Farrukh Raza Malik, PSP

Directions

Farrukh Raza Malik, PSP � Medic - COP - Public Policy & Management MSc - Forever Kings’ - Chevening Scholar 2017/18

05/08/2026
تُو اور میںوہ جو تیری آنکھوں میں کھو گیا اور پھر اس پار جا نہ سکا۔وہ تیرے روشن وجود میں ایسے مل گیا کہ اس کے شعور نے جان...
02/08/2026

تُو اور میں

وہ جو تیری آنکھوں میں کھو گیا
اور پھر اس پار جا نہ سکا۔
وہ تیرے روشن وجود میں ایسے مل گیا کہ
اس کے شعور نے جان لیا کہ
اس کی زندگی لامحدود اور لافانی ہے

تیرے وجود سے بڑھ کر تیری روح کی رعنائی ہے
ہمیشہ سے ہمیشہ تک
تیرے گیسوؤں کی چھاؤں
کسی بھی بوڑ کے درخت سے گہری
تُو کہ وہ ہے جس کے پاس
میرے ہیجان کو اطمینان میسر ہے۔

یہ جو راہ ہے کہ جس پہ ہم چل رہے ہیں
یہ کیسا خوبصورت سفر ہے کہ تیرا ساتھ ہے
طلوع سے غروب تک اور
اس کی تاثیر پُر مسرت ہے۔

تیرے جسم کے پیچ و خم بھی کیا کمال ہیں
کمالِ تخلیق ہیں گویا
یا پھر میری روح ان میں اتنی محو رہتی ہے کہ
کچھ دکھتا نہیں یا دیکھنے کی خواہش باقی نہیں رہتی

پس کہ یہ اس جنم میں ہی نہیں
اس سے پہلے اور اس کے بعد بھی
میری سچائی یہ ہے کہ میں تیرا اسیر ہوں
اور یہ اسیری اتنی پرکیف ہے کہ
اس لطف پہ سب نچھاور
کہ تیرے پاس ہوں تو مضطرب نہیں

تیرا دور، تیرا وجود
زمان و مکان کی قید سے آزاد کئے دیتا ہے۔
میرے وجود کی تان تیری انگلیوں پہ رقصاں رہتی ہے
تُو کبھی کھینچتا، تو کبھی ڈھیل دیتا ہے۔

اس زندگی کی سمفنی
کائنات کی سمفنی کا ایک جز محسوس ہوتی ہے
اور میری زندگی تجھے چھو کر
ان وسعتوں کو بھانپ پاتی ہے
جو پہلے کبھی آشکار نہ تھیں۔

۰۲ اگست ۲۰۲۶، کراچی

Some days arrive with gentler rhythms, and you find a quiet kind of stillness in transient moments.
23/05/2026

Some days arrive with gentler rhythms, and you find a quiet kind of stillness in transient moments.

زین اور ان کے والد ڈاکٹر اے کیو انصاری!زین بہت بولتا ہے اور بعض دفعہ آپ سوچتے ہیں کہ اسے چپ کرانے کے لئے کیا کرنا پڑے گا...
15/05/2026

زین اور ان کے والد ڈاکٹر اے کیو انصاری!

زین بہت بولتا ہے اور بعض دفعہ آپ سوچتے ہیں کہ اسے چپ کرانے کے لئے کیا کرنا پڑے گا۔ میں زین العابدین انصاری کی بات کر رہا ہوں۔ جی پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کا افسر ہے۔ شاید جن لوگوں کے پاس بتانے کو بہت کچھ ہوتا ہے وہ بولتے ہیں اور بولتے ہی چلے جاتے ہیں۔ شاید زین کے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے۔ زین سے ملاقات تو بہت پرانی تھی مگر میں اسے جانتا نہیں تھا۔ میں جب سول سروسز اکیڈمی گیا تو زین سے میرے بیئچ میٹ اور پیارے دوست ایس ایس پی بشیر احمد بروہی کی بدولت ملاقات ہوئی تھی۔ زین نے بھی سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا ہوا تھا اور آخری نتیجے کے انتظار میں تھا۔ پہلی ملاقات کے بعد زین میرے لئے زندگی کا ایک بند باب ہی تھا۔ بلکل ویسے ہی جیسے آپ سر راہ کسی سے ملتے ہیں، نظریں ٹکراتی ہیں اور آپ ایک لمحے کو ایک دوسرے کو دیکھ کر بھول جاتے ہیں۔ لیکن زین ایسا بھی تو نہیں تھا کہ آپ بھول جاتے۔ میرا لاشعور شاید اس کا مدفن تھا۔ وقت یوں گزرتا رہا۔ پھر ہوا یوں کہ مڈ کیریئر مینجمنٹ کورس آن پڑا اور زین کسی بوتل کے جن کی طرح نمودار ہوا۔ میرے لاشعور نے بھی جھر جھری لی اور میں پہچان گیا، یہ تو وہی زین العابدین انصاری ہے جس سے 2009 میں سرسری ملاقات ہوئی تھی اور پھر اب 2021 میں ملاقات ہو رہی ہے۔ درحقیقت یوں کہیں کہ ملاقات نہیں مُکا لات ہورہی ہے۔

زین العابدین کمال آدمی ہے۔ ہنستا مسکراتا، زندگی سے بھرپور۔ ہم دوستوں کو لگتا کہ یہ کوئی خلائی مخلوق ہے کیوں کہ اس کی قوت ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یہ ایک کام سے دوسرے تک سانس بھی نہیں لیتا اور ہانپتا بھی نہیں۔ مڈ کیریئر کورس میں اس کی حرکات چھلاوے سی تھیں اور یہ یاروں کا یار تھا۔ اسی دوران ہم دونوں دوستی کے دام میں یوں گرفتار ہوئے کہ آج تک ساتھ ہیں اور لگتا یوں ہے کہ تاعمر ایسے ہی رہیں گے۔ زین کی کئی پرتیں ہیں، ہر پرت منفرد اور بھرپور۔ اسے پودوں کا شوق ہے اور پودوں میں بھی کیکٹس۔ جانوروں کا شوق بھی ہے اور دنیا جہان کے چرند پرند کی معلومات۔ سیر کا پوچھیں تو عجائب تک رسائی۔ زین صحیح معنوں میں من موجی ہے۔ دل کا صاف اور چہرا اس سے بھی صاف۔ جو دل میں ہے چہرے پہ بولتا نظر آتا اور جو چہرے پہ وہ دل میں دھڑکتا۔ دوست ہے تو بھرپور، دشمن ہو تو دشمنی کا مزہ آجائے۔ یہ ہے زین، کھلا ڈلا اپنی مرضی کا مالک۔

میں کئی بار سوچتا رہا ہوں کہ زین ایسا کیوں واقع ہوا ہے۔ پھر معلوم ہوا کہ جس خانوادے کا یہ چشم و چراغ ہے وہ کوئی معمولی خاندان نہیں اور یہ ہے بھی اکلوتا۔ اس کے والدِ بزرگوار ڈاکٹر عبدالقادر انصاری صاحب ایک باکمال علمی شخصیت تھے جنہوں نے سندھ میں اعلٰی تعلیم کی داغ بیل رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آپ سن 1940 میں پیدا ہوئے اور علم کی راہ پہ گامزن ہوئے۔ آپ نے سن 1963 میں سندھ یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی اور اس کے بعد انگلستان کی ساؤتھمنٹن یونیورسٹی سے فزیالوجی اور بایوکمسٹری میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ان کی تعلیم کا سلسلہ وہیں جارہی رہا اور اپنی ہی مادر علمی ساؤتھیمٹن یونیورسٹی سے پوسٹ ڈاک فیلوشپ کی اور وطن واپس لوٹے۔ یہ وہ وقت تھا کہ پاکستان بالخصوص سندھ کو اعلٰی تعلیم یافتہ اساتذہ کی ضرورت تھی۔ زین کے پیارے والد ڈاکٹر اے کیو انصاری صاحب نے درس و تدریس کی بہتری کا بیڑہ اٹھایا اور سندھ یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پہ فائز ہوئے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل پڑا اور آپ اپنے آخری ایام تک ملک و ملت کی تعلیم و تربیت کے لئے اپنی خدمات پیش کرتے رہے۔

ڈاکٹر اے کیو انصاری سندھ یونیورسٹی سے لیکر میری مادرِ علمی چانڈکا میڈیکل کالج تک، پروفیسر مقرر رہے۔ اس کے علاوہ زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کے بانی وائس چانسلر سے لیکر ان کی اپنی مادر علمی سندھ یونیورسٹی تک کے وائس چانسلر رہے۔ ڈاکٹر اے کیو انصاری صاحب سائنسی جریدوں میں بھی اپنی تحقیق کا لوہا منواتے رہے۔ انہوں نے متعدد ریسرچ پیپرز لکھے اور اس کے علاوہ چار کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ڈاکٹر اے کیو انصاری پاکستان میں سائنسی تعلیم و تحقیق کے شعبے میں ایک جامع شخصیت تھے اور اس حوالے سےمختلف قومی سائنسی اداروں کے چیئرمیں رہے جن میں پاکستان کائونسل فار سائنس ایک ٹیکنالوجی اور پاکستان کونسل فار سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ شامل ہے۔ اس کے علاوہ آپ چیئرمین یونیورسٹی گرانٹس کمیشن اور ریکٹر الخیر یونیورسٹی بھی رہے۔ ڈاکٹر اے کیو انصاری صاحب کی گراں قدر خدمات کی روشنی میں حکومت پاکستان نے ان کو سن 1990 میں ستارہِ امتیاز سے نوازہ۔

زندگی بھی کمال ہے، آپ کو بارہا وہاں لے جاتی ہے جہاں آپ نے جانا ہوتا ہے۔ میرے گمان تک میں نہیں تھا کہ میں اور زین پھر اکٹھے ہوں گے لیکن قدرت پھر ہمیں سینئر مینیجمنٹ کورس میں ساتھ کرگئی۔ ہم 19 جنوری 2026 کو نیپا کراچی کوچ کرگئے اور 8 مئی 2026 کو ہمارا کورس اختتام پزیر ہوا۔ ہم ہنستے کھیلتے اپنے محکموں کو لوٹے۔ ایک دن ہی گزرا تھا کہ زین کا فون آیا اور اس نے بتایا کہ والد کی طبیعت ناساز ہے۔ میں نے تفصیلات پوچھیں تواس نے خون کی کمی ہونے کا بتلایا۔ ابھی مزید ایک دن ہی گزرا تھا کہ خبر ملی کہ زین کے والد ڈاکٹر عبدالقادر انصاری اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔ دل ٹوٹ سا گیا۔ میں زین کو سوچنے لگا اور محسوس ہوا کہ میرا بھائی زین کس کرب سے گز رہا ہوگا۔ والد وہ سایہ دار درخت ہوتا ہے کہ جس کی چھاؤں میں رہتے ہوئے زندگی آسان محسوس ہوتی ہے۔ ہم بیٹے، خواہ کتنا بھی کہیں کہ ہم اپنے پاؤں پہ کھڑے ہیں لیکن، دلوں کی گہرائیوں میں، والد کا ہونا ہمیں مضبوط بناتا ہے اور ایک جامع سہارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ زندگی پھر زندگی ہے، ہر کسی کو یہاں سے خیرباد ہونا ہوتا ہے۔ اہم یہ ہے کہ ہم جب تک سانس لیں، اپنی ذات سے لوگوں کی زندگیوں کو روشن کریں۔ زین کے والد ڈاکٹر اے کیو انصاری صاحب اپنی ذات سے کئی زندگیاں روشن کرگئے اور میں سمجھتا ہوں کہ زین اپنے والد کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے اپنے آپ کو عوام کے لئے چارہ گر ثابت کریں گے۔

طالبِ علم تو انسان  پیدا ہونے سے لحد تک ہوتا ہے لیکن باضابطہ طالبِ علمی تب ہوتی ہے جب آپ کسی ادارے میں باقاعدہ جا کر پڑھ...
21/01/2026

طالبِ علم تو انسان پیدا ہونے سے لحد تک ہوتا ہے لیکن باضابطہ طالبِ علمی تب ہوتی ہے جب آپ کسی ادارے میں باقاعدہ جا کر پڑھیں۔ آج کل یہی چل رہا ہے۔

25/12/2025

Day break can’t be any better!

23/12/2025

رہبرِ من
تحریر: فرخ ملک

مجھے خبط تھا کہ میں وہ بنوں گا کہ جس کے ہونے سے ایک نہیں، دو نہیں، انگنت زندگیاں بدلیں گی۔ میرے افعال اتنے کارگر ہوں گے کہ سیکڑوں کی خزائیں بہار میں تبدیل ہوجائیں۔ زندگی شمع کی صورت نہیں بھی تو اس سے کمتر نہ ہو۔ اسی ایک خواب کی کھیتیاں میری آنکھوں میں رچی بسی رہتی تھیں۔ یہی سوچتے سوچتے میں نے میڈیکل کی تعلیم لی اور شعبہ تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ میں ایک آدھ مریض سے بڑھ کر کچھ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ جس سے مجھے ایک عالم کے لئے آسانیاں بانٹنے کے توفیق میسر ہو۔ میں نوکری نہیں کرنا چاہتا تھا۔ میں تو ایک آزاد فرد تھا جس کی پرواز کو شاہ پَر میسر تھے لیکن زندگی کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ میں نے سی ایس ایس کا امتحان پاس کرلیا۔ وعدہ امتحان پاس کرکے دکھانے کا تھا مگر تقاضا ہوا کہ نوکری بھی کرنی ہے۔ بس پھر کیا تھا، میں ہلکان و مضطرب۔ شب و روز کا ملال کہ ان خوابوں کا کیا ہوگا جن کے لئے زندگی وقف ہوئی جاتی تھی۔ یہ سن 2008 کی بات ہے۔ کیا کشمکش تھی اور نوکری بھی پولیس کی! پولیس کے خلاف میری چارج شیٹ طویل تھی۔ مجھے پولیس کا محکمہ کرپٹ ترین لگتا تھا؛ مجھے لگتا تھا کہ اس میں دو ہی طرح کے افراد پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو کرپٹ ترین، جن میں دنیا جہان کی معاشرتی برائیاں ہوتی ہیں۔ دوسرے وہ جو کرپٹ نہیں ہوتے؛ لیکن، وہ پولیس میں برائے نام ہی ہوتے ہیں، کسی اسپیئر ویل کی طرح۔ پھر کیا ہوا کے میرے چچا کے توسط سے میں اس وقت کے ایس ایس پی خیرپور محترم غلام نبی میمن صاحب سے جا ملا۔ میری پہلی ملاقات میں تعارف ہوا اور انکو بتایا گیا تھا کہ میری پولیس سروس میں ایلوکیشن ہوئی ہے اور میں جوائن کرنے سے گریز کر رہا ہوں۔ وہ ملے اور انہوں نے میرے اضطراب کو شاید بھانپ لیا تھا اور پھر کیا ہوا کہ انہوں نے پولیس کے خلاف میری چارج شیٹ کو اپنے لفظوں میں دہرا دیا۔ یوں میں ان سے جڑ گیا۔ اگلے تین چار ماہ انہوں نے محکمہ پولیس کے بارے میں مجھے ایک نیا زاویہ دیا جو کہ میرے مشن سے مشابہ تھا اور آج جو اگر میں محکمہ پولیس میں ہوں تو اس میں محترم غلام نبی میمن صاحب کا ایک بہت ہی اہم کردار ہے۔ میں کیوں متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا، ایسا کیا سحر تھا، آئیں میں آپ قارئین کے سامنے رکھتا ہوں۔

غلام نبی میمن صاحب دوٹوک بات کرتے ہیں۔ میں ان سے 2008 ملا اور تب سے آج 2025 تک، میں نے ان کے اصولی فیصلے متزلزل نہیں دیکھے۔ تب بھی وہ عوام الناس کی خدمت کے حوالے سے پیش پیش تھے، آج بھی پیش پیش ہیں۔ تب بھی رشوت ستانی کے خلاف تھے، آج بھی ہیں۔ یہاں تک کہ ان کا رویہ بھی وہی رہا ہے۔ وہ ایس ایس پی کے طور پہ بھی شفیق مگر اصول کی بات رکھنے والے تھے، آج آئی جی کے عہدے پہ ہیں تو بھی وہی شفیق مسکراہٹ ان کے چہرے پہ سجی رہتی ہے؛ ہاں مگر جہاں نظم و ضبط کی بات ہو تو وہ ڈٹ جاتے ہیں اور عملی قدم اٹھانے میں گریز نہیں کرتے۔ میں نے محترم غلام نبی میمن صاحب کی شخصیت کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان کے کردار کی پختگی کے پیچھے ان کے والدین کی تربیت اور ﷲ رب العزت پہ پختہ یقین کارفرما ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں چیزیں مل کر انہیں آزاد فیصلے کرنے کی صلاحیت دیتیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا طویل کیریئر پیشہ ورانہ قابلیت اور اعلیٰ کردار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

انسان کی تربیت کے لئے اچھے رول ماڈل ہونا انتہائی ضروری ہے۔ پولیس کی نوکری میں اچھے رول ماڈلز گوہرِ نایاب کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں خوش نصیب رہا ہوں کے مجھے غلام نبی میمن صاحب سمیت کئی اچھے سینئر ملے ہیں جن کے طور طریقے میرے لئے مشعل راہ ہیں۔ غلام نبی میمن کراچی پولیس چیف سے لیکر آئی جی سندھ تک میرے کمانڈر رہے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ پولیسنگ میں جدت کے قائل ہیں اور اس کے لئے ہمہ گیر کوششیں کرتے آئے ہیں۔ ٹول پلازوں پہ کیمرے نصب کرتے ہوئے جرائم کی روک تھام ہو یا ڈرائیونگ لائسنس برانچ میں اچھی شہرت کے حامل افسران کی تعیناتی ہو، یہ غلام نبی میمن صاحب کی قائدانہ صلاحیتوں کا ثمر ہے کہ سندھ پولیس نے اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ بات یہاں نہیں رکتی، شعبہ تفتیش کو فعال کرنے سے لے کر سیف سٹی پراجیکٹ تک، تھانوں کی سطح تک بجٹ پہچانے سے لے کر قابل افسران کو محکماجاتی امتحان کے ذریعے میرٹ پہ ایس ایچ او لگانے کی کوشش تک تمام تر اقدام ان کے جدید نکتہ نظر اور سرپرستی کی وجہ سے ممکن ہوسکے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ویلفیئر کے شعبے میں بھی جامع کام کیا، پولیس ملازمان کی رہائش کا معاملہ ہو یا ان کے لئے انشورنس کا حصول، محترم غلام نبی میمن ذاتی دلچسپی لیتے نظر آئے اور کامیاب ہوئے۔

جو لوگ کام کرنا چاہتے ان کے لئے بھی چوبیس گھنٹے ہی ہوتے ہیں۔ آپ نے کہیں سنا نہیں ہوگا کہ فلاں پچیس گھنٹے کام کرتا ہے۔ محترم غلام نبی میمن گرمی ہو یا سردی، آندھی ہو یا طوفان، گھڑی کی سئیوں کی طرح متواتر متحرک رہتے۔ کبھی کبھی ہم ماتحتوں کو لگتا کہ شاید ہمارے آئی جی صاحب پچیسویں گھنٹے کے متلاشی ہیں۔ میٹنگیں کرنے پہ آتے تو میٹنگیں گھنٹوں چلتیں اور تھمنے کا نام نہیں لیتیں؛ ہم ماتحت بیچارگی کے عالم میں دیکھتے رہ جاتے۔ ہاں مگر تمام تر میٹنگیں فیصلہ کن ثابت ہوتیں اور اختتام پر ہم سب کام سے لگ جاتے اور کبھی کبھار کسی کا کام بھی لگ جاتا۔ مجھے ان کے اسٹاف افسر ہونے کا بھی شرف حاصل ہوا۔ میں اے آئی جی اسٹیٹ مینیجمنٹ تھا اور ہر ہفتے جمعے کے روز ہماری میٹنگ کا ٹائم مخصوص ہوتا۔ اس میٹنگ میں ہفتے بھر کی پراگریس پیش کی جاتی اور آئیندہ ہفتے کا لائحۂ عمل جوڑا جاتا اور یوں کام رفتار پکڑتا۔ میرے لئے یہ ایک بہترین تجربہ ثابت ہوا اور مجھے احساس ہوا کہ کام کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے کے لئے فالو اپ انتہائی ضروری ہے اور فالو اپ میں میٹنگ ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔

محترم غلام نبی میمن 31 دسمبر 2025 کو محکمہ پولیس سے ریٹائر ہونے جارہے ہیں۔ ایک دن ان سے اِس حوالے سے بات کرنے کی جسارت کی تو ان کے چہرے پہ تبسم پایا۔ ایک لمحے کو رُکے، کچھ دیکھا اور کہا کہ ہاں الحمد ﷲ میں ریٹائر ہونے جارہا ہوں۔ میں نے ان کے چہرے پہ گہرہ اطمینان پایا۔ بہت کم لوگ ہوں گے جن کو ان جیسا اطمینان میسر آیا ہوگا۔ اس کے پیچھے ان کا صاف کردار، عوام الناس کی خدمت لئے ہمہ وقت کوشاں رہنا، اور محکمے کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا، کارفرما رہا ہوگا۔ اب جب ان کے ریٹائر ہونے میں چند دن باقی ہیں تو ان کی بہترین شخصیت اور محکمانہ کارکردگی عیاں ہے۔ جب وہ آئی جی سندھ بنے تھے تب کی سندھ پولیس اور آج کی سندھ پولیس کا موازنہ کریں گے تو یہ بات واضح ہوگی کہ ان کی کمانڈ میں سندھ پولیس بہتری کی راہ پہ گامزن رہی اور کئی کامیابیوں سے ہمکنار ہوئی۔ لکھنے کو تو راقم الحروف لکھتا ہی چلا جائے مگر رکنا مقصود ہے۔ رہبرِ من، بس ایک دعا ہے کہ آپ جہاں رہیں ﷲ پاک آپ کو لوگوں میں آسانیاں بانٹنے کی توفیق دیتا رہے اور آپ یوں ہی شعور کی شمعیں جلاتے رہیں۔

Some quality time at the Gym!
11/12/2025

Some quality time at the Gym!

17/11/2025

میری بوا مہرو!
تحریر: ڈاکٹر فرخ رضا ملک

جوں ہی میں بوا کے گھر کے دروازے پہ پہنچا، دروازہ کھلا پایا۔ رات کے پونے تین بج رہے تھے؛ اور، دروازہ کھلا تھا! میں داخل ہوگیا۔ حدِ وحشت کو چھوتی ہوئی خامشی اور رات کا پچھلا پہر، مجھ پہ کسی پہاڑ کی طرح ٹوٹتا محسوس ہوا۔ میں گھر کی لابی میں داخل ہوا ہی تھا کہ سرد ہوا کے جھونکے نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا اور مجھے ایک مانوس سی خوشبو اپنے گرد مہکتی محسوس ہونے لگی۔ یہ بوا مہرو کی خوشبو تھی، اس کے گھر کی خوشبو، میرے گھر کی خوشبو، جو مجھ سمیت میرے خانوادے کا اثاثہ رہی ہے۔ سامنے سنگھار تھا، خاموش، اور شاید میں نے اس کی خاموشی کو پڑھ لیا تھا۔ بوا مہرو اپنی آخری سانسیں لے چکی تھیں۔ سنگھار نے مجھے بتایا کہ میں گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ بوا مہرو کے دنیاوی سفر کی آخری ساعتیں تھیں اور وہ اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملیں۔ مجھے لگا کہ شاید ان کو میرے آنے کا ہی انتظار تھا! یا شاید یہ میری خام خیالی تھی اور ان کو اس مخصوص وقت پہ جانا ہی تھا! میرا اُسی وقت گھر میں داخل ہونا محض ایک اتفاق تھا؛ ہاں مگر ایک بات تو طے تھی، بوا مہرو کی ہم بچوں میں جان رہتی تھی اور جب انہوں نے دیکھا ہوگا کے سب اکٹھے ہو گئے ہیں تو وہ اپنے ابدی زندگی کی طرف چل پڑی ہوں گی۔ بحرحال اس لمحے میری زندگی سمٹ کہ ایک نکتے پہ آن کھڑی ہوئی اور یادوں کا تانتا بندھ گیا۔

بڑے علم کے پاس ہمارا آبائی گھر ہے۔ گھر کیا، ہماری جنت! وہ جنت ہماری دادی، جسے ہم اماں مٹھی کہتے تھے، کی وجہ سے جنت تھا۔ میرے گھر میں سورج اماں مٹھی کی آواز سے اُگتا تھا۔ اماں صبح صبح وظائف الابرار سے تلاوت کرتیں اور گھر کو برکتوں سے بھر دیتیں۔ وہ مانوس آواز آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے اور میرے کانوں میں رس گھولتی ہے۔ کئی بار صبح صبح میرا ذہن، لاشعوری طور پہ، میرے آبائی گھر کے صحن کی آغوش بیدار ہوتا ہے؛ وہی دھیمی آواز میں تلاوت، وہی مانوس خوشبو، میرے گھر کی خوشبو! ہماری شامیں بھی منفرد ہوتیں تھیں۔ عصر سے مغرب تک محلے کی بچیاں مفت ٹیوشن کے لئے آتیں اور سبق دیا جاتا۔ یہ تھا ہمارا گھر، آپا خیرالنساء کا گھر، آپا خیرالنساء جس نے اپنی علم کی وارث بوا مہرو کو بنایا تھا اور وہ وعدہ بوا مہرو اپنی آخری سانس تک نبھاتی رہیں۔ ان دو عورتوں نے اپنی بہنوں، شاہدہ، شہناز اور تسلیم کے ساتھ مل کر علم و شعور کی شمعیں روشن کیں جن سے کئے خاندان منور ہوئے۔ یوں ہمارا گھر پہلے آپا خیرالنساء اور بعد میں آپا مہرالنساء کے گھر کے طور پہ پہچانا جانے لگا اور یہ پہچان آج تک قائم ہے۔

آپا مہرالنساء نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغار درس و تدریس کے شعبہ سے کیا۔ ابتداء میں وہ اس وقت کے گورنمنٹ گرلز ہائے اسکول اور موجودہ ہائیر سیکنڈری اسکول میں پڑھاتی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے ایڈمنسٹریشن کے شعبہ میں بطور ایس ڈی اِی او قدم رکھا۔ وہ نوی کی دہائی کے اوائل میں ایس ڈی اِی او کوٹ ڈجی تعینات ہوئیں۔ کوٹ ڈجی ایک پسماندہ علاقہ تھا جہاں انہوں نے بچیوں کی تعلیم کے لئے گوناگوں خدمات سرانجام دیں۔ گاؤں گاؤں جانا پرائمری اسکولوں کی انسپیکشن کرنا، اساتذہ کی تربیت اور ان کی سرگرمیوں پہ نظر رکھنا اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا، ان کا وتیرہ رہا۔ ان کی گراں قدر خدمات کی وجہ سے وہ ہر دل عزیز تھیں۔ آپ نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مختلف اضلاع کے شعبہ تعلیم میں بطور ایس ڈی ای او، ڈی اِی او، اِی ڈی او خدمات سرانجام دیں اور آخر ۲۰۱۵ میں ڈائریکٹر کالجز کے عہدے سے رٹائر ہوئیں۔ اس کے علاوہ، آپ نے غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے بھی کام کیا؛ باالخصوص بچیوں میں خود انحصاری و خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے اسکائوٹنگ میں گرلز گائیڈ کے تربیتی پروگراموں کا انعقاد کیا۔

بوا مہرو ۲۰۱۵ میں ریٹائر تو ہوئیں لیکن سرگرمیوں پہ کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے اپنی زندگی نڈر گزاری۔ ہم بچوں کے لئے وہ جستجو، ہمت اور جدوجہد کے حوالے سے ایک رول ماڈل تھیں۔ مجھے لگتا رہا ہے کہ ان کے پاس ہر مسئلے کا حل ہوتا تھا۔ آپ بیمار پڑ جائیں، وہ کوئی ایسا ٹوٹکا بتاتیں کے بیماری رفوچکر ہوجاتی۔ آپ کسی تقریب میں شریک ہونے جارہے ہوں، کپڑے نہیں ہوں، جادو کرتیں اور مناسب کپڑے آجاتے۔ آپ کی جیب خالی ہوتی، فیس کے پیسے نہیں ہوتے، وہ جادو کی چھڑی گھماتیں، آپ کی جیب میں کالج کا خرچہ بھی آجاتا اور، فیس بھی جمع ہوجاتی۔۔۔۔ سب سے بڑھ کر، آپ اگر کسی پریشانی سے دوچار ہوں، تمام دروازے بند ملیں اور کوئی سبیل نظر نہ آئے؛ آپ کو بوا مہرو کے پاس بیٹھ جانا ہوتا تھا اور تمام مسائل حل ہوتے محسوس ہوتے۔ بند کواڑ کھلنے لگتے اور آپ کی مشکل آسان ہوجاتی۔ یہ تھیں ہماری بوا مہرو۔ سب کی غمگسار، چارہ گر؛ سب کی مشکل کشا!

چند سال پہلے، بوا مہرو کو کینسر کا عارضہ لاحق ہوا۔ کینسر ایک ایسا مرض ہے کہ مریض کے ساتھ ساتھ اس سے پیار کرنے والے بھی شدید کرب سے گزرتے ہیں۔ بوا مہرو کی جب کیمو تھراپی ہورہی تھی تو میرا کلیجہ پھٹا جاتا۔ میں نے کئی بار ان کو دیکھ کر اپنے آنسوؤں کو پیا۔ دل چاہتا کہ پھوٹ پھوٹ کر روئوں لیکن میرا عجیب معاملہ ہے؛ جذبات کے اظہار سے میری جان جاتی ہے اور ردعمل میں غائب ہوجاتا ہوں۔ بوا کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوتا رہا۔ میں ادھر اُدھر سے حال پوچھتا اور اپنے آپ کو تسلی دیتا۔ بوا ہمیشہ کی طرح بہادری سے لڑیں اور کینسر کو مات دے دی۔ یوں ان کی زندگی معمول پہ آگئی۔ مجھے اطمینان ہوا لیکن گذشتہ سال نومبر میں ان کی طبیعت خراب ہوئی۔ ڈاکٹروں کو دکھایا۔ کینسر کا جن جو بوتل میں بند تھا، اس نے پھر اپنا غلبہ دکھانا شروع کیا اور اس کے بعد طبیعت نہیں سنبھلی، بگڑتی چلی گئی۔ بوا مہرو نے آخری سانس تک ہمت نہیں ہاری۔ وہ اس بیماری میں بھی ہمیں دلاسہ دیتیں، ہماری دل جوئی کا سامان کرتیں۔ ہم انہیں اپنی آنکھوں سے گھلتا دیکھتے لیکن وہ عجیب دیومالائی طاقت کی مالک تھیں۔ ان کا جسم تو ڈھلتا جارہا ہوتا لیکن ان کی روح جواں ہوتی چلی جاتی۔ اپنے آخری سفر سے تین دن پہلے تک، جبکہ ان کو اندازہ تھا کہ اور زندگی موت کا آخری معرکہ لڑ رہی ہیں، ان کا حوصلہ پست نہیں تھا۔ وہ کراچی آنے کا پروگرام بنارہی تھیں، انہوں نے کپڑے خرید کے دینے تھے۔ انہوں نے بال بھی بنوانے تھے۔ وہ زندگی سے بھرپور تھیں۔ میں نے اپنی زندگی میں کئی ایک بہادر لوگ دیکھے ہیں جو زندگی کو جینے کا حق ادا کرتے ہیں لیکن بوا مہرو سے بڑھ کر ابھی تک کوئی نہیں دیکھا۔

میرا آبائی گھر، صحن چھوٹا ہوگیا ہے، بوا مہرو اپنا آخری دیدار دے رہی ہیں۔ میں اور سنگھار جاتے ہیں۔ سہہ پہر تین بجے جنازہ اٹھنا ہے۔ میں عجیب کشمکش سے گزر رہا ہوں۔ جس بوا نے ہمیں اپنی گود میں کھلایا، اس کو اپنے کندھوں پہ لے جانے کی ذمہ داری ہے۔ ہائے، یہ کیا ظلم ہے! اتنا بڑا امتحان۔۔۔ سنگھار آگے بڑھتا ہے اور آواز دیتا ہے۔ میں بھی اس کے ساتھ شامل ہوجاتا ہوں، “ہم اماں کو لئے جارہے، اگر کسی کا کوئی قرض یا لین دین ہے تو ابھی بتا دے۔ ہم ادا کردیں گے۔” یہ کہنا تھا کہ رونے اور بین کی آواز بلند ہوتی ہے۔ بوا شہناز جملہ ادا کرتی ہیں، “اس پہ کس کا قرض ہوگا، یہ تو وہ ہے جو تا عمر سب کی حاجت روائی کرتی رہی ہے-“ یہ سنتے ہی میں عجیب کیفیت سے گزرنے لگتا ہوں۔ کلمہ شہادت کی آواز بلند ہوتی ہے اور میرے گھر کی روشنی ماند پڑجاتی ہے۔۔۔

#سفر #سفر #و

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Farrukh Raza Malik, PSP posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share