کامیابی کا میعار
اللہ تعالیٰ کا اعلان ہر روز پانچ دفعہ
آو نماز کی طرف
آو کامیابی کی طرف
قرآن مجید میں میرا رب فرماتا ہے جو آخرت میں کامیاب ہو گیا وہی اصل کامیاب ہے۔
رزق کے بارے میں تو میرا رب قرآن کریم میں فرماتا ہے جسے میں چاہتا ہوں زیادہ رزق دیتا ہوں جسے میں چاہتا ہوں تھوڑا رزق دیتا ہوں یعنی زیادہ امیر ہونے کو کامیابی نہیں مانا گیا ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اصل میں کامیاب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یارب العالمین۔
Islam and Islamic history
This page is about Islamic blog post
and Muslim history blog post ..............
ہم نے چار شادیوں پر زور دیئے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی جوانی کے 25 سال ایک ہی عورت کے ساتھ گزارے اور حصرت سودہؓ سے دوسری شادی حضرت خدیجہ رض کی وفات کے بعد کی۔ ہم نے یہود نصاری کی دشمنی کا راگ الاپے رکھا، لیکن یہ کبھی نہ بتایا کہ میثاق مدینہ کے وقت یہودیوں کے دس قبائل تھے اور وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتحادی تھے۔ فرانس نے گستاخی کی تو ہم نے اپنے ہی ملک میں آگ لگا دی ،لیکن یہ کبھی نہ بتایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمنان اسلام کو معاشی طور پر کمزور کرکے اپنی دھاک بٹھائی۔
مشرکین مکہ تاجر تھے اور تجارت کی غرض سے شام جایا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے شمال کی راستے پر واقع قبائل سے دوستیاں کیں اور مشرکین مکہ کی تجارت کا راستہ بند کروایا۔ جب وہ جنوب کے راستے یمن جانے لگے تو آپ نے وہاں کے باشندوں سے معاہدے کر کے اہل قریش کا راستہ روک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہی ملک کو آگ نہیں لگائی تھی بلکہ دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے اس کی کمر توڑ دی۔ نوبت فاقوں تک پہنچی تو ابو سفیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا کہا کہ ان کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پانچ سو اشرفیوں کے ساتھ بہترین کھجوریں دیتے ہوئے تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔ یعنی اہل قریش دشمن بن کر آئے تو آپ نے ان کی کمر توڑ دی۔ لیکن وہی دشمن بطور انسان رحم کی بھیک مانگنے آئے تو آپ نے ان کی مدد کی۔
مجھ میں اتنی تاب نہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نبی سمجھ سکتا لہذا میں نے آپ کو بطور انسان سمجھنے کی کوشش کی۔ میں نے جانا:
آپ ایک عظیم مدبر تھے، آپ نے اپنی تدبیر سے صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کئے جو بظاہر مسلمانوں کو کمزور کرنے والے تھے، لیکن وہی معاہدے آپ کے لئے فتح مکہ کا باعث بنے۔ آپ نے دشمنوں کی جاسوسی کے لئے حضرت ابو ہریرہ کی ڈیوٹی لگائی تاکہ دشمنان کے ارادے جان سکیں۔
آپ ایک عظیم سفارتکار تھے۔ آپ نے اپنے دشمن کے دوستوں سے دوستیاں کی تاکہ ان کا اثر کم ہوسکے۔ مدینہ کے شمال میں خیبر اور جنوب میں مکہ تھا۔ اور ان دونوں شہروں کے باشندے مسلم مخالف تھے۔ آپ نے کمال ذہانت سے صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے وعدہ کیا کہ وہ مسلمانوں کی کسی جنگ میں دشمن کا ساتھ نہ دیں گے۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ نے خیبر اور اہل مکہ کے مشرکین کو جدا کر کے شکست دی۔
آپ ایک کمال سپہ سالار تھے۔ مدینہ شہر کے تینوں اطراف پہاڑ تھے اور واحد زمینی راستہ پر آپ نے خندق کھود کر مدینہ کو آنچ نہ آنے دی۔ آپ نے یہودیوں کے دس قبائل سے معاہدے کئے کہ وہ اپنے مختلف مذہب کے باوجود مسلمانوں کی جنگی مدد کریں گے اور جنگی اخراجات مل کر برداشت کریں گے۔
آپ ایک بہترین منتظم تھے، آپ نے اپنی بہترین نظامت سے ایک اسلامی ریاست کو بام عروج پر پہنچایا۔ آپ نے پولیس اور انصاف کا نظام متعارف کروایا۔ اور مجرم کو گردن سے پکڑنے کی ذمہ داری حضرت علی کے سپرد کی۔ آپ نے مختلف ریاستوں کے گورنر نامزد کئے اور ان سے خط و کتابت سے امور مملکت جانتے رہے۔
آپ ایک بہترین معلم تھے، آپ نے کچھ نہ ہونے کے باوجود صفہ کا قیام عمل میں لایا اور لوگوں کی تعلیم و تربیت کا نظام واضع کیا۔ میں کیا، دنیا کا کوئی فلسفی، کوئی دانشور یا کوئی محقق دنیا کی عظیم ترین شخصیات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے افضل پاتا ہے۔
لیکن۔۔ ہم نے اپنے نبی کے مقام و مرتبہ کے ساتھ ناانصافی کی۔ ہم ساری زندگی چاند کو توڑنے اور واقعہ معراج جیسے معجزات بیان کرتے رہے، لیکن بطور بشر آپ کے کمالات کو کبھی بیان کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ بالکل ایسے جیسے امام حسینؓ کے واقعہ کربلا کے علاوہ کسی کو امام کی ذات کے بارے میں کچھ معلوم نہیں،
آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطور نبی معجزات سے نہیں بلکہ بطور بشر تن تہنا، ایک ایسی ریاست کا قیام عمل میں لائے جسے دیکھ کر قیصر و کسری اور فارس کے محلات بھی انگشت بدنداں ہوگئے۔ پھر وہ وقت آن پہنچا، جب دنیا کا عظیم ترین انسان میدان عرفات میں لاکھوں کے جھرمٹ میں یہ اعلان کر رہا تھا
"الیوم اکملت لکم دینکم " (آج کے دن دین مکمل ہوگیا)۔ گویا وہ بشری معراج پر پہنچ چکے تھے اور اس کے بعد یہ سلسلہ قیامت تک کے لئے بند کردیا گیا۔
دنیا کے عظیم ترین لیڈر، عظیم ترین سیاست دان، عظیم ترین سفارتکار، عظیم ترین سپہ سالار اور عظیم ترین معلم پر لاکھوں کروڑوں سلام
صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وبارک وسلم وسلم
❤️❤️❤️
مستند حوالہ جات:
1۔ سیرتِ نبوی اور ابتدائی اسلامی ریاست
سیرت ابن ہشام
(میثاقِ مدینہ، قبائل سے معاہدات، غزوات، صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کے واقعات)
2۔ طبقات اور صحابہ کے حالات
الطبقات الکبریٰ از محمد بن سعد
(ازواجِ مطہرات کے حالات، صفہ کا قیام، انتظامی و سماجی نظم)
3۔ تاریخ و سیرت کا جامع ماخذ
تاریخ الطبری از محمد بن جریر الطبری
(معاشی حکمتِ عملی، قبائلی معاہدات، سیاسی و عسکری اقدامات)
29/01/2026
مسجد جعرانہ:فتحِ مکہ کے بعد پیش آنے والے واقعات میں مسجدِ جِعرانہ کو ایک خاص تاریخی اور شرعی مقام حاصل ہے۔ یہ مکہ مکرمہ سے شمال مشرق کی جانب تقریباً 22 سے 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس مسجد کی تاریخی اہمیت درج ذیل اہم واقعات کی وجہ سے ہے:
1. غزوہ حنین اور مالِ غنیمت کی تقسیم
سن 8 ہجری میں جب مسلمان “غزوہ حنین” سے فتح یاب ہو کر لوٹے، تو نبی کریم ﷺ نے جنگ سے حاصل ہونے والے مالِ غنیمت اور قیدیوں کو جعرانہ کے مقام پر ہی رکھا تھا۔ آپ ﷺ نے یہاں کئی دن قیام فرمایا اور یہیں مالِ غنیمت تقسیم کیا۔
2. حضور ﷺ کا احرام باندھنا
مسجد جعرانہ کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یہاں سے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ جب مالِ غنیمت کی تقسیم مکمل ہو گئی، تو آپ ﷺ رات کے وقت جعرانہ سے مکہ روانہ ہوئے، عمرہ ادا کیا اور پھر اسی رات واپس جعرانہ تشریف لے آئے۔
3. میقاتِ مکہ
اسی تاریخی واقعے کی وجہ سے اہل مکہ اور وہاں قیام پذیر زائرین کے لیے یہ مقام ایک میقات (احرام باندھنے کی جگہ) بن گیا۔ اگر کوئی شخص مکہ میں موجود ہو اور دوسرا عمرہ کرنا چاہے، تو وہ عام طور پر “مسجدِ عائشہ” (تنعییم) یا “مسجدِ جعرانہ” جا کر احرام باندھتا ہے۔
• محدثین کے مطابق، نبی ﷺ کا یہاں سے احرام باندھنا اس جگہ کو بہت برکت والا بناتا ہے۔
مسجد کی خصوصیات اور موجودہ حال:
• تاریخی نام: اس جگہ کا نام “جِعرانہ” ایک عورت کے نام پر پڑا تھا جو یہاں رہا کرتی تھی۔
• تعمیر و توسیع: سعودی دورِ حکومت میں اس مسجد کی کئی بار توسیع کی گئی تاکہ عمرہ کرنے والوں کو آسانی ہو۔ یہاں اب بڑی پارکنگ، وضو خانے اور غسل خانوں کی بہترین سہولیات موجود ہیں۔
• کنواں: یہاں ایک تاریخی کنواں بھی موجود تھا جسے “بئرِ جعرانہ” کہا جاتا تھا، جس کے بارے میں روایات میں ہے کہ نبی ﷺ کے لعابِ دہن کی برکت سے اس کا پانی میٹھا اور شفاء والا ہو گیا تھا (اگرچہ اب حفاظتی وجوہات کی بنا پر اسے بند کر دیا گیا ہے)۔
ایک اہم نکتہ:
اکثر زائرین اسے “بڑا عمرہ” یا “بڑی میقات” بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ مسجدِ عائشہ کی نسبت مکہ سے زیادہ فاصلے پر ہے اور یہاں سے احرام باندھ کر عمرہ کرنا زیادہ فضیلت والا سمجھا جاتا ہے۔ Umrah2026 Meeqat GhazwaHunain HolyPlaces SaudiArabia
19/01/2026
18/01/2026
سجدہ سہو کرنا تھا لیکن دونوں سلام پھیر دیئے تو ؟ سجوہ سہو کا وقت سلام کے بعد کتنی دیر تک ہے ؟
15/01/2026
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Kashmore

14/01/2026