ھواؤں کے دوش پر، hawaon ke dosh par

ھواؤں کے دوش پر، hawaon ke dosh par

Share

کچھ منزلوں تک قدم نہیں صرف دل پہنچتے ہیں

01/06/2024

چھوڑ جانے پہ پرندوں کے مذمت کی ہو.
تم نے دیکھا ہے کبھی پیڑ نے ہجرت کی ہو.

جھولتی شاخ سے چپ چاپ جدا ہونے پر،
زرد پتوں نے ہواؤں سے شکایت کی ہو.

اب تو اتنا بھی نہیں یاد کہ کب آخری بار،
دل نے کچھ ٹُوٹ کے چاہا کوئی حسرت کی ہو.

عمر چھوٹی سی مگر شکل پہ جُھریاں اتنی،
عین ممکن ہے کبھی ہم نے محبت کی ہو.

ایسا ہمدرد تِرے بعد کہاں تھا، جس نے،
لغزشوں پر بھی مِری کُھل کے حمایت کی ہو.

دل شکستہ ہے، کوئی ایسا ہنر مند بتا،
جس نے ٹوٹے ہوئے شیشوں کی مرمت کی ہو.

شب کے دامن میں وہی نور بھریں گے احمد،
جن چراغوں نے اندھیرے سے بغاوت کی ہو.

احمد خلیل

01/01/2024

شاعر ندیم راجہ کی شاعری سے منتخب اشعار

مجھ سے یہ اک گلاب بھی لے جائے لازمی
کوئی اگر خدا کی طرف جا رہا ہے یار

تمہارے گاؤں کی مٹی لگی تھی جوتوں کو
ہمارے گاؤں کے رستے خوشی سے پاگل ہیں

اس نے کہا کہ ساتھ مرے کون جائے گا؟
چیزیں ادھر ہوئیں اپنے مقام سے

صرف پہلی اڑان مشکل ہے
پھر کہاں اسمان مشکل ہے

بھلا ہو تیرا کہ تو نے ہوا میں رکھا ہے
وگرنا ہم تو کسی طاقچے میں جلتے تھے

حیات میں ہمیں رستہ دیا نہ لوگوں نے
ہمارے نام کی سڑکیں ہمارے بعد بنیں

جو مِرے ساتھ ہیں ان کو میں خوب جانتا ہوں
بجھیں چراغ تو ان میں سے ایک بھی نہ رہے

میں تو ان کو ولی سمجھتا ہوں
جتنے کھمبے ہیں روشنی والے

جب ترے ہاتھ میں رہتے ہونگے
پھول اوقات میں رہتے ہونگے

کوئی چھاؤں میں جا کے بیٹھ گیا
دھوپ کے ساتھ کیا بنی ہوگی

ہنستا ہوں اس لیے کہ کوئی غم نہیں مجھے
روتا ہوں اس لیے کہ ترا غم نہیں رہا

اداس شکل کو رکھوں میں مسکراتا ہوا
پھٹے لباس کو بہتر کروں کلف سے میں

وہ مجھ سے ہو کر خدا کے رستے پہ جا رہا تھا
اسے پتہ تھا کڑی سے کیسے کڑی ملے گی

تم ابھی سانپ کو تو رہنے دو
آؤ ، اک آدمی دکھاتا ہوں

وہ نیکی سامنے آئے گی اک دن
جسے دریا میں پھینکے جا رہے ہیں

تم یقینا" وہیں پہ رہتے ہو
پھول خوشبو جہاں سے لآتے ہیں

ماں کی آنکھیں خراب رہنے لگیں
مجھ کو دھندلا دکھائی دینے لگا

طور پر جانے کی طاقت سے ابھی عاری ہوں میں
مجھ سے کرنی بات ہے تو آ مِرے اندر کہیں

میں جب بھی آلِ محمد پہ شعر کہتا ہوں
خدا سے داد مرا دل وصول کرتا ہے

31/08/2023
11/12/2022

میرے ساتھ تم بھی دعا کرو یوں کسی کے حق میں برا نہ ہو
کہیں اور ہو نہ یہ حادثہ، کوئ راستے میں جدا نہ ہو

سرِ شام ٹھہری ہوئ زمیں جہاں آسماں ہے جھکا ہوا
اسی موڑ پر مرے واسطے وە چراغ لے کے کھڑا نہ ہو

مری چھت سے رات کی سیج تک کوئ آنسووٴں کی لکیر ہے
ذرا بڑھ کے چاند سے پوچھنا وە اسی طرف سے گیا نہ ہو

مجھے یوں لگا کہ خموش خوشبو کے ہونٹ تتلی نے چھو لۓ
انہیں زرد پتوں کی اوٹ میں کوئ پھول سویا ہوا نہ ہو

اسی احتیاط میں وە رہا اسی احتیاط میں میں رہا
وە کہاں کہاں مرے ساتھ ہے کسی اور کو یہ پتہ نہ ہو

وە فرشتے آپ تلاش کریں کہانیوں کی کتاب میں
جو برا کہیں نہ برا سنیں ، کوئ شخص ان سے خفا نہ ہو

وە فراق ہو کہ وصال ہو ، تری آگ مہکے گی ایک دن
وە گلاب بن کے کھلے گا جو چراغ بن کے جلا نہ ہو

بشیر بدر

14/11/2022

تنہائی ایک تحفہ ہے۔ اس کے علاؤہ ہر ایک شے تمھارے صبر کا امتحان ہے۔
~ چارلس بکوسکی

ہمارے سب سے عظیم تجربات، ہمارے خاموش ترین
لمحات ہیں۔
~ نطشے

خاموشی خدا کی زبان ہے۔ علاؤہ ازیں سب ناقص تراجم ہیں۔ ~
رومی❣️🖤

14/11/2022

اک شخص کے ہاتھ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی
روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا

میں رب سے رابطے میں رہتا ممکن ہے کہ اس سے رابطہ ہو
مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کے وہ فون اٹھاتا تھا

تہذیب حافی

26/10/2022

تہذیب حافی کی نظم ملاحظہ کیجیئے۔۔💐♥️

تُو کسی اور ہی دنیا میں ملی تھی مجھ سے
تُو کسی اور ہی منظر کا مہک لائی تھی
ڈر رہا تھا کہ کہیں زخم نہ بھر جائے میرے
اور تُو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی
اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تیرے چہرے پر
تُو کسی اور ستارے سے چمک لائی تھی
تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مونسِ جاں
کیا کروں میں کہ تُو بولی ہی بہت کم مجھ سے
تیری چپ سے ہی یہ محسوس کیا تھا میں نے
جیت جائے گا کسی روز تیرا غم مجھ سے
شہر آوازیں لگاتا تھا مگر تُو چپ تھی
یہ تعلق مجھے کھاتا تھا مگر تُو چپ تھی
وہی انجام تھا جو عشق کا آ غاز سے ہے
تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا
چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے
یہی ہوتا ہے یہی ہو گا یہی ہونا تھا

پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے
اور میری آنکھ میں آنسو بھی نہیں ہوتے تھے
میں نے اندازے لگائے کہ سبب کیا ہوگا
پر میرے تیر ترازو ہی نہیں ہوتے تھے

جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے
پھر وہ خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا میں
جس کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل میں
میری قسمت میں ہی جب خالی جگہ لکھی تھی
تجھ سے شکوہ بھی اگر کرتا تو کیسے کرتا
میں وہ سبزہ تھا جسے روندھ دیا جاتا ہے
میں وہ جنگل تھا جسے کاٹ دیا جاتا ہے
میں وہ در تھا جسے دستک کی کمی کھاتی ہے
میں وہ منزل تھا جہاں ٹوٹی سڑک جاتی ہے
میں وہ گھر تھا جسے آباد نہیں کرتا کوئی
میں تو وہ تھا کہ جسے یاد نہیں کرتا کوئی

خیر اس بات کو تُو چھوڑ بتا کیسی ہے؟
تُو نے چاہا تھا جسے وہ تیرے نزدیک تو ہے
کون سے غم نے تجھے چاٹ لیا اندر سے
آج کل پھر سے تُو چُپ رہتی ہے سب ٹھیک تو ہے؟

تہذیب حافی

20/10/2022

جن دنوں غم سے مر رہا تھا میں
میری صورت پہ مر رہے تھے لوگ

یونس تحسین

19/10/2022

بکھرے ہوئے وجود کو یکجا کروں گا میں!
ممکن نہیں ہے ایسا پر ایسا کروں گا میں!!

تُجھ سے ہی منسلک ہے یہ بینائی اور حیات!
جانے تِرے بغیر یہاں کیا کروں گا میں!!

کتنی اداس شام ہے شامِ وصال بھی!
ایسی ہر ایک شام کو روکا کروں گا میں!!

سب کیلیے نہیں ہے ہمیشہ کی زندگی!
لیکن تُجھے ہمیشہ ہی سوچا کروں گا میں!!

وہ جِس جگہ درخت تَلے بیٹھتے تھے ہم!
تیرے بغیر بھی وہیں بیٹھا کروں گا میں!!

آنکھیں اسیرِ ضبط تھیں آزاد ہو گئیں!
ہنس ہنس کے اب تو روز ہی رویا کروں گا میں!!

اِس بار بخش دیجیے مجرم کی غلطیاں!
آئندہ آپ جو کہیں ویسا کروں گا میں!!

دیوارِ گریہ کم پڑے گی بین کے لیے!
ایسے تِرے فراق میں چیخا کروں گا میں!!

وہ کیفیت بھی جانے خُدا کِس طرح کی ہو!
جب چند پل کو ہی سہی سویا کروں گا میں!!

راتوں میں آسمان پہ تاروں میں چاند میں!
چہرہ تُمہارا روز ہی ڈھونڈا کروں گا میں!!

شوزب حکیم

12/09/2022

سلام دوستوں

آج سے ٹھیک سو سال پہلے 1922 میں ایک برطانوی رائٹر نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ دوبارہ جب کیلنڈر پر 22 کا ہندسہ آئےگا تو یقیناً نہ اپ ہونگے نہ میں ہوں گا"
پھر مزید لکھا کاش عمر اتنا لحاظ رکھ لے کہ میں دوبارہ یہ ہندسہ دیکھ سکوں۔
ان لوگوں کو دیکھ سکوں جو 2022 میں ہونگے اس زمانے کو دیکھ سکوں
جو 2022 میں ہوگا مگر میں جانتا ہوں یہ ممکن نہیں ہے تب ہماری خبریں گمنام ہو چکی ہوں گی "
ساحر لدھیانوی جب بستر مرگ پر تھے، تو بند آنکھوں اپنے ڈاکٹر سے کہا "ڈاکٹر کپور میں جینا چاہتا ہوں"
زندگی نے بیشک غم دیے ہیں مگر دنیا خوبصورت جگہ ہے"
یہاں یاروں کی محفلیں ہیں" یہاں زندگی کا شور ہے" میں جینا چاہتا ہوں ڈاکٹر کپور"
22 کا ہندسہ جب سو سال بعد 2122 میں دوبارہ آئیگا " تو دوستوں یقیناً ہم میں سے کوئی بھی نہیں ہوگا"
ہماری قبریں قبرستانوں کے گنجان حصوں میں گم ہوچکی ہونگی، کچھ دھنسی ہوئی، کچھ اٹی ہوئی، دبی ہوئی۔
"لہٰذا کوشش کریں کہ یہ مختصر سا قیام خوشگوار گزر جائے"
کوئی روح کوئی جسم، ایسا نہ ہو جو زخم ساتھ لے کر جائے"
اور ان زخموں کا الزام ہمارے سر ہو"
سیاست کا میدان ہو یا خونی رشتوں کی کہانی، جہاں دیکھو وہیں نفرتوں، عداوتوں، عدم برداشت اور ایک دوسرے کی ناقدری کا جذبہ شدت سے زور پکڑتا نظر آتا ہے۔
احساس، محبت، چاہت اور خلوص سے عاری کھوکھلے رویے ہمیں نہ صرف خود سے بلکہ زندگی سے بھی دور کرتے جارہے ہیں۔
بقول شاعر:
*دھجیاں اڑنے لگیں انسانیت کی چارسو*
*دل درندہ ہوگیا انسان پتھریلے ہوئے*

24/08/2022

‏کاسئہ حرص کو دنیا بھی نہیں بھر سکتی
دل بسانا ہو تو اک شخص بڑا ہوتا ہے

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Hawaon Ke Dosh Par
Karachi
021