Indian Jet Crashed During Dubai Airshow
Ahl e Mashriq اہل مشرق
ہمارا مقصد مسلم امہ کی بھلائی ہے
15/09/2025
إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
احمد شاہ معروف ننھے سٹار کے چھوٹے بھائی عمر شاہ حرکت قلب بند ہونے کے باعث انتقال کر گئے ہیں۔
01/09/2025
چلاس شہر کے متصل گاؤں ہوڈر میں ہیلی کاپٹر کریش میں شہید جوان۔
میجر عاطف، میجر فیصل، نائب صوبیدار
مقبول، حوالدار جہانگیر، نائیک عامر
01/09/2025
پشاور: سیکیورٹی اداروں نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے پشاور میں ایک حساس انٹیلی جنس بیس آپریشن کے دوران ایک شخص کو گرفتار کرلیا، جو امام مسجد کے روپ میں مقیم تھا۔ گرفتار شخص کی شناخت بھارتی فوج کے میجر دل بہار سنگھ کے نام سے ہوئی ہے، جس کا کوڈ نام "داؤد شاہ" بتایا جا رہا ہے۔
ملزم نہ صرف پاکستان میں خفیہ نیٹ ورک چلانے میں مصروف تھا بلکہ اہم قومی اداروں اور تنصیبات سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی بھی کوشش کر رہا تھا۔ ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ایک طویل عرصے سے مذہبی شخصیت کا روپ دھارے ہوئے تھا تاکہ اپنی سرگرمیوں کو چھپایا جا سکے۔
سیکیورٹی حکام نے گرفتار بھارتی افسر کو مزید تحقیقات کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جبکہ اس کے سہولت کاروں اور رابطہ نیٹ ورک کی تلاش کے لیے مزید کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق یہ گرفتاری پاکستان کے اندر دشمن ایجنسیوں کے نیٹ ورکس کے خلاف بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
01/09/2025
*چلاس ہڈر کے مقام پر پاک فوج کا 17-MI ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث حادثے کا شکار*
ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز پر تھا اور اچانک تکنیکی مسئلے کے باعث حادثے کا شکار ہوا۔
حادثے کے بعد ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کیں گیں۔
ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹس سمیت عملے کے پانچ افراد سوار تھے جو جو کہ تمام شہید ہو گئے ۔
31/08/2025
عوام سے گزارش ہے کہ مل بیٹھ کر اتحاد سے گلیاں اونچی کر لیں۔ محلے اونچے کر لیں سب اپنے اپنے۔ آنے والا وقت شاید بہت سخت ہو۔ بہتر ہے ابھی سے تیاری کر لیں۔
اپنی گلیوں بازاروں دکانوں کو اونچا کریں۔ گورنمنٹ کی طرف نہ دیکھیں۔ عوام آپس کے اتحاد سے یہ کام کریں۔ کیونکہ کل کو سیلاب اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اگر گلیاں محلے بازار سڑک سے کم از کم پانچ یا دس فٹ اونچے ہوں گے تو کسی گاؤں دیہات قصبے بازار کو زیر آب نہیں کر سکیں گے۔ پانی ہمیشہ ڈھلوان پر جاتا ہے۔
18/07/2025
برطانیہ میں پاکستان فضائیہ کے جے ایف 17 اور سی 130 ہرکولیس کی رائل انٹرنیشنل ایئر ٹیٹو شو میں شرکت کے لیے فیئرفورڈ ایئربیس پر لینڈنگ۔ ایئر ٹیٹو 2025 کا ایئر شو باقاعدہ طور پر آج 18 جولائی 2025 بروز جمعہ سے شروع ہو چکا ہے اور 20 جولائی 2025 بروز اتوار کو اختتام پذیر ہو گا۔
14/07/2025
آج کی تحریر ان لوگوں کے نام ہے جن کی زندگی کسی نہ کسی مسئلے سے دوچار رہی صرف تنہائی کی وجہ سے۔ اور کئی افراد مایوسی کی وجہ سے زندگی ہار گئے۔ سب باتیں ایک طرف۔ عورت ہمیشہ سے ہی چکی میں پستی آ رہی ہے۔ یہ تو چلو مردوں کے لیے ایک بہانہ ہے کہ وہ لڑکی شوبر میں چلی گئی۔ مگر ہمارے معاشرے میں بیوہ اور طلاق یافتہ بہنوں بیٹیوں کو بھی تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ان کے بچوں کو ان سے چھین لیا جاتا ہے۔ اگر وہ اپنے بچوں کو اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں تو سارے بہن بھائی مل کر ایسے پارٹی بازی بنا لیتے ہیں کہ یہ تو باپ کا فرض ہے وہ پالے۔ ہم غیروں کی اولاد کیوں پالیں۔ تم دوسری شادی کرو۔ بہت سے گھروں کی کہانیاں ہیں یہ۔ پھر پڑھی لکھی عورتیں اگر اپنے بچوں کو لے کر الگ ہو جائیں تو ایک طوفان بدتمیزی کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور بہن بھائی اسے پوچھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ پھر جب دیکھتے ہیں کہ بچوں کو تو اس بہن نے پال لیا اور پڑھا لکھا دیا ہے۔ تو سب اس عورت کے گھر جانے آنے لگتے ہیں۔
کوئی خاتون بیوہ متعلقہ یا کوئی مرد رنڈوہ ہے اور اگر وہ دوسرا نکاح نہیں کرنا چاہتا تو یہ اس کی ذاتی مرضی ہے۔ گھر والوں کا یہ کام نہیں ہے کہ اس کا مزاق اڑانا شروع کر دیں یا اس پر طنز کے تیر چلانا شروع کر دیں۔۔ اس معاملے میں صرف عورت ہی نہیں پس رہی مرد بھی اتنا ہی طوفان کی زد میں رہتا ہے۔ اللہ تعالی نے رشتے بنائے ہی اسی لیے ہیں کہ سہارا بن سکیں مشکل وقت میں۔ مگر یہاں الٹا حساب ہے۔
میں بہت سے ایسے گھروں کو جانتی ہوں۔ جہاں بیوہ یا متعلقہ خواتین موجود ہیں۔ اور ان کے اولاد کو نوکروں کی طرح رکھا جاتا ہے۔ یا انہیں گھریلو معاملات سے ایسے دور رکھا جاتا ہے کہ بس شادی شدہ افراد گھر گھرستی چلا سکتے ہیں باقی بیوہ متعلقہ یا رنڈوے افراد کا زندگی پر کوئی حق نہیں۔ اور ایسے افراد کو بھی جانتی ہوں جو طلاق ہونے کے باوجود عورتوں کو نہیں چھوڑتے اور اسی حالت میں ایسے زندگی گزارتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ہمارے معاشرے کے بدنما داغ ہیں یہ۔ باقی رہی بات کہ تربیت کرنا۔ تو جب ماں باپ کا رشتہ ہی کسی طوفان کی زد میں ہو تو بہت کم ایسی اولادیں ہوتی ہیں جو تربیت پا جاتی ہیں۔ ورنہ کئی بچے خودکشی کر لیتے ہیں۔ کیونکہ ایسے بچے قدرتی طور پر اپنی حق تلفی دیکھ دیکھ کر دماغی مریض بنا دیے جاتے ہیں۔
بارش کی پہلی بوند بننا بہت مشکل ہے۔ مگر ایک بار اپنے لوگوں کے لیے جن کو واقعی آپ کے سہارے کی ضرورت ہے۔ ہاتھ بڑھا کر دیکھیں۔ یا ان کو ایسا سہارا دیں کہ وہ کسی دوسرے سہارے کو تلاش نہ کریں ۔ ۔ ۔
سلام یا امام حسینؑ۔۔ سلام کربلا کے شہداء کو۔
05/07/2025
جب یہ آیت (قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى) نازل ہوئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بارگاہ مصطفوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کیا: یارسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کے وہ کون رشتہ دار ہیں جن کی محبت ہم پر واجب کردی گئی ہے تو امام الانبیاء صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ علی، فاطمہ اور ان کے دونوں فرزند (امام حسن و امام حسین) رضی اللہ عنہم ہیں
(تفسير کبير، الجزء السابع والعشرون. ص: 166)
اسی آیت کی تفسیر میں حضرت امام رازی رحمۃ اللہ علیہ مزید رقمطراز ہیں کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
شہادت کا درجہ
من مات علی حب آل محمد مات شهيدا.
’’جو اہل بیت کی محبت میں مرا اس نے شہادت کی موت پائی‘‘۔
گناہوں کی بخشش
اور مزید فرمایا:
الا ومن مات علی حب آل محمد مات مغفورا له.
’’آگاہ ہوجاؤ! جو شخص اہل بیت کی محبت میں مرا وہ ایسا ہے کہ اس کے گناہ بخش دیئے گئے‘‘۔
توبہ کی توفیق
الا ومن مات علی حب آل محمد مات تائبا.
’’آگاہ ہوجاؤ جو شخص اہل بیت کی محبت میں مرا وہ گناہوں سے تائب ہوکر مرا‘‘۔
خاتمہ بالایمان
پھر فرمایا:
الا ومن مات علی حب آل محمد مات مومنا مستکمل الايمان.
’’خبردار ہوجاؤ جو شخص اہل بیت کی محبت میں مرا وہ مکمل ایمان کے ساتھ فوت ہوا‘‘۔
جنت کی بشارت
اور فرمایا:
الا ومن مات علی حب آل محمد بشره ملک الموت بالجنة ثم منکرو نکير.
’’آگاہ ہوجاؤ، جو اہل بیت کی محبت میں مرا اسے حضرت عزرائیل علیہ السلام (موت کے فرشتے) اور منکر نکیر جنت کی بشارت دیں گے‘‘۔
عزت کے ساتھ جنت میں داخلہ
پھر ارشاد فرمایا:
الا ومن مات علی حب آل محمد يزف الی الجنة کما يزف العروس الی بيت زوجها.
’’آگاہ ہوجاؤ جو اہل بیت کی محبت میں مرا اس کو ایسی عزت کے ساتھ جنت میں لے جایا جائے گا جیسے دلہن کو اس کا شوہر گھر لے جاتا ہے‘‘۔
قبر میں جنت کے دروازوں کا کھلن
اور فرمایا:
الا ومن مات علی حب آل محمد فتح له فی قبره بابان الی الجنة.
’’خبردار ہوجاؤ۔ جو اہل بیت کی محبت میں مرا اس کی قبر میں جنت کے دو دروازے کھول دیئے جائیں گے‘‘۔
(تفسير کبير الجزء السابع والعشرون ص166-165 تفسير کشاف، ج3، ص467)
رب نے حیدر کو چنا، حضرتِ زہرا ۴ کے لیے ❤️
ایسی دلہن ہو تو پھر، ایسے ہی بر ہوتے ہیں❤️
نانا ایسا ہو تو ہوتے ہیں نواسے ایسے ❤️
ایسی مادر ہو تو پھر ایسے پِسر ہوتے ہیں❤️
صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کثیرا ❤️
......................................................
خلوص دل کی روشنائی لے کر ، بادیدہ تر حسین لکھنا
تم ایسا کرنا ، کتاب دل کے ورق ورق پر حسین لکھنا
کشید کر گلاب کا عرق ،فضا میں پہم چھڑکنا اس کو
پھر ان سنہری فضاﺅں پر تم ، روشنی کا پیکر حسین لکھنا
آذان دیں گی تماری آنکھیں، نماز مصرعے اد ا کریں گی
تم ایسا کرنا کہ راہ حق میں ، حیسن پڑھ کر حسین لکھنا
حروف خوشبو کے پھول بن کر ، تھمارے سینے میں کھل اٹھیں گے
تم ایسا کرنا کہ اپنی آنکھوں اور اپنے لب پر حسین لکھنا
تمھارے تاریک منظروں مین اجالے پھوٹیں گے نور بن کر
تم ایسا کرنا کہ اپنے گھر میں درود پڑھ کر حسین لکھنا
حیسن لکھ کر ، پھر اس کو لکھنا ، پھر اس کو لکھ کرتم ایساکرنا
کہ آج تک تم نے جوبھی لکھا ، تم اس کا محور حسین لکھنا
وہ برچھیاں ، وہ چمکتے خنجر ، وہ تپتے صحرا پکارتے ہیں
تم ایسا کرنا کہ کربلا کے بدن پہ جا کے حسین لکھنا
اگر کتابت کا شوق ہو تو کتاب صبر ورضا میں راحت
جہاں شہیدوں کانام لکھنا تو سب سے اوپر حسین لکھنا
حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے اہلبیت کی محبت میں کہےگئے اشعار
یا اھل بیت رسول اللہ حبکم ﷺ
فرض من اللہ فی القرآن انزلہ
یکفیکم من عظیم الفخر انکم
من لم یصل علیکم لا صلاة لہ
یعنی اے اہل بیت رسول ﷺ آپ کی محبت قرآن میں فرض قرار دی گئی ہے اے اہل بیت آپ کے لیے یہ عظیم فخر کافی ہے کہ جو آپ پر صلوات نہ کہے اس کی نماز نہیں ہوتی۔
🌹اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدِ نِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَ عَلٰی اٰلِہٖ وَاَصۡحَابِهٖ وَبَارِکْ وَسَلِِّمْ کثیراً کثیرا
30/06/2025
سیلاب کے اوقات اور سپیڈ بڑے دریاؤں میں
یہ تحریر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں کیونکہ سیلاب کے دن آ رہے ہیں تو لوگوں کو سیلاب کی سپیڈ کا پتا لگے گا اور وہ پیشگی تیاری کر لیں گے
یہ "Flood Routing Map" پاکستان کے پانچ بڑے دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب، راوی، ستلج) میں سیلابی پانی کے بہاؤ کا وقت (Lag Time) ظاہر کرتا ہے، جو مختلف مقامات سے گزرتے ہوئے بحرِ عرب تک پہنچتا ہے۔
اس نقشے میں 1990–2020 کے درمیان نظرِ ثانی شدہ وقت (سبز رنگ) اور
1960–1990 کے پرانے وقت (سرخ رنگ) کا تقابلی جائزہ دیا گیا ہے۔
1. دریائے سندھ (Indus River)
دریائے سندھ، پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے، جو اس نقشے میں گلگت بلتستان کے اسکردو سے شروع ہو کر بحرِ عرب میں جا گرتا ہے۔ اس کے مختلف اسٹیشنز اور Lag Times درج ذیل ہیں:
اسکردو سے پرتاب برج: 12 گھنٹے
پرتاب برج سے بشام: 19 (پرانا) / 18 (نیا)
بشام سے تربیلا ڈیم: 6 گھنٹے
تربیلا سے کالا باغ (کابل دریا کے ملاپ کے بعد): 26 گھنٹے
کالا باغ سے چشمہ: 12 گھنٹے
چشمہ سے تونسہ: 58 (نیا) / 61 (پرانا)
تونسہ سے گڈو: 84 (نیا) / 72 (پرانا)
گڈو سے سکھر: 32 (نیا) / 24 (پرانا)
سکھر سے کوٹری: 173 (نیا) / 178 (پرانا)
2. دریائے جہلم (Jhelum River)
دریائے جہلم کشمیر کے علاقے کوہالہ سے شروع ہو کر منگلا ڈیم سے گزرتا ہے:
کوہالہ سے منگلا ڈیم: 5 گھنٹے
منگلا سے رسول: 18 (نیا) / 17 (پرانا)
رسول سے چناب کے ساتھ ملحقہ: 64 گھنٹے
3. دریائے چناب (Chenab River)
یہ دریا بھارت کے زیرِ انتظام جموں سے آکر پاکستان کے مختلف مقامات سے گزرتا ہے:
اکھنور سے مارالہ: 5 (نیا) / 6 (پرانا)
مارالہ سے کھنکی: 9 (نیا) / 9 (پرانا)
کھنکی سے قادرآباد: 6 گھنٹے
قادرآباد سے تریمو: 64 (نیا) / 48 (پرانا)
تریمو سے پنجند: 81 (نیا) / 84 (پرانا)
4. دریائے راوی (Ravi River)
یہ دریا نسبتاً چھوٹا مگر اچانک سیلابی ریلوں کے لیے مشہور ہے:
مادھوپور سے جسار: 12 گھنٹے
جسار سے شاہدرہ: 22 (نیا) / 24 (پرانا)
شاہدرہ سے بلوکی: 19 (نیا) / 18 (پرانا)
بلوکی سے سدھنائی: 48 (نیا) / 56 (پرانا)
سدھنائی سے پنجند: 63 (نیا) / 60 (پرانا)
5. دریائے ستلج (Sutlej River)
ستلج بھارت سے آ کر پاکستان میں داخل ہوتا ہے:
ہریکے سے گنڈا سنگھ والا: 19 (نیا) / 24 (پرانا)
گنڈا سنگھ والا سے سلیمانکی: 53 (نیا) / 48 (پرانا)
سلیمانکی سے اسلام: 60 (نیا) / 42 (پرانا)
اسلام سے پنجند: 74 (نیا) / 72 (پرانا)
نوٹ : 2023 کے فلڈ میں جب تک اسلام سے سیلاب چل رہا تھا بہاولپور کی انتظامیہ غفلت میں ڈوبی رہی اور بہاول پور برج کے نیچے مٹی کو صاف نہ کر سکی جس کی وجہ سے آدم واہن سے پیچھے لال سہنارا تک بڑی آبادی نے نقصان جھیلا ۔مطلب کوئی بھی دریا کہیں بھی انتظامی غلفت کی وجہ سے نقصان کرتا ہے تو اس کو جان بوجھ کر سمجھا جائے وجہ وقت کی قلت نہیں ہوتی بلکہ انتظامیہ کی غلفت ہوتی ہے۔
17/06/2025
نقشہ دیکھ لیجیے:
۔اسرائیل کی سرحد اردن سے ملتی ہے۔
اردن کی سرحد شام سے،
شام کی سرحد عراق سے،
اور عراق کی سرحد ایران سے جا ملتی ہے۔
ایران کے ساتھ پاکستان کی سرحد ملتی ہے۔
اب ذرا تاریخ کے صفحات پلٹتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ:
جب (کنگ حسین) کے ساتھ اردن کا اسرائیل سے امن معاہدہ ہوتا ہے،
تو اسرائیل براہِ راست شام کی سرحد تک پہنچ جاتا ہے اور موساد وہاں سرگرمِ عمل ہو جاتا ہے۔
شام میں حافظ الاسد رکاوٹ بنتا ہے،
چنانچہ وہاں چودہ سال اور تین ماہ تک خانہ جنگی کا ماحول پیدا کیا جاتا ہے۔
اس دوران شام کا فضائیہ اور فوج مکمل طور پر تباہ کر دی جاتی ہے،
ملک قرض میں ڈوب جاتا ہے،
بھائی، بھائی کا گلا کاٹتا ہے،
اور بالآخر بشار الاسد کو چلتا کیا جاتا ہے۔
اقتدار پر الجولانی اس حالت میں قبضہ کرتا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیارے جب چاہیں شام کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں
اور اہلِ شام صرف بے بسی کی آہیں بھرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
⸻
اب ایران اور پاکستان کے درمیان صرف عراق باقی رہ جاتا ہے۔
پہلے عراق کو اسلحہ دیا جاتا ہے،
ایران میں خونی انقلاب برپا کروایا جاتا ہے،
اور پھر عرب اور عجم (یعنی عربی اور فارسی) کو آپس میں لڑایا جاتا ہے۔
یہ خونریزی آٹھ سال تک جاری رہتی ہے —
نہ کوئی فاتح ہوتا ہے، نہ مفتوح۔
ہاں، یہی اسرائیل جب دیکھتا ہے کہ عراق اور ایران حالتِ جنگ میں ہیں،
تو وہ اپنے جنگی جہازوں کے ذریعے تموز کے نیوکلیئر پلانٹ پر بمباری کر کے اسے تباہ کر دیتا ہے،
یہ کہہ کر کہ اس سے اسرائیل کی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
اس کے بعد عراق کو شہ دی جاتی ہے اور وہ کویت پر حملہ آور ہوتا ہے۔
جیسے ہی وہ کویت کی سرحد پار کرتا ہے،
امریکہ بہادر پوری دنیا کو اکٹھا کر کے عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتا ہے۔
مگر تب بھی عراق میں کچھ جان باقی رہتی ہے۔
پھر یہی اسرائیل 2003 میں امریکہ کو قائل کرتا ہے کہ عراق ایسے ہتھیار بنا رہا ہے جو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا سکتے ہیں۔
عراق بار بار یقین دہانی کرواتا ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں،
وہ عالمی ایٹمی توانائی کے ادارے کو مکمل رسائی دیتا ہے،
مگر اس ادارے کے افراد جاسوسی پر مامور ہو جاتے ہیں۔
اس کے بعد عراق پر تباہ کن حملہ ہوتا ہے،
شیعہ ملیشیا حرکت میں آتے ہیں،
بھائی بھائی کا گلا کاٹتا ہے،
عراق کی فوج اور فضائیہ مکمل تباہ کر دی جاتی ہے،
سونے کے ذخائر لوٹے جاتے ہیں
اور صدام حسین کو تختۂ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔
⸻
اب پاکستان اور اسرائیل کے درمیان صرف ایران رہ جاتا ہے۔
اسرائیلی جنگی طیارے جب چاہیں اردن، شام، اور عراق کے اوپر سے بلاخوف و خطر پرواز کر سکتے ہیں،
بمباری کر سکتے ہیں، اور ان کو روکنے والا کوئی نہیں۔
پھر 12 جون 2025 کا وہ لمحہ آتا ہے،
جب بغیر کسی پیشگی وجہ کے اسرائیل، ایران کے ایٹمی مراکز پر بمباری کرتا ہے۔
ایران کے اہم جرنیلوں اور سائنسدانوں کو ان کے بچوں کے سامنے خاک و خون میں نہلا دیا جاتا ہے۔
دھمکی دی جاتی ہے کہ یہ حملے اس وقت تک جاری رہیں گے
جب تک ایران کا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر نیست و نابود نہیں کر دیا جاتا،
کیونکہ اس سے اسرائیل کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کا وزیرِ دفاع دھمکی دیتا ہے کہ
اگر ایران نے جوابی دفاع کا حق استعمال کیا تو تہران کو جلا کر راکھ کر دیا جائے گا۔
یہ حملے اور جوابی حملے تین دن سے جاری ہیں
اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ کب تک جاری رہیں گے۔
⸻
اب تصور کیجیے — خدانخواستہ —
اگر ایران بھی اسی انجام سے دوچار ہو جائے جس سے شام اور عراق ہوئے،
تو پھر:
خاکم بدہن!
اسرائیل کے تین چار سو جنگی جہاز پاکستان کے اندر اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے
کسی بھی وقت، بغیر کسی روک ٹوک کے آسکیں گے۔
اور اس پر مستزاد یہ کہ
ان کو “کھنڈ بھارت” کے خواب دیکھنے والے گوبر آچاریہ جیسے لوگوں کی حمایت حاصل ہوگی،
ان کے اڈے اور رہنما بھی ساتھ ہوں گے،
اور فضا میں ایندھن کی ضرورت تک نہیں پڑے گی!
تو کیا ہم اس وقت کا انتظار کریں؟
⸻
یورپ اور امریکہ کی انسان دوستی،
عدل و انصاف کے پیمانے اور دعوے
اب محض نعرے بن چکے ہیں۔
وہ صرف اُس وقت چیختے ہیں جب ان کی دم پر پاؤں پڑتا ہے،
ورنہ راوی چین ہی لکھتا ہے۔
⸻
جو کچھ کرنا ہے
جیسا بھی کرنا ہے
ابھی اور اسی وقت کرنا ہے۔
ورنہ:
“تمہاری داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں!”
تجزیہ: حامد میر
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Lahore
