Stories-کہانیاں-कहानियों

Stories-کہانیاں-कहानियों

Share

Stories for All Ages
سب کے لئے کہانیاں
सभी युगों के लिए कहानियां

10/09/2023
31/05/2022

سدھو موسے والے کا فائرنگ کے بعد پیغام۔

30/05/2022
11/05/2022

پورا کا پورا پل ٹوٹ گیا۔شدید نقصان

01/06/2021

ارتقاء کا سب سے تازہ ترین ثبوت دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت ہے۔

آج سے آٹھ سے نو ہزار سال پہلے بالغ انسان دودھ ہضم کرنے والے انزائم مکمل طور پہ نہیں رکھتے تھے جس کی وجہ سے وہ جانوروں کا دودھ پی کر بیمار ہوجایا کرتے تھے۔

اس کی وجہ کیا تھی؟

ایک بچہ دودھ کو ہضم کرنے کے لئے لیکٹیز انزائم رکھتا تھا ۔ یہ انزائم دودھ کو ہضم کرانے میں مدد دیتا ہے مگر بالغ ہونے پہ یہ انزائم ان ایکٹو ہو جاتے تھے۔ سو بالغ انسان دودھ ہضم نہیں کر سکتے تھے۔

مگر پھر انسانوں نے جانوروں کو پالنا شروع کیا ، زرعی انقلاب آنے کے بعد انہوں نے جانوروں کے دودھ کو بھی زیر استعمال لانا شروع کر دیا۔ اور اس سے پنیر اور دہی جو کہ کم لیکٹوز رکھتے ہیں وہ کشید کرنا شروع کردیا۔

لیکن کچھ سر پھروں نے کچا دودھ بھی پینا شروع کیا جس کی وجہ سے انسانی جسموں پہ ایک سلیکشن پریشر پیدا ہوا۔

اس مسلسل سینکڑوں سالوں کے پریشر کے نتیجے میں آج سے آٹھ ہزار سال پہلے ترکی کی چراہ گاہوں سے شروع ہونے والے اس ارتقاء نے اب دنیا کی 40% سے زیادہ بالغ آبادی میں دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت پیدا کر دی ہے۔ ورنہ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا۔ آج یورپئین اجداد کی تقریبا ساری اولاد دودھ ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

آج سے آٹھ ہزار سال پہلے چند ایک کے علاوہ باقی بالغ انسان دودھ ہضم نہیں کر سکتے تھے۔

آج بھی آدھی سے زیادہ آبادی دودھ پینے پہ ہیضہ کرا بیٹھتی ہے۔

اسکی وجہ یہ ہے کہ ارتقاء ساری آبادی میں ایکدم نہیں بلکہ آہستہ آہستہ ہوتا ہے۔ دو ہزار سے آٹھ ہزار سال کے اس عرصہ میں فقط چالیس فیصد آبادی ہی دودھ کو ہضم کرنے کی صلاحیت کا ارتقاء کرا سکی ہے۔ باقی کے انسان اگلے چند ہزار سالوں میں اس ارتقاء کا شکار ہوکر دودھ سے محظوظ ہونے کی صلاحیت پا سکیں گے۔ اور یہ ارتقاء کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔

ضیغم قدیر

05/05/2021

ایک چڑی اور چڑا شاخ پر بیٹھے تھے
دُور سے ایک انسان آتا دیکھائی دیا۔ چڑی نے چڑے سے کہا کہ اُڑ جاتے ہیں یہ ھمیں مار دے گا۔
چڑا کہنے لگا کہ بھلی لوک دیکھو ذرا اسکی دستار پہناؤا شکل سے شرافت ٹپک رھی ھے یہ ھمیں کیوں مارے گا۔
جب وہ قریب پہنچا تو تیر کمان نکالی اور چڑا مار دیا

چڑی فریاد لےکر بادشاہ وقت کے پاس حاضر ھو گئی۔

شکاری کو طلب کیا گیا۔ شکاری نے اپنا جرم قبول کر لیا۔ بادشاہ نے چڑی کو سزا کا اختیار دیا کہ جو چایے سزا دے۔

چڑی نے کہا کہ اسکو بول دیا جاۓ کہ اگر یہ شکاری ھے تو لباس شکاریوں والا پہنے۔ شرافت کا لبادہ اتار دے

(مولانا رومی)

17/02/2021
12/02/2021

.
الیگزینڈر مسیح....
مالی بابا....

بی بی میں پھلاں پتیاں خشبووان اچ رہنڑ آنا بندا .. میرا کوڑے نال کی کم ..
(بی بی میں پھول پتیوں خوشبوؤں میں رہنے والا بندہ .. میرا کوڑے کرکٹ سے کیا واسطہ )
بابا آپ مٹی میں تو ہاتھ ڈالتے ہیں نا.. تو یہ بھی تو گندی ہوتی ہے..
نہ نہ بی بی .. مٹی تے گندی نئی ہوندی .. مٹی تے پاک ہوندی اے .. تسی مٹی نال وضو نئیں کردے
(نہیں بی بی نہیں. . مٹی گندی نہیں ہوتی. . مٹی تو پاک ہوتی ہے
کیا آپ (مسلم) مٹی سے وضو (تیمم) نہیں کرتے. .
بابا مالی کی باتوں میں مٹھاس اور سادگی تھی. . اور تجربے کی کوک تھی. .
مالکوں کی بڑی بہو کے گھر پہلوٹھی کا بیٹا پیدا ہوا تو مالی بابا اسے سرما کی دھوپ میں لئے پھرتا. . باغ کے پھولوں سے بچے کو متعارف کرواتا .. بچے کے نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو بابا مالی نے بچے کو گود میں لے کر فرمائش کی کہ اس بچے کا نام شیر محمد رکھا جائے .. تاکہ یہ بچہ بڑا ہو کر محمد ص کا شیر بنے .. ..
سننے کی صلاحیت عمر کے ساتھ ساتھ تقریبا نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی .. آلہ سماعت کان میں لگا ہوتا .. موٹے عدسوں والی دھندلی عینک میں سے بابا کی گول بڑی بڑی معصوم انکھیں جھلکا کرتیں. . عینک سے بندھی موٹی کالی ڈوری بابامالی کی گردن کے میں لٹکتی رہتی. . اسی گھر کی ایک اور خدمتگار خاتون آپا رضیہ سے بابا مالی کی بہت بنتی .. آپا رضیہ گھر کی صفائی کے کام پر مامور تھی. . . ان دونوں کی ذہنی کیمسٹری بھی خوب مل گئی تھی .. لیکن جب بھی رضیہ الیگزینڈر کو کوڑا باہر پھینکنے کو کہتی.. وہ بدک جاتا.. کیا میں خوشبوؤں اور پاک مٹی سے کھیلنے والا.. کوڑے سے میرا کیا واسطہ..
بڑی بہو جب جب اپنے بیٹے کو لیے باغ میں آتی .. بابا مالی لپک کر آتا اور چھوٹے گل گوتھنے شیر محمد کو اپنی گود میں جھولے دینے لگتا .. ساتھ ساتھ بڑی بہو کو بچہ سنبھالنے کے گر سکھاتا ..

بی بی بچے تے نازک ہوندے نے .. ایہناں نوں سخت ہتھ نئیں لائی دا.. کبھا ہتھ سر تے موڈے دے تھلے رکھیا کرو تے سجا ہتھ اتوں کھما کے بچے دی لک ولوں پھڑیا کرو فیر بچہ ڈگےگا نئیں..
( بی بی بچے نازک ہوتے ہیں ان کو سختی سے نہیں پکڑتے.. آپ اپنا بایاں بازو بچے کے سر اور کندھے کے نیچے سے گزاریں اور دایاں بازو بچے کے گرد گھما کر بچے کی کمر سے پکڑیں اس طرح بازووں کے حلقے میں بچہ محفوظ ہو جائے گا اور گرے گا نہیں.. )

ایک دن پوچھنے لگا .. بی بی آج ناشتے میں کیا کھایا ہے .. بی بی سمجھی مالی کو بھوک لگی ہے .. اس نے فورا بابا کے لیے کھانے کا انتظام کرنا چاہا تو مالی نے روک دیا اور اپنا سوال بدل کر دہرایا ..
بی بی تسی ناشتے اچ دیسی کھیو دا پراٹھا کھاندے او نا ..
( بی بی آپ ناشتے میں دیسی گھی کا پراٹھا کھاتی ہیں ناں..)
کیونکہ بابا کو اپنی بات سمجھانے کے لیے بہت اونچی آواز میں کئی بار اپنی بات دہرانا پڑتی تھی اس لیے اکثر اوقات بی بی صرف نفی یا اثبات میں سر ہلا دیا کرتی..اور بابا اپنا جواب اخذ کر کے اپنی بات جاری رکھتا.. اب بھی بی بی نے اثبات میں سر ہلا دیا ..
تب مالی بابا ایک ماں کی طرح بچے کو گود میں لیے گھاس پر بیٹھ گیا .. بچے کو اپنی گود میں لٹا لیا اور سمجھانے لگا ..
بی بی جدوں پراٹھا کھاندے او تے ہتھ کھیو آلے ہو جاندے نیں.... تسی ہتھ صابن نال دھو دیندے او تے کھیو ضائع ہو جاندا اے
( بی بی جب آپ پراٹھا کھاتی ہیں تو آپ کے ہاتھوں پر چکنائی لگ جاتی ہے آپ صابن سے ہاتھ دھو لیتی ہیں تو ہاتھوں پر لگا گھی ضائع ہو جاتا ہے..)
تسی ہتھ دھونڑ توں پہلاں شیر محمد دے متھے تے اپنے تھندے ہتھ نال مالش کریا کرو .. زرا دبا دبا کے .. ایس طرح متھے دے وال لہہ جاندے نے ,تے متھا صاف اجلا ہو جاندا اے تے سر وی ٹھیک بہہ جاندا اے
(آپ ہاتھ دھونے سے پہلے شیر محمد کی پیشانی پر اپنے چکنے ہاتھوں سے زرا زور لگا کر مساج کیا کریں اس سے نوزائیدہ شیر محمد کی پیشانی پر موجود رواں ختم ہو جائے گا , پیشانی روشن اور خوبصورت نظر آئے گی .. جبکہ سر کی شیپ بھی اچھی بن جائےگی...)
یہ سب وہ زبانی کلامی نہیں سمجھاتا تھا بلکہ عملی مظاہرہ بھی کر کے دکھاتا تھا..

مالکوں کے منجھلے بیٹے کی شادی ہوئی تو فرمائش کی کہ مجھے شادی کا کارڈ دیا جائے .. میں نے باقاعدہ انوائیٹڈ گیسٹ کی طرح شریک ہونا ہے ..
کارڈ کے ساتھ مٹھائی کا ڈبہ بھی بھیجا گیا ..
سہرا بندی میں مالی بابا مسٹر الیگزینڈر مسیح سب سے اگلی رو میں نیا بوسکی کا جوڑا پہن کر شریک ہوا .. . سٹیج پر سب سے پہلے چڑھا.. پھولوں کے ہار دلہے کے والدین کو اور نوٹوں والا ہار دلہے کو پہنایا..
بینڈ باجے والوں کونیگ بھی لٹائی اور اپنی سہارے والی لاٹھی اٹھا اٹھا کر لڈی بھی ڈالی...
بارات کے پنڈال میں پھولوں کی سجاوٹ سے بہت متاثر ہوا اور پھولوں کے ساتھ تصویریں کھنچواتا رہا ..

بہار کے موسم میں مالی بابا کی محنت نے ایسا رنگ نکالا کہ تمام باغ ایک حسین گلدستے کا روپ دھار گیا .. جہاں تتلیاں اڑتی پھرتی تھیں اور پرندے چہچہاتے تھے .. ہری بھری گھاس پر کوئی فالتو تنکا نظر نہیں آتا تھا .. رنگا رنگ گلاب موتیا مروا چنبیلی رات کی رانی دن کا راجا اور پھلوں میں خوبانی لوکاٹ ام امرود الیچی جامن کھٹے اور مٹھے کے ساتھ لیموں کے پودے اپنی بہار پر نازاں نظر آتے تھے..
کنگھی پام کے پودے پر کم ہی بیج بنتا ہے .. سالہا سال میں کہیں ایک دفعہ... مالی بابا کے کنگھی پام نے لال رنگ کے بیجوں کی بہار دکھائی تو وہ خوشی سے پھولا نہ سمایا گھر کے ایک ایک فرد کو پکڑ کر اپنی محنت دکھاتا اور داد وصول کرتا ..
باغ کے ایک ایک پھول کا اسے علم تھا .. ہر پھول اور کلی کی خبر رکھتا .. . .بلاشبہ اس کا باغ اس کی راجدھانی تھا جس کا وہ ''انتھک راجا '' تھا..

عید الفطر پر گھر بھر کی بہووں کے لیے مٹی کے گلدان اور آرٹی فیشل گلدستے تحفتا لایا. . نئی بہو رانی کے کمرے کی سجاوٹ اور کلر سکیم کے مطابق کارنرز میں رکھنے والے پودے اور دیواروں پر آویزاں کرنے والی بیلیں لایا. . تحفظ لے کر آنے سے پہلے کمرے کو دیکھ کر اپنا تحفہ سوچ کر گیا کہ

بڑی بہو کو اکثر کہتا کہ شیر محمد کو دیسی گلاب کی پتیاں کھلایا کرو .. اس سے بچے کی سانس میں خوشبو آئے گی..

ایک دفعہ بی بی سے کہا کہ مجھے کوئی گرم چادر دو .. میں نے اپنی چھوٹی بہو کو دینی ہے.. وہ میرے روٹی پانی کا خیال رکھتی ہے .. اچھی بیٹی ہے .. اسے کوئی تحفہ دینے کو دل کرتا ہے... بی بی نے اپنی ایک چادر مالی بابا کو دی. . .جسے اس نے لپیٹ کر بغل میں دبا لیا .. کہنے لگا سب سے چھپا کر چھوٹی بہو کو دونگا. .نہیں تو میری بیٹیاں جیلس ہو جائیں گی ..

بی بی کے والد کے انتقال پر بی بی کو حوصلہ دیتا .. اور اللہ پر یقین رکھنے کو کہتا .. دعا کرنے کو کہتا اور یقین دلاتا کہ اچھے انسان جنت میں مزے کرتے ہیں. . بی بی پریشان نہ ہو ..

بی بی نے اپنے والد کے کپڑے ضرورتمند اور دیندار نمازیوں میں بانٹے تو ایک جرسی یاد گاری رکھ لی .. کہ اس سے اپنے والد کی خوشبو محسوس کرتی تھی. .

سخت سردیاں اور ٹھٹھرا دینے والا پالا تھا .. مالی بابا بہت دنوں سے نہیں آیا تھا. . ایک دن کچھ دیر کے لیے سورج چمکا تو مالی بابا کی شکل نظر آئی . .. بیمار لگ رہا تھا اور کھانس بھی رہا تھا .. بی بی نے بابا مالی کو چائے اور انڈہ ابال کر دیا .. کہ کچھ طاقت ہو لیکن بابا کی کپکپی درست نہیں ہو رہی تھی. . بی بی شش و پنج میں تھی کہ کیا کرے .. مرحوم والد کی جرسی کا خیال آیا لیکن ذہن نے دل کو ڈانٹ دیا .. بے وقوف یہ جرسی کسی نمازی کو دی جانی چاہئے .. یہ بابا تو مسلمان ہی نہیں نمازی کیا ہو گا.... لیکن دل جیت گیا کہ سردی سے کانپتے بوڑھے خدمتگار مالی بابا کی سردی کا سوال تھا .. بابا سویٹر پہن کر اتنا خوش تھا گویا ہفت اقلیم کی دولت مل گئی ہو .. بی بی کو بھی سکون تھا کہ اس کے مرحوم والد کا تحفہ درست مقام پر جا پہنچا ..

ان سردیوں میں وہی سویٹر پہنے مالی بابا ایک روز پھر بی بی سے ملنے آیا .. پہلے سے بہتر لگ رہا تھا .. بی بی کے ساتھ باغ میں بیٹھا پودوں کو دیکھتا رہا .. شیر محمد کو گود میں نہیں لیا کہ مجھے کھانسی آتی ہے .. شیر محمد کو نہ لگ جائے ..

سورج کو دھند کے بادلوں نے اوٹ میں لے لیا تو بابا اٹھ کر چلا . بی بی دیکھ رہی تھی .. راستے میں جاتے جاتے رضیہ کو کچھ کہہ گیا..
اگلے دن خبر ملی کی بابا رات کو سویا تو پھر جاگا ہی نہیں. . ..
بی بی کے گھر والے سب ہی افسردہ تھے .. باغ بھی اداس تھا .. چڑیوں کی چہکار بھی کھو گئی تھی .. تتلیاں بھی اڑنا بھول گئی تھیں .. آپا رضیہ لپکتی جھپکتی آئی اور بی بی سے کہا .. بی بی الیگزینڈر کل جاتے جاتے کہہ گیا تھا کہ اب میں نے نہیں آنا تم بی بی کو کہنا مجھے وداع کرنے کے لیے اب خود آئیں .. میں ان کی راہ تکوں گا...

11/02/2021

جب ایک بھنگی کو ایک ملکہ سے عشق ہوگیا تھا

ایک بار ایک بھنگی بادشاہ کے محل میں صفائی کرتے جب ایک بھنگی کی نظر ملکہ پہ پڑی تو وہ پہلی نظر میں اس پہ فدا ہو گیا۔ لیکن اپنی حیثیت اور ملکہ کی حیثیت میں فرق دیکھا تو سر جھکائے وہاں سے چلا گیا۔ پر دل تھا جو ایک ملاقات کی حسرت میں تڑپتا رہا۔ عشق کی بیماری نے جسمانی بیماری کا روپ لیا اور وہ بستر پہ پڑ گیا۔
بھنگی کی بیوی بھی اس ساری حالت سے واقف تھی۔ بھنگی کی خراب حالت کی بنا پر اسکی بیوی اسکی جگہ کام پہ لگ گئی۔ کئی دن تک جب بھنگی ملکہ کو وہاں نظر نہ آیا تو اس نے اسکی بیوی سے دریافت کیا، بھنگی کی بیوی یہ سوچ کر گھبرا گئی کہ ملکہ کو اصل بات بتا دی تو نا جانے کیا حال ہو ہمارا۔ لیکن ملکہ نے اسکی گھبراہٹ جانچ کر اسے اعتماد میں لیا اور حقیقت پوچھی۔
بھنگی کی بیوی نے وہ ساری صورت حال ملکہ کے گوش گزار کر دی۔ تب ملکہ نے اسے کہا کہ اس سے ملاقات کا یہی ایک رستہ ہے، تم اپنے شوہر سے جا کے کہہ دو کل وہ شہر سے باہر کسی رستے پہ بیٹھ جائے اور بس اللہ اللہ کرتا رہے
نہ تو کسی سے بات کرے اور نہ ہی کسی کا دیا کوئی تحفہ قبول کرے۔ ایسا کرنے سے جب اسکے چرچے بادشاہ تک پہنچیں گے تو ملاقات کے رستے بھی کھل جائیں گے۔ ملکہ کا پیغام سنتے ہی بھنگی کی جان میں جان آئی اور وہ گداؤں کا بھیس بدل کے ایک رستے پہ جا کے بیٹھ گیا اور اللہ اللہ کا ورد شروع کردیا۔ آنے جانے والے اس متاثر ہوتے اور نظرانے ساتھ لاتے لیکن وہ نہ سر اٹھا کے کسی کو دیکھتا نہ ہی کسی چیز کو ہاتھ لگاتا۔ کرتے کرتے خبر بادشاہ تک پہنچی اور اس نے وزیر کو بھیجا کہ دریافت کرو کہ کون ہے وہ اور اسکی سچائی کس حد تک ہے۔ وزیر نے واپس جا کر بادشاہ سے اسکی بہت تعریف کی، بادشاہ فیض پانے کی غرض سے خود چل کر اسکے پاس گیا۔ جب ہر طرف اسکے چرچے ہونے لگے تو ملکہ نے بادشاہ سے اس نیک انسان کی زیارت کی خواہش ظاہر کی۔ بادشاہ نے اجازت دی۔ اسی اثناؑ میں جب بھنگی کو اس بات کا احساس ہو کہ اب تک وہ دل سے نہیں صرف ایک دنیاوی مقصد کے تحت ہی اللہ پاک کے نام کی تسبیح کر رہا تھا۔
،وہ جھوٹا ہے لیکن پھر بھی اللہ کی رحمت اس پر اس قدر ہے کہ لوگ اسکے سامنے جھک رہے ہیں کیا بادشاہ اور کیا عام آدمی سب ہی اسے عزت دے رہے ہیں۔ یہ کرامات تو صرف زبان سے وہ پاک نام لینے کی ہیں اگر سچے دل سے اس نام کی تسبیح کی جائے تو اور کتنی رحمتوں کا نزول اس پہ ہوگا۔ جب ملکہ اسکے پاس پہنچی تو اس نے سر اٹھا کے اسکی طرف نہ دیکھا اور وہ روتی ہوئی واپس اپنے محل چلی گئی.

10/02/2021

K2-بہت خطرناک برفانی طوفان
Must Watch K2/Everest Deadly Snowstorm

10/02/2021

List of mountains ascended by Muhammad Ali Sadpara
Gashebrum II Pakistan in 2006
Spantik Peak Pakistan in 2006
Nanga Parbat Pakistan in 2008
Muztag Ata China in 2008
Nanga Parbat Pakistan in 2009
Gashebrum I Pakistan in 2010
Nanga Parbat Pakistan first winter ascend in 2016
Broad peak Pakistan in 2017
Nanga Parbat Pakistan first autumn in 2017
Pomori Peak first winter Nepal in 2017
K2 in Pakistan in 2018
Lhotse Nepal in 2019
Maklu Nepal in 2019
Manaslu Nepal in 2019
K2 First Winter Pakistan in 2021

02/02/2021

THE GIFT
It was drizzling outside. I drove the car through the occasional mist, climbing the winding roads up the high ranges. She didn’t say anything. We knew it was our last journey together. The last time I would be taking her to her workplace.

I remembered all the moments we had together from the moment I first met her. How happy we both were together! The great Indian wedding cliché just spoiled our relationship. She belonged to a different religion and our parents denied our insatiable love and desire to be together. My rage and grief reflected on the speedometer of the car.

“Please, go slow”, she said at last.

When I had a sideways glance, I saw her rummaging in her bag.

“Can you please pull over?”, she asked.

She looked sick. I stopped the car under a Gulmohar tree which stood magnanimously by the road side, shedding flowers all over the place, bathing the ground under it in blood red. I looked at her.

“Why did you want me to stop?”

She took out a bottle of imported perfume from her bag. Her favorite brand.

“You may take this. Please don’t forget me, I beg.”


I could see her eyes welling up. I didn’t know what to say. I felt my heart drowning in icy water.


“No,”. I said, “I can’t take this dear. This fragrance will remind me of you every day. I can’t have that pain all days with you gone forever from my life”.

Her eyes started to spill even before I finished my words. That was the first time I ever saw her crying since I met her. I couldn’t hold back my tears either which found their way down silently. I took her hand in mine.

“Please don’t cry, darling”.

My words were broken. I held her hand tight, like I never ever wanted to let her go. And I kissed the back of her palm. My tears kissed her even before my lips could do. The drizzle and the fog that adhered on the windshields curtained us from the rest of the world.

A few hours later I was back at the same place, alone, after dropping her off at her workplace and leaving her forever. I had the perfume bottle clenched in my hand and her fragrance all around me. The best gift she ever gave me.

–END–

Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Lahore
54000