آسان نکاح کو رواج دیجیے!
Asaan Nikkah
نکاح کو آسان بنائیں!
نکاح سے لے کر رجسٹریشن تک کے تمام ? Easy TO contact
اداکار سید صائم علی کا آسان نکاح!
اہلیہ پردے کی حامی، چہرے کی تصویر دینے سے انکار کردیا
اداکار کی کتاب مضامین قرآن حکیم پڑھتے ہوئے تصویر بھی وائرل
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ملک میں پھیلی ہوئی کورونا کی وبا کے باعث اگرچہ شادی کی تقریبات پر پابندی عائد ہے، تاہم پھر بھی ملک بھر میں عام افراد کی طرح شوبز شخصیات کی جانب سے بھی شادی کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔
رواں سال لاک ڈاؤن اور قرنطینہ کے دنوں میں جہاں آغا علی اور حنا الطاف نے شادی کی تھی، وہیں فریال محمود اور دانیال راحیل بھی رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے تھے۔
حال ہی میں گلوکار ہارون رشید نے بھی خاموشی اور سادگی سے شادی کرلی تھی اور اب اداکار و پروڈیوسر سید صائم علی نے بھی خاموشی سے شادی کرلی۔
پروڈیوسر، ماڈل و اداکار سید صائم علی نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں اپنی شریک حیات کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے مداحوں کو آگاہ کیا کہ انہوں نے شادی کرلی۔
سید صائم علی نے اپنی شریک حیات کی چہرے کے بغیر صرف ہاتھوں کی تصویر شیئر کرتے ہوئے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کردیا۔
اداکار نے اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے نکاح کرکے نئی زندگی کی شروعات کردی۔
اپنی شادی کے حوالے سے ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے سید صائم علی نے بتایا کہ انہوں نے 6 ماہ قبل ہی منگنی کرلی تھی اور ان کی منگنی خاندان کی جانب سے طے کی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ ان کی شادی ارینج میریج تھی جو اب پیار کی شادی میں تبدیل ہوگئی۔
سید صائم علی نے اپنی شریک حیات کے حوالے سے بتایا کہ وہ ان کے اہل خانہ کے دوست گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں ان کا گھرانہ دبئی میں رہائش پذیر ہے۔
اداکار نے بتایا کہ ان کی اہلیہ سخت پردے کی حمایتی ہیں، اسی لیے انہوں نے اپنی شریک حیات کی کوئی بھی تصویر انسٹاگرام یا سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کی۔
اداکار نے بتایا کہ انہوں نے شادی کے موقع پر شریک حیات سے گزارش کی کہ ایک تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی جائے مگر انہوں نے اس کی اجازت نہیں دی، جس وجہ سے انہوں نے اہلیہ کی کوئی تصویر شیئر نہیں کی۔
اداکار نے بتایا کہ نکاح کی تقریب سادگی سے منعقد کی گئی جب کہ ولیمے کی تقریب بھی اسلام آباد مٰیں 7 جولائی کو سادگی سے رکھی گئی ہے، جس میں قریبی رشتہ دار اور دوست شرکت کریں گے۔
انہوں نے نئی زندگی کی شروعات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مداحوں سے نیک خواہشات کے لیے درخواست بھی کی۔
کورونا کے باعث سعودیہ میں آسان نکاح
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سعودی عرب میں عسیر ریجن کی کمشنری زھران الجنوب میں مملکت کی تاریخ کی مختصر ترین شادی کی تقریب منعقد کی گئی- پندرہ منٹ کے اندر شادی کی ساری کارروائی انجام دے دی گئی-
الوطن اخبار کے مطابق دولہا اور دلہن کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ شادی کی کئی ماہ قبل تاریخ مقررکردی گئی تھی-
عسیر ریجن میں شادی کی تقریبات دھوم دھام سے منائی جاتی ہیں- تیاریاں بھی بڑے پیمانے پر کی گئی تھیں- دولہا اور دلہن کے سیکڑوں رشتہ دار تقریب میں مدعو تھے-
تاہم کورونا وائرس کے بحران نے دولہا اور دلہن کے رشتہ داروں کو مشکل میں ڈ ال دیا- ہر ایک کی زبان پر یہی سوال تھا کہ شادی کا پروگرام ملتوی کردیا جائے یا درمیان کا کوئی ایسا راستہ اختیار کیا جائے جس سے خوشی کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے پائے-
بزرگ سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ تاریخ طے ہوچکی ہے تو شادی تو ہونی ہے اسے ملتوی نہیں کیاجائے گا- دوسری جانب کورونا وائرس سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیرکی پابندی بھی کرنا ضروری ہے۔ طے کیا گیا کہ تقریب مختصرکی جائے-
’شادی کی تقریبات پر پابندی نہیں‘
تقریب دولہا اور دلہن کے بھائیوں تک محدود رہی- دلہن کے بھائی صالح العامر نے بتایا کہ میری بہن کی شادی چچا زاد بھائی سے طے تھی- مقررہ تاریخ اور وقت پر دولہا آیا اور ہم نے دلہن کو اس کی گاڑی میں سوار کرادیا - اس طرح رخصتی طے پاگئی-
صالح العامر کے مطابق تمام رشتہ داروں نےنئے جوڑے کوتہنیتی پیغامات بھیجے اورہر ایک نے اس بات کی حوصلہ افزائی کی کہ شادی کی تقریبات مختصر ہی ہو اور کورونا وائرس کے پھیلاؤکو روکنے کے لیے مقرر پابندیوں کا احترام کیا جائے-
بعض شہریوں نے سعودی عرب کی تاریخ میں ہونے والی اس مختصر ترین شادی کی خبر پر خوشگوار تبصرے کیے- بعض نوجوانوں نے شادی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا کہ کاش شادی ایسی ہی سادگی سے ہو جس میں بلا وجہ کے اخراجات کا بوجھ دولہا کے سر نہ آئے-
11/12/2019
آسان نکاح اور ازدواجی الجھنوں سے متعلق رہنمائی کیلئے اپنا نام، شہر اور سوال لکھ کر ان باکس کریں!
09/12/2019
آسان نکاح نہیں ہوگا تو پھر یہ ہوگا!
***********************************************************
سعودی عرب کے معاشرے میں ایک بڑا مسئلہ بیٹیوں کے رشتے مسترد کرنے کا ہے۔ اسے سعودی معاشرے میں ’عضل‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعض والدین برسہا برس تک اپنی بیٹیوں کے رشتے نہیں کرتے۔ بیٹی اپنے باپ کے گھر بغیر شادی کے بیٹھی رہ جاتی ہے۔
معمر کنواریوں کی شادی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ زیادہ عمر ہوجانے پر رشتے آنا بند ہوجاتے ہیں۔
اخبار 24 کے مطابق کئی سعودی لڑکیوں نے اپنے باپ کے اس رویے کے خلاف عدالتوں سے رجوع کیا ہے۔
ایک لڑکی کا کہنا ہے’ اب میری عمر 37 برس ہوچکی ہے۔ ملازمت کرتی ہوں۔ والد صرف میری تنخواہ پر حق رکھنے کے لیے رشتے سے منع کردیتے ہیں۔ عجیب و غریب قسم کے بہانے بنا کر رشتے مسترد کرنے میں انہیں کمال حاصل ہے‘۔
’میرے والد نے ایک رشتہ صرف اس لیے مسترد کیا کہ لڑکے کی تنخواہ سات ہزار ریال تھی۔ دوسرا رشتہ اس لیے ٹھکرا دیا کہ وہ بہت دور دراز علاقے میں رہتا ہے۔ تیسرا رشتہ یہ کہہ کر منع کیا کہ اس کی ڈگری یونیورسٹی کی نہیں ۔ چوتھا رشتہ یہ کہہ کر واپس کردیا کہ وہ ایک شادی کرکے طلاق دے چکا تھا‘۔
جدہ کی ایک لڑکی نے بتایا’ پانچ برس کے دوران اس کے والد نے اس کے دس رشتے ٹھکرادیے۔ اب اس کی عمر 35 برس ہوچکی ہے‘۔
سعودی لڑکی کے مطابق حال ہی میں مجھے پتہ چلا کہ اپنی شادی خود کرسکتی ہوں۔ یہ میرا حق ہے اسی لیے عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ عدالت نے میرے حق میں فیصلہ دیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اب میری شادی کا اختیار والد سے لے کر عائلی امور کی عدالت کے حوالے کردیا گیا ہے۔ امید ہے میرے اس اقدام کو نافرمانی کے خانے میں نہیں ڈالا جائے گا‘۔
مکہ میں عائلی امور کی عدالت نے ایک مطلقہ خاتون پر شادی کی پابندی کے واقعہ کا نوٹس بھی لیا ہے۔
یاد رہے کہ اعلیٰ عدالتی کونسل نے لڑکیوں کی شادی پر قدغن لگانے والے والدین کے حوالے سے ایک اہم ضابطہ مقرر کیا ہے۔
ضابطے کے مطابق’ اگر کوئی لڑکی عدالت میں یہ مقدمہ لے کر آئے گی کہ اس کا باپ جان بوجھ کر اس کے رشتے ٹھکرا رہا ہے اوراسے شادی سے روک رہا ہے تو اس کا مقدمہ 30 دن کے اندر نمٹانا ضروری ہوگا‘۔
’کوئی بھی لڑکی اپنے باپ کے خلاف عدالت سے رجوع کرسکتی ہے۔ اگر باپ نہ ہو اور ا س شادی کے ذمہ دار اس کے بھائی وغیرہ ہو ں تو وہ ان کے حوالے سے بھی عدالت سے رجوع کرسکتی ہے‘۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Karachi
