27/01/2025
فساد کے پھیلاؤ کا انجام
کہانی میں ایک لومڑی پر پتھر گرا اور اس کا دم کٹ گیا۔
دوسری لومڑی نے اس سے پوچھا:
"تم نے اپنا دم کیوں کٹوا دیا؟"
پہلی لومڑی نے جھوٹ بولا اور کہا:
"مجھے لگتا ہے جیسے میں ہوا میں اڑ رہی ہوں، یہ بہت مزے کی بات ہے!"
یہ سن کر دوسری لومڑی نے بھی اپنے دم کو کٹوا دیا، لیکن جب اسے شدید تکلیف ہوئی اور کوئی مزہ محسوس نہ ہوا، تو اس نے پہلی لومڑی سے پوچھا:
"تم نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟"
پہلی لومڑی نے کہا:
"اگر میں نے تمہیں سچ بتا دیا تو باقی لومڑیاں اپنے دم نہیں کٹوائیں گی اور وہ ہم پر ہنسیں گی۔"
پھر وہ دونوں ہر لومڑی کو اپنے دم کٹوانے کے فائدے بتانے لگیں، یہاں تک کہ زیادہ تر لومڑیاں دم کے بغیر ہو گئیں۔
اب جب وہ کسی لومڑی کو دم کے ساتھ دیکھتے، تو اس کا مذاق اڑاتے!
کہانی کا سبق:
جب معاشرے میں فساد عام ہو جاتا ہے، تو نیک لوگوں کو ان کی نیکی پر طعنے دیے جاتے ہیں۔
برے لوگ ان کی بہتری کو مذاق اور طنز کا نشانہ بناتے ہیں۔
قرآن بھی ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے، جیسا کہ قوم لوط نے کہا:
"اِن کو اپنی بستی سے نکال دو، یہ تو بہت پاکیزہ بنتے ہیں!" (سورہ الاعراف: 82)
حقیقت:
جب بدی غالب آ جائے، تو اچھائی پر طنز اور نیکی کو عیب سمجھا جانے لگتا ہے۔
ہمیں حق پر ثابت قدم رہنا چاہیے، چاہے دنیا کتنی ہی طنز کرے یا مخالفت کرے۔
31/12/2024
"ظالم نظام اپنے شہریوں کو غربت میں مبتلا کیے رکھتا ہے تاکہ لوگ ہر وقت اپنی روزی روٹی کی فکر اور تلاش میں ہی مصروف رہیں اور پھر ان کے پاس اتنا وقت ہی نہ بچے کہ وہ اس ظالم نظام کے خلاف بغاوت کرنے کے بارے میں سوچ سکیں۔"
یونانی فلسفی
ارسطو
28/04/2024
اگر کسی کا دعوی ہے کہ وہ دین پہ چل رہا ہے
تو اِس کے معنی ہیں اس نے سارے زمانے سے
جنگ چھیڑ لی ہے ، لیکن اگر ایسا نہیں ہے
تو پِھر اس کا دعوی غلط ہے ،
یا تو اس نے دین کو صحیح طریقے سے سمجھا نہیں
یا اگر سمجھا ہے تو پِھر اس نے اس کو
ایسی شکل میں تبدیل کر دیا ہے جس سے کسی بھی
ٹکراؤ کا اندیشہ نہ رہے ،
یہ ہی کافروں کا مطالبہ تھا
رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم سے
کہ کچھ ہماری مان لیں ، کچھ ہم آپ کی مان لیتے ہیں ،
رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا
اگر تم میرے ایک ہاتھ پہ سورج رکھ دو
اور دوسرے پہ چاند تب بھی میں ایسا نہیں کر سکتا !
28/04/2024
گاندھی جی مولانا سید محمد علی ؒ مونگیری کی خدمت میں آئے تو گاندھی جی نے کہا کہ :
” مولانامیں نے حضور ﷺ کی سیرت کا مطالعہ کیا ہے اور محمد ﷺ کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوا ہوں،آپ دنیا کے عظیم ترین انسان تھے ،اس کے علاوہ قرآن کریم کا مطالعہ بھی میں نے کیا ہے یہ عظیم کتاب ہے اور اس نے میرے دل ودماغ پر گہرا اثر کیا ہے “
حضرت مونگیری علیہ الرحمہ اُن کی باتوں کو خاموشی سے سنتے رہے اور جب گاندھی جی اپنی بات کہہ چکے تو حضرت نے پوچھا : ” مجھے تو آپ اسلام کی وہ بات بتائیے جو آپ کو پسند نہیں آئی اور آنحضرت ﷺ کی سیرت کے اُس کمزور پہلو سے آگاہ کیجئے جسے آپ نے اچھا نہیں سمجھا “ گاندھی جی اس سوال کے لئے تیارنہ تھے ،کچھ چونکے اور فوراً بولے : ایسا تو کوئی پہلو میری نظر میں نہیں آیا ،اُس پر حضرت مونگیری ؒ نے بڑا جرئت مندانہ سوال کیا کہ : تو پھر آپ نے ابھی تک اسلا م قبول نہیں کیا ؟گاندھی جی کے پاس کوئی جواب نہ تھا مولانا خفا ہو گئے اور فرمایا کہ آپ نے جو کچھ کہا غلط ہے ،آپ ہمیں صرف پھانسنا چاہتے ہیں،صیاد بھی پرندوں کو پکڑنے کے لئے اُنہی کی بولیاں بولا کرتا ہے“۔(مہر منیر ،ص:272 بحوالہ دیار مرشد میں چند دن،ص: 42/43)
اے امت مسلمہ آج آپ کے پاس بھی جب کفر نافذ کرنے والے حکمران ریاست مدینہ اور خلفائے راشدین کی تعریفوں کے پل باندھیں تو ان سے پوچھیں کہ ریاست مدینہ اور خلفائے راشدین کے دور کا وہ کون سا پہلو ہے جن سے انہیں مسلہ ہے اور اگر کسی بات سے مسلہ نہیں تو اسلام کا نفاذ ویسے کیوں نہیں کرتے جیسے محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم اور ان کے بعد ابوبکر و عمر و عثمان و علی رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کر کے دکھایا ؟ اور کیوں وہ اللہ کو اپنا معبود مان کر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا اصل رہنما ماننے کا اقرار کرنے کے باوجود بھی سود نافذ کر کے ان سے برسرِ پیکار ہیں ؟ کیوں وہ بے حیائ پھیلانے والی رقاصاؤں کی پذیرائی سرکاری سطح پہ کرتے ہیں ؟ کیوں ان کے حلقہ احباب میں واضح اسلام دشمنی رکھنے والے لوگ موجود ہیں ؟ کیوں انہوں نے اللہ کے مطلق قانون ساز ہونے کے بعد بشر ہوتے ہوئے بھی قانون ساز بننے کی جرأت کی ؟
اور یہ آپ کے سوالات کا ہرگز کوئ تسلی بخش جواب نہیں دے سکتے کیونکہ یہ لاعلم نہیں اس سے جو یہ کرتے ہیں اور ان کے اسلام سے متعلق کلمات کی رسمی ادائیگی محض اپنی پذیرائی بڑھانے کی چال ہوتی ہے۔
04/03/2024
57 اسلامی ممالک ایک چھوٹی سی اسراٸیل کے سامنے بےبس مدد تو دور کی بات آواز بھی نہیں اٹھا سکتے
افسوس 💔
04/03/2024
جو بھی اس زمین پر اللّٰه کے قانون کے سوا اپنا قانون چلوائے گا وہ اللّٰه تعالیٰ کا باغی ھے۔
04/03/2024
{ایک مکمل غیر سیاسی پوسٹ}
پاکستان کی اسمبلیوں میں اکثریت تو گدھوں کی ہے...
پھر انکی خریدوفروخت کو ہارس ٹریڈنگ کیوں کہا جاتا ہے...
ڈنکی ٹریڈنگ کیوں نہیں..؟🤔🤔🤔
03/03/2024
امام مالکؒ، امام حنبلؒ،امام شافعیؒ اور امام ابو حنیفہؒ کسی نے بھی یہ خواہش ہی نہیں کی ہوگی کہ اسلامی ریاست خلافت کا قیام کیا جاۓ۔۔۔۔۔کیونکہ اس وقت خلافت موجود تھی۔ اج یہ خواہش اور یہ جدوجہد صرف ہمارے نصیب میں آٸی ہے۔ شکر کریں اور دعوت میں مصروف ہوجاٸیں۔
02/03/2024
تاریخی لطیفہ یہ کہ جمہوری مذہبی پارٹیاں سمجھتی ہیں
کہ ہم نفاذ دین کی عملی کوشش کررہے ہیں
0