آپ کے مسائل اور ان کا حل قرآن وحدیث کی روشنی میں

آپ کے مسائل اور ان کا حل قرآن وحدیث کی روشنی میں

Share

آپ کے مسائل اور قرآن وحدیث سے ان کا حل

27/09/2020
24/03/2020


سوال
آج کل کرونا وائرس کی وجہ سے لوگ ماسک پہن کر نماز پڑھتے ہیں اور ہمارے امام صاحب بھی ماسک پہن کر نماز پڑھاتے ہیں اس طرح نماز پڑھنا اور پڑھانا درست ہے؟

جواب
فقہاءِ کرام نے لکھا ہے کہ عام حالات میں بلا عذر ناک اور منہ کسی کپڑے وغیرہ میں لپیٹ کر نماز پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے، البتہ اگر کسی عذر کی وجہ سے نماز میں چہرہ کو ڈھانپا جائے یا ماسک پہنا جائے تو نماز بلا کراہت درست ہو گی؛ لہٰذا موجودہ وقت میں وائرس سے بچاؤ کی تدبیر کے طور پر احتیاطاً ماسک پہن کر نماز پڑھنے سے نماز بلاکراہت ادا ہوجائے گی۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 652):
"يكره اشتمال الصماء والاعتجار والتلثم والتنخم وكل عمل قليل بلا عذر".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1/ 652):
"(قوله: والتلثم) وهو تغطية الأنف والفم في الصلاة؛ لأنه يشبه فعل المجوس حال عبادتهم النيران، زيلعي. ونقل ط عن أبي السعود: أنها تحريمية".

جہاں تک مذکورہ وائرس (یا دیگر مضر چیزوں اور بیماریوں) سے بچاؤ کا معاملہ ہے، اس کے لیے درج ذیل دعا کا اہتمام رکھیں:

"أَعُوْذُ بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ.

بِسْمِ اللهِ الَّذِيْ لاَ يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْئٌ فِيْ الأَرْضِ وَ لاَ فِيْ السَّمَاءِ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ".

مذکورہ بالا دونوں دعائیں صبح و شام ( فجر اور مغرب کی نماز کے بعد ) اہتمام کے ساتھ تین تین مرتبہ پڑھنے کا معمول بنائیں، اللہ کی ذات سے قوی امید ہے کہ وہ تمام موذی امراض سے محفوظ فرمائے رکھے گا۔ فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144107200280

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

Want your business to be the top-listed Government Service in Karachi?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Karachi
Karachi
75210