21/01/2026
طالبِ علم تو انسان پیدا ہونے سے لحد تک ہوتا ہے لیکن باضابطہ طالبِ علمی تب ہوتی ہے جب آپ کسی ادارے میں باقاعدہ جا کر پڑھیں۔ آج کل یہی چل رہا ہے۔
� Medic - COP - Public Policy & Management MSc - Forever Kings’ - Chevening Scholar 2017/18
21/01/2026
طالبِ علم تو انسان پیدا ہونے سے لحد تک ہوتا ہے لیکن باضابطہ طالبِ علمی تب ہوتی ہے جب آپ کسی ادارے میں باقاعدہ جا کر پڑھیں۔ آج کل یہی چل رہا ہے۔
Day break can’t be any better!
رہبرِ من
تحریر: فرخ ملک
مجھے خبط تھا کہ میں وہ بنوں گا کہ جس کے ہونے سے ایک نہیں، دو نہیں، انگنت زندگیاں بدلیں گی۔ میرے افعال اتنے کارگر ہوں گے کہ سیکڑوں کی خزائیں بہار میں تبدیل ہوجائیں۔ زندگی شمع کی صورت نہیں بھی تو اس سے کمتر نہ ہو۔ اسی ایک خواب کی کھیتیاں میری آنکھوں میں رچی بسی رہتی تھیں۔ یہی سوچتے سوچتے میں نے میڈیکل کی تعلیم لی اور شعبہ تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ میں ایک آدھ مریض سے بڑھ کر کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ جس سے مجھے ایک عالم کے لئے آسانیاں بانٹنے کے توفیق میسر ہو۔ میں نوکری نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں تو ایک آزاد فرد تھا جس کی پرواز کو شاہ پَر میسر تھے لیکن زندگی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرلیا۔ وعدہ امتحان پاس کرکے دکھانے کا تھا مگر تقاضا ہوا کہ نوکری بھی کرنی ہے۔ بس پھر کیا تھا، میں ہلکان و مضطرب۔ شب و روز کا ملال کہ ان خوابوں کا کیا ہوگا جن کے لئے زندگی وقف ہوئی جاتی تھی۔ یہ سن 2008 کی بات ہے۔ کیا کشمکش تھی اور نوکری بھی پولیس کی! پولیس کے خلاف میری چارج شیٹ طویل تھی۔ مجھے پولیس کا محکمہ کرپٹ ترین لگتا تھا؛ مجھے لگتا تھا کہ اس میں دو ہی طرح کے افراد پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو کرپٹ ترین، جن میں دنیا جہان کی معاشرتی برائیاں ہوتی ہیں۔ دوسرے وہ جو کرپٹ نہیں ہوتے؛ لیکن، وہ پولیس میں برائے نام ہی ہوتے ہیں، کسی اسپیئر ویل کی طرح۔ پھر کیا ہوا کے میرے چچا کے توسط سے میں اس وقت کے ایس ایس پی خیرپور محترم غلام نبی میمن صاحب سے جا ملا۔ میری پہلی ملاقات میں تعارف ہوا اور انکو بتایا گیا تھا کہ میری پولیس سروس میں ایلوکیشن ہوئی ہے اور میں جوائن کرنے سے گریز کر رہا ہوں۔ وہ ملے اور انہوں نے میرے اضطراب کو شاید بھانپ لیا تھا اور پھر کیا ہوا کہ انہوں نے پولیس کے خلاف میری چارج شیٹ کو اپنے لفظوں میں دہرا دیا۔ یوں میں ان سے جڑ گیا۔ اگلے تین چار ماہ انہوں نے محکمہ پولیس کے بارے میں مجھے ایک نیا زاویہ دیا جو کہ میرے مشن سے مشابہ تھا اور آج جو اگر میں محکمہ پولیس میں ہوں تو اس میں محترم غلام نبی میمن صاحب کا ایک بہت ہی اہم کردار ہے۔ میں کیوں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، ایسا کیا سحر تھا، آئیں میں آپ قارئین کے سامنے رکھتا ہوں۔
غلام نبی میمن صاحب دوٹوک بات کرتے ہیں۔ میں ان سے 2008 ملا اور تب سے آج 2025 تک، میں نے ان کے اصولی فیصلے متزلزل نہیں دیکھے۔ تب بھی وہ عوام الناس کی خدمت کے حوالے سے پیش پیش تھے، آج بھی پیش پیش ہیں۔ تب بھی رشوت ستانی کے خلاف تھے، آج بھی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا رویہ بھی وہی رہا ہے۔ وہ ایس ایس پی کے طور پہ بھی شفیق مگر اصول کی بات رکھنے والے تھے، آج آئی جی کے عہدے پہ ہیں تو بھی وہی شفیق مسکراہٹ ان کے چہرے پہ سجی رہتی ہے؛ ہاں مگر جہاں نظم و ضبط کی بات ہو تو وہ ڈٹ جاتے ہیں اور عملی قدم اٹھانے میں گریز نہیں کرتے۔ میں نے محترم غلام نبی میمن صاحب کی شخصیت کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان کے کردار کی پختگی کے پیچھے ان کے والدین کی تربیت اور ﷲ رب العزت پہ پختہ یقین کارفرما ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں چیزیں مل کر انہیں آزاد فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا طویل کیریئر پیشہ ورانہ قابلیت اور اعلیٰ کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انسان کی تربیت کے لئے اچھے رول ماڈل ہونا انتہائی ضروری ہے۔ پولیس کی نوکری میں اچھے رول ماڈلز گوہرِ نایاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں خوش نصیب رہا ہوں کے مجھے غلام نبی میمن صاحب سمیت کئی اچھے سینئر ملے ہیں جن کے طور طریقے میرے لئے مشعل راہ ہیں۔ غلام نبی میمن کراچی پولیس چیف سے لیکر آئی جی سندھ تک میرے کمانڈر رہے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ پولیسنگ میں جدت کے قائل ہیں اور اس کے لئے ہمہ گیر کوششیں کرتے آئے ہیں۔ ٹول پلازوں پہ کیمرے نصب کرتے ہوئے جرائم کی روک تھام ہو یا ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی ہو، یہ غلام نبی میمن صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کا ثمر ہے کہ سندھ پولیس نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بات یہاں نہیں رکتی، شعبہ تفتیش کو فعال کرنے سے لے کر سیف سٹی پراجیکٹ تک، تھانوں کی سطح تک بجٹ پہچانے سے لے کر قابل افسران کو محکماجاتی امتحان کے ذریعے میرٹ پہ ایس ایچ او لگانے کی کوشش تک تمام تر اقدام ان کے جدید نکتہ نظر اور سرپرستی کی وجہ سے ممکن ہوسکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ویلفیئر کے شعبے میں بھی جامع کام کیا، پولیس ملازمان کی رہائش کا معاملہ ہو یا ان کے لئے انشورنس کا حصول، محترم غلام نبی میمن ذاتی دلچسپی لیتے نظر آئے اور کامیاب ہوئے۔
جو لوگ کام کرنا چاہتے ان کے لئے بھی چوبیس گھنٹے ہی ہوتے ہیں۔ آپ نے کہیں سنا نہیں ہوگا کہ فلاں پچیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ محترم غلام نبی میمن گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا طوفان، گھڑی کی سئیوں کی طرح متواتر متحرک رہتے۔ کبھی کبھی ہم ماتحتوں کو لگتا کہ شاید ہمارے آئی جی صاحب پچیسویں گھنٹے کے متلاشی ہیں۔ میٹنگیں کرنے پہ آتے تو میٹنگیں گھنٹوں چلتیں اور تھمنے کا نام نہیں لیتیں؛ ہم ماتحت بیچارگی کے عالم میں دیکھتے رہ جاتے۔ ہاں مگر تمام تر میٹنگیں فیصلہ کن ثابت ہوتیں اور اختتام پر ہم سب کام سے لگ جاتے اور کبھی کبھار کسی کا کام بھی لگ جاتا۔ مجھے ان کے اسٹاف افسر ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا۔ میں اے آئی جی اسٹیٹ مینیجمنٹ تھا اور ہر ہفتے جمعے کے روز ہماری میٹنگ کا ٹائم مخصوص ہوتا۔ اس میٹنگ میں ہفتے بھر کی پراگریس پیش کی جاتی اور آئیندہ ہفتے کا لائحۂ عمل جوڑا جاتا اور یوں کام رفتار پکڑتا۔ میرے لئے یہ ایک بہترین تجربہ ثابت ہوا اور مجھے احساس ہوا کہ کام کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فالو اپ انتہائی ضروری ہے اور فالو اپ میں میٹنگ ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
محترم غلام نبی میمن 31 دسمبر 2025 کو محکمہ پولیس سے ریٹائر ہونے جارہے ہیں۔ ایک دن ان سے اِس حوالے سے بات کرنے کی جسارت کی تو ان کے چہرے پہ تبسم پایا۔ ایک لمحے کو رُکے، کچھ دیکھا اور کہا کہ ہاں الحمد ﷲ میں ریٹائر ہونے جارہا ہوں۔ میں نے ان کے چہرے پہ گہرہ اطمینان پایا۔ بہت کم لوگ ہوں گے جن کو ان جیسا اطمینان میسر آیا ہوگا۔ اس کے پیچھے ان کا صاف کردار، عوام الناس کی خدمت لئے ہمہ وقت کوشاں رہنا، اور محکمے کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا، کارفرما رہا ہوگا۔ اب جب ان کے ریٹائر ہونے میں چند دن باقی ہیں تو ان کی بہترین شخصیت اور محکمانہ کارکردگی عیاں ہے۔ جب وہ آئی جی سندھ بنے تھے تب کی سندھ پولیس اور آج کی سندھ پولیس کا موازنہ کریں گے تو یہ بات واضح ہوگی کہ ان کی کمانڈ میں سندھ پولیس بہتری کی راہ پہ گامزن رہی اور کئی کامیابیوں سے ہمکنار ہوئی۔ لکھنے کو تو راقم الحروف لکھتا ہی چلا جائے مگر رکنا مقصود ہے۔ رہبرِ من، بس ایک دعا ہے کہ آپ جہاں رہیں ﷲ پاک آپ کو لوگوں میں آسانیاں بانٹنے کی توفیق دیتا رہے اور آپ یوں ہی شعور کی شمعیں جلاتے رہیں۔
11/12/2025
Some quality time at the Gym!
میری بوا مہرو!
تحریر: ڈاکٹر فرخ رضا ملک
جوں ہی میں بوا کے گھر کے دروازے پہ پہنچا، دروازہ کھلا پایا۔ رات کے پونے تین بج رہے تھے؛ اور، دروازہ کھلا تھا! میں داخل ہوگیا۔ حدِ وحشت کو چھوتی ہوئی خامشی اور رات کا پچھلا پہر، مجھ پہ کسی پہاڑ کی طرح ٹوٹتا محسوس ہوا۔ میں گھر کی لابی میں داخل ہوا ہی تھا کہ سرد ہوا کے جھونکے نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا اور مجھے ایک مانوس سی خوشبو اپنے گرد مہکتی محسوس ہونے لگی۔ یہ بوا مہرو کی خوشبو تھی، اس کے گھر کی خوشبو، میرے گھر کی خوشبو، جو مجھ سمیت میرے خانوادے کا اثاثہ رہی ہے۔ سامنے سنگھار تھا، خاموش، اور شاید میں نے اس کی خاموشی کو پڑھ لیا تھا۔ بوا مہرو اپنی آخری سانسیں لے چکی تھیں۔ سنگھار نے مجھے بتایا کہ میں گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ بوا مہرو کے دنیاوی سفر کی آخری ساعتیں تھیں اور وہ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔ مجھے لگا کہ شاید ان کو میرے آنے کا ہی انتظار تھا! یا شاید یہ میری خام خیالی تھی اور ان کو اس مخصوص وقت پہ جانا ہی تھا! میرا اُسی وقت گھر میں داخل ہونا محض ایک اتفاق تھا؛ ہاں مگر ایک بات تو طے تھی، بوا مہرو کی ہم بچوں میں جان رہتی تھی اور جب انہوں نے دیکھا ہوگا کے سب اکٹھے ہو گئے ہیں تو وہ اپنے ابدی زندگی کی طرف چل پڑی ہوں گی۔ بحرحال اس لمحے میری زندگی سمٹ کہ ایک نکتے پہ آن کھڑی ہوئی اور یادوں کا تانتا بندھ گیا۔
بڑے علم کے پاس ہمارا آبائی گھر ہے۔ گھر کیا، ہماری جنت! وہ جنت ہماری دادی، جسے ہم اماں مٹھی کہتے تھے، کی وجہ سے جنت تھا۔ میرے گھر میں سورج اماں مٹھی کی آواز سے اُگتا تھا۔ اماں صبح صبح وظائف الابرار سے تلاوت کرتیں اور گھر کو برکتوں سے بھر دیتیں۔ وہ مانوس آواز آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے اور میرے کانوں میں رس گھولتی ہے۔ کئی بار صبح صبح میرا ذہن، لاشعوری طور پہ، میرے آبائی گھر کے صحن کی آغوش بیدار ہوتا ہے؛ وہی دھیمی آواز میں تلاوت، وہی مانوس خوشبو، میرے گھر کی خوشبو! ہماری شامیں بھی منفرد ہوتیں تھیں۔ عصر سے مغرب تک محلے کی بچیاں مفت ٹیوشن کے لئے آتیں اور سبق دیا جاتا۔ یہ تھا ہمارا گھر، آپا خیرالنساء کا گھر، آپا خیرالنساء جس نے اپنی علم کی وارث بوا مہرو کو بنایا تھا اور وہ وعدہ بوا مہرو اپنی آخری سانس تک نبھاتی رہیں۔ ان دو عورتوں نے اپنی بہنوں، شاہدہ، شہناز اور تسلیم کے ساتھ مل کر علم و شعور کی شمعیں روشن کیں جن سے کئے خاندان منور ہوئے۔ یوں ہمارا گھر پہلے آپا خیرالنساء اور بعد میں آپا مہرالنساء کے گھر کے طور پہ پہچانا جانے لگا اور یہ پہچان آج تک قائم ہے۔
آپا مہرالنساء نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغار درس و تدریس کے شعبہ سے کیا۔ ابتداء میں وہ اس وقت کے گورنمنٹ گرلز ہائے اسکول اور موجودہ ہائیر سیکنڈری اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایڈمنسٹریشن کے شعبہ میں بطور ایس ڈی اِی او قدم رکھا۔ وہ نوی کی دہائی کے اوائل میں ایس ڈی اِی او کوٹ ڈجی تعینات ہوئیں۔ کوٹ ڈجی ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں انہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لئے گوناگوں خدمات سرانجام دیں۔ گاؤں گاؤں جانا پرائمری اسکولوں کی انسپیکشن کرنا، اساتذہ کی تربیت اور ان کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنا اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا، ان کا وتیرہ رہا۔ ان کی گراں قدر خدمات کی وجہ سے وہ ہر دل عزیز تھیں۔ آپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اضلاع کے شعبہ تعلیم میں بطور ایس ڈی ای او، ڈی اِی او، اِی ڈی او خدمات سرانجام دیں اور آخر ۲۰۱۵ میں ڈائریکٹر کالجز کے عہدے سے رٹائر ہوئیں۔ اس کے علاوہ، آپ نے غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے بھی کام کیا؛ باالخصوص بچیوں میں خود انحصاری و خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے اسکائوٹنگ میں گرلز گائیڈ کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا۔
بوا مہرو ۲۰۱۵ میں ریٹائر تو ہوئیں لیکن سرگرمیوں پہ کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے اپنی زندگی نڈر گزاری۔ ہم بچوں کے لئے وہ جستجو، ہمت اور جدوجہد کے حوالے سے ایک رول ماڈل تھیں۔ مجھے لگتا رہا ہے کہ ان کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا تھا۔ آپ بیمار پڑ جائیں، وہ کوئی ایسا ٹوٹکا بتاتیں کے بیماری رفوچکر ہوجاتی۔ آپ کسی تقریب میں شریک ہونے جارہے ہوں، کپڑے نہیں ہوں، جادو کرتیں اور مناسب کپڑے آجاتے۔ آپ کی جیب خالی ہوتی، فیس کے پیسے نہیں ہوتے، وہ جادو کی چھڑی گھماتیں، آپ کی جیب میں کالج کا خرچہ بھی آجاتا اور، فیس بھی جمع ہوجاتی۔۔۔۔ سب سے بڑھ کر، آپ اگر کسی پریشانی سے دوچار ہوں، تمام دروازے بند ملیں اور کوئی سبیل نظر نہ آئے؛ آپ کو بوا مہرو کے پاس بیٹھ جانا ہوتا تھا اور تمام مسائل حل ہوتے محسوس ہوتے۔ بند کواڑ کھلنے لگتے اور آپ کی مشکل آسان ہوجاتی۔ یہ تھیں ہماری بوا مہرو۔ سب کی غمگسار، چارہ گر؛ سب کی مشکل کشا!
چند سال پہلے، بوا مہرو کو کینسر کا عارضہ لاحق ہوا۔ کینسر ایک ایسا مرض ہے کہ مریض کے ساتھ ساتھ اس سے پیار کرنے والے بھی شدید کرب سے گزرتے ہیں۔ بوا مہرو کی جب کیمو تھراپی ہورہی تھی تو میرا کلیجہ پھٹا جاتا۔ میں نے کئی بار ان کو دیکھ کر اپنے آنسوؤں کو پیا۔ دل چاہتا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئوں لیکن میرا عجیب معاملہ ہے؛ جذبات کے اظہار سے میری جان جاتی ہے اور ردعمل میں غائب ہوجاتا ہوں۔ بوا کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا۔ میں ادھر اُدھر سے حال پوچھتا اور اپنے آپ کو تسلی دیتا۔ بوا ہمیشہ کی طرح بہادری سے لڑیں اور کینسر کو مات دے دی۔ یوں ان کی زندگی معمول پہ آگئی۔ مجھے اطمینان ہوا لیکن گذشتہ سال نومبر میں ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ ڈاکٹروں کو دکھایا۔ کینسر کا جن جو بوتل میں بند تھا، اس نے پھر اپنا غلبہ دکھانا شروع کیا اور اس کے بعد طبیعت نہیں سنبھلی، بگڑتی چلی گئی۔ بوا مہرو نے آخری سانس تک ہمت نہیں ہاری۔ وہ اس بیماری میں بھی ہمیں دلاسہ دیتیں، ہماری دل جوئی کا سامان کرتیں۔ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے گھلتا دیکھتے لیکن وہ عجیب دیومالائی طاقت کی مالک تھیں۔ ان کا جسم تو ڈھلتا جارہا ہوتا لیکن ان کی روح جواں ہوتی چلی جاتی۔ اپنے آخری سفر سے تین دن پہلے تک، جبکہ ان کو اندازہ تھا کہ اور زندگی موت کا آخری معرکہ لڑ رہی ہیں، ان کا حوصلہ پست نہیں تھا۔ وہ کراچی آنے کا پروگرام بنارہی تھیں، انہوں نے کپڑے خرید کے دینے تھے۔ انہوں نے بال بھی بنوانے تھے۔ وہ زندگی سے بھرپور تھیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کئی ایک بہادر لوگ دیکھے ہیں جو زندگی کو جینے کا حق ادا کرتے ہیں لیکن بوا مہرو سے بڑھ کر ابھی تک کوئی نہیں دیکھا۔
میرا آبائی گھر، صحن چھوٹا ہوگیا ہے، بوا مہرو اپنا آخری دیدار دے رہی ہیں۔ میں اور سنگھار جاتے ہیں۔ سہہ پہر تین بجے جنازہ اٹھنا ہے۔ میں عجیب کشمکش سے گزر رہا ہوں۔ جس بوا نے ہمیں اپنی گود میں کھلایا، اس کو اپنے کندھوں پہ لے جانے کی ذمہ داری ہے۔ ہائے، یہ کیا ظلم ہے! اتنا بڑا امتحان۔۔۔ سنگھار آگے بڑھتا ہے اور آواز دیتا ہے۔ میں بھی اس کے ساتھ شامل ہوجاتا ہوں، “ہم اماں کو لئے جارہے، اگر کسی کا کوئی قرض یا لین دین ہے تو ابھی بتا دے۔ ہم ادا کردیں گے۔” یہ کہنا تھا کہ رونے اور بین کی آواز بلند ہوتی ہے۔ بوا شہناز جملہ ادا کرتی ہیں، “اس پہ کس کا قرض ہوگا، یہ تو وہ ہے جو تا عمر سب کی حاجت روائی کرتی رہی ہے-“ یہ سنتے ہی میں عجیب کیفیت سے گزرنے لگتا ہوں۔ کلمہ شہادت کی آواز بلند ہوتی ہے اور میرے گھر کی روشنی ماند پڑجاتی ہے۔۔۔
#سفر #سفر #و
06/11/2025
04/11/2025
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
(Surely we belong to Allah, and to Him shall we return)
With profound grief and sorrow, it is announced that Madam Apa Mehr-un-Nisa Malik, a renowned educationist and former Director Education, Sukkur, has left for heavenly abode.
She was respected mother of Mohammad Abbas Manik Advocate, elder sister of Malik Iqbal Hussain DSP (Retd), Mukhtiar Malik Controller (Retd) Radio Pakistan, and Engineer Imtiaz Hussain Malik SE (Retd); and the beloved Phupho of Dr. Farrukh Raza Malik, PSP, SSP East Karachi, and Engineer Sanghaar Malik, PSP, SSP CTD Karachi.
Namaz-e-Janaza will be offered today, Wednesday, 05 November 2025, at 3:00 PM at Bukhari Paro, Wado Alam, Khairpur Mir’s.
Family, friends, and well-wishers are requested to attend and join in prayers for the departed soul.
May Allah Almighty grant her maghfirat and the highest place in Jannat-ul-Firdous. Ameen.mad
03/10/2025
میں، کیڈٹ کالج لاڑکانہ اور محترم نور محمد تنیو صاحب!
تحریر: ڈاکٹر فرخ رضا
میں آج جو کچھ بھی ہوں؛ اس میں میری مادر علمی، کیڈٹ کالج لاڑکانہ کا بہت اہم کردار رہا ہے! یہ جو مجھ میں نظم و ضبط کا خبط ہے، اسی کالج کا تو دیا ہوا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری بہت ساری گتھیاں وہاں سلجھیں اور جو اُلجھیں تو وہ بھی وہیں اُلجھیں اور میں آج تک انہیں سلجھانے کی سعی کرتا رہتا ہوں۔
کیڈٹ کالج لاڑکانہ کا میں احسان مند ہوں۔ مجھے میری زندگی کے اہم اسباق، اچھے بُرے تجربے، سب بہت جلد وہاں ہی نصیب ہوئے۔ مجھے یہ احساس رہتا ہے کہ میں اپنے وقت سے پہلے بڑا بھی اسی کالج کی وجہ سے ہوگیا تھا۔ وہاں نہ والدین تھے نہ گھر کی چاردیواری؛ ہم دوست ہی ہوتے تھے، ایک دوسرے کے چارہ ساز، ایک دوسرے کے غم گسار! غالب والا شکوہ مجھے بہت کم ہی رہا ہے کہ؛
“یہ کہاں کی دوستی ہے کہ بنے ہیں دوست ناصح
کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غم گسار ہوتا”
ہم دوستوں میں ناصح ناپید؛ ہاں البتہ کنویں میں چھلانگ لگانے نہیں دیتے! اگر کسی نے چھلانگ لگائی بھی ہے تو سب اس کے پیچھے کود جاتے اور اسے باہر نکال لیتے۔ یوں یہ سلسلہ آج تیس سال گزرنے کے بعد بھی جاری و ساری ہے اور شاید، قبر میں ہی تھم سکا تو تھمے گا!
کیڈٹ کالج لاڑکانہ میں ہم طالب علموں کے علاوہ بھی ایک مخلوق پائی جاتی تھی۔ ہمارے اساتذہ کرام۔ ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کا میں نام بھی لینا پسند نہیں کرتا لیکن کئی ایسے تھے کہ ان کا احترام والدین سے کم نہیں۔ روسو کے دل دادہ محترم عبدالغفور برڑو ہوں یا ہمارے ہِلتے جُلتے محبوب استاد جناب آصف بھٹی صاحب؛ دنیا و مافیہا سے بے خبر حفیظ قاسمانی صاحب ہوں یا والد کی طرح شفیق جناب انیس گل عباسی صاحب، ان سب نے استاد ہونے کا حق ادا کیا لیکن آج میں جس شخصیت کا تذکرہ کرنا چاہ رہا ہوں وہ ہیں سر این ایم ٹی یعنی نور محمد تنیو صاحب!
جناب نور محمد تنیو صاحب ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیں۔ ان کا میسیج آیا اور اس میں ان کی الوداعی تقریب کی تصویریں اور وڈیوز تھیں۔ ان میں محترم نور محمد تنیو صاحب اپنے مخصوص انداز میں مسکراتے نظر آئے اور میں کالج واپس لوٹ گیا۔
میں، نویں جماعت میں اتفاقاً بورڈ کے امتحان میں پورے سکھر بورڈ میں اول آگیا تھا۔ میں کوئی مشہور طالب علم نہیں تھا، بیک بینچر، اپنی دھن میں مست رہتا۔ کسی کو پتہ ہی نہیں تھا کہ میں بھی اول آنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ جب نتیجا آیا تو سر نور محمد تنیو صاحب کلاس میں تھے اور کہنے لگے کہ کوئی فرخ رضا اول آئے ہیں پتہ نہیں کون ہے لیکن اچھی بات ہے۔ لڑکوں نے کہا یہ آخری بینچ پہ فرخ ہی ہے، میں کھسیانی مسکراہٹ سجائے کھڑا ہوگیا اور سر نور محمد تنیو نے جس شفقت سے بات کی میرے دل پہ نقش ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیٹا یقیناً تم اس کے قابل ہوگے لہٰذا اصل امتحان اب شروع ہوا چاہتا ہے؛ اس پوزیشن کو برقرار رکھنا اصل کامیابی ہوگی۔ پھر کیا تھا میں لگ گیا کام سے اور جیسے تیسے پوزیشن کو قائم رکھنے کی تگ و دو میں مصروف رہا نتیجتاً ہر مرحلے پہ کچھ نہ کچھ ملتا گیا اور میں آپ کے سامنے ہوں۔ احباب، بعض دفعہ بڑوں کا کہا ہوا ایک آدھ جملہ انسان کو کہاں سے کہاں لے جاتا ہے۔ اس دن سر نور محمد تنیو کی کلاس میں کہی ہوئی بات میرے لئے مشعل راہ بن گئی۔
سر نور محمد تنیو جیسے اساتذہ اس گھنے بوڑ کے درخت کی طرح ہوتے ہیں جن کی چھاؤں ان کے طالب علموں تک محدود نہیں رہتے؛ ان کا اثر تو لامحدود ہوتا ہے، نسل در نسل چلنے والا۔ وہ اُس دیئے کی مانند ہوتے ہیں جو شعور کی شمعیں جلاتا ہی چلا جاتا ہے اور پتہ نہیں کتنی زندگیاں ان کی روشنی سے منور ہو جاتی ہے۔ میں نے جب بھی سر نور محمد کے بارے میں سوچا ہے تو مجھے ان میں ایک شفیق انسان ہی نظر آئے ہیں جو پرتشدد نہیں تھے۔ آج سر نور محمد تنیو کی ریٹائر منٹ کے موقعے پہ میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ وہ ان شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے میرے اُس جستجو کی بنیاد رکھی جو مجھے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیئے آتی ہے۔ آخر میں میں یہ کہوں گا کہ سر نور محمد تنیو کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ کیڈٹ کالج لاڑکانہ کا ایک روشن باب اپنے اختتام کو پہنچا۔ میری دعا ہے کہ تنیو صاحب اپنے نور کے ساتھ یوں ہی چمکتے دمکتے رہیں۔
09/06/2025
عید مبارک!