Saudi Ajnabi+سعودي اجنبي

Saudi Ajnabi+سعودي اجنبي

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Saudi Ajnabi+سعودي اجنبي, Government Official, Karachi.

19/06/2019

Frankfurt germany

Photos from ‎Saudi Ajnabi+سعودي اجنبي‎'s post 10/12/2018
01/01/2018

سنا ہے سال بدلے گا....!!!!!!
نتیجہ پهر وہی هوگا
سنا ہے سال بدلے گا
پرندے پهر وہ هی هونگے
شکاری جال بدلے گا
بدلنا ہے تو دن بدلو
بدلتے کیوں ہو ہندسوں کو
مہینے پهر وهی هونگے
سنا ہے سال بدلےگا
وہی حاکم وہی غربت
وہی قاتل وہی غاضب
بتاؤ کتنے سالوں میں
ہمارا حال بدلے گا............!!!!

14/09/2017

ابن خلدون "المقدمة" میں لکھتے ہیں:
عربوں کو اونٹ کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان کی طبیعت میں نخوت ، غيرت اور سختی کا عنصر بہت پایا جاتا ہے ...
ترکوں کو گھوڑے کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں طاقت ، جراءت اور اکڑ پن کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے....
انگریزوں کو خنزیر کا گوشت کھانے کی عادت ہے اس لیے ان میں فحاشی وغیرہ کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے ....
حبشی افریقی بندر کھاتے ہیں اس لیے ان میں ناچ گانے کی طرف میلان زیادہ پایا جاتا ہے....
ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
جس کو جس حیوان کے ساتھ انس ہوتا ہے اس کی طبیعت میں اس حیوان کی عادتیں غیر شعوری طور پر شامل ہوجاتی ہیں... اور جب وہ اس حیوان کا گوشت کھانے لگ جائے تو اس حیوان کے ساتھ مشابہت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے ....
اس پر ایک عرب صحافی تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ہمارے زمانے میں فارمی مرغی کھانے کا رواج بن چکا ہے... چنانچہ ہم بھی مرغیوں کی طرح صبح و شام چوں چوں تو بہت کرتے ہیں لیکن ایک ایک کرکے ہمیں ﺫبح کردیا جاتا ہے ... فارمی مرغی کا گوشت کھانے کی وجہ سے ہم میں سستی کاہلی کی، ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے کی ، سر جھکا کر چلنے کی اور پستی میں رہنے کی عادتیں پیدا ہوچکی ہیں.....

26/08/2017

اسلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بسم الله الرحمن الرحيم

چیونٹیوں کی بستی پر حضرت سلیمان علیہ السلام کا گذر:
=====================================
القرآن : اور جمع کئے گئے سلیمان کے پاس اسکے لشکر جن اور انسان اور اڑتے جانور پھر انکی جماعتیں بنائی. یہاں تک کہ جب پہنچے چیونٹیوں کے میدان پر، کہا ایک چیونٹی نے اے چیونٹیو گھس جاؤ اپنے گھروں میں نہ پیس ڈالے تم کو سلیمان اور اسکی فوجیں اور انکو خبر بھی نہ ہو. پھر مسکرا کر ہنس پڑا اسکی بات سے، اور بولا اے میرے رب میری قسمت میں دےکہ شکر کروں تیرے احسان کا جو تو نے کیا مجھ پر اور میرے ماں باپ پر اور یہ کہ کروں کام نیک جو تو پسند کرے اور ملا لے مجھ کو اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں.[النمل:١٧-١٩]
تشریح : یعنی سلیمانؑ کا اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ ایسے میدان کی طرف گذر ہوا جہاں چیونٹیوں کی بڑی بھاری بستی تھی (تنبیہ) جہاں چیونٹیاں مل کر خاص سلیقہ سے اپنا گھر بناتی ہیں اسے زبان عرب میں "قریۃ النمل" کہتے ہیں (چیونٹیوں کی بستی)۔ مفسرین نے مختلف بلاد میں کئی ایسی وادیوں کا پتہ بتلایا ہے جہاں چیونٹیوں کی بستیاں بکثرت تھیں، ان میں سے کسی ایک پر حسب اتفاق حضرت سلیمانؑ کا گذر ہوا۔

ایک چیونٹی کی بات:

یعنی یہ ایسے تو نہیں جو جان بوجھ کر تم کو ہلاک کریں، ہاں ممکن ہے بے خبری میں پس جاؤ۔ حضرت شاہ صاحبؒ لکھتے ہیں "چیونٹی کی آواز کوئی (آدمی) نہیں سنتا، (سلیمانؑ) کو معلوم ہو گئ" یہ ان کا معجزہ ہوا۔ (تنبیہ)۔ چیونٹیوں کی منظم زندگی: علمائے حیوانات نے سالہاسال جو تجربے کئے ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حقیر ترین جانور اپنی حیات اجتماعی اور نظام سیاسی میں بہت ہی عجیب اور شئون بشریہ سے قریب واقع ہوا ہے۔ آدمیوں کی طرح چیونٹیوں کے خاندان اور قبائل ہیں۔ ان میں تعاون باہمی کا جذبہ، تقسیم عمل کا اصول، اور نظام حکومت کے ادارات نوع انسانی کے مشابہ پائے جاتے ہیں۔ محققین یورپ نے مدتوں ان اطراف میں قیام کر کے جہاں چیونٹیوں کی بستیاں بکثرت ہیں، بہت قیمتی معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ افسوس ہے ان مختصرفوائد میں ان کی گنجائش نہیں۔ محض مقام کی مناسبت سے "دائرۃ المعارف المصریہ" کے آخری جملے نقل کرتا ہوں فمتٰی دَاھَمَ عَدَوٌّ قَرْیَۃً للِنَّمَلِ اختَفَتْ الْعَمَلَۃُ وَخَرَجَتِ الْجُنُوْدُ للقِتَالَ وَ النِّضَالِ فَیَخْرَجُ اَوَّلَا وَاحِدٌ مِنْھَا لِلْاسْتِطلَاعِ ثُمَّ یَعُوْدُ مُجْزًا بِمَاوَأی وَبَعْدَ ھُنَیْہَۃٍ تَخْرُجُ ثلاثَۃٌ اَوْ اَرْبَعَۃٌ یَتْبَعُھَا عَدَدٌ کَثِیْفٌ مِنَ الْجُیُوْشِ بادِیَۃً عَلَیْھِمْ عَلَائِمُ الْحنَقِ فَتَلَدَغُ کُلَّ مَا صَادَفَتْہُ وَلَا تَفْلَتُ مِنَ تَلْدَغُہٗ وَلَوْ قَطَعَتْ اربًا اربًا۔ فَاِذَا اِنتَہَی القِتَال رَجَعَ الفَعَلَۃُ فَاَعَادُوْا بِنَاءَ مَاتَھَدَّمَ یَتَخَللھَا عَدَدٌ مِنَ الْجُنُودِ لِلْحراسَۃِ لَا لِلْعَمَلِ خط کشیدہ جملوں میں بتلایا ہے کہ خطرہ کی آہٹ پا کر اول ایک چیونٹی باہر نکلتی ہے اور واپس جا کر اپنی قوم کو اپنی معلومات سے آگاہ کرتی ہے۔ باقی سلیمانؑ کا پتہ لگا لینا اور سلیمانؑ کا اسکی بات پر مطلع ہو جانا بطریق خرق عادت تھا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کا تبسم اور تعجب:
اس چیونٹی کی بات سمجھ کر تعجب ہوا۔ اور فرط سرور و نشاط سے ادائے شکر کا جذبہ جوش میں آیا۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کی دعا:
یعنی حیران ہوں تیرے انعامات عظیمہ کا شکر کس طرح ادا کروں، پس آپ ہی سے التجاء کرتا ہوں کہ مجھے پورا شاکر بنا دیجئے زبان سے بھی اور عمل سے بھی۔ اور اعلیٰ درجہ کے نیک بندوں میں (جو انبیاء و مرسلین ہیں) محشور فرمائیے۔

23/03/2017

Photos 21/03/2017

السلام علیکم !
صبح بخیر !

کسی بھی حالت میں اپنا حوصلہ مت چھوڑو، کیونکہ لوگ گِرے ہوئے مکان کی اینٹیں بھی اُٹھا کر لے جاتے ہیں۔
. #چھپری
Www.facebook.com/NartopaHazroAttockPakistan

Photos 19/03/2017

وہ فوت ہو گیا... یار...! ابھی تو اکٹھے چائے پی ہے... ہاں یار، چائے پی کر روانہ ہوا، ایکسیڈنٹ ہوا، جوان موقع پہ ہی دَم توڑ گیا.
وہ فوت ہو گیا... یار...! کیسی باتیں کر رہے ہو رات شادی کی تقریب میں اکٹھے ہم دونوں گپ شپ کرتے رہے... ہاں یار، شادی سے واپسی پہ گھر آیا رات کو سویا شاید دل کا اٹیک ہوا پھر اُٹھ نہ سکا.
وہ فوت ہو گیا، یار...! ایسی بات بھی مذاق کرنے کی ہوتی ہے جمعہ اکٹھے پڑھا، وہ بیمار تو نہیں لگ رہا تھا... ہاں یار...! وہ بیمار نہیں تھا، بس شام کو پیٹ میں درد ہوا اور پھر ہسپتال بھی لے گئے لیکن طبیعت بگڑ گئی ڈاکٹروں کو بھی سمجھ نہیں آ رہی کہ بیماری کیا تھی، بس ابھی ایک ڈرپ مکمل نہیں ہوئی تھی کہ جوان چل بسا.
وہ فوت ہو گیا، یار...! آج دفتر میں تو اکٹھے کام کیا اور تو کہہ رہا کہ وہ فوت ہو گیا، ہاں یار... دفتر ہی تو گیا تھا، واپسی راستے میں دِن دہاڑے اُوباشوں نے گَن پوائنٹ پہ روکا، بائیک کا مطالبہ کیا، اِس نے مزاحمت کی اُنہوں نے فائرنگ کر دی، جوان موقع پہ ہی دَم توڑ دیا.
جوان...! کہاں ہے تیرا دھیان...!
تو کیا سمجھتا ہے موت مہلت دے گی، توبہ کر لیں گے، نصیحت و وصیت کر لیں گے، رُوٹھوں کو منا لیں گے، صاحبِ حق سے حق بخشوا لیں گے، یہ مختصر سے واقعات بطورِ نمونہ کے درج کئے ہیں،
جن کو موت آناً فاناً آئی کہ جن کی موت کا یقین بھی نہیں آتا تھا، اور ہماری طرح اِن کے بھی منصوبے ہوں گے، موت سے بےخبر ہوں گے، مگر...
مگر موت نے بڑھ کر آ دبوچا کہ پَل کی مہلت بھی نہ دی، اے موت سے بےخبر...! موت ہم سے بےخبر نہیں....!!!
انکھوں سے تونے اپنی کتنے جنازے دیکھے
ہاتھوں سے تونے اپنے کتنے دفنائے مردے
انجام سے توں اپنے کیوں اتنا بے خبر ہے
دنیا کے اے مسافر منزل تیری قبر ہے منزل تیری قبر ہے
. #چھپری
Www.facebook.com/NartopaHazroAttockPakistan

Photos 18/03/2017

اللہ کے نام پہ دے دے بابا
--------------------------
کیا آپ نے اپنے اس گناہ جاریہ کے بارے میں کبھی غور کیا ہے کہ پیشہ ور بھکاری کو بھیک دے کر آپ ان کے ہر ایک جرم میں برابر کے شریک ہو رہے ہیں
وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ
اور سائل کو نہ جھڑکو

اس آیت کا جتنا غلط مفہوم ہم پاکستانی مسلمانوں نے سمجھا ہے اتنا ہی شدید ناجائز فائدہ اس غلط فہمی سے جاہل ،کاہل ضمیر فروش پیشہ ور بھکاریوں نے اٹھایا ہے-
آۓ دن اس انڈسٹری کو مزید پروان چڑھانے کے لیے بچے اغوا ہوتے ہیں، ان بچوں کے ساتھ جتنا ظلم ہوتا ہے ،ان کے والدین پر جو غم کا پہاڑ ٹوٹتا ہے ،اس تمام کارگزاری کے پیچھے کسی مافیا کا نہیں بلکہ ہر اس انسان کا ہاتھ ہے جو سڑک چھاپ پیشہ ور فقیروں کو بھیک دے کر ان کی معاونت فرماتا ہے .

ذ را سوچیں تو سہی کہ گزشتہ چند ہی سالوں میں آپ کی اس ایک غلط فہمی اور خوف کے سبب آپ کے دس مبارک سے ملک کے ہر چوراہے پر کیا فصل تیار ہوئی ہے -
لوگ ماں کی بد دعا سے نہیں ڈرتے
کمزور کا حق دباتے نہیں ڈرتے
صبح شام جھوٹ بولتے نہیں ڈرتے
،جان بوجھ کر نماز قضا کرنے سے نہیں ڈرتے
سکرین کے نشے میں دھت ،اپنے دل دماغ ،کانوں اور آنکھوں کی جواب دہی سے نہیں ڈرتے
لیکن !!!
سڑک پر فحش قسم کے ایک کردار، خواجہ سرا کی بد دعا سے ڈرتے ہیں
یہ بات مذھب کی کس کتاب میں درج ہے کہ خواجہ سرا کی بد دعا سے ڈرو ؟
آپ کا یہی خوف دولہے شاہ کے چوہے (جن بچوں کو جبرا ذہنی معذور بنا دیا جاتا ہے ) ایک اور کریہہ انڈسٹری سالوں سے چلا رہا ہے

آپ جو سخی داتا بن کر جیب سے چلر نکال کر انکے حوالے فرما دیتے ہیں، در اصل سانپ کو دودھ پلا رہے ہوتے ہیں ایک آدم خور جنگل کی آپیاری فرما رہے ہوتے ہیں-
انتہائی بنیادی ضرورت انسان کی خوراک اور پھر لباس ہے جو جگہ جگہ ایدھی چھیپا وغیرہ کے یونٹس پر ہر دم دستیاب ہے ،آپ بس اتنا کریں کہ ان کو جھڑکیں نہیں اور ایسے یونٹس کا رستہ بتا دیں تاکہ واقعی کوئی بھوکا ہے تو اسکی ضرورت پوری ہو جاۓ اور آپ کے اسے دیے ہوئے پیسے کسی بھی گناہ جاریہ کا سبب نہ بن جائیں -

اس لیے براہ کرم پوری قوم پر اور خود پر ہر طرح سے رحم کیجیے -پہلی بات ان پیشہ وروں کے نشے اور عیاشی کا سامان مہیا کرنے سے خود کو روک کر- دوسرا اس بات پر غور فرما کر کہ مدد تو خواہ گھر والوں میں سے ہی کسی کی ہو ،وہ اللہ کے نام پر ہی تو ہوتی ہے -
فرق صرف اتنا سا ہے کہ سدا سے ،اللہ کے نام پر دے دے بابا کی صدا پر کان دھرنے والوں کے کان نہیں کھڑے ہوتے ،اب کوئی ماں یا ساس بہو بیٹی کو یہ صدا تو نہیں لگا سکتی ناں کہ اللہ کہ واسطے گھر کے کاموں میں میرا ہاتھ بٹا دے بابا -یا باپ اپنے بیٹوں دامادوں کو کہ آپس میں درگزر کا رویہ اپنا لے بابا -ٹی وی پر مصنوعی انسانوں سے جی بہلاتے تھک چکے ہیں تمہارے بزرگ انکو اپنا کچھ وقت دے دے بابا -سائل تو یہ بھی ہیں ناں ،اور سائل تو وہ بھی ہوتا ہے جو کسی تنازع کے بعد آپ کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھاتا ہے .....اس سے رعونت برتتے ،اسکی نیت پر شک کر کے اسکی تذلیل اس کی غیبت کرتے اس پر بہتان لگاتے،اسکی بد دعا سے خوف نہیں آتا؟

سائل تو وہ طالب علم بھی ہوتے ہیں جو سرکا ری اور دہی سکول کے اخلاق سے نابلد اساتذہ سے کوئی سوال دو سے تین بار پوچھ لیں تو صرف جھڑکی ہی نہیں مار کے بھی مستحق ہو جاتے ہیں -اور سائل تو لڑکی والوں سے جہیز کا سوال کرنے والے بھی ہوتے ہیں ،اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ انکوبھکاری کی لسٹ میں ڈالتے ہیں یا بھتہ خوروں کی ،ویسے لغت میں تو ان کا شمار دہشتگردوں میں ہونا چاہیے - .

اب سوال یہ ہے کہ
کیا یہ صرف کافرین ہی ہیں جو آباؤ اجداد کی اندھی تقلید کرتے ہیں ہم نہیں؟ جن کے ذھنوں میں بد کرداروں کی بد دعاؤں کے شرف قبولیت کے خوف بٹھا دیے گۓ ہیں؟ اللہ تعالیٰ تو صاف الفاظ میں فرماتا ہے کہ ایسے سفید پوش لوگوں کو پہچان کر انکی ضرورتیں پوری کر دو جو تم سے لپٹ کر خودداری اور حیا کے سبب ہاتھ پھیلا کر مدد طلب نہیں کرتے-
اور اگر واقعی آپ کو لگتا ہے کہ نہیں یہ ٹوٹی پھوٹی ہاتھ گاڑی پر بیٹھا مکھیوں سے جوجتا فقیر واقعی مستحق ہے تو پھر اسے چلر ٹکا کر مطمئن نہ ہوں کہ آپ نے نیکی کر لی ہے کیونکہ آپ نیکی کو پہنچ ہی نہیں سکتے جب تک کہ اپنی پسندیدہ چیز اسکے حوالے نہ کر دیں- ارے وہ کیا بات ہے، تو کیا آپ دے رہے ہیں اسے اپنی ایئر کنڈیشنڈ کار ! نہیں! تحقیق کریں گے ،اتنی بڑی خیرات کرنے سے قبل ؟ تو بھائی یہی تو چھوٹی خیرات دینے سے پہلے سوچنا ہے ناں کہ آپ کا ذرا سا مال کروڑوں کے ذرا ذرا سے مل کر کیا کمال دکھا رہا ہے،اور کیسا وبال مچا رہا ہے .

نیت !!! یہ درست سوال اٹھایا ہے آپ نے لیکن ساتھ ہی دوسرا سوال بھی تو نچلا نہیں بیٹھ رہا ناں کہ دین میں بدعت ایجاد کرنے والا بھی تو انتہائی عقیدت اور نیک نیتی سے ایک خود ساختہ کام کو نیکی سمجھ کر کرتا اور پھیلاتا ہے ،اسکا حشر یوم حشر کیا ہوگا اگر وہ تائب نہ ہوا تو ؟ اور کیا وہ تائب ہوگا جب تک کہ اپنے اس عمل کو اپنی نیت کی بنا پر درست سمجھ کر اڑا رہے گا ؟

Photos 14/03/2017

عجوہ کھجور کھجوروں کی سردار کیسے بنی ؟ ایمان افروز تحریر
ایک حبشی جس کی ناک موٹی، آنکھیں چھوٹی ، رنگت سیاہ، چلتا تو لنگڑاہٹ نمایاں نظر آتی تھی بولتا تو زبان میں لکنت ، غلام ابن غلام باغ کے جھاڑ جھنکار سے کھجوریں چننے میں مصروف تھا، یہ کھجوریں نرم نہ تھیں اور ذائقہ میں بھی باقی کھجوروں سے مختلف جبکہ رنگ گہرا اور دانہ بہت چھوٹا سا۔جھولی میں آئی کھجوریں اس باغ کا آخری پھل تھا-
وہ شہر میں انہیں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر کوئی ان کھجوروں کا طلبگار نہ تھا۔اسی اثنا میں ایک آواز آئی’’اے بلالؓ یہ کھجور تو تجھ جیسی کالی اور خشک ہے‘‘۔دل کے آبگینے پر اک ٹھیس لگی اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے، سیدنا بلال ؓ کھجوریں جھولی میں ہی سمیٹ کر بیٹھ گئے۔ایسے میں وہاں سے اس کا گذر ہو جو ٹوٹے دلوں کا سہارا ہے جس نے مسکینوں کو عزت بخشی وہ جس کا نام غمزدہ دلوں کی تسکین ہے- ہاں وہی محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم-
آپ نے بلال رضی اللہ عنہ سے رونے کا سبب پوچھا تو سیدنا بلال ؓنے جھولی کھول کر سب ماجرہ کہہ سنایا۔رحمت اللعالمین ﷺ نے بازار کی جانب رخ انور موڑا اور آواز لگائی’’لوگو یہ کھجور ‘‘عجوہ‘‘ ہےیہ دل کے مرض کے لیئے شفاء ہے،یہ فالج کے لیئے شفاء ہے،یہ ستر امراض کے لیئے شفاء ہے،اور لوگو یہ کھجوروں کی سردار ہے،پھر یہ کہہ کر بس نہیں کیا فرمایا جو اسے کھا لے اسے جادو سے امان ہے‘‘۔منظر بدل گیا
وہ بلال رضی اللہ عنہ جس کے پاس چند لمحے پہلے تک جھاڑ جھنکار تھا اب رحمت اللعالمین ، نبی آخر الزمان ،رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے غنی کر دیا۔پھر راوی لکھتے ہیں کہ لوگ بلال کی منتیں کرتے اور بلال کسی مچلے ہوئے بچے کی مانند آگے آگے بھاگتے۔تاریخ گواہ ہے کہ وہ جسے کبھی دنیا جھاڑ جھنکار سمجھ رہی تھی بلال رضی اللہ عنہ کی جھولی میں آ کر اورمصطفٰے کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی زبان مبارکہ کا صدقہ آج بھی کھجوروں کی سردار ہے۔ (منقول)

Photos 10/03/2017

🖕🖕🖕🖕🖕🖕🖕
اســـــــــــلام علــــــیــــــکم 💌

تین نوجوان ملک سے باھر سفر پر جاتے ھیں اور وھاں ایک ایسی عمارت میں ٹھہرتے ھیں جو 75 منزلہ ھے.. ان کو 75 ویں منزل پر کمرہ ملتا ھے.. ان کو عمارت کی انتظامیہ باخبر کرتی ھے کہ یہاں کے نظام کے مطابق رات کے 10 بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ھیں لھذا ھر صورت آپ کوشش کیجیے کہ دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ھو کیونکہ اگر دروازے بند ھوجائیں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوانا ممکن نہ ھوگا..
پہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ھیں تو رات 10 بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ھیں مگر دوسرے دن وہ لیٹ ھوجاتے ھیں.. اب لفٹ کے دروازے بند ھو چکے تھے.. ان تینوں کو اب کوئی راہ نظر نہ آئی کہ کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جائے جبکہ کمرہ 75 منزل پر ھے..
تینوں نے فیصلہ کیا کہ سیڑھیوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ تو نہیں ھے تو یھاں سے ھی جانا پڑے گا..
ان میں سے ایک نے کہا.. " میرے پاس ایک تجویز ھے.. یہ سیڑھیاں ایسے چڑھتے ھوئے ھم سب تھک جائیں گے.. ایسا کرتے ھیں کہ اس طویل راستے میں ھم باری باری ایک دوسرے کو قصے سناتے ھوئے چلتے ھیں.. 25 ویں منزل تک میں کچھ قصے سناوں گا اس کے بعد باقی 25 منزل تک دوسرا ساتھی قصے سنائے گا اور پھر آخری 25 منزل تیسرا ساتھی.. اس طرح ھمیں تھکاوٹ کا زیادہ احساس نہیں ھوگا اور راستہ بھی کٹ جائے گا.. "
اس پر تینوں متفق ھوگئے..
پہلے دوست نے کہا.. " میں تمہیں لطیفے اور مذاحیہ قصے سناتا ھوں جسے تم سب بہت انجوائے کروگے.. " اب تینوں ھنسی مذاق کرتے ھوئے چلتے رھے..
جب 25 ویں منزل آگئی تو دوسرے ساتھی نے کہا.. " اب میں تمہیں قصے سناتا ھوں مگر میرے قصے سنجیدہ اور حقیقی ھونگیں.. "
اب 25 ویں منزل تک وہ سنجیدہ اور حقیقی قصے سنتے سناتے ھوئے چلتے رھے.. جب 50 ویں منزل تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا.. " اب میں تم لوگوں کو کچھ غمگین اور دکھ بھرے قصے سناتا ھوں.. " جس پر پھر سب متفق ھوگئے اور غم بھرے قصے سنتے ھوئے باقی منزلیں بھی طے کرتے رھے..
تینوں تھک کر جب دروازے تک پہنچے تو تیسرے ساتھی نے کہا.. " میری زندگی کا سب سے بڑا غم بھرا قصہ یہ ھے کہ ھم کمرے کی چابی نیچے استقبالیہ پر ھی چھوڑ آئے ھیں.. "
یہ سن کر تینوں پر غشی طاری ھوگئی..
اگر دیکھا جائے تو ھم لوگ بھی اپنی زندگی کے 25 سال ھنسی مذاق ' کھیل کود اور لہو و لعب میں گزار دیتے ھیں.. پھر باقی کے 25 سال شادی ' بچے ' رزق کی تلاش ' نوکری جیسی سنجیدہ زندگی میں پھنسے رھتے ھیں..
اور جب اپنی زندگی کے 50 سال مکمل کر چکے ھوتے ھیں تو زندگی کے باقی آخری سال بڑھاپے کی مشکلات ' بیماریوں ' ھوسپٹلز کے چکر ' بچوں کے غم اور ایسی ھی ھزار مصیبتوں کے ساتھ گزارتے ھیں.. یھاں تک کہ جب موت کے دروازے پر پہنچتے ھیں تو ھمیں یاد آتا ھے کہ "چابی" تو ھم ساتھ لانا ھی بھول گئے..
رب کی رضامندی کی چابی..
جس کے بغیر یہ سارا سفر ھی بےمعنی اور پچھتاوے بھرا ھوگا..
اس لیے اس سے پہلے کہ آپ موت کے دروازے تک پہنچیں ' اپنی چابی حاصل کرلیں.
٭٭٭٭٭٭٭٭
#چھپری۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Karachi