26/07/2021
پچھلے کچھ دنوں سے مسلسل خواتین کے خلاف بدترین قسم کے تشدد اور بربریت کی خبریں آرہی ہیں۔ نور مقدم کے ساتھ پیش آنے والے ہولناک واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صائمہ اور قرالتلعین نامی دو خواتین کو ان کے اپنے خاوندوں نے قتل کردیا۔ اور اب خبر آئی ہے کہ سندھ میں رینا میگھاور نامی ہندو لڑکی کو پولیس کی مدد سے اغوا کرلیا گیا ہے۔ ہم اخلاقی زوال کے بدترین مقام پر پہنچ چکے ہیں لیکن آج بھی ہم حقائق سے منہ چھپا رہے ہیں۔
ان واقعات کے بعد بھی کئی دوستوں نے اس بحران کا بوجھ عورتوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے ان کے لباس سے لے کر رہن سہن پر سوالات اٹھائے۔ اور ان جرائم کا جواز تلاش کرنے کے لئے کبھی مذہب کا سہارا لیا اور کبھی روایت کا۔ کونسا مذہب یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی عورت با پردہ نا ہو تو اس کے ساتھ زیادتی کردی جائے یا اسے ہراس کیا جائے؟ یہ حق ہمیں کس روایت نے دیا ہے کہ ہم شک کی بنا پر بیوی بیٹی یا بہن کا قتل کردیں؟
بہت سارے اخلاقی معملات پر فیصلے اللہ کی ذات پر چھوڑ دینے چاہیے۔ لیکن جب ہم خود خدا بننے کی کوشش کرتے ہیں تو اپنی اخلاقی ذمہ داری نبھانے کے بجائے صرف دوسروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم روحانیت کے نام پر بدترین فرعونیت قائم کررہے ہیں جس کی وجہ سے معاشرے میں ظلم اور جبر بڑھتا جارہا ہے۔
ایک اور افسوسناک رواج چل پڑا ہے کہ جب بھی کوئی اس طرح کا شرمناک واقعہ سامنے آتا ہے تو ہم یہ کہنا شروع کردیتے ہیں کہ یہ سب دوسرے معاشروں میں بھی ہورہا ہے۔ پھر مثالیں شروع ہوجاتی ہیں۔ امریکہ میں بدترین ریپسٹ موجود ہیں، چین میں ہم سے بھی زیادہ سنسر شپ ہے، طالبان ہم سے زیادہ انتہا پسند ہیں، وغیرہ۔ یعنی اپنے حرکات پر نظرثانی کرنے کہ بجائے ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ہر معاشرے کے بدترین پہلووں کے ساتھ اپنا موازنہ کرکے ہم اپنے آپ کو تسلی دیتے رہے ہیں گے۔ جب معیار اتنا گر جائے تو پھر بہتری کی گنجائش ہی ختم ہوجاتی ہے۔
وقت آچکا ہے کہ ہم یہ تسلیم کرلیں کہ ہمارے معاشرے میں عورتوں کے خلاف بدترین سلوک ہو رہا ہے جس کی نہ ہمارے مذہب میں اور نہ قانون میں کوئی گنجائش موجود ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ فضول دلائل کے پیچھے چھپنے کے بجائے ہم اپنے آپ اور سماج کو بدلنے کا عمل شروع کریں۔ جو معاشرہ اکیسویں صدی میں بھی اپنی پچاس فیصد آبادی کو غلام سمجھتا رہے گا اور ان کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنائے گا، اس معاشرے کے مقدر میں غلامی ور ذلت ہی آئے گی۔ اس تباہی سے بچنے میں اپنا رول مرد بھی ادا کریں ورنہ سماجی امن کے ساتھ ساتھ ہم اپنی انسانیت بھی کھو بیٹھیں گے۔
15/07/2021
آج ہم نے فیصل آباد میں سائزنگ انڈسٹریز کے مزدوروں کی اجرتوں میں 10 فیصد اضافہ کروایا ہے
اس سے پہلے ہم نے پانچ فیصد اضافہ کروایا تھا
جو کل ملا کے اب 15 فیصد اجرتوں میں اضافہ ہو گیا ہے
لیبر قومی موومنٹ زندہ باد
مزدور اتحاد زندہ باد
22/06/2021
غائبانہ نماز جنازہ
شہید انسانیت
پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر
سینٹر عثمان خان کاکڑ کا غائبانہ نمازِجنازہ
آج بروز منگل شام چھے بجے
دھوبی گھاٹ گراؤنڈ فیصل آباد میں ادا کی جائے گی
برائے رابطہ نمبر
فواد عالم 03489056901
اسرار وزیر 03049160669
پی ایس سی فیصل آباد
16/06/2021
آج پاور لوم سیکٹر سمن آباد میں ہونے والی میٹنگ کی تصویری جھلکیاں ہم ہر صورت میں محنت کشو کی اجرتوں میں اضافا کر کے رہے گے
#حقوق خلق موومنٹ زندہ باد
#لیبر قومی موومنٹ زندہ باد
06/06/2021
فیصل آباد ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کے محنت کشو نے امن گھر آ کر لیبر قومی موومنٹ کے ساتھ مل کر جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا
ایک کا دکھ سب کا دکھ
آواز دو ہم ایک ہیں
06/06/2021
Must watch!
"Budgeting for the poor" live from the page of Haqooq e Khalq Movement - HKM, tomorrow, at 7pm with the best economists of our country.
05/06/2021
ضلعی صدر لیبر قومی موومنٹ شفیق بابر رندھاوا کی قیادت میں فیصل آباد کے تمام سیکِر صدور چارٹر آف ڈیمانڈ براے اجرتوں میں اضافہ کیلیے جمع کروارہے ہیں اس موقعہ پر چیرمین لیبر قومی موومنٹ بابا لطیف انصاری اور اسلم معراج بھی موجود ہیں
01/06/2021
لیبر قومی موومنٹ ساتواں میل جھنگ روڈ فیصل اباد
اج یکم جون سے فیصل آباد کے پاور لومز ورکرز کی اجرتوں میں اضافہ : ہیلتھ اینڈ سیفٹی , سوشل سکیورٹی کارڈ کے حصول ,, لیبر منسٹر پنجاب اور سیکٹری لیبر پنجاب کی مزدور دشمن پالیسیوں کیخلاف مزدور کنونشن کرکے دمادم مست قلندر کا اعلان
چیرمین لیبر قومی موومنٹ بابا لطیف انصاری
رب نواز وٹو پیسی سٹاف فیڈرہشن پنجاب
ضلعی صدر شفیق بابر رندھاوا ,اکبر علی کمبوہ ,میاں عابد ,شیخ نثار ,شیخ خالد بھولا ,باباالیاس ,فیض بندیشہ ,نواز سنگھیڑا ,راؤ داؤد , رانا فخر , زوالفقار , رانا سیف , محمد سرفراز ,محمد عرفان ,اشتیاق قادر, ملک ممتاز, فیض بندیشہ , سمیت تمام جانثار ورکرز کی شرکت
ترجمان , محمد عثمان کامریڈ