Home
>
Pakistan >
Karachi >
Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::
Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::
Share
Welcome in DFC : : Doabah Friends Club
Where we share Resources and Help with the Help of each other.
دوآبہ فارسی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی دو دریا کے بیچ کی زمین جو آگے جاکر مل جائیں ۔جیسے کے دریائے چناب اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ، بھارتی پنجاب میں دریائے بیاس اور دریائے ستلج کا درمیانی علاقہ اور خیبر پختونخوا میں 20،000 افراد پر مشتمل چھوٹے سے شہر کا نام ہے۔دریا اور انسانوں کی زندگی ایک جیسی ہے یہ ایک لمبی تفصیل ہے مختصراگر ہم دریا ؤں کا تصور ذہن میں لائیں تو پہاڑوں کے برف پوش چوٹیوں ک
ا سینہ چیرتے ہوئے پانی کے ٹھنڈے آبشاروں کے جھرمٹ اپنی پورے آب و تاب سے نا ہموار راستو ں سے ہوتے ہوئے زمین کی معدنیات کو اپنے وجود میں سمیٹتے ہوئے اپنا سفرجاری رکھتے ہیں اور اپنے اطراف ایک سریلی و خوشگوارآواز بکھیرتے ہوئے اپنی منزل کی جانب رواں دواں رہتے ہوئے دوسرے دریا سے جا ملتے ہیں اسے ہی دوآبہ کہتے ہیں۔ بلکل اسی طرح انسان کا وجود بھی دریا کی مانندہے ۔ ووہ روز نئے انسانوں سے ملتا ہے اوران کے تاثرات کو اپنے وجود میں سمیٹتے ہوئے آگے بڑھتا چلاجاتا ہے کچھ انسان آپﷺ کی دی گئی تعلیم کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ لوگوں سے محبت ، خلوص ، روادری اور اخلاق کواپناتے ہوئے ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں۔ صحیح غلط کی تلقین ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی ذات کو آپ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ڈھال کر خود کو ایک مثالی شخصیت واشرف المخلوقات کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے لوگوں میں پیار محبت اور الفت پیدا کرتے ہیں انہیں بھائیوں کی طرح جوڑے رکھتے ہیں۔ جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے۔
ترجمہ العمران، آیت 103: مترجم ڈاکٹر اسرار احمد ۔
اللہ کی رسّی کو مضبوطی سے تھام لو مل جل کر اور تفرقے میں نہ پڑو اور ذرا یاد کرو اللہ کا جو انعام تم پر ہوا جبکہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں کے اندر الفت پیدا کردی پس تم اللہ کے فضل و کرم سے بھائی بھائی بن ‘ گئے اور تم تو آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے (بس اس میں گرنے ہی والے تھے ) تو اللہ نے تمہیں اس سے بچالیا اسی طرح اللہ تمہارے لیے اپنی آیات واضح کررہا ہے تاکہ تم راہ پاؤ (اور صحیح راہ پر قائم رہو)
دوآبہ فرینڈز کلب اسی کا نام ہے جہاں ہم مل جل کر ایک ایسا معاشرہ قائم کریں جہاں پیار محبت روادری پیدا کی جاسکے جہاں پر ہر مسلمان ہر پاکستانی سگا بھائی کی مانند ہو اجتماعیت ہی ہماری شناخت ہو۔
جیسے کہ ہمارے بارے میں مشہور ہے ہم ہر بات میں ہر کام میں ہم کی بات کرتے ہیں (میں کی بات نہیں) ۔ کیونکہ اجتماعیت میں ہی کامیابی ہے آئیے ہم مل کر خود کو بہتر بنائیں اپنے لئے ، اپنے گھر والوں کے لئے ، اپنے معاشرے کے لئے اور اپنے پاک وطن کے لئے۔