Sindh Wildlife Department

Sindh Wildlife Department

Share

Wildlife as defined by the Law, includes Organic Resources, Animals, Birds, Reptiles, Vegetation, Soil and Water & Fish.

01/06/2026

ھمارے مقامی جاندار "بلیک راک اگاما" یا "کالی چھپکلی" کو تاریخی اور سماجی اہمیت کی "رن آف کچھ وائیلڈ لائیف سینکچوری کے کاورنجھر پہاڑ" جو کہ ضلع تھرپارکر، سندھ میں واقع ہے، وڈیو میں دو کالی چھپکلیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ان جانداروں کو لاحق خطرات میں مسکن کی تباہی اور جھوٹے عاملوں کی طرف سے کالے جادو میں استعمال کے لیے انکو پکڑنا شامل ہے۔
چٹانی علاقوں کے اس سپر کیموفلاجڈ رہائشی کو انکے مسکن میں ڈھونڈنا یا دیکھ پانا آسان نہیں ہوتا۔ انکا کارگر اکالوجیکل رول ہے۔ یہ ایکو سسٹم میں کیڑوں مکوڑوں کی آبادی کو قابو رکھتے ہیں۔ مزید کہ ان سمیت انکی برادری کی کئی دوسری اقسام کی چھپکلیاں در اصل خود بھی کسی جاندار کی خوراک بنتی ہیں اور یوں حیاتیاتی تنوع میں ایک شاندار توازن قائم ہوکر بنی نوع انسان کی بقا کے لیے مطلوبہ فوڈ سیکیورٹی یقینی بنتا ہے۔
زندگی تمام اشکال میں کارآمد اور مقدس ہے جس پر مذاھب، سماجی قوانین و مکتبہ فکر اور سائنس کا اجماع ہے۔ جنگلی حیات کی زندگی نگاہ قدر کی طلبگار ہے۔ مظاہرِ فطرت میں جاندار کارآمد کردار کے حامل ہوتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال:
"نہیں ہے چیز نکمّی کوئی زمانے میں،
کوئی بُرا نہیں قُدرت کے کارخانے میں"۔
🇵🇰

31/05/2026

یہ لازم ہے کہ شجرکاری پر بات کرنے یا سننے سے پہلے ٹاپک "Succession of Plant Communities and Dynamics of Natural Vegetation" کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات حاصل کرلی گئی ہے ورنہ نیم حکیم والی کیفیت رہیگی۔
کیا آپ جانتے کہ 'ٹراپیکل تھارن فاریسٹ ٹائیپس" کونسے اکالوجیکل حالات میں وجود میں آتے ہیں اور پاکستان میں کونسی سول/جیوگرافکیل ڈویژنز میں ٹراپیکل تھارن فاریسٹ ٹائیپس واقع ہیں، انکی اکالوجیکل سروسز کیا ہیں اور Indigenous Flora and Fauna Species کی اکالوجی میں کیا اھمیت ہے؟ اور انکا علم رکھنا ھر ایک کے لیے کیوں ضروری ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ " ٹراپیکل تھارن فاریسٹ ٹائپ" کے رہائشی اور ہمارے مقامی جاندار 'نیل گائے' المعروف 'بلیو بل' کو یہ نام مصر کی نیل ندی سے نہیں بلکہ نر جانور کے نیلاہٹ مائل رنگ کی وجہ سے ملا؟
نیل گائے کا فطری مسکن "ٹراپیکل ٹھارن فاریسٹ ٹائیپس" میں واقع کھلے میدانوں والی چراگاہیں اور کھلے جنگلات ہیں جہاں پر موجود پلانٹ کمیونٹیز کے اسٹرکچر کو تشکیل دینا ان کی اولین اکالوجیکل سروس مانی جاتی ہے۔ انکو لاحق خطرات میں انسانی ترقی و مسکن کی تباہی شامل ہیں۔
برصغیر کی ثقافت میں نیل گائے کا مقام ہے۔ مغلیہ دور کے معروف مصور استاد منصور، ابو الحسن اور مسکین نے نیل گائے کو اپنے دیواری تصویروں اور دیگر فن پاروں میں خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
‎ 🇵🇰

30/05/2026

وائیلڈ لائیف وڈیوگرافی مشکل اور صبر آزما کام مانا جاتا ہے۔ یہاں پوسٹ کی گئی وائیلڈ لائیف ویڈیوز کسی ڈجیٹل پلیٹ فارم سے حاصل نہیں کی جاتیں بلکہ اوریجنل پروڈکشن اور صوبہ سندھ کے جنگلی حیات اور مقامات کی ہوتی ہیں۔
ہماری پالیسی ایک سادہ سے پیغام میں ہمارے جانداروں کا تعارف پیش کرنا ہے تاکہ جنگلی حیات کے بارے میں آگاہی بڑھے، انکے مسائل اجاگر ہوں۔ ھمارا مقصد تعلیمی ہے اور سندھ وائیلڈ لائیف کے پلیٹ فارم سے یہ ٹاسک محدود ترین وسائل سے کیا جاتا ہے۔ امید کرتے ہیں کہ ہمارے پیغامات کو پڑھنے اور وڈیوز کو دیکھنے سے آگاہی حاصل ہو (انشااللہ)
ھمارے ملک اور صوبہ سندھ کے مقامی پرندے "لٹل گریب" کو آپ نے پانی کے تالابوں میں دور سے دیکھا ہوگا کیونکہ آبگاہوں کے رھائشی یہ پرندے بےحد شرمیلے و پھرتیلے ہوتے ہیں۔ اپنے قریب آنے کی ہر کوشش پر پانی میں غوطہ لگا کر غائب ہوجا تے ہیں اور وسیع رقبے پر پھیلے تالابوں میں کسی مقام پر نمودار ہو جاتے ہیں۔
زیر نظر ویڈیو کے پہلے حصے میں مقامی پرندے "لٹل گریب" کا جوڑا اپنی آنے والی نسل کی حفاظت کیلئے اقدامات کرنے میں مصروف نظر آرہا ہے، جبکہ دوسرے حصے میں رواں موسم میں پیدا ہوئی نئی نسل کی مسکن میں تربیت کی جا رہی ہے۔
‎ 🇵🇰

29/05/2026

ملیے خوبصورت مھمان 'اسکائی لارک' سے جو دیکھنے میں چڑیا کی طرح پر سائز میں تھوڑا سا بڑا ہوتا ہے۔ ان ہی کی برادری کے ایک رکن کی سریلی آواز پر متوجہ ہوکہ انگلینڈ کے مشھور زمانہ شاعر 'شیلے' نے انکو خراج تحسین پیش کرتے نظم "ٹو اے اسکائی لارک" لکھ ڈالی۔
لارک پرندوں کی دنیا بھر میں 100 سے زائد اسپشیز پائی جاتی ہیں، ان میں 15-20 پاکستان میں کچھ مقامی رھائشی جبکہ چند ایک سردیاں گزارنے آتے ہیں۔ انکی خوراک میں جنگلی گھاس کے بیج اور کیڑے مکوڑے وغیرہ شامل ہیں۔ انکو کسان دوست پرندہ مانا جاتا ہے۔
‎ 🇵🇰

26/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ "گریٹر پینٹیڈ سنائپ" نامی پرندوں میں نر کے ذمے بچوں کی دیکھ بھال کرنا شامل ہے؟ اور یہ پرندے شرمیلے مزاج کے حامل، انتہائی سیکریٹو اور سپر کیموفلاجڈ ہوتے ہیں، اتنا کہ ان کو دیکھنا ایک مشکل ٹاسک مانا جاتا ہے۔ ہلکی سی آہٹ کو نوٹ کرتے ہی ویٹ لینڈس کی گھنی گھاس میں گم ہوجاتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ پرندوں میں عام طور پر نر خوبصورت اور کلر فل ہوتے ہیں لیکن "گریٹر پینٹیڈ سنائپ" کی مادہ خوبصورت، کلر فل اور سائز میں بڑی ہوتی ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں پرندوں میں کورٹ شپ ڈولپمینٹ کے لیے ڈسپلے عموماً نر کرتا ہے لیکن ان پرندوں میں ایسا برتاؤ مادہ کرتی ہے؟
زیر نظر ویڈیو ميں ہمارے مقامی پرندے اور "آبگاہوں ہے سلطان" کے طور شہرت کے حامل "گریٹر پینٹیڈ سنائیپ" کو صوبہ سندھ کی ایک ویٹ لینڈ میں ٹہلتے دیکھا جاسکتا ہے۔ انکی خوراک میں آبی کیڑے مکوڑے اور دیگر چھوٹے سائز کے انورٹیبریٹس شامل ہیں اور انکی موجودگی ویٹ لینڈس کی صحت کی نشاندھی کرتی ہے۔
🇵🇰

23/05/2026

کیا آپ دو امریکی خواتین کے بارے میں جانتے ہیں جنہوں نے 1890 کی دہائی میں پرندوں کے پروں کے گچھے کو ٹوپی یا ہیٹس میں لگانے کی رسم کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا؟ اور انکی جدوجھد کو کامیابی ملی۔
کيا آپ امریکن جسٹس اولیور وینڈل کے 1920 میں دیے گئے تاریخی فیصلے کے بارے میں جانتے ہیں جس میں انھوں نے 100 فیصد میجارٹی سے فیصلہ لکھتے ہوئے پرندوں کے تحفظ کو "انسانی اور قومی مفاد" قرار دیا اس طرح مائگریٹری برڈز کے تحفظ کی تحریک کو زندگی ملی۔
گریٹ ایگریٹ اور انکی برادری کے کچھ پرندوں کی گردن پر خاص قسم کے خوبصورت پر ہوتے ہیں جو تولیدی سیزن میں مزید نمایاں ہو جاتے ہیں اور یہ پرندے مادہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ان پروں کی نمائش کرتے ہیں۔ ماضی میں ان پرندوں کو ان کی خوبصورت پروں کے گچھے کی وجہ سے مارا جاتا تھا اور حاصل کیے گئے پروں کو امیر خواتین اپنے ہیٹس میں اسٹیٹس سمبل کے طور پر لگاتی تھیں۔ ایک تحقیق کے مطابق انیسویں صدی کے اوائل میں دنیا کے صرف ایک مشھور شہر کی مارکیٹس میں ایک لاکھ تیس ھزار ایگرٹ پرندوں سے حاصل کیے گئے پر فروخت ہوئے۔ کالونیل دور میں ایگرٹ (بگلا) کو اتنا مارا گیا کہ انکی نسل ختم ہونے لگی۔
ویڈیو میں نظر آنے والے سفید پرندے"گریٹ ایگریٹ" لنگھ جھیل وائیلد لائیف سینکچوری لاڑکانہ سندھ میں ,دیکھے جا سکتے ہیں اور صوبہ بھر میں ٹوپی پر انکے پروں کا گچھا لگانے کی تاریخ میں کوئی روایت نہیں رہی ہے۔
🇵🇰

21/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ شرمیلا مزاج رکھنے والا خوبصورت پرندہ "گولڈن اوریئول" مشھور شاعر جان کیٹس کی شاعری کا موضوع بنا؟ اور خوبصورت پرندے "گولڈن اوریئول" کو دیکھنے کے لیے درست اوقات کونسے ہیں؟
ان کو دیکھنے کے درست اوقات صبح سورج نکلنے سے چند لمحے پہلے اور کچھ ہی دیر بعد تک آئیڈیل ہوتے ہیں کیونکہ صرف یہ ہی ٹائیم ہے جب دیکھنے والے کو سمجھ میں آ سکتا ہے کہ انکا نام میں لفظ "گولڈن" کیوں ہے، لیکن ان کا مشاہدہ ایک مشکل ٹاسک ہے۔ اکثر یہ سنائی پہلے دیتے ہیں اور دکھائی بعد میں۔
باغات، درختوں کے گروپس اور اوپن فاریسٹ والے مسکن "گولڈن اوریئول" کو دیکھنے کے مقامات ہیں لیکن صرف صبح سورج نکلنے سے پہلے جب اسکا نمایاں سنہری مائل رنگ دیکھنے والے پر سحر طاری کرتاہے۔ دن کے باقی حصے میں کم نظر آتا ہے۔ مادہ کے مقابلے میں نر کا مزاج شرمیلا ہوتا ہے۔ انکی خوراک میں کیڑے مکوڑے، جنگلی فروٹس، بیریز اور پھولوں کا رس شامل ہے۔
🇵🇰

19/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ کچھ پرندے "خانہ بدوش Nomadic" برتاؤ کے حامل ہوتے ہیں جو مائیگریٹری برڈز کی مائیگریشن سے مختلف ہے؟ اور ایسا برتاؤ زیادہ تر مقامی صحرائی پرندوں میں نظر آتا ہے، کیونکہ صحرائی اور بارانی علاقے غیر متوقع ہوتے ہیں۔ بارش ایک علاقے میں پڑ سکتی ہے اور دوسرے میں نہیں تو ان حالات میں پرندے خوراک سے بھرپور علاقوں کی طرف منتقل ہوتے ہیں۔ اسطرح ایک سال میں کسی علاقے میں بڑی تعداد میں پرندے ہو سکتے ہیں تو اگلے سال وہاں انکی تعداد کم ہو سکتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ انسان نے "ٹرمپیٹر" یعنے "بِگُل" کا استعمال تاریخی طور پر جنگ کے میدانوں میں سپاہ کو جنگی اشارے و احکامات دینے کے لیے، مذھبی و سیاسی تقریبات میں شرکا کی اھمیت کے اظہار اور جنگلات و بیابانوں میں اپنی موجودگی کا پیغام دینے کے لیے کیا ہے؟
کیا آپ نے ھمارے مقامی بیابانوں کے باسی پرندے "ٹرمپیٹر فنچ" نامی پرندے کی بگل سے ملتی آواز کبھی سنی ہے؟ یا انکے بارے میں جانا ہے؟
زیر نظر وڈیو میں تھر کے مقامی پودے گگرال کی ٹہنی پر بیٹھے صحرائے تھر کے باسی ٹرمپیٹر فنچ نامی پرندے کو ٹیکسانومسٹس نے یہ نام مشہور زمانہ آلہ "بِگُل" کی نسبت سے دیا۔ بیابانوں میں انکی بِگُل کی طرح گونجتی کال بہار کے آغاز کا پیغام، بریڈنگ سیزن میں ساتھی کی تلاش، خوراک کے اوقات میں دوستوں اور حدود میں دراندازوں کو وارننگ کے لیے ہوتی ہے۔ انکا اکالوجیکل کردار بیج کے پھیلاؤ کے لیے اھم ہے۔
انسانی سماج میں خانہ بدوشوں اور مستقل آبادیوں میں رہنے والوں کی درمیان زیادہ تر تہذیبی تصادم رہا ہے اور خانہ بدوشوں کو کبھی بار بیرین یعنی وحشی تو کبھی شریف وحشی کہا گیا، لیکن نظام فطرت انسانی سماج کے پیدا کردہ تفرقات والی سوچ سے پاک ہے اسلیے مقامی رہائشی پرندوں اور خانہ بدوش پرندوں میں کبھی تصادم کی فضا کے فروغ کا ماحول قائم نہیں ہوا۔
نظام فطرت کی نشانیاں غور و فکر کرنے والوں کے لیے رہنما اصول فراھم کرتی ہیں۔
🇵🇰

18/05/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ "سندھ آئی بیکس" ایک حساس، چوکنا اور انسانوں سے ڈرنے والا جاندار ہے؟
محفوظ فاصلے سے بنائی گئی وڈیو میں سندھ آئی بیکس المعروف "سرھ" کے ایک بڑے گروپ کو کھیر تھر نیشنل نیشنل پارک حدود کی چراگاہوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔
وائیلڈ لائیف بیالوجی، اکالوجی اور مینجمنٹ سائنس میں جانداروں کے مشاھدہ کرنے کی ٹیکنیکس بتائی گئی ہیں۔ شوقین حضرات کم از کم ایک دفعہ زندگی میں ان سبجیکٹس کا مطالعہ ضرور کریں۔ کھیرتھر نیشنل پارک کے جیوگرافیکل فیچرز اور دیگر معلومات کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا سندھ وائیلڈ لائیف کے رٹائرڈ افسر غلام سرور جمالی جنہوں نے اپنی زندگی کھیرتھر پہاڑی سلسلے میں تحفظ جنگلی حیات میں گزاری نوجوانوں کے لیے مشعل راہ جیسے ہیں اور انکے بنا کھیرتھر پہاڑیوں کا ذکر ادھورا رہتا ہے۔
سندھ آئی بیکس کا مشاھدہ کرنے اور وائیلڈ لائیف فوٹوگرافی کے شوقین حضرات سے گزارش ہے کہ عمودی پہاڑیوں پر واقع انکی آرام کرنے یا ریسٹنگ والی جگہوں تک پہنچنے سے گریز کریں کیونکہ انکی سونگھنے کی حس تیز ہوتی ہے اسلیے اپنے علاقے میں انسانی آمد کی خوشبو فوراً پہچان لیتے ہیں اور اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کرتے ہیں اور ایسا غیر محفوظ علاقہ چھوڑنا انکی ترجیع بن جاتا ہے۔ انکے علاقوں میں جانے کا درست وقت صبح سورج نکلنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اپنے ساتھ تجربہ کار گائیڈ لیں۔ جاتے وقت اپنے آپ کو کیموفلاج کریں اور ھوا کا رخ نوٹ کریں۔ انکو دیکھنے کے لیے ہانکا نہ کریں کیوں کہ یہ شدید تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان کے اوپر ڈرون اڑانے سے گریز کریں بصورت دیگر یہ سنگین خلاف ورزی مانی جاتی ہے۔ انکو دیکھنے کا سائنسی طریقہ دوربین اور بہترین وقت " رٹ" سیزن ہوتا ہے جو کہ نروں اور ماداؤں کی ملاقات کا سالانہ میلہ جیسا ہوتا ہے۔
دنیا بھر میں آئی بیکس کی 5 اسپشیز پائی جاتی ہیں۔ ٹیکسانومسٹس میں اس حوالے سے تھوڑا سا اختلاف موجود ہے البتہ اکثریت کے مطابق دنیا بھر میں "آئی بیکس" کی اسپشیز جو کہ سائبیرین، الپائین، نیوبین، والیا اور اسپینش آئی بیکس ہیں۔ صوبہ سندھ کے پہاڑی سلسلوں میں پایا جانے والا 'سندھ آئی بیکس' سائبیرین آئی بیکس' برادری سے تعلق رکھتا ہے جن میں موسم اور خوراک کے فرق کی وجہ سے البتہ تھوڑی بہت جسمانی تبدیلی نظر آ سکتی ہے لیکن جینیاتی لکیر ایک ہی ہے۔
آئی بیکس کو "پہاڑی علاقوں کا 'اسٹنٹ مین" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ بے حد پھرتیلے اور انتہائی عمودی پہاڑی چڑھائیاں پلک جھپکتے میں عبور کرتے ہیں۔ انکا اکالوجیکل رول پہاڑی علاقے کی جنگلی ویجیٹیشن کو ریگیولیٹ کرنا اور پرے پریڈیٹر رلیشن شپ مین "آئی کونک" اسپشیز کے طور ہے۔
کھیرتھر نیشنل پارک جہاں 600 سے زائد چرند، پرند اور نباتات پائے جاتے ہیں ایک وسیع و عریض رقبہ پر مشتمل ہے اور ملحقہ پہاڑی علاقے سندھ آئی بیکس کا مسکن ہیں جہاں سندھ وائیلڈ لائیف ڈپارٹمنٹ کی چار وائیلڈ لائیف ڈویژنز کا ڈھائی سو کے لگ بھگ عملہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے محدود وسائل میں کام کر رہا ہے۔
آرکیالوجی ماھرین کے مطابق صوبہ سندھ میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے سمیت دیگر پتھروں پر ملنے والے "راک آرٹ" میں 'آئی بیکس' کی نمایاں موجودگی سے تاریخ کے جھروکوں میں دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ دنیا کی ثقافتوں میں آئی بیکس کو مقام حاصل ہے، کچھ نے انکو چاند سے تشبیہہ دی، کچھ نے زرخیزی سے جبکہ کچھ ثقافتوں میں انکو بد روحوں کے اثر سے بچانے والا قرار دیا۔ بدقسمتی سے ہمارے موجودہ پس منظر میں جہالت کا لبادہ پہنے شکاریوں نے اسکو صرف شکار کرنے اور حلال گوشت کے طور جانا ہے۔
🇵🇰

17/05/2026

وائیلڈ لائیف بیالوجی کے مطابق جنگلی خرگوش کی دنیا میں لگ بھگ 32 سے 35 اسپشیز ہیں۔ انکا اکالوجیکل کردار شاندار ہوتا ہے۔ یہ ریگستانی اور خشک علاقوں کے ایکوسسٹم انجنیئر مانے جاتے ہیں کیونکہ یہ ان علاقوں کی پلانٹ کمیونٹی اور انکے اسٹرکچر کو ترتیب دینے کی فطری صلاحیت کے حامل ہوتے ہیں۔ جنگلی خرگوش نظام فطرت کے خوراک کے سرشتہ کے اھم رکن مانے جاتے ہیں کیوں کہ یہ ایکو سسٹم سے خوراک حاصل کرتے ہیں اور خود بھی کسی ایکو سسٹم میمبر جیسا کہ فاکس، جیکال، وولف، جنگل کیٹس وغیرہ کی خوراک میں شامل ہوتے ہیں۔ انکی نسل کو لاحق خطرات میں مسکن کی تباھی اور غیر قانونی شکار شامل ہیں۔
مثنوی رومی میں شیر اور خرگوش کی کہانی یا پھر چینی، چاپانی اور کورین تاریخی روایات یا لاطینی اور فراعین مصر کے دور کے آرٹ نمونے جن میں خرگوش کا علامتی ذکر موجود ہے یا پھر ایسٹر بنی جیسے علامتی تذکرے، اور اگر ہمارے اسماعیل میرٹھی کی کچھوا اور خرگوش کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہتی ہے اور یہ بات تو البتہ طئے ہے کہ قدیم اور جدید دور کے انسان نے خرگوش کی موجودگی کو نوٹ کیا اور اپنے طور اظہار کیا۔
🇵🇰

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Near PIA Booking Office Mulana Din Muhammad Wafai Road Saddar Karachi
Karachi
74200

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 17:00