30/05/2026
Jahanzaib_khan_PTI
lOVE YOU PAKISTAN AND LOVE YOU IMRAN KHAN PTI
30/05/2026
30/05/2026
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
27/05/2026
Mariyam Nawaz interview leak ❤️❤️
Sanamjavaidkhan About Shabaz shariff 🤪 # Javaid khan
22/05/2026
یہ سائفر کا اردو ترجمہ ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ پاکستانی سچ جان سکیں
پڑھیں اور آگے پھیلا دیں
یہ ایک (نان-او ٹی پی) سائفر پیغام کا لفظ بہ لفظ متن (Plain Language Copy) ہے۔
اسے رجسٹریشن بک میں Government Departments Code کے پیرا 342 کے مطابق درج کیا جائے گا، اور اسے محفوظ طریقے سے ایک سیل بند لفافے میں ایسے افسر کی ذاتی تحویل میں رکھا جائے گا جو بریگیڈیئر سے کم رینک کا نہ ہو۔ اس پر کسی غیر متعلقہ گفتگو یا تبصرے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ لفافہ مہر سلامت حالت میں محفوظ رکھا جائے گا اور جب تک ضرورت نہ ہو اسے نہ کھولا جائے گا اور نہ ہی کسی غیر مجاز شخص کو تحریری خصوصی اجازت کے بغیر دیا جائے گا۔
یہ ایک جوابدہ / نمبر شدہ دستاویز ہے۔
اس ٹیلیگرام کی فوٹو کاپی بنانا سختی سے ممنوع ہے۔
C.C. No. L-0678
کاپیاں
FROM
DTO: 072050 LT 080650 PST
TO
واشنگٹن
PAREP FOREIGN ISLAMABAD
TOT: 08 NIL
RPTD TO
TOR: 080800
NO/DATE
89 — 07 مارچ 2022
ITOD: 082000
برائے صرف فارن سیکریٹری
بذریعہ سفیر
آج میری ملاقات جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ، ڈونلڈ لو، کے ساتھ دوپہر کے کھانے پر ہوئی۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ لیس ویگیری بھی موجود تھے۔ DM، DA اور کونسلر قاسم بھی میرے ساتھ شامل تھے۔
SECRET
Copy No.
2۔ گفتگو کے آغاز میں ڈون نے یوکرین بحران پر پاکستان کے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ:
“یہاں اور یورپ میں لوگ کافی پریشان ہیں کہ پاکستان یوکرین کے معاملے پر اتنا جارحانہ غیر جانبدار مؤقف کیوں اختیار کر رہا ہے، اگر ایسی پوزیشن ممکن بھی ہے۔ ہمیں یہ غیر جانبدار مؤقف نہیں لگتا۔”
انہوں نے بتایا کہ NSC کے ساتھ اپنی گفتگو میں:
“یہ بات کافی واضح محسوس ہوتی ہے کہ یہ وزیر اعظم کی پالیسی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں یہ:
“اسلام آباد میں جاری سیاسی ڈراموں سے جڑا ہوا ہے، جس کی وزیر اعظم کو ضرورت ہے اور وہ عوام کے سامنے ایک مخصوص تاثر دینا چاہتے ہیں۔”
میں نے جواب دیا کہ یہ صورتحال کی درست تشریح نہیں ہے کیونکہ یوکرین پر پاکستان کا مؤقف مختلف اداروں کے درمیان تفصیلی مشاورت کا نتیجہ تھا۔ پاکستان نے کبھی عوامی سطح پر سفارت کاری نہیں کی۔ سیاسی جلسے میں وزیر اعظم کے ریمارکس اسلام آباد میں یورپی سفیروں کے اس عوامی خط کے ردعمل میں تھے جو سفارتی آداب اور پروٹوکول کے خلاف تھا۔ ایسی صورتحال میں پاکستان یا امریکہ کا کوئی بھی سیاسی رہنما عوامی جواب دینے پر مجبور ہوتا۔
3۔ میں نے ڈون سے پوچھا کہ کیا امریکہ کے سخت ردعمل کی وجہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پاکستان کا ووٹ سے غیر حاضر رہنا تھا؟
انہوں نے واضح طور پر نفی میں جواب دیا اور کہا کہ اصل مسئلہ وزیر اعظم کا ماسکو کا دورہ تھا۔
انہوں نے کہا:
“میرا خیال ہے کہ اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے تو واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کا دورہ وزیر اعظم کا ذاتی فیصلہ سمجھا جا رہا ہے۔ ورنہ میرے خیال میں آگے معاملات مشکل ہوں گے۔”
وہ کچھ دیر رکے پھر کہا:
“میں نہیں کہہ سکتا کہ یورپ اسے کیسے دیکھے گا لیکن میرا اندازہ ہے کہ ان کا ردعمل بھی ایسا ہی ہوگا۔”
اس کے بعد انہوں نے کہا:
“سچ کہوں تو میرے خیال میں وزیر اعظم کی تنہائی یورپ اور امریکہ کی طرف سے بہت بڑھ جائے گی۔”
ڈون نے مزید تبصرہ کیا کہ بظاہر وزیر اعظم کا ماسکو دورہ بیجنگ اولمپکس کے دوران پلان کیا گیا تھا اور ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نے پیوٹن سے ملاقات کی کوشش کی جو کامیاب نہ ہوئی، پھر ماسکو جانے کا یہ خیال بنایا گیا۔
4۔ میں نے ڈون کو بتایا کہ یہ مکمل طور پر غلط معلومات اور غلط تاثر ہے۔ ماسکو کا دورہ کم از کم چند سال سے زیر غور تھا اور یہ ایک ادارہ جاتی عمل کا نتیجہ تھا۔ میں نے زور دیا کہ جب وزیر اعظم ماسکو جا رہے تھے تب روس نے یوکرین پر حملہ شروع نہیں کیا تھا اور پرامن حل کی امید موجود تھی۔
میں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ اسی دوران یورپی ممالک کے رہنما بھی ماسکو جا رہے تھے۔
ڈون نے مداخلت کرتے ہوئے کہا:
“وہ دورے خاص طور پر یوکرین تنازع کے حل کے لیے تھے جبکہ وزیر اعظم کا دورہ دوطرفہ اقتصادی وجوہات کی بنا پر تھا۔”
میں نے ان کی توجہ اس جانب دلائی کہ وزیر اعظم نے ماسکو میں رہتے ہوئے صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور امید ظاہر کی تھی کہ سفارت کاری کامیاب ہوگی۔ میں نے زور دیا کہ وزیر اعظم کا دورہ مکمل طور پر دوطرفہ تناظر میں تھا اور اسے روس کے یوکرین کے خلاف اقدامات کی حمایت یا توثیق نہ سمجھا جائے۔
میں نے کہا کہ یوکرین بحران پر ہمارا مؤقف تمام فریقین کے ساتھ رابطے کھلے رکھنے کی خواہش کے تحت ہے۔ اقوام متحدہ اور ہمارے ترجمان کے بعد کے بیانات میں بھی یہی بات واضح کی گئی جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر، طاقت کے استعمال یا دھمکی نہ دینے، ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت، اور تنازعات کے پرامن حل کے اصولوں سے ہماری وابستگی کا اعادہ کیا گیا۔
5۔ میں نے ڈون کو یہ بھی بتایا کہ پاکستان اس بات پر فکر مند ہے کہ یوکرین بحران افغانستان کے تناظر میں کیسے اثر انداز ہوگا۔ ہم اس تنازع کے طویل مدتی اثرات کی بہت بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔ ہماری ترجیح افغانستان میں امن اور استحکام ہے، جس کے لیے روس سمیت تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی ضروری ہے۔
اسی نقطہ نظر سے تمام فریقین کے ساتھ رابطے کھلے رکھنا ضروری تھا اور یہی عنصر یوکرین بحران پر ہماری پوزیشن کو بھی متاثر کر رہا تھا۔
جب میں نے بیجنگ میں ہونے والے Extended Troika اجلاس کا ذکر کیا تو ڈون نے جواب دیا کہ واشنگٹن میں ابھی یہ بات زیر غور ہے کہ آیا امریکہ Extended Troika اجلاس یا انطالیہ اجلاس میں شرکت کرے جہاں روسی نمائندے بھی موجود ہوں گے، کیونکہ اس وقت امریکہ کی توجہ صرف روس کے ساتھ یوکرین پر بات کرنے پر ہے۔
میں نے جواب دیا کہ یہی چیز ہمیں پریشان کر رہی ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ یوکرین بحران افغانستان سے توجہ ہٹا دے۔ ڈون نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
6۔ میں نے ڈون سے کہا کہ جس طرح وہ کھل کر بات کر رہے ہیں، میں بھی اپنا نقطہ نظر واضح انداز میں پیش کروں گا۔ میں نے کہا کہ گزشتہ ایک سال سے ہمیں مسلسل محسوس ہو رہا تھا کہ امریکی قیادت ہماری قیادت کے ساتھ رابطے میں ہچکچاہٹ دکھا رہی ہے۔
اس ہچکچاہٹ نے پاکستان میں یہ تاثر پیدا کیا کہ ہمیں نظر انداز کیا جا رہا ہے اور ہمیں سنجیدگی سے نہیں لیا جا رہا۔ یہ احساس بھی موجود تھا کہ امریکہ پاکستان سے ہر اس معاملے میں حمایت چاہتا ہے جو امریکہ کے لیے اہم ہے، لیکن اس کے بدلے میں پاکستان کے اہم مسائل خصوصاً کشمیر پر امریکہ کی جانب سے خاطر خواہ حمایت نظر نہیں آتی۔
میں نے کہا کہ ان تاثرات کو ختم کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے کے فعال ذرائع ہونا انتہائی ضروری ہیں۔
میں نے یہ بھی کہا کہ اگر یوکرین بحران پر ہمارا مؤقف امریکہ کے لیے اتنا اہم تھا تو پھر ماسکو دورے سے پہلے یا اقوام متحدہ میں ووٹنگ سے قبل امریکہ نے اعلیٰ قیادت کی سطح پر ہم سے رابطہ کیوں نہیں کیا۔
(اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے یہ معاملہ صرف DCM سطح پر اٹھایا تھا۔)
پاکستان مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں کو اہمیت دیتا ہے، اسی لیے وزیر خارجہ نے سیکریٹری بلنکن سے بات کرنے کی کوشش کی تاکہ پاکستان کا مؤقف اور نقطہ نظر ذاتی طور پر واضح کیا جا سکے، لیکن اب تک یہ کال نہیں ہو سکی۔
ڈون نے جواب دیا کہ واشنگٹن میں یہ سوچ تھی کہ پاکستان میں موجودہ سیاسی ہنگامہ آرائی کے باعث اس وقت ایسے رابطے مناسب نہیں اور سیاسی صورتحال واضح ہونے تک انتظار کیا جا سکتا ہے۔
7۔ میں نے دوبارہ واضح کیا کہ یوکرین جیسے پیچیدہ بحران میں ممالک کو کسی ایک فریق کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور سیاسی قیادت کی سطح پر فعال دوطرفہ رابطوں کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈون نے جواب دیا:
“آپ نے اپنا مؤقف واضح طور پر پہنچا دیا ہے اور میں اسے اپنی قیادت تک پہنچاؤں گا۔”
8۔ میں نے ڈون کو یہ بھی بتایا کہ ہم نے امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی میں امریکہ-بھارت تعلقات پر ہونے والی حالیہ سماعت میں یوکرین بحران پر بھارتی مؤقف کے دفاع میں ان کے بیانات دیکھے تھے۔ ایسا محسوس ہوا کہ امریکہ بھارت اور پاکستان کے لیے الگ الگ معیار استعمال کر رہا ہے۔
ڈون نے جواب دیا کہ سماعت کے دوران امریکی قانون سازوں نے UNSC اور UNSGA میں بھارت کے غیر حاضر رہنے پر سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔
میں نے کہا کہ سماعت سے یہ تاثر ملا کہ امریکہ بھارت سے پاکستان کی نسبت زیادہ توقعات رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان کے مؤقف پر زیادہ پریشان دکھائی دیتا ہے۔
ڈون نے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن امریکہ-بھارت تعلقات کو زیادہ تر چین کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ بھارت کے ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں:
“میرے خیال میں جب بھارتی طلبہ یوکرین سے نکل جائیں گے تو ہم بھارت کی پالیسی میں تبدیلی دیکھیں گے۔”
9۔ میں نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم کے روس دورے کا اثر دوطرفہ تعلقات پر نہیں پڑے گا۔
ڈون نے جواب دیا:
“میں تو یہ کہوں گا کہ ہمارے نقطہ نظر سے اس نے پہلے ہی تعلقات میں دراڑ پیدا کر دی ہے۔ چند دن انتظار کرتے ہیں کہ آیا سیاسی صورتحال تبدیل ہوتی ہے یا نہیں، کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو اس مسئلے پر بڑا اختلاف نہیں رہے گا اور یہ دراڑ بہت جلد ختم ہو جائے گی۔ ورنہ ہمیں اس مسئلے کا براہ راست سامنا کرنا ہوگا اور طے کرنا ہوگا کہ اسے کیسے سنبھالنا ہے۔”
10۔ ہم نے افغانستان اور دوطرفہ تعلقات سے متعلق دیگر معاملات پر بھی گفتگو کی۔ اس حصے سے متعلق الگ مراسلہ بھیجا جائے گا۔
Assessment
11۔ ڈون وائٹ ہاؤس کی واضح منظوری کے بغیر اتنا سخت پیغام نہیں دے سکتے تھے، جس کا وہ بار بار حوالہ دیتے رہے۔ واضح طور پر ڈون نے پاکستان کے اندرونی سیاسی عمل پر حد سے بڑھ کر بات کی۔ ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے اور اسلام آباد میں امریکی ناظم الامور (Cd'A a.i) کو مناسب سفارتی احتجاج (demarche) دینے پر غور کرنا چاہیے۔
DISTRIBUTION:
صرف وہی افراد جو تقسیم کی فہرست میں درج ہیں اس دستاویز کو دیکھنے کے مجاز ہیں۔ دیگر تمام افراد اسے “Top Secret” سمجھیں گے اور اگر یہ کسی غیر مجاز شخص کو ظاہر کیا گیا تو تادیبی کارروائی کے ذمہ دار ہوں گے۔
HANDLING:
اس دستاویز کے وصول کنندگان اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ اس کی نقل نہ بنائی جائے اور نہ ہی اسے مزید پھیلایا جائے۔ یہ دستاویز تالا اور چابی میں محفوظ رکھی جائے گی۔
1۔ سیکریٹری برائے وزیر اعظم
2۔ فارن سیکریٹری — IS/C
3۔ چیف آف آرمی اسٹاف
4۔ DG (ISI)، اسلام آباد
5۔ Dir (SSP) SSP Section
6۔ Super Copy
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
LAHORE
Lahore
54000
