Soon Valley Sakesar

Soon Valley Sakesar

Share

Description:
The Soon Valley
(Urdu: وادئ سون) Or Soon Sakesar Is Located In The Northwest Of KHUSHAB District, Punjab/ Pakistan.. We are self sufficient . O!

█║▌│█│║▌║││█║▌│║▌║█║ ©OFFICIAL FACEBOOK PAGE® █║▌│█│║▌║││█║▌│║▌║█║
Description
Information

Total villages: 31
Main villages:

]Har do sodhi

(sodhi bala and sodhi zarien), Naushahra, Jabbah ,Ugalisharif, Kotli, Mukrumi,Kaamrh,Dhadhar, Mardwal, Kufri, Uchali, Chitta, Khoora,Anga,Khabbaki, kuradhi, Uchhala, Mustafaabad (Bhukhi), Sodhi Jai Wali, Sabhral, Shakarkot, Sirhal, Manawan, Surraki, Jahlar,

11/03/2026

جاہلر وادی سون خوشاب کے ایک سکھ سردار چینچل سنگھ کی بریک ہونے والی تہلکہ خیز سچی کہانی ۔جس نے سوشل میڈیا پر دھوم مچادی ۔قیام پاکستان کے 79سال بعد اس سٹوری کو منظر عام پر لایا گیا ۔۔۔
تحریر امتیاز حسین امتیا ۔ماخذ ملک عدنان عالم اعوان

07/03/2026

Uchali Lake

05/03/2026

*ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر خوشاب ڈاکٹر عمارہ شیرازی کا پولیس خدمت مرکز نوشہرہ اور پولیس گیسٹ ہاؤس اچھالی کے تعمیراتی کام کا جائزہ*

اس موقع پر ڈی پی او خوشاب نے تعمیراتی کام کے معیار، رفتار اور تکمیل کے مراحل کا معائنہ کیا اور ٹھیکدار کو ہدایت کی کہ کام کی کوالٹی پر سمجھوتہ کسی صورت نہ ہو گا

ڈی پی او خوشاب ڈاکٹر عمارہ شیرازی نے مزید کہا کہ پولیس دفاتر کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جا رہا ہے تاکہ دفاتر میں آنے والے شہریوں کو باعزت اور بہترین ماحول کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
*ترجمان خوشاب پولیس*

Photos from Soon Valley Sakesar's post 04/03/2026

سکیسر ائیر بیس اور وادیٔ سون کے گردونواح میں سیکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن، مردوال چوک میں غیر قانونی متعدد افراد حراست میں لے لیے گئے

نوشہرہ (وادیٔ سون) — وزارت داخلہ کے احکامات پر عملدرآمد کراتے ہوئے سیکیورٹی اداروں نے سکیسر ائیر بیس کے گردونواح ، مردوال چوک میں غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف سرچ اینڈ ویری فکیشن آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ وادی سون کا ایریا سکیسر ائیر بیس اور دیگر اہم دفاعی تنصیبات کی وجہ سے انتہائی حساس علاقہ ہے
آپریشن کا مقصد علاقے میں غیر قانونی رہائش پذیر افراد کی نشاندہی اور ان کے کوائف کی جانچ پڑتال ہے۔ اس سلسلے میں شناختی کارڈ رکھنے افراد کو بھی تحویل میں لیا جا رہا ہے تاکہ ان کے کوائف کی بائیومیٹرک اور ریکارڈ کے ذریعے مکمل تصدیق کی جا سکے۔

انتظامیہ کے مطابق نادرا ریکارڈ سے کراس ویری فکیشن کے بعد غیر قانونی دستاویزات یا مشکوک ریکارڈ رکھنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران داخلی و خارجی راستوں پر بھی چیکنگ سخت کر دی گئی ہے اور علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ حکام نے لوکل شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اصل شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں اور تصدیقی عمل میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مکمل تعاون کریں۔
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کارروائی کا مقصد امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام یقینی بنانا ہے۔

Photos from Soon Valley Sakesar's post 03/03/2026

کارروائی برائے خلاف ورزیِ نرخ نامہ
سب ڈویژنل اینڈ انفورسمنٹ آفیسر (SDEO) پیرا تحصیل نوشہرہ، میڈم ثمینہ بشیر کی ہدایات پر پرائس کنٹرول کی خلاف ورزی کرنے والے دکانداروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی گئی۔ دورانِ انسپکشن متعدد دکانیں سرکاری نرخ نامے کی خلاف ورزی کی مرتکب پائی گئیں، جس پر عوامی مفاد کے تحفظ اور حکومتی احکامات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ دکانوں کو قانون اور ضوابط کے مطابق سیل کر دیا گیا۔
پیرا فورس تحصیل نوشہرہ عوامی حقوق کے تحفظ، منافع خوری کے خاتمے اور مقررہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اپنی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھے گی۔ کسی بھی قسم کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
پیرا فورس تحصیل نوشہرہ
عوامی خدمت — قانون کی

Punjab Food Authority PERA Naushera Tehsil Office
Deputy Commissioner Khushab
Government of Pakistan Government of Punjab AC Naushera
Naushera, Soon Valley
SOON VALLEY
ُون__سَکیسر__ضلع__خوشاب✅ #سکیسر

Photos from Soon Valley Sakesar's post 03/03/2026

وادیِ سون کا فخر: جاوید اعوان – ایک جنون، ایک مشن! 🌲💚
​کہتے ہیں کہ درخت لگانا صرف پودا لگانا نہیں بلکہ نسلوں کی آبیاری کرنا ہے۔ وادیِ سون کی مٹی سے محبت کرنے والے اور ملین ٹری کمپین کے روحِ رواں، محترم جاوید اعوان صاحب اس قول کی زندہ جاوید مثال ہیں۔
​خاموش انقلاب کے بانی جاوید اعوان صاحب وہ نام ہے جو کسی عہدے یا ستائش کی تمنا کے بغیر، دن رات وادیِ سون کو سرسبز و شاداب بنانے میں مصروف ہیں۔ ان کی خدمات محض باتوں تک محدود نہیں، بلکہ زمین پر ان کے لگائے ہوئے پودے اب تناور درخت بن کر گواہی دے رہے ہیں۔
​اس سال کی نمایاں کامیابیاں:
​لاکھوں پودوں کی تقسیم: ہر سال کی طرح اس سال بھی جاوید اعوان صاحب نے وادی کے طول و عرض میں لاکھوں پودے تقسیم کیے تاکہ ہر گھر اور ہر ڈھوک ہریالی سے مہک اٹھے۔
​شجرکاری کی تحریک: انہوں نے وادیِ سون کے نوجوانوں اور بزرگوں میں یہ شعور بیدار کیا کہ درخت لگانا ہمارا قومی اور مذہبی فریضہ ہے۔
​پانی کے ذخائر (ڈیمز) کی تعمیر: شجرکاری کے ساتھ ساتھ، وادی میں پانی کی کمی کو دور کرنے کے لیے ڈیم بنوانے کی جدوجہد میں بھی وہ ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
​"ہماری وادی ہمارا اثاثہ ہے، اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔" — جاوید اعوان
​آئیں ان کا ساتھ دیں!
​جاوید اعوان صاحب جیسے لوگ معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کی انتھک محنت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اس مہم کا حصہ بنیں:
​کم از کم ایک پودا لگائیں اور اس کی حفاظت کریں۔
​پانی کے ضیاع کو روکیں اور قدرتی وسائل کی قدر کریں۔
​ہم جاوید اعوان صاحب کے اس عظیم جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی محنت کو قبول فرمائے اور ہماری وادی کو ہمیشہ سرسبز رکھے۔ آمین!
​ Javaid Awan Million Tree Campaign - Haider Awan Soon Valley

25/02/2026

وادی سون سکیسر تحصیل نوشہرہ ضلع خوشاب
گاؤں کورڈھی سے جانب جنوب قدیم شیر شاہ سوری پُل.

Photos from Soon Valley Sakesar's post 25/02/2026

کنہٹی باغ ♥️🥀
وادی سون سکیسر کا ایک پُرسکون نگینہ، جہاں بہتے چشمے اور گرتی آبشاریں روح کو سکون بخشتی ہیں.
Pc: Hassan Nawaz 😍

09/02/2026
09/02/2026

ملک منیر احمد اعوان — سماجی و سیاسی شخصیت سرکی کا سچ بول ٹی وی کو خصوصی انٹرویو
حاجی ملک منیر احمد اعوان: سچ، حق اور عوامی آواز”

Photos from Soon Valley Sakesar's post 08/02/2026

شیر خوارزم سلطان جلال الدین جس مٹی سے اٹھا اسے آج ازبکستان کہتے ہیں ، مسلم امہ کے اس آخری حصار کو جن پہاڑوں نے پناہ دی ، انہیں پاکستان کی وادی تلاجھہ کہا جاتا ہے ۔ شیر خوارزم پر لکھی ازبک لوک داستانیں جہاں آ کر سرگم ہو جاتی ہیں وہ مقام بھی پاکستان میں ہے ، اسے نیلاب کہتے ہیں ۔ دفتر خارجہ میں ، افسر شاہی میں یا کابینہ میں کوئی صاحب ذوق ہوتا تو نیلاب اور اور تلاجھہ آج غیر معمولی سیاحتی مرکز بن چکے ہوتے۔

جلال الدین پر ہمارے ہاں بہت کم لکھا گیا لیکن اس کے باوجود جب جب اس کی کہانی پڑھی ، سحر سا طاری ہو گیا ۔ ازبک شاعر سیف الدین نے لکھا تھا جب ہم اپنے قبیلے کے بہادروں کے قصے لکھتے ہیں تو ہم جلال الدین کا ذکر نہیں کرتے کہ جہاں شیر خوارزم کی عملداری شروع ہوتی ہیں وہاں بہادری بھی ختم ہو جاتی ہے ۔ فارسی کے شاعروں نے اسے ’ ہزار مرد‘ کہا یعنی ایسا شجاع اور ایسا دلیر جو ہزار مردوں کے برابر ہو ۔ ازبکستان سے ترکی تک لوک داستانوں میں اسے مینگو باردی کہا جاتا ہے ، ایسا دلاور جسے کبھی موت نہیں آتی۔

چنگیزخان کو زندگی میں دو بڑی جنگوں اور سات چھوٹی جھڑپوں میں شکست ہوئی ، ہر بار مد مقابل ایک ہی تھا : سلطان جلال الدین ۔ چنگیز خان نے صرف ایک ہی دشمن کو بہادری پر خراج تحسین پیش کیا تھا وہ بھی جلال الدین تھا۔

نور الدین کورلاخ نے درست کہا تھا سلطان جلال الدین مسلم دنیا کا فدیہ تھا۔ یہ نہ ہوتا تو چنگیز خان کے ہاتھوں مسلم دنیا کی تباہی کی داستان زیادہ طویل اور دلفگار ہوتی ۔ اس کا باپ چنگیز سے مقابلے کے لیے اس کا مشورہ مان لیتا تو شاید دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔ اس کے بھائی سازشیں کر کے تخت پر قابض نہ ہوتے تو شاید پھر بھی تاریخ کی کروٹ کچھ اور ہوتی۔ کیسا نجیب انسان تھا ، تخت بھائیوں کے پاس چھوڑ کر جنگل کو نکل گیا کہ سلطنت کسی اور آمائش میں نہ پڑ جائے۔

شکست کی راکھ سے اس نے عزیمت کا پرچم اٹھایا ۔ کبھی ہزارکبھی پانچ ہزار ، جتنے جنگجو ملتے وہ ان کے ساتھ چنگیز خان کے لیے چیلنج بنا رہا یہاں تک کہ وہ وقت آیا جب اس کے پاس ایک لشکر جرار تھا۔ اس نے چنگیز خان کو لکھا : تم میرے لیے جنگل جنگل خاک چھان رہے ہو، میں اس وقت یہاں بیٹھا ہوں ۔ تم آؤ گے یا میں آئوں‘‘۔

میجر ریوٹی نے لکھا ہے چنگیز خان کی زندگی میں یہ پہلا موقع تھا اسے کسی نے یوں چیلنج کیا ہواور چنگیز خان چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ کر سکا ۔ اسے معلوم تھا اگر جلال الدین یوں للکار رہا ہے تو شیر کے منہ میں سر دینا حکمت نہیں ۔۔۔۔۔۔

یہ میرے الفاظ نہیں ، چنگیزخان کے اس تذبذب کی یہ کہانی چنگیز کے منشی امیر عطا نے صدیوں پہلی لکھ دی تھی ۔ وہ لکھتے ہیں شیر خوارزم کے اس چیلنج نے چنگیز کو پاگل کر دیا تھا ۔ وہ صبح سے شام لشکر کی تیاریوں پر صرف کرنے لگ گیا ۔ لیکن پھر بھی اسے تسلی نہیں ہو ررہی تھی کہ کیا وہ جلال الدین کا مقابلہ کرنے کو تیار ہے یا ابھی کچھ کمی رہ گئی ہے۔ اسے معلوم تھا للکارنے والا کون ہے۔

یہاں تک کہ پھر ایک گھوڑے پر سلطان کے لشکر کے سالاروں میں جھگڑا ہو گیا اور پھوٹ پر گئی۔ افغان سالار ناراض ہو کرلشکر لے کر چلا گیا۔امیر عطا لکھتے ہیں جلال الدین کو خبر ہوئی تو بھاگ کر خیمے سے باہر آیا ، ان کی منتیں کیں ، رویا کہ ایسا نہ کرو ، مسلمانوں کے مستقبل کا خیال کرو لیکن جانے والوں کو کوئی کب روک سکا ہے۔لشکر آدھا رہ گیا۔ چنگیز خان تو گویا اسی موقع کے انتظار میں تھا۔باقی تاریخ ہے۔

سلطان جلال الدین نے ہندوستان کی طرف نکلنے کا فیصلہ کیا۔ سطان کے لڑنے کا انداز تو جدا تھا ہی، اس کی پسپائی بھی انسانی تاریخ کا حیرت کدہ ہے۔

ایسا نہیں ہوا کہ وہ اپنی بچی کھچی فوج لے کر بھاگ نکلا۔ تین ہزار سوار اور پانچ سو محافظین۔ یہ تھی اس کی کل فوج مگر یہ سلطان تیس ہزار پناہ گزینوں کو ساتھ لے کر نکل رہا تھا۔جس میں عورتیں تھیں، بچے تھے، بزرگ تھے، زخمی تھے۔وہ چاہتا تو اپنے گھڑ سوار لے کر کب کا اس علاقے سے نکل گیا ہوتا لیکن وہ اپنے پناہ گزینوں کو ساتھ لے کر جانا چاہتا تھا۔

یہیں اسے چنگیز خان کے لشکر نے آ لیا۔ ایک طرف سلطان جلال کے تیس ہزار پناہ گزین جن میں سپاہیوں کی تعداد صرف تین ہزار۔ دوسری جانب چنگیز کا ستر ہزار کالشکر جسے پچاس ہزار کی مزید کمک مل گئی ۔ تین ہزار بمقابلہ ایک لاکھ بیس ہزار۔

پھر بھی لڑنے والا اس انداز سے لڑا کہ ا س نے چنگیز کو جا لیا۔ چنگیز کے اپنے منشی عطا کی روایت ہے کہ قبل ا س کے کہ جلال چنگیز تک پہنچتا جب چند قدم کا فاصلہ رہ گیا تھا بیچ میں منگول آ گئے اور چنگیز خان جلال الدین سے دو بدو لڑنے کی بجائے پیچھے ہٹ گیا۔

نیلاب کے مقام پر کشتیاں چلتی تھیں اور لوگ ان سے دریا عبور کرتے تھے۔ اب لوگ زیادہ تھے اور کشتیاں کم۔ عورتوں بچوں کو لے کر کشتیاں جاتیں اور واپس آتیں اور یہ طویل کام تھا ۔ تیمور ملک نے سلطان سے درخواست کی : سب سے پہلے آپ دریا کے پار اتر جائیے ۔ سلطان نے انکار کر دیا کہ وہ سب سے آخر میں جائے گا۔ سلطان ہی نے نہیں اس کے اہل خانہ نے بھی انکار کر دیا کہ پہلے پناہ گزین رعایا جائے گی پھر شاہی خاندان۔

تیمور ملک کا اصرار بڑھا تو سلطان نے غصے سے کہا:”میں جلال الدین ہوں“۔ یہ گویا تیمور ملک کو ایک تنبیہہ تھی کہ یہ مشورہ کسے دے رہے ہو۔ کیا تم بھول گئے تمہارے سامنے جو شخص کھڑا ہے اس کا نام جلال الدین ہے۔

اس فقرے میں جہاں معنی تھا۔ تیمور ملک پیچھے ہٹ گیا۔ یہ فقرہ ازبک ترک اور فارسی لوک داستانوں میں امر ہو گیا۔آٹھ سو سال بعد اب جب سلطان پر ترکوں نے ڈرامہ بنا یا تو اس کا نام یہی رکھا : میں ہوں جلال الدین۔

جس مقام پر سلطان نے اپنا گھوڑا دریا میں ڈالا ، میں نے وہ مقام جا کر دیکھا تو حیرت زدہ رہ گیا ۔اکثر سوچتا تھا کہ ایک شکست خوردہ سلطان کے پہاڑ کی چوٹی سے دریا میں چھلانگ لگانے میں ایسا کیا تھا کہ چنگیز خان جیسا آدمی بھی یہ منظر دیکھ کر ششدر رہ گیا اور اس نے اپنے بیٹے کو بلا کر کہا کہ اس بہادر انسان کو دیکھو، اس کی ماں کو ناز کرنا چاہیے جس نے اس جیسے جنگجو کو جنم دیا۔

یہ پہاڑی میرے سوال کا جواب تھی۔ یہ عقل و شعور کی حدوں سے آگے کا قدم تھا۔یہ کسی انسان کا کام نہ تھا، یہ جلال الدین ہی کو زیبا تھا۔ ازبک قوم نے کیا حسب حال نام رکھا ہوا ہے: جلال الدین ہزار مرد۔ سلطان تو پھر جلال الدین تھا، اس گھوڑے پر بھی آفرین ہے جو مالک کے اشارے پر اتنی بلندی سے دریا میں کود گیا اور دریا کے اس پار بھی لے گیا۔

روایت ہے کہ اس گھوڑے سے سلطان کو عشق تھا۔ یہ گھوڑا آخری معرکے تک سلطان کے ساتھ رہا لیکن اس چھلانگ کے بعد سلطان اسے کبھی میدان جنگ میں نہیں لے گیا کہ اسے کچھ ہو نہ جائے۔ اسے اس نے صرف محبت کی یاد گار کے طور پر اپنے ساتھ رکھا۔

یہاں سے سلطان کلر کہار پہنچا ، چنگیز خان کے جاسوس اس کے پیچھے تھے ۔ سلطان مزید آگے چلا گیا اور اس نے وادی سون کے قلعے تلاجھا میں جا کر خیمے ڈال لیے۔

سلطان کی محبت میں ، میں اس قلعے تک بھی گیا سون کی وادی میں کچے راستے پر میلوں اندر جانے کے بعد ایک موڑ آیا تو دور پہاڑ کی چوٹی پر جلال الدین خوارزم شاہ کے قلعے پر پہلی نظر پڑی اور حیرت سے وہیں جم کر رہ گئی ۔ قلعہ نہیں تھا ، یہ شیر خوارم کی کچھار تھی ۔ بادشاہوں کے قلعے دلی ، لاہور اور روہتاس کے قلعوں جیسے ہوتے ہوں گے لیکن شیروں کی کچھار ایسی ہی ہوتی ہے جیسے یہ قلعہ تھا ۔ اس قلعے کو کبھی جا کر دیکھیے ، یہ ایک مکمل حیرت کدہ ہے۔ یہاں چنگیز خان پورا لشکر لے کر بھی آتا تو برباد ہو جاتا ۔

قدرت نے شاید یہ پہاڑ بنایا ہی اسی لیے تھا کہ ایک روز خوارزم کا زخمی سلطان یہاں آئے تو سنگلاخ چٹانیں اس کا قالین ، نیلا آسمان اس کی چھت اور حیران کر دینے والا عمودی پہاڑ اس کی فصیل بن جائیں ۔ ۔۔۔ یہ قلعہ تلاجھہ تھا۔

تلاجھہ میں سلطان نے اپنی قوت جمع کی۔ پروانےا س کے گرد جمع ہوتے رہے۔ وادی سون کا اعوان قبیلہ اس کا پہلا دست و بازو بنا ۔ سلطان کو وہ وقت بھولا نہیں تھا کہ جب وہ بے سروسامانی میں ہندوستان آیا تو اس نے التتمش سے پناہ مانگی ۔ چنگیز کے ڈر سے دہلی کے سلطان نے بظاہر اچھے انداز سے معذرت کر لی ۔ ساتھ لکھ بھیجا کہ اگر آپ ان علاقوں کو فتح کر لیں جو میری سلطنت میں نہیں تو ہم وہاں آ پ کی حکومت تسلیم کر لیں گے۔

چند سو سپاہیوں کے ہمراہ در بدر سلطان کو یہ پیغام دینا اس کا مذاق اڑانے کے برابر تھا مگر وہ جلال الدین تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اگلے چھ ماہ میں وہ سندھ تک کا علاقہ فتح کر کے سلطنت قائم کر چکا تھا۔

اب حساب برابر کرنے کا وقت تھا ۔ چنانچہ ایک روز جلال الدین کا قاصد دلی کے بادشاہ کے پاس جا پہنچا کہ ایک علاقے میں سلطان ایک ہی رہ سکتا ہے آؤ اب ذرا فیصلہ کر لیں کہ کس نے رہنا ہے۔

دہلی کے سلطان کو معلوم تھا مقابلہ کس سے ہے۔ اس نے لکھ بھیجا کہ آپ سلطان ہو، سلطان زادے ہو، ہمارے بیچ لڑائی سے اسلام کا نقصان ہو گا ۔ جلال الدین نے خط پڑھا اور حملے کا ارادہ ترک کر دیا ۔

مورخین نے لکھا ہے کہ ایک روز نماز فجر کے بعد جلال الدین نے حکم دیا کہ ہم واپس جا رہے ہیں، ہم یہاں حکومت کرنے نہیں آئے، ہم یہاں طاقت بحال کرنے آئے تھے۔ ہمارا یہاں کوئی کام نہیں، ہم نے واپس جا کر منگولوں سے لڑنا ہے کیونکہ منگولوں کو روکا نہ گیا تو وہ مکہ اور مدینہ کے مقامات مقدسہ تک جا پہنچیں گے۔شام تک جلال الدین اپنی ہنستی بستی سلطنت چھوڑ کر چنگیز خان سے لڑنے واپس جا چکا تھا۔

دہلی کے سلطان کو یہ خبر ملی کہ خوارزم کا سلطان سلطنت چھوڑ کر واپس چلا گیا ہے تو اسے یقین نہ آیا۔ کتنی ہی دیر وہ اپنے گورنر کا مکتوب ہاتھ میں تھامے سکتے کے عالم میں بیٹھا رہا اور پھرصرف اتنا کہہ سکا : السلطان الاعظم، سلطان جلال الدُنیا والدِین۔

میزبانوں میں سے کسی کو یہ کہانی معلوم ہوتی تو وہ نیلاب اور تلاجھہ میں یاد گاریں بناتےاور ازبک صدر سے ان کا افتتاح کرواتے۔ سیاحتی امکانات تو پیدا ہوتے ہی ہوتے ، پاکستان اور ازبکستان کا سماج ایک تہذیبی اور ثقافتی رشتے میں بھی بندھ جاتا۔ یہ نہیں تو ان مقامات کی ایک تصویری البم ہی ازبک صدر کو پیش کر دی جاتی۔ اسلام آباد میں کہیں سلطان جلال الدین کا مجسمہ نصب کر کے وہاں ازبک صدر کو لے جا کر ایک تقریب منعقد کر لی جاتی۔

پاکستان ٹیلی وژن پر سلطان جلال الدین کا ایک ڈرامہ چلا تھا جو نسیم حجازی کے ناول آخری چٹان سے ماخوذ تھا ، اس ڈرامے کی کاپیاں ازبک صدر کو پیش کی جا سکتی تھیں۔ اسے ازبک ڈبنگ کے ساتھ ازبکستان میں چلایا بھی جا سکتا تھا۔ نسیم حجازی کے اس ناول کا ترجمہ بھی کیا جا سکتا ہےا ور اسے ازبکستان بھجوایا جا سکتا ہے۔

خواہشات اور امکانات کی یہ فہرست طویل ہے ، کوئی کتنا لکھے۔ ابھی ایک اور سوال نے دیوار دل پر دستک دی ہے کہ کیا تاشقند اردو اور برادرم ذبیح اللہ بلگن سے کہا جا سکتا ہے کہ تاشقند اردو میں ہی اس سانجھے سلطان کا کوئی گوشہ مختص کر دیں ۔ کچھ یہاں کا احوال لکھیں ، کچھ وہاں کا۔ گورگنج سے نیلاب اورنیلاب سے تلاجھہ تک ، جتنے نقوش موجود ہیں جمع کر دیں ۔

یہ کسی عام سے سلطان کا قصہ نہیں ، یہ السلطان الاعظم، سلطان جلال الدنیا والدین کی داستان ہے۔ یہ مینگو باردی کی کہانی ہے۔ یہ سانجھی میراث ہے۔ اس کی طاقت کو پہچانے۔

Author

آصف محمود 🇵🇰🖤💚

18/01/2026

انگہ وادی سون سکیسر کا ایک عظیم اور تاریخی گاؤں ۔۔
انگہ حضرت سلطان باہو رحمتہ اللہ علیہ کی جائے ولادت اور حضرت پیر مہر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی ابتدائی درسگاہ اور پاکستان کے قومی شاعر جناب احمد ندیم قاسمی مرحوم کی جائے پیدائش ہے۔
شاعر مشرق علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ کے امام حضرت مولانا غلام مرشد رحمتہ اللہ علیہ کا آبائی گاؤں انگہ ہے۔
یہ اولیاء اور اتقیاء کا گاؤں ہے اللہ وادی سون کو ہر آسمانی اور زمینی آفت سے محفوظ رکھے اور پوری وادی میں عظیم شخصیات جنم لیتی رہیں آمین ثم آمین۔

Want your business to be the top-listed Government Service in Khushab?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Khushab
41000