Sindh Government

Call Directions Website Contact the organization

Sindh Government This is an official page of Government of Sindh for sharing news and activities of SindhGovt
(3)

09/10/2026

*چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیرِ صدارت برنس روڈ کے متعلق اجلاس*

برنس روڈ کی تاریخی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اسے خوبصورت اسٹریٹ بنایا جائے گا، چیف سیکریٹری سندھ

معروف ماہرِ تعمیرات یاسمین لاری نے برنس روڈ کی بحالی اور ترقی کا مجوزہ ماڈل پیش کیا

برنس روڈ کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت برقرار رکھتے ہوئے عوامی سہولیات بہتر بنائی جائیں گی، آصف حیدر شاہ

برنس روڈ کو منظم اور پیدل چلنے والوں کے لیے سازگار بنانے پر غور، چیف سیکریٹری سندھ

کراچی کی تاریخی اسٹریٹ کی روایتی شناخت اور ثقافتی ورثے کو برقرار رکھا جائے گا، آصف حیدر شاہ

برنس روڈ کی بحالی سے شہریوں اور کاروباری افراد کو بہتر ماحول فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ آصف حیدر شاہ

برنس روڈ کو پیدل دوست بنانے سے شہریوں کی آمدورفت اور فوڈ اسٹریٹ کا ماحول بہتر ہوگا، چیف سیکریٹری سندھ

میئر کراچی اور متعلقہ میونسپل ٹاؤن انتظامیہ برنس روڈ کے مجوزہ منصوبے سے مکمل متفق ہیں، آصف حیدر شاہ

برنس روڈ کی بحالی کے منصوبے پر مقامی رہائشیوں اور کاروباری برادری کو بھی اعتماد میں لیا گیا ہے، چیف سیکریٹری سندھ

برنس روڈ کی خوبصورتی کے ساتھ اس کی تاریخی حیثیت اور روایتی ماحول بھی برقرار رکھا جائے گا۔ آصف حیدر شاہ

09/10/2026

وزیر داخلہ و قانون سندھ ضیاء الحسن لنجار نے محکمہ قانون کے نئے سرکاری ویب پورٹل کا افتتاح کردیا

افتتاحی تقریب سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوئی

نیا ویب پورٹل محکمہ قانون نے اندرونِ محکمہ تیار کیا ہے، سیکرٹری قانون سعید شیخ

پورٹل پر 1937 سے اب تک سندھ کے قوانین اور گزٹ اشاعتیں آن لائن دستیاب ہوں گی۔ سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور

پورٹل میں جدید سرچ، مصنوعی ذہانت پر مبنی قانونی معاونت اور کیو آر کوڈ کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق کی سہولت شامل ۔ترجمان

ڈائریکٹر آئی ٹی نے وزیر قانون کو پورٹل کی خصوصیات اور ڈیجیٹل اقدامات پر مکمل بریفنگ دی

ٹیکنالوجی سے قانونی معلومات تک عوامی رسائی، شفافیت اور مؤثر فراہمی بہتر ہوگی، وزیر قانون
ضیا الحسن لنجار

سندھ حکومت سے متعلقہ کورٹ کیسس کی اپڈیٹ کو بھی پورٹل سے لنک کیا جاۓ۔ وزیر قانون و داخلہ سندھ

ایڈوکیٹ جنرل سندھ اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ کے آفیسز کو بھی پورٹل سے لنک کیا جائیگا۔ سیکرٹری قانون کی بریفنگ

تقریب میں سیکریٹری قانون ، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، سولیسٹر سندھ، ڈائریکٹر جنرل مانیٹرنگ، انسپیکشن اینڈ ایویلیوایشن، سینئر افسران اور کراچی بار ایسوسی ایشن، سندھ بار کونسل اور سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شرکت کی۔

09/10/2026

محکمہ آبپاشی سندھ اور ورلڈ بینک کے اشتراک سے دریائے سندھ کے رائٹ بینک کے سیلابی خطرات میں کمی اور تدارک کے اقدامات سے متعلق اہم ورکشاپ کا انعقاد۔

کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ کے تحت دریائے سندھ کے رائٹ بینک (Right Bank) کے سیلابی خطرات کے جائزے اور تدارک کے اقدامات سے متعلق تحقیقی رپورٹ کی Dissemination Workshop کا انعقاد کیا گیا۔

ورکشاپ میں وزیر آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو، سیکریٹری سہیل قریشی، انڈس واٹرز کے پاکستان کمشنر محمد مہر علی شاہ، چیئرمین فیڈرل فلڈ کمیشن اطہر حمید، ممبر ارسا شفقت حسین ودھو،ڈپٹی سیکریٹری فراز احمد صدیقی،چیف پلاننگ کمیشن اصغر علی حلیپوتو، ورلڈ بینک کے ماہرین و اعلیٰ عہدیداران، دیگر وفاقی و صوبائی افسران، سول سوسائٹی اور نجی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

ورکشاپ کے دوران دریائے سندھ کے رائٹ بینک کو درپیش سیلابی خطرات، ان کے تدارک کے لیے مجوزہ اقدامات اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

وزیر آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ سندھ میں سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی ردعمل سے آگے بڑھتے ہوئے سیلابی خطرات میں مستقل کمی اور صوبے کو زیادہ مضبوط اور لچکدار بنانے کی حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ (SFERP) کے تحت دریائے سندھ کے رائٹ بینک کے سیلابی خطرات کے جائزے اور تدارک کے اقدامات سے متعلق منعقدہ ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

جام خان شورو نے کہا کہ سندھ دریائے سندھ کا آخری زیریں حصہ ہے، اس لیے بالائی علاقوں میں ہونے والی تبدیلیوں اور بارشوں کے اثرات بالآخر سندھ تک پہنچتے ہیں۔ پانی سندھ کی زراعت، معیشت اور عوام کے روزگار کی بنیاد ہے، تاہم غیر منظم پانی صوبے کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب سندھ کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوئے، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں آبادی متاثر ہوئی، فصلوں کو نقصان پہنچا اور لوگوں کے روزگار میں خلل آیا۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ ورلڈ بینک کے تعاون سے سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ کے ذریعے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بحالی اور تعمیرِ نو کے اقدامات کیے گئے، تاہم 2022 کے تجربے نے واضح کر دیا کہ صرف تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی مرمت کافی نہیں، بلکہ مستقبل کے سیلابی خطرات کو پہلے ہی سے کم کرنا بھی ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ رائٹ بینک کے سیلابی خطرات سے متعلق موجودہ مطالعہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جس کے ذریعے پورے رائٹ بینک کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھتے ہوئے ایسے اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے جو سیلابی خطرات سے نمٹنے اور عوام کے تحفظ میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

جام خان شورو نے کہا کہ حکومت سندھ اعداد و شمار، تحقیق اور شواہد کی بنیاد پر پالیسی سازی اور ترقیاتی سرمایہ کاری کو فروغ دے رہی ہے۔ بطور وزیر آبپاشی اور منصوبہ بندی و ترقی ان کی کوشش ہے کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی ترجیحات کا تعین مستند ڈیٹا، جامع تجزیے اور شفاف طریقہ کار کی بنیاد پر کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مطالعاتی رپورٹ کے نتائج اور ورکشاپ میں ہونے والی مشاورت مستقبل کے مجوزہ سندھ فلڈز ریزیلینس پروجیکٹ (SFRP) کی تیاری میں معاون ثابت ہوگی۔ اس منصوبے میں حفاظتی انفراسٹرکچر کے ساتھ ساتھ ابتدائی وارننگ سسٹم، ہنگامی تیاری اور ادارہ جاتی استعداد میں بہتری پر بھی توجہ دی جائے گی۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ سیلابی خطرات صرف دریائے سندھ کے ایک کنارے تک محدود نہیں ہیں۔ لیفٹ بینک کو بھی اسی جامع مطالعے اور منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے گا، جہاں بالخصوص نکاسی آب کے اہم مسائل موجود ہیں۔ حکومت سندھ کا مقصد پورے صوبے کے لیے ایک مربوط اور جامع فلڈ ریزیلینس حکمتِ عملی تشکیل دینا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ موجودہ آبپاشی نظام میں ادارہ جاتی اصلاحات اور استعدادِ کار میں اضافے کے لیے بھی پرعزم ہے۔ مستقبل میں سندھ واٹر ریسورسز مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت پانی کے بہتر انتظام اور حکمرانی کی سمت میں اقدامات کیے جائیں گے۔

جام خان شورو نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، ورلڈ بینک اور دیگر ترقیاتی شراکت داروں کا تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے SFERP کے پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ، اور ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب سے مطالعاتی رپورٹ کی تیاری کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا۔

وزیر آبپاشی نے کہا کہ حکومت سندھ کا واضح مقصد قدرتی آفات کے بعد صرف ردعمل دینے کے بجائے سیلابی خطرات کو منظم انداز میں کم کرنا اور ایک مضبوط، محفوظ اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے قابل سندھ کی تعمیر ہے۔

ورکشاپ سے چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجم احمد شاہ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور ورلڈ بینک کے عہدیداران نے بھی خطاب کیا۔

سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور ورلڈ بینک کے ٹاسک ٹیم لیڈر و ڈیزاسٹر رسک مینجمینٹ اسپیشلسٹ بلال خالد نے اپنے خطاب میں پروجیکٹ امپلیمنٹیشن یونٹ بلخصوص شکیل احمداورزاہدحسین شیخ کی کاوشوں کو سراہا۔

اس موقع پر ماہرین نے اپنی رپورٹ کے چیدہ چیدہ نکات پر تفصیلی گفتگو کی اور رپورٹ کے اہم نتائج اور سفارشات سے شرکاء کو آگاہ کیا۔

ماہرین نے ورکشاپ کے شرکاء سے مطالعاتی رپورٹ پر اپنی تجاویز اور آرا پیش کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ماہرین اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی تنقیدی رائے مستقبل کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔

08/10/2026

دسویں سالانہ مائیکرو فنانس کانفرنس/سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ فیصل احمد عُقیلی نے سندھ حکومت کے اقدامات اور ترجیحات سے تفصیلی آگاہ کیا۔

کاربن فنانسنگ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا اہم ذریعہ ہے۔ سندھ حکومت نے کاربن کریڈٹ کے حصول کیلئے 13 منصوبے تیار کیے ہیں جو وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے متعلقہ نظام کے تحت آگے بڑھائے جارہے ہیں۔ کاربن کریڈٹس کے ذریعے ماحولیاتی منصوبوں کیلئے مالی وسائل پیدا کرنے کے ساتھ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ سیکریٹری محکمہ ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و ساحلی ترقی سندھ فیصل احمد عُقیلی نے پاکستان مائیکرو فنانس نیٹ ورک کے زیر اہتمام اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (UNIDO) کے اشتراک اور یورپی یونین کے تعاون سے منعقدہ دسویں سالانہ مائیکرو فنانس کانفرنس میں سندھ حکومت کے اقدامات اور ترجیحات سے تفصیلی آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ

موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ٹیکنالوجی کو مقامی لوگوں تک پہنچانا ضروری ہے۔ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے ذریعے ایئر کوالٹی اور واٹر کوالٹی کی مانیٹرنگ، ماحولیاتی آلودگی کی نگرانی اور ماحولیاتی قوانین پر عملدرآمد کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔ابتدائی وارننگ سسٹمز، ماحولیاتی معیار کی مسلسل نگرانی اور گراس روٹ سطح پر بروقت معلومات کی فراہمی سے موسمیاتی خطرات اور ان کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عُقیلی نے آگاہ کیا کہ فضائی آلودگی پر قابو پانا انسانی صحت بالخصوص سانس کے امراض سے تحفظ کیلئے انتہائی اہم ہے۔ اس مقصد کیلئے ماحولیاتی نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر اور جدید بنانا ہوگا۔ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے قابل اعتماد ڈیٹا کی تیاری بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔سندھ حکومت آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ ماحولیاتی اور موسمیاتی صحت سے متعلق ڈیٹا ڈویلپمنٹ، تحقیق اور معلومات کے تبادلے کیلئے تعاون کررہی ہے جس سے ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی میں مدد ملے گی۔

سیکریٹری فیصل احمد عُقیلی نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے زراعت اور دیہی معیشت کو محفوظ بنانے کیلئے ٹیکنالوجی، بروقت ڈیٹا، کلائمیٹ فنانس اور مقامی سطح پر ابتدائی وارننگ سسٹمز کو فروغ دینا ہوگا۔ ماحولیاتی تحفظ اور موسمیاتی لچک کیلئے حکومت، نجی شعبے، مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور مقامی کمیونٹیز کے درمیان مؤثر اشتراک ناگزیر ہے۔ سندھ میں کسانوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کیلئے مختلف پروگرامز جاری ہیں اور پبلک و پرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک سے زرعی شعبے میں جدید اور موسمیاتی لحاظ سے موزوں ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

کسانوں کو بروقت موسمی معلومات، پانی کی دستیابی اور ماحولیاتی خطرات سے متعلق ڈیٹا فراہم کرنا زرعی پیداوار اور دیہی معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ انہوں نے سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن (SRSO) کے مائیکرو فنانس پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دیہی علاقوں میں مالی سہولیات، بالخصوص خواتین کیلئے مائیکرو فنانس اور آمدنی پیدا کرنے کے مواقع معاشی بااختیاری میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

سیکریٹری ماحولیات فیصل احمد عُقیلی نے کہا کہ سندھ حکومت اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ خوراک (WFP) سمیت مختلف ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ بھی کام کررہی ہے جبکہ نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کے تحت ماحولیاتی اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ کراچی میں ٹی پی فور ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ منصوبہ بھی آبی آلودگی کے خاتمے، پانی کے بہتر استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے اہم اقدام ہے۔ موسمیاتی لچک، زرعی ترقی اور مالی شمولیت کو مربوط انداز میں آگے بڑھا کر ہی دیہی آبادی کو مستقبل کے موسمیاتی خطرات سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے ٹیکنالوجی، سائنسی ڈیٹا، ماحولیاتی نگرانی، کلائمیٹ فنانس اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کو بنیادی حیثیت دینا ہوگی۔

08/10/2026

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندگان کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت*

اجلاس میں اسپیشل اسسٹنٹ ٹو سی ایم سندھ قاسم نوید قمر، چیئرمین پی اینڈ نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن، چیف پروگرام مینجر ڈاکٹر جنید سموں، سینئر ڈائریکٹر پی پی پی نوڈ یاسین قربان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائیزیشنز (EMO)، نجی اسکولوں کی مینجمنٹ، این جی اوز، سندھ ایجوکیشن سے وابستہ آپریٹرز، نان فارمل ایجوکیشن کے نمائندگان موجود تھے۔

اجلاس میں سندھ کے سرکاری اسکولوں کے انتظام میں نجی شعبے کی شمولیت اور شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

سندھ میں 1,133 نئے اور اپ گریڈ شدہ سرکاری اسکولز ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہیں۔ اجلاس میں بریفنگ

1,133 اسکولوں میں SSEIP کے تحت 838 جبکہ SELECT کے تحت 295 اسکول شامل ہیں۔

ورلڈ بینک اور ایشین ڈولپمنٹ بینک کی معاونت سے تعمیر کردہ اسکول سندھ کے 19 اضلاع میں جدید اور مکمل سہولیات سے آراستہ کیمپسز پر مشتمل ہیں۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ تعلیمی نظام میں نجی شعبہ کی شمولیت کے مقاصد کے سلسلے میں ای ایم اوز کو آگاہ کیا۔

پبلک سینٹر سارا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، سوسائٹی کی شمولیت کے ہم چیزوں کو مزید بہتر کر سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر سید سردار شاہ

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اکیلے ہر چیلنج کا حل نہیں نکال سکتی، ہمیں ان لوگوں کو بھی ساتھ لانا ہوگا جو تعلیم کے شعبے میں اپنی مہارت اور تجربہ رکھتے ہیں۔ سید سردار علی شاہ

ای ایم اوز کو اسکولوں کے انتظام، تعلیمی نتائج اور طے شدہ کارکردگی کے اہداف کے حصول کی ذمہ داری دی جائے گی۔ وزیر تعلیم سندھ

نجی شعبہ کے لیے ہمارا مقصد واضع ہے، “سندھ کے دور دراز علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم دینا”۔ سید سردار علی شاہ

سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے تمام ماڈلز کے بہتر نتائج کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم سندھ

ہر اسکول کے لیے اوپن اور مسابقتی ریکویسٹ فار پروپوزل کے ذریعے شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ سید سردار علی شاہ

ای ایم او ماڈل میں اسکولوں کی کارکردگی کی آزاد ماہر اور آڈیٹر کے ذریعے تصدیق کا نظام شامل ہوگا۔ وزیر تعلیم سندھ

سندھ کے 1,133 اسکولوں کی مرحلہ وار حوالگی دسمبر 2026 سے دسمبر 2027 تک مکمل کی جائے گی۔

نئے اسکولوں میں کلاس رومز، فرنیچر، سائنس لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریری، آر او پلانٹ، سولر سسٹم اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات شامل ہیں۔

ای ایم او ماڈل میں اسکول کی سرگرمیوں سے زیادہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور حقیقی نتائج کو اہمیت دی جائے گی۔ وزیر تعلیم سندھ

وزیر تعلیم سندھ نے نجی شعبے کے تعاون کو سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار اور انتظامی کارکردگی میں بہتری کے لیے مؤثر بنانے پر زور دیا۔

08/10/2026

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے نمائندگان کے ساتھ اہم اجلاس کی صدارت

اجلاس میں اسپیشل اسسٹنٹ ٹو سی ایم سندھ قاسم نوید قمر، چیئرمین پی اینڈ نجم شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد عباسی، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ اسد ضامن، چیف پروگرام مینجر ڈاکٹر جنید سموں، سینئر ڈائریکٹر پی پی پی نوڈ یاسین قربان اور دیگر افسران نے شرکت کی۔

اس موقع پر ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائیزیشنز (EMO)، نجی اسکولوں کی مینجمنٹ، این جی اوز، سندھ ایجوکیشن سے وابستہ آپریٹرز، نان فارمل ایجوکیشن کے نمائندگان موجود تھے۔

اجلاس میں سندھ کے سرکاری اسکولوں کے انتظام میں نجی شعبے کی شمولیت اور شراکت داری کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔

سندھ میں 1,133 نئے اور اپ گریڈ شدہ سرکاری اسکولز ایجوکیشن مینجمنٹ آرگنائزیشنز کے ساتھ شراکت داری کے لیے تیار ہیں۔ اجلاس میں بریفنگ

1,133 اسکولوں میں SSEIP کے تحت 838 جبکہ SELECT کے تحت 295 اسکول شامل ہیں۔

ورلڈ بینک اور ایشین ڈولپمنٹ بینک کی معاونت سے تعمیر کردہ اسکول سندھ کے 19 اضلاع میں جدید اور مکمل سہولیات سے آراستہ کیمپسز پر مشتمل ہیں۔

وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ تعلیمی نظام میں نجی شعبہ کی شمولیت کے مقاصد کے سلسلے میں ای ایم اوز کو آگاہ کیا۔

پبلک سینٹر سارا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، سوسائٹی کی شمولیت کے ہم چیزوں کو مزید بہتر کر سکتے ہیں۔ صوبائی وزیر سید سردار شاہ

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اکیلے ہر چیلنج کا حل نہیں نکال سکتی، ہمیں ان لوگوں کو بھی ساتھ لانا ہوگا جو تعلیم کے شعبے میں اپنی مہارت اور تجربہ رکھتے ہیں۔ سید سردار علی شاہ

ای ایم اوز کو اسکولوں کے انتظام، تعلیمی نتائج اور طے شدہ کارکردگی کے اہداف کے حصول کی ذمہ داری دی جائے گی۔ وزیر تعلیم سندھ

نجی شعبہ کے لیے ہمارا مقصد واضع ہے، “سندھ کے دور دراز علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم دینا”۔ سید سردار علی شاہ

سندھ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلنے والے تمام ماڈلز کے بہتر نتائج کے ساتھ چلائے جا رہے ہیں۔ وزیر تعلیم سندھ

ہر اسکول کے لیے اوپن اور مسابقتی ریکویسٹ فار پروپوزل کے ذریعے شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ سید سردار علی شاہ

ای ایم او ماڈل میں اسکولوں کی کارکردگی کی آزاد ماہر اور آڈیٹر کے ذریعے تصدیق کا نظام شامل ہوگا۔ وزیر تعلیم سندھ

سندھ کے 1,133 اسکولوں کی مرحلہ وار حوالگی دسمبر 2026 سے دسمبر 2027 تک مکمل کی جائے گی۔

نئے اسکولوں میں کلاس رومز، فرنیچر، سائنس لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریری، آر او پلانٹ، سولر سسٹم اور چار دیواری جیسی بنیادی سہولیات شامل ہیں۔

ای ایم او ماڈل میں اسکول کی سرگرمیوں سے زیادہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور حقیقی نتائج کو اہمیت دی جائے گی۔ وزیر تعلیم سندھ

وزیر تعلیم سندھ نے نجی شعبے کے تعاون کو سرکاری اسکولوں کے تعلیمی معیار اور انتظامی کارکردگی میں بہتری کے لیے مؤثر بنانے پر زور دیا۔

08/10/2026

وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مدراس روڈ کا افتتاح کردیا، اس موقع پر ڈی جی کے ڈی اے زین العابدین انصاری بھی موجود تھے

کے ڈی اے انجینئرنگ ٹیم نے مدراس روڈ مقررہ مدت سے قبل مکمل کیا، سید ناصر حسین شاہ

مدراس روڈ کی تکمیل سے اسکیم 33 کے شہریوں کو بہتر اور محفوظ سفری سہولت میسر آئے گی، وزیر بلدیات

کراچی کی ترقی اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، سید ناصر حسین شاہ

چیئرمین بلاول بھٹو کے نمائندوں نے گلی کوچوں میں جو وعدے کئے وہ تیزی سے پورے کئے جارہے ہیں، میئر کراچی مرتضی وہاب

کراچی کی اسکیم ۳۳ میں دو ارب سے زائد کی ترقیاتی اسکیمیں علاقے کے لوگوں کے لئے تحفہ ہے، میئر کراچی مرتضی وہاب

مدراس روڈ منصوبے پر 342.390 ملین روپے کی لاگت آئی، مدراس روڈ 900 میٹر طویل ڈوئل کیریج وے پر مشتمل ہے، ڈی جی کے ڈی اے

مدراس روڈ منصوبے کے تحت 625 میٹر طویل اسٹورم واٹر لائن بھی تعمیر کی گئی

کراچی:24 انچ قطر کی اسٹورم واٹر لائن سے علاقے میں بارش کے پانی کی نکاسی بہتر ہوگی

08/10/2026

سندھ حکومت نے مالی سال 2027-2026 کے لئے سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے لیے 350 ملین ڈالر کی مالی معاونت کی تجویز ورلڈ بینک کو پیش کردی

صوبائی وزیر برائے آبپاشی، منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو کی زیر صدارت آرکائیوز کمپلیکس میں ورلڈ بینک کے اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیلابی خطرات سے نمٹنے، شہری علاقوں کو قدرتی آفات سے محفوظ بنانے اور سندھ کے بڑے شہروں کے علاوہ دیگر اہم شہروں کی ترقی و بحالی کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ورلڈ بینک کے وفد میں لیڈرابن اسپیشلسٹ سلیم روحانہ، ٹاسک ٹیم لیڈر و ڈیزاسٹر رسک مینجمینٹ اسپیشلسٹ بلال خالد، امپارو سیمپر ہیرالڈو شریک تھے، جبکہ محکموں کی جانب سے سیکریٹری آبپاشی، ظریف کھیڑو، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی بورڈ نجم احمد شاہ، پروجیکٹ ڈائریکٹر، ڈپٹی پروجیکٹ ڈائریکٹر سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پروجیکٹ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

اجلاس میں ورلڈ بینک کی جانب سے سال 2022 کے تباہ کن سیلاب سے سندھ میں ہونے والے نقصانات، جاری بحالی کے اقدامات اور مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے سبب قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مجوزہ حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2022 کے سیلاب سے سندھ میں 1.46 کروڑ افراد متاثر ہوئے، جبکہ 9.1 ارب ڈالر کے مالی و بنیادی ڈھانچے کے نقصانات ہوئے اور 17.1 لاکھ مکانات متاثر یا تباہ ہوئے۔ دریائے سندھ کے دائیں کنارے کے 7 اضلاع میں سالانہ بنیادوں پر 1.11 ارب ڈالر کے معاشی نقصانات اور تقریباً 22.3 لاکھ افراد کے متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ورلڈ بینک کے مالی تعاون سے جاری SFERP اور SFEHRP منصوبوں کے تحت اب تک 1.6 ارب ڈالر کی مالی معاونت متحرک کی جا چکی ہے۔ ان منصوبوں کے تحت 848 کلومیٹر سے زائد سڑکوں اور 205 کلومیٹر حفاظتی بندوں کی بحالی مکمل کی گئی، جبکہ 9 لاکھ سے زائد گھروں کی تعمیر و مرمت اور 14 اضلاع میں ریسکیو 1122 کے 26 جدید اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں مالی سال 2027-2026 کے لیے سندھ فلڈ ریزیلینس پروجیکٹ کے تحت 350 ملین امریکی ڈالر کی مالی معاونت کی تجویز بھی پیش کی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ منصوبے کے لیے CDWP سے پروجیکٹ کانسیپٹ کی کلیئرنس 30 اکتوبر 2026، جبکہ PC-I کی منظوری دسمبر 2026 تک متوقع ہے، جس کے بعد ورلڈ بینک کے بورڈ سے حتمی منظوری مارچ 2027 تک متوقع ہے۔

اجلاس میں مجوزہ منصوبے کے پِلر 1: بیسن لیول فلڈ ریزیلینس (Basin-Level Flood Resilience) پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ ان اقدامات کا مقصد سندھ کے دائیں کنارے (Right Bank) پر مستقبل میں آنے والے ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات کی نشاندہی عالمی شہرت یافتہ ادارے ایشین انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور اس کے ماہرین کے حالیہ تحقیقی جائزے کے نتیجے میں کی گئی ہے۔

اجلاس میں مجوزہ منصوبے کے پِلر 2: اربن ریزیلینس (Urban Resilience) پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد سندھ کے ثانوی شہروں کو سیلاب، شدید گرمی اور دیگر قدرتی و موسمی خطرات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مضبوط اور پائیدار بنانا ہے۔

مجوزہ منصوبے کے تحت شہری سرمایہ کاری کے لیے سیلابی خطرات، آبادی کی حساسیت، بنیادی شہری سہولیات کی کمی اور شہروں کی تیاری کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔ شہری ڈرینیج، سڑکوں، گلیوں، عوامی مقامات اور ماحول دوست گرین سلوشنز کے لیے علاقائی بنیادوں پر سرمایہ کاری بھی زیر غور ہے۔

صوبائی وزیر جام خان شورو نے کہا کہ حکومت سندھ کی ترجیح ہے کہ مستقبل کے سیلاب اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے نہ صرف دیہی علاقوں بلکہ شہری مراکز کے بنیادی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنایا جائے۔ پائیدار شہری منصوبہ بندی، مؤثر ڈرینیج سسٹم، بہتر شہری حکمرانی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال سندھ کو مستقبل کے قدرتی خطرات کے مقابلے میں زیادہ مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

07/10/2026

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا آٹے کی قیمتیں مستحکم کرنے اور گندم کی دستیابی سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس

اجلاس میں صوبائی وزراء؛ مکیش کمار چاولہ، جام خان شورو اور مخدوم محبوب الزمان، مشیر گیان چند اسرانی، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری ٹو سی ایم آصف جمیل، سیکریٹری خوراک غلام عباس نائچ اور دیگر شریک

سندھ حکومت کی جانب سے گندم کی اضافی فراہمی سے آٹے کی قیمتوں میں کمی لانے کی کوشش

وزیراعلیٰ سندھ کی 15 اکتوبر سے سرکاری گندم جاری کرنے کی منظوری

سرکاری گندم 12 ہزار 500 روپے فی 100 کلو گرام بوری کے حساب سے جاری ہوگی

گندم کے اجرا کا مقصد آٹے کی قیمتیں مستحکم کرنا اور صارفین کو ریلیف دینا ہے، وزیراعلیٰ سندھ

گندم اجرا کے بعد مارکیٹ کے رجحانات پر کڑی نظر رکھی جائے، وزیراعلیٰ سندھ

حکومتی اقدام کا فائدہ آٹے کی کم قیمتوں کی صورت میں صارفین تک پہنچایا جائے، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ کو محکمہ خوراک نے اجلاس میں گندم کے ذخائر کی صورتحال پر بریفنگ دی

صوبائی ذخائر میں اس وقت 3 لاکھ 46 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، محکمہ خوراک

پاسکو سے ایک لاکھ 90 ہزار میٹرک ٹن گندم صوبائی ذخائر میں شامل کی جائے گی، بریفنگ

درآمد شدہ گندم سے 3 لاکھ میٹرک ٹن صوبائی ذخائر میں شامل ہوگی، وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ

پاسکو اور درآمدی گندم شامل ہونے کے بعد 8 لاکھ 36 ہزار 414 میٹرک ٹن گندم دستیاب ہوگی

کراچی ڈویژن میں اس وقت ایک لاکھ 35 ہزار 948 میٹرک ٹن گندم موجود ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ

پاسکو اور درآمدی گندم کی آمد کے بعد کراچی ڈویژن میں ذخائر 5 لاکھ 65 ہزار 948 میٹرک ٹن ہوجائیں گے

پاسکو ذخائر سے حیدرآباد ریجن کے لیے 30 ہزار میٹرک ٹن گندم مختص کی جائے گی، بریفنگ

میرپورخاص اور شہید بینظیرآباد ریجنز کے لیے 60 ہزار میٹرک ٹن گندم مختص کی گئی ہے، بریفنگ

گزشتہ سال سندھ میں مارکیٹ کے لیے 9 لاکھ 74 ہزار 982 میٹرک ٹن گندم جاری کی گئی تھی

اضافی گندم ذخائر سے مارکیٹ میں رسد بہتر ہونے کی توقع ہے، وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہی

اضافی گندم سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ پر قابو پانے میں مدد ملے گی، اجلاس کو بریفنگ

کراچی کی اوپن مارکیٹ میں گندم 13 ہزار 200 روپے فی 100 کلو گرام میں فروخت ہورہی ہے

کراچی میں ریٹیل آٹے کی قیمت 165 سے 170 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی، اجلاس میں بریفنگ

یکم اکتوبر کو کراچی میں گندم 12 ہزار 400 روپے فی 100 کلو گرام تھی، بریفنگ

یکم اکتوبر کو آٹے کی قیمت 160 سے 165 روپے فی کلو گرام تھی، بریفنگ

گندم اور آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کا رجحان جاری ہے، اجلاس کو بریفنگ

وزیراعلیٰ سندھ نے 100 کلو گرام گندم کی بوری 12 ہزار 500 روپے میں جاری کرنے کی منظوری دے دی

گندم اجرا کا عمل 15 اکتوبر 2026 سے شروع کیا جائے گا، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

ہماری حکومت کا مقصد گندم کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ

حکومت قیمتوں میں استحکام اور صارفین کو آٹے کی قیمتوں میں اضافے سے تحفظ دینا چاہتی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی مارکیٹ میں گندم کی دستیابی یقینی بنانے کی ہدایت

عبدالرشید چنا، ترجمان وزیراعلیٰ سندھ

07/10/2026

وزیرمنصوبہ بندی و ترقی سندھ جام خان شورو نے کہا ہے کہ حکومت سندھ نے نیشنل ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فیئر میں تقریباً 562 ملین امریکی ڈالرز مالیت کے 7 سرمایہ کاری منصوبے پیش کیے ہیں، جن کا مقصد عوامی انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پانی کی فراہمی کے چیلنجز سے نمٹنے، آبی وسائل کے بہتر انتظام اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے نجی شعبے اور ترقیاتی شراکت داروں کی سرمایہ کاری اہمیت کی حامل ہے۔

نیشنل ایس ڈی جیز انویسٹمنٹ فیئر کی اختتامی تقریب سے کراچی کے مقامی ہوٹل میں خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جام خان شورو نے کہا کہ دو روزہ فیئر نے ترقیاتی ضروریات کو سرمایہ کاری کے مواقع اور مالیاتی حل سے جوڑنے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا، جہاں منصوبے تیار کرنے والے اداروں، سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان براہِ راست رابطے اور مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں عوامی انفراسٹرکچر اور خدمات کے منصوبوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا مضبوط تجربہ موجود ہے۔ ملیر ایکسپریس وے، ریورائن فاریسٹری، ڈیلٹا بلیو کاربن، شاہراہِ بھٹو اور تھر کول پروجیکٹ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ان منصوبوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مناسب منصوبہ بندی اور مؤثر شراکت داری کے ذریعے عوامی ضروریات کو سرمایہ کاری کے قابل منصوبوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

پانی کی فراہمی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر منصوبہ بندی و ترقی سندھ نے کہا کہ کراچی کو کینجھر جھیل سے تقریباً 100 سے 150 کلومیٹر دور سے پانی فراہم کیا جاتا ہے، جبکہ صوبے کے بڑے شہر دریائے سندھ کے اطراف آباد ہیں اور سندھ کی پانی کی ضروریات کا بڑا انحصار دریائے سندھ پر ہے۔ دریا میں پانی کی کمی سے صوبے میں پانی کی فراہمی کے مسائل مزید بڑھ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں ٹیوب ویلز کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہے، جبکہ ان کے بیان کے مطابق پنجاب میں تقریباً 14 لاکھ ٹیوب ویلز موجود ہیں۔ انہوں نے دریائے سندھ میں آلودہ پانی کی آمد اور کوٹری بیراج پر پانی میں تحلیل شدہ نمکیات (ٹی ڈی ایس) کی بڑھتی ہوئی سطح پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پانی کے معیار اور فراہمی سے متعلق مسائل پر مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔

جام خان شورو نے کہا کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور استعمال میں لانے کے منصوبوں میں سرمایہ کاری بھی ایک اہم چیلنج ہے۔ رین واٹر ہارویسٹنگ کے منصوبوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کے لیے مالی وسائل، مناسب منصوبہ بندی اور سرمایہ کاری کے نئے طریقہ کار اختیار کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے صرف سرکاری بجٹ پر انحصار کافی نہیں، بلکہ نجی سرمایہ کاری، ترقیاتی فنانسنگ، موسمیاتی فنانس اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ہوگا۔ ان کے مطابق ہر منصوبے کی نوعیت کے لحاظ سے مناسب مالیاتی ماڈل اختیار کرنا ضروری ہے تاکہ منصوبوں کی تکمیل اور عوام کو بہتر سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

وزیر منصوبہ بندی و ترقی نے کہا کہ سندھ حکومت منصوبوں کی تیاری، شفاف طریقہ کار اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ادارہ جاتی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرمایہ کاری فیئر کی اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب پیش کیے گئے منصوبے عملی شراکت داری، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع اور بہتر عوامی خدمات میں تبدیل ہوں گے۔

جام خان شورو نے سرمایہ کاروں، مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کو سندھ میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

Address

Sindh Secretariat Building No 1, Sindh
Karachi
74200

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sindh Government posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Organization

Send a message to Sindh Government:

Shortcuts

Share