Urdu Media Conference
*Urdu Media Conference is world wild Media Conference)
Karachi Editors Club is inviting you to a scheduled Zoom meeting.
Topic: Mehfil e Musaalma, Literary Committee, Karachi Editors Club
Time: Aug 13, 2021 03:00 PM Islamabad, Karachi,
Join Zoom Meeting
https://us05web.zoom.us/j/81130098846?pwd=SUFQcVlBL05EU1VGV0lYYk9za2U2dz09
Meeting ID: 811 3009 8846
Passcode: AKz5e3
Join our Cloud HD Video Meeting Zoom is the leader in modern enterprise video communications, with an easy, reliable cloud platform for video and audio conferencing, chat, and webinars across mobile, desktop, and room systems. Zoom Rooms is the original software-based conference room solution used around the world in board, confer...
آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت کا تصور ناممکن ہے مبشر میر،منظر نقوی
جرنلسٹس پروٹیکشن بل پارلیمنٹ میں پیش اور بحران کا شکار میڈیا انڈسٹری کے لیے پیکج کا اعلان کیا جائے
معاشرے کی اصلاح اور عوام کو اجتماعی شعور دینے میں میڈیا اور صحافیوں کا کردار مسلمہ ہے ،صدر و سیکرٹری کراچی ایڈیٹرز کلب
موجودہ نامساعد حالات میں صحافیوں کا کردار قابل تحسین ہے ، عالمی یوم آزادی صحافت پر پیغام
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی ایڈیٹرز کلب کے صدر مبشر میر اور جنرل سیکرٹری منظر نقوی نے کہا ہے کہ آزادی صحافت کے لئے صحا فیوں کی جدوجہد اور قربانیاں لائق تحسین ہیں ۔ آزاد میڈیا کے بغیر مضبوط جمہوریت کا تصور ناممکن ہے، معاشرے کی اصلاح اور عوام کو اجتماعی شعور دینے میں میڈیا اور صحافیوں کا کردار مسلمہ ہے ۔عالمی یوم آزادی صحافت پر اپنے پیغام میں مبشر میر اور منظر نقوی نے کہا کہ آج کا دن ہمیں ان صحافیوں کی یاد دلاتا ہے جنہوں نے صحافت کی آزادی کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔ کورونا کی موجودہ صورتحال میں صحافیوں کے کردار اور ان کے زمہ درانہ رویے کی تعریف کرتے ہوئے انہوں کہا کہ اس مشکل صورتحال میں صحافی لوگوں کو بروقت خبریں پہنچانے کے لئے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر فرنٹ لائن پر اپنی زمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ اس موقع پر کورونا سے متاثرہ تمام صحافیوں کی جلد صحت یابی کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نےحکومت سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کی کورونا ویکسی نیشن کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ جرنلسٹس پروٹیکشن بل ایک طویل عرصے سے التواءکا شکار ہے ۔حکومت جلد از جلد اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرے۔انہوں نے کہا کہ جس طرح صحافیوں کاتحفظ اور میڈیا کی آزادی ضروری ہے اسی طرح صحافیوں کی سوشل سکیورٹی بھی اہم ہے ۔2017 کے بعد سے پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا معاشی بحران کا شکار ہے ۔ میڈیا کے واجبات ادا نہیں کیے جارہے ہیں ۔بڑی تعداد میں میڈیا ورکرز بیروزگاری کا شکار ہوئے ہیں۔ کورونا کا اب تیسرا فیز شروع ہوچکا ہے لیکن حکومت کی جانب سے اب تک میڈیا انڈسٹری کے لیے کسی پیکج کا اعلان نہ کیا جانا افسوسناک ہے ۔حکومت میڈیا انڈسٹری کے لیے فوری ریلیف پیکج کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ آج صحافت کا عالمی دن منانے کا مقصد اور حقیقی تقاضا ہے کہ صحافتی برادری کو صحافی ذمہ داریاں ادا کرنے میں آزادی حاصل ہو ، انکے جائز حقوق کا تحفظ ہو۔ آج پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا کا کردار ناقابل فراموش ہے اسکی اہمیت کو کبھی بھی کسی بھی صورت فراموش یا کم نہیں کیا جا سکتا۔مشکل حالات میں صحافیوں کا کرادر قابل تحسین ہے جو اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر سچ کو عوام کے سامنے لانے کیلئے میدان عمل میں موجود ہیں ۔مبشر میر اور منظر نقوی نے کہا کہ 3 مئی کراچی ایڈیٹرز کلب کا یوم تاسیس بھی ہے ۔چار سال کے دوران کے ای سی ملک کے اہم تھنک ٹینک کے طور پر سامنے آیا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی سمیت سیاسی شخصیات اور غیر ملکی سفارت کاروں نے بھی کراچی ایڈیٹرز کلب کی خدمات کااعتراف کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس موقع پر صدرعارف علوی کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنہوں نے کراچی ایڈیٹرز کلب کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ سینئرمیڈیا پرسنز کو یونیورسٹیز میں وزٹنگ فیکلٹی میں رکھا جائے۔ امید ہے کہ اس تجویز پر عملردرآمد کیا جائے گا۔
میثاق مدینہ سے میثاق پاکستان تک
پانچواں موسم
مبشرمیر
ریاست شہر مدینہ کی کامیابیوں میں نمایاں بات یہ تھی کہ پیغمبر اکرمﷺ نے وہاں بسنے والے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان محبت ،امن اور تعاون کے بیانیے کی بنیاد پر جو معاہدہ کروایا وہ عدل و انصاف پر مبنی تھا،جسے میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جہاں دین اسلام کی ترویج بھی ضروری تھی اور مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ہم آہنگی بھی اولین ترجیح تھی ۔اگرچہ ان کے درمیان اختلافات موجود تھے اور جنگیں بھی ہوچکی تھیں لیکن جب ریاست کے خدوخال واضح ہونے لگے اور ترقی و خوشحالی کے سفر کے لیے لائحہ عمل مرتب کیا گیا تو پہلا مرحلہ ریاست میں بسنے والے مختلف العقائد نظریات کے حامل افراد اور قبائل کو ایک بیانیے پر متفق کرنا تھا ۔پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیﷺ کا یہ ایک عظیم الشان کارنامہ تھا کہ انہوںنے اس معاملے میں مدینہ میں آباد یہودی قبائل کو بھی شامل کروایا ۔گویا کسی بھی ریاست کی کامیابی ،ترقی ،بقا اور استحکام کا ایک نسخہ کیمیا دنیا بھر کی اقوام کو دے دیا کہ امن اسی وقت قائم ہوگا جب ظلم ،زیادتی اور استحصال کا خاتمہ کرنے کے لیے عدل و انصاف پر مبنی ایک بیانیہ تشکیل دیا جائے اور اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں ۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ رنگ ،نسل ،زبان اور عقائد و نظریات کی بنیاد پر کسی بھی گروہ یا قوم کو طویل عرصے تک دبا کے نہیں رکھا جاسکتا ۔آزادی انسان کا فطری حق ہے ۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اقدامات کرے اور یہی امن کی ضمانت ہے ۔بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے نزدیک یقیناً یہی اصول اہم تھے جو رسول پاکﷺ نے ہمیں عطا کیے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسی میثاق مدینہ سے اخذ شدہ نظریہ ان کے پیش نظر تھا جب انہوں نے 11اگست 1947ءمیں نوزائیدہ مملکت ،پاکستان کی قانون سازی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس مملکت خداداد میں مذہبی اقلیتوں کو اپنے مذاہب پر قائم رہنے اور اس پر عمل کرنے کی مکمل آزادی ہوگی ۔انہیں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی کوئی روک ٹوک نہیں ہوگی ۔ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان کا مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کے حوالے سے یہی قومی بیانیہ ہے جس کا رسول اکرمﷺ نے ریاست مدینہ میں اجراءکیا تھا اور قائد اعظم محمد علی جناح نے قیام پاکستان کے وقت اس کا اعادہ کیا ۔آئین پاکستان میںاسی نظریے کی روشنی میں ریاست پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کو پھلنے پھولنے کے مواقع عطا کیے گئے ہیں ۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے بہت سے قومی ہیروز میں غیر مسلم پاکستانی بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیت کو پاکستان کا پہلا وزیر قانون مقرر کیا ،جن کا نام جوگندر ناتھ منڈل تھا ۔پاک بھارت جنگ 1965ءکے جنگی ہیروز میں پاکستان ایئرفورس سے تعلق رکھنے والے مسیحی بھائی سیسل چوہدری کو قوم ہمیشہ اپنے دلوں میں بسائے رکھے گی ۔جسٹس کارنیلس کو کون بھول سکتا ہے جنہوںنے 1973ءکا آئین پاکستان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ۔جسٹس رانا بھگوان داس کی شخصیت اس حوالے سے بھی قابل احترام رہی کہ انہوںنے اسلامی قوانین میں مہارت کی اعلیٰ مثال قائم کی ۔مجھے انتہائی فخر محسوس ہورہا ہے کہ ایک طویل فہرست ہے کہ جن غیر مسلم پاکستانیوں نے وطن عزیز میں اس لیے نام کمایا کہ یہاں ان کے لیے امن اور ترقی کے وسیع مواقع موجود تھے ۔ان میں ڈاکٹررتھ فاو ¿ ،سفیر پاکستان جمشید مارکر ،معروف ناول نگار بپسی سدھوا ،نامور صحافی اردشیر کاو ¿س جی ،ماہر تعلیم دینا مستری ،نوبل پرائز کے لیے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے نامزد کردہ جے سالک ،فم انڈسٹری کا بڑا نام شبنم اور روبن گھوش ،گلوکار اے نیئر اور بنجمن سسٹرز ،بشپ ڈاکٹر الیگزینڈر جان ملک ،اداکارہ اور ماڈل سنیتا مارشل اور ڈریس ڈیزائنر دیپک پروانی الغرض ایسے بہت سے عظیم پاکستانی ہیں جو بین المذاہب ہم آہنگی کی وجہ سے پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں ۔
لمحہ موجود اس بات کا شاہد ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بین المذاہب ہم آہنگی کی بے مثال کاوشیں ہوئی ہیں جن میں دربار صاحب کرتاپور راہداری تعمیر کرکے سکھ برادری کے لیے زیارات کا سلسلہ آسان بنایا گیا ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سکھ برادری کے تمام مقدس مقامات پر زائرین کو ایک دوستانہ ماحول فراہم کیا جارہا ہے۔مذہبی اقلیتوں کو پاکستان کی قانون ساز اسمبلیوں ،انتظامیہ ،افواج پاکستان ،پولیس اور عدلیہ میںمیرٹ پر نمائندگی دینے کے لیے سنجیدہ کوششیں قابل قدر ہیں ۔بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مذہبی اقلیتوں کو الیکٹرونک میڈیا ،ٹی وی اور ریڈیو میں زیادہ وقت دیا جانا موجودہ وقت کا تقاضا ہے ۔یہ بھی ضروری ہے کہ صفائی ستھرائی کی مخصوص نوکریاں کسی خاص مذہب کے افراد کے لیے مختص نہ کی جائیں تاکہ کسی بھی مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھنے والے افراد کی سماجی حیثیت متاثر نہ ہو ۔
پاکستان کی نوجوان نسل ملک کے مستقبل کا سرمایہ ہے ۔ان کو اس قومی بیانیے سے روشناس کروانے کے لیے پیغام پاکستان کو اجاگر کرنا قومی فریضہ ہے ۔پیغام پاکستان کی تحریک اس لحاظ سے منفرد ہے کہ ہم آئندہ نسلوں کے لیے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل چاہتے ہیں جس میں عظیم رشتہ انسانیت میں سب بندھے ہوئے نظرآئیں ۔فوقیت اوررتبہ فقط علم اور کردار کی بنیاد پر ہو ۔اگر ایسا کرنے میں ہم کامیاب ہوگئے تو ریاست مدینہ میں جس میثاق کا آغاز ہوا تھا اور ریاست پاکستان مں جس کا احیا کیا گیا ہے وہ ایک تن آور درخت کی مانند پوری قوم کے لیے گھنی چھاو ¿ں مہیا کرے گا ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi
