With Khalid Khan

Directions

With Khalid Khan I'm Social Activist ,Vlogger , Journalist & Columnist. I love all.

13/10/2026

بدلتا تھیٹر اور ضمیر کے سکے۔۔۔!
دس اکتوبر 2026ء کی صبح جب ماسکو کی فضائیں سیاسی تناؤ اور سائبر جنگوں کی دھول سے اٹی ہوئی تھیں تو ریڈ اسکوائر کے مرکز میں واقع سرخ اینٹوں والے اسٹیٹ ہسٹوریکل میوزیم کے اندر ایک بالکل مختلف دنیا آباد تھی۔ یہاں ایک ایسی نمائش جاری تھی جو کسی ملک کی سرحدوں کی نہیں بلکہ انسانی ضمیر کی تاریخ بیان کر رہی تھی۔ روسی ناول نگار میخائل بلگاکوف کے شاہکار ناول دی ماسٹر اینڈ مارگریٹا کے فلسفے پر مبنی اس نمائش کا عنوان تھا۔لوگ عام لوگوں جیسے ہی ہیں، انہیں دولت پسند ہے۔ بلگاکوف نے لگ بھگ ایک صدی پہلے اپنے ناول میں لکھا تھا جب شیطان ماسکو کے ایک تھیٹر میں نمودار ہوا اور اس نے فضا میں پیسوں کی بارش کی تو نظریات کے بڑے بڑے دعوے کرنے والے انسان ایک دوسرے کو کچل کر ان نوٹوں پر جھپٹ پڑے۔ شیطان نے مسکرا کر کہا تھا کہ یہ بدلے نہیں ہیں، بس انہیں پیسے سے محبت ہے۔ ماسکو کا یہ میوزیم اسی فقرے کو تاریخی نوادرات کے آئینے میں سچ ثابت کر رہا تھا۔
نمائش میں دو متوازی ادوار کے نایاب سکے اور کرنسی نوٹ آمنے سامنے رکھے گئے تھے۔ ایک طرف پہلی صدی عیسوی کے یروشلم کے وہ رومی چاندی کے سکے تھے جو ضمیر کی خرید و فروخت کا سب سے پرانا اور تاریخی استعارہ تھے۔ دوسری طرف 1920ء اور 1930ء کی دہائی کے سوویت یونین کے ابتدائی چروونٹس نوٹ تھے۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا کی سب سے بڑی اشتراکی ریاست یہ دعویٰ کر رہی تھی کہ وہ ایک ایسا نیا انسان پیدا کرے گی جس کا دل پیسے کے لالچ سے پاک ہوگا مگر تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں بدل گئیں، عقیدے اور حالات بدل دیے گئے، معاشی نظام الٹ دیے گئے لیکن انسان کے اندر چھپی مادہ پرستی کی وہ ابدی جبلت ٹس سے مس نہ ہوئی۔
یہ نمائش صرف ماسکو کی کہانی نہیں ہے، یہ آج کے ہر اس شہر اور ہر اس معاشرے کی کہانی ہے جہاں انسان پیسے کے لیے رشتوں، اخلاقیات اور سچائی کا سودا کر لیتا ہے۔ 2026ء کے ٹیکنالوجی اور سائنسی دور میں جی رہے ہیں، جہاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بدولت مشینوں کو انسانوں کی طرح سوچنا سکھا دیا ہے اور خلاء تک کو تسخیر کر لیا ہے لیکن جب بات دل کے جھکاؤ اور معاشی ہوس کی آتی ہے تو آج کا انسان بھی پہلی صدی کے انسان جتنا ہی مجبور دکھائی دیتا ہے۔ ماسکو کے میوزیم کے شوکیسز میں بند وہ بے جان سکے آج کے زندہ انسانوں سے ایک ہی سوال پوچھتے ہیں کہ نظاموں کے بدلنے سے اگر انسان نہیں بدلتا تو پھر نجات کا راستہ کیا ہے؟ شاید نجات کا راستہ نظام بدلنے میں نہیں بلکہ اپنے اندر کے اخلاقی انتخاب کو بدلنے میں ہے ورنہ تاریخ کے ہر دور میں انسان اسی تھیٹر کا تماشائی رہے گا جہاں شیطان نوٹوں کی بارش کرتا ہے اور انسان اپنے ضمیر کا سودا کر کے ان پر جھپٹ پڑتا ہے۔
یہ نمائش صرف ایک فکشن یا کہانی نہیں بلکہ اس کے مصنف میخائل بلگاکوف کی زندگی کا نوحہ بھی ہے۔ بلگاکوف نے جب یہ ناول لکھا تو وہ سوویت یونین کی سخت سنسرشپ اور شدید معاشی تنگ دستی کا شکار تھے۔ انہوں نے غربت کی چکی میں پستے ہوئے اور اپنے ضمیر کا سودا نہ کرنے کی پاداش میں یہ شاہکار تخلیق کیا۔ میوزیم کے ایک گوشے میں پڑے مصنف کے خطوط گواہ ہیں کہ نظریات کے علمبرداروں نے کیسے ایک سچے تخلیق کار کو پائی پائی کا محتاج کیا مگر اس نے اپنے قلم کی نیلامی قبول نہ کی۔
میوزیم کے شوکیس میں صرف سکے نہیں بلکہ سوویت دور کے ٹارگسین یعنی خصوصی معاشی کوپن بھی پڑے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب اسٹالن کے روس میں قحط تھا۔ حکومت نے عام دکانوں پر راشن بند کر دیا تھا لیکن ٹارگسین نامی خصوصی دکانوں پر بہترین کھانا اور کپڑے دستیاب تھے مگر شرط یہ تھی کہ آپ ادائیگی صرف سونے، چاندی یا غیر ملکی کرنسی میں کریں گے۔ یہ اشتراکیت کا وہ تاریخی تضاد تھا جہاں بھوکے شہریوں نے روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے اپنے خاندانی زیورات اور سونا حکومت کے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔ شیطان کو ماسکو آنے کی ضرورت ہی نہیں تھی، نظام خود انسان کی مجبوری کا سودا کر رہا تھا۔
ماسکو کے اس میوزیم سے نکل کر اگر اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو منظر مختلف نہیں دکھائی دیتا۔ آج وسیب کے گلی کوچوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک ضمیروں کی بولیاں لگنے کا جو بازار گرم ہے، وہ اسی ابدی ہوس کا تسلسل ہے۔ جب ایک عام کلرک چند روپوں کے لیے غریب کی فائل دبا دیتا ہے، جب لالچ کی بنیاد پر رشتے ناطے توڑے جاتے ہیں اور جب سیاست کے بازار میں وفاداریاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے بلگاکوف کے شیطان کا تھیٹر ماسکو سے منتقل ہو کر ہمارے اپنے شہروں میں سج چکا ہے۔ اسی فضا میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر چیز کی ایک قیمت مقرر کر دی گئی ہے۔
حیرت کی بات ہے کہ آج 2026ء میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی بدولت مشینوں کو انسانوں کی طرح سوچنا سکھا رہے ہیں لیکن خود انسان کی اپنی سوچ صدیوں پرانے لالچ سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ سمارٹ فون اور ڈیجیٹل والٹس تو بنا لیے لیکن دل کو مادہ پرستی سے سمارٹ نہ کر سکے۔ پیسہ اب کاغذ اور سکے کی شکل سے نکل کر ڈیجیٹل کوڈز اور اسکرین پر چمکتے ہوئے ہندسوں میں بدل چکا ہے مگر ضمیر کو مسخ کرنے کی اس کی طاقت میں ایک فیصد بھی کمی نہیں آئی۔ ماضی میں شیطان کو انسان کا ضمیر خریدنے کے لیے فضا میں مادی نوٹ یا چاندی کے سکے پھینکنے پڑتے تھے لیکن اب شیطان بھی ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ اب ضمیر کی قیمت بٹ کوائن، کرپٹو کرنسی یا اسکرین پر چمکتے ہوئے محض چند ہندسوں کی شکل میں منتقل ہوتی ہے۔ اب انسان کو لائن میں لگ کر نوٹ اٹھانے کی زحمت بھی نہیں کرنی پڑتی، صرف ایک کلک پر سودا ہو جاتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے دیکھیں تو نمائش میں موجود پہلی صدی عیسوی کے رومی سکوں کا تعلق براہ راست رومی گورنر پلاطوس کے اس تاریخی خوف اور مصلحت سے تھا جہاں اس نے اپنا اقتدار اور پوزیشن بچانے کے لیے سچائی کو سولی پر چڑھا دیا۔ آج کا انسان بھی روزانہ اقتدار، نوکری یا ذاتی فائدے کی خاطر سچائی کا گلا گھونٹ کر پلاطوس کا کردار ادا کر رہا ہے کیونکہ ضمیر کی آواز سننے کی قیمت بہت بھاری ہوتی ہے اور مادہ پرستی ہمیشہ سستا اور آسان راستہ دکھاتی ہے۔
جس طرح اسٹالن کے دور میں عام انسان بھوکا تھا اور اشرافیہ کے لیے ٹارگسین جیسی خصوصی دکانیں تھیں، بالکل اسی طرح آج 2026ء میں بھی دنیا دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف خط غربت سے نیچے سسکتی اکثریت ہے اور دوسری طرف وہ سرمایہ دار اشرافیہ ہے جو قانون، انصاف اور صحت کی بہترین سہولیات کو اپنی دولت کے بل بوتے پر خرید لیتی ہے۔ معاشی نظام کوئی بھی ہو،چاہے اشتراکیت ہو یا سرمایہ داری وہ ہمیشہ غریب کی مجبوری کا سودا کرتا ہے۔
انسان نے باہر کی دنیا بدلنے کے لیے بہت سے معاشی اور سیاسی نظام سوشلزم، کیپیٹلزم اور ڈیموکریسی آزمائے مگر ہر نظام انسان کے ابدی لالچ کے آگے ہار گیا۔ نجات کا راستہ کسی بیرونی نظام یا حکومت کو بدلنے میں نہیں بلکہ رومی فلسفی سینیکا اور تصوف کے اس سنہری اصول میں ہے کہ امیر وہ نہیں جس کے پاس سب سے زیادہ ہے بلکہ وہ ہے جو سب سے کم کا محتاج ہے۔ جب تک انسان اپنی خواہشات کو محدود کر کے قناعت کو اپنا ہتھیار نہیں بناتا، وہ شیطان کے تھیٹر کا تماشائی بننے پر مجبور رہے گا۔
ماسکو کے اسٹیٹ ہسٹوریکل میوزیم کا یہ شوکیس دراصل ایک عالمی عدالت ہے جو بتا رہی ہے کہ صدیوں کے سفر کے بعد بھی انسان وہیں کھڑا ہے۔ مشینیں تو سمارٹ ہو گئیں مگر انسان اب بھی مادہ پرستی کا قیدی ہے۔ اگر نجات چاہیے تو اس ڈیجیٹل تھیٹر سے واک آؤٹ کرنا ہوگا جہاں شیطان اب بھی ہندسوں کی بارش کر رہا ہے ورنہ تاریخ کا شوکیس بدل جائے گا مگر لوگوں کے ضمیر کی قیمت وہی کرنسی کے چند سکے ہی رہے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خالد خان کالم نمبر 5324

05/10/2026

اگر میری سوچ میں پرواز اور لفظوں میں تاثیر ہےتو یہ میرے اساتذہ کے اس لمس کا کمال ہے جس نے مٹی کو سونا بنا دیا۔

28/09/2026

MPA Ahmed Iqbal with Khalid Khan at Zafarwal (Narowal)

https://youtu.be/W2WjdMWjwaQ?si=IPhaD2O-XyRr8mWdپٹرول مہنگا، بجلی ناقابلِ برداشت، حکمرانوں کی  پالیسیوں اور IPPs معاہدوں...
21/09/2026

https://youtu.be/W2WjdMWjwaQ?si=IPhaD2O-XyRr8mWd
پٹرول مہنگا، بجلی ناقابلِ برداشت، حکمرانوں کی پالیسیوں اور IPPs معاہدوں نے عوام کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ نہ پٹرول والی گاڑی چلا سکتے ہیں، نہ الیکٹرک گاڑی۔ تو پھر آئیے خالد خان کے ساتھ بیل گاڑی کا سفر شروع کریں کیونکہ
نہ ڈھولا ہوسی، نہ رولا ہوسی۔

Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

نیا زاویہ ۔۔۔!روزنامہ مشرق لاہور کالم نمبر 5316
19/09/2026

نیا زاویہ ۔۔۔!
روزنامہ مشرق لاہور
کالم نمبر 5316

نیا زاویہ ۔۔۔!روزنامہ پاکستان اسلام آباد، راولپنڈی، مظفرآباد، ملتان، کوئٹہ، کراچی کالم نمبر 5316
17/09/2026

نیا زاویہ ۔۔۔!
روزنامہ پاکستان اسلام آباد، راولپنڈی، مظفرآباد، ملتان، کوئٹہ، کراچی
کالم نمبر 5316

کالا چشمہ ۔۔۔! روزنامہ مشرق لاہور کالم نمبر 5315
16/09/2026

کالا چشمہ ۔۔۔!
روزنامہ مشرق لاہور
کالم نمبر 5315

کالا چشمہ ۔۔۔! روزنامہ پاکستان اسلام آباد، راولپنڈی، مظفرآباد، ملتان، کوئٹہ، کراچی کالم نمبر 5315
15/09/2026

کالا چشمہ ۔۔۔!
روزنامہ پاکستان اسلام آباد، راولپنڈی، مظفرآباد، ملتان، کوئٹہ، کراچی
کالم نمبر 5315

روزگار کے مواقع ۔۔۔!روزنامہ مشرق لاہور کالم نمبر 5314
09/09/2026

روزگار کے مواقع ۔۔۔!
روزنامہ مشرق لاہور
کالم نمبر 5314

سیاست اپنی جگہ لیکن انسانی جذبات سب سے بڑھ کر ہیں۔ کیا پاکستان اور بھارت کو ان بچھڑے ہوئے خاندانوں کے لیے ویزا قوانین نر...
03/09/2026

سیاست اپنی جگہ لیکن انسانی جذبات سب سے بڑھ کر ہیں۔ کیا پاکستان اور بھارت کو ان بچھڑے ہوئے خاندانوں کے لیے ویزا قوانین نرم کرنے چاہئیں؟ ویڈیو کے نیچے ضرور کمنٹ کریں۔

Heart in Pakistan and body in India@withkhalidkhanNo one can forge...

Address

Lahore

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when With Khalid Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category