05/06/2025
تحصیل پروآ پولیس اسٹیشن پروآ میں پاک فوج کے لفٹیننٹ کرنل محمد ذاکر خان کی تحصیل انتظامیہ پروآ ایس ڈی پی او پروآ سرکل و ایس ایچ او پروآ و ایس ایچ او تھانہ گومل یونیورسٹی اور معززین علاقہ سے مختلف آمور پر گرینڈ میٹنگ کی گئی تفصیلات کے مطابق تحصیل پروآ پروآ پولیس اسٹیشن میں لفٹیننٹ کرنل محمد ذاکر خان کی تحصیل انتظامیہ اسسٹنٹ کمشنر پروآ شاہ بہرام ایس ڈی پی او پروآ سرکل عالمگیر خان ایس ایچ او محمد علی خان ایس ایچ او محمد اصغر خان اور معززین علاقہ سردار نظام خان ایڈووکیٹ نائب صدر پروآ بار حاجی فیض اللّٰہ خان کنڈی ملک فاروق احمد پروآ سردار مختیار خان ڈھانڈلہ سردار سجیل خان ظاہر شاہ مہمند عدنان خان بلوچ ادریس خان ناظم ملک فتح شیر سردار بلال بلوچ سمیت دیگر معتبرین علاقہ کے ساتھ گرینڈ میٹنگ/جرگہ ہوا جس میں تحصیل پروآ کی عوام کو درپیش مختلف مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اس موقع پر لفٹیننٹ کرنل محمد ذاکر خان کی توجہ مختلف مسائل پر مبذول کرائی گئی جن میں انڈس ہائی وے ملتان روڈ کی فلفور تعمیر چھڑکاؤ کا بندوست اور تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال پروآ کی فعالیت سر فہرست رہی جبکہ اس کے ساتھ دیگر مختلف ڈیپارٹمنٹس جن میں محکمہ واپڈا محکمہ پبلک ہیلتھ اور گورنمنٹ ڈگری کالج پروآ میں سٹاف کی کمی جیسے اہم مسائل ڈسکس کیے گئے اس موقع پر لفٹیننٹ کرنل محمد ذاکر خان نے کہا کہ جن مسائل کی آپ لوگوں نے نشان دہی کی اور عوام کو درپیش مسائل کو ہمارا ساتھ شیئر کیا یقیناً ان مسائل کو ہر ممکن تھرو ڈیپارٹمنٹ حل کرانے کی کوشش کی جائے گی اور عوام کو درپیش ان مسائل پر فسلیٹیٹ بھی کیا جائے گا آخر میں معززین علاقہ نے پاک فوج کا خصوصی شکریہ ادا کیا
رپورٹ (ملک ادریس)
26/01/2025
عشق کا بھاری پتھر ۔۔۔۔!!
ریختہ کے استاد میر تقی میر کی غزلیں، ممکن نہیں، آپ نے نہ سنی ہوں، یہ الگ بات کہ آپ کو شاعری سے شغف نہ ہو۔ اس مطلع سے نکلتی ان کی غزل "یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے" آخر میں "عشق ایک میر بھاری پتھر ہے" پر قطع ہوتی ہے۔ خبر یہ ہے کہ عشق کا یہ بھاری پتھر سا ہم نے پا لیا۔
یہ گاوں ہلتاغری تھلے ہے، ضلع گنگ چھے میں قدیم گزرگاہ تھلے لا کی جانب بڑھتے ہوئے تھلے نالہ کے بائیں طرف 90 گھرانوں پر مشتمل ایک خوبصورت وادی ہے۔ اس وادی کی تاریخ اتنی پرانی ہے کہ جتنی اس گاوں سے متصل اس قلعے کی بتائی جاتی ہے، جو کہ اب منہدم ہو کر صرف نام ہی باقی رہ گیا ہے۔ مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس گاوں میں قدیم قبریں بھی دریافت ہوئی ہیں، مگر تھلے لا کے قریب چند اجتماعی قبریں بھی ملیں ہیں جن میں مرد، عورت اور بچوں کے ڈھانچے بھی ایک ہی گڑھے میں گڑھے ہوئے تھے۔ فی الحال، اس بات کا اس پتھر سے کوئی تعلق نہیں اس لئے اس کی تفصیل کسی اور موقع کے لیے رکھ چھوڑتے ہیں۔
یہ عام سا پتھر دیکھنے میں سادہ، معمولی اور بے قیمت سا نظر آتا ہے مگر اس کی خاص نسبت تقسیم ہند کے نتیجے میں رونما ہونے والے ہجر و فراق کے ایک خاص واقعے سے ہے۔
تقسیم لداخ و بلتستان سے قبل کی بات ہے کہ ہلتاغاری میں ایک گھبرو جوان، علی، رہتا تھا۔ ان کی قوم یا خاندان کو مقامی طور پر خندہ وا کہتے تھے۔
بلتستان کے دیگر بہت سے جوانوں کی طرح علی بھی سرحد پار غم روزگار کے سلسلے میں ہماچل پردیش گئے ہوئے تھے۔ وہاں پر شب و روز کرتے لوگوں کی طرح علی کو بھی اس شورش کا ٹک علم نہ تھا جو بہت جلد اس کے گاوں اور اس کے عارضی پڑاو کے درمیان خون کی دیوار حائل کر دے گی۔ علی کو معلوم ہونے تک پدم میں ڈٹا جنگ آزادی بلتستان کا وہ ہر اول دستہ بھی واپس بلایا جا چکا تھا جو سیز فائر کے بعد مدتوں وہیں گامزن رہا۔
علی کیا کر رہا تھا اس کا کچھ حتمی طور پر بتانا ممکن نہیں البتہ گاوں کی ریت روایات میں آج بھی زیادہ بدلاو نہیں آیا اور مقامی لوگ آج بھی زمینداری پر تکیہ کئے اپنی صبح کا شام کرتے ہیں۔ ایپ ایپ، چھو تپ تپ، کھا ستون، مے پھنگ اور نوروز کی خوشیاں دوام باقی ہیں۔ آج بھی عشق و محبت میں حیا داری کی رسمیں قائم ہیں۔ منکوحہ کا نام لینے میں حیا مانع ہونا، سر راہ ان سے اچانک سابقہ ہو جائے تو منہ چھپا کر راستہ بدلنا اور رخصتی تک ایک دوسرے کے گھروں میں جانا معیوب سمجھنا آج بھی یہاں کی رسموں میں شامل ہیں۔
ہلتاغاری میں خندہ وا خاندان کے زعماء بھی ہیں۔ ان کے چچا بابو فدا علی مقامی حکومت و دیہی ترقی کے محکمے سے سبکدوش ہوئے اب سترہ سال پورے کر رہے ہیں۔ ہلتاغاری کا گاوں، گاوں کی گلیاں، گلیوں کی ہوائیں، بچوں کے شور شرابے، چوپالوں پر بزرگوں کی اشارہ کنایوں بھری باتیں، یاک اور بیل کے بال سے رسیاں بنتے بابے اور کھیت کھلیانوں میں غرق گونگے بہرے آج بھی صف در صف گدوں پر بوجھ ڈوتے پھر رہے ہیں۔ گاوں کے لوگوں کے رہن سہن میں بہت تیزی سے تبدیلی بھی آئی ہے، سڑک بھی آئی ہے، پائپوں میں پانی بھی، سکول آیا ہے اور ہسپتال بھی، گر کچھ نہیں آیا تو علی واپس نہیں آیا۔
ہاں، مگر تقسیم کے عرصے بعد، علی کی ہماچل پردیش موجودگی کا بھید تب کھلا جب گاوں کا چھٹی رساں علی کا مکتوب لے آیا۔ گاوں میں مولوی صاحب ہی کچھ کچھ اردو پڑھ سکتے تھے اس نے خط کھول کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ دلتیر کا خندہ وا علی اب ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہماچل پردیش کا ہو چکا ہے۔ اس کی دھرتی ماں اپنے بچوں کی فہرست میں سے علی کا نام نکال چکی ہے۔ علی کے پاس بھی واپس لوٹنے کیلئے کوئی کاغذ ہاتھ میں نہ تھا، اگر کچھ تھا بھی تو اب اتنی دیر برت چکا تھا کہ اسے پہچان کر واپس بھیجنے کا جگرا کسی میں نہ تھا۔ نفرت کی اس بارودی لکیر پر کھڑے باوردی ہندوؤں کو علی کو واپس بھیجنے میں کوئی دلچسپی ہی کہاں تھی۔
بہر حال علی نے خط میں اپنا مختصر اور قابل اشاعت احال احوال لکھا تھا۔ زیادہ تفصیل سے کچھ لکھتا تو سرحد پر کھڑے محافظ خطوں کر کھول کر چیک کر کے اسے مشکوک گردان کر پار بھیجتا کہاں تھا۔ جانے علی کے کتنے ایسے مفصل خطوط این او سی نہ ملنے پر ردی کی ٹوکری یا سرخ فیتے کی نذر ہوگئے ہوں۔
اب کے بار علی نے اس خط میں گاوں کے تمام "چھوٹے بڑوں" کو پیار اور "سلام آخر" بھیجا تھا۔ جانے وہ کون سا نام تھا جو علی کے لبوں تک آتے آتے رہ گیا تھا۔ ان چھوٹے بڑوں میں سے کس کا نام تھا جو علی لیتے لیتے رہ گیا تھا، وہ علی جانتا تھا یا وہ جس نے ان چھوٹے بڑوں کے لفظ میں اپنا نام ڈھونڈ نکالا تھا۔ جس نے علی کے عامیانہ پیغام محبت کو مخصوص انداز میں لیا تھا۔ اس بارے میں کسی کو کچھ نہیں معلوم ۔۔۔۔
علی نے گاوں کے لوگوں سے ایک گزارش یہ کی تھی کہ جو بھی ہو، ہلتاغاری میں چھوکھل کے مقام پر بالکل یکا و تنہا پڑا وہ بھاری پتھر (پھونگ چن) کو کبھی توڑنا مت، اسے گاوں کی یا میری نشانی سمجھ کر رکھ لینا۔
خدا جانے اس پتھر سے علی اور علی کی زندگی کے کون سے اہم راز وابستہ تھے ان پر علی نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے پردہ ڈال دیا تھا۔
گاوں والوں کی علی سے محبت کی مثال آج بھی اس بھاری پتھر کی صورت قائم ہے۔ یہ بھاری پتھر ہے اسے کوئی کیسے اٹھا سکتا ہے۔ اس بھاری بھر پتھر تلے کون سے اہم راز ہیں وہ اب اس پتھر تلے دب چکے ہیں۔
ایک بار گاوں والوں کو مسجد کی تعمیر کیلئے پتھروں کی ضرورت پڑی۔ قریب میں واقع ہونے اور کھیتوں کے درمیان بے سود پڑے ہونے پر کچھ لوگوں کی بے رحم نظریں اس پتھر کی جانب گئیں، مگر اسے آپ گاوں کے کچھ لوگوں کی رحمدلی سمجھ لیں یا پھر خندہ وا علی کی دعا کہ لوگوں کے ہاتھ رک گئے اور اس پتھر کو گاوں کی نشانی اور علی کی یادگار کے طور پر یہیں پر پڑے رہنے دینے کا فیصلہ ہوا۔
علی جانتا ہے کہ وہ جذبہ جو اس کے دل پر ناگاہ بوجھ بن کر اسے اب زمین میں دبا چکا ہے، کسی ناتواں سے اس کا اٹھنا محال ہے۔
"اس تحریر میں چند متوقع باتیں ہیں، جن کا علی کی حیات سے براہ راست تعلق تو نہیں مگر کسی بھی عمومی انسان کی طرح علی کی زندگی میں درپیش ممکنات میں سے ہیں، جو از راہ تفریح لکھ دی ہیں"۔
مقامی لوگ کہتے ہیں کہ علی کا خاندان آج بھی سرحد پار رہ رہے ہیں۔ ان کے خاندان میں علی شاہ آج بھی بقید حیات ہیں اور ان کی بیٹی پڑھ لکھ کر کامیاب زندگی گزار رہی ہیں۔۔۔۔۔ ممکن ہے یہ بات لاسلکی ذرائع سے ان تک پہنچ جائے۔
(باقر حاجی)
29/02/2024
الحمداللہ رب العالمین
فخر تھلے فخر گنگچھے جناب میجر ذاکر حسین تھلوی صاحب کو لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پہ ترقی پانے پر جناب شبیر حسین تھلوی زمرود حسین آصف حسین اور پورے خاندان بلخصوص ،ذاکر حسین کو مبارکباد پیش کرتے ہیں
14/12/2023
بہت بڑے فراڈیے ہیں یہ لوگ۔ بالکل بھی پیسے نہ بھیجیں ان کو۔
01/10/2023
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا ...
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن....
ناظم اعلیٰ مدرسہ سراج السلام جناب محمد علی بھٹو المعروف(بوا بھٹو) آج اس فانی دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے ۔لیے ہم سے جدا ہو گئے😭😭😭😭😭😭
مرحوم ومغفور ایک باوقار،شریفالنفس کشادہ جبین ااور اچھے اخلاق کےمالک تھے۔۔دکھ کے اس گھڑی میں تمام لواحقین کے ساتھ تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں اور خدا وند سے دعا گوہ ہوں کہ بحق محمد والہ محمد کے واسطے مرحوم کو جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرما اور بروز محشر صالحین کے زمرے میں محشور فرما....
۔۔
17/04/2023
ٹائیگر سپورٹس گالا 2023
وادی تھلے ہلتغری
03/03/2023
جناب ابراہیم شاکر صاحب کو ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ گنگچھے کے طرف سے بطور پرنسپل سکول ھذا تعینات کر کے چارج سمبھالنے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔
اور امید کرتے ہیں کہ آپ کے زیر نگرانی علاقے میں تعلیم و تربیت کے ایک بہتر فضا قاٸم کرنے میں سکول انتظامیہ ضرور کامیاب ہوگی۔
28/01/2023
Proud Moment for all of us
Congratulations to Baboo Doolat sab and his whole family for his beloved son Dr. Zafar Iqbal Thallavi being appointed Assistant Professor at NUST University Islamabad.
18/09/2022
Explore the world around you
photographer: Zulfiqar Ali
26/08/2022
The Beauty 😍❤️
📍 THALEY VALLEY٫KHAPLU GHANCHE
Camera Man: Daniyal Haier