Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::

Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::

Share

Welcome in DFC : : Doabah Friends Club

Where we share Resources and Help with the Help of each other.

دوآبہ فارسی زبان کا لفظ ہے جسکے معنی دو دریا کے بیچ کی زمین جو آگے جاکر مل جائیں ۔جیسے کے دریائے چناب اور دریائے راوی کا درمیانی علاقہ، بھارتی پنجاب میں دریائے بیاس اور دریائے ستلج کا درمیانی علاقہ اور خیبر پختونخوا میں 20،000 افراد پر مشتمل چھوٹے سے شہر کا نام ہے۔دریا اور انسانوں کی زندگی ایک جیسی ہے یہ ایک لمبی تفصیل ہے مختصراگر ہم دریا ؤں کا تصور ذہن میں لائیں تو پہاڑوں کے برف پوش چوٹیوں ک

Photos from Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::'s post 24/09/2025

🌟 MEGA EVENT – اعزاز کی تقریب 🌟

Pioneer Grammar Secondary School نے ایک شاندار MEGA EVENT کا انعقاد کیا، جس کا مقصد کراچی بورڈ SSC 2025 میں دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ہونہار طالبہ، وانیہ نور کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔ 🎓✨

اس پروقار تقریب میں شہر کی نامور علمی و سماجی شخصیات نے شرکت کی، جن میں شامل تھے:

سردار ملک (A.P.S.D.)

انور علی بھٹی (چیئرمین، پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز)

غلام حسین سوہو (چیئرمین، کراچی SSC بورڈ)

بابر خان جادون (چیئرمین، پیس پاکستان)

تمام مہمانوں نے وانیہ نور کی شاندار کامیابی پر نہ صرف مبارکباد دی بلکہ اپنے اپنے اداروں کی جانب سے انعامات، تحائف اور اسکالرشپس کی بھی پیشکش کی۔ یہ لمحہ طالبہ اور ادارے دونوں کے لیے بے حد تاریخی اور حوصلہ افزا ثابت ہوا۔ 🌹

تقریب میں میرے ساتھ نعیم سعید (فیلڈ آفیسر، علم فاؤنڈیشن اورنگی ٹاؤن)، دوآبہ فرینڈز کلب کے ڈائریکٹر عاطف حسین اور ہمارے سینئر ڈائریکٹر سید نسیم صاحب بھی موجود تھے، جو اپنے ادارے Peace Montessori کی نمائندگی کر رہے تھے۔

اس موقع پر Pioneer Grammar Secondary School کے پرنسپل انسار محمود اور عبید ناصر خان اسٹیج پر مسلسل موجود رہے۔ انہوں نے آنے والے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ہر ایک کو عزت و تکریم سے نوازا۔ یہی مہمان نوازی اور پروفیشنل انداز اسکول کی پہچان ہے۔

📚 Pioneer Grammar Secondary School نہ صرف معیاری تعلیم کے حوالے سے کراچی کے ممتاز اداروں میں شمار ہوتا ہے بلکہ طلبہ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف علمی و نصابی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ ادارے کی انتھک محنت اور وژن ہی ہے کہ وانیہ نور جیسی ہونہار طالبات پورے کراچی بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کرکے اپنے ادارے اور شہر کا نام روشن کرتی ہیں۔

یقیناً ایسے پروگرامز میں شرکت کرنا میرے لیے باعثِ فخر ہے، جہاں تعلیم کو حقیقی معنوں میں فروغ دیا جاتا ہے اور مہمانوں کو عزت و احترام سے نوازا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر کے مختلف تعلیمی و سماجی اداروں کے نمائندے اس تقریب کو یادگار بنانے کے لیے دور دراز سے شریک ہوئے۔ 💐

Photos from Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::'s post 10/01/2025

محمد عاقب سعود اور نعیم سعید، جو دوآبہ فرینڈز کلب کے ڈائریکٹرز ہیں، نے Web Ace Solution، اتحاد ٹاؤن کا دورہ کیا۔ یہ دورہ سید آصف ہدایت Syed Asif Hidayat کی دعوت پر کیا گیا، جو Web Ace Solution کے سی ای او ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد اورنگی ٹاؤن میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے مل کر کام کرنے، مختلف پروجیکٹس پر اشتراک کرنے، اور علاقے کے نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے امکانات پر غور کرنا تھا۔

Web Ace Solution اتحاد ٹاؤن کی ایک نمایاں آئی ٹی کمپنی ہے جو نہ صرف ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ویب ڈویلپمنٹ، اور SEO خدمات فراہم کرتی ہے بلکہ نوجوانوں کے لیے ایک تربیتی ادارے کے طور پر بھی کام کر رہی ہے۔ سید آصف ہدایت، بطور سی ای او، اتحاد ٹاؤن کے بچوں کو انٹرنیشنل معیار کی کمپیوٹر لیب فراہم کر رہے ہیں اور انہیں فری لانسنگ کی تربیت دے رہے ہیں۔ یہ تربیت نہ صرف ان بچوں کے مستقبل کو روشن کر رہی ہے بلکہ انہیں آئی ٹی کی دنیا میں بطور فری لانسر کام کرنے کے قابل بنا رہی ہے تاکہ وہ عالمی مارکیٹ میں اپنی پہچان بنا سکیں۔

دورے کے دوران، محمد عاقب سعود، نعیم سعید، اور سید آصف ہدایت کے درمیان یہ طے پایا کہ دوآبہ فرینڈز کلب اور Web Ace Solution مل کر ایسے منصوبے ترتیب دیں گے جو اورنگی ٹاؤن کے نوجوانوں کو آئی ٹی کے میدان میں مہارت حاصل کرنے اور اپنے علاقے کی ترقی میں حصہ ڈالنے کے قابل بنائیں گے۔

یہ اقدام نہ صرف اورنگی ٹاؤن اور اتحاد ٹاؤن میں آئی ٹی کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہوگا بلکہ مقامی نوجوانوں کو ترقی کے نئے مواقع فراہم کرے گا، جو انہیں خودمختاری اور کامیابی کی راہ پر گامزن کرے گا۔

Photos from Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::'s post 15/11/2024

آج 14 نومبر 2024 کو APTEC اورنگی سینٹر اور Organization of Private Schools Management Sindh (OPSM) کے درمیان مفاہمتی یادداشت (MOU) پر دستخط کیے گئے۔ APTEC کے مینیجر عاقب محمود اور OPSM کے چیئرمین پروفیسر محمد میراج صدیقی نے اس معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد پرائیویٹ اسکولوں کے اساتذہ کے لیے جدید کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کورسز فراہم کرنا ہے۔

پروگرام کا مقصد:
اساتذہ کو مفت کمپیوٹر کورسز اور جدید ٹیکنالوجی میں مہارت فراہم کرنا، تاکہ وہ اپنے طلبہ کی تعلیم میں بہتری لا سکیں۔

تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا شیڈول:

پہلا دن: MS Excel اور MS Word میں مہارت

Excel میں ڈیٹا مینجمنٹ اور حاضری شیٹ بنانا

Word میں دستاویز کی تیاری اور سوالات کے پیپر کی تشکیل

دوسرا دن: PowerPoint میں متاثرکن پریزنٹیشنز

PowerPoint سلائیڈز ڈیزائننگ

تصاویر کے ذریعے تدریسی مواد کی ترسیل

تیسرا دن: AI اور Photoshop کا استعمال

تعلیمی مواد کے لیے موثر AI پرومپٹس بنانا

سوال و جواب اور تصویر و متن کی تیاری

مدت:
یہ معاہدہ 1 نومبر 2024 سے 30 جون 2025 تک مؤثر رہے گا۔

دوابہ فرینڈز کلب اس پروگرام کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اورنگی کے اساتذہ کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

05/10/2024

5 اکتوبر یوم اساتذہ کے موقع پر، دوآبہ فرینڈز کلب کے ڈائریکٹرز محمد عاکف سعود اور نعیم سعید جو کے دی علم فاؤنڈیشن میں مارکیٹنگ آفیسر بھی ہیں نے انویژن اسکول کا دورہ کیا، جہاں ہم نے بہترین استاد، شفیق اور نفیس شخصیت کے مالک سر جمیل احمد سے ملاقات کی۔ اس دوران نعیم سعید کی جانب سے سر جمیل احمد کو ان کے دفتر میں بیان القرآن کی کتاب بطور تحفہ پیش کی گئی۔ یہ ملاقات اساتذہ کے کردار اور مقام کو سراہنے کے لیے ایک خوبصورت موقع تھا، جس میں سر جمیل کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

04/07/2024

سنسان راستے اور کتے

میں اکثر رات کے وقت جب سفر کر رہا ہوتا ہوں، تو میرا واسطہ سنسان راستوں سے ہوتا ہے۔ ایسے راستوں پر کئی بار آوارہ کتوں کے جھرمٹ سے سامنا ہوتا ہے۔ یہ کتے بھونکتے ہوئے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک لمحے کو دل دھک سے رہ جاتا ہے۔ مگر جیسے ہی میں گاڑی روک دیتا ہوں، ان کی قریب آنے کی کوشش ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن یہاں بات ختم نہیں ہوتی۔ کچھ دیر رک کر یا انہیں ڈانٹ کر یا پھر کچھ دور تک بھگا کر ہی مسئلہ حل ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کتوں سے بچنے کے لئے خود کتا بننا پڑتا ہے۔

مجھے لگتا ہے کہ انسانی زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ کئی بار ہمیں انسانی نما کتوں سے واسطہ پڑ جاتا ہے۔ اگر آپ ڈر گئے تو زندگی بھر بھاگتے رہو گے۔ ایک کتے سے جان چھڑاؤ گے تو دوسرا پیچھے لگ جائے گا اور یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا۔ اس کے برعکس، اگر آپ بہادر بن کر اپنے ڈر کا سامنا کرو اور جب کوئی ڈرانے کی کوشش کرے تو پوری قوت اور ہوش و حواس سے جواب دو، تو پھر وہ دوبارہ ہمت نہیں کرے گا۔ آپ کا یہ عمل باقی انسان نما بھیڑیوں کے لئے بھی مثال بن جائے گا۔

زندگی میں ہمیں اکثر ایسے مواقع ملتے ہیں جب ہمیں اپنے خوف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چاہے وہ سنسان راستے پر آوارہ کتے ہوں یا روزمرہ کے مسائل، ہمیں ہمیشہ مضبوطی سے کھڑا ہونا چاہئے۔ خوف سے بھاگنے کے بجائے، اس کا سامنا کر کے اسے شکست دینا ہی اصل بہادری ہے۔

محمد عاکف سعود

07/04/2024

سکھ کے ساتھیوں میں اور دکھ کے ساتھیوں میں فرق ہے ۔۔

Photos from Doabah Friends Club :: Where We Share Our Thoughts ::'s post 21/01/2024

دوآبہ فرینڈز کلب کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آرمان صدیق اور محمد عاکف سعود نے وائس فار ہومینیٹی انٹرنیشنل کی جانب سے سرسید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں منعقد پروگرام میں شرکت کی۔

09/01/2024

Intelligence is the ability to adopt to change.

Stephen Hawking

19/12/2023

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ’’ آپ پر جو بھی زمانہ آئے اس کے بعد والا اس سے شراور برائی میں بڑھ کر ہوگا ‘‘ اس کی حرف بحرف تفسیر واضح ہوچکی ہے ۔ نیزیہ حقانیت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے کہ شریعت جس چیز سے روکتی ہے اس میں معاشرے کی عفت ، عزت ، جان ، ومال اور دین کی سلامتی کی گارنٹی ہوتی ہے ۔ مگرحضرت انسان کب مانے ان شرعی حدود وقیود کو! ضرورتوں مصلحتوں اور حاجتوں کے بھونڈے سہاروں سے اس نے بہت کچھ جو ناجائز تھا اسے جائز کر لیا ہے ۔ انہی معاملات میں ایک معاملہ تصویر کشی کا بھی ہے ۔ اسلام نے تصویر کو قطعی طور پر حرام قرار دیاہے ، اور اس کی حرمت کے حوالے سے قطعی نصوص صحیح بخاری ومسلم ودیگر کتب حدیث میں بکثرت موجود ہیں ۔ ان نصوص میں محض تصویر کی حرمت کا ذکر نہیں بلکہ تصویر کشی سے پیدا ہونے والے ایک ایک ناسور کا ذکر ہے جس میں وضاحت سے بیان کیا گیاہے کہ اگر امت اس گھناؤنے جرم میں مبتلا ہوگئی یہ ایک کینسر ہے جو معاشرے کی رگ رگ میں پھیل جائے گا اور بالآخر لا علاج ہوجائے گا ۔ شرعی نصوص میں تصویر کشی کی جو قباحتیں بیان ہوئی ہیں ان میں چند ایک ملاحظہ ہوں :

۱ :’’ تصویر بنانے والوں کو سب سے سخت ترین عذاب دیا جائے گا ‘‘ (بخاری ومسلم )

۲: ’’ تصویر بنانے والےاللہ تعالیٰ کی صفت خلق میں اس کا مقابلہ کرتے ہیں ‘‘ ۔ ( ایضا )

۳ : ’’ ایسے لوگ سب سے بڑے ظالم ہیں ‘‘ ( بخاری مسلم احمد )

۴ : ’’ تصاویر بنانے والوں کو روز قیامت حکم ہوگا کہ جو بنایا ہے اس میں روح ڈالو لیکن وہ ایسا نہ کرسکیں گے ‘‘ (بخاری ، مسلم اصحاب السنن )

۵: رسول اللہ ﷺ تصاویر سے سخت نفرت کرتے تھے اس گھر میں داخل نہ ہوتے جہاں تصاویر پائی جاتیں ۔ امام بخاری ومسلم اور اصحاب سنن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے ایکتکیہ خریدا جس میں تصاویر تھیں ، جب نبی کریم ﷺ نے انہیں دیکھا تو دروازے پر کھڑے ہوگئے اور گھر میں داخل نہ ہوئے ، سیدہ عائشہ فرماتی ہیں میں نے ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار محسوس کرلئے ۔ تو کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ’’ میں اللہ اور اس کے رسول کے حضور توبہ کرتی ہوں میں نے کیا گناہ کیاہے ؟ آپ نے فرمایا : اس تکیہ کا کیا ماجرا ہے ؟ میں کہنے لگی :’’ میں نے اسے آپ کیلئے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور ٹیک لگائیں ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا’’ یہ تصویریں بنانے والوں کو قیامت کے روز عذاب دیا جائے گا ، اور انہیں کہا جائے گا : اسے زندہ کرو جو تم نے پیدا کیا اور بنایا ہے ۔ ‘‘

۶ : ’’ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں تصویریں ہوتی ہیں ‘‘۔(بخاری ومسلم )

۷ : ’’ تصویریں بنانے والے دنیا کی سب سے بدترین مخلوق ہیں ‘‘۔ ( بخاری ومسلم ، نسائی )

۸ : تصویروں کو مٹانے اور توڑنے کیلئے رسول اللہ ﷺ نےقاصد روانہ کئے ‘‘ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابی ھیاج الاسدی سے کہا کیا میں تمہیں اس مشن پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے روانہ کیا تھا ۔ کہ کسی تصویر کو نہ چھوڑنا کہ اسے مٹادینا اور کسی قبر کو جو زمین سے بلند ہو اسے زمین کے برابر کردینا ۔‘‘ ( صحیح مسلم )

۹ : ’’ اللہ تعالیٰ نے تصویر بنانے والوں پر لعنت کی ہے ‘‘۔

۱۰ : روز قیامت جہنم سے ایک گردن نکلے گی جس کا مقصد تین قسم کے افراد ہوں گے ۔ جن میں ایک تصویر کشی والا بھی ہوگا ۔( سنن ترمذی )

انسانی وجود کے رونگٹے کھڑے کردینے والی وعید پر مشتمل ان نصوص کے باوجود جب انسان عجیب وغریب تأویلات کے ذریعے تصویر کو جائز قرار دے اور معاشرے میں اس کے رواج کا باعث بنےتو یہ کتنی ہی لا پرواہی کی بات ہے ۔

اگر اسی امر کا جائزہ ایک دوسرےپہلوسے لیا جائے اور دیکھا جائے کہ جن علل اور وجوہات کی بنا پر تصویر حرام کی گئی ہے ۔کیا یہ علتین اور وجوہات فوٹوگرافی تصویر میں بھی پائی جاتی ہیں یا نہیں ۔ ویسے تو مسلمان کسی شرعی نص جس میں تحریم کی وضاحت آگئی ہو اتنا زیادہ علل وحکمتوں پر زور نہیں دیتا لیکن لیطمئن قلبی کے ضابطے کے تحت ان حکمتوں پر نظر ڈالتے ہیں ۔

19/12/2023

کوئی شوہر اپنی بیوی سے پاگل پن کی حد تک پیار کیسے کر سکتا ہے؟
ایک بوڑھی خاتون کا انٹرویو

جنہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ پچاس سال کا عرصہ پرسکون طریقے سے ہنسی خوشی گزارا

🍀 خاتون سے پوچھا گیا کہ اس پچاس سالہ پرسکون زندگی کا راز کیا ہے؟

کیا وہ کھانا بنانے میں بہت ماہر تھیں؟

یا پھر ان کی خوبصورتی اس کا سبب ہے؟

یا ڈھیر سارے سارے بچوں کا ہونا اس کی وجہ ہے یا پھر کوئی اور بات ہے؟

🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : پرسکون شادی شدہ زندگی کا دار و مدار اللہ کی توفیق کے بعد عورت کے ہاتھ میں ہے، عورت چاہے تو اپنے گھر کو جنت بنا سکتی ہے اور وہ چاہے تو اس کے برعکس یعنی جہنم بھی بنا سکتی ہے.

اس سلسلے میں مال کا نام مت لیجیے،
بہت ساری مالدار عورتیں جن کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے، شوہر ان سے بھاگا بھاگا رہتا ہے

خوشحال شادی شدہ زندگی کا سبب اولاد بھی نہیں ہے، بہت ساری عورتیں ہیں جن کے دسیوں بچے ہیں پھر بھی وہ شوہر کی محبت سے محروم ہیں بلکہ طلاق تک کی نوبت آجاتی ہے

بہت ساری خواتین کھانا پکانے میں ماہر ہوتی ہیں، دن دن بھر کھانا بناتی رہتی ہیں لیکن پھر بھی انہیں شوہر کی بدسلوکی کی شکایت رہتی ہے

🍀 انٹرویو لینے والی خاتون صحافی کو بہت حیرت ہوئی، اس نے پوچھا :
پھر آخر اس خوشحال زندگی کا راز کیا ہے ؟

🍀بوڑھی خاتون نے جواب دیا : جب میرا شوہر انتہائی غصے میں ہوتا ہے تو میں خاموشی کا سہارا لے لیتی ہوں لیکن اس خاموشی میں بھی احترام شامل ہوتا ہے، میں افسوس کے ساتھ سر جھکا لیتی ہوں.

ایسے موقع پر بعض خواتین خاموش تو ہوجاتی ہیں لیکن اس میں تمسخر کا عنصر شامل ہوتا ہے اس سے بچنا چاہیے، سمجھدار آدمی اسے فوراً بھانپ لیتا ہے

🍀 نامہ نگار خاتون نے پوچھا : ایسے موقعے پر آپ کمرے سے نکل کیوں نہیں جاتیں؟

🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں، ایسا کرنے سے شوہر کو یہ لگے گا کہ آپ اس سے بھاگ رہی ہیں،
اسے سننا بھی نہیں چاہتی ہیں.

ایسے موقعے پر خاموش رہنا چاہیے اور جب تک وہ پرسکون نہ ہوجائے اس کی کسی بات کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے.

🍀 جب شوہر کسی حد تک پرسکون ہوجاتا ہے تو میں کہتی ہوں :
پوری ہو گئی آپ کی بات ؟

پھر میں کمرے سے چلی جاتی ہوں

کیونکہ شوہر بول بول کر تھک چکا ہوتا ہے اور چیخنے چلانے کے بعد اب اسے تھوڑے آرام کی ضرورت ہوتی ہے.

میں کمرے سے نکل جاتی ہوں اور اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہوں.

🍀 خاتون صحافی نے پوچھا : اس کے بعد آپ کیا کرتی ہیں؟ کیا آپ بول چال بند کرنے کا اسلوب اپناتی ہیں؟ ایک آدھ ہفتہ بات چیت نہیں کرتی ہیں؟

🍀 بوڑھی خاتون نے جواب دیا : نہیں !

اس بری عادت سے ہمیشہ بچنا چاہیے،

یہ دودھاری ہتھیار ہے،
جب آپ ایک ہفتے تک شوہر سے بات چیت نہیں کریں گی ایسے وقت میں جب کہ اسے آپ کے ساتھ مصالحت کی ضرورت ہے تو وہ اس کیفیت کا عادی ہو جائے گا اور پھر یہ چیز بڑھتے بڑھتے خطرناک قسم کی نفرت کی شکل اختیار کر لے گی.

🍀 صحافی نے پوچھا : پھر آپ کیا کرتی ہیں؟

🍀 بوڑھی خاتون بولیں :
میں دو تین گھنٹے بعد شوہر کے پاس ایک گلاس جوس یا ایک کپ کافی لے کر جاتی ہوں اور محبت بھرے انداز میں کہتی ہوں: پی لیجیے.

حقیقت میں شوہر کو اسی کی ضرورت ہوتی ہے.

پھر میں اس سے نارمل انداز میں بات کرنے لگتی ہوں.

وہ پوچھتا ہے کیا میں اس سے ناراض ہوں؟

میں کہتی ہوں : نہیں.
اس کے بعد وہ اپنی سخت کلامی پر معذرت ظاہر کرتا ہے اور خوبصورت قسم کی باتیں کرنے لگتا ہے.

انٹرویو لینے والی خاتون نے پوچھا : اور آپ اس کی یہ باتیں مان لیتی ہیں؟

🍀 بوڑھی خاتون بولیں : بالکل، میں کوئی اناڑی تھوڑی ہوں، مجھے اپنے آپ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے.

کیا آپ چاہتی ہیں کہ میرا شوہر جب غصے میں ہو تو میں اس کی ہر بات کا یقین کرلوں اور جب وہ پرسکون ہو تو تو اس کی کوئی بات نہ مانوں؟

خاتون صحافی نے پوچھا : اور آپ کی عزت نفس (self respect) ؟

🍀 بوڑھی خاتون بولیں :

پہلی بات تو یہ کہ میری عزت نفس اسی وقت ہے
جب میرا شوہر مجھ سے راضی ہو
اور ہماری شادی شدہ زندگی پرسکون ہو

دوسری بات یہ کہ شوہر بیوی کے درمیان عزت نفس نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی

جب مرد و عورت ایک دوسرے کے لباس ہیں تو پھر کیسی عزت نفس ؟؟
منتخب

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Karachi
75800

Opening Hours

Monday 17:00 - 22:00
Tuesday 17:00 - 22:00
Wednesday 17:00 - 22:00
Thursday 17:00 - 22:00
Friday 17:00 - 22:00
Saturday 17:00 - 22:00
Sunday 10:00 - 22:00