12/12/2021
Umaira gul
horror stories and novels
12/12/2021
میرے #مذہب میں #شراب پینا #حرام ہے 😑
اس لیے تیری #یاد میں میں روز #لسی پیتى ہوں😁
Finally dono novel k qist same ho hi g*e
پیاسی حویلی
قسط 5
عنصر کو یونان سے واپس آئے آج دوسرا روز تھا۔ اماں نے ناشتہ تیار کر لیا تھا اس لیے وہ اُسے جگانے کیلئے آواز پہ آواز لگا رہی تھیں۔
”عنصر! عنصرپتر اُٹھ جا۔ ناشتا تیار ہے۔“ مگر اس پر خُمار طاری تھا۔
اچانک باہری دروازہ کھلنے اور ابا کے کھانسنے کی آواز سن کر عنصر پھرتی سے اٹھا اور غسل خانے میں جا گھسا۔ اسے ابا سے شروع سے ہی ڈر لگتا تھا مگر ڈر سے بھی زیادہ وہ اُن سے محبت کرتا تھا۔ عنصر کے ابا ماسٹر حمید گاﺅں کے واحد سرکاری سکول میں ٹیچر تھے۔ سارا گاﺅں ان کی محنت اور ایمانداری کے گن گاتا۔ وہ ہمیشہ نصیحت آمیز لہجے میں بات کرتے اس لیے ان کی پورے گاﺅں میں عزت تھی۔ عنصر کی پوری کوشش تھی کہ وہ جلد سے جلد ہاتھ منہ دھو کر دسترخوان پر پہنچ جائے کیونکہ ماسٹرحمید نے ناشتا کر کے سکول چلے جانا تھا اور بعد میں اس کے پاس فراغت ہی فراغت تھی۔ اس لیے وہ کوشش کر رہا تھا کہ ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارے۔
اِس سے پہلے کہ اُن کے درمیان مزید بات چیت ہوتی ڈور بیل کی زوردار آواز نے مداخلت کر دی۔ ماسٹر حمید نے گھڑی پر نگاہ ڈالی تو پونے آٹھ بج رہے تھے۔ انہیں آٹھ بجے تک سکول جانا تھا اس لیے وہ سلام کر کے رخصت ہو گئے۔
عنصر نے باہر جا کر دیکھا تو ریاست کھڑا تھا۔ اسے دیکھ کر عنصر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ دونوں بچپن سے گہرے دوست تھے۔ وقت کا پہیہ گھوما، عنصر میٹرک کرنے کے بعد سترہ سال کی عمر میں گھر والوں کی مخالفت کے باوجود سنہرے مستقبل کی امید لے کر یونان چلا گیا۔ وہاں جا کر اس نے پڑھائی مکمل کی اور نوکری بھی تلاش کر لی۔ اب وہ واپس آیا تو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ کڑیل جوان بن چکا تھا۔ قدرت نے تجسس اس میں کوٹ کوٹ کا بھرا تھا۔
دوسری طرف موٹی تازی جسامت کے مالک ریاست نے گاﺅں کے اکلوتے بازار میں ہی پرچون کی دکان کھول لی۔ دس برس کے طویل عرصے کے بعد دونوں دوست ملے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ عنصر ریاست کو اندر لے گیا۔ چائے پینے کے دوران دونوں ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے رہے۔ ریاست نے دکان پر جانا تھا اس لیے اس نے عنصر سے شام کو دوبارہ اُس کے گھر آنے کی ہامی بھری اور چلا گیا۔ عنصر نے بھی چونکہ شہر کسی کا سامان دینے جانا تھا اِس لیے اُس نے ریاست کے جاتے ہی رخت سفر باندھا اور گاﺅں کو الوداع کہہ دیا۔
سورج ڈُوبنے سے ذرا پہلے عنصر گھر واپس آیا تو اماں اُسی کی منتظر تھیں۔ تھکن سے چُور وہ صحن میں بچھی چارپائی پر ہی دراز ہو گیا۔ اماں اس کیلئے چائے کی پیالی بنا لائیں۔ ابھی وہ چائے کی چسکیاں لینے میں مصروف تھا کہ حسب وعدہ ریاست آ گیا۔ اماں چائے کی ایک اور پیالی لے آئیں۔ چائے کی چسکیاں لیتے دونوں باتیں کرنے لگے۔
باتوں باتوں میں ہی انھیں اپنا بچپن یاد آگیا ۔ کیا ہی شاندار دن تھے جب ہم وہاں کبڈی کھیلا کرتے تھے۔ گاﺅں کی ایک ایک بات یاد ہے مجھے۔ نہر جہاں ہم نہایا کرتے تھے۔ بابے اللہ دتے کا باغ جہاں ہم چوری چھپے جا کر پھل کھایا کرتے تھے۔“
اماں اب تو میں فیصلہ کر کے آیا ہوں کہ گاﺅں کا چپہ چپہ گھوموں گا اور جو شرارتیں میں بچپن میں کیا کرتا تھا وہ سب دوبارہ کروں گا۔ بڑی مدت کے بعد میں اپنے من کو آزاد کرنا چاہتا ہوں۔ نہر میں نہانا تو میری سب سے بڑی خواہش ہے۔ بابے اللہ دتے کے باغ میں بھی جاﺅں گا اور وہ نیلی حویلی، گاﺅں کی سب سے خوبصورت جگہ۔ وہ تو یاد ہی نہیں رہی۔ وہاں بھی جاﺅں گا۔ وہاں کی فوٹوگرافی دیکھ کر لوگ یہی سمجھیں گے کہ شاید یہ یونان کی ہی کوئی قدیم جگہ ہے۔“
عنصر پُرجوش لہجے میں بولتا چلا گیا۔
”کیا.... نیلی حویلی ؟“
اماں اور ریاست کے منہ سے بیک وقت نکلا۔
نیلی حویلی کا نام سن کر دونوں چونک اٹھے اور مسکراہٹ کی جگہ سنجیدگی نے گھیر لی۔
”جی نیلی حویلی۔“
عنصر کو اُن کے بدلے ہوئے لہجے پر حیرانی ہوئی۔
”رات بہت ہو گئی ہے میرے لعل۔“ اماں نے سنجیدگی مگر پیار سے کہا۔
”اور ایسے وقت پر ایسی جگہوں کا نام نہیں لیتے۔“
”اماں ! میں اُس نیلی حویلی کی بات کر رہا ہوں جو ہمارے گاﺅں میں ہے۔ گاﺅں کے سارے لوگ تو وہاں جاتے تھے اور خود میں بلکہ گاﺅں کے دوسرے بچے بھی وہاں جا کر دن بھر کھیلا کرتے تھے۔“
عنصر نے حیرانی اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات سے کہا۔
”وہ گزرے زمانے کی بات ہے بیٹا۔ اب وہاں کوئی نہیں جاتا۔ دس برسوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے گاﺅں میں پتر۔“
”کیوں اماں ؟ اب یہ مت کہہ دینا کہ وہاں بھوتوں اور چڑیلوں نے قبضہ کر لیا ہے۔“
عنصر نے ہنستے ہوئے سنجیدہ ماحول کو خوشگوار کرنے کی کوشش کی۔
ہائے میرے اللہ! میں نے ابھی منع کیا تھا کہ اس جگہ کا نام مت لینا۔ بس میں تمہیں کہے دیتی ہوں اس جگہ کا خیال بھی اپنے دل میں مت لانا۔“
اماں نے اس بار قدرے سخت لہجے میں کہا۔
”جی اماں۔ جیسے آپ کہیں۔“
عنصر کو منع کرنے کی وجہ تو سمجھ نہ آئی لیکن اس نے اماں سے بحث کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ریاست منہ کھولے دونوں کی باتیں سن رہا تھا۔
”تم تو اپنا منہ بند کرو۔“
عنصر نے ریاست کو کہنی ماری۔ اس کی بات سن کر ریاست جھینپ گیا اور فوری منہ بند کر لیا۔
”میں اب چلتا ہوں عنصر۔“
ریاست اٹھ کھڑا ہوا۔ نیلی حویلی کے ذکر کے بعد ان کی گفتگو کی شیرینی یکسر غائب ہو چکی تھی۔ اسے محسوس ہوا اب گھر جانا ہی بہتر ہے۔
”تمہاری بھابی میرا انتظار کر رہی ہو گی۔ رات کا کھانا ہم اکٹھے ہی کھاتے ہیںاس لیے مجھے اب دو اجازت .... اللہ حافظ۔“
ریاست دروازے کی سمت بڑھا تو عنصر بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر ریاست ہاتھ ملانے کے لیے پیچھے مڑا تو عنصر نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔
”رات کا کھانا کھا کر میں تمہاری طرف آﺅں گا۔“
عنصر نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو ریاست اس کی جانب دیکھنے لگا۔
”اور ہم نیلی حویلی کی طرف جائیں گے۔“
عنصر کی آنکھوں میں عجیب سی چمک ابھر آئی۔
”کیا کہہ رہے ہو؟ ....نیلی حویلی کی طرف؟“
ریاست بے اختیار بولا۔
”آواز دھیمی رکھ۔“
عنصر نے آہستگی سے کہا۔
”میں بھی دیکھوں وہاں کون سے بھوت پریت ہیں۔ رات کو تیار رہنا۔“
ریاست نے بے بسی سے عنصر کی طرف دیکھا۔
وہ جانتا تھا عنصر کی گھٹی میں یہ بات بندھی ہے جس کام کو ایک بار کرنے کی وہ ٹھان لے اسے کر کے ہی دَم لیتا ہے۔ دس برس پہلے اسی ضدی طبیعت کے ہاتھوں مجبور ہو کر تو وہ سب کی مخالفت کے باوجود یونان گیا تھا۔
عنصر دروازہ بند کر کے مڑا ہی تھا کہ دروازے کی گھنٹی بج اٹھی۔ دروازہ کھولا تو سامنے ماسٹر حمید تھے۔ وہ مغرب کی نماز پڑھ کے گھر لوٹے تھے۔ دونوں میں مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا۔
”عنصر نے اپنے کمرے میں جا کر احتیاطاً پینٹ کی جیب میں ٹارچ ڈالی۔ آہستگی سے دروازہ بند کیا اور ریاست کی طرف چل پڑا۔۔۔
عنصر نے ریاست کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا تو اس کے دونوں پٹ کھلتے چلے گئے۔ ریاست اُس کا بے تابی سے منتظر تھا۔
”یار اس منحوس جگہ کی طرف جانے کا خیال دل سے نکال دے۔ اپنا نہیں تو میرا ہی خیال کر۔ میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔“
اس نے چھوٹتے ہی کہا۔
”پریشان کیوں ہو رہا ہے یار۔ ہم بچوں کو ساتھ لے کر نہیں جا رہے۔“
”گھبراﺅ مت ڈیئر۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ “
”میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی مصیبت چھو بھی نہیں سکتی۔“
ریاست نے دروازہ بند کیا اور دونوں چل پڑے۔ عشا کی نماز ہوتے ہی گاﺅں کی گلیوں میں سناٹا چھا گیا تھا۔ کبھی کبھار اِکادُکا شخص نظر آ جاتا۔ راستے میں ریاست نے عنصر کو وارث اور اکرم کی موت کا قصہ سنایا۔ نیلی حویلی سے جڑے تمام واقعات وہ بڑی تفصیل سے بتاتا جا رہا تھا۔ عنصر بڑے غور سے ریاست کی باتیں سن رہا تھا، اس کا ذہن ماضی میں چلا گیا۔ اس کا گاﺅں بہت خوشحال ہوا کرتا تھا اور چوپالوں میں رات گئے تک خاصی رونق لگی رہتی تھی مگر اب تو جیسے کسی کی بری نظر سب رونقوں کو کھا گئی تھی۔ اس کے لیے یہ سب باتیں بہت حیران کن تھیں کیونکہ اس کے یونان جانے سے پہلے ایسا کچھ نہیں تھا۔ جب وہ چھوٹا تھا تو اکثر اپنی اماں کے ساتھ نیلی حویلی جایا کرتا تھا۔
دونوں دوست اپنی ہی باتوں میں مگن جا رہے تھے حتیٰ کہ گاﺅں سے نکلنے کیلئے آخری گلی رہ گئی۔ گلی میں خاصا اندھیرا تھا۔
آخری گلی طے کرنے کے بعد اب وہ گائوں کی آبادی سے باہر آ چکے تھے۔ چوہدری عمردراز کی عالیشان حویلی ان کے سامنے تھی اور اس سے آگے تاحدنگاہ پھیلے کھیتوں کا دراز سلسلہ۔ دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کو آنکھوں ہی آنکھوں میں دیکھا اور چل پڑے۔ چوہدری عمردراز کی حویلی کے سامنے گزرے تو گیٹ بند کرتے ہوئے حویلی کے ملازم کی نظر اُن پر پڑگئی۔ وہ حیرانی سے ان کی طرف دیکھنے لگا کیونکہ عموماً رات کے وقت کھیتوں کی طرف جانے کی کوئی بھی ہمت نہیں کرتا تھا۔ اوپر سے اکرم اور وارث کے ہولناک واقعے کو بھی ابھی بمشکل دو روز گزرے تھے اس لیے اس کی حیرانی بجا تھا۔
بڑی بڑی مونچھوں والا ہٹاکٹا درازقد وہ شخص چوہدری عمردراز کا خاص ملازم ماکھا تھا۔ اس کا داہنا کان ایسے نظر آ رہا تھا جیسے کسی نے اس کو بری طرح چبا ڈالا ہو۔ ریاست کو تو وہ جانتا تھا البتہ عنصر اور وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی تھے۔ بہرحال ریاست نے اسے بتایا کہ عنصر ماسٹر حمید کا بیٹا ہے تو وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔ پھر اس نے ان کی اس طرف آمد کی وجہ پوچھی تو ریاست نے اسے بتایا کہ ہم چہل قدمی کیلئے نکلے ہیں۔
”یہ کون سا وقت اور جگہ ہے سیر کیلئے؟“
اس نے حیرانی مگر قدرے کرختگی سے پوچھا۔
ریاست سے کوئی جواب نہ بن پایا۔ بالآخر عنصر نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ”جناب ہم کچھ دُور جا کر واپس آ جائیں گے۔ گاﺅں میں کافی دیر بعد واپسی ہوئی ہے اس لیے کھانا ہضم کرنے کھیتوں کی طرف جا رہے ہیں۔“
ہٹے کٹے ملازم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ اسے گھور کر دیکھا جیسے نظروں ہی نظروں میں کھا جائے گا اور پھر دھڑام سے دروازہ بند کر دیا۔ غالباً اسے اُن دونوں کا رات کے اس وقت اس طرف آنا ناگوار گزرا تھا۔
چوہدری عمردراز کی حویلی سے روشنی نکل کر آس پاس کے مناظر کو منور کیے ہوئے تھی۔ دونوں نے کھیتوں کی طرف ابھی چند قدم ہی بڑھائے تھے کہ اچانک ہر طرف اندھیرا چھا گیا۔ چوہدری عمردراز کی حویلی مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب چکی تھی۔
”لگتا ہے چوہدری صاحب کا ملازم ناراض ہو گیا ہے۔ چوہدری صاحب کو پتا لگ گیا تو وہ بھی ناراض ہوں گے۔ واپس چلتے ہیں یار۔ “
ریاست نے عنصر کو منانے کی آخری کوشش کی۔
”مجھے کسی کے ناراض ہونے کی پروا نہیں۔“
عنصر نے کندھے اچکاتے ہوئے لاپروائی سے کہا۔
” ویسے بھی میرے پاس لائٹ کا انتظام ہے۔ ہو ہاہاہاہاہا“
عنصر نے بھوتوں کی طرح قہقہہ لگانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا اور جیب سے ٹارچ نکال کر روشن کر دی۔
”تم مجھے ڈرا کیوں رہے ہو؟“
ریاست نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
”میں صرف تمہارا ڈر بھگانے کی کوشش کر رہا ہوں۔“
عنصر نے مسکرا کر کہا۔
”بھوت پریت قصے کہانیوں میں اچھے لگتے ہیں۔ “
ریاست کے پاس اس کی بات ماننے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ عنصر نے ٹارچ مضبوطی سے تھامی اور نیلی حویلی کی طرف جانے والی پگڈنڈی پر قدم جما دیے۔ ریاست کو بھی مجبوراً اس کی تقلید کرنا پڑی۔ ٹارچ کی روشنی میں دونوں دوست فاصلہ طے کرنے لگے۔ تقریباً پانچ منٹ کی پیدل مسافت کے بعد بالآخر وہ اس چوکی تک پہنچ گئے جو چوہدری عمردراز نے نیلی حویلی سے کچھ فاصلے پر بنوائی تھی تاکہ یہاں تعینات گارڈ لوگوں کو اس طرف آنے سے روکیں مگر چوکی خالی تھی اور وہاں کوئی ملازم نظر نہیں آ رہا تھا۔
”یہاں تو کوئی نہیں ہے۔ کہاں گئے چوہدری عمردراز کے ملازم؟“
عنصر نے ریاست سے پوچھا تو اس نے کندھے اچکا دیے کیونکہ اس سوال کا جواب بھلا وہ کیسے دے سکتا تھا۔ عنصر نے ٹارچ کی روشنی تاریک نیلی حویلی پر ڈالی۔ دُور سے وہ کسی سیاہ ہیولے کی مانند نظر آ رہی تھی۔ غیرارادی طور پر اس نے نیلی حویلی کی طرف قدم اٹھا دیے۔
اس سے پہلے کہ وہ مزید آگے بڑھتا ریاست اس کی راہ میں حائل ہو گیا۔
”ہمارے درمیان طے ہوا تھا کہ نیلی حویلی کو دور سے ہی دیکھ کر واپس لوٹ جائیں گے۔“
ریاست نے اسے یاد دلاتے ہوئے کہا۔
”مجھے یاد ہے لیکن اسے ایک نظر دیکھ تو لینے دو۔“
یہ کہہ کر عنصر نے ریاست کو نظرانداز کر دیا اور آگے بڑھتا رہا۔ مجبوراً ریاست کو بھی ساتھ چلنا پڑا۔ وہ بہت ڈرا ہوا تھا۔ نیلی حویلی ان سے کچھ فاصلے پر رہ گئی۔ دونوں آگے بڑھ رہے تھے کہ معاً ایک آواز سن کر انہیں رکنا پڑا۔
وقفے وقفے سے فضا میں گھنگھرﺅں کی آواز تحلیل ہو رہی تھی۔
”چھن چھن....چھن چھن چھن....چھن چھن۔“
ریاست نے خوف کے مارے فوراً عنصر کا ہاتھ تھام لیا۔
”مم.... مم.... میں نے تمہیں منع کیا تھا ناں۔ لگتا ہے ہم بدروحوں کے علاقے میں آ گئے ہیں۔“
ریاست نے سخت گھبرائی آواز میں کہا۔
اگرچہ نئے مہینے کا چاند پیدا ہو چکا تھا لیکن ابھی وہ اس قابل نہیں تھا کہ رونمائی کرا سکے اس لیے ہر طرف تاریکی کا راج تھا۔ گھنگھرﺅں کی آواز پہلے ایک سمت سے سنائی دے رہی تھی پھر وقفے وقفے سے چاروں سمتوں سے آنے لگی مگر انہیں کوئی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
چونکہ ساون کا مہینہ تھا اس لیے حبس بھی خوب تھا۔ اوپر سے ایسے ڈراو¿نے ماحول کی موجودگی سے ریاست پسینے میں ڈوب گیا۔ وہ زیرلب آیت الکرسی پڑھ رہا تھا لیکن خوف کا عالم یہ تھا کہ اس کی آواز کبھی تیز ہو جاتی اور کبھی بالکل آہستہ۔
گھنگھرﺅں کی آواز مسلسل وقفے وقفے سے فضا میں تحلیل ہو رہی تھی۔
”چھن چھن....چھن چھن چھن....چھن چھن۔“
عنصر نے ٹارچ کو چاروں طرف گھما کر اچھی طرح دیکھ لیا لیکن اسے کچھ دکھائی نہ دیا۔ وہ اس بات پر حیران تھا کہ گھنگھرو¿ں کی آواز چاروں طرف سے آ رہی ہے تو انہیں پہننے والا نظر کیوں نہیں آ رہا۔ چند لمحے وہ ادھر ادھر ٹارچ گھماتا رہا لیکن لاحاصل۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گردوبیش کے ماحول کی پراسراریت نے اسے بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
”میں کہتا ہوں اب بھی وقت ہے بھاگ چلتے ہیں۔“
ریاست نے بیٹھی بیٹھی آواز میں کہا تو عنصر فوراً راضی ہو گیا۔ اس صورتحال میں بھلا وہ کر بھی کیا سکتا تھا۔ دونوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور واپس چل پڑے۔
پگڈنڈی پر واپسی کی راہ اختیار کرتے چند قدم ہی طے کیے تھے کہ انہیں محسوس ہوا جیسے دائیں جانب کھیتوں میں سفید کپڑوں میں ملبوس کھڑا کوئی انہیں گھور رہا ہے۔ عنصر نے ٹارچ فوراً ادھر کی لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔ تھوڑی دیر بعد انہیں محسوس ہوا جیسے ان کے بائیں جانب موجود کھیتوں میں بھی سفید کپڑوں میں ملبوس کوئی انہیں گھور رہا ہے۔
ریاست نے عنصر کو ادھر ادھر دیکھنے سے منع کر دیا۔ اس کے ذہن میں لوگوں کی یہ باتیں گھوم رہی تھیں کہ اگر ایسی مخلوق کو جتنی اہمیت دی جائے یہ اتنا ہی تنگ کرتی ہیں۔ اگر انہیں نظرانداز کر دیا جائے تو یہ جلد ہی پیچھا چھوڑ دیتی ہیں۔ عنصر نے بھی اس کے مشورے پر عمل کرنے میں غنیمت جانی اور دونوں تیزتیز قدموں سے سیدھے چلتے رہے لیکن مصیبت ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اسی عالم میں ان پر ایک اور افتاد نازل ہو گئی۔
اچانک انہیں محسوس ہوا جیسے گھنگھرو باندھے کوئی بڑی تیزی سے ان کے پیچھے آ رہا ہے۔ وہ پہلے ہی بہت گھبرائے ہوئے تھے۔ اس صورتحال سے ان کی دل کی دھڑکنیں بالکل ہی بے ترتیب ہو گئیں۔ جوں جوں آواز گھنگھرو¿ں کی آواز ان کے قریب آتی جا رہی تھی توں توں ان کا خون خشک ہوتا جا رہا تھا۔ حتی کہ آواز اتنے قریب سے آنے لگی کہ مجبوراً عنصر کو رک کر پیچھے دیکھنا پڑا لیکن خالی پگڈنڈی دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ گھبراہٹ سے دونوں بری طرح پسینے میں نہا چکے تھے۔ جیسے ہی وہ واپس جانے کے لیے مڑے تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔ سامنے کا منظر کسی بھی کمزور دل انسان کی رُوح پرواز کرنے کیلئے کافی تھا۔
اُن کے سامنے سیاہ لباس میں ملبوس ایک ہیولا کھڑا تھا جس کے لمبے لمبے بال اس طرح بکھرے ہوئے تھے کہ چہرہ ان کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ بالوں سے خون کے سرخ سرخ قطرے ٹپک رہے تھے اور وہ بالکل ساکت کھڑا تھا۔ گھنگھرو اسی نے باندھ رکھے تھے۔ عنصر کو چکر آ گیا۔ ٹارچ اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ بیہوش ہو کر زمین پر گرنے سے پہلے اس کے کانوں میں پڑنے والی آخری آواز ریاست کی دلدوز چیخ تھی۔
(جاری ہے) ۔۔
دوستو یہاں تک پڑھ کر بتائیں کہانی کیسی لگی ۔۔دوستو کمینٹ لازمی کریں تاکہ آپ کو کمنٹس میں اگلی قسط کا لنک دیا جا سکے ۔۔۔
نوٹ
آنے والی ہر نئی قسط کا لنک پچھلی قسط کے کمنٹ سیکشن میں سینڈ کر دیا جائے گا ۔۔۔اور اگر پھر بھی کسی کو اگلی قسط نہیں ملتی تو میری کسی بھی پوسٹ پر کمنٹ یا میسج کر کے مجھ سے اگلی قسط کا لنک مانگ سکتا ہے ۔۔۔یا پھر آپ ایسا کریں کہ مجھے فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کر دیں اس طرح جب بھی میں گروپ میں کوئی پوسٹ اپلوڈ کروں گى تو آپ کو نوٹیفیکیشن مل جایا کرے گا ۔۔۔۔نوٹ ۔۔آنے والی ہر نئی قسط کے آخر میں پچھلی تمام اقساط کا لنک دیا جائے گا تاکہ اگر آپ سے کوئی قسط رہ جاتی ہے تو آپ کو پڑھنے میں آسانی ہو ۔۔
پیاسی حویلی
قسط نمبر 4
کچھ لوگوں کے خیال میں نیلی حویلی پرانے وقتوں میں ایک انگریز افسر کی رہائش ہوا کرتی تھی جو بڑا ظالم تھا۔ وہ اپنے مخالفوں کو طرح طرح کی اذیتیں دے کر قتل کرتا اور حویلی کے اندر موجود کنویں میں پھینک دیتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کنویں میں سے پیپل کا درخت نکل آیا۔ اب اس کنویں کی بدروحیں چمگادڑوں کی شکل میں اس پر بسیرا کیے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگ نیلی حویلی کے آسیب کے پیچھے چوہدری عمردراز کی ماں اور بیوی کی پراسرار موت کو قرار دیتے جو اب بھوت بن چکی ہیں اور آس پاس بھٹکنے والے انسانوں کو پریشان کرتی ہیں اور جو ان کے قریب جاتا ہے اسے مار ڈالتی ہیں جیسا کہ اکرم اور وارث کے ساتھ ہوا۔
چوہدری عمردراز نے اپنے تئیں گاﺅں والوں کو نیلی حویلی کے آسیب سے محفوظ رکھنے کیلئے اس کے چاروں طرف عمل کروا کر لال تعویذ کا حصار قائم کروا رکھا تھا۔ اس مقصد کیلئے اس نے خصوصی طور پر کہیں سے کسی سفلی عامل کو بلایا تھا۔ عامل نے نیلی حویلی کے چاروں طرف لکڑیاں ٹھونک کر لال تعویذ باندھ دیا اور تاکید کی تھی کہ کوئی بھی اس تعویذ کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرے۔
اس نے تنبیہ کی تھی کہ اگرچہ اس نے لال تعویذ کے حصار میں گن بدروحوں کو قید کر دیا ہے لیکن اگر کسی نے اس حصار کو پھلانگ کر حویلی کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی تو پھر انجام ٹھیک نہیں ہو گا۔ کچھ لوگ اس واقعے کو عامل کی تاکید کی خلاف ورزی کا نتیجہ بھی قرار دے رہے تھے۔ غرض جتنا منہ اتنی باتیں کے مصداق اکرم اور وارث کی دہشت ناک موت کی ہر کوئی اپنی اپنی توجیہہ پیش کرنے میں مصروف تھا۔
ادھر گاؤں والوں کی چہ مگوئیوں کے برعکس تھانیدار احسان اللہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھا۔ اس نے تفتیشی ٹیم کے چہروں پر شواہد تلاش کرنے میں ناکامی کے آثار دیکھے تو اس کے ماتھے پر فکرمندی کی شکنیں نمودار ہو گئیں۔ اس نے موجو کسان کو بلایا اور اس کا بیان قلم بند کر لیا۔ اس کے حواس اب کافی حد تک بحال ہو چکے تھے۔ چونکہ اس نے سب سے پہلے لاشوں کو دیکھا تھا اس لیے سب سے پہلے اسی کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ کچھ لوگوں نے یہ گواہی بھی دی کہ انہوں نے وارث اور اکرم کو رات کے وقت گاﺅں سے باہر جاتے دیکھا تھا۔
چونکہ وہ دونوں نشئی تھے اس لئے اس بات کو تقویت ملنے لگی کہ وہ دونوں یقینا نشہ کرنے کے لیے ہی نیلی حویلی میں گئے تھے جہاں موت منہ کھولے ان کی منتظر تھی۔ موجو کسان سے لے کر چوہدری عمردراز تک سب نے یہی بیان دیا کہ یہ کارستانی نیلی حویلی کی بدروحوں کی ہے تاہم حقائق جاننے کے لیے تھانیدار احسان اللہ نے لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا۔ لوگوں کے بیانات وہ پہلے ہی قلم بند کر چکا تھا۔ اس نے چوہدری عمردراز سے نیلی حویلی کے اندر جانے کی خواہش کا اظہار کیا۔
وہ اس حویلی کو ایک نظر دیکھنا چاہتا تھا جس سے گاﺅں والے اتنے دہشت زدہ تھے اور جہاں ان کے بقول بھوتوں اور بدروحوں نے بسیرا کر رکھا ہے۔ چوہدری عمردراز اسے حویلی کے اندر لے گیا۔ وہاں نشہ آور سگریٹوں کے ادھ جلے ٹوٹوں کو دیکھ کر اسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ وہ دونوں واقعی رات کو یہاں نشہ کرنے آئے تھے۔ منشیات کی بدبو کے اثرات ابھی تک حویلی کی فضا میں موجود تھے۔ لیکن سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ جس حویلی میں ایک رات پہلے موت کا رقص ہوا تھا وہاں اب خون کا ایک قطرہ بھی نظرنہیں آ رہا تھا۔
رات کو ہونے والی شدید بارش کی وجہ سے حویلی کی چھت ابھی تک ٹپک رہی تھی اور بارشی پانی نے اس کے صحن کو بھی گیلا کر دیا تھا۔ دروازے کے باہر جس جگہ اکرم کی لاش پڑی تھی وہاں پر بھی بارش سے خون کے قطرے دھل چکے تھے۔ چوہدری عمردراز کے بقول حویلی چونکہ عرصہ دراز سے بند تھی اس لیے اس نے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانا مناسب نہ سمجھا۔ یہاں بھی ثبوتوں کی تلاش میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بند گلی میں کھڑا تصور کر رہا تھا۔ اس نے جانے سے پہلے نیلی حویلی پر ایک نظر ڈالی۔ اس کی پراسراریت اور وحشت ناکی کو اس نے بھی محسوس کیا۔ لیکن وہ اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ یہ سب بدروحوں کی کارستانی ہے۔ گاﺅں والوں کی زبانی سنے حویلی کے واقعات اور گواہیوں نے اسے مخمصے میں ڈال دیا تھا۔
چونکہ حویلی کا مالک چوہدری عمردراز تھا اس لیے تھانیدار احسان اللہ نے دریافت کیا کہ اس نے یہ حویلی کیوں چھوڑی۔ چوہدری عمردراز نے بھی اسے حویلی کی تاریخ اور اس سے جڑے بدروحوں کے واقعات بڑی تفصیل سے بتائے۔ اس نے اسے خود پر اور اپنے خاندان پر بیتنے والے مصائب سے بھی آگاہ کیا۔ تھانیدار تمام واقعات خاموشی سے سنتا رہا۔
جب چوہدری عمردراز چپ ہوا تو تھانیدار احسان اللہ کی پیشانی پر حیرت اور پریشانی کی ملی جلی شکنیں مزید گہری ہو چکی تھیں۔ اس کے لیے ان تمام باتوں پر یقین کرنا مشکل تھا لیکن چوہدری عمردراز اور گاﺅں والوں نے جتنے وثوق سے یہ باتیں بتائی تھیں انہیں نظرانداز کرنا بھی اس کے لیے آسان نہ تھا۔ چونکہ وہ اپنا کام مکمل کر چکا تھا اس لئے اب یہاں مزید ٹھہرنے کی اس کے پاس کوئی وجہ نہیں تھی۔ اُس نے چوہدری عمردراز سے الوداعی مصافحہ کیا اور پولیس ٹیم کے ساتھ واپس چلا گیا۔
وارث اور اکرم کی تجہیز و تکفین کے اگلے روز صبح سویرے سارا گاﺅں چوہدری عمردراز کی حویلی میں اُمڈ آیا اور وہاں پنچایت بیٹھ گئی جس میں روشن نگر گاو¿ں کے بزرگوں اور جوانوں سمیت تمام لوگ اکٹھے تھے لیکن ان سب کے چہرے اترے ہوئے تھے۔ سب گزشتہ روز کے واقعے کے سحر میں ابھی تک مبتلا تھے۔ دلوں میں ٹھہرا خوف اور آنکھوں میں اُترا ڈر ان کی ظاہری اور باطنی کیفیت بخوبی بیان کر رہا تھا۔ اسی کا اثر تھا کہ پنچایت پر خاموشی کی گھٹائیں چھائی تھیں۔
بالآخر ایک بزرگ نے سکوت توڑتے ہوئے کہا:
”چوہدری صاحب ! گاﺅں میں زندگی گزارنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بہت سے لوگ گاﺅں چھوڑنے کا سوچ رہے ہیں۔ نیلی حویلی کے خوف نے سب کا جینا حرام کر دیا ہے۔آپ ہی بتائیں اس صورتحال میں ہم کیا کریں؟“
”میرے ہوتے ہوئے تم لوگوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ تم لوگوں کی حفاظت میری ذمہ داری ہے اور میں یہ ذمہ داری ہر صورت پورا کروں گا۔“
چوہدری عمردراز کی بات سن کر پنچایت پر چند لمحے کے لیے دوبارہ خاموشی چھا گئی۔
’
”وہ تو ٹھیک ہے چوہدری صاحب! مگر گاﺅں کے دو جوانوں کی موت سے سب ڈر گئے ہیں۔ آپ تو جانتے ہیں گاﺅں والوں کی زیادہ تر زمینیں نیلی حویلی کے اردگرد ہیں۔ انہی زمینوں سے ان کا گزراوقات ہوتا ہے۔ پہلے سب رات کو نیلی حویلی کے قریب گزرنے سے خوف کھاتے تھے لیکن اب تو دن کو بھی ڈر لگتا ہے۔ لوگ کام نہیں کریں گے تو کھائیں گے کہاں سے؟“
اس بار ایک اور بوڑھے نے لب کشائی کی۔
”دیکھ چاچا! میں نے آپ سب لوگوں کو پہلے کبھی اکیلا چھوڑا ہے جو اب چھوڑوں گا۔ اس مسئلے کا حل بھی ہے میرے پاس۔“
چوہدری عمردراز نے اپنی بڑی بڑی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
”اور وہ یہ کہ میں نیلی حویلی کی طرف جانے والے راستے پر چوکی بنوا دیتا ہوں جہاں میرے دو ملازم مستقل بیٹھیں گے اور جو کوئی جانے یا انجانے میں ادھر جانے کی کوشش کرے گا اسے روک دیا کریں گے۔ اس سے کم از کم یہ تو فائدہ ہو گا کہ اس طرح کا وحشت ناک واقعہ دوبارہ نہیں ہو گا۔“
پنچایت پر چند لمحوں کے لیے پھر سکوت چھا گیا۔ تمام لوگوں کی نگاہوں کا مرکز چوہدری عمردراز کی ذات تھی۔
”ہم نیلی حویلی کی بدروحوں سے لڑ نہیں سکتے لیکن اس طریقے سے ہم اپنے جوانوں اور لوگوں کی زندگیاں بچا سکتے ہیں۔“
چوہدری عمردراز کی بات سن کر لوگ آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔ اچانک مجمعے سے آواز بلند ہوئی :
”چوہدری عمر دراز....!“
اور سب لوگوں نے ہاتھ اٹھا کر بلند آواز سے ”زندہ باد“ کہہ کر نعرے کا جواب دیا۔ تحسین و آفرین پر مشتمل نعروں کا سلسلہ کچھ دیر جاری رہا۔
چوہدری عمردراز نے ہاتھ بلند کیے تو مجمع خاموش ہو گیا۔
”جب تک۔“ اس کی آواز گونجی۔
”وارث اور اکرم کے خاندانوں کے روزگار کا مستقل انتظام نہیں ہو جاتا تب تک ان کی کفالت میری ذمہ داری ہے۔“
”چوہدری عمردراز....!“
مجمعے سے پھر نعرہ بلند ہوا اور ”زندہ باد“ کے جواب سے پوری حویلی گونجنے لگی۔
چوہدری عمردراز نے آج پھر گاﺅں والوں کے دل جیت لیے تھے۔ لوگ مطمئن ہو گئے کہ پہریداروں کے ہوتے ہوئے انہیں اب مزید ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر کوئی وہاں سے گزرتا ہے تو کم از کم ان کے آس پاس چوہدری عمردراز کے ملازم تو ہوں گے۔ انہیں یقین تھا اس طرح اب کوئی نیلی حویلی کے عذاب کا شکار نہیں ہو گا۔
اُسی روز رات کو چوہدری عمردراز کی حویلی پر کچھ لوگ جمع تھے۔ عموماً گاﺅں کی زیادہ تر بتیاں عشا کی نماز کے بعد بجھ جاتی تھیں لیکن اس کی حویلی پر رونق تھی۔ ان میں سے زیادہ تر وہ لوگ تھے جن کی زمینیں نیلی حویلی کے اردگرد واقع تھیں اور وہ حویلی کے خوف سے اپنی زرخیز زمینیں نہایت کم قیمت پر بھی اسے بیچنے کیلئے آئے تھے۔ اگرچہ چوہدری عمردراز نے انہیں آج تحفظ فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن پھر بھی لوگ نیلی حویلی کی نحوست سے پیچھا چھڑانے کے لیے اپنی زمینیں اسے بیچنا چاہتے تھے۔
چوہدری عمردراز اس سلسلے میں خاصا سخی واقع ہوا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور اِن پریشان حال لوگوں سے اُن کی زمینیں خریدنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا لیکن اس کی کرسی خالی تھی۔ صبح پنچایت کے بعد سے وہ کسی کام کے سلسلے میں شہر گیا ہوا تھا۔ اس کی عدم موجودگی میں لوگ سرگوشیوں میں مصروف تھے۔ اُن کی گفتگو کا موضوع گزشتہ رات پیش آنے والا خوفناک واقعہ ہی تھا۔
”سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ دونوں پاگل نیلی حویلی گئے کیوں؟ “
چوہدری عمردراز کے ایک ملازم نے سرگوشی کی۔
”جب نشے کا بھوت سر پر سوار ہو تو پھر کہاں کی سوچ میرے بھائی۔“
ایک دیہاتی نے اس کی بات کا جواب دیا۔
”موت کا بلاوا آتا ہے تو پھر انسان کے قدم نہیں رکتے۔“ دوسرا ملازم بولا تو سب اس کی بات کی تائید میں سر ہلانے لگے۔
”یہ تو ہماری خوش قسمتی ہے چوہدری عمر دراز جیسا فرشتہ اس گاﺅں میں رہتا ہے ورنہ نجانے کیا ہوتا۔“
اسی ملازم نے دوبارہ کہا۔
”سولہ آنے ٹھیک کہتے ہو بھائی۔“
ایک دیہاتی اس کی بات کی تائید میں سر ہلاتے ہوئے بولا۔
”مجھے میری زمین کے پیسے تو پورے ملیں گے ناں۔“
ایک بوڑھے دیہاتی نے کانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔
”بابا جی! آپ بے فکر ہو جائیں چوہدری صاحب کبھی کسی کا حق نہیں رکھتے۔ آپ یہ سوچیں آسیب والی جگہ خرید کر کون اپنے پیسے برباد کرتا ہے لیکن چوہدری صاحب پھر بھی آپ کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں۔ اس لیے بے فکر ہو جائیں آپ کو پیسے پورے ہی ملیں گے۔“
چوہدری عمردراز کے ملازم نے جواب دیا۔
”اللہ اُس کی عمردراز کرے بیٹا۔“
بوڑھے نے کانپتی آواز میں دعا دی۔
اسی دوران چوہدری عمردراز حویلی میں واپس لوٹ آیا۔ اُسے بتایا گیا کہ لوگ اپنی زمینیں بیچنے کے لیے آئے ہیں تو اس نے اپنے خاص ملازم ماکھے کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں سے معاملات طے کر لے اور خود سونے کیلئے چلا گیا۔ غالباً وہ لمبا سفر کر کے آیا اس لیے تھکا ہوا تھا۔ ماکھے نے لوگوں سے ان کی زمینوں کے کاغذات لیے اور اگلے دن صبح انہیں پیسوں کی ادائی کا کہہ دیا۔ معاملات طے ہونے کے بعد لوگ آہستہ آہستہ گھر کی راہ لینے لگے۔
نیلی حویلی گاﺅں والوں کیلئے ڈراﺅنے خواب کی مانند بن چکی تھی۔ اس کے اردگرد واقع اپنی زرخیز زمینیں کم قیمت پر فروخت کرکے انہیں اطمینان تھا کہ اب ان کا واسطہ کبھی نیلی حویلی سے نہیں پڑے گا لیکن یہ ان کی خام خیالی تھی۔
(جاری ہے)
’اگلی قسط آج رات 9 بجے ۔۔
دوستو یہاں تک پڑھ کر بتائیں کہانی کیسی لگی ۔۔دوستو کمینٹ لازمی کریں تاکہ آپ کو کمنٹس میں اگلی قسط کا لنک دیا جا سکے ۔۔۔
نوٹ
آنے والی ہر نئی قسط کا لنک پچھلی قسط کے کمنٹ سیکشن میں سینڈ کر دیا جائے گا ۔۔۔اور اگر پھر بھی کسی کو اگلی قسط نہیں ملتی تو میری کسی بھی پوسٹ پر کمنٹ یا میسج کر کے مجھ سے اگلی قسط کا لنک مانگ سکتا ہے ۔۔۔یا پھر آپ ایسا کریں کہ مجھے فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کر دیں اس طرح جب بھی میں گروپ میں کوئی پوسٹ اپلوڈ کروں گى تو آپ کو نوٹیفیکیشن مل جایا کرے گا ۔۔۔۔نوٹ ۔۔آنے والی ہر نئی قسط کے آخر میں پچھلی تمام اقساط کا لنک دیا جائے گا تاکہ اگر آپ سے کوئی قسط رہ جاتی ہے تو آپ کو پڑھنے میں آسانی ہو ۔۔
پیاسی حویلی
قسط نمبر 3۔
انتہائی خوفناک منظر دیکھ کر اس کا خون خشک ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ ہوش کی وادی میں دوبارہ قدم رکھتا، فضا میں یکدم ’دھب‘ کی آوازگونجی اور اکرم کی گردن ایک جھٹکے سے اُڑ کر دور جا گری۔ وارث اندر بیٹھے یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ مشعل کی ہلکی ہلکی روشنی میں اُس نے دیکھا اکرم کا سر دھڑ کے اُوپر سے غائب ہو چکا تھا اور گردن سے خون کا فوارہ اُبل رہا تھا۔ اس کی آواز بھی نہیں نکلی تھی۔ اس کا جثہ دھڑام سے ایک جانب جا گرا، تھوڑی دیر تڑپا اور ساکت ہو گیا۔ اتنا دہشت ناک منظر دیکھ کر وارث کی زوردار چیخ نکلی۔ اس کی گھگھی بندھ گئی۔ وہ بری طرح سے دہشت زدہ ہو چکا تھا۔ اس نے پوری قوت سے چیخیں مارنے کی کوشش کی مگر آواز اس کا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ اس کے حلق سے عجیب و غریب سی غرغراہٹ نکل رہی تھی۔
مرکزی دروازے کے درمیان اکرم کی سرکٹی لاش پڑی تھی۔ گرتے پڑتے وارث نے حویلی کے اُوپر جاتے زینے کی طرف جانے کی کوشش کی مگر لڑکھڑا کر گر پڑا۔ نشے اور خوف سے وارث کی حالت بے حد خراب ہو چکی تھی۔ اکرم کی موت کا دہشت ناک منظر دیکھ کر اس کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہو چکے تھے۔ وہ اندھیرے میں ایسے ہاتھ پاﺅں مار رہا تھا جیسے اپنے آپ کو کسی غیرمرئی مخلوق سے بچانے کی کوشش کر رہا ہو مگر وہاں کوئی نہیں تھا۔ وارث نے ایک بار پھر دروازے کی سمت دیکھا۔ دروازے کے بیچ اکرم کی بغیر سر کے لاش پڑی تھی۔ اُس نے ہمت جمع کی اور بمشکل زینے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا اور سیڑھیاں طے کرنے لگا۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد وہ پیچھے مڑ کر آنکھیں پھاڑ کر اندھیرے میں دیکھتا کہیں اس کے پیچھے کوئی آ تو نہیں رہا۔ ایک کے بعد ایک وہ زینے طے کرتا چلا گیا۔ اوپر پہنچ کر اس نے سیدھا کھڑا ہونے کی کوشش کی مگر لڑکھڑا کر دائیں جانب موجود کمرے کے دروازے سے جاٹکرایا۔ اُس کی ٹکر سے دروازہ ایک جھٹکے سے کھلا اور وہ فرش پر گر پڑا۔ اس نے جلدی سے گھسیٹ کر اپنے آپ کو اندر کیا اور کمرے میں ایک کونے میں جا کر بیٹھ گیا۔
چاند بادلوں کی اوٹ سے نکل آیا تھا اور روشندان سے اس کی نیلگوں روشنی کمرے میں پڑ رہی تھی۔ پسینے سے وارث کے سارے کپڑے بھیگ چکے تھے۔ اُس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا۔ اس نے دونوں بازو گھٹنوں پر بچھا کر سر ان پر رکھ دیا اور گہری گہری سانسیں لے کر اپنے آپ کو پُرسکون رکھنے کی کوشش کی۔
اکرم کی دہشت ناک موت اس کے حواس پر چھائی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے اپنا سر اوپر اٹھایا تو اسے رُوح جسم سے سرکتی محسوس ہوئی اور اس کا جسم یکدم سرد پڑ گیا۔ اُس کے سامنے سیاہ لباس میں ملبوس لمبے لمبے بالوں والا ایک ہیولا کھڑا تھا۔ بڑے بڑے بالوں کی وجہ سے اس کا پورا چہرہ تو نظر نہیں آ رہا تھا البتہ اس کی شعلے برساتی لال لال آنکھیں اسی پر جمی تھیں۔ ہیولے کے ہاتھ میں ایک بڑا سا کلہاڑا تھا جس سے خون کے قطرے ٹپک رہے تھے۔
"
وارث نے اُسے دیکھ کر زور سے جھرجھری لی جیسے پرندہ ذبح ہونے سے پہلے آخری بار پھڑپھڑاتا ہے۔ ہیولے نے بھاری بھرکم کلہاڑے کو دونوں ہاتھوں سے تھام کر اپنے سر سے بلند کیا۔ اگلے ہی لمحے فضا میں پھر ’دھب‘ کی آواز گونجی اور وارث کی گردن تن سے جدا ہو گئی۔ اس کا بغیر سر کے بدن کچھ دیر تڑپتا رہا اور پھر ٹھنڈا ہو گیا۔
ہیولے نے وارث کا دھڑ اپنے کندھے پر رکھا۔ جھک کر بالوں سے پکڑ کر اس کا سر اٹھایا اور سیڑھیاں اُترنے لگا۔ صحن سے اکرم کی لاش غائب ہو چکی تھی۔ ہیولا بھاری بھرکم قدموں سے آہستہ آہستہ چلتا ہوا قبر کے پاس پہنچا تو گڑگڑاہٹ کی تیز آواز کیساتھ سل ایک طرف ہٹنے لگی۔
قبر پوری طرح کھل چکی تو ہیولا وارث کے دھڑ اور سر کو لے کر اس میں اُتر گیا۔ اس کے قبر میں غائب ہوتے ہی فضا میں پھر گڑگڑاہٹ کی تیز آواز گونجی۔ سل سرکنے لگی اور قبر آہستہ آہستہ بند ہو گئی۔ قبر بند ہوتے ہی ہواﺅں کا شور بھی رفتہ رفتہ تھم گیا اور موسلادھار بارش شروع ہو گئی۔
موجُو کسان نے فجر کی نماز ادا کی اور مسجد سے باہر آ کر آسمان کی طرف دیکھا۔ سرخ بادلوں نے آسمان کو ڈھانپ رکھا تھا۔ برسات چونکہ دھان کی فصل کاشت کرنے کے لیے بہترین موسم ہوتا ہے اس لیے اسے فکر دامن گیر تھی کہ بوندیں گرنے سے پہلے پہلے بوائی کا بوجھ سر سے اتار لے۔ ایک بار یہ کام نمٹ گیا تو پھر چاہے جتنی مرضی بارش ہوتی رہے اس کی ذرا پروا نہیں کیونکہ بارش کا پانی دھان کی فصل کے لیے آب حیات کی طرح ہوتا ہے۔ بارش کی صورت میں کسان آبپاشی کرنے کی زحمت سے بھی بچ جاتا ہے۔ اس نے تیزتیز قدموں سے کھیتوں کی راہ لی۔ فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد کھیتوں میں جانا اس کا روز کا معمول تھا۔ گاﺅں سے نکل کر اُس نے کھیتوں میں جانے والی پگڈنڈی پر قدم رکھے اور رفتار تیز کر لی۔
اپنی ہی دُھن میں مگن وہ چلتا جا رہا تھا۔ نیلی حویلی کے قریب پہنچا تو ٹھٹک کر رک گیا۔ اسے ایسے لگا جیسے زمین نے اُس کے پاﺅں پکڑ لیے ہیں۔ نیلی حویلی کے ساتھ موجود پیپل کے درخت کے نیچے خون بکھرا ہوا تھا۔ اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور لہو رگوں میں منجمد ہو گیا۔ دو لاشیں درخت پر لٹک رہی تھیں۔ وارث اور اکرم کی سرکٹی لاشیں۔ ان کے سر درخت کے تنے کے ساتھ زمین پر پڑے تھے۔ موجُو کے حلق سے زوردار چیخ نکلی اور وہ وہیں غش کھا کر گر پڑا۔ جیسے تیسے کر کے اس نے اپنے حواس بحال کیے اور واپس گاﺅں کی طرف دوڑ لگا دی۔ گاﺅں میں داخل ہوا تو اسے بدحواسی کے عالم میں یوں بھاگتے دیکھ کر چائے کے کھوکھے پر کھڑے لوگوں نے اسے روک لیا۔
”موجو! کیا ہوا ہے تمہیں؟خیر تو ہے سب۔“
ایک ادھیڑعمر شخص نے اسے اپنے پاس بنچ پر بٹھاتے ہوئے پوچھا اور ہاتھ کے اشارے سے پانی کا گلاس منگوایا۔ خوف کی وجہ سے موجو سے ٹھیک طرح سے بولا نہیں جا رہا تھا۔ الفاظ جیسے اس کے گلے میں پھنس گئے تھے۔ اس کو اتنا خوفزدہ دیکھ کر ماجرا جاننے کے لیے لوگوں کا رش جمع ہونے لگا۔ پانی کا گلاس آیا تو اسی ادھیڑعمر شخص نے اپنے ہاتھوں سے اسے چند گھونٹ پلائے۔ پانی پی کر موجو کے اوسان کچھ بحال ہوئے۔
”وہ .... وہ.... نیلی حویلی۔“
موجو سخت گھبرائی آواز میں چند الفاظ ہی بول پایا، بڑی سے قے کی اور ایک بار پھر غش کھا کر ایک طرف لڑھک گیا۔ اسے اس قدر دہشت زدہ دیکھ کر آس پاس کھڑے لوگ بھی سہم گئے۔ اسے فوری طور پر اسے بنچ پر ہی لٹا دیا گیا، منہ پر پانی کے چھینٹے مارے تو اس نے دوبارہ آنکھیں کھول دیں۔ اس بار اس نے جیسے تیسے سارا واقعہ سنا دیا۔
موجو کی بات جنگل کی آگ کی طرح پھیلی اور پورے گاﺅں میں کہرام مچ گیا۔ لوگ جوق در جوق نیلی حویلی کی طرف جانے لگے۔ چوہدری عمردراز تک بات پہنچی تو وہ بھی دوڑا چلا آیا۔نیلی حویلی کے ساتھ واقع پیپل کے درخت کے اردگرد ایک جم غفیر تھا۔ اس نے فوری طور پر گاو¿ں کے تھانے میں فون کر کے واقعے کی اطلاع دی۔ جس پر پولیس سٹیشن کا انچارج تھانیدار احسان اللہ نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گیا۔ اتنا دہشت ناک منظر دیکھ کر وہ بھی لرز اٹھا۔
اس نے سب پہلے لوگوں کو جائے حادثہ سے پیچھے ہٹایا اور اس مقام کو سیل کر دیا۔ اس کے ساتھ آئے ماہر تفتیشی شواہد جمع کرنے میں مصروف ہو گئے۔ تھانیدار احسان اللہ کی ہدایت پر لاشوں کو نیچے اتار لیا گیا۔ اس نے بغور لاشوں کا جائزہ لیا۔ لاشوں کے سر درخت کے تنے کے ساتھ پڑے تھے۔ قتل کی اتنی لرزہ خیز واردات اس نے آج تک نہیں دیکھی تھی۔
جائے وقوعہ کا چپہ چپہ چھاننے کے باوجود تھانیدار احسان اللہ اور اس کے تفتیشی کسی بھی قسم کے ثبوت کو ڈھونڈنے میں ناکام رہے جس سے یہ پتہ چل سکے کہ اتنی خوفناک واردات کرنے والا مجرم کون ہے۔ گاﺅں والے کرائم سین سے باہر کھڑے چہ مگوئیوں میں مصروف تھے۔
(جاری ہے)
اگلی قسط آج رات 9 بجے ۔۔
دوستو یہاں تک پڑھ کر بتائیں کہانی کیسی لگی ۔۔دوستو کمینٹ لازمی کریں تاکہ آپ کو کمنٹس میں اگلی قسط کا لنک دیا جا سکے ۔۔۔
نوٹ
آنے والی ہر نئی قسط کا لنک پچھلی قسط کے کمنٹ سیکشن میں سینڈ کر دیا جائے گا ۔۔۔اور اگر پھر بھی کسی کو اگلی قسط نہیں ملتی تو میری کسی بھی پوسٹ پر کمنٹ یا میسج کر کے مجھ سے اگلی قسط کا لنک مانگ سکتا ہے ۔۔۔یا پھر آپ ایسا کریں کہ مجھے فرینڈ ریکویسٹ سینڈ کر دیں اس طرح جب بھی میں گروپ میں کوئی پوسٹ اپلوڈ کروں گا تو آپ کو نوٹیفیکیشن مل جایا کرے گا ۔۔۔۔نوٹ ۔۔آنے والی ہر نئی قسط کے آخر میں پچھلی تمام اقساط کا لنک دیا جائے گا تاکہ اگر آپ سے کوئی قسط رہ جاتی ہے تو آپ کو پڑھنے میں آسانی ہو ۔۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Lahore
