NA 232 Pakistan Tehreek e insaf

NA 232 Pakistan Tehreek e insaf

Share

Pakistan Tehreek e Insaf NA 232

31/05/2026

جب ایک منسٹر کی یہ حالت ہے تو پنجاب میں عام عوام کے ساتھ کیا ظلم کیا جا رہا ہے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں ...

29/05/2026

‏پٹرول کس دور میں سستا تھا؟

⬅️سال 2016 - نواز شریف:
پٹرول - 40 ڈالر فی بیرل
ڈالر ریٹ - 98 روپے
حکومت 27 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 65 روپے میں بیچ رہی تھی - ڈھائ گنا ٹیکس

⬅️سال 2022 - عمران خان
پٹرول - 115 ڈالر
ڈالر ریٹ - 180 روپے
حکومت 150 روپے میں تیل خرید کر عوام کو 150 روپے میں دے رہا تھا - زیرو ٹیکس

⬅️سال 2026 - شہباز شریف
پٹرول - 95 ڈالر
ڈالر ریٹ - 280 روپے
حکومت 170 روپے کا پٹرول خرید کر 400 روپے میں فروخت کر رہی ہے، ڈھائ گنا ٹیکس

یعنی جب دو شریف بھائ حکومت میں ہوں تو عوام کو ڈھائ گنا ٹیکس لگا کر پٹرول بیچتے ہیں، اگر عمران خان کی حکومت ہو تو وہ بغیر ٹیکس کے پٹرول عوام کو دیتا تھا

یہ موازنہ اصل حقیقت ہے، آئندہ کوئ پٹواری 2016 کی مثال مت دے،

جب بھی پٹرول کی قیمتوں کا موازنہ کریں تو پٹرول کی ڈالر میں قیمت اور ڈالر ریٹ کو مدنظر رکھ کر کریں،تب آپ کو اصل حقیقت کا پتہ چلے گا

اعداد و شمار - بشکریہ ناصر عباس کی وال سے

26/05/2026

قربانی کی کھالیں شوکت خانم اسپتال کو دیں۔۔۔

22/05/2026

گلگت بلتستان اس بہادر شہزادے کا مقروض تھا ہے اور ہمیشہ رہے گا گلگت بلتستان کا بہادر وفادار دیانتدار شہزادہ ،
خالد خورشید خان ❤✌🌸

22/05/2026

اندھا بانٹے ریوڑیاں، اپنوں اپنوں کو

1000 سڑکوں کے دعوے بعد میں، پہلے یہ بتائیں کہ کیا سوئی گیس کے عوامی فنڈز صرف جماعت کے ورکرز اور لیڈران کی گلیاں بنانے کے لیے آئے تھے؟

ترقی اگر واقعی عوام کے لیے ہے تو پھر سہولتیں صرف “اپنوں” تک محدود کیوں ہیں؟

22/05/2026

گلگت میں تحریک انصاف کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے کلین سوئپ کرنے جا رہا ہے ، نظام الدین عسکری پریشان ہے کہ دھاندلی کس طرح کی جائے...

19/05/2026

وزیراعلی سہیل آفریدی قائدین اور کارکنان کی بڑی تعداد کا چھبیس نمبر چونگی پر دھرنا جاری ❤✌

18/05/2026

حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ

یہ جماعتِ اسلامی کا کوئی نیا طرزِ سیاست نہیں بلکہ پرانا وطیرہ ہے۔ ہر دور میں عوام کے پیسے کو عوام پر خرچ کرکے اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے جیسے کوئی عظیم کارنامہ سرانجام دے دیا گیا ہو۔ آج جماعت اسلامی ماڈل ٹاؤن کراچی میں ڈھائی ارب کی رقم سے ہزار گلیاں بنانے کا منصوبہ شروع کرنے کا پرچار کررہی ہے مگر کوئی باشعور شہری جماعت کے منتخب نمائندوں سے یہ سوال کرلے کہ آخر یہ 2.5 ارب روپے کہاں سے آئے، تو جواب یقیناً گول مول اور آئیں بائیں شائیں ہوگا۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ فنڈ نہ کسی یوسی چیئرمین کا ہے، نہ کسی ٹاؤن چیئرمین یا کونسلر کا، اور نہ ہی کسی ایم پی اے کی مہربانی۔ یہ رقم دراصل سوئی گیس کمپنی کی جانب سے روڈ کٹنگ کے عوض قانونی مد میں ادا کی گئی رقم ہے۔ مگر تشہیر اس انداز میں کی جارہی ہے جیسے جماعت نے اپنی ذاتی کاوش یا کسی انقلابی منصوبے کے ذریعے یہ سرمایہ حاصل کیا ہو۔

ہر نئی سڑک کے آغاز سے پہلے بڑے بڑے بینرز، تصویریں اور شکریہ کے نعرے لگا دیے جاتے ہیں:
"شکریہ جماعتِ اسلامی"
"شکریہ نعیم صاحب"
"شکریہ چیئرمین صاحب"

حالانکہ حقیقت میں ان میں سے کسی کا کوئی کارنامہ نہیں۔ پورے ٹاؤن میں جہاں جہاں گیس لائن بچھانے کیلئے سڑکیں اور گلیاں توڑی گئیں، وہاں کی بحالی کیلئے سوئی گیس کمپنی ایک سال قبل قانونی طور پر ادائیگی کرچکی ہے۔ مگر افسوس کہ یہ پیسہ پورے علاقے کی گلیوں اور سڑکوں پر خرچ ہونے کے بجائے من پسند افراد اور مخصوص علاقوں تک محدود کردیا گیا۔

ماڈل ٹاؤن میں شامل تمام یوسیز کی ان گنت سڑکیں اور گلیاں سوئی گیس لائن کے لیے ہونے والی کھدائیوں کے باعث آج بھی کھنڈرات کا منظر پیش کررہی ہیں اور مکینوں اور گزرنے والوں کے لیے یکساں عذاب ہیں، دوسری طرف انہیں بنانے کے لیے دیئے گئے پیسے سے جماعت کے نمائندے اور کارکن صرف اپنے پسندیدہ لوگوں اور متوقع ووٹ بینک کی گلیاں پختہ کرکے واہ واہ سمیٹی رہے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کام کا معیار بھی انتہائی ناقص ہے؛ نہ کسی منصوبے کا واضح حساب، نہ کوئی شفاف BOQ، نہ ہی اخراجات کی تفصیل۔

اگر واقعی 2.5 ارب روپے سے ایک ہزار سڑکیں بن رہی ہیں تو حساب کے مطابق ایک سڑک پر اوسطاً 25 لاکھ روپے خرچ ہورہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر 25 لاکھ میں کیسی سڑک تعمیر ہورہی ہے؟ عوام کو نہ معیار دکھایا جارہا ہے، نہ شفافیت، اور نہ ہی مکمل تفصیلات۔

عوام اب صرف تصویروں، نعروں اور تشہیری بینرز سے مطمئن نہیں ہوں گے۔ لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے ٹیکس اور قانونی فنڈز کہاں خرچ ہورہے ہیں، کس معیار سے ہورہے ہیں، اور کیوں پورے ٹاؤن کے بجائے صرف مخصوص علاقوں کو نوازا جارہا ہے۔

18/05/2026

ذرائع کے مطابق، کرپشن کے متعدد الزامات اور اینٹی کرپشن کے چھاپوں کے بعد جماعتِ اسلامی کے ٹاؤن چیئرمین ظفر احمد خان کے ملک سے فرار ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

18/05/2026

ڈراپ سائیڈ نیوز کے انکشاف کے بعد اب یہ واضع ہو چکا کہ عمران خان کے خلاف سازش کرکے فوجی قیادت نے حکومت گرائی اور یہ جو بار بار کہتے ہیں کہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے بالکل جھوٹ کہتے ہیں یہ پاکستان کی تباہی کے ڈائریکٹ زمہ دار ہیں اور ان پر پاکستان کی تباہی اور بربادی کی مکمل زمہ داری عائد ہوتی ہیں...

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Street No 7 Green Town, , Shah Faisal Town
Karachi
75230

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
17:00 - 21:00
Tuesday 09:00 - 17:00
17:00 - 21:00
Wednesday 17:00 - 21:00
Thursday 09:00 - 17:00
17:00 - 21:00
Friday 09:00 - 17:00
17:00 - 21:00
Saturday 09:00 - 17:00
17:00 - 21:00
Sunday 09:00 - 17:00
17:00 - 21:00