15/08/2021
کئ ملکوں کی فوج
ڈالروں کی برسات
اسلحے کے انبار
جدید جنگی طیارے
ٹینک
توپیں
دوسری جانب فقط
ایک ہی نعرہ
اللہ اکبر
اور اس نعرے نے افغانستان فتح کر لیا
وہ جنھوں نے ہمیں پتھروں کے دور میں دھکیلنا تھا
وہ اپنی بقا کی جنگ لڑتے افغانستان سے فرار ہو گئے
جنھوں نے پاکستان سے اٹک تک کا علاقہ چھیننا تھا وہ محلات سے فرار ہو کر دوسرے ملکوں میں دوسرے درجے کے پناہ گزین بن چکے
جو سقوط ڈھاکہ کی تصاویر ٹویٹ کرتے تھے وہ طال بان سے معافی نامے حاصل کرنے کے لیے پتلونیں گھروں میں چھوڑ کر ٹخنوں سے اونچی شلواریں باندھے لائن میں لگے کھڑے ہیں
انڈیا کی پاکستان مخالف اربوں روپے کی انوسٹمنٹ ڈوب چکی
این ڈی ایس اور را کی دہشت گردی کی تربیت گاہیں اجڑ گئ
پی ٹی ایم یتیم ہو گئ
بھارت کی فنڈنگ یافتہ بلوچ دہشت گرد تنظیمیں اپنے مستقبل کے لیے بھارت کی جانب دیکھ رہی ہیں
یہ یتیمی نئ نہیں ننگ وطن یونہی در بدر رہے ہیں اور بالآخر ریاست نے ہی انھیں سینے سے لگایا
یہی صورت حال 5 دہائیاں قبل بھی تھی
1970 کا دور تھا جب روس اور بھارت نے بلوچستان میں شورش کو ہوا دینے کے لیے افغانستان میں خصوصی کیمپ اور تربیت گاہیں بنائی
یہ سرد جنگ کے وہ دن تھے ، جب روس افغانستان پر قابض تھا،
روس کی بدنام زمانہ انٹیلیجنس ایجنسی KGB نے افغانستان کی ایجنسی KAM کو KHAD کے نام سے ری بلڈ کیا اور بھارت کی مدد سے پاکستان مخالف تحریکوں کی سرپرستی شروع کی
بھارت بنگلہ دیش طرز پہ پشتونستان اور گریٹر بلوچستان بنانے کے لیے ان علیحدگی پسند تحریکوں کی سرپرستی کر رہا تھا جبکہ روس کا مقصد ان کے زریعے گرم پانی تک رسائی حاصل کرنا تھا
پاکستان میں نیپ NAP اس شورش کی جڑ تھی
نیپ کے دونوں رہنما اجمل خٹک اور خیر بخش مری ، افغانستان میں مقیم تھے۔
اجمل خٹک پشتونستان مہم کی قیادت کر رہے تھے اور خیر بخش مری گریٹر بلوچستان مہم کی۔
لڑائی میں مدد کے لئے دونوں سرحد پار سے رقم اور اسلحہ بھیج رہے تھے
نیپ کے ممبر نواب اکبر بگٹی نے 1973 میں پاکستان مخالف پلان کو "لندن پلان" کے نام سے بے نقاب کیا۔
چنانچہ بھٹو کی حکومت نے نیپ پر پابندی عائد کی ،اور اکبر بگٹی کو بلوچستان کا گورنر مقرر کر دیا گیا تاکہ وہ شورش پر قابو پائیں ۔
ادھر پاکستان میں بھٹو حکومت کا نیپ کے خلاف کریک ڈاؤن جاری تھا تو دوسری جانب اس دوران افغانستان سے روس بیدخل ہو گیا اور گریٹر بلوچستان اور پشتونستان کی پیڈ تحریکیں اپنی موت آپ مر گئ
(قریباً آج والی صورتحال)
ناامیدی اور رسوائی کے مختلف مراحل میں طے کرنے کے بعد ، عطا اللہ مینگل ، اجمل خٹک اور افراسیاب خٹک سبھی واپس پاکستان لوٹ آئے ریاست ان غداروں کے لیے حقیقی ماں ہی ثابت ہوئی ان کی تمام تر وطن فروشی کے باوجود انھیں قومی سیاست کے دائرے میں شامل ہونے کا موقع دیا گیا
لیکن گریٹر بلوچستان کو افغانستان سے لیڈ کرنے والا خیر بخش مری اپنے خاندان سمیت افغانستان میں مجاہدین کے گھیرے میں آ گیا
جون 92 میں ،مجاہدین نے خیر بخش مری کے دہشت گردی کے کیمپوں کا گھیراؤ کیا اور خیر بخش مری اور اس کے بیٹوں کو افغانستان میں سوویت کے کٹھ پتلی قرار دیکر عمائدین سے ان کی حوالگی کا مطالبہ کیا ،
پاکستان میں جب یہ اطلاع حکومت پاکستان تک پہنچی تو صدر غلام اسحاق خان ، وزیر اعظم نواز شریف ، اور وزیراعلیٰ بلوچستان تاج محمد جمالی نے ان غداروں کو بچانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا
نواز شریف حکومت نے خیر بخش مری اور اس کے خاندان کو گھیرنے والی افغان فورسز کے ساتھ بات چیت کی اور 60 کروڑ روپے کے عوض ان کے لئے محفوظ راستہ حاصل کیا۔
پاکستان نے خیر بخش مری کے اہل خانہ کو لانے کے لئے پاک آرمی کے دو سی -130 بھیج دیئے ۔
جیسے ہی خیر بخش مری اور ان کے بیٹے مہران مری ، ہربیار مری ، بالاچ مری سمیت ، اہل خانہ اور معاون کوئٹہ ایئرپورٹ پہنچے ،
ان میں سے چند نوجوان ایئر پورٹ کی چھت پر چڑھے اور انھوں نے پاکستان کا جھنڈا اتار کر بی ایس او کا پرچم لہرا دیا
آج ان واقعات پہ دہائیوں کی گرد جم چکی ہے لیکن تاریخ کا پہیہ گھوم کر پھر اسی نقطے پہ آن کھڑا ہے
دیکھتے ہیں وقت کیا دکھلاتا ہے
آئندہ حالات جو بھی ہوں افغان فوج کی بزدلی اور افغان حکومت کی پاکستان کے خلاف ریشہ دیوانیاں تاریخ کا حصہ رہیں گی اور تاریخ ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی کہ پاکستان نے تمام تر ریشہ دیوانیوں اور کثیر الملکی سازشوں کے باوجود اپنے ملک کی سرحدوں کو ناقابل تسخیر رکھا آج ہم محفوظ ہیں
اپنی زندگیاں اپنی مرضی سے گزارنے کے لیے آزاد ہیں تو صرف ایک مضبوط فوج کی وجہ سے
ناقابل تسخیر سرحدوں کی وجہ سے.
الحمداللہ
29/06/2021
نیشنل میڈیا پر تیزاب گردی کے صرف تین واقعات رپورٹ ہوئے تھے، تو اس پر (ڈاکیومنٹری) فلم بن گئی.
شرمین عبید چنائے کو اس فلم پر آسکر ایوارڈ بھی دیا گیا۔ جبکہ پچھلے ایک سال میں انگلینڈ میں تیزاب گردی کے 800 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، لیکن اس پر تمام میڈیا خاموش ہے کوئی فلم نہیں بنی۔ یورپ میں ایسے سینکڑوں واقعات ہوتے ہیں کوئی فلم نہیں بنتی نہ شہر کو جرائم کا گڑھ کہا جاتا ہے
انگلینڈ میں پچھلے ایک سال میں چھرا مارنے کے 10 ہزار سے زائد واقعات ہوئے ہیں، لیکن پھر بھی تاثر دیا جاتا ہے کہ لندن محفوظ شہر ہے۔
’نیو یارک میں ایک سال میں مسلح ڈکیتیوں کے 16 سو سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس کے مقابلے میں کراچی میں صرف ڈھائی سو ایسے واقعات رپورٹ ہوئے،
حالانکہ کراچی کی آبادی نیویارک کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہے۔‘
کچھ دن قبل کینیڈا میں پاکستانی خاندان کے ساتھ دہشت گردی کا واقعہ ہوا، اس کے علاوہ ایک اور واقعے میں پاکستانی شہری کو حراساں کیا گیا اور اس کی داڑھی مونڈھ دی گئی۔
یہی واقعات کراچی میں ہوئے ہوتے تو اب تک اسے دنیا کا خطرناک ترین شہر قرار دیا جا چکا ہوتا
’ہم اتنے برے نہیں ہیں جتنا برا ہمیں بنایا جاتا ہے، اور بار بار کہے جانے کی وجہ سے ہم نے خود کو سمجھنا شروع کردیا ہے۔
کراچی میں امن و امان کی بحالی اور دہشت گردی کے خاتمے میں قانون نافذ کر نے والے اداروں کے ساتھ ساتھ عوام نے بھی اہم کر دار ادا کیا ہے۔
(ڈی جی رینجرز میجر جنرل افتخار حسن کا ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں خطاب)
26/04/2021
قمر باجوہ کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، آرمی چیف نے ایاز صادق کے بیان پر ردِعمل دے دیا
آرمی چیف نے ابصار عالم سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ فوج اتنی کمزور نہیں کہ ایک ٹویٹ کرنے والے کو گولی مروا دے،ایاز صادق نے مجھ پر بہت بڑا اٹیک کیا حالانکہ ہمیں اس وقت بھارت پر برتری حاصل تھی لیکن میں نے اور پاک فوج نے اُس پر بھی کوئی ردعمل نہیں دیا۔سینئر صحافی روف کلاسرا کا دعویٰ26 اپریل 2021ء) سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی 20 سے 25 صحافیوں سے ملاقات ہوئی ہے۔صحافیوں کو افطار ڈنر پر بلایا گیا تھا اور یہ ملاقات سات گھنٹے تک جاری رہی۔اس ملاقات میں آرمی چیف نے کچھ گلے شکوے کیےاور کچھ سخت سوالوں کے جوابات بھی دیے۔روف کلاسرا کے مطابق آرمی چیف سے ابصار عالم پر ہونے والے قاتلانہ حملے سے متعلق سوال کیا گیا۔
جس پر انہوں نے کہا کہ ایک بات ذہن میں رکھیں کہ گولیاں چلانے والا دور اب چلا گیا ہے۔اگر کسی کے ساتھ ایسا کچھ کرنا ہو تو اور بڑے طریقے ہوتے ہیں۔اب وہ دور نہیں رہا کہ کسی کے پیٹ میں گولی مار کر سبق سکھایا جائے۔میں نے اس معاملے پر کام کرنے والی سیکیورٹی فورسز کو کہا ہے کہ ابصار عالم پر حملہ کرنے والے کو تلاش کیا جائے۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے مزید کہا کہ فوج اتنی کمزور نہیں رہی کہ کوئی بندہ ٹویٹ کرے اور ہم اس پر ردعمل دیتے ہوئے گولی مروا دیں۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو سابق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مجھ پر بہت بڑا اٹیک کیا تھا۔ایاز صادق نے کہا کہ میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں جبکہ اس وقت ہمیں انڈیا پر برتری حاصل تھی۔لیکن میں نے اور پاک فوج نے اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔اگر ہم نے ایاز صادق کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی تو کیا ابصار عالم کے خلاف ایک ٹوئٹ پر کر سکتے تھے۔
حالانکہ ہم قانونی کاروائی رکھنے کا حق رکھتے ہیں۔یہ کہہ دینا کہ ہم لوگوں کو گولیاں مروا رہے ہیں درست نہیں،پاک فوج میں بہت برداشت ہے اور وہ کسی ایک آدمی کے ٹوئٹ پر غصے میں نہیں آتی۔آرمی چیف نے اینکر سے یہ بھی کہا کہ آپ کے پروگرام میں فلاں لوگ آتے ہیں اور جھوٹ کو من و عن نشر کیا جاتا ہے۔آرمی چیف نے ایک اینکر سے کہا کہ آپ کے پروگرام میں فلاں باتیں ہوتی ہیں۔
جس پر ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سارے ٹی وی پروگرام دیکھتے ہیں۔آرمی چیف نے کہا کہ میں اتنا ٹی وی نہیں دیکھتا لیکن ساری باتیں مجھ تک پہنچائی جاتی ہیں۔ یہاں پر ان کا اشارہ آئی ایس پی آر کی جانب تھا۔آرمی چیف نے کہا کہ میں نے آئی ایس پی آر کو بھی کہا ہے کہ آپ غیر سیاسی رہیں اور اور دوسرے معاملات پر ردعمل مت دیں۔
22/04/2021
خبردار ،صفوں میں اتحاد رکھیں
سرینا ہوٹل میں ہونے والا دھماکہ ایک نئی سازش اور دشمن کے ناپاک عزائم کا آغاز ہے ۔جس کے بارے میں تمام پاکستانیوں کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ۔ دھماکہ کا ٹارگٹ چائنیز سفیر تھے جو کئی دنوں سے کویٹہ میں موجود تھے ۔ خفیہ اداروں کے حصار کی وجہ سے وہ محفوظ رہے کیونکہ اس وقت وہ سرینا ہوٹل میں نہیں تھے ۔حملے کی ذمہ داری کلعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے ۔ حملے کے پیچھے وہ طاقتیں ہیں جو سی پیک سے خوف زدہ ہیں۔
" یعنی بھارت ، امریکہ افغانستان اور اسرائیل"
خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان میں افغانستان ، انڈیا ، اسرائیل ،برطانیہ ،فرانس ، افغانستان ، اور امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کا اجلاس ہوا جس میں امریکی انخلاء کے بعد پاکستان کے افغانستان میں کردار اور پاکستان دشمنوں کے مفادات کو افغان مجا ہد ین کے برسرپیکار آنے کے بعد کے حالات اور لائحہ عمل طے کیا گیا
پاکستان کے خلاف خفیہ جنگ میں امریکی اتحادی افغانستان اور انڈیا ،اسرائیل امریکہ سے اس بات پر خفا ہیں کہ امریکی انخلاء کے بعد ان کا افغانستان میں برسوں پرانا سیٹ اپ آئی ایس آئی کے نشانے پر آجائے گا
پاکستان کے خلاف پاکستان کے اندر دہشتگردی ،فرقہ واریت کے زریعے انتشار پھیلانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے
قوم پرستوں اور علیحدگی پسندوں کو دوبارہ ایکٹو کرنے اور پاکستان کو دباؤ میں لانے کی ناپاک سازش کی جا رہی ہے
دہشتگردانہ حملے ، سی پیک اور اسکے منصوبوں کے خلاف سازشیں بھی ناپاک دشمنوں کے عزائم ہیں
دشمن افغانستان کے بعد خفیہ ایجنسیوں کے زریعے پاکستان میں بد امنی پھیلانا چاہتے ہیں ۔ ایسے موقع پر جب پاکستان کے سب سے بڑے دشمن امریکہ کو افغانسان میں شکست ہوئی ہے اور وہ اسکے بعد تمام توجہ پاکستان پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ انخلاء کے بعد انکے بندھے ہاتھ کھل جائیں گے ۔ انشا اللہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی امریکہ کے انخلاء کے بعد افغانستان میں پاکستان کے تمام دشمنوں کا خاتمہ کرے گی ۔ مشرقی سرحد پر تمام توجہ ہوگی اور کشمیر مرکز نگاہ ہوگا
سی پیک کی تکمیل ہو گی۔
آپ اب متحد رہیں پروپیگنڈا کو رد کریں ۔انتشار پھیلانے تفرقہ پھیلانے سے گریز کریں
اپنی خفیہ ایجنسی کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے رہیں کیونکہ اب آئی ایس آئی پاکستان دشمنوں کی سازشوں کے خلاف بہت بڑی جنگ لڑنے جا رہی ہے.
24/02/2021
ایسے مسخرے نجانے کیسے صحافت میں آتے ہیں
اقرار الحسن نامی یہ اینکر ایک بہروپیے اور کریمنل شخص کو پاک فوج کا ایس ایس جی کمانڈو ثابت کرنے کی کوشش کر رہا آپ نے ایک جرائم پیشہ شخص کو پکڑا بہت اچھا کیا لیکن پاک فوج کا نام لیکر ٹویٹ کرتے وقت تھوڑی سی تحقیق کر لیتے
مسٹر اقرار الحسن آپ کے ٹویٹ کردہ کارڈ اور خط دونوں جعلی ہیں۔ اچھی پرنٹنگ کی مہارت کا استعمال کرتے ہوئے ہر شخص اتھارٹی لیٹر بنا سکتا ہے۔ پیسٹ شدہ تصویر دیکھیں ، اس کی وردی پہ ایس ایس جی کا سائن نہیں ہے۔
پراپگنڈہ کرتے وقت دھیان رہے کہ ہم جیسے ابھی مرے نہیں
آپ اپنی تشہیر ضرور کیجیے کریمنلز کے ساتھ لین دین کیجیے یا انھیں پکڑوائیے لیکن یہاں آپ اپنی تشہیری پراپگنڈے میں فوج کو لائیں گے وہاں ہم جیسے عام لوگوں سے آپ اپنے سکینڈل اوپن کروا بیٹھے گے کیونکہ ہمیں اپنی پاک وردی سے اتنا ہی پیار ہے جتنا آپ کو چھاپوں سے ملنے والے پیسوں سے ہے!!
22/12/2020
کریمہ بلوچ قتل کیس میں بھارت کے ملوث ہونے کی دو وجوہات ہیں جو آپ سب ہر جگہ شئیر کریں
پہلی وجہ یہ ہے کینیڈا کے وزیراعظم نے بھارت میں جاری کسانوں کے احتجاج پر انکی حمایت میں بیان دیا تھا جس کے بعد بھارت نے کینیڈا سے احتجاج بھی کیا ۔یہ قتل احتجاج سے توجہ ہٹانے اور کینیڈا کو دباؤ میں لانے کے لیے کیا گیا ہے واضح رہے کہ کینیڈا کی خفیہ ایجنسی نے سکھوں کی جاسوسی کے الزام میں کئی نیٹ ورک پکڑے ہیں
دوسری وجہ یہ ہے کہ کریمہ بلوچ کا نام انڈیا لیکس یعنی ای یو ڈس انفو لیب میں بھی جس کے بعد بھارت پوری دنیا میں بدنام ہوا اور بھارت کے پالتو زر خرید نام نہاد بلوچ ایکٹوسٹ بے نقاب ہوگئے
راز کھل جانے کے ڈر سے را نے اپنے پالتو کتو کو ٹکھانے لگانا شروع کر دیا ہے تاکہ راز بھی دفن و اور الزام بھی پاکستان پر آئے.
22/12/2020
پاکستان میں عورت مارچ کے منتظمین کو بیرون ملک سے چھ کروڑ ستر لاکھ روپے ملنے کا انکشاف۔
18/12/2020
آج بھی کتنا روشن ہے دیکھ تو تیری کہانی میں
تو نے ڈبونا چاہا تھا جس کو بنگال کے پانی میں
دہلی کے دل سے ابھرا ہے آج بھی نظریہ پاکستان
آج بھی زندہ ہے ہر دل میں وہ نظریہ پاکستان
بھارتی سکھ فوجی کا مودی کو دبنگ اعلان
"میرا باپ کسان ہے اگر وہ دہشت گرد ہے تو میں بھی پھر دہشت گرد ہوں"۔
15/12/2020
وطن سے محبت ایک طعنہ یا اعزاز؟؟
بابا بابا وہ دیکھیں پاکستان۔۔۔
میں اپنی تین سال کی بیٹی کے ساتھ بائیک پہ بیٹھا کہیں جارہا تھا کہ اچانک اس نے ایک طرف اشارہ کرکے زور زور سے چلانا شروع کردیا ، میں نے اس کے طرف دیکھا جس طرف وہ اشارہ کررہی تھی تو دیکھا کہ سبز ہلالی دور ایک گھر کی چھت پر لہرا رہا تھا ، میرے دل کو جیسے سکون آگیا اور میں نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میری اولاد الحمدللہ اس عمر سے ہی حب الوطنی کا سبق سیکھ رہی ہے ، کیونکہ جو ہم نے اپنے والدین سے سیکھا یہ وہی سبق ہے جو ہم اپنے بچوں کو سکھارہے ہیں ،
ہمیں بچپن سے ہی دینی تعلیم کی طرف راغب کیا جاتا ہے (ہمیں سے مراد پاکستان میں بسنے والے) اور نماز ،روزہ ، تلاوت سکھایا جاتا ہے۔۔ اس کے ساتھ ہی بچوں کو پرچم کی تعظیم اور ارضِ پاک سے محبت کا درس بھی دیا جاتا ہے جو ایک قوم کی تعمیر اور بقاء کے لئے میری نظر میں سب سے ضروری چیز ہے، ، یہ سب کچھ ہم قومی جذبے کے تحت کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے بچے محب وطن اور ملک پر جان قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والے بنیں ،
لیکن یہاں ایک امر قابلِ غور بلکہ قابلِ تشویش ہے کہ ہم صرف بچوں کو قومی ترانہ سکھا کے اور لوگوں کے سامنے بچے سے پرچم کو سیلیوٹ کروا کے سمجھتے ہیں کہ جی ہمارا بچہ محب وطن بن گیا ہے اور ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی ہے ، لیکن اس کے بعد اس کی بحیثیت پاکستانی کے جو تربیت ہونی چاہئے اس سے ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور یہ سوچ لیتے ہیں کہ جب یہ بڑا ہوگا تو سب کچھ خود ہی سمجھ جائے گا ، جبکہ بچہ جب سن بلوغت کو پہنچتا ہے تو اسے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ اسے اپنے والدین کی طرف سے بھرپور توجہ اور رہنمائی ملے ،
کیونکہ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب بچے ذمہ داریوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے ادرگرد کےماحول سے اثر لینا شروع کرتے ہیں ،
یہ جو دور چل رہا ہے ہر طرف افراتفری کا سماں ہے ہر کسی کو اپنی پڑی ہے اور ہمارے پیارے وطن کے دشمن ہر وقت ایسے شکار کی تلاش میں رہتے ہیں جس کو وہ کسی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اپنے مقصد کے لئے استعمال کرسکیں ،
ایک طرف ففتھ جنریشن وار اور نت نئی پراکسیز ہمارے اوپر مسلط کی جارہیں تو دوسری طرف ہمارے نوجوانوں کو ہماری ہی زمین پر ذہن سازی کرکے ملک دشمن خیالات کا گرویدہ بنایا جارہا ہے ، مختلف اقسام کی ایپس کے زریعے نوجوانوں کے اذہان کو آلودہ کرکے ہماری دینی تعلیمات ،کلچر اور ثقافت سے بیزار کیا جارہا ہے اور نوجوان یہ کہتے نظر آنے لگے ہیں کہ یہاں رکھا ہی کیا ہے؟؟اس ملک نے ہمیں دیا کیا ہہے؟؟
جبکہ بحیثیت پاکستانی اور اپنے آپ کو محب وطن کہلوانے والے ہم سب جوابدہ ہیں کہ ہم نے اس ملک کو کیا دیا ہے؟؟
کیا وطن سے محبت کا دعویٰ کردینا ہی کافی ہے؟؟ یا پھر اس کے لئے کچھ ثابت بھی کرنا پڑے گا ؟؟
جس سے محبت ہوجائے اس کی تو خامیاں چھوڑ بہت بڑی بڑی غلطیوں کو بھی فراموش کردیتے ہیں لوگ پھر ہم کیسے محبت کے دعویدار ہیں کہ ایک طرف تو خود آنکھیں بند کئے خوابِ خرگوش میں ڈوبے ہوئے ہیں ،بحیثیت پاکستانی ہمارے جو فرائض ہیں ان سے آنکھیں چرا کے ہم صرف اپنے مفاد کے لئے سوچتے ہیں ،اپنی ہی مصنوعات کو ہم اس قدر ناقص کرچکے ہیں کہ خود استعمال کرتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں ، ملاوٹ میں ہمارا ثانی نہیں ہے ، خیانت میں ہم نے ریکارڈ بنا ڈالے ، اپنے چند سکوں کے فائدے کے لئے ہم دوسرے پاکستانیوں کی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں اور چودہ اگست کو سب سے زیادہ سجاوٹ کرکے اپنے گھر کو شہر کا بہترین گھر بنا کے کہتے ہیں ہم نے پاکستان کے لئے یہ سب کیا جبکہ ہمارے ذہر آلودہ مصالحے مصنوعات اور کھانے کھا کے پتہ نہیں کتنے پاکستانی ہسپتالوں میں اور کتنے قبرستانوں میں پڑے ہیں ،، لیکن پھر بھی ہم محب وطن ہی رہتے ہیں ، اور سوال بھی پاکستان سے کرتے ہیں کہ تم نے ہمیں کیا دیا
لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن میرا خیال ہے کہ اگر ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو سمجھ جائیں گے کہ ہم محب وطن پاکستانی ہیں یا نام کے پاکستانی ہیں۔
اگر تو ہم اپنے فرائض کو دیانتداری سے ادا کرتے ہیں تو بیشک ہم محب وطن ہیں اور یہ ہمارے لئے بہت اعزاز کی بات ہے ،
ورنہ وطن سے محبت کو اپنے لئے ایک طعنہ سمجھئے اور شرمندہ ہوتے رہئے۔
اللہ ہمارے پیارے وطن کو ہمیشہ قائم ودائم رکھے۔آمین