31/07/2024
آج کراچی بار میں وکلا کی طرف سے بلوچ یکجتی کمیٹی کی حمایت میں ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا جس کو ریڈ لائرز اور عوامی لائرز فرنٹ نے آرگنائز کیا احتجاج میں شرکا سے بیرسٹر خلیل احمد شاہ ، حاتم خان ایڈوکیٹ ، ماجد بھیو ایڈووکیٹ ، حسیب پنھور ایڈوکیٹ ، کامریڈ ایوب بلوچ ایڈوکیٹ ، ایڈووکیٹ اسرار شاہ نے خطاب کیا اور گوادر میں راج مچی کے شرکا پر کیے گئے تشدد اور گرفتاریوں کی مذمت کی ۔
28/07/2024
گوادر میں ’بلوچ راجی مچی‘ کے ساتھ اظہار یکجہتی: این ایس ایف اور آر ایس ایف کا مشترکہ اعلامیہ
جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن (جے کے این ایس ایف) اور ریوولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ(آر ایس ایف) نے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام 28جولائی کو گوادر کے مقام پر منعقد ہونے والے ’بلوچ راجی مچی‘(بلوچ قومی اجتماع) کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا ہے۔
مشترکہ طور پر جاری کی گئی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہم بلوچ عوام کی نسل کشی، ریاستی جبر، ترقیاتی منصوبوں کے نام پر وسائل کی لوٹ مار، بلوچستان کو سکیورٹی کے نام پر فوجی چھاؤنی بنانے اور بلوچ محنت کشوں پر ہونے والے قومی و طبقاتی جبر و استحصال کے خلاف منعقد ہونے والے اس اجتماع کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
آج فلسطین سے بلوچستان، پختونخوا اور جموں کشمیر و گلگت بلتستان تک پوری دنیا اس سامراجی سرمایہ دارانہ نظام، بالادست طبقات اور ریاستوں کے ہاتھوں بدترین جبرو استحصال کا شکار نظر آتی ہے۔ جوں جوں اس نظام کے بحران میں شدت آتی جا رہی ہے، دنیا کے اربوں محکوموں، مزدوروں اور نوجوانوں کی زندگیاں تلخ سے تلخ تر ہوتی جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی اس نظام کی لوٹ مار کو جاری رکھنے کیلئے ریاستی جبر اور سامراجیت کی ننگی جارحیت محنت کشوں اور نوجوانوں پر مسلط کی جا رہی ہے۔
بلوچستان پچھلے 75سال سے بالعموم اور پچھلی دو دہائیوں سے بالخصوص ظلم و بربریت اور قومی و طبقاتی جبرکی ایک درد بھری داستان بن کر سامنے آیا ہے۔ تعلیم کا یہ عالم ہے صرف 5 فیصد بچیاں سکول جا پاتی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے اعلی تعلیم کی کوئی قابل ذکر سہولت موجود نہیں ہے۔ مجبوراً ان نوجوانوں کو بلوچستان سے باہر جا کر تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ وہاں بھی انہیں ریشل پروفائلنگ، پولیس گردی، جبری گمشدگیوں اور بدترین تذلیل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس سب سے اگر بچ بھی جائیں تو ایف سی کے ہاتھوں حیات بلوچ کی طرح ماں باپ کے سامنے 16 گولیاں سینے میں اتار دی جاتی ہیں۔ علاج کی کوئی سہولت بلوچستان میں اس وقت موجود نہیں ہے اور غربت کے مارے بلوچ مرد اور خواتین کوحالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ نیا روزگار دینا تو درکنار، سرحدوں کو تالے لگا کر صدیوں سے ہونے والی تجارت سے پیدا ہونے والے لاکھوں لوگوں کے روزگار کو بھی ختم کر دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کے پورا بلوچستان خوراک کی اس قدر شدید قلت کا شکار ہے کہ اکثریتی پچے سٹنٹد گروتھ کا شکا ر ہوچکے ہیں۔
اگرچہ یہ ریاست ایک سامراجی ریاست ہے،مگر اسکے حکمران طبقے کی اوقات ہمیشہ مختلف سامراجی لوٹ مار کے کمیشن ایجنٹ سے زیادہ کبھی نہیں رہی۔یہی وجہ ہے کہ اب بلوچستان کو چینی سرمائے کے ہاتھوں بیچا جا رہا ہے۔ نام نہاد میگا پراجیکٹس کے نام پر سامراجی لوٹ مار کا ایک نیا سلسلہ چل پڑا ہے، جس سے یہاں کے حکمرانوں کی تجوریاں تو بھریں گی مگر محکوم بلوچوں کی زندگیوں میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ گوادر پورٹ،جہاں گوادر کے رہنے والے بھی نہیں جا سکتے،کی وجہ سے ہزاروں ماہی گیروں کا روزگار تیزی سے ختم ہورہا ہے اور وہاں مجود آبی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں۔ تاہم اس خطے میں صرف چینی مفادات نہیں بلکہ امریکہ کی قیادت میں مغربی سامراجی ممالک اور کمپنیوں کے بھی سیاسی و معاشی مفادات موجود ہیں۔ وہ ریکوڈک میں موجود سونے کی آسٹریلوی کمپنیوں کے ہاتھوں لوٹ مار ہو، یا چین کی گوادر کے ذریعے گرم پانیوں تک رسائی کو روکنا مقصود ہو،ان سا مراجی ہاتھیوں کے ٹکراو اور انکی پراکسی جنگوں میں معصوم بلوچوں کا قتل عام مسلسل جاری ہے۔
ہم بلوچ محکموں کی ہر قسم کے سامراجی قبضے کے خلاف لازوال جدوجہد کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور بلوچستان سمیت تمام محکوم قوموں کے اپنے وسائل پر حق ملکیت کی جدوجہد میں عمل ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ بلوچستان کا مقامی حکمران طبقہ کیسے اس سامراجی لوٹ مار میں نہ صرف برابر کا شریک ہے،بلکہ شاہ سے بڑھ کر شاہ کا وفادار بننے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ چند ماہ پہلے بلوچ خواتین اور نوجوانوں کا اسلام آباد میں دھرنہ ہو یا آج ہونے والا بلوچ راجی مچی،مقامی حکمرانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ انکی وفاداری بلوچ محکوم اقوام کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے مالی مفادات اور اپنے طبقے کے ساتھ ہے۔ ہم بلوچ سیاسی کارکنان کے خلاف ہونے کریک ڈاون کے شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور چیئر مین بی ایس او جیند بلوچ سمیت تمام اٹھائے گئے طلبہ اور سیاسی کارکنوں کو فی الفور بازیاب کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس جنگ میں بلوچستان کے حاکموں کی باقی سامر جی آقاؤں کے ساتھ ایک طبقاتی جڑت نظر آتی ہے۔بالکل ویسے ہی بلوچ محکوموں اور محنت کشوں کی باقی تمام محکوموں اور محنت کشوں کے ساتھ ہی جڑت بن سکتی ہے۔ دنیا میں صرف زیر دست طبقات ہی ایک دوسرے کا دکھ سمجھ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے لڑ سکتے ہیں۔ جس کا عملی نمونہ پھر ہم نے ماہ رنگ بلوچ، سمی بلوچ اور بیبو بلوچ کی قیادت میں ہونے والے اسلام آباد لانگ مارچ میں لازوال طبقاتی جڑت میں دیکھا۔ یہی وہ جڑت ہے جس سے یہ ریاست اور یہ نظام خوف زدہ ہے اور جانتا ہے کہ اگر یہ ناقابل تسخیر اتحاد وجود میں آگیا تو اس نظام کی یہ کھوکھلی ریاستیں ایک دن بھی نہیں ٹک سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکمران طبقات مسلسل ہمیں رنگ، نسل، زبان، قوم، مذہب اور فرقوں جیسے فروعی تعصبات میں الجھا کر ظالم اور مظلوم کے ابدی تضاد سے توجہ ہٹانے کی کوشس کرتے رہتے ہیں۔ ہمیں حکمرانوں کے اس ناپاک اور مکروہ ’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ کے فارمولے کے خلاف مسلسل جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔ اس اوزار(انقلابی پارٹی) کی تعمیر کو تیز کرنا ہوگا،جو اس استحصالی نظام کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ کرکے یہاں ایک ایسا نظام قائم کرے، جس میں تمام قوموں کو آزادی کے ساتھ جینے کا حق ملے اور طبقات جیسی لعنت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔
02/05/2024
#کراچی
آج مورخہ 02/05/2024 کو،ریڈ لائرز اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کی طرف سے سٹی کورٹس آف کراچی میں یوم مئی کے حوالے سے شہدائے شکاگو کو خراج تحسین پیش کرنے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی ، غربت ،بے روزگاری ، لا علاجی اور اشیا خوردونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس کو چیئر ایڈووکیٹ حاتم خان نے کیا ،پروگرام کا آغاز ایڈووکیٹ ایوب بلوچ نے انقلابی شاعری پڑھ کر کیا ، اس کے بعد تقریروں کا سلسلہ جاری ہوا ، جس میں ایڈووکیٹ راجہ کرامت ، ایڈووکیٹ شعیب مری بلوچ ، ایڈووکیٹ ، رحمان کورائی ،مزدور کسان پارٹی کے رہنما اورنگزیب بنگش ، عابد بزدار ، ایڈووکیٹ حنیف دلمراد نے تقاریر کی اور آخر میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ نے بھی شرکا سے خطاب کیا ۔
01/05/2024
#کراچی
آج یوم مئی عالمی مزدور ڈے کے حوالے سے مختلف ٹریڈ یونین کی طرف سے کراچی پریس کلب پہ ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکا نے مہنگائی بے، روزگاری ، لا علاجی، دہشت گردی ، ورلڈ بینک ،اور ائی ایم ایف کے خلاف شدید نعرے بازی کی ریلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف بھی بھر پور نعرے بازی کی گئ اور فلسطین کے ساتھ اظہار یکجتی کے طور پر فلسطینی پرچم لہرائے گئے ریلی میں پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے وفد نے بھرپور شرکت کی ۔
25/03/2024
سیمنار
آن مورخہ 25 مارچ بروز سوموار شہید بھگت سنگھ کے 93 یوم شہادت کے موقع طبقاتی جدوجہد ، ریڈ لائرز اور ریولیوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کراچی کی طرف سے نیو بار روم میں ایک سیمنار کا انعقاد کیا گیا جس میں چیئر کے انتظامات ایڈووکیٹ حاتم خان نے سرانجام دیے ، ایڈووکیٹ ایوب نے سیمنار میں شُرکا کو ویلکم کرتے ہوئے کامریڈ بھگت سنگھ کی جدوجہد پر روشنی ڈالی اس کے بعد میں بیرسٹر خلیل احمد شاہ ، ایمل خان کاسی ایڈووکیٹ ، سفیر حُسین الہٰی ایڈووکیٹ ، رحمان خان کورائی ایڈووکیٹ اور حنیف بلوچ سنیر صحافی اور کالم نگار نے بحث کو آگے بڑھایا اور آخر میں کامریڈ سارنگ جام نے بحث کو سمیٹا اور اس طرح پروگرام اختتام کو پہنچا 🚩
🚩
22/03/2024
کراچی سیمنار
بھگت سنگھ کی 93 ویں یوم شہادت کے موقع پر ہم سٹی کورٹس آف کراچی میں 25 مارچ 2024 ، بوقت 1:30 بجے دن نیو بار روم میں ایک سیمنار کا انعقاد کرنے کی طرف جارہے ہیں جس میں آپ تمام ترقی پسند تنظیم کے ساتھیوں ، وکلا اور سول سوسائٹی کے دوستوں کو شرکت کی اپیل کی جاتی ہے ۔
🚩
24/11/2023
آج کراچی آرٹس کونسل سے پریس کلب تک PSC کی طرف سے طلبہ یکجتی مارچ کا انعقاد کیا گیا جس میں RSF اور طبقاتی جدوجہد کے کامریڈز نے بھی شرکت کی 🚩
🚩
10/10/2023
کراچی پریس کلب پہ عوامی حقوق کے پلیٹ فارم سے فلسطین پر جاری اسرائیلی جارحیت اور سامراجی حملوں کے خلاف کراچی پریس کلب پر احتجاج ، احتجاج میں جنگ کی مخالفت میں نعرے لگائے گئے ، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کراچی کے دوست بھی احتجاج میں یکجتی کے طور پر شریک ہوئے ✌️
10/10/2023
آج کراچی پریس کلب پر کشمیر میں جاری تحریک کی حمایت اور اس کے ساتھ اظہار یکجتی کرتے ہوئے ، عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی اور کشمیر کمیونٹی کے لوگوں کی طرف سے احتجاج کیا گیا ، اس احتجاج میں عوامی ایکشن کمیٹی کے تمام تر مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیر میں جاری تحریک میں لوگوں کے مطالبات تسلیم کیے جائیں اور سیاسی اسیران کو فل فور رہا کیا جائے ، یاد رہے کہ احتجاج میں طبقاتی جدوجہد، ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور جموں و کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے وفد نے بھی شرکت کی اور کامریڈ صائمہ بتول نے احتجاج میں شریک لوگوں سے خطاب بھی کیا 🚩
24/09/2023
آج ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ کی طرف سے کراچی میں پاکستان کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اس پہ عوامی ردعمل کے حوالے سے ایک میٹنگ کا انعقاد ۔
🚩
14/08/2023
آج کراچی میں ریولوشنری سٹوڈنٹس فرنٹ اور جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن کی طرف سے "بٹوارے کے 76 سال " کے عنوان سے سٹڈی سرکل کا انعقاد کیا گیا ، سرکل کو چیئر حاتم خان نے کیا اور سٹڈی سرکل کو اوپن کرتے ہوئے صائمہ بتول نے برصغیر کے تاریخی پس منظر کو پیش کرتے ہوئے بٹوارے کے اثرات اور پاکستان کی موجودا صورتحال پہ تفصیلی بحث کی ، اس کے بعد عابد حسین ، حسن شر ، عبدالسلام نے بحث کو آگے بڑھایا اور آخر میں کامریڈ صائمہ بتول نے سوالات کو دیکھتے ہوئے بحث کو سمیٹا ۔
🚩