Pakistan Mazdoor Kisan Party - Punjab

Pakistan Mazdoor Kisan Party - Punjab

Share

Official page of the Pakistan Mazdoor Kisan Party (Workers and Peasants Party), Punjab Committee.

01/06/2026

*کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل*

*انقلاب کی سائینس میں ما‎‎‎ؤازم کے اضافے*
(6-week course)

*دوسرا لیکچر: جدلیات کے فلسفے میں ماوٴ کے اضافے*

یہ انتہائی اہم لیکچر ہے جس میں ہم سیکھیں گے کہ کس طرح ماؤ نے جد لیاتی فلسفے کو معاشرے میں موجود تضادات پر عملی اطلاق کرنے کا طریقہ بنا دیا ہے۔ مارکس کے مادی اور تاریخی جدلیات کے اصولوں کو بتاتے ہوئے یہ لیکچر لینن کے جدلیاتی مادیت کے فلسفے پر اس کے دور کے حملوں کے خلاف اس کی تحریروں سے نئے اضافوں کو سمجھائے گا۔ مگر ماؤ اپنے مضامین میں تضاد کے بارے میں ،عمل کے بارے میں، اور، درست خیالات کہاں سے آتے ہیں، اور، لوگوں کے درمیان تضاد حل کرنے کے بارے میں جدلیات کے اس فلسفے کو ایک نئی سطح پر لے جاتا ہے۔ یہ سارا عمل ماؤ کی علم کی تھیوری کی بنیاد بنتا ہے۔

منجانب: پاکستان مزدور کسان پارٹی (لاہور)

‎رابطہ: 8005589-0321

-————————

‎کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل انقلابی طلبا، مزدوروں، اور کسانوں کے لئے سامراج، گماشتہ سرمایہ داری اور جاگیرداری مخالف انقلابی مارکسی فلسفے اور عمل کے بارے میں عالمی و مقامی بحثوں پر مشتمل ہفتہ وار نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کا اہم مقصد آج کے لبرل اور این جی او زدہ ترمیم پسند لیفٹ سے ہٹ کر انقلابی روایت پر نظریے اور عمل کو ترویج دینا ہے۔ اسی طرح بے عمل ترقی پسند ادب کے برعکس انقلابی تحریکوں اور طبقات سے جڑے ہوئے ادب، آرٹ اور کلچر کی بحثیں بھی ان ہفتہ وار نشستوں کا موضوع ہیں۔ کامریڈ اسحاق محمد کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی بائیں بازو کی سب سے بڑی پارٹی یعنی پاکستان مزدور کسان پارٹی کے بانی رہنماوٴں میں سے تھے وہاں مارکسی فلسفے اور ادب میں ان کے فکری اضافے بھی اپنا مخصوص مقام رکھتے ہیں۔ اسی لئے ہم اس ہفتہ وار نشست کو کامریڈ اسحاق محمد سے منسوب کر رہے ہیں۔

‎لاہور کے تمام مزدور، کسان، طلبا اور ترقی پسند انقلابی ساتھیوں کو شرکت کی دعوت ہے!




Photos from Pakistan Mazdoor Kisan Party - Punjab's post 26/05/2026

*کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل : مارکسزم سے لینن ازم اور لینن ازم سے ماؤازم تک کے نظریاتی صفر کی تاریخ*

20 مئی 2026 کو کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل کا 22واں سیشن منعقد ہوا جو کے چھے حصوں پر مشتمل کورس کا پہلا حصہ تھا۔ اس کورس کا مقصد مارکس ازم کی موجودہ جدید ترین شکل یعنی مارکس ازم ۔لیننن ازم ۔ماؤ ازم کو تاریخی اور فلسفی طور پر سمجھنا ہے۔ ۱۹ویں سدی سے لے کر آج تک مارکس ازم کے ارتقأ کو بیان کرتے ہوۓ ہم آج پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں مارکس ازم کے اطلاق کو حقیقی معنوں میں استعمال کر سکتے ہیں۔

پہلے سیشن میں کامریڈ عمر علی نے حاضرین کو مارکس ازم کی خصوصیات، اس میں لینن ازم کے اضافے، اور پھر لینن کے بعد اس میں ماؤ کے اضافوں سے آگاہ کیا۔ حاضرین اس فلسفے کی تاریخ کے ساتھ واقف ہوئے اور ساتھ ہی ساتھ بڑھ چڑھ کر سوالات و مباحثہ بھی کیا۔ عید کے بعد آنے والے ہفتوں میں اس تاریخ اور فلسفے کو گہرائی سے تہہ در تہہ سمجھیں گے۔ کسی بھی سائنس کے اطلاق سے پہلا اس پر مکمل عبور حاصل ہونا ہی کامیابی کی راہ دکھاتا ہے سو آپ کو بھی ہم اس کورس سے مستفید ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔
————

‎کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل انقلابی طلبا، مزدوروں، اور کسانوں کے لئے سامراج، گماشتہ سرمایہ داری اور جاگیرداری مخالف انقلابی مارکسی فلسفے اور عمل کے بارے میں عالمی و مقامی بحثوں پر مشتمل ہفتہ وار نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کا اہم مقصد آج کے لبرل اور این جی او زدہ ترمیم پسند لیفٹ سے ہٹ کر انقلابی روایت پر نظریے اور عمل کو ترویج دینا ہے۔ اسی طرح بے عمل ترقی پسند ادب کے برعکس انقلابی تحریکوں اور طبقات سے جڑے ہوئے ادب، آرٹ اور کلچر کی بحثیں بھی ان ہفتہ وار نشستوں کا موضوع ہیں۔ کامریڈ اسحاق محمد کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی بائیں بازو کی سب سے بڑی پارٹی یعنی پاکستان مزدور کسان پارٹی کے بانی رہنماوٴں میں سے تھے وہاں مارکسی فلسفے اور ادب میں ان کے فکری اضافے بھی اپنا مخصوص مقام رکھتے ہیں۔ اسی لئے ہم اس ہفتہ وار نشست کو کامریڈ اسحاق محمد سے منسوب کر رہے ہیں۔

‎لاہور کے تمام مزدور، کسان، طلبا اور ترقی پسند انقلابی ساتھیوں کو شرکت کی دعوت ہے!




Photos from Pakistan Mazdoor Kisan Party - Punjab's post 25/05/2026

تیسری بیٹھک بلھے شاہ ، پاکستان مزدور کسان پارٹی (قصور)

پاکستان مزدور کسان پارٹی قصور کی تیسری ماہوار بیٹھک بلھے شاہ 16 مئی 2026 کو قصور میں منعقد ہوئی جس کی صدارت پارٹی کے نائب صدر میاں محمد ممتاز ایڈووکیٹ نے کی۔ پروگرام کا آغاز بیٹھک بلھے شاہ کے پروگرام سیکریٹری کامریڈ حسنین صادق قصوری نے مادھو لال حسین کی کافی “میں بھی جانا جھوک رانجھن دی” سے کیا۔ کامریڈ میاں محمد ممتاز کی پرزور فرمائش پر کامریڈ انجینر محسن نے علامہ محمد اقبال کی نظم “شیطان کی مجلس شوری” پڑھی۔ تیسری بیٹھک بلھے کے مہمان سپیکر پروفیسر علی عثمان قاسمی صاحب نے “ایران پر موجودہ امریکی و اسرائیلی جنگ اور ماڈرن اسلام کا سیاسی و تاریخی حوالہ “ پر گفتگو کی جس کے دوران انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سامراج نے مذہب کے نام پر ہماری ثقافت میں بری طرح مداخلت کی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں اسلامی فکر کے اندر مختلف رجحانات کا بغور جائزہ لیا اور دکھایا کے کس طرح ترقی پسند اور عوام دوست بیانیوں کو اس سے علیحدہ کیا گیا اور اس حوالے سے سماجی و سیاسی سطح پر کونسے ہربے استعمال کئے گئے۔ اس کے بعد ایک تفصیلی سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں حالیہ سامراجی جارحیت اور اس کے خلاف اٹھنے والی مزاحمت میں اسلامی تحریکوں کے کردار سے لے کر موجودہ دور میں بائیں بازو کی سیاست اور اس کے ابھرتے ہوئے لوک رنگ پر گفتگو ہوئی۔ پروگرام کے آخر پر کامریڈ ارشد نے مہمان اسپیکر پروفیسر ڈاکٹر علی عثمان قاسمی کو بلھے شاہ کی دھرتی پر خوش آمدید کرتے ہوئے چادر پیش کی اور پروگرام میں شامل دیگر مہمانوں کو بھی چادریں پہنائیں۔ اختتام میں بیٹھک بلھے شاہ کی طرف سے پروگرام کے شرکا کو کھانا پیش کیا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



Photos from Azadi Tehreek's post 22/05/2026

پریس ریلیز

*بھٹہ مزدور مختار کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے آزادی تحریک، بھٹہ مزدور یونین اور پاکستان مزدور کسان پارٹی کا مقتول کے لواحقین اور بھٹہ مزدور ساتھیوں کے ساتھ روشن والا فیصل آباد میں اہم مشاورتی اجلاس*

*لوکل انتظامیہ اور بھٹہ مالکان کے گٹھ جوڑ، تفتیش میں سستی اور مفرور ملزمان کی ضمانتوں کے خلاف پیر کو عدالت میں بھرپور طاقت کا مظاہرہ کرنے اور ملک گیر سطح پر آواز اٹھانے کا اعلان*

فیصل آباد: آج 22 مئی بروز جمعہ روشن والا میں بااثر بھٹہ مالک امجد، اورنگزیب منشی اور عابد چوکیدار کے وحشیانہ تشدد کے نتیجے میں قتل ہونے والے غریب اور نہتے بھٹہ مزدور مختار کو انصاف دلانے اور آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے پاکستان مزدور کسان پارٹی، آزادی تحریک اور بھٹہ مزدور یونین کا ایک انتہائی اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔

یہ مشترکہ اجلاس کامریڈ عمر، اصغر شاہین، لیاقت گل، نیاز الیاس، محمد زبیر، محمد خالد اور محمد شفیق کی قیادت میں منعقد ہوا، جس میں فیصل آباد کے علاقوں دسوئہ اور روشن والا کے آزادی تحریک کے یونٹس، مقتول مختار کے بھائیوں، اہلخانہ، بھٹے کے ساتھی مزدوروں سمیت لاہور اور فیصل آباد سے آئے ہوئے نظریاتی دوستوں اور وکلاء نے شرکت کی۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز مقتول مختار، پسماندگان اور یتیم بچوں کے لیے اجتماعی دعا سے کیا گیا۔

دعا کے بعد، مقتول کے اہلخانہ اور بھٹہ مزدوروں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی گئی، جس میں مقامی انتظامیہ اور بھٹہ مالکان کی ملی بھگت، پولیس کی عدم توجہی اور آئندہ کی قانونی و عوامی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں اس بات پر شدید تشویش اور شک کا اظہار کیا گیا کہ مقامی تھانہ مقتول کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے مسلسل بھٹہ مالکان کے وفود کے ساتھ ملاقاتیں کر رہا ہے، اور ابھی تک اس لرزہ خیز قتل کی کوئی سنجیدہ یا ٹھوس تفتیش شروع نہیں کی گئی۔

شرکاء نے مفرور ملزمان کی آزادی پر گہرے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عابد چوکیدار کے علاوہ، مرکزی ملزم بھٹہ مالک امجد اور اورنگزیب منشی سرِعام دندناتے پھر رہے ہیں اور عبوری ضمانت کا سہارا لے کر آزادی تحریک کے تعاون سے درج کروائی گئی ایف آئی آر کو واپس لینے اور مفاہمت کے لیے مقتول کے خاندان پر مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں۔

اس سنگین صورتحال کے پیشِ نظر اجلاس میں درج ذیل اہم اور حتمی فیصلے کیے گئے:

(1) ملزمان کی عبوری ضمانت کو منسوخ کروانے اور انہیں سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کے لیے پیر کے روز تمام مزدور رہنما، وکلاء اور کارکنان عدالت میں بھرپور قوت کے ساتھ حاضر ہوں گے تاکہ باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز ہو سکے۔
(2) روشن والا میں بھٹہ مزدوروں سے مشاورت کے بعد پاکستان مزدور کسان پارٹی، آزادی تحریک اور بھٹہ مزدور یونین کے وفد نے پریس کلب فیصل آباد میں میڈیا نمائندوں اور فیصل آباد بار ایسوسی ایشن میں مزدور دوست وکلاء برادری سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جس پر صحافیوں اور وکلاء نے یقین دہانی کروائی کہ وہ مقتول بھٹہ مزدور اور اس کے مظلوم خاندان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
(3) پاکستان مزدور کسان پارٹی ، آزادی تحریک اور پارٹی کے وکلاء ساتھیوں کی طرف سے مقتول کے خاندان کو ہر قسم کی قانونی امداد اور ہر سطح پر میڈیا اور عوامی حمایت فراہم کی جائے گی۔
(4) پارٹی نے واضح کیا کہ اس معاملے میں ہر قسم کی حکمت عملی کا حتمی فیصلہ صرف اور صرف مقتول مختار کے خاندان کا ہوگا، کسی بھی بااثر سیاسی یا مقامی شخصیت کو اس معاملے پر دباؤ ڈالنے یا اثر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
(5) پاکستان مزدور کسان پارٹی (پنجاب) کے صوبائی سیکرٹری نے بھٹہ مزدوروں کو یقین دلایا کہ اگر اس علاقے میں کسی بھی مزدور، بھٹہ مزدور یونین یا آزادی تحریک کے رہنما یا کارکن کو بھٹہ مالکان یا ان کے غنڈوں کی طرف سے ہراساں کیا گیا یا نقصان پہنچایا گیا، تو پارٹی کسی بھی حد تک جائے گی اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی براہِ راست ذمہ دار لوکل انتظامیہ ہوگی۔
(6) آزادی تحریک اور بھٹہ مزدور یونین نے جبری مشقت کا شکار مزدوروں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، دھمکیوں اور خوف و ہراس کے ماحول پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ اب اس مہم کو صرف فیصل آباد تک محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ اسے صوبائی اور قومی سطح پر اٹھایا جائے گا۔

آزادی تحریک اور پاکستان مزدور کسان پارٹی نے ایک بار پھر اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے کہ پیشگی کے اس ظالمانہ اور لعنتی نظام کے خاتمے اور جبری مشقت کے شکار تمام مزدوروں کی مکمل آزادی تک ہماری یہ انقلابی جدوجہد جاری رہے گی!





20/05/2026

*کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل*
*انقلاب کی سائینس میں ما‎‎‎ؤازم کے اضافے*
(6-week course)

*پہلا لیکچر: مارکس ازم سے لینن ازم اور لینن ازم سے ماوٴا زم تک کے نظریاتی سفر کی تاریخ*
لیکچرار: کامریڈ عمرعلی
اس لیکچر میں مارکس کی تحریروں کے ذریعے مارکسزم کے سفر اور پھر لینن کی تحریروں کی ذریعے لینن ازم کے سفر کو بیان کرتے ہوئے ماؤ کی وفات تک ماؤ کی تحریروں اور جدوجہد کے تاریخی تناظر کی ایک وسیع اور جامعہ تاریخ بیان کی جائے گی۔ اس لیکچر میں بتایا جائے گا کہ کس طرح مختلف انقلابی رجحانات کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے یہ تینوں رہنما انقلابی نظریے کو بتد ریج تراشتے ہیں۔ اس لیکچر میں مختلف تھیوری کے پہلوؤں کو بیان نہیں کیا جائے گا بلکہ محض ان تینوں انقلابی رہنماؤں کی تحریروں کا منطقی اور جامعہ خلاصہ پیش کیا جائے گا۔

منجانب: پاکستان مزدور کسان پارٹی (لاہور)
‎رابطہ: 8005589-0321

-————————

‎کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل انقلابی طلبا، مزدوروں، اور کسانوں کے لئے سامراج، گماشتہ سرمایہ داری اور جاگیرداری مخالف انقلابی مارکسی فلسفے اور عمل کے بارے میں عالمی و مقامی بحثوں پر مشتمل ہفتہ وار نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کا اہم مقصد آج کے لبرل اور این جی او زدہ ترمیم پسند لیفٹ سے ہٹ کر انقلابی روایت پر نظریے اور عمل کو ترویج دینا ہے۔ اسی طرح بے عمل ترقی پسند ادب کے برعکس انقلابی تحریکوں اور طبقات سے جڑے ہوئے ادب، آرٹ اور کلچر کی بحثیں بھی ان ہفتہ وار نشستوں کا موضوع ہیں۔ کامریڈ اسحاق محمد کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی بائیں بازو کی سب سے بڑی پارٹی یعنی پاکستان مزدور کسان پارٹی کے بانی رہنماوٴں میں سے تھے وہاں مارکسی فلسفے اور ادب میں ان کے فکری اضافے بھی اپنا مخصوص مقام رکھتے ہیں۔ اسی لئے ہم اس ہفتہ وار نشست کو کامریڈ اسحاق محمد سے منسوب کر رہے ہیں۔

‎لاہور کے تمام مزدور، کسان، طلبا اور ترقی پسند انقلابی ساتھیوں کو شرکت کی دعوت ہے!




19/05/2026

⁨ *کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل*
(6-week course)
*انقلاب کی سائینس میں ما‎‎‎ؤازم کے اضافے*
(مارکسزم ۔لینن ازم سے مارکسزم- لینن ازم- ماؤازم تک کا سفر)

ہر بدھ شام 6.30 بجے
مزدور کسان دفتر، کوینز روڈ،لاہور

اس کورس کو دو طرح سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اول یہ کہ مارکسزم ۔لینن ازم ہماری آج کی جدوجہد کے لئے کیوں کافی نہیں ہے اور دوم ماؤ نے مارکسزم ۔لینن ازم تک کے نظریاتی سفر میں کیا آفاقی اضافے کیے کہ وہ مارکسزم۔ لینن ازم ۔ماؤازم بن گیا اور یوں M-L-M مارکسزم کی بلند ترین سطح کے طور پر 1980 کی دہائی کے آخر میں ابھرا۔ یعنی جد لیات کے فلسفے، پارٹی کے تصور، سوشلزم کی سیاسی معاشیات ،علم کی تھیوری، قومی سوال اور ثقافتی انقلاب کے تصورات میں مارکس سے آگے بڑھ کر لینن نے کیا اضافہ کیا اور پھر مارکس اور لینن سے آگے بڑھ کر ماؤ نے کیا اضافہ کیا۔ ہم ہر لیکچر میں کسی ایک پہلو پر مارکس پھر لینن اور پھر ماؤ کے اضافوں کو تسلسل اور منطقی طور پر ٹوٹتے اور جڑتے ہوئے اگلی سطح پر جانے کے عمل کو گہرائی کے ساتھ جانیں گے۔ یہ کورس خاص طور پر اہم ہے کیونکہ پاکستان میں ماؤزے تنگ فکر پر بننے والی پارٹیاں اور اس وقت کا ان کا لٹریچر یہ سب بتانے سے قاصر ہے۔ لہذا ماؤ کی وفات کے بعد دنیا بھر کی ماؤاسٹ پارٹیوں نے ماؤ کے انقلاب کرنے اور انقلاب کی تعمیر کے دوران عملی سیاسی تجربوں اور نظریاتی تبدیلیوں کو مارکسزم ۔لینن ازم سے آگے مارکسی انقلابی تھیوری میں آفاقی اضافے مانا اور اس کو مارکسزم۔ لینن ازم۔ ماؤازم کی سطح پر لے گئے۔ ہمارے ماؤزے تنگ فکر والے اپنا نظریہ بھی بھول کر لبرل ہو گئے اور M-L-Mکی یہ نئی نظریاتی فلسفیانہ سطح کو سمجھنا ان کے بس کی بات نہیں۔ نئے ماوسٹ انقلابیوں کو یہ سب جاننا بہت ضروری ہے۔
منجانب: پاکستان مزدور کسان پارٹی (لاہور)
‎رابطہ: 8005589-0321

‎لاہور کے تمام مزدور، کسان، طلبا اور ترقی پسند انقلابی ساتھیوں کو شرکت کی دعوت ہے!




Photos from Azadi Tehreek's post 19/05/2026

*Azadi Tehreek and PMKP Express Severe Outrage Over Horrific Murder of Brick Kiln Worker Mukhtar - Announce Nationwide Protests to Bring Perpetrators to Justice*

FAISALABAD — Azadi Tehreek and the Pakistan Mazdoor Kisan Party (PMKP) have vehemently condemned the horrific abduction and brutal torture-murder of their impoverished and defenseless comrade, Mukhtar, a brick kiln worker, within the jurisdiction of the Roshanwala Police Station (Chak No. 252 R.B.), Faisalabad. This vicious incident, which occurred on May 10, 2026, has once again exposed the tyranny of brick kiln owners and the oppressive system fueled by the nexus of feudalism, capitalism, and the local state machinery.

On May 10, the deceased, Mukhtar, had just finished a grueling day of hard labor when the influential brick-kiln owner Amjad, along with his Munshi Aurangzeb and Chowkidar Abid, forcefully abducted him with the help of their henchmen. The victim was locked inside an office within the kiln premises, where he was subjected to a cowardly and vicious assault. Upon learning of the situation, Mukhtar’s family rushed to the scene to save him, but the oppressors barred them from meeting him and continued the torture. By the time Mukhtar was finally rushed to the hospital following the assault, he had already succumbed to his injuries, and doctors confirmed his death.

The brick kiln owner, accountant, and watchman are equally complicit in this heinous murder. While the police have apprehended one suspect, Abid, the principal perpetrators and masterminds, brick kiln owner Amjad and Accountant Aurangzeb, have gone into hiding. In a deeply disappointing turn of events that makes a mockery of the law, these absconding suspects have managed to secure pre-arrest (interim) bail. PMKP, Azadi Tehreek, and the Bhatta Mazdoor Union have jointly announced that they will fiercely challenge this interim bail in court and will tolerate no compromise on the matter.

Comrade Asghar Shaheen, PMKP leader, President, Azadi Tehreek Faisalabad, and General Secretary, Brick Kiln Workers Union, is on the ground from to ensure justice for the aggrieved family. He has assisted the victim’s family in registering the First Information Report (FIR) and is currently organizing brick kiln workers on the ground to demand accountability.

Azadi Tehreek clarifies that the root cause of this tyranny is "bonded labor" and the exploitative system of Peshgi, which is used to enslave workers. This incident is a direct consequence of the impunity of brick kiln owners, their utter disregard for the law, and the criminal complicity and negligence of the local administration and the Labour Department.

Currently, Mukhtar’s family is living in a state of severe fear and panic due to continuous threats from the kiln owners. Azadi Tehreek and PMKP have issued a stern warning:

"If even a single scratch comes to any member of the deceased Mukhtar's family or any member of Azadi Tehreek, or if any attempt is made to harm them, the entire responsibility will lie squarely on the local administration and the brick kiln owners. The party will take the strictest public and legal action against this and will go to any length to ensure the family's safety."

Azadi Tehreek and the Pakistan Mazdoor Kisan Party appeal to all labor organizations, concerned organizations and people to raise their voices alongside us to seek accountability for Mukhtar’s blood and to end this thuggery. Our struggle will continue until the victim's murderers are brought to justice and brick kiln workers achieve complete liberation.





Photos from Azadi Tehreek's post 19/05/2026

*آزادی تحریک اور پاکستان مزدور کسان پارٹی کا اپنے ساتھی بھٹہ مزدور مختار کے لرزہ خیز قتل پر شدید غم و غصے کا اظہار ۔ مفرور ملزمان کی عبوری ضمانت کو چیلنج کرنے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے ملک گیر احتجاج کا اعلان*

فیصل آباد (پریس ریلیز): آزادی تحریک اور پاکستان مزدور کسان پارٹی نے فیصل آباد کے علاقے تھانہ روشن والا کی حدود (چک نمبر 252 ر۔ب) میں اپنے غریب اور نہتے بھٹہ مزدور ساتھی مختار کو اغوا کے بعد وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کے لرزہ خیز واقعے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ 10 مئی 2026 کو پیش آنے والے اس دردناک واقعے نے ایک بار پھر بھٹہ مالکان کی فرعونیت اور جاگیرداری، سرمایہ داری اور مقامی انتظامیہ کے گٹھ جور سے چلنے والے اس جابرانہ نظام کو بے نقاب کر دیا ہے۔

مقتول مختار 10 مئی کو دن بھر کی سخت مشقت ختم کر کے فارغ ہوا ہی تھا کہ بااثر بھٹہ مالک امجد، اورنگزیب منشی اور عابد چوکیدار نے اپنے کارندوں کے ساتھ مل کر اسے زبردستی اغوا کیا۔ مقتول کو بھٹے کے اندر بنے ایک دفتر میں بند کر کے بیدردی اور بزدلی سے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب مختار کے اہلخانہ کو اس بات کا علم ہوا تو وہ اسے بچانے کے لیے وہاں پہنچے، لیکن ظالموں نے خاندان کو مختار سے ملنے تک نہ دیا اور تشدد جاری رکھا۔ جب تشدد کے بعد مختار کو ہسپتال لے جایا گیا تو وہ دم توڑ چکا تھا اور ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کی۔
اس گھناؤنے قتل میں بھٹہ مالک، منشی اور چوکیدار سب برابر کے شریک ہیں۔ اگرچہ پولیس نے ایک ملزم عابد چوکیدار کو گرفتار کر لیا ہے، لیکن اصل پشت پناہ اور مرکزی ملزمان یعنی بھٹہ مالک امجد اور اورنگزیب منشی روپوش ہو چکے ہیں۔ انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ ان مفرور ملزمان نے قانون کا مذاق اڑاتے ہوئے قبل از گرفتاری (عبوری) ضمانت حاصل کر لی ہے۔ پاکستان مزدور کسان پارٹی، آزادی تحریک اور بھٹہ مزدور یونین نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس عبوری ضمانت کو عدالت میں بھرپور طریقے سے چیلنج کریں گے اور مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔

مظلوم خاندان کو انصاف دلانے کے لیے پاکستان مزدور کسان پارٹی کے رہنما، آزادی تحریک فیصل آباد کے صدر اور بھٹہ مزدور یونین کے جنرل سیکرٹری اصغر شاہین پہلے دن سے میدان میں موجود ہیں۔ انہوں نے نہ صرف مقتول کے اہلخانہ کی مدد کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کروائی، بلکہ وہ اس وقت زمین پر مقتول کو انصاف دلوانے کے لئے اپنے مزدور ساتھیوں کو منظم کر رہے ہیں۔

آزادی تحریک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اس ظلم کی اصل جڑ "جبری مشقت" اور پیشگی (ایڈوانس) کا وہ ظالمانہ نظام ہے جس کے ذریعے مزدوروں کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے۔ یہ واقعہ بھٹہ مالکان کے اسی تکبر، قانون سے بے خوفی اور مقامی انتظامیہ و محکمہ لیبر کی مجرمانہ ملی بھگت اور چشم پوشی کا تسلسل ہے۔

مقتول مختار کا خاندان اس وقت شدید خوف و ہراس کا شکار ہے اور بھٹہ مالکان کی جانب سے انہیں مسلسل دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ آزادی تحریک اور پاکستان مزدور کسان پارٹی نے واضح طور پر انتباہ جاری کیا ہے کہ:

"اگر مقتول مختار کے خاندان کے کسی بھی فرد یا آزادی تحریک کے کسی بھی کارکن کو معمولی سی خراش بھی آئی یا انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، تو اس کی تمام تر ذمہ داری مقامی انتظامیہ اور بھٹہ مالکان پر ہوگی۔ پارٹی اس کے خلاف سخت ترین عوامی اور قانونی ایکشن لے گی اور خاندان کے تحفظ کے لیے آخری حد تک جائے گی۔"

آزادی تحریک اور پاکستان مزدور کسان پارٹی تمام مزدور تنظیموں، سول سوسائٹی اور انصاف پسند عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مقتول مختار کے خون کا حساب لینے اور اس سرمایہ دارانہ غنڈہ گردی کے خاتمے کے لیے ہمارے ساتھ آواز بلند کریں۔ ہماری جدوجہد مقتول کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے اور بھٹہ مزدوروں کی مکمل آزادی تک جاری رہے گی۔





Photos from Pakistan Mazdoor Kisan Party - Punjab's post 15/05/2026

*21 واں کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل، ۱۳ میئ 2026*
۱۳ میئ 2026 کو ۲۱واں کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل منعقد ہوا۔ کامریڈ محمد عظیم نے مارکسی روایت پر ڈٹرمنزم کے الزام کی تنقید کی۔ ساتھ ہی ساتھ کامریڈ نے حاضرین کو مارکسی روایت میں، مارکس سے لینن سے ماؤ تک، مارکسی فلسفے اور سوچ میں سبجیکٹیوٹی اور اوبجیکٹوٹی کے جدلیاتی طعلق سے بھی آگاہ کیا۔ تاریخ کا جائزہ لینے کے بعد حاضرین بھی اسی نتیجے پر پہنچے جو دو سو سالوں سے مارکسی عمل کا بنیادی اصول ہے کہ گو کہ انسان اپنے مادی حالات اور اصلیت کا باپند ہے، انسانی کوششوں اور عملی جستجو سے ہی انسانی معاشرے کو بدلا جاسکتا ہے۔
“Men make their own history, but they do not make it as they please; they do not make it under self-selected circumstances, but under circumstances existing already, given and transmitted from the past.” Karl Marx in The 18th Brumaire of Louis Bonaparte - 1852

————

‎کامریڈ اسحاق محمد سٹڈی سرکل انقلابی طلبا، مزدوروں، اور کسانوں کے لئے سامراج، گماشتہ سرمایہ داری اور جاگیرداری مخالف انقلابی مارکسی فلسفے اور عمل کے بارے میں عالمی و مقامی بحثوں پر مشتمل ہفتہ وار نشستوں کا اہتمام کرتا ہے۔ اس کا اہم مقصد آج کے لبرل اور این جی او زدہ ترمیم پسند لیفٹ سے ہٹ کر انقلابی روایت پر نظریے اور عمل کو ترویج دینا ہے۔ اسی طرح بے عمل ترقی پسند ادب کے برعکس انقلابی تحریکوں اور طبقات سے جڑے ہوئے ادب، آرٹ اور کلچر کی بحثیں بھی ان ہفتہ وار نشستوں کا موضوع ہیں۔ کامریڈ اسحاق محمد کو جہاں یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ پاکستان کی بائیں بازو کی سب سے بڑی پارٹی یعنی پاکستان مزدور کسان پارٹی کے بانی رہنماوٴں میں سے تھے وہاں مارکسی فلسفے اور ادب میں ان کے فکری اضافے بھی اپنا مخصوص مقام رکھتے ہیں۔ اسی لئے ہم اس ہفتہ وار نشست کو کامریڈ اسحاق محمد سے منسوب کر رہے ہیں۔

‎لاہور کے تمام مزدور، کسان، طلبا اور ترقی پسند انقلابی ساتھیوں کو شرکت کی دعوت ہے!




12/05/2026

*تیسری بیٹھک بلھے شاہ*
عنوان:ایران پر موجودہ امریکی اسرائیلی جنگ اور ماڈرن اسلام کا سیاسی و تاریخی حوالہ

لیکچر : ڈاکٹر علی عثمان قاسمی
(مصنف، نقاد،استاد)

ایران پر امریکہ اسرائیل حملے سے یہ خدشہ ہو سکتا ہے کہ وقتی طور پر خطے میں سامراج مخالف جذبات بڑھے ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔ لیکن کیا یہ عمل انتہا پسند اور تنگ نظر مذہبی رجحانات کو بڑھاوا تو نہیں دے گا؟
کیا ایسی صورتحال میں ہمارے خطے میں اسلامی جدوجہد کی تحریک کوئی جگہ بنا سکتی
ہے؟

ڈاکٹر علی عثمان قاسمی اس حوالے سے متعدد مستند کتابوں کے مصنف ہیں۔ وہ اس
اہم بدلتی ہوئی صورتحال میں اس اہم موضوع پر اپنے خیالات بیٹھک بلھے شاہ کے سامعین کے گوش گزار کریں گے۔

منجانب: پاکستان مزدور کسان پارٹی (قصور)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بُلھے شاہ دے بارے سرکاری، درباری تے دھرمی تت ست توں دور ساڈی ایہہ بیٹھک مزدوراں، کساناں، محنت کشاں، طالب علماں تے وسیب دیاں ہیٹھلیاں پرتاں بارے بُلھے شاہ دی سوچ دا پرکھ پرچول اے اتے ایس سوچ راہیں لوکائی دی نجات دا راہ لبھن بارے ہے۔ طبقیاں وچ ونڈے وسیب وچ فلسفہ، شاعری تے وسیبی رنگ وی ونڈے ہوندے نیں۔ بُلھے شاہ دا کلام سب لوکائی واسطے ضرور اے پر بُلھے شاہ دا کلام لوکائی دیاں ہیٹھلیاں پرتاں اتے دکھاں مارے، پیڑاں تے ہاواں ہوکیاں دی کہانی اے تے نال نال اوہناں دیاں خوشیاں، انگ ساک، ملاپ دی خوشی دی گج وج کے بُلھے شاہ دے کلام راہیں ای ہوندی اے۔

ایہہ بیٹھک بُلھے شاہ، بُلھے شاہ دے کلام راہیں حیاتی دے سارے رنگاں تے چانن راہیں اج دے ہیٹھلے وسیب دے ہنیریاں توں سویر دے نویں رنگاں دی جانکاری بارے ہے۔ اسیں ہر مہینے کسے اک فکری، سیاسی، ادبی تے وسیبی مسئلے بارے گل بات کراں گے تے بُلھے دے شہردی فکری، ادبی تے ثقافتی دولت نوں اگے ودھاواں گے تے بُلھے شاہ دے پریم نگر فلسفے دا رچاؤ اج دے سماج وچ ویکھاں گے کہ چرخا گلی وچ ڈھاونا اے کہ چرخا توڑ جنڈ عزابوں چھڑاون دا ویلا آ گیا اے!




Want your business to be the top-listed Government Service in Lahore?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Lahore