Sirf Tehreer - Only Quotes

Sirf Tehreer - Only Quotes

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sirf Tehreer - Only Quotes, Library, Karachi.

05/05/2023
04/07/2022

السلام علیکم ورحمۃ اللہ برکاتہ

*گروپ کے نٸے اصول و ضوابط*
مفتیان کرام، علماء عظام اور گروپ ایڈمنز کی باہمی مشاورت کے بعد گروپ کے نیو رولز پیش خدمت ہیں۔۔۔👇

*براہ کرم گروپ رولز کا خیال فرمائیے گا*
*ورنہ آپ اس گروپ سے محروم ہو سکتے ہیں..!!!*

❶ صرف علمی و تحقیقی اور اصلاحی تحریریں شیئر کی جائیں...(اس بات کا پورا خیال رہے کہ وہ تحریر کسی بدمذہب، گمراہ یا متہم شخص کی نہ ہو۔)

❷ سطحی قسم کے یا بے ڈھنگے مضامین بھیجنے سے مکمل گریز کریں۔۔

❸ گروپ میں موجود اکابر علماء و مفتیان کرام کے وقت اور مصروفیات کے پیش نظر *باہمی گفت و شنید کی قطعاً گنجائش نہیں۔*

❹ کسی بھی مذہبی یا سیاسی تنظیم، شخصیت یا سربراہ کے خلاف لکھی گٸی تحریر یہاں ہرگز شیٸر نہ کی جاٸے۔

❺ گروپ میں کیے گٸے اکابر علماء اور مفتیان کرام کے تبصرے، گفتگو یا کسی تحریر پر ردعمل و کمنٹس ان کی اجازت کے بغیر گروپ سے باہر فارورڈ، شیٸر یا سوشل میڈیا کے کسی بھی فورم پر واٸرل نہ کیے جاٸیں۔

❻ جو لوگ باقاعدہ گروپ کی تحاریر کا مطالعہ کرتے ہیں صرف وہی گروپ کا حصہ ہوں گے۔

❼ کمنٹ یا تبصرہ یا راۓ وہ دے جو متعلقہ موضوع یا علم و فن سے واقفیت رکھتا ہو۔

❽ معتدل مزاج و وسیع الظرف متصلب سنی لکھاریوں اور اصحاب ذوق اہل علم کو گروپ کا حصہ بناٸیں۔ (اس کے لیے گروپ ایڈمنز سے رابطہ کیجیے)

*آپ سب کے تعاون کا شکریہ*
*No Videos 🎞️ , No images 🖼️, No Audios 🎧, No Link's 🔗 ..!! Only Only Threeer 📝*
*https://www.facebook.com/SirfTehreer/*

Sirf Tehreer - Only Quotes Library

10/01/2021


بمقابلہ
اگر آپ کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہے اور آپ کا موبائل ٹیلی گرام سے خالی ہے تو سمجھ لیں کہ آپ موٹر سائیکل چلا رہے ہیں..اور مفت میں آفر کی ہوئی کار کو ٹھکرا رہے ہیں.
جی ہاں.ٹیلی گرام پیغامات، تصاویر، ویڈیوز اور دیگر فائلوں کی تحصیل و ترسیل کے لیے بنائی گئی منفرد خصوصیات کی حامل ایپلیکیشن ہے.گو کہ آپ واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں لیکن ٹیلی گرام واٹس ایپ سے زیادہ فیچرز کی حامل ایپ ہے.جس کا اندازہ آپ کو ٹیلی گرام کے مسلسل استعمال سے ہی ہو گا البتہ چند ایک خصوصیات درج ذیل ہیں:

واٹس ایپ گروپ میں زیادہ سے زیادہ 256 افراد شامل ہو سکتے ہیں جبکہ ٹیلی گرام اپنے سوپر گروپ میں ایک لاکھ ممبرز تک کو شامل کرنے کی سہولت دیتا ہے.جبکہ چینل میں شمولیت کی کوئی حد مقرر نہیں.

واٹس ایپ میں کسی بھی گروپ میں شمولیت کے وقت آپ اس گروپ میں نابینا ہو کر شامل ہوتے ہیں.یعنی آپ کو یہ قطعاً معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کی شمولیت سے قبل گروپ میں کیا کچھ چل رہا تھا،کس کس نے کیا کیا میسجز کیے تھے اور کیا کچھ شئیر ہو چکا تھا..جبکہ ٹیلی گرام پہ کسی بھی گروپ یا چینل میں شمولیت کے بعد آپ ابتداء سے ہونے والی تمام تر بات چیت اور مواد دیکھ سکتے ہیں.گویا ٹیلی گرام پہ کسی بھی گروپ میں شمولیت کے بعد اپ کو یہ افسوس نہیں رہتا کہ آپ پہلے کیے گئے میسجز سے محروم رہ گئے ہیں بلکہ گروپ کا تمام مواد آپ کی دسترس میں ہوتا ہے.

واٹس ایپ میں کسی بھی گروپ میں شمولیت سے قبل آپ یہ پتہ نہیں چلا سکتے کہ گروپ میں کیسا مواد موجود ہے..آپ کو گروپ میں جھانکنے کے لیے گروپ میں شامل ہونا پڑے گا.اس کے برعکس ٹیلی گرام آپ کو یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ پہلے گروپ میں جھانک کر اس کا جائزہ لے لیں پھر اپنی مرضی سے اس میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرلیں.

واٹس ایپ پہ آنے والے تمام مواد کا بوجھ آپ کی فون میموری پہ ہوتا ہے.چنانچہ کوئی بھی آڈیو،ویڈیو یا دیگر فائل جو آپ دیکھنا چاہیں پہلے آپ اسے فون میں ڈاؤنلوڈ کریں گے تب اسے دیکھ سکیں گے.جبکہ ٹیلی گرام اس تمام مواد کا بوجھ خود اٹھاتا ہے اور آپ کے فون اور میموری کارڈ کو اس بوجھ سے آزاد رکھتا ہے.چنانچہ ٹیلی گرام پہ شئیر ہونے والی کسی بھی آڈیو یا ویڈیو کو آپ سننا یا دیکھنا چاہیں تو آپ ٹیلی گرام پہ ہی اسے دیکھ سکتے ہیں.یہ فائل اس وقت تک آپ کی فون میموری میں نہیں جائے گی جب تک آپ اسے دیکھنے کے بعد خود اسے فون گیلری میں نہیں بھیجیں گے..میرے خیال میں یہ ٹیلی گرام کا سب سے عمدہ فیچر ہے.یوں آپ اس جھنجٹ سے قطعاً آزاد ہوں گےکہ بار بار گیلری کھول کر غیر ضروری مواد حذف کریں.

واٹس ایپ پہ آپ جب کسی بھی گروپ میں یا فرد سے بات چیت کرتے ہیں تو آپ کا نمبر سامنے والے کے سامنے آجاتا ہے.ٹیلی گرام آپ کو یہ سہولت دیتا ہے کہ آپ اپنی شناخت اور نمبر ظاہر کیے بنا صرف user name کی بنیاد پر کسی سے بھی اجتماعی یا انفرادی بات چیت کر سکتے ہیں.

ٹیلی گرام کا ایک اہم فیچر "بوٹ" ہے.یہ ایک خودکار روبوٹ ہے جو آپ کی ہدایات کے مطابق کام کرتا ہے.یہ بوٹ بہت سے کاموں میں خودکار طریقے سے آپ کا ہاتھ بٹا کر آپ کا بوجھ ہلکا کر دیتا ہے.

ٹیلی گرام میسج ارسال کر دینے کے بعد اس میں ترمیم کی سہولت بھی مہیا کرتا ہے.جس سے آپ میسج بھیج دینے کے بعد بھی اس میسج میں تبدیلی کر سکتے ہیں.واٹس ایپ یہ سہولت نہیں دے رہا.

واٹس ایپ پہ شئیر کی جانے والی ویڈیو کے حجم کی حد سولہ ایم بی ہے.اس سے زیادہ حجم کی ویڈیو واٹس ایپ پہ ارسال نہیں کی جاسکتی.دیگر فائلوں میں یہ حجم ایک سو ایم بی تک ہے.جبکہ ٹیلی گرام اس حجم کو بڑھا کر 1.5 جی بی تک لے گیا ہے.یعنی آپ ٹیلی گرام پہ ڈیڑھ جی بی تک کی ویڈیو ارسال کر سکتے ہیں.

ٹیلی گرام saved message کی صورت میں آپ کو اپنے سرور پر جگہ بھی فراہم کرتا ہے جہاں آپ ضروری پیغامات ، ویڈیوز یا دیگر فائلیں محفوظ کر سکتے ہیں.اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی جگہ انہیں استعمال کر سکتے ہیں.یوں آپ اس فکر سے بھی آزاد ہو جاتے ہیں کہ خدانخواستہ موبائل کی گمشدگی یا ری سیٹ ہونے کی صورت میں اپ قیمتی مواد سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے.

سیکیورٹی کے اعتبار سے ٹیلی گرام واٹس ایپ سے زیادہ قابل اعتماد ہے.سیکرٹ چیٹ سے آپ کو یہ سہولت بھی میسر ہوتی ہے کہ آپ میسج کو اپنی مرضی کے وقت کے ساتھ منسلک کرکے بھیج دیں.وصول کنندہ کے موبائل سے آپ کا ٹائم میسج مقررہ وقت کے بعد خود بخود ڈیلیٹ ہو جائیگا.مزید براں ٹیلی گرام اس فیچر پہ بھی کام کر رہا ہے کہ اگر وصول کنندہ آپ کے میسج کا سکرین شاٹ لے تو آپ کو الرٹ کر دیا جائے.

یہ چند فیچرز تھے جو ٹیلی گرام کو واٹس ایپ سے منفرد اور بہتر بناتے ہیں..مزید فیچرز اور سہولیات سے آگاہی ٹیلی گرام استعمال کرنے کے بعد وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہے.ایک بار ٹیلی گرام کو آزمائیے گا ضرور جہاں بہت سے عمدہ اور مفید گروپ اور چینل افادہ عام کے لیے موجود ہیں.

Vs

08/11/2020

دعوت اسلامی نے پہلا جامعۃ المدینہ آج سے 25 سال پہلے بنایا
اور آج دعوت اسلامی کے 851 جامعۃ المدینہ ہیں
یعنی ایوریج ہر گیارہویں دن ایک جامعۃ المدینہ
اب تک ان جامعۃ المدینہ سے کم و بیش 13000 عالم دین بن چکے ہیں یعنی ایوریج ہر دوسرے دن 3 عالم دین دعوت اسلامی نے امت کو دئے۔

دعوت اسلامی کا پہلا مدرسۃ المدینہ 1990 میں بنا تھا آج 30 سال ہو گئے ان 30 سالوں کے دن بنتے ہیں 10ہزار 9سو 50
ان 30 سالوں میں دعوت اسلامی کے 4ہزار 2 سو مدارس بن چکے ہیں۔ یعنی ایوریج ہر تیسرے دن میں ایک مدرسۃالمدینہ
اور ان مدارس سے اب تک 87ہزار حافظ قرآن بن چکے ہیں اور 2 لاکھ 72ہزار ناظرہ قرآن مکمل کر چکے ہیں یعنی ایوریج روزانہ دعوت اسلامی امت کو 8 حافظ قرآن اور 25 ناظرہ خواں دے رہی ہے۔

اور ان مدارس المدینہ اور جامعۃ المدینہ کا ایک سال کا خرچ ہے ساڑھے 3 ارب۔۔۔

15 نومبر کو دعوت اسلامی ان مدارس المدینہ و جامعۃ المدینہ کے قیام و انتظام کے جملہ اخراجات کے لیے ٹیلی تھون (مدنی عطیات مہم) کر رہی ہے جسکا ایک یونٹ 10ہزار روپے کا ہے۔
آپ بھی اپنا حصہ ملائیں۔
اور دوسروں کو بھی ترغیب دلائیں

23/10/2020



1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھ کر وسعت قلبی والے اور سب سے بڑھ کر نرم مزاج تھے اور سب سے بڑھ کر خندا پیشانی سے ملنے والے اور سب سے بڑھ کر جود و سخا والے تھے
جو آپ کو اچانک دیکھتا اس پر رعب طاری ہوجاتا اور جو آپ کو پہچانتا آپ کو پسند کرتا آپ سے محبت کرتا

2 آپ علیہ السلام بہت ذیادہ رحیم و شفیق تھے آپ اپنی ازواج کی وحشت دور کرتے ان کو مانوس کرتے تھے اور گھریلو معاملات میں انکی مدد کرتے تھے ان کی تعظیم کرتے

3 آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹوں پر لطف فرماتے اور جب ان سے ملتے تو سلام میں پہل فرماتے اور جب بیٹی آتی تو اسکی تعظیم کرتے اور اسکے ساتھ خوش اخلاقی کا معاملہ فرماتے
اور بچوں کی دین و دنیا کی تعلیم دینے پر لوگوں کو ابھارتے اور انکے درمیان برابری کرنے پر ابھارتے

4 اسی طرح اپنی امت پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم شفقت فرمانے والے ہیں بلکہ دشمنوں پر بھی اسی قدر شفیق ہیں حالانکہ وہ آپ کو جھٹلاتے آپ کو تکلیفیں دیتے اور آپ سے برائی کرتے
یہاں تک کہ آپ کی رحمت و شفقت اس قدر عظیم تھی کہ قرآن میں بہت سی آیتیں ایسی ہیں جس میں آپ کو تخفیف و کمی کا فرمایا جیسا کہ اللہ پاک فرماتا ہے فلا تذھب نفسک علیھم حسرات
لعلک باخع نفسک
5 آپ صلی اللہ علیہ وسلم جود و سخا کے عظیم درجے پر فائز تھے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ سے کسی چیز کے متعلق سوال کیا گیا ہو اور آپ نے لا یعنی منع فرمایا ہو
آپ کی بارگاہ میں ایک شخص آیا تو آپ نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان جتنی بکریاں دیں جب وہ شخص اپنی قوم کے پاس واپس گیا تو کہنے لگا اے قوم اسلام قبول کر لو کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جب کچھ عطا کرتے ہیں تو اتنا دیتے ہیں کہ پھر فاقے کا خوف نہیں رہتا ۔

اللہ رب العالمین نے ابتداء ہی سے آپ کو قبیح چیزوں سے محفوظ رکھا
لہذا آپ کبھی کسی بھی جاہلیت کے کام میں مبتلاء نہیں ہوئے جیسے شراب نوشی جوا وغیرہ
اور نہ ہی آپ نے کبھی بت کی تعظیم کی
بلکہ آپ بتوں سے دور رہے اور ان سے نفرت کرتے تھے جب کہ آپ کی قوم ان کی عبادت کرتی تھی اور انہیں سونے چاندی جواہرات سے آراستہ کرتی تھی

6 آپ علیہ السلام دنیا سے احتراز کرتے تھے دنیا کی محبت آپ کے دل میں نہیں تھی اور قریش نے آپ کو مال عورت اور سربراہی پیش کرنی چاہی کہ آپ اس دعوی نبوت کو ترک کردیں مگر مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی طرف کوئی توجہ نہ دی اور نہ ہی انکے وعدوں کا خیال فرمایا نہ ہی انکی وعیدوں کا

7 آپ نے کبھی کوئی ایسی رات نہ گزاری کہ آپ کے پاس مال موجود ہو بلکہ خود ارشاد فرماتے اگر میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو تو میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ رات تک اس میں سے کچھ بھی میرے پاس باقی رہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام مخلوق کے ساتھ انتہائی عاجزی فرماتے کہ کنیز غلام مسکین وغیرہ اپنی حاجت کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دست مبارک تھام لیتے تو آپ ان کی مدد کے لیے ان کے ساتھ چل دیتے

آپ زمین پر بیٹھتے زمین پر کھانا تناول فرماتے
اور فرماتے میں بندہ ہی تو ہوں جیسے بندہ کھاتا ہے ویسے ہی کھاتا ہوں جیسے بیٹھتا ہے ویسے ہی بیٹھتا ہوں
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عاجزی کی وجہ سے مساکین کے ساتھ بیٹھ جاتے اور اللہ سے مسکینوں کی محبت کا سوال کرتے اور اپنے ہاتھ مبارک کو ہی تکیہ بنا لیتے اور انگلیاں چاٹ لیتے تھے اور ٹیک لگا کر نہیں کھاتے تھے اور اپنے کپڑے بھی سی لیتے تھے نعلین مبارک میں بھی پیوند لگا دیتے تھے اور جب گھر میں ہوتے تو کام میں گھر والوں کی مدد کرتے رہتے

8 آپ صلی اللہ علیہ وسلم فصاحت و بلاغت کے اعلی درجے پر فائز تھے تمام عرب سے بڑھ کر فصیح تھے
یہاں تک کہ حکمت کا تقاضہ بھی وہی ہوتا جو آپ کے کلام کا تقاضہ ہوتا حالانکہ حضور علیہ السلام نہ ہی کلام کو آراستہ کرتے اور نہ ہی اس میں تحسین پیدا کرتے تھے
اللہ پاک فرماتا ہے وما علمنہ الشعر

9 آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر حلم اور درگزر سے کام لیتے کہ نہ کبھی اپنے نفس کے لیے غصہ کیا نہ کبھی نفس کے لیے انتقام لیا بلکہ جب غصہ کرتے اللہ کے لیے کرتے جیسے کوئی اللہ پاک کی حرمت کو پامال کرے تو اس پر غصہ فرماتے تھے

07/10/2020

ہَم کبھی کبھار یہ سُنتے ہیں کہ سمندر کے اندر انٹرنیٹ کی کیبل خراب ہونے سے انٹرنیٹ نہیں چل پایا یا نہیں چل رہا ، کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ کیسی کیبل ھے؟ اس کیبل کو کس نے سمندر کے گہرے فرش پہ فکس کیا؟ یہ کیبل کیسے کام کرتی ھے؟ اور یہ کیبل کتنی مہنگی ھے؟

پوری دُنیا کا مواصلاتی نظام انہی تاروں کے ذریعے چل رہا ھے ان کیبلز کو فائبر آپٹک کیبلز کہا جاتا ھے یہ کیبلز سلور یا کاپر کی بجائے اعلیٰ قسم کے شیشے یا پلاسٹک کی بنی ہوئی ہوتی ہیں اس کیبل کے تین لیئرز ہوتے ہیں اس کے سب سے اوپری حصے یعنی ربڑ کی تہہ کو کوَر Cover کہا جاتا ھے درمیانی حفاظتی تہہ کو کاڈلِک Codlick کہا جاتا ہے اور سب سے درمیانی تہہ جو چھوٹی چھوٹی کیبلز پہ مُشتمل ہوتی ھے جو اصل طور پہ کارآمد ہے کو کور Core کہتے ہیں Core میں بہت سی دوسری کیبلز کا سیٹ ہوتا ھے اور ہر کیبل میں سینکڑوں باریک شیشے یا پھر پلاسٹک کے ریشے ہوتے ہیں یہ ریشے زیادہ سے زیادہ انسانی بال جتنا موٹائی رکھتے ہیں۔

یہ تو آپ جانتے ہی ہونگے کہ اس کائنات کی سب تیز ترین چیز کیا ھے..؟ جی بالکُل روشنی اس کائنات کی تیز ترین چیز جس کی رفتار کم و بیش 300,000 کلومیٹر فی سیکنڈ ھے جبکہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان کُل فاصلہ 12373 کلومیٹر ہے یعنی روشنی کی ایک رے پاکستان سے لیکر امریکہ تک کا سفر ایک سیکنڈ کے لاکھوں حصوں سے بھی پہلے طے کر لیتی ھے۔

ہمارا موضوع روشنی نہیں ہمارا موضوع فائبر آپٹک کیبل ہی ھے لیکن میں آپ کو بتانا یہ چاہ رہا ہوں کہ ایک فائبر آپٹک کیبل دراصل کام کیسے کرتی اور یہ اتنی تیز ڈیٹا کیسے ٹرانسفر کرتی ھے فرض کریں میں اپنے موبائل پہ یہی تحریر پوسٹ کر رہا ہوں جونہی میں پوسٹ کروں گا یہ دُنیا میں جہاں جہاں بھی میرے دوست ہیں سب کو نظر آنے لگے گی یہ کیسے مُمکن ہوا...؟

جیسا کہ میں پہلے ہی بتا چُکا ہوں کہ ایک فائبر آپٹک کیبل کسی سلور یا کاپر وغیرہ کی تار نہیں ہوتی اس میں موجود ہزاروں ریشے اعلیٰ قسم کے شیشے اور پلاسٹک سے بنے ہوتے ہیں اور یہی ہمارے ڈیٹا کی رسائی کا سب سے تیز ذریعہ بنتے ہیں۔
میں نے جونہی اپنی پوسٹ شیئر کی میرا یہ ڈیٹا ایک خاص ٹرانسمیٹر کی مدد سے پہلے روشنی میں کنورٹ ہوگا پھر یہ فائبر آپٹک کیبل میں داخل ہوگا جونہی یہ ڈیٹا اس کیبل میں داخل ہوگا یہ روشنی کی رفتار کے جتنا ہی رفتار سے سفر کرے گا اس کیبل کے ایک ریشے میں سے ہزاروں قسم کے ڈیٹا بیک وقت سفر کر سکتے ہیں۔

فائبر آپٹک کیبل کی تین اقسام ہیں
1: 288 Count Fiber
یہ دُنیا کی سب سے مہنگی قسم ھے جس کی قیمت تقریباً 5.87$ /فٹ ھے
2: 144 Count Fiber
قیمت 2.98$/ فٹ
3: 24 Count Fiber
قیمت 0.68$/فٹ ھے۔

اس کیبل کو سمندروں کی گہری تہوں میں بھی بچھایا جاتا ھے اور زیر زمین بھی زمیں میں مُختلف مشینری کے ذریعے گڑھا کھود کر دبا دیا جاتا ھے جبکہ سَمندروں میں اسے بچھانے کے لیئے ایک شِپ کی ضرورت پڑتی ھے جس پہ ایک بہت بڑا فیتہ نصب ہوتا ھے جہاں فائبر آپٹک کیبل لپیٹی ہوئی ہوتی ھے۔ پھر ایک کیبل لیور جس کو شپ سے باندھ کر سمندر میں گرایا جاتا ھے یہ اوپر کیبل کے فیتہ سے کیبل کھینچتا ھے اور سمندر کے فرش پہ ایک خاص ترتیب سے بچھاتا آتا ھے جوں جوں شپ آگے چلتا جاتا ھے یہ لیور کیبل بچھاتا چلا آتا ھے۔
یہ صرف اور صرف ہموار سمندری فرش پہ ہی قابل استعمال ہوتا ھے زیرِ سمندر پہاڑی چٹانوں پہ کیبل بچھانے کے لیئے ایک اور برقی آلے کا استعمال کیا جاتا ھے جو پانی میں تیرتے ہوئے کیبل کو بچھاتا ھے۔

یہ فائبر آپٹک کیبلز ہی پوری دُنیا کو آپس میں جوڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ کہلاتی ہیں
دُنیا کے تمام مُمالک ایک دوسرے کا مواصلاتی نظام انہی فائبر آپٹک کیبلز ذریعے وصول کرتے ہیں۔
یاد رھے 31 اکتوبر 1926 کو پیدا ہونے والے انڈین نژاد امریکی شہری نریندر سِنگھ کَپانے فائبر آپٹک کیبل کا موجد ھے۔

23/09/2020

_*محدث عصر شیخ نور الدین عتر حفظہ اللہ*_

تحریر: *احمد رضا مغل*

*نام ونسب*
ڈاکٹر نور الدین عتر بن محمد بن حسن بن عتر حفظہ اللہ تعالی و اطال اللّٰہ عمرہ آپ کا سلسلہ نسب حسن بن علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے آپ کے شیخ عبداللہ الحماد آپ کو " اصیل الجدین " کہا کرتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ والد اور والدہ کی طرف سے آپ کا سلسلہ حضور علیہ السلام کی طرف متصِل ہے آپ اس وقت ضعیف العمر ہیں اللہ آپ کا سایہ دراز فرمائے آمین

*عتر کہنے کی وجہ*
چونکہ نور الدین عتر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی آل و اولاد سے ہیں اور اولاد کو عربی میں " عِتْر " کہا جاتا ہے تو عتر کے لقب سے ملقب ہوئے

*القاب*
مفسر ، محدث ، محقق الاریب ، شیخ المشائخ

*ولادت*
نور الدین عتر شام کے شہر حلب میں بروز بدھ 17 صفر المظفر 1356ھ بمطابق 28 اپریل 1937ء کو دنیا میں جلوہ گر ہوئے
آپ کی ولادت حلب کے محلہ *بسان* میں ہوئی یہ *فصیلہ اور باب نیراب* کے درمیان واقع ہے یہ محلہ بستان علم کے لحاظ سے مشہور ہے حتیٰ کہ اس محلہ کا نام *حارة الدین و الایمان* ہے اور بعض نام ور علماء کی نسبت بھی اس محلہ کی طرف کی جاتی ہے

*اھل و عیال*
شیخ نور الدین عتر نے علامةالکبیر عبداللّٰہ سراج الدین کی بیٹی سے نکاح کیا جس سے آپ کے یہاں اولاد ہوئ جن میں 3 بیٹے اور 1 بیٹی شامل ہیں جن کے نام یہ ہیں
*محمد مجاھد ، عبدالرحیم ، یحییٰ ، راویہ*

*اخلاق و مناقب*
ہر وہ شخص جس کا تعلق شیخ نور الدین عتر سے رہا وہ یہ جانتا ہے کہ آپ اخلاق و اوصافِ حمیدہ میں مُسلَّم شخصیت کے مالک ہیں آپ سے تعلق رکھنے والا بالخصوص آپ کی علمیت کا قائل ہوجاتا ہے
آپ کے اوصاف میں چند درج ذیل ہیں

*استاذ سے محبت*
آپ کے مشائخ میں *شیخ عبداللہ سراج الدین* رحمۃ اللّٰہ علیہ کا نام سر فہرست ہے آپ اپنے شیخ کا نام بغیر القاب کے ذکر نہ کرتے بلکہ نام لیتے وقت سر بھی جھکالیتے عبداللہ سراج الدین کی وفات کے بعد شیخ نور الدین عتر نے آپ کی سیرت پر جداگانہ کتاب لکھی جس کا نام *" صفحات من حیاة الامام شیخ الاسلام الشیخ عبداللّٰہ السراج الدین الحسینی "* ہے

*تواضع عاجزی*
آپ اپنے گمان میں اپنی ذات کو طالب علم سمجھتے ہیں اور عظیم عالم دین اور مصنف کتب کثیرہ و محدث ہونے کے باوجود فرماتے ہیں کہ *میں جب تک حیات ہوں خود کو طالب علم اور طلاب العلم کا خادم سمجھتا ہوں اور ان کی خدمت کےلیے اپنا وقت صرف کروں گا*

*شہرت سے دوری*
آپ خلوت پسند ہیں اور اپنی دھن میں مگن رہنا اظہار حق اور اس کو پھیلانے میں مخل نہیں ہوتا آپ کو بے جا کی ابحاث میں پڑنا پسند نہیں مگر جس بحث میں پڑے اس میں عظیم فائدہ دیکھا

*تصنیف و عبادت میں مشغولیت*
آپ کثیر المطالعہ اور محقق ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ کی مؤلفات کی تعداد 50 (پچاس) سے زائد ہے اور آپ درس و تصانیف کے علاوہ دیگر اوقات میں ذکر اللہ و عبادات میں رہتے ہیں آپ کی تحقیقات سے کثیر جامعات کالجز اور یونیورسٹیوں میں طلبہ کو تقویت پہنچتی ہے

*تعلیم و تدریس*
علامہ نور الدین عتر نے اپنی آنکھیں ایسے خاندان میں کھولیں جو علم و اصلاح اور تمسک بالکتب و السنہ میں مصروف تھا اور یہ خاندان بلاد شام میں تحقیق و تألیف کے ذریعے علوم اسلامیہ کو پھیلانے میں مصروف عمل تھا اس خاندان سے تعلق رکھنے والے علماء کرام میں *آپ کے دادا الشیخ محمد نجیب اور آپ کے ماموں الشیخ محدث عبداللّٰہ سراج الدین کے نام سرِ فہرست ہیں*
آپ نے ثانویہ شرعیہ شام میں جاری رکھا ثانوی تک پھر 1954ء میں مزید کلیہ شرعیہ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے جامعہ ازھر مصر چلے گئے اور وہیں پڑھتے رہے یہاں تک کہ 1958ء میں اول پوزیشن کے ساتھ جامعہ ازھر سے فارغ التحصیل ہوئے پھر آپ واپس حلب آگئے اور تدریس کا سلسلہ جاری رکھا اسی دوران آپ دوبارہ جامعہ ازھر تشریف لے گئے تا کہ شعبہ تفسیر اور حدیث میں دراسات کو مکمل کریں 1964ء میں آپ نے جامعہ ازھر سے شھادت العالمیہ شعبہ حدیث میں ممتاز کیفیت سے مکمل کیا اس کے بعد آپ جامعہ دمشق میں استاذ علوم القرآن و الحدیث کے درجہ پر مقرر ہوئے

*طلب علم کے لیے اسفار*
شیخ نور الدین عتر نے بلادِ اسلامیہ میں علم کی خاطر سفر بھی فرمائے جیسے متحدہ عرب امارات ، کویت ، عرب شریف ، ھند ، ترکی ، اردن ، الجزائر اسی طرح آپ کا معمول ہے کہ مختلف بلاد میں تشریف لے جاکر دُروس کو جاری رکھتے ہیں

*تصانیف وتالیفات*
شیخ نور الدین عتر نے کثیر تصانیف وتالیفات پر کام کیا ہے جن کی تعداد 50 (پچاس) سے زائد ہے آپ کی تحقیق و تالیفات اور تصانیف پانچ اقسام کی ہیں
*کتب تفسیر و علومہ*
علوم القرآن الکریم
محاضرات فی تفسیر القرآن الکریم
تفسیر سورۃ الفاتحہ ام الکتاب
القرآن الکریم و الدراسات الادبیہ
احکام القرآن
تفسیر و استنباط
کیف تتوجہ الی العلوم والقرآن الکریم
الروایة فی تفسیر الجلالین و نقد مافیہ من روایات باطلة والسرائیلیات
*کتب حدیث*
منھج النقد فی علوم الحدیث
اصول الجراح و التعدیل
الامام الترمذی و الموازنة بین جامعہ و بین الصحیحین
اعلام الانام شرح بلوغ المرام لابن حجر عسقلانی
لمحات موجزة فی اصول علل الحدیث
معجم المصطلحات الحدیثیہ
السنة المطھرة و التحریات
فی ظلال الحدیث النبوی
علم الحدیث و الدراسات الادبیہ
مناھج المحدثین العامة فی الروایة التصنیف
جوامع الاسلام بمن احادیث سید الانام علیہ افضل الصلاۃ والسلام
فضل الحدیث النبوی الشریف وجھود الامة فی حفظہ
*کتب فقہیہ*
الحج و العمرۃ فی الفقہ الاسلامی
المعاملات المصرفیہ و الربویة و علاجھا فی الاسلام
ھدی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فی الصلاۃ الخاصہ
ابغض الحلال
ماھو الحج
المفاصلة بین الافراد و القرآن و التمتع فی الحج
اصلاحی و معاشرتی کتب
ماذا عن المرأة
النفخات العطریة من سیرة خبر البریة (صلی اللّٰہ علیہ وسلم)
الاتجاھات العامۃ للاجتہاد و مکانة
صفحات من حیاة الامام شیخ الاسلام الشیخ عبداللّٰہ السراج الدین الحسینی
فکر المسلم و تحدیات الاف الثانیہ
حب الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم من الایمان
*کتب محققہ*
علوم الحدیث لابن الصلاح
شرح علل الحدیث لابن رجب
المغنی فی الضعفاء
حاشیہ نزھةالنظر فی توضیح نخبةالفکر فی مصطلح اھل الاثر
حاشیہ ارشاد طلاب الحقائق الی معرفة سنن خیر الخلائق
الرحلة فی طلب الحدیث للخطیب البغدادی
ھدایۃ السالک الی المذاھب الاربعة فی المناسک لابن جماعہ

*اھم نوٹ* :-
شیخ نور الدین عتر کی تآلیف کثیر ہیں یہ مؤلفات 1964ء سے لے کر 2020 تک وجود میں آٸی ہیں اور ان کتب میں وقتاً فوقتاً تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے بعض اوقات طوالت اور بعض اوقات تقصیر ہوتی ہے مزید یہ کہ یہ تحریر میں نے اپنے تخصص فی الحدیث سال اول 2019 / 1441 کے مقالے سے اخذ کی ہے

*تحریر لنک* :
https://abdullahmadni1991.blogspot.com/2020/09/blog-post_29.html
⁦🖋️⁩⁦🖋️⁩ *احمد رضا مغل*
بوقت رات 10 : 53
بروز جمعرات
15 ذی الحجہ 1441
6 آگست 2020

*نوٹ: آہ صد آہ علم و عمل کے یہ آفتاب و ماہتاب(حضرت سیدنا شیخ نورالدین عتر ) نور علم سے زمانے کو روشن ومنور کرکے آج عالم جاویدانی میں غروب ہوگٸے۔۔۔ رحمہ اللہ تعالی و رحمنا بہ۔۔۔ امین بجاہ طہ ویسﷺ*
*مزید بہترین اور دلچسپ تحریر پڑھنے کے لئے اس پیج کو لائیک کریں*

*https://www.facebook.com/SirfTehreer/*

22/09/2020

" #مال ودولت کی حقیقت"
1۔ #لبنان کاسب سے مالدارآدمی تھا۔اس نے اپنے لئےایک خوبصورت علاقے میں جوکہ بیروت کےساحل پرتھا، قبربنائی۔اس کے پاس اپنا ذاتی جہاز تھا اور جب دھماکہ ہوا تو وہ جہازسمیت سمندر میں ڈوب گیا ۔ لاکھوں ڈالرخرچ کرنے کے بعد اس کے جہاز کا پتہ تو چل گیا لیکن لاش نہیں ملی تاکہ اسے اس قبر میں دفن کیاجائے جواس نے خود بنائی تھی۔

2۔ #برطانیہ کاایک بہت بڑا مالدار آدمی ایک یہودی "رود تشلر"تھا۔وہ اتنا دولتمند تھا کہ کبھی کبھی حکومت اس سے قرض لیتی تھی۔اس نے اپنے عظیم الشان محل میں ایک کمرہ اپنی دولت رکھنے کے لئے مختص کیا تھا جو کہ ہر وقت سیم وزر سے بھرا رہتا تھا۔ ایک دفعہ وہ اس کمرے میں داخل ہوا اور غلطی سے دروازہ بند ہوا۔ دروازہ صرف باہر سے کھل سکتا تھا اندر سے نہیں ۔اس نے زور زور سے چیخ وپکار شروع کی لیکن محل بڑا ہونے کی وجہ سے کسی نے اس کی آواز نہ سنی۔ اسکی عادت یہ تھی کہ وہ کبھی کبھی بغیر کسی کو بتائے کئی کئی ہفتے گھر سے غائب رہتا تھا۔ جب وہ کسی کو نظر نہ آیا تو گھر والوں نے سوچا کہ حسب عادت کہیں گیا ہو گا۔
وہ برابر چیختا رہا یہاں تک کہ اسے سخت بھوک اور پیاس لگی۔ اس نے اپنی انگلی کو زخمی کیا اور کمرے کی دیوار پر لکھا "دنیا کا سب سے مالدار آدمی بھوک اورپیاس سے مر رہا ہے"
اس کی لاش کئی ہفتے بعد دریافت ہوئی۔

*یہ پیغام ہےان لوگوں کےلئے جو سمجھتے ہیں کہ* مال ودولت ہی ہر مشکل کاحل ہےاور دنیا کی ہرضرورت اس سے پوری کی جا. سکتی ہے۔

#دنیا سے جانا ایک بڑا حادثہ ہے لیکن ہم نہیں جانتے کہ کب، کیسے اور کہاں جانا ہے*
*انسان سفر پر جاتا ہے اور پھر واپس آتا ہے، گھر سے باہر جاتا ہے اور پھر لوٹتا ہے لیکن جب دم نکل جائے تو پھر کوئی لوٹنا نہیں ہے۔*

*مبارکباد کے قابل ہیں وہ لوگ جو کسی پرظلم نہیں کرتے، نہ کسی سے نفرت کرتے ہیں، نہ کسی کا دل زخمی کرتے ہیں اور نہ اپنے آپ کو کسی سے برتر سمجھتے ہیں اسلئے کہ سب کو جانا ہے۔*

*ایک آدمی ٹیکسی میں بیٹھا تو دیکھا کہ ڈرائیور قرآن سن رہا ہے اس نے پوچھا کیا کوئی مرا ہے؟ اس نے کہا ہاں ہمارے دل مر چکے ہیں۔*

*قیدی اس لئے قرآن مانگتا ہے کہ قید تنہائی میں اس کا ساتھی بنے۔

* مریض #ہسپتال میں اس لئے قرآن مانگتا ہے تاکہ اللہ اس کے مرض کو دور کرے۔

* اور مردہ قبر میں تمنا کریگا کاش میں قرآن پڑھتا تو آج میرا غمخوار ہوتا۔“

22/09/2020

بہت اہم نصیحتیں #زندگی بدل دینے والی🔘
1- #بیوی کے انتخاب ميں بہت دور اندیشی سے کام لو کیونکہ تمہاری خوشی یا غمی کا دارو مدار 90% اسی پر ہوتا ہے.
2- بہت سستی چیزیں مت خریدو.
3- تنقید کرنے والوں کے پیچھے پڑ کر اپنا وقت برباد مت کرو
4- کسی سیاست دان پر کبھی اندھا اعتماد مت کرو.

5- جب کسی سے گاڑی ادھار لو تو پورا تیل بھر کر ہی واپس کرو.

6- #موبائل کہیں تمہاری زندگی کے خوبصورت لمحات ميں خلل انداز نہ ہو کیونکہ موبائل تمہاری اپنی راحت و سکون کے لئے ہے نہ کہ دوسرے کی.

7- جو تم سے زيادہ مالدار یا غریب ہو اس کے سامنے اپنی دولت کا تذکرہ نہ کرو.

8- دوستوں کو قرض دینے ميں محتاط رہو کیونکہ ممکن ہے قرض اور دوستی دونوں سے ہاتهہ دھو بیٹھو.

9- مخاطب سے اس کی تنخواہ کے متعلق مت پوچھو.

10- ہرچیز لکھ لیا کرو. اپنے دماغ پر ہمیشہ بھروسہ مت کرو.

11- #بچے کو سزا اس کے جرم کے مطابق دو.

12- #قرض اسے دو جو بغیر مانگے واپس کر دے.

13- ہر کوئی تعریف پسند ہوتا ہے اس لئے کسی کی تعریف کرنے ميں بخیلی نہ کرو.

14- کسی سے اختلاف یا بحث و مباحثے کے وقت اپنے اخلاق اور سلیقہ مندی کا دامن نہ چهوڑو.

15- اپنے علم کو پھیلاؤ اور لوگوں کو اس سے فائدہ پہنچاو کیونکہ ہمیشہ زندہ رہنے کا یہی واحد راستہ ہے.

16- اپنی ذاتی یا مالی تفصیلات کا اظہار بقدر ضرورت ہی کرو.

17- اگر کوئی تمہارے دوست کی تعریف کرے تو اپنے دوست سے ضرور اس کا ذکر کرو.

18 - اگر کوئی تمہارے ساتھ بدسلوکی کرے تو تم اس کے بچے کے ساتھ احسان کر کے اسے سبق سکھاؤ.

19_ #شادی اس سے کرو جو مال و دولت میں تمہارے برابر یا تم سے کمتر ہو.

20 - کوئی چیز جب تمہیں دو بار ادھار لینے کی ضرورت پڑے تو وہ چیز بازار سے خرید لو.

21- روزانہ آدھا گهنٹہ چہل قدمی کرو.

22- تمہاری #گهڑی وقت سے پانچ منٹ آگے رہنی چاہیے.

23- تصنع اور بناوٹ سے دور رہو.

24- معمولی چیزوں میں بحث و تکرار مت کرو.

25- جہاں بھی رہو وہاں اپنا اچھا اثر چهوڑنے کی کوشش کرو.

مزید بہترین اور دلچسپ تحریر پڑھنے کے لئے اس پیج کو لائیک کریں

https://www.facebook.com/SirfTehreer/

14/09/2020

دُور اندیش "درویشِ اہلسنت"
اب پتا چل گیا نا کہ یہ مجددانہ نعرہ " " بچے بچے تک کی زبان پر کیوں لگوا دیا تھا..
یہ ہے حکیم الامت ، یہ ہے نباضِ ملت، یہ ہے مردِ قلندر، یہ ہے مرشد دوراں، یہ ہے محسنِ اہلسنت، یہ ہے ماحئ بدعت، یہ ہے حامئ سنت، یہ ہے ماہتابِ رضویت، یہ ہے مانِ اہلسنت ، یہ ہے خیر خواہِ امت ، یہ ہے ناموسِ #صحابہ کا پہرے دار، یہ ہے اہلیبیت کا وفادار ، میرے والی، میرے وارث، میرے مولا، میرے سائیں، میرے ماویٰ، میرت ملجا، میرے ہادی میرے رہبر
جنہیں دنیا کے نام سے جانتی ہے۔
اللّٰہ عزوجل انکا سایۂ عاطفت ہمارے سر پر تا دیر سلامت رکھے، آمین

12/09/2020

پچھلے دنوں نئی نئی جاب لگی... شروع میں جونیئر سیکشن میں دوپٹے سے کام چلایا لیکن جب لڑکوں کا سینئر سیکشن ملا تو عبایا پہننا شروع کر دیا،
اگلے دن پتہ چلا یہاں عبایا پہننا منع ہے جبکہ سینئر سیکشن ہونے کی وجہ سے میرا بغیر عبایا کے پڑھانا محال تھا،سوچا پرنسپل نے بلایا تو دیکھی جائے گی...
پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا...
آفس بلایا گیا،
کرسی پہ براجمان نہایت معزز نظر آنے والی خاتون مجھ سے گویا ہوئیں...
"آپ سے جو ٹیسٹ لیا گیا وہ انتہائی بہترین اور متوازن تھا اسلیے اپکو بلاتردد اپنے آفس میں بلا لیا، دیکھنا چاہتے تھے کہ اتنے بہترین خیالات کی لڑکی دیکھنے میں کیسی ہے... لیکن اپکو شاگرد کے سامنے اپنی کمزوری نہیں دکھانی چاہیے کہ آپ عبایا پہن کر انکو انسیکیور محسوس کروائیں رشتہ ایسا رکھیں کہ انکا دھیان ہی نہ جائے کہ ٹیچر نے لباس کیسا پہنا ہوا ہے..."
ضبط کرتی رہی یہ سب کہ میرا عبایا انکو کچھ اور سوچنے پر مجبور کر رہا "ہوگا"...
جب سب سن لیا تو جواب دینے کی بجائے پرنسپل صاحبہ سے ایک سوال کیا کہ اگر میں آپ سے کہوں کہ آپ عبایا پہننا شروع کر دیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوگا؟
کہنے لگیں لباس میرا ذاتی مسئلہ ہے....
میں نے کہا ایگزیکٹلی میم نوکری بھی اپنی پسند کی قربانی کا نام نہیں، اگر تو میری نوکری ایسی ہو جیسے ماڈلنگ ایئر ہوسٹس وغیرہ تو میں لباس کے معاملے میں اپکو جوابدہ ہوں وگرنہ نہیں...
آپ کو میری صلاحیتوں سے سروکار ہے آپ بچوں کو بلا کر پوچھ لیجیے کہ آیا میرے عبایا کی وجہ سے انکو لیکچر سمجھ میں نہیں آتا تو میں عبایا پہننا چھوڑ دونگی اور انکا دھیان واقعی اس طرف نہیں جانا چاہیے کہ ٹیچر نے کیا پہنا ہوا ہے ... اور آپ میرے سامنے عبایا میں بھی آئیں تو آپکی باعزت شخصیت مجھ سے چھپ نہیں سکتی کیونکہ اصل شخصیت انسان کے الفاظ، اسکی سوچ ہے ...
وہ تھوڑا توقف کرکے...
کہنے لگیں!
" اپنے آپ کو اتنا گریس فلی ڈیفنڈ کرنے پر اپکو سراہے بغیر چارہ نہیں... میرے رولز نہیں ہیں کہ یہاں کوئی عبایا پہنے لیکن اب تک کوئی اپنے حق کے لیے ایسے کھڑا ہی نہیں ہوا جیسے آپ...
اور رہی بات عبایا کی تو
You can wear anything you like coz I can't afford to lose a teacher like you and yes abaya suits you a lot girl"
انکے چہرے کے تاثرات یکسر بدل چکے تھے، وہ جو شروع میں نہایت سخت تیور لیے بیٹھی ہوئی تھیں اب چہرے پر ایک گہری مسکراہٹ لیے مجھے غور سے دیکھ رہی تھیں...

ہمیشہ اپنے لیے ڈٹنا سیکھیں اور اپنی صلاحیتوں اور شخصیت پر اتنا بھروسہ ضرور رکھیں کہ اگلا اپکو کھونے کے ڈر سے اپنے کھوکھلے قوانین ہی تبدیل کر دے... !!
ایک بہن کی آواز

10/09/2020

ایک برقع پوش عرب عورت یہودیوں کے بازار میں آئی، دکانداروں نے شرارت کی اور اس عورت کو ننگا کر دیا اس پر تمام یہودی قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے، عورت چلائی تو ایک عرب آیا اور دکاندار کو قتل کر دیا اس پر یہودیوں اور عربوں میں لڑائی شروع ہو گئی۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو خبر ہوئی تو تشریف لائے اور یہودیوں کی اس غیر شریفانہ حرکت پر ملامت فرمانے لگے۔ اس پر بنوقینقاع کے خبیث یہودی بگڑ گئے اور بولے کہ جنگ ِبدر کی فتح سے آپ مغرور نہ ہو جائیں مکہ والے جنگ کے معاملہ میں بے ڈھنگے تھے اس لئے آپ نے ان کو مار لیا اگر ہم سے آپ کا واسطہ پڑا تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ جنگ کس چیز کا نام ہے؟ اور لڑنے والے کیسے ہوتے ہیں ؟ جب یہودیوں نے معاہدہ توڑدیا تو حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نصف شوال ۲ ھ سنیچر کے دن ان یہودیوں پر حملہ کردیا۔ یہودی جنگ کی تاب نہ لا سکے اور اپنے قلعوں کا پھاٹک بند کرکے قلعہ بند ہو گئے مگر پندرہ دن کے محاصرہ کے بعد بالآخر یہودی مغلوب ہو گئے اور ہتھیار ڈال دینے پر مجبور ہو گئے۔ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم کے مشورہ سے ان یہودیوں کو شہر بدر کر دیا اور یہ عہد شکن، بدذات یہودی ملک شام کے مقام ’’اذرعات‘‘ میں جاکر آباد ہو گئے۔ (زُرقانی ج۱ ص۴۵۸)
مزید بہترین اور دلچسپ تحریر پڑھنے کے لئے اس پیج کو لائیک کریں

https://www.facebook.com/SirfTehreer/

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi