب اس کے قریو مخصوص کام کےلئے جا ئے گا تو اﷲ تعالی اس کے گناہوں کو بخش دے گا اور جس وقت غسل کرے گا تو جتنے اس کے بدن پر بال ہیں اس کے برابر رحمتیں اور نیکیاں عطا کرے گا۔ ميں نے کہا بالوں کے برابر نیکیاں فرمایا ہاں بالوں کے برابر۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) کرنے سے حسنین رضی اﷲ عنہ۔

شیر خدا رضی اﷲ عنہ اور خاتم الانبیاءکا درجہ حاصل ہوتا ہے (نعوذ باﷲ)

منہج الصادقین ج2ص493۔برہان المتعہ ص52

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جو آدمی ايک مرتبہ متعہ (زنا) کرے اس کو حضرت امام حسنین رضی اﷲ عنہ کا درجہ اور جو دو مرتبہ متعہ کرے اس کا حضرت حسن رضی اﷲ عنہ کا درجہ اور جو تین مرتبہ متعہ کرے اس کو حضرت علی رضی اﷲ عنہ کا درجہ اور چار مرتبہ متعہ (زنا) کرے اس کو میں محمد (صلی اﷲ علیہ وسلم) کا درجہ ملے گا۔ استغفراﷲ

بقول شیعہ متعہ (زنا) کے غسل سے ستر ہزار فرشتے پیدا ہوتے ہیں

جو قیامت تک دعا کرتے ہیں

برہان المتعہ ص50۔ وسائل الشیعہ ج14ص442

امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا جو شخص متعہ (زنا) کرے اور پھر غسل کرے تو اﷲ تعالیٰ پانی کے ہر قطرہ کے بدلے جو اس کے بدن سے گرتا ہے ايک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو قیامت تک اس کے ليے استغفار کرتا ہے۔

آگے يہ بھی ہے

اور متعہ (زنا) نہ کرنے والوں پر قیامت تک خدا کے فرشتے لعنت کرتے ہیں

بقول شیعہ متعہ (زنا) کرانے والی عورتوں کو خدا پاک نے بخش دیا

من لایحضرہ الفقیہ ج3ص295۔ برہان المتعہ ص47۔ وسائل الشیعہ ج14ص442۔ کتاب النکاح

جنا ب رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا جب میں معراج کی رات آسمان کی طرف جا رہا تھا تو مجھے جبرئیل علیہ السلام ملے اور کہا اے محمد اﷲ تعالی فرماتا ہے کہ میں نے تیری امت کی متعہ (زنا) کرنے والی عورتوں کو بخش دیا ہے ۔

بقول متعہ (زنا) کرتے وقت ہر فعل کے بدلے بے کا حساب انعام حاصل ہوتے ہیں

تفسیر منہج الصادقین ج2ص493۔ خلاصة المنہج ص292۔ عجالہ حسنہ ص15

اور جب متعہ (زنا) کرنے والا مرد اور عورت دونوں متعہ (زنا) کے ليے بیٹھے ہیں تو خدا کی طرف سے ايک فرشتہ ان کی حفاظت کے لئے نازل ہوتا ہے جو متعہ کی مجلس ختم ہونے تک ان کی حفاظت کرتا ہے۔ متعہ (زنا) کے وقت جب دونوں زبان سے کلمہ نکالیں گے ان کےلئے تسبیح اور ذکر بن جائے گا۔ اور جب ايک دوسرے کا ہاتھ پکڑ یں گے ہر گناہ ان کی انگلیوں سے گر جائے گا۔

اور جب ايک دوسرے کو بوسہ دیں گے تو ہر بوسے کے بدلے حج اور عمرہ کو ثواب ملے گا۔

اور جب متعہ (زنا) کرنے کے لئے الگ ہو ں گے ہر لذت اور شہوت پر ان کےلئے نیکیاں لکھی جائیں گی ايک نیکی بلند پہاڑ کے برابر ہوگی۔ اس کے بعد فرمایا کہ جبرئیل نے مجھے کہا اے اﷲ کے رسول اﷲ تعالی فرماتا ہے جب متعہ (زنا) کرنے والا مرد اورعورت متعہ سے فارغ ہو کرغسل میں مشغول ہوتے ہیں باوجود اس کے کہ اﷲ تعالی جانتا ہے کہ میں ان کا پروردگار ہوں اور يہ متعہ بہترین طریقہ ہے ميرے پیغمبر کا۔ فرماتے ہیں اے میرے فرشتو! میرے ان دو بندوں کو ديکھو جو کہ متعہ سے فارغ ہو کر غسل میں مشغول ہو گئے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں کہ میں ان کا رب ہوں تم گواہ ہو جاؤ کہ میں ان کو بخش دیا ہے جان لو کہ ان کے بدن پر غسل کاپانی ان کے جس بال سے گزر ے گا تو اﷲ تعالی ہر بال کے بدلے میں ان کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دے گا اور دس گناہ معاف کر دے گا اور دس درجے بلند کر دے گا۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ يہ تقریر سن کر کھڑے ہوئے اور کہا یا رسول اﷲ میں تصدیق کرتا ہوں جوکچھ آپ نے کہا ۔

اس شخص کےلئے اجر ہے جومتعہ (زنا) کو رواج دينے میں کوشش کرتا ہے۔فرمایا اس کو متعہ کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا۔

پھر حضرت علی رضی اﷲ عنہ عرض کیا یا رسول اﷲ ان کا اجر کیا ہے آپ نے فرمایا وہ غسل میں مشغول ہوتے ہیں اور جو پانی کا قطرہ ان کے بدن سے زمین پر گرتا ہے اﷲ تعالی ہر قطرہ کے بدلے ايک فرشتہ پیداکرتا ہے۔ جو اﷲ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اس کاثواب متعہ (زنا) کرنے والے کےلئے جمع ہوتا رہتا ہے۔ اے علیؓ! جو آدمی متعہ (زنا) کو ہلکا جانے اور اس کے کرنے سے کترائے وہ میرے شیعہ سے نہیں ہے اور میں اس سے بری ہوں۔

اور تفسیر منہج الصادقین ج2ص489پر ہے۔

نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا جو شخص دنیا سے گیا اورمتعہ نہیں کیا قیامت کے دن ہو اس حال میں آگئے کہ اس کا ناک کٹا ہوا ہوگا۔

بقول شیعہ متعہ (زنا) نہ کرنے والا خدا پاک کا دشمن ہے

تفسیر منہج الصادقین ج2ص488

ايک اور روایت میں ہے کہ ايک شخص حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے آیا اور پوچھا اے رسول اﷲ کے بیٹے میں متعہ (زنا) نہ کرنے پر قسم اٹھائی اور اب بہت پریشان ہوں تو آیا میرے ليے جائز ہے متعہ (زنا) کرنا حضرت امام باقر نے فرمایا اے شخص تو نے خدا کی اطاعت نہ کرنے پرقسم اٹھائی ہے اور اگر تو اس کی اطاعت نہیں کرے گا تو خدا کا دشمن ہو جائے گا ۔پس اس روایت سے ثابت ہو جوآدمی متعہ (زنا) نہ کرے وہ خدا کا دشمن ہے۔

اور تفسیر منہج الصادقین ص487میں ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا معراج کی رات کو جبرئیل علیہ السلام نے مجھے کہا اے محمد اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تیری امت میں سے ان لوگوں کو بخش دیا جو متعہ (زنا) کرتے ہیں۔
بقول شیعہ متعہ (زنا) کا انکاری حضور کی نبوت کا انکار کرنے والاہے

تفسیر منہج الصادقین ج2ص495میں ہے کہ صحابہ کرام ؓ کو آپ نے فرمایا

کہ میرے پاس جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور پروردگار کی طرف سے تحفہ لائے اور وہ مومن عورتوں سے متعہ (زنا) کرنا ہے جو مجھ سے پہلے کسی پیغمبر کو نصیب نہیں ہوا اور میں تم کو اس کاحکم دیا۔

متعہ میر ی سنت ہے میری موجودگی میں اور میرے وصال کے بعد جو بھی اس سنت کو قبول کرے گا اور اس پر عمل کرے گا اور اس کی تشہیر کرے گا وہ میرا اور میں اس کا ہوں۔ اور جو مخالفت کرے گا اس کی جس کا میں نے حکم دیا ہے تو وہ خدا کی مخالفت کرے گااور جان لو اے لوگو! جو بھی اس مجلس میں بیٹھنے والوں سے انکار کرے گاوہ میرے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ دوزخی ہے۔ خدا کی لعنت ہو اس کی مخالفت کرنے والے پر جو اس کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ میری مخالفت کرتا ہے۔اور جو کوئی متعہ (زنا) کا انکار کرتا ہے وہ میری نبوت کا انکار کرتا ہے۔متعہ (زنا) کی مخالفت میری مخالفت ہے ۔ جو میرا مخالف خدا کا مخالف خدا کا مخالف دوزخی ہے۔ جان لو کہ متعہ کو اﷲ تعالیٰ نے میرے ساتھ خاص کر دیا ہے جوشخص عمر میں ايک مرتبہ بھی متعہ کرے گا وہ جنتیوں میں سے ہوگا۔

بقول شیعہ متعہ (زنا) کا انکار کرنے والا کافر اور مرتد ہے

تفسیر منہج الصاقین ج2ص495

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ متعہ (زنا) کرنا میرا اور میرے آبا و اجداد کا دین ہے اور جو کوئی متعہ کرے گا ہمارے دین پر عمل کرے گا اور جو متعہ کا انکار کرے وہ ہمارے دین پر عمل کرے گا اور جو متعہ کا انکار کرے وہ ہمارے دین کا منکر ہے اور ہمارے دین کے علاوہ اس کا اعتقاد ہے۔

اورمتعہ امان ہے تمہارے لئے شرک سے اور متعہ (زنا) سے پیدا شدہ بچہ یہ افضل ہے اپنی بیوی سے حاصل شدہ بچہ سے اور متعہ کا منکر کافر اور مرتد ہے۔

اور فروع کافی ج5ص451۔ تہذیب الاحکام ج7ص260۔المعة الدمشقیہ ج5ص206۔استبصار ج3ص147پر ہے۔

زرارہ نے حضرت امام جعفر صادق رحمہ اﷲ سے پوچھا کتنی عورتوں سے متعہ (زنا) کرنا جائز ہے فرمایا جتنی عورتوں سے تیرا دل چاہے۔

بقول شیعہ چکلے والی عورت سے بھی متعہ (زنا) کرنا جائز ہے۔

استبصار ج3 ص143۔ تہذیب الاحکام ج7ص260۔ النہایہ شیخ مفید ص490

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عمار نے سوال کیا۔ بدکارعورت کے ساتھ متعہ (زنا) کرنے کے بارہ میں۔ فرمایا کوئی حرج نہیں بدکار عورت کے ساتھ متعہ (زنا) کرنے میں۔

چونکہ متعہ (زنا) کے اندر عورت کوراضی کرنے کےلئے نقدی وغیرہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے اسلئے شیعہ نے اس مسئلہ کو بھی اماموں سے حل کروا لیا ہے جس کے اندر خصوصی طور پر پیشہ ور ذاکروں کے علاوہ غریب ملنگوں کی رعایت رکھی گئی ہے تاکہ وہ بچارے بھی اس میں شریک ہو کر آنحضرت کے درجہ کو حاصل کریں۔(معاذ اﷲ) اور اس کے انکار سے کافرمرتد، بے دین ، دشمن رسول نہ نبے۔ ملاحظہ فرمائیں۔

فروع کافی ج5ص457۔تہذیب الاحکام ج7ص260۔ وسائل الشیعہ ج7ص481پر ہے۔

احول نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہ کتنی رقم دے کر آدمی عورت سے متعہ (زنا) کر سکتا ہے ۔فرمایا ايک مٹھی گندم کی دے کر۔

اور فروغ کافی ص457۔تہذیب الاحکام ج7ص260پر ہے۔

ابو بصیر نے کہا میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سوال کیا عورتوں کے ساتھ متعہ (زنا) کرنے کے بارے میں۔فرمایا حلال ہے اور متعہ (زنا) کاعوض ايک درہم یا آدھا درہم کافی ہے۔

اور فروع کافی ج 5ص457۔وسائل الشیعہ ج7ص481 میںہے۔

ابو بصیر نے حضرت امام جعفر صادق سے متعہ (زنا) کی فیس کے بار ے میں پوچھا وہ کتنی ہو۔ فرمایا آٹے یا ستووں یا کھجور کی ايک مٹھی۔

بقول شیعہ ايک دفعہ متعہ (زنا)کرنا ستر مرتبہ بیت اﷲ کی زیارت کے برابر ہے

عجالہ حسنہ ص16

حضرت سید عالم نے فرمایا کہ جس نے زن مومنہ سے متعہ (زنا) کیا گویا اس نے خانہ کعبہ کی ستر مرتبہ زیارت کی۔

خدا پاک نے اپنے نفس پر قسم کھائی ہے کہ جس مرد اور جس عورت نے متعہ (زنا) کیا ہوگا اس کو آتش دوزخ سے معذب نہیں کروں گا ايک دفعہ متعہ (زنا) کرنے والا نار جہنم سے بے خوف ہوگا۔ دومرتبہ کرنے والا نیک بندوں کے ساتھ محشور ہوگا۔ تین مرتبہ متعہ (زنا) کرنے والا داخل ہوگا۔ جو شخص جس قدر زیادہ متعہ کرے حق تعالیٰ اس کے مدراج اسی قدر زیادہ فرمائے گا۔

متعہ (زنا) کرنے والے بجلی کی طرح پل صراط سے گزر کر جنت میں داخل ہوں گے

عجالہ حسنہ ص16

اے علی رضی اﷲعنہ قیامت کے دن زوج اور زوجہ ایسی نورانی سواریوں پر ہوں گے جن کے پاؤں مردارید کے اور کان زبرجدسبز کے آنکھیں یاقوت کی پیٹ لولو اور مرجان کے ہوں گے يہ لوگ بجلی کی طرح صراط سے گزریں گے اور ان کے ساتھ فرشتوں کے ستر صفیں ہوں گے ديکھنے والے کہیں گے کہ يہ ملائکہ مقرب میں یا انبیاء مرسل۔ فرشتے جواب دیں گے کہ يہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے سنت نبوی کو دنیا میں زندہ کیا یعنی متعہ (زنا) کیا اور وہ لوگ بغیر حساب کے لئے ہوئے بہشت میں داخل کيے جائیں گے

18/06/2019

جب شوگر کے مریض کو بروقت دوا نہ دی جائے اور یہ عمل بار بار اور مسلسل دھرایا جائے تو جسم میں شوگر کی سطح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے جسم کے مختلف اعضاء ناکارہ ہو سکتے ہیں بیہوشی طاری ہو سکتی ہے اور جان بھی جا سکتی ہے ۔

مصر کے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی جو عرصہ چھ سال سے جیل میں تھے شوگر کے مرض میں مبتلا تھے لیکن امام حسن البناء اور سید قطب کے اس جانشین نے ظالم حکمرانوں سے مانگا تو قرآن عظیم الشان کا نسخہ مانگا جو نہ دیا گیا ۔

اپنی دھن کا پکا محمد مرسی کسی مدرسے کا نہیں بلکہ کیلیفورنیا یونیورسٹی کا فارغ التحصیل تھا پی ایچ ڈی کرنے کے بعد پہلے کیلیفورنیا اور بعدازاں قاہرہ یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات سرانجام دیتے رہے ۔

ڈاکٹر محمد مرسی نے صدر منتخب ہونے کے بعد جو پہلا صدارتی خطبہ پیش کیا وہ وہی خطبہ تھا جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا تھا " لوگوں مجھے تمہارا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے حالانکہ میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔ لوگو! میں اللہ کی اطاعت کرو تو میری بات مانو اور اگر میں اللہ کی نافرمانی کروں تو ہر گز میری اطاعت نہ کرو"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ان اور امت مسلمہ کے اس عظیم فرزند کی آواز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی گونجی تھی "عزت کا حقدار صرف وہ ہے جو محمد ﷺ کی عزت کرے گا جو محمد ﷺ سے دشمنی رکھے گا اس سے دشمنی رکھی جائے گی "

اُمت مسلمہ اور بالخصوص عالم عرب کے لئے امید کی آخری کرن اخوان المسلمون کا یہ عظیم سپوت اپنے پیش رو حسن البناء اور سید قطب کے راستے پر چلتے ہوئے خالق حقیقی سے جا ملا ہے ۔ لیکن امت مسلمہ پر موت کی سی خاموشی طاری ہے مسلم حکمران خاموش ہیں سوائے طیب اردگان کے کہیں سے کوئی آواز نہیں آئی میڈیا کے لئے آج بھی سب سے اہم خبر کرکٹ ورلڈ کپ ہے ۔ 😢 😢

18/06/2019

*نیا فتنہ*

آج کل کچھ لبرلز اور نام نہاد دانشور بڑے زور و شور سے واویلا کر رہے ہیں کہ:
کعبہ کے گرد گھومنے سے پہلے کسی غریب کے گھر گھوم آؤ۔۔۔

مسجد کو قالین نہیں کسی بھوکے کو روٹی دو۔۔۔

حج اور عمرہ پر جانے سے پہلے کسی نادار کی بیٹی کی رخصتی کا خرچہ اٹھاؤ۔۔۔

تبلیغ میں نکلنے سے بہتر ہے کہ کسی لاچار مریض کو دوا فراہم کر دو۔۔۔

مسجد میں سیمنٹ کی بوری دینے سے افضل ہے کہ کسی بیوہ کے گھر آٹے کی بوری دے آؤ۔۔۔

*یاد رکھیں۔۔۔!*
دو نیک اعمال کو اس طرح تقابل میں پیش کرنا کوئی دینی خدمت یا انسانی ہمدردی نہیں بلکہ عین جہالت ہے۔
اگر تقابل ہی کرنا ہے تو دین اور دنیا کا کرو اور یوں کہو !

15 ، 20 ﻻکھ ﮐﯽ ﮔﺎﮌﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﺳﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

50 ، 60 ﮨﺰﺍﺭ ﮐﺎ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ لو ﺟﺐ ﻣﺤﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯿﮏ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔۔

ﮨﺮ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺍﮮ ﺳﯽ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻟﮕﻮﺍئو ﺟﺐ گرمی میں بغیر بجلی کے سونے والا کوئی نہ ہو ۔۔۔

ﺑﺮﺍﻧﮉﮈ ﮐﭙﮍﮮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺧﺮﯾﺪو ﺟﺐ ﺳﮍﮎ ﭘﺮ ﭘﮭﭩﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮧ ﮨﻮ ۔۔

یہ کروڑوں کی گاڑیاں ، لاکھوں کے موبائل فونز اورہزاروں کے کھلونے خریدتے وقت ان دانشوروں کی ماں کیوں نہیں مرتی۔۔۔؟

آخر یہ چڑ کعبہ مسجد حج وعمرہ اور تبلیغ ہی سے کیوں ہے۔۔۔؟

ان ضروریات کا فرائض سے موازنہ کر کے فرائض سے غفلت کا درس دینے والے جب اپنی شادیوں پر عورتیں نچاتے ہیں تب ان کو کیوں یاد نہیں ہوتا کہ وہ بھی کسی کی بیٹیاں اور بہنیں ہیں...
ہزاروں آرام دہ اشیاء خریدتے وقت ان کو غریب کی بن بیاہی بیٹیاں نظر کیوں نہیں آتی ہیں؟

اک بار ضرور سوچیں
کیا
انسانیت کی خاطر غیر ضروری امور ترک کرنا بہتر ہے یا کہ فرائض کا ترک؟

23/04/2019



اعتراض:
ہم جنس پرستی کی طرف رغبت فطرتی ہے اور یہ بات سائنسی طور پر بھی ثابت ہوچکی ہے لہذا اس کی عام اجازت ہونی چاہیے۔

جواب:
اگر کسی شخص کی پیدائشی طور پر رغبت "دہشتگردی یا قتل و غارت گری" کی طرف ہو تو کیا اسے ان کاموں کی اجازت دے دی جائے گی؟
اور رہی بات سائنس کی تو سائنسی تحقیقات وقتا فوقتا بدلتی رہتی ہے، کل تک یہی سائنس ہم جنس پرستی کو "نفسیاتی امراض" میں شمار کرتی تھی۔

اعتراض علی الجواب:
ہم جنس پرستی میں طرفین(یعنی دونوں) کی باہمی رضا مندی پائی جاتی ہے جبکہ "دہشتگردی اور قتل و غارت گری" میں ایسا نہیں۔ اور ان چیزوں سے تو سماجی، معاشرتی اور دیگر کئی طرح کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔

جواب الجواب:
طرفین کی باہمی رضا مندی تو "رشوت" میں بھی پائی جاتی ہے اس طرح تو رشوت کے لین دین کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ اور رہی بات سماجی و معاشرتی مسائل کی تو ہم جنس پرستی سے انسانی نسل کے بڑھنے کا عمل ہی رک جائیگا اور اس طرح تو سماج ہی قائم نہ رہے گا چہ جائیکہ سماجی مسائل۔

("ہم جنس پرستی کا فتنہ" سے تسھیل و ترمیم و اضافہ کے ساتھ مأخوذ)

از: حافظ_احمد

21/04/2019

کیا خدا واقعی موجود ہے؟🤔🤔🤔

اللہ کے رسول صہ کا فرمان ہے تم میں سے شیطان کسی کے پاس آکر کہتا ہے اِسکو کس نے پیدا کیا؟ اُسکو کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ وہ تم سے یہ کہتا ہے خدا کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کوئ شخص اس مقام پر پہنچے تو فوراً اللہ کی پناہ مانگے اور اس میں غور کرنے سے باز رہے. (صحیح مسلم کتابُ االایمان)
اس قسم کے شکوک و شبہات اس وقت جنم لیتے ہیں جب انسان خدا کو بھی انسان کے وجود پر قیاس کرتا ہے، جسطرح انسان پیدا ہوا، خدا بھی تو پیدا ہوگا؟ جسطرح کے جذبات انسان کے ساتھ منسلک ہیں اسی طرح خدا کو بھی رشتوں کا پابند کرنے کی کوشش کرتا ہے اور بھول جاتا ہے اللہ صمدذات ہے وہ تو ان چیزوں سے بے نیاز ہے. مثلاً 21 صدی کا سائنسدان سٹیفن ہاکنگ سے جب پوچھیں کائنات کی ابتداء کیسے ہوئ؟ سٹیفن نے کہا Big Bang تھیوری سے (زمین و آسمان میں ایک زلزلہ آیا اور علیحدہ ہو گئے)، اعتراض یہ ہوا کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟ زلزلہ کہاں سے آیا؟ سٹیفن کہتا ہے کہ یہ ایک لایعنی سوال ہے مطلب سوال کرنا ہی بیکار ہے کیونکہ وقت و مکاں (time and space) کا آغاز ہی Big Bang سے ہوا، لہذا اس سے پہلے کچھ نہ تھا. 🤣😂. لہذا اب اگر یہی روش مذہبی لوگ اختیار کرتے ہوئے اللہ کے وجود کے بارے میں کہیں تو اسے غیر سائنسی نظریہ کہا جاتا ہے. لہذا اب زلیخا کے گھر والوں سے ہی یوسف کی گواہیاں لیتے ہیں :
آئزک نیوٹن کہتا تھا *خدا کا انکار حماقت ہے، جب میں نظام شمسی پر غور کرتا ہوں تو دیکھتا ہوں ہماری زمیں سورج سے اتنے ہی فاصلہ پر ہے کہ جتنی اسے حرارت درکار ہے یہ سب کچھ صرف کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہو سکتا* 1
الیکڑانکس کا بانی مائیکل فیراڈے کہتا تھا *فطرت کی کتاب 📙 جسکا ہم نے سائنس کے زریعے مطالعہ کرنا ہے خدا کے ہاتھوں لکھی گئ ہے* 2
تھرموڈائنامکس کا بانی کیلون کہتا ہے *آزادانہ سوچ سے مت گھبراؤ، اگر تمھاری سوچ پختہ ہوگی تو سائنس تمھیں خدا پر ایمان لانے پر مجبور کر دے گی* 3
کوانٹم مکینکس کے بانی ورنر ہیز بنرگ کہتا ہے *نیچرل سائنسز کا پہلا گھونٹ تمھیں ایک ملحد بنا دے گا، لیکن گلاس کی تہہ میں خدا تمھارا انتظار کر رہا ہے* 4
کیمسٹری میں نوبل پرائز حاصل کرنے والے سائنسدان کرسچن ایقن سن کا کہنا ہے * مری رائے میں ایک احمق ہی ملحد ہو سکتا ہے ہمیں تسلیم کرنا ہوگا یہاں ایک پوشیدہ قوت و طاقت موجود ہے جسکی بصیرت و علم لامحدود ہے، اُسی نے کائنات کا آغاز کیا* 5
1:Inventor, scientist and teacher p. 123
2:The journal of American scientific affiliation. june 1983, 35/101
3:The life of William Thomson Baron Kelvin of Largs (macmillan and co.. 1910), 2/1099
4:why God loves science and science need God p. 87
5:the scientific myth of evolutionism (USA Author House 2007) p, 135

معلوم ہوا کہ اس کائنات سے ماورا (باہر) کوئ وجود ہے جو اس عالم کو ایک نظام کے ماتحت چلا رہی ہے وہی ذات اللہ وحدہُ لاشریک ہے

21/04/2019

اعتراض : قرآن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ رحمن کی بنائی ہوئی کائنات میں کوئی نقص موجود نہیں لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کوئی کانا ہے، کوئی لنگڑا ہے اور غرض لوگوں میں متعدد قسم کی پیدائشی بیماریاں ہوتی ہیں!

جواب:جی بالکل قرآن پاک میں، خصوصا سورۃ الملک کے شروع میں اللہ رب العزت نے انسان کو مشاہدہ کائنات کی دعوت دی ہے اور یہ چیلنج رکھ دیا ہے کہ انسان رحمن کی بنائی ہوئی کائنات میں کوئی ایک بھی بے ضبطی تلاش نہیں کر سکتا۔

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں متعدد قسم کی بیماریاں پائی جاتی ہیں، مثلا بہت سے لوگ پیدائشی طور پر ہی معذور ہوتے ہیں۔

اس مقام پر انسان سوچتا ہے کہ جب دنیا میں اتنی بیماریاں اور معذور افراد پائے جاتے ہیں تو گویا خدا کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہو گیا۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ مغالطہ درحقیقت خدا کے دعوے کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔

خدا نے پورے قرآن پاک میں کہیں بھی یہ دعویٰ نہیں فرمایا کہ اس نے تمام انسانوں کو صحت مند و توانا اور بیماریوں سے پاک پیدا فرمایا ہے۔ خدا کا دعویٰ صرف اور صرف سٹرکچر آف یونیورس کے حوالے سے ہے ناکہ لائف آف ہیومن بینگز کے حوالے سے۔ کائنات کی ساخت اور انسان کے حالات دو بالکل مختلف امور ہیں لہذا آپ کائنات پر انسان کو قیاس نہیں کرسکتے۔ مذکورہ سوال پیدا ہی اس غلط قیاس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ آپ خدا کے دعوے کو پوری طرح سمجھیں تو یہ اعتراض کوئی اعتراض ہی نہیں۔


آپ یہ بھی پوچھ سکتے ہیں کہ سٹرکچر آف یونیورس میں تو بے شمار بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں مثلا تاروں کا ٹوٹنا وغیرہ

قرآن پاک میں جو یہ دعویٰ کیا گیا کہ کائنات میں کہیں بھی کوئی بے ضابطگی نہیں، اس سے مراد یہ ہے کہ کائنات کے اندر کوئی بھی ایسا امر وقوع پذیر نہیں ہوتا جس کا کوئی قاعدہ قانون یا ضابطہ یا فطری قانون نہ ہو، الا یہ کہ خدا خود کبھی کسی فطری قانون میں رد و بدل کر دے۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ تارے توٹتے ہیں یا فلاں فلاں مظاہر رونما ہوتے ہیں تو اسے بےضابطگی ثابت کرنے کیلئے ضروری ہے کہ پہلے آپ اس فطری قانون کی نشان دہی کریں کہ جس کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ہمیں ان بے ضابطہ مظاہر فطرت کی رونمائی کے قوانین کا علم نہیں یا پھر کوئی ایسا قانون معلوم نہیں جس کی خلاف ورزی ہوئی ہو تو پھر آپ کو حق ہی کیا پہنچتا ہے کہ آپ اسے "بے ضابطگی" قرار دیں۔ بے ضابطگی کے دعوے کیلئے لازم ہے کہ آپ بطور دلیل کسی ایسی ضابطے کو پیش کریں جس کی خلاف ورزی ہوئی ہو، یا پھر یہ ثابت کریں کہ فلاں امر بغیر کسی فطری قانون یا خدائی مداخلت کے رونما ہوا ہے___!

21/04/2019

مرد کی چار عورتوں سے شادی کیوں؟ عورت کی چار مردوں سے شادی کیوں نہیں ؟
اس پر منطقی دلاٸل ۔۔ ۔۔ ۔
ایک عورت گر سو مردوں کیساتھ جنسی تعلق بیک وقت رکھے تو ایک ہی بچہ پیدا ھوگا لیکن یہ مشکل ھوگی کہ یہ کس کا بچہ ھے لیکن اگر ایک مرد سو عورتوں سے جنسی تعلق بیک وقت رکھے تو بھی اگر سو بچٕے پیدا ھوں تو اس ایک مرد کے بچے کہلانے میی کوٸ مشکل نہیں ھوگی اصل دلیل کسی مرد کی چار عورتوں سے شادی اور عورت کی چار مردوں سے شادی میی فرق یہ ھے کہ بچے کی والدیت میی پہچان میی کوٸ کنفیوزن نہ رھے___!

26/02/2019

یہ 17ویں صدی کا ایک ہتھیار ہے جو چرچ کی طرف سے اندلس میں مسلمانوں پر تشدد اور جبر کر کے انہیں عیسائییت قبول کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔
قید میں موجود مسلمانوں کے ہاتھ باندھنے کے بعد اس اوزار کو قیدی کی گردن میں پھنسا دیا جاتا اور یہ اس ٹائم تک ہوتا جب تک قیدی اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہ ہو جاتا۔

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دہشتگردی کا کوئی مذہب اور کوئی چہرہ نہیں ان کے لئے عرض ہے کے دہشتگردی کا مذہب اور چہرہ #یورپ کی #تہذیب ہی ہے۔
آج صرف انداز اور طریقہ واردات تبدیل ہوگئے ہیں اصلی فطرت تبدیل نہیں ہوئی۔

25/02/2019

روزے کی حالت میں بیوی سے "مباشرت "
اور بخاری کی حدیث :
(از قلم : ابوبکر قدوسی )
...........نشر مکرر
صحیح بخاری کی ایک حدیث کو لے کر منکرین حدیث عوام کو خوب گم راہ کرتے ہیں ، اور سادہ لوح افراد ان کے جھانسے میں آ جاتے ہیں - بخاری کی حدیث میں ہے کہ :
"سیدہ عائشہ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ازواج کا بوسہ لے لیتے اور مباشرت فرمایا کرتے جب کہ آپ روزے سے ہوتے "
اس حدیث کو لے کر منکرین حدیث ، آئمہ حدیث اور امام بخاری کے وہ لتے لیتے ہیں کہ الامان ... ایسے ایسے جذباتی جملے بولتے ہیں کہ ہر کوئی دھوکہ کھا جاتا ہے .... مزید تفصیل میں جائے بغیر ، کہ یہ کیا کرتے ہیں ، ہم حدیث کی طرف جاتے ہیں -
ہمارے ہاں "مباشرت " میاں بیوی کے جنسی تعلقات اختیار کرنے کو بولا جاتا ہے ، اور اسی تصور اور تاثر کو منکرین حدیث لے کر حقائق کو چھپاتے ہیں -
عربی میں مباشرت کا معنی ہے :
"بدن سے بدن ملانا ، جسم کا جسم سے مس ہونا "
امام شوکانی کہتے ہیں کہ :
"ان المباشرہ فی الاصل التقاء البشرتین "
یعنی مباشرت اصل میں دو جسموں کے ملنے کو کہتے ہیں -(منقول ، تفہیم اسلام )
عون المعبود شرح سنن ابی داؤد میں ہے کہ :
"معنی المباشرۃ ھھنا المر بالید من التقاء البشرتین"
:یعنی یہاں مباشرت سے صرف ہاتھ سے چھونا، اور دو جسموں کا ملنا مراد ہے
کیا اس میں حرام کا کوئی پہلو ہے؟
آپ کی بیوی ہے کوئی اچھوت تو نہیں کہ دن میں اگر آپ میاں بیوی روزے کی حالت میں بھی باہم مل کر آرام کر لیں ، ایک دوسرے سے لپٹ جائیں ، آپ اپنی بیوی سے محبت سے پیش آ جائیں ، تو اس سے روزے کو کیا فرق پڑ جائے گا .. ؟
لیکن برا ہو تعصب کا ، انکار حدیث کا ، کہ مقصد دین کی تفہیم نہ رہی بلکہ اپنے نظریات کی خاطر لوگوں کو دھوکہ دینا ٹہرا اور جذباتی فضاء بنا کر حدیث بارے نفرت انگیز مہم چلائی گئی -
اسی حدیث کا اگلا حصہ اس کی مزید وضاحت کرتا ہے ، دیکھئے گا کہ سیدہ عائشہ فرماتی ہیں :
" کان املککم لاربہ "....
"یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خواہشات پر تم میں سب سے زیادہ قابو پانے والے تھے ...."
سمجھنے کے لیے مکرر عرض ہے ، اگر بار خاطر نہ ہو کہ :
آپ پنی بیویوں کا بوسہ لے لیتے ، ان سے مباشرت کرتے اور آپ تم میں سے سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے تھے "
سوال یہ ہے کہ اگر مباشرت کا مطلب جنسی ملاپ ہی ہے تو خواہش پر قابو پانا کہاں گیا ؟اور کس خواہش پر قابو پایا گیا ؟ اور کیونکر حدیث مکمل نہیں لکھی اور پڑھی جاتی ؟؟؟..آپ کو عربی نہ بھی آتی ہو . مفکر صاحب آپ کو دھوکہ بھی دینا چاھیں تو آپ ان سے یہ سوال پوچھ سکتے ہیں
"جناب پھر خواہش پر قابو کیسا ہووا ؟"
نبی کریم کو جو اپنی خواہش پر ایسا قابو تھا تو مطلب یہی بنتا ہے نا کہ آپ کا عمل محض بیویوں سے دلجوئی کی ، محبت کی ترغیب ہے - بتائیے اس میں کیا گناہ ہے ؟...
اس حدیث کا صاف صاف مطلب ہے کہ بغیر شہوت کے ، محض محبت کے ساتھ آپ اپنی بیوی سے قربت اختیار کر سکتے ہیں - ذرا انسانی نفسیات کی طرف آئیے ...
آپ کی بیوی ،آپ سے گھنٹہ بھر پہلے اٹھ جاتی ہے ، گرمی ہو یا سردی چولہے پر جا کے کھڑی ہو جاتی ہے ، آپ کے لیے پکوان بناتی ہے ، آپ کے ناز اٹھاتی ہے ، اور پندرہ منٹ پہلے آپ کو ہولے سے آ کر اٹھاتی ہے کہ
"جی سرتاج ! سحری کیجئے "
آپ مزے سے سحری کرتے ہیں ، اور نماز پڑھ کر پھر سے دراز ہو جاتے ہیں - وہ بے چاری گھر بھر کے جھوٹے برتن دھو کے ، سامان سمیٹ کے مزید تھک ہار کے بستر پر جاتی ہے ...ایسے میں آپ اس کو پیار سے سمیٹ لیتے ہیں - کیا محبت کی معراج ہے ، اور کیسی انسانیت کی تکمیل ہے - اس کا جی کیسا اچھا ہو جاتا ہو گا ، آپ اس کو گلے لگا لیں ، بازوؤں میں چھپا لیں تو کیا برا کیا ؟- اور ہمارے نبی کریم سب سے زیادہ محبت کرنے والے تھے ، رحم دل تھے -
بردران عزیز ! آپ منکرین حدیث کے غلط ترجموں سے اور دھوکوں سے گھبرا کے "ارتھ " نہ ہو جایا کریں - تحقیق احوال کر لیا کریں - یہ بےچارے عموما عربی نہیں جانتے ہوتے ، اور قران کا بھی علم بس گزارا ہی ہوتا ہے گو دعوے بہت کرتے ہیں - ان کے چکر میں آ کر اپنی بیویوں کو اچھوت نہ جانئے ، وہ آپ کی محبت کی ، توجہ کی روزے کے مشکل دنوں میں زیادہ محتاج ہیں -
ایک بات آپ کے سوچنے کے لیے بھی عرض کرتا ہوں ....آپ ان بڑے بڑے ناموں کو ، جو صرف سوشل میڈیا کے مرہون منت زندہ ہیں ، دیکھ کر سمجھتے ہیں کہ یہ بڑا علم رکھتے ہیں ؟
سوال مگر یہ ہے کہ اس حدیث کے مفھوم کو چھپا کے ، کیا یہ بد دیانتی کے مرتک نہیں ہوتے ؟
اور جو دین کے معاملے میں بددیانتی کرے ، اس کو آپ اپنا دینی رہنماء مانے بیٹھے ہیں ...یاد رکھیے بھر برے لوگ بھی دین کے معاملے میں جھوٹ بولتے شرما جاتے ہیں ، ان کو حیاء آ جاتی ہے ، لیکن جو یہاں بھی دھوکہ دینے پر آ جائے اس کے حیاء باختگی کا کیا عالم ہو گا ؟ ...اس لیے ایسے افراد سے دین کی رہنمائی لینے کا یہی مطلب ہے کہ آپ جان بوجھ کر اس دکاندار کے پاس جاتے ہیں جس کی آپ کو خبر ہے کہ :
اگر دودھ فروخت کرے گا تو کیمیکل ڈالے گا
اگر مسالے فروخت کرے گا تو برادہ شامل کرے گا
ارے نہیں بھائی ! یہ عقیدے کے ملاوٹ ساز ہیں ، جعل ساز تو ان سے کھین بہتر ہیں ..فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ ان جعل سازوں سے علم حاصل کرنا ہے اور حدیث کا انکار کر کے زندگی سے روحانیت ختم کرنی ہے یا درست عقائد کو شعار کرنا ہے


........دفاع حدیث پر مشتمل پوسٹ کو share کرنا ہم سب کا فرض ہے ...

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi