Mohammad Tayyeb Qaisar

Mohammad Tayyeb Qaisar

Share

سولر سسٹم انسٹالیشن و ادویات کی فراہمی کیلئے رابطہ کریں۔
واٹس ایپ نمبر : 03122622420

06/11/2024

جن کے جنازے چھوڑنا ناممکن ہو ،
ان سے صلح کی گنجائش رکھنی چاہیے ۔
لیکن انکی خوشیوں میں شریک ہوکر خود کو ذلیل مت ہونے دیا کریں ۔
اگر دوسری جانب سے آپکے بڑوں کی مستقل توہین کی جائے تو وہاں شریعت کے حکم پر سکوت بہتر ہے۔

01/05/2023

I have reached 500 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

15/02/2023

آپ کے موبائل میں یہ ایپس نہیں ہونے چاہئیں :

اب تک آپ یہ دیکھتے آرہے ہوں گے کہ موبائل کےلیے ضروری ایپس یا پھر یہ ایپس آپ کے موبائل میں ہونے چاہیے... آج سے ہم یہ سیریز شروع کررہے ہیں کہ یہ ایپس آپ کے موبائل میں نہیں ہونے چاہیے...

اس سلسلے کی یہ پہلی پوسٹ ہے!
آپ کے موبائل میں لون/قرض/ادھار کی کوئی ایپس نہیں ہونی چاہئیں...
پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ شرعاً یہ جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ سود پر قرض دیتے ہیں اور سود کبھی اصل مال سے بھی کہیں زیادہ ہوتاہے...

دوسرا ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ یہ آپ کے موبائل میں انسٹال ہوکر آپ کا سارا ڈیٹا چرا لیتے ہیں اور پھر آپ کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کرتے ہیں... یہاں کے آپ کے کانٹیک نمبرز کو چرا کر آپ نے جاننے والوں کو فون کرکے آپ کو بدنام کردیتے ہیں...
ایسے بھی کیسز سامنے آئے ہیں کہ ان کا قرض بروقت نہ لوٹانے پر انہوں نے گھروں کو اپنے پالے ہوئے غنڈے تک بھیجے ہیں...
ان کا مکمل طریقہ کار غنڈوں اور بد معاشوں والا ہے... انہیں کی طرح دھمکاتے اور انہیں کی طرح بلیک میل کرتے ہیں...
خدارا ان سے خود بھی بچیں اور اپنے جاننے والوں کو بھی بچائیں!

کچھ ایپس کے نام یہ ہیں :
ایزی لون(Easy Loan)
بروقت لون( Barwaqt Loan)
ایزی کیش( Easy Cash)
آسان قرضہ( Asaan Qarza)
زیٹا لون( Zeta Loan)
کیش کریڈٹ( Cash Credit )
ضرورت کیش( Zaroorat Cash)
فوری قرض( Fori Qaraz)
راز کیش( Raz Cash)
وغیرہ وغیرہ

مارکیٹ میں صرف یہ ایپس نہیں ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ موجود ہوسکتے ہیں... آپ اس طرح کی ہر ایپ سے بچ کر رہیں اور اپنے موبائل میں کبھی بھی انسٹال نہ کریں اور نہ ہی کسی لالچ میں آجائیں... کہ لالچ کا انجام بہت برا ہوتا ہے... اور کئی لوگوں کے ساتھ یہ برا ہوچکا ہے...!
عثمان حبیب

19/05/2021

کل سے انشاء اللہ نئے شادی شدہ حضرات کیلئے کچھ نئے تجربات کیساتھ حاضر ہورہا ہوں...
ایک ماہ کیلئے یہ سلسلہ رواں رکھا جائے گا۔
جسمیں مختلف قسم کے سوالات پر جوابی شکل میں روزانہ ایک پوسٹ شائع کی جائے گی....
مجھے نہیں پتہ میں نے کتنی نیکیاں کمائی ہیں...؟ ؟؟
مگر الحمدللہ کافی شادی شدہ جوڑوں کو طلاق کی لعنت سے بچایا ہے۔
اگر آپ بھی شادی کیبعد کسی بھی طرح کی پریشانی کا شکار ہیں۔ یا کمائینڈ فیملی سسٹم میں کوئی مسئلہ ہے۔ یا فزیکلی کوئی پرابلم ہے تو اپنا مسئلہ بلا خوف و خطر انبکس کردیں...
اسکا حل پوسٹ کی شکل میں پیش کیا جائیگا...

20/02/2020

یورپ میں ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسی قسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔
عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اس کا خاوند پاس کھڑا اس کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔ ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہو جاتے ہیں۔
پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کے لئے آتی ہے اور خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی کہہ دیتی ہے کہ آپ کی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اس کا کیس کافی خراب Hafiرہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کر دیا جائے۔
ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔
نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر کو اس کے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے۔۔
انسانیت جب مر جائے تو انسانوں کی جانوں سے کھیلا جاتا ہے ۔۔۔
تلخ مگر حقیقت ۔۔۔۔
خدا راہ ہماری ماؤں اور بہنوں اور بیٹیوں کو ان لالچی ڈاکٹروں سے بچاے ۔۔۔۔
اس پوسٹ کو جتنا ہو سکے شئیر کرے ۔۔۔ شکریہ

06/11/2019

دو مہینے پیج پر کوئی پوسٹ نہ لکھ سکا اکاؤنٹ بند تھا...
کس کس کو کمی محسوس ہوئی میری...؟؟

#طیزی

06/11/2019

مغرب میں واٹر برتھ پروسس کا تیزی سے مقبول ہوتا رجحان
تکلیف بھی کم اور خرچہ بھی ! پھر ہم اس سے گریزاں کیوں..؟

زمانہ حمل کسی بھی عورت کی زندگی کا سب سے خوب صورت وقت ہوتا ہے۔ نو ماہ بعد ایک نئی زندگی عورت کی جان سے طلوع ہوتی ہی ہے، جسے دیکھ کر عورت اس درد اور تکلیف کو یکسر بھلا دیتی ہے جسے اس نے متواتر نو مہینے جھیلا ہوتا ہے۔ فی زمانہ، دورانِِ حمل، عورت کا زیادہ تر وقت اسپتال کے چکروں میں گزر جاتا ہے۔ لاتعداد دوائیں، جن کی اکثر عورت کو ضرورت بھی نہیں ہوتی وہ نسخے کے طور پر تجویز کردی جاتی ہیں۔ کسی قسم کی پیچیدگی کا شکار نہ ہونے کے باوجود عورت نفسیاتی طور پر اس دباﺅ میں ڈال دی جاتی ہے کہ اگر یہ دوائیں نہ لیں اور خون اور پیشاب کے مختلف ٹیسٹ باقاعدگی سے نہ کروائے تو بے شمار مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ اور یوں اللہ اللہ کر کے زمانہ¿ حمل جیسا خوب صورت وقت لاتعداد تفکرات، پریشانیوں اور اسپتالوں کے چکروں میں گزر کر اختتام پذیر ہوجاتا ہے اور پھر بچے کی پیدائش کا دن آن پہنچتا ہے ۔ وہ دن جس کا انتظار ہر جوڑے کو بے چینی سے ہوتا ہے۔ اسی خوشی کے حصول کے لیے نو ماہ کی جسمانی اور مالی مشقت کبھی خوشی سے تو کبھی مجبوراً برداشت کرلی جاتی ہے، لیکن یہ ایک دن تو گویا نو مہینوں سے زیادہ بھاری ثابت ہوتا ہے۔ سسرال والے ایک پاﺅں پر کھڑے نظر آتے ہیں تو میکے والے بھی دوڑ لگاتے ہیں۔ والدین بننے والا جوڑا اس دن سب سے زیادہ پریشانی میں مبتلا ہوتا ہے۔ مرد کی نظریں اپنے آنگن میں گونجنے والی چہکار سے زیادہ اسپتال کے خرچوں پر مرکوز ہوتی ہیں تو دوسری جانب لیبر روم کے اندر انجیکشن اور ڈرپوں کے سہارے عورت کو ناقابلِ برداشت تکلیف میں مبتلا کرنے کا کام پوری تن دہی سے جاری ہوتا ہے۔ عورت کی جان اور مرد کی جیب دونوں ناقابلِ برداشت بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ اس خطرناک صورت حال کو دیکھتے ہوئے اکثر یہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ بچے کی پیدائش کا خوب صورت اور قدرتی عمل اس قدر پیچیدہ، تکلیف دہ اور مہنگا کیوں بنادیا گیا ہے ؟ کیا بے شمار ادویات اور بھاری رقوم کے بغیر نارمل ڈلیوری ہونا واقعی ممکن نہیں؟
سائنس کا ذرا سا بھی مطالعہ رکھنے والے افراد اس بات سے بہ خوبی واقف ہوں گے کہ عورت اگر صحت مند بچے کو نارمل طریقے سے جنم دے رہی ہو تو اسے کسی قسم کی ادویات کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن بدقسمتی سے ہمارے اور ہم جیسے پس ماندہ معاشروں میں زمانہ حمل میں اور ڈلیوری کے وقت ادویات کا بے دریغ استعمال گویا لازمی مضمون سمجھ کر کروایا جاتا ہے۔ لیکن یہ جان کر سب کو حیرت ہوگی کہ جدید سائنس کی بدولت اب مغربی معاشرہ عورت کے لیے ڈرگ فری ڈلیوری کی راہ ہموار کر چکا ہے، مگر ہمارے معاشرے میں یہ تصور محض ایک بھیانک خیال سے زیادہ کچھ نہیں۔ حتیٰ کہ ہماری آج کی تعلیم یافتہ عورت کے لیے بھی ڈرگ فری ڈلیوری کے تصور کو ہضم کرنا ناممکن ہے۔
ڈرگ فری ڈلیوری کا اس وقت سب سے تیزی سے مقبول ہوتا طریقہ واٹر برتھ پروسس( Water Birth Process ) ہے۔ پانی کے اندر بچے کی پیدائش شاید ہمارے لیے ایک اچھوتا خیال ہو لیکن یہ درحقیقت فطرت سے بے حد قریب اور عورت کے لیے نسبتاً کم تکلیف دہ طریقہ ہے۔ 1805میں فرانس میں پہلی بار واٹر برتھ پروسس کو متعارف کروایا گیا، جب ایک عورت کو اڑتالیس گھنٹے مستقل درد اٹھانے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے گرم پانی کے ٹب میں بیٹھنے کا مشورہ دیا ، جس کے پندرہ منٹ کے اندر اندر ہی اس نے بنا کسی پیچیدگی کے ایک صحت مند بچے کو جنم دے دیا۔ 1960میں یہ طریقہ روس کے اسپتالوں میں آزمایا گیا اور نہایت کام یاب رہا۔ روس میں واٹر برتھ کو متعارف کروانے والے ڈاکٹر نے اس تجربے کے بارے میں آگاہی دیتے ہوئے کہا کہ ٹھنڈے ماحول کے بجائے گرم پانی میں بچے کی پیدائش کا عمل نہ صرف ماں کو بہت سی تکالیف سے بچاتا ہے بلکہ یہ بچے کے دماغ اور اس کی سیکھنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ اس انکشاف کے باوجود بھی ایک عرصے تک دنیا نے اس طریقے کو خاطر خواہ اہمیت نہ دی۔ 1970میں فرانس کی مڈ وائفس اور ڈاکٹروں نے اس طریقے کو مزید رواج دینے کا ارادہ کیا اور جوڑوں کو اس جانب راغب کرنے کے لیے مختلف پروگرامز بھی ترتیب دیے۔ فرانس کے ڈاکٹروں نے بتایا کہ پیدائش کا رائج الوقت طریقہ عورتوں اور نومولود بچوں کے لیے اکثر مختلف قسم کے ٹراما کا باعث بن جاتا ہے اور پیدائش کے وقت پیدا ہونے والی پیچیدگیاں اکثر ساری زندگی ماں اور بچے کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ فرانسیسی ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق رحمِ مادر سے ماں کے بازوﺅں تک پہنچنے کا یہ سفر گرم پانی میں طے ہو تو بچے کے لیے نہایت فرحت کا باعث بنتا ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والے بچے دنیا میں آکر بے حد پُرسکون رہتے ہیںاور خشکی میں پیدا ہونے والے بچوں کی بہ نسبت بہت کم روتے ہیں۔ 1980میں امریکا میں واٹر برتھ کے ذریعے پہلی ڈلیوری کروائی گئی، جس میں صرف نوے منٹ کے دردِزہ کے بعد صحت مند بچے نے دنیا میں آنکھیں کھولیں۔ 1989میں امریکی چرچ نے ایک رپورٹ شایع کی جس میں بتایا گیا کہ گذشتہ چار سال میں کیلیفورنیا کے اسپتال میں چار سو تراسی بچوں کی پیدائش واٹر برتھ پروسس کے ذریعے ہوئی اور ان میں سے ہر بچہ صحت مند اور محفوظ ہے۔
مختلف تحقیقی کاوشوں اور آگہی منصوبوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ نوے کی دہائی کے اختتام تک واٹر برتھ پروسس یو کے، یورپ، امریکا اور کینیڈا میں تیزی سے رواج پانے لگا۔ برطانیہ میں 1992اور 1993میں دو رپورٹیں شایع ہوئیں، جن میں واٹر برتھ پروسس کے عمل کی اہمیت کو واضح کیا گیا۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی اصرار کیا گیا کہ ڈلیوری کے وقت عورت کو اس بات کی بھی آزادی دی جائے کہ وہ جس پوزیشن میں بھی آرام محسوس کرے، اس میں ہی رہتے ہوئے اپنے بچے کو جنم دے۔ ان رپورٹوں کے بعد برطانیہ کے اسپتالوں میں تیزی سے برتھ پُول قائم کیے جانے لگے۔ رائل کالج آف مڈوائفس نے اس طریقے کی مکمل حمایت جاری رکھی اور عملے کو واٹر برتھ کے لیے تربیت فراہم کرنے کے لیے شعبے قائم کیے گئے۔ نیز وہ جوڑے جو اسپتال کے بجائے گھر میں ڈلیوری کروانا چاہتے تھے، تربیت یافتہ عملہ ان کی مدد اور راہ نمائی کے لیے وہاں ساتھ موجود ہوتا۔
1996میں بیلجیم میں یہ طریقہ انتہائی مقبول ہوا اور وہاں ہر آٹھ ہزار میں سے ڈھائی ہزار بچے اسی طریقے سے دنیا میں آنے لگے، ان میں سے ہر کیس میں مائیں اور بچے کسی بھی قسم کے انفیکشن سے محفوظ تھے۔
نوے کی دہائی وہ دہائی تھی جس میں واٹر برتھ پر بے شمار تحقیقی کام ہوا، لیکن اب بھی پیدائش کے لیے اس عمل کا انتخاب کرنے والے جوڑوں کی تعداد بہت کم رہی۔ حتٰی کہ 2007میں بھی نارمل ڈلیوری کی حاملہ خواتین میں سے صرف تین فی صد عورتوں کا انتخاب واٹر برتھ پروسس ٹھہرا۔ رفتہ رفتہ ذہن بدلنے لگے اور یہ طریقہ قبولیت اختیار کرنے لگا اور2014 میں وہ وقت بھی آیا کہ صرف یو کے میں اس طریقے کا انتخاب کرنے والے جوڑوں کی تعداد تیس فی صد تک جاپہنچی اور اب یہ طریقہ ایشیا کی خواتین میں بھی فطری طریقے سے پیدائش کے عمل سے گزرنے کی آمادگی پیدا کر رہا ہے۔ رواں سال جولائی کے مہینے میں ابوظبی کے برجیل اسپتال میں پیدا ہونے والی ننھی عائشہ یہاں کی پہلی واٹر برتھنگ بے بی قرار پائی ہے۔ اس کیس کی نگراں ڈاکٹر سوسن عبدالرحمان نے گلف نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ¿ پیدائش بے حد آسان اور عین فطری ہے اور اس میں عورت کو درد بڑھانے کی کوئی دوا دینے کی ضرورت ہی نہیں، انہوں نے کہا کہ اس طریقے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈلیوری کے فوراً بعد عورت اپنے معمول کے کاموں میں آسانی سے مصروف ہو جاتی ہے۔
اگست کے مہینے میں برازیلین نژاد بولی وڈ اداکارہ اور ماڈل برونا عبداللہ نے ممبئی کے ایک اسپتال میں واٹر برتھ پروسس کے ذریعے بچی کو جنم دیا۔ ''مائی برتھ اسٹوری'' کے نام سے انہوں نے انسٹاگرام پر ایک تفصیلی پوسٹ بھی شیئر کی۔ برونا نے لکھا کہ ''میں فطری طریقے سے بچے کو جنم دینا چاہتی تھی، جس میں نہ کوئی دوا ہو اور نہ سرجری۔ اس لیے میں نے واٹر برتھنگ کا انتخاب کیا۔ ڈلیوری کے دوران گرم پانی نے میرے اعصاب کو بہت پرسکون رکھا اور میری تکلیف کو حد سے بڑھنے نہیں دیا۔ پیدائش کے اس طریقے نے مجھے مکمل خوشی فراہم کی۔ منٹوں میں میرا درد غائب ہوگیا اور طبیعت بحال ہوگئی۔ یوں میں نے پہلے ہی لمحے سے بیٹی کے ہونے کی خوشی کو محسوس کیا اور اس کے سارے کام اپنے ہاتھوں سے کیے، یہ سب واٹر برتھ پروسس کی وجہ سے ممکن ہوا۔'' بھارت کی ہی ایک اور اداکارہ کالکی کوچلین واٹر برتھنگ کے عمل ذریعے دسمبر میں گوا کے پُرفضا مقام پر اپنے بچے کو جنم دینے کا اعلان کر چکی ہیں۔
برطانوی اور امریکی ماہرین کے نزدیک واٹر برتھ کو رواج دینا اس لیے ضروری ہے کہ یہ نہ صرف ڈلیوری کے وقت کی تکلیف کو گھٹاتا ہے بلکہ بے جا اخراجات سے بھی فرد کو محفوظ رکھتا ہے۔ اس طریقے میں سب سے زیادہ پُرسکون حاملہ عورت ہوتی ہے جسے پیدا کرنے کے وقت، جگہ اور پوزیشن کے بارے میں مکمل اختیار اور آزادی حاصل ہوتی ہے۔ یہ طریقہ ایسے معاشروں میں خصوصی ثمرات کا باعث بن سکتا ہے جہاں بچے کی پیدائش کے فطری عمل کو نہایت پیچیدہ ثابت کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت نارمل ڈلیوری کے اخراجات لاکھوں تک جاپہنچے ہیں۔ یہ وہ تلخ جام ہے جس کے گھونٹ بھلا کس نے نہیں بھریں ہوں گے؟ حمل ٹھہرنے سے لے کر پیدائش تک کا ایک ایک لمحہ صرف جوڑے پر ہی نہیں بلکہ پورے خاندان کے لیے باعث ِتشویش بنا رہتا ہے۔ ولادت کے نام پر کئی کئی دن اسپتالوں میں روکنا، درد بڑھانے کی دوائیں، ڈرپ اور انجیکشن کا استعمال اور پھر ڈلیوری مزید آسان کرنے کے نام پر کٹ مارنے کا عمل عورت کو بعد میں کتنی پیچیدگیوں میں مبتلا کردیتا ہے یہ ہم اپنے آس پاس بکھری کہانیوں میں بہ خوبی دیکھ سکتے ہیں۔
واٹر برتھ پروسس پر ہمارے جیسے معاشروں میں عمل کرنے کی بے حد ضرورت ہے، جہاں نصف سے زائد آبادی معاشی تنگ دستی میں مبتلا ہے۔ اولاد کے حصول کے لیے کوئی مقروض ہوجاتا ہے، تو کوئی اپنی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کوئی بھاری اخراجات کے ڈر سے مزید اولاد کی خواہش کو ہمیشہ کی نیند سلادیتا ہے۔ ماں بننے والی عورتوں کے ساتھ الگ ظلم ہوتا ہے۔ درد بڑھانے کی دوائیں دے کر طویل گھنٹوں تک اسپتال کے بستر پر تڑپنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ عورتیں بچہ پیدا کرنے کی قیامت خیز اذیت سے گزر کر ادھ موئی ہوجاتی ہیں، نارمل بچہ پیدا کر نے کے باوجود بھی کئی کئی دن بستر سے اٹھنے کے قابل نہیں رہتیں۔ بدقسمتی سے صرف اسپتال ہی نہیں بلکہ ناتجربہ کار دائیوں اور مڈوائفس سب نے مل کر پیدائش کے پرسکون اور فطری عمل کو ایک گھن چکر بنا کر رکھ دیا ہے۔
مغربی ممالک میں اس وقت نئی ماں بننے والی عورتوں کی اولین خواہش واٹر برتھنگ بن چکی ہے۔ انڈیا میں بھی اس طریقے کی کافی آمادگی پائی جارہی ہے۔ عام عورتیں ہی نہیں بلکہ سیلیبریٹیز بھی اسی طریقے سے ماں بننے کو ترجیح دے رہی ہیں۔ ان سب کے نزدیک اس طریقے کو اپنانے کی سب سے بڑی وجہ اس کا ڈرگ فری ہونا ہے۔ ڈاکٹر امیت دھرندر ممبئی میں واٹر برتھنگ کے بانی مانے جاتے ہیں۔ وہ گذشتہ پانچ سال سے اس پروسس کی پریکٹس کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پیدائش کے وقت عورت کے لیے آس پاس کے ماحول کو جس قدر آرام دہ بنایا جائے گا عورت اتنے ہی فطری طریقے سے بچے کو جنم دے گی۔ اس کے جسم میں اینڈورفنز اور اوکسیٹوکن جیسے مثبت ہارمونز داخل ہوں گے جو ولادت کے فطری طریقے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ دوسری جانب اگر اطراف کا ماحول عورت کے لیے آرام دہ نہ ہو اور وہ اس سے مطابقت حاصل نہ کر سکے تو اس کے جسم میں اینڈرینالین جیسے منفی ہارمونز داخل ہونے لگتے ہیں جو ولادت کے عمل میں مختلف پیچیدگیوں کا باعث بنتے ہیں۔
واٹر برتھنگ کا عام ہونا بے شک اس وقت کی ایک بڑے ضرورت ہے، لیکن تمام فوائد صرف اسی صورت میں سامنے آئیں گے جب یہ کام ماہرین کی نگرانی میں کیا جائے۔ پانی بہت صاف اور زیادہ مقدار میں ہو اور اس بات کا یقین ہو کہ حمل کسی بھی پیچیدگی کا شکار نہیں اور ڈلیوری بالکل نارمل متوقع ہے۔

28/09/2019



نئے شادی شدہ حضرات جب اس نہج پر پہنچتے ہیں تو تذبذب کا شکار رہتے ہیں کہ آیا حمل کے ساتویں مہینے سے لیکر بچے کی پیدائش تک کیا زوجہ کے ساتھ ہمبستری کی جاسکتی ہے....؟
بوجہ شرمندگی اور ہچکچاہٹ کے وہ کسی سے پوچھ نہیں پاتے... ان کیلئے عرض ہیکہ آخری تین مہینے اور شروع کے تین مہینوں میں احتیاط لازم چیز ہے... حالانکہ اس دوران ہمبستری کرنا منع تو نہیں ہے... مگر احتیاط نہ کرنا نقصان کا باعث بن سکتا ہے... اس دورانئیے میں عورت پر بذات خود شہوت کم اور تکلیف زیادہ ہوتی ہے... اور مرد کے اعضائے تناسل کی بناوٹ اور سائز کیوجہ سے اندہام دانی کے اندر ٹکرانا نقصان دہ ہوسکتا ہے... اگر آپ پر جنسی ضرورت بہت زیادہ حاوی ہورہی ہو تو تحمل و سکون کیساتھ خود کو تسکین دے سکتے ہیں...
احتیاط نہ کرنے پر آول ناول کا لپٹ جانا... اسکا پھٹ جانا... بچے کے سر پر کوئی زہنی چوٹ، اندھا پن، مستقل معذوری جیسے اثرات مرتب ہوتے ہیں...
کچھ چلتے پھرتے لوگوں سے سنا کہ آخری ایام میں ڈٹ کر ہمبستری کرنی چاہئیے تاکہ ڈیلوری نارمل ہوسکے تو ان چمونے حضرات کی باتوں خاطر مدارات میں نہ لائیں یہ صرف سنی سنائی اور فضول سی باتیں ہیں....
آجکل کی خواتین سے چاہے آپ جتنے مشقت بھرے کام جھاڑو پوچا و دیگر کام کروا لیں زچگی کے درد کو وہ سہہ نہیں پاتی جسکے نتیجے میں آپریشن کی نوبت آجاتی ہے...

امید ہیکہ آج کی پوسٹ کا حاصل سبھی کو سمجھ آگیا ہوگا
والسلام : #طیزی

27/09/2019

حمل ٹھہرنے کے بہترین دن۔۔۔ ؟؟
پریگنسیی (حمل ) یا امید ہونے کے کون سے دن مناسب سمجھے جاتے ہیں جن کے دوران میاں بیوی کو مباشرت کرنی چاہئیے ؟۔
۔
ایک مرد کی منی اور خاتون کے انڈہ کے ملاپ سے اللہ تعالٰی سے نئی زندگی کی امید لگاتے ہیں۔
۔
میڈیکل سائنس کے مطابق عام طور پہ ۔
خواتین کو ایک ماہ میں یعنی ایام ختم ہونے کے بعد اگلی بار ایام شروع ہونے تک عام طور پہ خواتین کے جسم میں ایک بار بیضہ بنتا اور خارج ہوتا ہے۔
مرد کا مادہ منویہ یعنی اسپیرم خاتون کے اندر 3 تین سے 5 پانچ دن تک زندہ رہتا ہے ۔
جبکہ خاتون کے انڈہ کی عمر عام طور پہ 4 چارگھنٹے سے 12 بارہ گھنٹے ہوتی ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق اگر خاتون کا انڈہ اور مر د کی منی چار سے چھ گھنٹے تک ساتھ رہیں تو حمل یعنی امید کے لگنے کے لئیے یہ نہائت ہی مناسب اور تقریباً یقینی مانا جاتا ہے۔ لیکن اگر مادہ منویہ یعنی مرد کے اسپریم کے جرثومہ اور خاتون کا بیضہ اس سے کم وقت بھی ساتھ رہیں تو بھی امید یعنی پریگننسی ہونے کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔
۔
امید لگنے یا پریگننسی کے لئیے مباشرت کرنے کے مفید دن ۔
اگر ایک خاتون کے ایام 28 اٹھائیس دن کا مکمل دائرہ ہو تو 11 گیارہویں دن سے لیکر 14 چودہویں دن کے ایام میں بیضہ خاتون کے جسم میں سے خارج ہو گا۔ لیکن سو فیصد درست بتانا ممکن نہیں۔ اس لئیے ڈاکٹرز عام طور پہ میاں بیوی کے لئے خاتون کے ایام ختم ہونے کے بعد 7 ساتویں دن سے لیکر 20 بیسویں دن تک اس عرصے میں مباشرت کرنے کو امید لگنے یعنی پریگننسی ہونے کو مفید سمجھتے ہوئے ان دنوں مباشرت تجویز کرتے ہیں۔
۔
خواتین کے بیضہ کے اخراج کے دن جاننے کی علامتیں۔
ایام گزر جانے کے بعد وجائنا خشک ہو جاتی ہے۔ اور اس میں سیرویکل فلوئڈ بلکل نہیں ہوتا۔ پھر
پھر کچھ دنوں بعد وجائنا میں ایک طرح کا ربڑی سا فلوئڈ یعنی گُم کی طرح کا چپکنے والا مواد یا سیال سا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر
پھر یہ سیال بہت زیادہ نمدار اور کریم کی طرح سفید سا ہو جاتا ہے۔ ان دنوں مباشرت پریگننسی کے لئیے مفید ہوتی ہے۔پھر ۔۔۔۔ مفید
اسکے بعد وجائنا میں یہ سیرویکل فلوئڈ ۔ مرغی کے کچے انڈے کی سفیدی کی طرح صاف اور پھسلنے والی سی ہوجاتی ہے ۔ یہ دن پریگننسی کے لئیے انتہائی مفید اور پر امید ہوتے ہیں۔۔۔۔ انتہائی مفید
بیضہ کی مدت پوری ہوجانے کے بعد وجائنا ایک بار پھر سے خشک ہوجاتی ہے ۔ یعنی اس میں سرویکل فلوئد یا سیال نہیں رہتا۔
یہ فلوئڈ چیک کرنے کے لئیے خواتین اپنے انگھوٹے اور شہادت والی انگلی کو وجائنا کے نچلے حصے میں اندر کر کے باہر نکال کر فلوئڈ چیک کرسکتیں ہیں ۔ اور اسکی رنگت اور ماہئیت سے اندازہ لگا سکتیں ہیں کہ بیضہ کا اخراج نزدیک ہے ۔
۔
میڈیکل سائنس کے مطابق ۔باڈی ٹمپریچر سے بیضہ کے اخراج کا دن جاننے کا طریقہ ۔
جس دن خواتین کا بیضہ جونہی خارج ہوتا ہے انکے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے ۔اور امید لگنے یا پریگننسی ہونے کا وقت گزرنے کے بعد جسم کا درجہ حرارت پھر سے نارمل ہو جاتا ہے۔
اسکے لئیے ضروری ہے کہ خاتون ایک ہی تھرمامیٹر استعمال کرے جو اسکے بیڈ کے پاس ہاتھ کی پہنچ میں ہو اور خاتون کو کسی طور اسکے لئیے اٹھنا نہ پڑے اور نہ ہلنا جلنا پڑے ورنہ جسم کا درجہ حرارت ہلنے جلنے سے ہی بڑھ جائیگا اور اور مطلوبہ نتیجے کا پتہ نہیں چلے گا ۔اور لازمی ہے کہ ایک قلم اور کا غذ پہ روزانہ کا درجہ حرارت لکھا جائے ۔
تھرما میٹر ڈیجیٹل ہو یا پارہ والا مگر پورے ماہ میں ایک ہی تھرما میٹر ہو ۔ مختلف تھرما میٹرز سے درجہ حرارت کا درست پتہ نہ چلنے کا امکان رہتا ہے۔
۔
درجہ حرارت ماپنے کا طریقہ یہ ہے ۔
صبح کے وقت رو زانہ ایک ہی وقت پہ بستر سے اٹھے بغیر سب سے پہلے تھرما میٹر سے خاتون اپنا درجہ حرارت چیک کرے اور اسے روز لکھتی جائے ۔یوں ایام کے بعد سے ایام کے آنے تک لکھتی جائے ۔، اور اس چارٹ میں جس دن جسم کا درجہ حرارت اعشاریہ دو درجہ یا اس سے زائڈ بڑھا ہوا ہو تو اس دن مباشرت کرنے پریگننسی کا امکان ہوتا ہے ۔ یو ں لگاتارتین ماہ کرنے سے سے ایک خاتون کو پریگننسی کے لئیے اپنے بیضہ کے خارج ہونے کا اندازہ ہو جاتا ہے یہ طریقہ کار نہائت مفید جانا جاتا ہے ۔ اور ان دنوں میں پریگننسی کے لئیے مباشرت مفید جانی جاتی ہے ؛۔
۔
اولیشن پریڈیکٹر کٹ۔
جن خواتین کے ایام ریگولر نہیں۔ یعنی ان کے دن مقرر نہیں ان کے لئیے یوروپ اور امریکہ میں عام طور پہ ”اولیشن پریڈیکٹر کٹ “ نامی میڈیکل اسٹورز پہ دستیاب ہے ۔ یہ ایک ایک ٹیسٹ ہے جو خواتین ایام کے ختم ہونے کع بعد گیارویں دن سے گھر پہ کر سکتی ہیں ۔ اگر وہ پازٹو ہو تو اسکا مطلب یہ بنتا ہے کہ اگلے 24 چوبیس سے 36 چھتیس گھنٹے تک انکے بیضہ کے اخراج ہونے کا امکان ہے.

18/09/2019

ایک عورت جس کا خاوند اُس سے بہت پیار کرتا تھا
اس عورت سے اُس کی خوشیوں بھری زندگی کا راز پوچھا گیا کہ تو
اُس نے جواب دیا:
جس وقت میرا خاوند غصے میں آتا اور بلا شبہ میرا خاوند بہت ہی غصیلا آدمی تھا، میں اُن لمحات میں (نہایت ہی احترام کیساتھ) مکمل خاموشی اختیار کر لیا کرتی تھی۔ احترام کےساتھ خاموشی یعنی آنکھوں سے حقارت اور طنزیہ پن نہ جھلکے۔ آدمی بہت عقلمند ہوتا ہے ایسی صورتحال کو بھانپ لیتا ہے۔

⭕ تو آپ ایسے میں کمرے سے باہر کیوں نہیں چلی جایا کرتی تھیں؟
اُس نے کہا: خبردار ایسی حرکت مت کرنا، اس سے تو ایسا لگے گا، تم اُس سے فرار چاہتی ہو اور اُسکا نقطہ نظر نہیں جاننا چاہتی. خاموشی تو ضروری ہے ہی، اس کے ساتھ ساتھ خاوند جو کچھ کہے اُسے ناصرف سُننا بلکہ اُس سے اتفاق کرنا بھی اُتنا ہی اشد ضروری ہے۔
میرا خاوند جب اپنی باتیں پوری کر لیتا تو میں کمرے سے باہر چلی جاتی تھی، کیونکہ اس سارے شور، شرابے کے بعد میں سمجھتی تھی کہ اُسے آرام کی ضرورت ہے۔
میں اپنے روزمرہ کے گھریلو کاموں میں لگ جاتی، اور اپنے دماغ کو اُس جنگ سے دور رکھنے کی کوشش کرتی

⭕ تو آپ اس ماحول میں کیا کرتی تھیں؟ کئی دنوں کیلئے لا تعلقی اور بول چال چھوڑ دینا وغیرہ؟

اُس نے کہا:
ہرگز نہیں، بول چال چھوڑ دینے کی عادت انتہائی گھٹیا اور خاوند سے تعلقات کو بگاڑنے کیلئے دورُخی تلوار کی مانند ہے۔ اگر تم خاوند سے بولنا چھوڑ دیتی ہو تو ہو سکتا ہے شروع میں اُس کیلئے یہ تکلیف دہ ہو۔ شروع میں وہ تم سے بولنے کی کوشش بھی کریگا۔ لیکن جس طرح دن گزرتے جائیں گے وہ اِس کا عادی ہوتا چلا جائے گا۔ تم ایک ہفتہ کیلئے بولنا چھوڑو گی تو اُس میں تم سے دو ہفتوں تک نہ بولنے کی استعداد پیدا ہو جائے گی اور ہو سکتا ہے کہ وہ تمہارے بغیر بھی رہنا سیکھ لے۔
خاوند کو ایسی عادت ڈال دو کہ تمہارے بغیر اپنا دم بھی گھٹتا ہوا محسوس کرے گویا تم اُس کیلئے ہوا کی مانند ہو. گویا تم وہ پانی ہو جس کو پی کر وہ زندہ رہ رہا ہو۔ باد صبا بنو باد صرصر نہیں..

⭕ اُس کے بعد آپ کیا کرتی تھیں؟
اُس عورت نے کہا:
میں دو یا دو سے کچھ زیادہ گھنٹوں کے بعد جوس یا پھر گرم چائے لے کر اُس کے پاس جاتی، اور اُسے نہایت سلیقے سے کہتی، لیجیئے چائے پیجیئے۔ مجھے یقین ہوتا تھا کہ وہ اس لمحے اس چائے یا جوس کا متمنی ہو گا. میرا یہ عمل اور اپنے خاوند کے ساتھ گفتگو اسطرح ہوتی تھی کہ گویا ہمارے درمیان کوئی غصے یا لڑائی والی بات سرے سے ہوئی ہی نہیں۔ جبکہ اب میرا خاوند ہی مجھ سے اصرار کر کے بار بار پوچھ رہا ہوتا تھا کہ کیا میں اُس سے ناراض تو نہیں ہوں۔ میرا ہر بار اُسے یہی جواب ہوتا تھا کہ نہیں میں تو ہرگز ناراض نہیں ہوں۔
اسکے بعد وہ ہمیشہ اپنے درشت رویے کی معذرت کرتا اور مجھ سے گھنٹوں پیار بھری باتیں کرتا تھا۔

⭕ تو کیا آپ اُس کی ان پیار بھری باتوں پر یقین کر لیتی تھیں؟
ہاں، بالکل. میں جاہل نہیں ہوں۔ کہ میں اپنے خاوند کی اُن باتوں پر تو یقین کر لوں جو وہ مجھے غصے میں کہہ ڈالتا ہے اور اُن باتوں کا یقین نہ کروں جو وہ مجھے محبت اور پرسکون حالت میں کہتا ہے.......

14/09/2019



محبت ایک فلسفہ ہے جسے کوئی حل نہیں کر پایا.... ایشیائی ممالک میں پھیلی محبت کی داستانیں اٹھا کے دیکھ لیں لیلی کو مجنوں شیریں کو فرات انار کلی کو سلیم
کبھی نہیں ملا....
اس سے لوگوں نے یہ سبق اخذ کرلیا کہ سچی محبت انسان کو کبھی نہیں ملتی.... تو کیا جھوٹی محبت مل جاتی ہے....؟؟
اسی طرح کچھ عاقل بالغ شاعرانہ مزاج کے لوگ کہتے ہیں کہ سچی محبت بس ایک بار ہی ہوتی ہے جو بار بار محبت ہو وہ محبت نہیں ہوس کا دوسرا نام ہے....
میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی اگر سچی محبت ایک سے ہو تو پھر چار شادیوں کی اجازت کیوں....؟
اگر سچی محبت کا انجام جدائی ہے تو اسے جھوٹی محبت کا رنگ کیوں نہیں دیا جاسکتا...............!!!!!!!
کافی سوچ و بچار کے بعد یہی دماغ نے جواب دیا کہ ایک ہی وقت میں کسی ایک کو چاہنا محبت کی اخلاصیت کی نشانی ہے... ہاں بیک وقت دو دو عارضوں میں مبتلا ہونا دل کے کالے ہونے پر دال ہے....
یعنی کے جب آپ بالغ ہوتے سمے کسی ایک کو چاہنے لگ جائیں تو پھر اسی کی صورت و سیرت کو مختلف چہروں
میں پاکر آپ محبت کے مرض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں.... جو وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ بدل جاتی ہے....
کسی ایک کی ذات میں خود کو فنا کردینا یہ محبت نہیں جنونیت یا نفسیاتی عارضہ کہلاتا ہے....
تو لیلی مجنوں اور جتنی بھی عشق کی داستانیں ہیں ان سے اپنی آنے والی نسل کو بچائیے.... اور ہندوؤں کے مذہب کی پیروی کرتے اور انکے رسم و روایات کے اپناتے ہمارے معاشرے کو سمجھائیے کہ جب چار چار شادی کی اجازت اسلام دیتا ہے تو محبت بس ایک سے ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا....
اس خیال یار کی غلط راہوں سے نکلیں....
مرد جب کسی عورت کو چاہتا ہے تو اس عورت کو اس مرد کی محبت اپنی جاگیر سمجھنے کا کوئی حق نہیں بنتا....
کہ جذبات میں آکر یہ کہہ دے کہ میں آپکو بانٹ نہیں سکتی.... یا آپ دوسری شادی کر کے تو دکھائیں میں زہر کھا لونگی.... سمجھدار عورت کبھی ایسا نہیں کرتی...
کسی سیانے کا قول ہیکہ "عقل مند شخص پر ایک عورت کا قبضہ ہونا سراسر ناانصافی ہے"
اس معاشرے میں پھیلتی بے حیائی اور زنا کو روکئیے اور حسب استطاعت نکاح کیجئے دو یا تین یا چار.....
اور جو عورت آپکو کسی کے ساتھ بانٹے سے روکے تو سمجھ جائیں اس عورت کو آپ سے زیادہ خود کی زات سے محبت ہے.... اور جو عورت یہ حیلہ کرے کہ تمہیں اسلام کے سارے حکموں میں صرف چار شادیوں کا حکم یاد ہے تو اسے ہنس کے جواب دیں کہ کمزور سا مسلماں ہوں اپنے مقصد کی ساری باتوں کو اسلام کی رو سے پورا کرنا ہے نہ کہ حرام کے راستے پر چلوں.....موضوع طویل ہے اتنے پر اختصار کیجئے

والسلام : #طیزی

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Nazim Abad
Karachi
7572