04/10/2026
ملک بحرانوں میں گھِرا ہوا ہے، مگر حکمران اقتدار کی سیاست میں مصروف ہیں!
چیئرمین تحریکِ انقلاب نعیم شاہین نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو ایک نہیں، بیک وقت کئی محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک طرف مہنگائی نے غریب کے گھر کا چولہا بجھا دیا ہے، بجلی اور پٹرول کے بلوں نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، نوجوان بے روزگاری سے پریشان ہیں، جبکہ دوسری طرف دہشت گردی نے ملک خصوصاً خیبر پختونخوا کے عوام کا سکون چھین لیا ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ عوام روٹی، روزگار اور امن مانگ رہے ہیں، جبکہ حکمران اور سیاسی قوتیں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اقتدار کی کشمکش میں مصروف ہیں۔
یہ ملک مزید تجربات، مزید وعدوں اور مزید نمائشی اقدامات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
احتجاج عوام کا آئینی حق ہے، لیکن سیاسی بحران کو مستقل تصادم میں تبدیل کرنا بھی ملک کے مفاد میں نہیں۔ حکومت اگر عوام کی آواز سننے کے بجائے طاقت، گرفتاریوں اور دباؤ کو اپنا راستہ بنائے گی تو فاصلے مزید بڑھیں گے۔ اور سیاسی قوتیں اگر ہر مسئلے کا حل سڑکوں پر تصادم سمجھیں گی تو نقصان آخرکار پاکستان اور عام پاکستانی کا ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف پوری قوم کو متحد ہونا ہوگا۔ ہمارے جوان اور شہری اپنی جانیں قربان کر رہے ہیں، مگر صرف آپریشنز اور بیانات کافی نہیں۔ امن کے ساتھ انصاف، مضبوط حکمرانی، روزگار، تعلیم اور عوامی اعتماد بھی ضروری ہے۔
ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کا اصل بحران صرف حکومت کی تبدیلی نہیں، بلکہ فرسودہ نظام کی ناکامی ہے۔
وہ نظام جس میں عام آدمی ووٹ دے کر بھی بے اختیار رہے، نوجوان ڈگری لے کر بھی بے روزگار رہے، غریب مہنگائی تلے دب جائے، ادارے ایک دوسرے سے متصادم رہیں اور احتساب صرف مخالفین کے لیے استعمال ہو—ایسے نظام کو بدلنا ہوگا۔
اب چہروں کی تبدیلی نہیں، نظام کی تبدیلی ضروری ہے۔
تحریکِ انقلاب کسی فرد، خاندان یا طبقے کی سیاست نہیں کرتی۔ ہمارا مطالبہ ایک ایسے پاکستان کا ہے جہاں:
▪️ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے برابر ہو
▪️ عوام کو حقیقی سیاسی اختیار حاصل ہو
▪️ ادارے آئین کے تابع اور جوابدہ ہوں
▪️ نوجوانوں کو روزگار اور مستقبل ملے
▪️ صوبوں اور عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں
▪️ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اور مستقل پالیسی ہو
▪️ کرپشن، اقرباپروری اور موروثی سیاست کا خاتمہ ہو
ہم حکمرانوں سے پوچھتے ہیں: آخر کب تک عوام قربانیاں دیتے رہیں گے؟ آخر کب تک غریب مہنگائی برداشت کرے گا؟ آخر کب تک نوجوان اپنے مستقبل کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہیں گے؟ اور آخر کب تک پاکستان کو شخصیات کے نام پر تقسیم کیا جاتا رہے گا؟
اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو شخصیات نہیں، ادارے چلائیں؛ مفادات نہیں، آئین چلے؛ طاقت نہیں، قانون چلے۔
🇵🇰 ریاست مضبوط تب ہوگی جب عوام مضبوط ہوں گے۔
اور یاد رکھیں:
اب خاموشی نہیں، شعور چاہیے۔
اب وعدے نہیں، عملی تبدیلی چاہیے۔
اب چہروں کی تبدیلی نہیں، نظام کی تبدیلی چاہیے۔
چیئرمین تحریکِ انقلاب
نعیم شاہین