BRC khuzdar

Directions

BRC khuzdar Is to Show the successful Alumnus of BRC khuzdar

Dear Candidate, Roll  # Slips for Balochistan Residential College Khuzdar has been uploaded on our website (www.Bts.Org....
19/01/2020

Dear Candidate, Roll # Slips for Balochistan Residential College Khuzdar has been uploaded on our website (www.Bts.Org.Pk). Test will be conducted on 02:00 PM, 19TH January, 2020 at Aiwan-e-Millat Marriage Hall, Kawari Road, Quetta.

2.00 pm 19th January 2020 at BRC Khuzdar

for any query contact on 081-2301696. Regards BTS.

 Projects Check latest projects & related information.  Results You can check or download all results from here.  Roll # Slips Click Here to download Roll # Slips  List of Candidates Click here for the Eligible and Ineligible candidates list. NEW Projects BRC Uthal Admissions...

07/01/2020
Admissions are opened
22/12/2019

Admissions are opened

ﺟﻨﯿﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ ڈﯼ ﭘﯽ ﺳﯽﺧﻀﺪﺍﺭ  پرنسپل  ﺗﻌﯿﻨﺎﺕﻧﻮﭨﯿﻔﮑﯿﺸﻦ ﺟﺎﺭﯼ
19/09/2019

ﺟﻨﯿﺪ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ ڈﯼ ﭘﯽ ﺳﯽ
ﺧﻀﺪﺍﺭ پرنسپل ﺗﻌﯿﻨﺎﺕ
ﻧﻮﭨﯿﻔﮑﯿﺸﻦ ﺟﺎﺭﯼ

BRCIAN
26/08/2019

BRCIAN

31/07/2019

خط اُس استاد کے نام جو کبھی اسکول آیا ہی نہیں!

میرے پیارے ماسٹر جی! کافی عرصے سے خواہش تھی کہ آپ کو ایک خط لکھوں مگر آپ کا نام معلوم ہے اور نہ پتہ جانتی ہوں، اس لیے نہیں لکھ سکی۔ لکھتی تو کس کے نام لکھتی اور کس پتے پر لکھتی۔ آپ تو نامعلوم ہیں اور پتا نہیں کہ آپ ہیں بھی یا نہیں۔ پھر ایک دن اپنے چچا کے اخبار میں، میں نے دیکھا کہ پورے بلوچستان میں آپ کی تعداد 15 ہزار سے زائد ہے۔ اس سے پہلے میں نے سوچا تھا آپ بس ایک ہی ہیں۔ تب میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں اپنا خط ان 15 ہزار گمشدہ اساتذہ کے نام لکھوں گی، جن میں سے ایک آپ بھی ہیں۔

آپ کو شاید علم ہو، حکومت آپ کو گھوسٹ اساتذہ کے نام سے پکارتی ہے۔ ہمارے گاؤں میں آپ کو غیرحاضر اساتذہ کہا جاتا ہے، مگر میں نے سوچا ہے کہ میں آپ کو گمشدہ استاد کہہ کر پکاروں گی۔

میرے گمشدہ ماسٹر جی! میرے گاؤں میں کوئی اسپتال نہیں۔ البتہ مردوں کے لیے ایک کلینک ہے، جہاں علاج کے لیے ایک ڈاکٹر مع چند دوائیوں کے بیٹھتے ہیں۔ اباجی کہا کرتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر نہیں کمپاؤنڈر ہے۔ یہ دیکھ کر میری خواہش ہوتی ہے کہ میں ڈاکٹر بن جاؤں اور اپنے علاقے کہ لوگوں کی خدمت کروں۔ جس سے ہر کسی کا علاج ہو سکے۔ یہی خواہش لیے میں روزانہ خود کو تیار کر کے اسکول جاتی ہوں۔ کلاس کی صفائی کرتی، مٹکے میں پانی بھرتی، ٹاٹ سیدھے کرتی، بورڈ صاف کرتی اور اس دن کی تاریخ بورڈ پر لکھ دیتی ہوں۔ پھر باقی سارے بچے آتے ہیں۔ ہم سب مل کر دعا پڑھتے اور پھر آپ کا انتظار کرنے لگتے ہیں۔ روز ہماری لڑائی ہوتی ہے مگر میں آپ کی کرسی پر میں کسی کو بھی نہیں بیٹھنے دیتی اور اسے آپ کے لیے چھوڑتی ہوں۔ مگر یہ ہمیشہ خالی رہتی ہے اور آپ نہیں آتے۔ یہ عمل روزانہ چلتا رہتا ہے۔

ڈاکٹر بننے کے علاوہ میری ایک بڑی خواہش شہر جانے کی تھی۔ ابا کہتے تھے کہ جماعت ہشتم، نہم اور دہم کے امتحانات بورڈ لیتا ہے اور اس کے لیے شہر جانا ہوتا ہے۔ اس لیے میں یہ سوچ کر بہت خوش ہوتی تھی کہ ہم امتحان دینے شہر جائیں گے، وہاں کے طالب علموں سے ملیں گے، ان سے اپنے گاؤں کی باتیں کریں گے، ساتھ شہر کا نظارہ کر لیں گے، اپنے لیے چیزیں خریدیں گے اور پھر ساری باتیں یہاں آ کر گاؤں والوں کو بتائیں گے۔

میرے گمنام ماسٹر جی! میری ایک بڑی خواہش یہ بھی تھی کہ میں کلاس کا مانیٹر بن جاؤں، آپ جب کلاس میں آئیں تو سب سے پہلے مجھ سے پوچھیں کہ کل کون نہیں آیا تھا اور میں باری باری سب کا نام لے لوں۔ آپ جب بورڈ پہ لکھ رہے ہوں تو میں سب کو خاموش کرا دوں، چھٹی کے ٹائم گھنٹی کو خود اپنے ہاتھوں سے بجاؤں اور سب کو لائن سے باہر نکال دوں، امتحان میں سب سے پہلی پوزیشن لے لوں اور آپ کے ہاتھوں سے انعام وصول کروں۔

مگر اب مجھے لگتا ہے کہ میری ڈاکٹر بننے، شہر جانے اور مانیٹر بننے کی یہ خواہشیں ادھوری ہی رہ جائیں گی۔

میرے بھٹکے ہوئے ماسٹر جی! میں نے اپنے بڑوں سے سنا ہے کہ میرے بلوچستان میں ناخواندگی کا سہرا ایک عرصے سے سرداروں کے سر رہا۔ حاکم یہ کہتے نہیں تھکتے کہ سردار بلوچوں کو پڑھنے نہیں دیتے، آگے لانا نہیں چاہتے، علاقے میں ترقی نہیں چاہتے، اس لیے انھوں نے ان کے لیے تعلیم کی راہیں بند کی ہیں۔ یہ حقیقت تھی یا افسانہ، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر اب کی بار یہ سہرا سرداروں کے سر نہیں جائے گا۔ ماسٹرجی، اب کی بار نتیجہ بھیانک ناک نکلے گا۔ اب کی بار کہا جائے گا کہ بلوچستان میں پڑھے لکھے لوگ ہی لوگوں کو پڑھنے نہیں دیتے، جہالت کے اصل ذمہ دار وہ ہیں جو خود صاحبِ علم ہیں اور یہ حقیقت دَہائیوں تک چلتی رہے گی۔

سردار سے مجھے سردار اختر مینگل یاد آ گئے۔ میرے ابا اکثر رات کو تذکرہ کرتے ہوۓ کہتے ہیں کہ سردار اختر مینگل بلوچستان کے لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کی لسٹ بھی اس کے پاس ہے۔ ابا کہتے ہیں جس کا بھی نام ملے اختر مینگل اسے ڈھونڈنے کی کوشش شروع کرتے ہیں۔ آپ کو پتا ہے، پوری رات سوچ و بچار کے بعد اگلی صبح میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں بھی اختر مینگل کو خط لکھوں گی اور یہ خط آپ کی گمشدگی کا نہیں بلکہ آپ سمیت 15 ہزار سے زائد اساتذہ کی گمشدگی کا خط ہوگا۔

اے میرے مجازی استاد، میں نے ”تلاشِ گمشدہ“ کے نام سے وہ خط لکھ بھی دیا۔ مجھے دیکھ کر میرے باقی سارے دوست، بچے بچیوں نے بھی ایک ایک خط لکھنے کا فیصلہ کیا اور یوں تلاش گمشدہ کے نام سے 40 خطوط تیار ہوئے۔ انھیں ہم نے دکانوں، مسجدوں، کلینک، گھروں، اسکول، کھمبوں، شہر جانے والی ٹیکسیوں سمیت ہر جگہ چسپاں کر دیا تاکہ یہ خط اختر مینگل تک پہنچ سکے اور آپ کی صحیح سلامت واپسی ممکن ہو۔ مگر پتا نہیں وہ خط ان تک پہنچا کہ نہیں، البتہ آپ ہم تک اب بھی نہیں پہنچے۔

اس لیے اب سیدھا آپ ہی کو خط لکھ رہی ہوں۔

آپ اگر یہ خط پڑھ رہے ہیں تو ایک ضروری بات آپ کو بتاتی چلوں کہ میں نے اب اسکول جانا چھوڑ دیا ہے۔ باقی سارے بچے بھی نہیں جا رہے۔ وہ ٹاٹ اور مٹکے بھی اب نہیں رہے۔ آپ کی کرسی بھی نکال دی گئی۔ آپ جانتے ہیں اس دفعہ آپ کی کرسی نکالنے پر میں کسی سے بھی نہیں لڑی۔ سب بچے باہر کرسی پر بیٹھ کر آپ کی نقلیں اتار رہے تھے۔ میں نے کسی کو بھی نہیں روکا۔ روزانہ کی تاریخ لکھتے لکھتے بلیک بورڈ بھر گیا تھا، پر میں نے ایک بھی تاریخ نہیں مٹائی۔ ابا کہتے ہیں، تاریخ برابر حساب لیتی ہے۔ اس لیے وہ تاریخ میں نے محفوظ کر لی ہے۔

اب آپ اسکول آنے کی زحمت بھی نہ کیجیے۔ کیوں کہ آپ جب آئیں گے تو آپ کو بچے دِکھیں گے اور نہ اسکول۔ اسکول، گودام میں بدل گیا ہے اور بچے اب بچے نہیں رہے، وہ بھی بڑوں کی طرح کھیتوں میں کام کرنے لگے ہیں۔ کچھ سال بعد میری شادی ہو جائے گی۔ مجھے یہ افسوس نہیں کہ میں اپنی زندگی میں کچھ نہ بن سکی، مگر یہ افسوس ضرور ہے کہ میں کسی کا علاج نہیں کر سکتی اور اس کی سزا مجھے یہ ملے گی کہ شادی کے بعد میرا علاج کرنے والا کوئی نہ ہوگا۔

آپ کی کمترین شاگرد
(اسکول سے باہر تمام بچے بچیاں)
جماعت (پتا نہیں)
پتہ (جہاں آپ کی پوسٹنگ ہے)
تاریخ (بورڈ پر درج شدہ)
Copied

ادارے کو جینے دو۔۔۔۔۔۔بی آر سی خضدار کے مسائل، تنزلی اور دگرگوں صورتحال کا زمہ دار۔۔۔۔۔۔ *صرف اور صرف بےجا سیاسی مداخلت*...
20/07/2019

ادارے کو جینے دو۔۔۔۔۔
۔بی آر سی خضدار کے مسائل، تنزلی اور دگرگوں صورتحال کا زمہ دار۔۔۔۔۔۔ *صرف اور صرف بےجا سیاسی مداخلت*
*قانون شکن طلباء کو تحفظ دینے کےلیے کالج انتظامیہ کی فیصلوں کو بار بار روندنا ہے۔*
تحریر۔ *انعام اللہ مینگل*
انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ *اپریل 2016* میں طلباء کے دو گروپس (بلوچ و پشتون) ایک دوسرے سے دست گریبان ہوگئے۔ تو کالج انتظامیہ نے ملوث طلباء کو کالج قوانین کے مطابق کالج سے فارغ کر دیا۔
فارغ ہونے کے بعد یہی دونوں حریف طلباء گروپس ایک دوسرے کے ساتھ خانکی فیصلہ کرکے، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت بیوروکریسی کو مداخلت کرنے پر مجبور کیا۔
لیکن اس وقت کے پرنسپل غلام رسول حسنی نے کہا کہ میری موجودگی یہ شرپسند اور لڑائی میں ملوث طلباء واپس اس کالج میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔
*طلباء کو سیاسی و انتظامی سپورٹ زیادہ ہونے کی وجہ سے پرنسپل، سٹاف اور ادارے کی تقدس کو پامال کرکے ان شرپسند اور خارج شدہ طلباء کو ادارے میں واپس لانے کی راہ ہموار کرنے کےلیے پرنسپل غلام رسول حسنی کو فارغ کرکے حاجی محمد عالم جتک کو نیا پرنسپل بنا کر بھیجا گیا۔*
اور انہوں نے ان خارج شدہ طلباء کو واپس کالج لایا۔
اس فیصلے سے یہ ثابت ہوا کہ یہی طلباء کالج کے اندر بلوچ پشتوں بن کالج قوانین کو پائمال کرتے رہتے ہیں اور جب ان کے خلاف کاروائی کی جاتی ہے تو یہی بلوچ اور پشتون طلباء باہر جاکر ایک ہوجاتے ہیں،
ادارہ اور کالج انتظامیہ کے خلاف زہرافشانی کرتے رہے حتی کہ وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب بھی ہوگئے۔
اس وقت کالج انتظامیہ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے والے اور اپنے من مانی سے خارج شدہ طلباء کو واپس لانے میں اس وقت کے حکمران جماعتیں براہ راست ملوث رہیں۔
*جب کالج کے فیصلے دفاتر کے بجائے اوطاقوں، چوراہوں اور کالج انتظامیہ کے بجائے سیاسی لوگ کریں گے تو اس کا یہی نتیجہ ہوگا۔*
2017 فروری میں میٹرک امتحان ٹھیک ایک روز قبل ایک طالبعلم نے اپنے اوپر رنگ چھڑک کر اپنے آپ کو شدید زخمی ظاہر کرکے اساتذہ اور کالج کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا۔
سیاسی پشت پناہی کی بدولت ایف آئی آر، احتجاج، پروپیگنڈا میں واضح طور پر ملوث اس طالبعلم کو کھلی چھوٹ دی گئی اور اساتذہ کو کورٹ و کچہری میں دربدر ہونا پڑا۔
2017 جون میں ایک دفعہ پھر اسی طالبعلم نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ ملکر ایک اور لڑائی کا موجب بنا۔
جس پر کالج انتظامیہ شرپسندی میں ملوث درجن کے قریب بچوں کو کالج سے فارغ کیا۔ *لیکن سیاسی مداخلت اور سیاسی پشت پناہی کی بدولت کالج انتظامیہ کو منسٹر ایجوکیشن عبدالرحیم زیارتوال اور سیکریٹری ایجوکیشن کے سامنے سر تسلیم خم کرکے اپنے فیصلے کو ایک دفعہ پھر روندنا پڑا۔*
جس کی وجہ ایک دفعہ پھر شرپسند طلباء کو کالج میں آنے کا موقع ملا۔
*انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ طلباء کی آپس کی رنجشوں کا الزام اساتذہ پر بھی بسا اوقات لگایا جاتا رہا ہے میں تمام طلباء اور والدین سے استفسار کرنے کی جسارت کروں گا کہ اگر اساتذہ ملوث ہیں تو کسی بھی بچے کی طرف سے ملوث استاد کا نام سامنے لائیں۔*
آج جولائی 2019 میں کالج میں تبدیلی واضح طور پر نمودار ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ اسی ٹرم میں نالائق بچوں سے ایک ٹیسٹ لیا جا رہا ہے جس میں فیل ہونے والے بچوں کو گھر جانا ہوگا۔
*کالج میں لباس کوڈ اور ڈیلی روٹین پر سختی سے عمل درآمد شروع ہوچکا ہے*۔
اب نالائق بچوں کو واضح طور پر دکھائی دے رہا ہے کہ وہ لوگ عید کے بعد یہاں نہیں ہوں گے۔
اس لیے وہ جاتے ہوئے اس عظیم قومی اثاثہ بلوچستان ریزیڈنشل کالج خضدار کو بدنام کرتے ہوئے جانا چاہتے ہیں۔
*ایک فیک تصویر بناکر پوری ایک قوم یا بی آر سی خضدار انتظامیہ کو موردالزام ٹہرانا کہاں کی دانشمندی ہے؟*
میں BRC خضدار کے ایک استاد کی حیثیت سے تمام سیاسی و سماجی شخصیات و طبقات سے گزارش کروں گا کہ اس دفعہ کالج انتظامیہ کو اپنے فیصلہ پر عملدرآمد کا موقع دیں تاکہ آئندہ قانون شکنی کرنے والے کو قانون توڑنے سے پہلے ہزار بار سوچنا پڑے۔
*افسوسناک امر یہ ہیکہ ادارے میں بلوچ پشتوں کے نام پر ایک دوسرے سے نفرے کرنے والے طلباء کے خلاف جب کاروائی ہوتی ہے تو یہی طلباء کالج واپسی یا اپنے داخلوں کی بحالی کےلیے باہر جاکر مشترکہ جدوجہد کے زریعے کالج کے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔*
شکریہ
*والسلام*

بلوچستان ریزیڈنشل کالج خضدار*"تقریب تقسیم انعامات و تعریفی اسناد"*پروفیسر محمد نواز سومرو پرنسپل BRC خضداربلوچستان بورڈ ...
14/07/2019

بلوچستان ریزیڈنشل کالج خضدار
*"تقریب تقسیم انعامات و تعریفی اسناد"*
پروفیسر محمد نواز سومرو پرنسپل BRC خضدار
بلوچستان بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے تحت میٹرک کے سالانہ امتحان
اور
میقات اول 2019 کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء میں نقد انعامات اور تعریفی اسناد تقسیم کر رہے ہیں۔
اس موقع پر *پروفیسر محمد نواز سومرو* نے طلباء سے خطاب بھی کیا۔

Engr Faisal maqboolLecturer Mechanical dept BUET khuzdarAlumni of BRC Khuzdar
22/05/2019

Engr Faisal maqbool
Lecturer Mechanical dept BUET khuzdar
Alumni of BRC Khuzdar

17/05/2019

Those who Alumnus of BRC khuzdar please send me your position we will upload it on page

17/05/2019

Like and share this page

Mr. Muhammad AfzalSHO khuzdar CityAlumni of BRC khuzdar
17/05/2019

Mr. Muhammad Afzal
SHO khuzdar City
Alumni of BRC khuzdar

Address

Chamrok
Khuzdar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when BRC khuzdar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category