**کتاب کا نام: پگڑی سنبھال جٹا**
(نوآبادیاتی نظام کے خلاف عوامی مقدمہ عوامی عدالت کے روبرو)
ابتدائیہ!
1947ء سے قبل انگریزی دور، سامراج کی شکل میں واضح تھا، سمجھ اور نظر میں آنے والا تھا، ہر کوئی اس کے استحصالی کردار سے واقف تھا۔ 1947ء سے آج آٹھ دہائیوں کے بعد اسی انگریز سامراج کی باقیات ہماری اپنی صفوں میں، شکلوں میں، ہماری اپنی نسلوں میں، ہمارے اپنے علاقائی اور زبان کی صورتوں میں، ہمارے جسموں میں کینسر کی طرح پھیل گئی ہیں اور ہم اس کینسر کو پہچان ہی نہیں پا رہے۔
اس کینسر کا ہمارے قومی جسم پر مہلک ترین حملہ اندر سے تو تھا ہی، اس کے ساتھ ساتھ اس نے ہمارے شعور کو بھی اپنے قابو میں کر لیا ہے جس کی وجہ سے ہمیں آج اپنے دوست اور دشمن کی پہچان کرنے میں تاریخی غلطیوں کا سامنا ہے۔ ہم اپنی قومی تاریخ میں بار بار اسی مہلک کینسر یعنی نوآبادیاتی نظام کی باقیات کو اپنا کر اس کے ہاتھوں لٹتے چلے آ رہے ہیں۔ اس نے ہمارے قومی شعور کو اپنی گرفت میں لے کر ہمیں سامراجی نظام کے مالیاتی، سیاسی، تعلیمی، داخلی و خارجی اور عسکری بندوبست میں رہنے اور مسلسل لٹنے پر تیار کر رکھا ہے۔ ہم مسلسل اپنے ہاتھوں سے، اپنی مرضی سے، اپنی زبان سے اس کے تیار کیے ہوئے بتوں کو اپنا دوست سمجھ کر اپنے اوپر مسلط کر لیتے ہیں اور پھر کچھ عرصہ بعد پتا چل رہا ہوتا ہے کہ ہم تو ہر گزرتے ہوئے دن کی نسبت ہر آنے والے دن میں زیادہ سماجی استحصال، ریاستی جبر، مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی مسائل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ کیا یہی ہمارے 80 سالہ قومی سفر کا نتیجہ نہیں؟
یہ کیسے ممکن ہے کہ سماج سے اٹھنے والے سوالات کو سمجھے اور ان پر وسیع تر طبقاتی پیرائے میں بحث کیے بغیر ہم امن، خوشحالی، اندرونی و بیرونی ملکی استحکام، اندرونِ ملک خود اعتمادی اور خود انحصاری اور عالمی سطح پر آزاد مملکت کا درجہ حاصل کر سکیں؟
چلیں اس مسئلے کو سماج کی سب سے آسان اور ابتدائی اکائی یعنی خاندان سے واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عمومی طور پر والدین، تین بچے اور دادا پر مشتمل چھ لوگوں کا یہ گھرانہ کیسے زندگانی کا سفر آگے بڑھاتا ہے، سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارے سماج کی اس بنیادی اکائی کا بیرونی حصہ جو سماجی اور معاشی تحفظ دیتا ہے اور اندرونی حصہ جو اس کی تمام ضروریات کی تکمیل کو احسن طریقے سے سنبھالتا ہے، یعنی والدین؛ یہ دونوں اس خاندان کی اشرافیہ کہے جا سکتے ہیں، باقی تمام افراد ان دو اشرافیہ افراد کے بیرونی اور اندرونی انتظامات کے مرہونِ منت ہوتے ہیں، لہٰذا عام فہم میں "عوام" کے درجے پر فائز۔
یاد رہے کہ عوامی جمہوریت میں اشرافیہ صرف اشرافیہ نہیں بلکہ **عوامی اشرافیہ** کہی جائے گی، جس سے مراد منتظمِ اعلیٰ یا خادمِ اعلیٰ یعنی عوامی اشرافیہ:
1. اول تو ہم عوام سے ہی ہوگی۔
2. دوم، وہ ہم عوام سے بہتر انتظامی صلاحیتوں سے مالا مال اور ذاتی مفادات کو سماج کے اجتماعی مفادات پر قربان کر دینے والے جذبات سے لبریز ہوگی۔
3. سوم، وہ اپنے اشرافیائی طے شدہ کردار اور اوقات کو پورا کرنے کے بعد دوبارہ سماج کے عوامی رنگ میں ہی گھل مل جائے گی۔
عوامی اشرافیہ کو بیرونِ ممالک میں جائیدادیں بنانے اور بعد از خدمات بیرونِ ممالک میں آباد ہونے کی ہرگز اجازت نہ ہوگی۔ عوامی اشرافیہ کے لیے لازم ہے کہ وہ وطنِ عزیز کی مٹی میں ہی دفن ہو تاکہ اس کے کسی بھی دماغی کونے کھدرے میں وطنِ عزیز کے مفادات پر سودے بازی کا خیال تک نہ آئے۔ یہ بنیادی شرائط ریاست کے ہر ادارے اور ہر شعبے سے منسلک اعلیٰ اہلکار کے لیے یکساں بنیادوں پر لاگو ہوں گی۔
اب دوستو! یہ کیسے ممکن ہے کہ سماج کی اس بنیادی اکائی یعنی خاندان میں ہم اپنی تاریخی سماجی بناوٹ اور کردار کے خلاف عمل کرتے ہوئے آگے بڑھتے رہیں؟ یعنی خاندان کے اشرافیہ کرداروں کا کام بیرونی اور اندرونی تحفظ اور ضروریات کی تکمیل والا معاملہ نہ چل رہا ہو۔ اشرافیہ کردار بجائے خدمات اور قربان ہونے کے، الٹا اپنے ہی بچوں کے حقوق یعنی خوراک، لباس، تعلیم اور رہائش کو مسلسل لوٹنا شروع کر دیں۔
اپنی طے شدہ انتظامی صلاحیتوں کو بجائے تحفظ فراہم کرنے کے، الٹا ان سے سماجی استحصال اور ریاستی جبر کا شکار کرتے رہیں۔ ہر قربانی، جنگ، سیلاب، طوفان اور وبائی امراض کے وقت بجائے کہ آگے بڑھ کر اپنا آپ قربان کریں، الٹا اپنے بچوں کو ڈھال بنا کر مروانا شروع کر دیں اور بیرونی دنیا میں ان کی لاشیں، آہیں، سسکیاں، غلاظت و جہالت سے لپٹے ہوئے چہرے اور غربت و مہنگائی سے ہونے والے کمزور جسموں کو دکھا دکھا کر بھاری سود اور شرائط پر قرض مانگتے پھریں۔
اپنے بچوں کو گرمیوں میں تپتے ہوئے غلیظ فرشوں پر سونے کے لیے مجبور کریں اور خود محفوظ ترین، جدید ترین اور آرام دہ عیش و عشرت سے لبریز، بیرونی قرضوں اور اندرونی اثاثوں کی لوٹ کھسوٹ سے بنائے ہوئے فارم ہاؤسز میں محوِ خواب رہنے کے عادی ہو جائیں؟
تو دوستو! صدیوں سے اٹھنے والے فقراء و غرباء کی زندگیوں کو تباہ و برباد کر دینے والے ان بنیادی سوالات کو سمجھتے ہوئے ہمیں اپنا ہر قدم بڑھانا ہوگا۔ ان کے حل کے لیے ہمیں اپنے طبقے سے جڑنا ہوگا، ہمیں سیکھنا ہوگا کہ ہمارا ریڑھی والا، رکشے والا، کسان، مزدور، تاجر، نرس اور ڈاکٹر ان سوالات کو کیسے دیکھتے ہیں اور کیسے ان کا حل تجویز کرتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی جذبہ ہے کہ "پگڑی سنبھال جٹا" پکارنے کا خیال امڈ آیا۔ کیوں؟ کیونکہ یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کو اٹھانے اور حل کرنے کے لیے ہمیں بہرحال اپنی اجتماعی دانش اور اپنے خون کے اندر مسائل سے نمٹنے کی موجود صلاحیت اور مزاحمت کو اب "عوامی اتحاد پارٹی" کے ذریعے باہم جوڑنا ہوگا۔ ہمیں ایک طبقاتی جڑت اور جرات کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ بغیر عوامی نمائندہ پارٹی کے ہم صدیوں سے، نسلوں سے جاری اس نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائیں گے۔
ہم اپنے لیے اپنے طبقے سے اشرافیہ یعنی عوامی خادم صرف اس وقت ہی حاصل کر سکیں گے جو اس 90 فیصد طبقے سے تربیت یافتہ ہو، جو اپنی تاریخی مزاحمتی کرداروں، جی ہاں! جیسے کہ دلا بھٹی، احمد خان کھرل اور بھگت سنگھ کی طرح فقراء و غرباء طبقات کو ساتھ ملا کر ایک تنظیم و تحریک بنانے اور نوآبادیاتی نظام سے ٹکرانے کا سیاسی شعور رکھتا ہو۔
جو پارٹی سماج میں ایسے سوالات جنم دے سکے جن سے طبقاتی جڑت نمایاں ہو، جن سے نوآبادیاتی نظام اور اس کے تسلسل سے بنے سماجی تفریق کو نمایاں کر سکے۔ اس سماجی تحریک سے پیدا ہونے والے 90 فیصد انسانوں کی کمائیوں کو لوٹنے کے عمل کو واضح کر سکے۔ اس سماجی تفریق سے جنم لینے والے ہر لمحہ انسانی المیوں کی داستانوں کو ہر سماجی اور سیاسی بندھن سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
آئیے ذرا چند سوالوں کو ملاحظہ کرتے ہوئے ہم اپنے اصل مقصد یعنی طبقاتی اور جمہوری پارٹی کی تشکیل کے اغراض و مقاصد کی طرف بڑھتے ہیں۔ بنیادی طور پر "پگڑی سنبھال جٹا" درج ذیل تحریک سازی کے اجزاء پر بات کرے گی جن کا مقصد عام آدمی تک وہ سیاسی بحثیں لے جانا ہے کہ آخر کیوں ہمارے ہاں انگریز سامراج کا بنایا ہوا ریاستی نظام آج بھی افسوس 80 سالوں تک جوں کا توں ہی قائم ہے؟ جو انگریز نے ریاستی ادارے بنائے جن کا مقصد مقامی لوگوں کو سماجی و قانونی طور پر خوف اور مسائل میں مبتلا رکھنا اور ان کی کمائیوں کے ساتھ ساتھ مقامی قدرتی وسائل کو لوٹ کر انگلینڈ منتقل کرتے رہنا تھا، یہ ادارے آج بھی ہو بہو اسی ڈگر پر گامزن ہیں۔ یہ ادارے آج بھی قرضوں کی معیشت، مہنگائی اور بے روزگاری کی دلدل میں ہم 90 فیصد فقراء و غرباء کو دھنسا کر خود اپنے لیے ہمالیہ جیسے بلند اندرون اور بیرونِ ملک اثاثوں کی تعمیر اور بڑھوتری میں مصروف ہیں۔
وطنِ عزیز کے آخر کیوں 14 کروڑ بچوں (اسکول، کالج، یونیورسٹی) میں سے آج 80 سالوں بعد بھی صرف ڈھائی کروڑ بچے ہی غیر معیاری اور غلیظ ماحول میں تعلیم حاصل کر سک رہے ہیں؟ باقی ساڑھے گیارہ کروڑ بچوں کے لیے کیوں نہیں تعلیم کا بندوبست کیا گیا؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ 10 فیصد اشرافیہ گھرانوں کے بچوں کے لیے اعلیٰ عیش و عشرت، آرام دہ، محفوظ ترین اور جدید ترین تعلیم کا بندوبست تو نجی اداروں میں کر لیا گیا اور ان میں سے ایک بچہ بھی ایسا نہیں کہ وہ تعلیم سے محروم ہو، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے اور ہوتا رہا ہے؟
آئندہ ایسا نہ ہو، اس کے لیے "پگڑی سنبھال جٹا" جو ایک طبقاتی پارٹی کی تعمیر پر اسی لیے زور دے رہی ہے کہ آئیں ایسے نامراد اور ناعاقبت اندیش امریکی و مغربی حمایت یافتہ اشرافیہ طبقے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں کہ ہم اپنے لیے، اپنے بچوں کے لیے، اپنی بقا کے لیے ایک ایسا نظامِ تعلیم استوار کریں جو ملک کے کل 14 کروڑ بچوں کو مقامی ثقافت، مقامی زبان، مقامی روایات اور مقامی صنعت و حرفت کے عین مطابق معیارِ تعلیم سے بہرہ ور ہونے کے لیے سوال اٹھائے۔ یہ پارٹی ہر طرح کی نجی تعلیم کی مخالفت کرے گی اور ایسی تمام نجی تعلیمی سہولیات کو عوامی دباؤ اور عوامی شعور کو بلند کرتے ہوئے ریاستی تحویل میں لانے کی کوشش کرے گی۔ یاد رہے کہ یہ نوآبادیاتی نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہمیں ایک "عوامی اتحاد پارٹی" کے پلیٹ فارم پر اکٹھا ہونا ہوگا جو نظم و ضبط سے طبقاتی شعور دیتے ہوئے عوامی صفوں اور سماج کے اندر پیوست ہو جائے اور یہی تاریخ کا سبق ہے۔
از قلم! عمر وارث
جاری ہے۔
انسان دوست پارٹی ۔۔۔ پاکستان
عوامی جمہوری فلاحی پاکستان کے قیام کے لیے سماج میں موجود تمام پرتوں کی پارلیمان میں متناسب نمائندگی
شرفاء کے کھیل (2) - آئی پی پیز
قسط نمبر 3
(پاکستانی سماج پر گہرے منفی اثرات کا سرسری جائزہ)
پاکستان میں 1994 کی انرجی پالیسی صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں تھی، بلکہ یہ ریاست کے استحصالی اشرافیہ (Elite Capture) کی طرف منتقلی کا باقاعدہ آغاز اور نوے فیصد فقراء و غرباء پر ریاستی جبر قائم کرنے کے ایک منصوبے کا حصہ تھی۔ اس کو ذیل کے حوالہ جات اور مستند اعداد و شمار سے واضح کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
دراصل اس کا ایک "ٹریکل ڈاؤن" (Trickle-down) اثر ہے جو بجلی کے مہنگے یونٹ سے شروع ہو کر سماج دشمنی کی آخری سیڑھی تک پہنچتا ہے۔
بنیادی واردات: کالا دھن کا عروج اور پاکستانی روپے کی بے قدری!
سب سے پہلے ہم ایک سرسری سا جائزہ لیں گے کہ 1994 سے پہلے اور بعد میں پاکستانی سماج میں کالے دھن کا ارتکاز کیسے کیا گیا، کن مقاصد کے لیے کیا گیا، کیوں کر کیا گیا اور پھر اس کے سماجی اثرات کا جائزہ لیں گے۔ ان تمام سماجی اثرات یا نوآبادیاتی آدم خور اشرافیہ کی سماجی تباہ کاریوں کو باقاعدہ طور پر مزید سماجی و تاریخی گہرائی اور گیرائی سے ہم "شرفاء کے کھیل" کی آئندہ آنے والی اقساط میں الگ الگ واضح کریں گے، تاکہ ہم نوے فیصد فقراء و غرباء طبقات پر واضح ہو جائے کہ ہماری سیاست کا قبلہ و کعبہ کیا ہوگا؟ طبقاتی سماج میں ہماری سیاسی جدوجہد کے دوران ہم نے کن کمزور طبقات سے مل کر اپنے طبقے کی آزادی و خودمختاری کے لیے آئینی، جمہوری، عوامی جدوجہد کرنی ہے اور کن آدم خور اشرافیہ کے طبقات کے خلاف باہمی طبقاتی جڑت پیدا کرنی ہے؟
یہ نوآبادیاتی دس فیصد شرفاء کا طبقہ خود تو اپنی اور سماج کی نظر میں سرمائے کی بے پناہ محبت میں بے توقیر تھا ہی، ساتھ ساتھ انہوں نے باقاعدہ دنیا بھر میں اپنے اثاثوں کی غیر اخلاقی اور غیر انسانی تعمیر کے لیے پاکستانی روپے کو بھی بے توقیر کر دیا۔ اس باقاعدہ منصوبہ بند واردات کو ڈالنے کے لیے انہوں نے سب سے پہلے کالے دھن کا سہارا لیا۔ آئیں کالے دھن کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
کالا دھن! ہر وہ روپیہ جو ریاست کے ٹیکس نظام سے باہر ہو، جس پر باقاعدہ عوامی و ریاستی منصوبوں کے لیے کوئی کٹوتی نہ کی جا رہی ہو۔ ایسے افراد یا گروہ دراصل قوم کے مجرم قرار پاتے ہیں جو عوامی تعلیم، صحت اور روزگار کے براہ راست قاتل ہوتے ہیں۔ اصولاً ان افراد یا گروہوں کو ریاستی اداروں کے ذریعے قانون کی گرفت میں لاتے ہوئے سزا دینی چاہیے اور ان کے اثاثوں کو قومی تحویل میں لے کر عوامی فلاح کے لیے مختص کر دینا چاہیے۔
لیکن جب یہی کالے دھن کے لامحدود اثاثوں کے مالک لوگ نوآبادیاتی ریاست کے ذمہ داران بن جائیں، یعنی ریاست کو چلانے والے، ریاستی آئین بنانے والے، سول و عسکری امور اور عدالتی نظام کے نگران بن جائیں، تو پھر یہ اپنے لیے اور اپنے کاروباری شراکت داروں (رئیل اسٹیٹ کے کرداروں، بینکاروں، کارپوریشنوں، ملٹی نیشنل نجی اداروں، میڈیا ہاؤسز، جاگیرداروں) کے لیے ایمنسٹی اسکیمیں ریاست سے جاری کرواتے ہیں۔ آئیں اس کو سمجھتے ہیں!
معنی و مفہوم:
ایمنسٹی اسکیم (Tax Amnesty Scheme) کو اگر سادہ الفاظ میں بیان کیا جائے تو یہ ریاست کی طرف سے ان لوگوں کو دی جانے والی "عام معافی" ہے جنہوں نے قانون کی نظروں سے چھپا کر دولت جمع کی ہوتی ہے۔ اسے "کالے دھن کو سفید کرنے کی قانونی لانڈری" بھی کہا جا سکتا ہے۔
ایمنسٹی اسکیم ایک محدود وقت کے لیے حکومت کی جانب سے پیش کردہ وہ پیشکش ہے جس کے تحت شہری اپنے غیر اعلانیہ اثاثے (کالا دھن، جائیداد، غیر ملکی اکاؤنٹس) معمولی ٹیکس ادا کر کے ظاہر کر سکتے ہیں۔ اس کے بدلے میں ریاست ان سے یہ نہیں پوچھتی کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، اور انہیں قانونی کارروائی یا جرمانے سے استثنیٰ مل جاتا ہے۔
بظاہر مقاصد:
· دستاویزی معیشت: غیر دستاویزی پیسے کو بینکنگ نظام میں لانا۔
· فوری ریونیو: سرکاری خزانے میں فوری طور پر معمولی ٹیکس کی رقم جمع کرنا۔
· ٹیکس نیٹ میں اضافہ: نئے لوگوں کو ٹیکس دینے والوں کی فہرست میں شامل کرنا۔
پاکستان میں ایمنسٹی اسکیموں کی تاریخ!
پاکستان کی تاریخ میں اب تک تقریباً 15 سے زائد بڑی ایمنسٹی اسکیمیں لائی جا چکی ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہماری ریاست کا ٹیکس وصولی کا نظام (FBR) مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اور وہ صرف اشرافیہ کی مرضی پر چلتا ہے۔
· 1958 ایوب خان: ملک کی پہلی بڑی ایمنسٹی۔ مقصد نوآبادیاتی دور کے بعد جمع شدہ کالا دھن نکالنا تھا۔
· 1969 یحییٰ خان: سیاسی بے چینی کے دوران معیشت کو سہارا دینے کی کوشش۔
· 1976 ذوالفقار علی بھٹو: سوشلزم کے تجربے کے دوران نجی سرمائے کو واپس لانے کی کوشش۔
· 1997 نواز شریف: معاشی بحران اور ایٹمی دھماکوں کے بعد ڈالر کی ضرورت۔
· 2000 پرویز مشرف: 'منی لانڈرنگ' کے خلاف عالمی دباؤ اور غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنے کے لیے۔
· 2013 ن لیگ: سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے (Investment Tax Scheme)۔
· 2018 شاہد خاقان عباسی: انتخابی سال میں اشرافیہ کو بڑا ریلیف دیا گیا، جسے پی ٹی آئی نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
· 2019 پی ٹی آئی (عمران خان): آئی ایم ایف کے دباؤ اور بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے 'اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم'۔
· 2020/21 پی ٹی آئی: تعمیراتی شعبے (Construction Sector) کے لیے خصوصی ایمنسٹی تاکہ کالا دھن سیمنٹ اور سرئیے میں لگے۔
ایک مختصر تجزیہ!
صرف اس مذکورہ بالا گراف کو ہی دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نوآبادیاتی نظام/غلامی کے دور میں تمام حکومتیں ان سماج دشمن عناصر کے سامنے سرنڈر کر جاتی تھیں۔ یا دوسرے لفظوں میں، آج تک جتنی بھی نوآبادیاتی ریاستی اداروں کے تحت حکومتیں بنیں، وہ بنیادی طور پر انہی کالا دھن والے مالکان کی ہی تھیں۔ یہاں کبھی بھی انسان دوست حکومت یا عوامی نمائندوں کی حکومت بن ہی نہیں سکی۔ نتیجتاً قیامِ پاکستان سے آج تک دس فیصد نوآبادیاتی آدم خور اشرافیہ کی دولت میں مسلسل اضافہ اور نوے فیصد عوام کی ہر سہولت (جیسے صاف پانی، تعلیم، صحت، رہائش، روزگار) میں تیز ترین گراوٹ کا سلسلہ جاری رہا۔
نوآبادیاتی ریاستی اداروں کا مؤقف!
ریاست ان اسکیموں کا دفاع "مجبوری" کہہ کر کرتی ہے، لیکن اس کے پیچھے گہرے طبقاتی مفادات ہوتے ہیں:
· اشرافیہ کا گٹھ جوڑ: پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے مالیاتی مددگار (Donors) وہی لوگ ہیں جنہوں نے کالا دھن جمع کیا ہوتا ہے۔ ایمنسٹی ان کے لیے "وفاداری کا صلہ" ہوتی ہے۔
· ایف بی آر کی ناکامی: جب ریاست اپنے نوآبادیاتی ڈھانچے کی وجہ سے طاقتوروں سے ٹیکس وصول نہیں کر پاتی، تو وہ ان کے سامنے "ترلے" (ایمنسٹی) پیش کرتی ہے۔
· بیرونی دباؤ اور زرمبادلہ: جب ملک کے پاس ڈالر ختم ہو جاتے ہیں، تو حکومت سمندر پار پاکستانیوں اور مقامی امیروں کو ترغیب دیتی ہے کہ وہ کالا دھن ظاہر کر کے ڈالر سسٹم میں لائیں۔
ایمنسٹی اسکیموں کے منفی اثرات!
ایک طبقاتی کارکن کے طور پر آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ اسکیمیں معاشرے میں "اخلاقی دیوالیہ پن" پیدا کرتی ہیں:
· ایماندار ٹیکس گزار کی حوصلہ شکنی: ایک عام تنخواہ دار آدمی (جس کا ٹیکس تنخواہ سے کٹ جاتا ہے) یہ دیکھ کر مایوس ہوتا ہے کہ اربوں روپے چھپانے والے کو ریاست گلے لگا رہی ہے۔
· مستقل ٹیکس چوری کی ترغیب: لوگ یہ سوچ کر ٹیکس نہیں دیتے کہ "کوئی بات نہیں، دو تین سال بعد کوئی نئی ایمنسٹی آ جائے گی اور ہم سستے میں کالا دھن سفید کر لیں گے"۔
· سماجی ناانصافی: یہ اسکیمیں طبقاتی فرق کو مزید واضح کرتی ہیں۔ غریب کو بجلی کا بل نہ دینے پر جیل بھیجا جاتا ہے، جبکہ ارب پتی کو ٹیکس چوری پر "ایمنسٹی" کا تحفہ ملتا ہے۔
خلاصہ:
پاکستان میں ایمنسٹی اسکیمیں "انصاف کے قتل" کا دوسرا نام ہیں۔ 1994 کی انرجی پالیسی سے لے کر 2022 کے سٹیٹ بینک ایکٹ تک، ہر بڑے معاشی فیصلے کی طرح ایمنسٹی اسکیم بھی اسی نوآبادیاتی تسلسل کا حصہ ہے جہاں ریاست کا کام عوام کی خدمت نہیں، بلکہ "ایلیٹ کیپچر" (Elite Capture) کو قانونی جواز فراہم کرنا ہے۔
ن لیگ (2018) اور پی ٹی آئی (2019) کی ایمنسٹی اسکیموں کا تنقیدی جائزہ!
یہ موازنہ دیکھ کر آپ کو اندازہ ہوگا کہ کیسے مختلف سیاسی نعروں کے باوجود، ریاست کا "آپریٹنگ سسٹم" ایک ہی مینوئل (Manual) پر چل رہا ہے۔ 2018 کی ایمنسٹی (ن لیگ) اور 2019 کی ایمنسٹی (پی ٹی آئی) دراصل ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں، جہاں مقصد معیشت کی بہتری سے زیادہ کالے دھن کو سفید لبادہ پہنا کر تحفظ فراہم کرنا تھا۔
ذیل میں ان دونوں اسکیموں کا مستند اعداد و شمار کے ساتھ موازنہ پیش ہے:
تقابلی جدول:
2018 ایمنسٹی اسکیم (ن لیگ دور)
کل اعلانیہ اثاثے تقریباً 2,500 ارب روپے
حاصل شدہ ٹیکس (Revenue) تقریباً 124
ٹیکس کی شرح 2% سے 5% (انتہائی کم)
فائدہ اٹھانے والے افراد تقریباً 84,000 افراد
بنیادی نعرہ "ڈالر واپس لاؤ"
2019 ایمنسٹی اسکیم (پی ٹی آئی دور)
کل اعلانیہ اثاثے تقریباً 3,000 ارب روپے
حاصل شدہ ٹیکس تقریباً 70 ارب روپے
ٹیکس کی شرح 1.5% سے 6% (مختلف کیٹیگریز)
فائیدہ اٹھانے والے تقریباً 110,000 افراد
بنیادی نعرہ "معیشت کو دستاویزی بناؤ"
تجزیہ: کتنا کالا دھن سفید ہوا اور ریاست کو کیا ملا؟
ان اعداد و شمار کو ایک طبقاتی سیاسی کارکن کی نظر سے دیکھیں تو چند ہولناک حقائق سامنے آتے ہیں:
الف: "ٹیکس کی خیرات" بمقابلہ "عوامی بوجھ"
2018 کی اسکیم میں اشرافیہ نے صرف 2% سے 5% ٹیکس دے کر اربوں روپے کے اثاثے قانونی کر لیے۔ اس کے برعکس، پاکستان کا ایک عام مزدور یا تنخواہ دار طبقہ اپنے بجلی کے بل پر 30% سے 40% تک مختلف ٹیکس (GST، Income Tax، Fuel Adjustment) ادا کرتا ہے۔ اور مزید بڑھتے ہوئے یہ ٹیکس کی شرح ہم نوے فیصد فقراء و غرباء پر مجموعی طور پر 60 فیصد تک بن جاتی ہے۔
نتیجہ: ریاست نے چوروں کو "رعایت" دی اور محنت کشوں کو "سزا"۔
ب: 2019 کی اسکیم کا تضاد
دلچسپ بات یہ ہے کہ 2019 کی پی ٹی آئی کی اسکیم میں اعلانیہ اثاثے تو زیادہ تھے (3000 ارب روپے)، لیکن ٹیکس وصولی (70 ارب روپے) پچھلی اسکیم سے آدھی رہ گئی۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس میں زمینوں اور جائیدادوں کی "سرکاری قیمت" (DC Rate) پر ٹیکس لیا گیا، جو کہ مارکیٹ کی اصل قیمت سے بہت کم ہوتی ہے۔ اس طرح کھربوں روپے کی جائیدادیں معمولی رقم دے کر سفید کر لی گئیں۔
یہ پیسہ کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟
· ذرائع: یہ کالا دھن زیادہ تر وہی تھا جو آئی پی پیز کے کک بیکس، اوور انوائسنگ، اور سرکاری ٹھیکوں میں کرپشن سے پیدا ہوا تھا۔
· پارکنگ: ایمنسٹی اسکیموں کے ذریعے اس پیسے کو "رئیل اسٹیٹ" (پلاٹوں اور ہاؤسنگ اسکیموں) میں قانونی تحفظ مل گیا۔
· گردش: جب یہ پیسہ رئیل اسٹیٹ میں گیا، تو اس نے زمین کی قیمتیں اتنی بڑھا دیں کہ ایک ایماندار محنت کش کے لیے دو مرلے کا مکان بنانا بھی خواب بن گیا اور آج 2026 میں فقراء و غرباء کی سات نسلیں یعنی تین سو سال مسلسل ہفتے کے سات دن 24 گھنٹے کام کرتی رہیں تب بھی وہ اتنی ماہانہ آمدنی سے بچت نہیں کر سکتے کہ دو مرلہ گھر یا دو کمروں والا اپارٹمنٹ کی خرید سکیں۔ یہ ہے آئی پی پیز مالکان جن میں ہمارے کاروباری، پارلیمان اور عسکری قیادت سب شامل ہیں، سب ملکر خوب جی بھر کر دن رات فقراء و غرباء کا معاشی سماجی قتل بزریعہ آئین کی شقوں کر رہے ہیں اور عدلیہ و انتظامیہ اس کے معاون و مددگار تماشائی۔
4. ایف بی آر (FBR) کا کردار: ایک سہولت کار
ان دونوں اسکیموں کے باوجود پاکستان کا "ٹیکس ٹو جی ڈی پی" (Tax-to-GDP) ریشو 9% سے اوپر نہ جا سکا، جو دنیا میں کم ترین سطح پر ہے۔ ایف بی آر نے ان اسکیموں کو بطور "شارٹ کٹ" استعمال کیا تاکہ اپنی نااہلی چھپا سکے، جبکہ نوآبادیاتی اشرافیہ نے اسے اپنی دولت بچانے کے لیے "قانونی ڈھال" بنایا۔
سیاسی کارکن کے لیے چارج شیٹ!
یہ دونوں اسکیمیں ثابت کرتی ہیں کہ:
· ریاست کے پاس طاقتور سے ٹیکس لینے کی نہ ہمت ہے نہ ارادہ۔
· آئی ایم ایف (IMF) ایسی اسکیموں کی مخالفت کا ڈرامہ تو کرتا ہے، لیکن آخر میں وہ بھی انہی کے ذریعے "فوری ریونیو" حاصل کر کے اپنا قرضہ واپس لینے کی راہ ہموار کرتا ہے۔
· یہ اسکیمیں "انصاف کے تصور" کی نفی ہیں، کیونکہ یہ جرم کو جرم نہیں بلکہ ایک "قابلِ سمجھوتہ سودا" بنا دیتی ہیں۔
خلاصہ:
2018 اور 2019 کی ایمنسٹی اسکیموں نے مل کر تقریباً 5,500 ارب روپے کا کالا دھن سفید کیا، لیکن قومی خزانے کو صرف 194 ارب روپے ملے۔ یہ سودا صرف ان لوگوں کے لیے فائدہ مند رہا جو نظام کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔
روپے کی بے قدری!
اب اسی سلسلے کی کالے دھن کے بعد آئی پی پیز والی نوآبادیاتی ریاستی مشینری نے جو واردات پاکستانی روپے سے کی، اس کا ایک سرسری تاریخی حقائق اور مستند اعدادوشمار کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
روپے کی قدر میں کمی (Devaluation) محض ایک معاشی ہندسہ نہیں ہے، بلکہ طبقاتی سیاست کے تناظر میں یہ "استحصال کا سب سے بڑا ہتھیار" ہے۔ جب ریاست روپے کی قدر گراتی ہے، تو وہ دراصل محنت کش طبقے کی جیب سے مال نکال کر عالمی سرمایہ کاروں اور مقامی اشرافیہ کی تجوریوں میں منتقل کر رہی ہوتی ہے۔ آئی پی پیز (IPPs) اور عالمی مالیاتی اداروں کے گٹھ جوڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم آگے بڑھتے ہیں۔
1. روپے کی بے توقیری: ایک سوچی سمجھی طبقاتی واردات
سیاسی کارکن کو یہ سمجھنا چاہیے کہ روپے کی قدر گرنے کا مطلب "اجرت کی چوری" ہے۔
· 1994 کا پس منظر: جب آئی پی پیز کے پہلے معاہدے ہوئے، تو ڈالر تقریباً 30 روپے کا تھا۔ آج یہ 280 روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ کیا ہمیں آج ان نوآبادیاتی ریاستی اشرافیہ کے زیر انتظام چلنے والے آئی پی پیز کے خلاف طبقاتی جڑت اور جدوجہد تیز کرنے کی ضرورت نہیں؟ کیا یہ ہمارے محنت کشوں کا قانونی قتل نہیں؟
· اثر: ایک محنت کش جو 1994 میں 3,000 روپے کماتا تھا، وہ دراصل 100 ڈالر کما رہا تھا۔ آج اگر وہ 30,000 روپے کما رہا ہے، تب بھی وہ تقریباً 106 ڈالر ہی کما رہا ہے۔ یعنی 30 سال کی "ترقی" کے باوجود اس کی عالمی قوتِ خرید وہیں کھڑی ہے، جبکہ اشرافیہ کے اثاثے (جو ڈالر اور رئیل اسٹیٹ میں ہیں) ہزاروں گنا بڑھ چکے ہیں۔
2. آئی پی پیز اور ڈالر انڈیکسیشن: عوام کا خون، اشرافیہ کا منافع
آئی پی پیز کے معاہدوں میں "Dollar Indexation" وہ چھری ہے جس سے 90 فیصد عوام کا گلا کاٹا گیا۔
· معاہدہ کیا ہے؟ حکومت نے آئی پی پیز کو ضمانت دی ہے کہ ان کا منافع ڈالر کی قیمت کے حساب سے دیا جائے گا۔
· طبقاتی فرق: اگر روپیہ 10% گرتا ہے، تو ایک عام کسان یا مزدور کی کھاد، پیٹرول اور بجلی 15% مہنگی ہو جاتی ہے، لیکن آئی پی پی مالک کا منافع 10% بڑھ جاتا ہے کیونکہ اسے ڈالر کے حساب سے ادائیگی ملتی ہے۔
· اعدادوشمار: پاکستان سالانہ تقریباً 2,100 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹس میں دیتا ہے، جو اب 2026 کے مالیاتی سال میں 3500 ارب ہونے جا رہی ہے۔ روپے کی قدر میں صرف 10 روپے کی کمی اس بوجھ میں سالانہ 100 سے 150 ارب روپے کا اضافہ کر دیتی ہے، جو عوام سے "فیول ایڈجسٹمنٹ" کے نام پر وصول کیا جاتا ہے۔ اور پھر ہمارا نوے فیصد موٹر سائیکل والا طبقہ مزید سماجی دباؤ تلے روند دیا جاتا ہے۔ اس کے بچوں کی تعلیم اور صحت نیست و نابود ہو جاتی ہے۔
3. روپے کی بے توقیری اور "معاشی یتیمی" (اعدادوشمار کا موازنہ)
ایک سیاسی کارکن کے لیے یہ تقابلی جائزہ ضروری ہے کہ کیسے روپے کی قدر گرنے سے سماج کے کمزور طبقات (عورتیں اور بچے) معاشی طور پر یتیم ہو جاتے ہیں۔
سال ڈالر کی قیمت 100 روپے میں آٹا
1994 ~30 روپے ~15 کلو
2014 ~100 روپے ~2.5 کلو
2024 ~280 روپے ~0.7 کلو
· قرض کا جال (Debt Trap): پاکستان کا مجموعی قرضہ 80 ٹریلین (80,000 ارب) روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس قرض کا بڑا حصہ ڈالر میں ہے۔ جب روپیہ گرتا ہے، تو پاکستان پر قرض کا بوجھ بغیر کوئی نیا ڈالر لیے صرف کرنسی گرنے سے اربوں روپے بڑھ جاتا ہے۔
· سیاسی نتائج: یہ بوجھ اٹھانے کے لیے ریاست تعلیم اور صحت کا بجٹ کاٹتی ہے۔ 90 فیصد عوام کے بچوں سے قلم چھین کر آئی پی پیز کے ڈالر پورے کیے جاتے ہیں۔ یہ وہی نظام ہے جسے ہم نے "نسلوں کی غلامی" قرار دیا ہے۔
سیاسی کارکنوں کے لیے تجزیہ:
روپے کی بے توقیری محض معاشی بدانتظامی نہیں، بلکہ منظم طبقاتی جنگ ہے۔ اس کا مقصد:
· لوکل کیپٹل کو ڈالر میں تبدیل کرنا: تاکہ اشرافیہ اپنا سرمایہ باہر منتقل کر سکے۔
· محنت کی سستی فراہمی: روپیہ گرنے سے پاکستانی مزدور کی عالمی قیمت کم ہو جاتی ہے، جس سے ملٹی نیشنل کمپنیاں سستی محنت کشی کشید کرتی ہیں۔
· ریاستی اثاثوں کی نیلامی: جب روپیہ گرتا ہے، تو ملک کے ایئرپورٹ، موٹرویز اور کارخانے غیر ملکیوں کے لیے سستے ہو جاتے ہیں (Privatization)۔
حاصلِ گفتگو:
شرفاء نے پاکستانی روپے کو بے توقیر کر کے دراصل پاکستانی پاسپورٹ، پاکستانی محنت اور پاکستانی مستقبل کو بے توقیر کر دیا ہے۔ آئی پی پیز کے ڈالر زدہ منافعے وہ زنجیریں ہیں جو نسل در نسل ہمیں عالمی سامراج کا غلام بنائے ہوئے ہیں۔
سماجی جرائم کے حوالے سے آئی پی پیز کا مرکزی کردار!
پاکستان میں 1994 سے پہلے اور بعد کے سماجی جرائم اور جیلوں کے اعداد و شمار کا موازنہ محض قانون پسندی کا مسئلہ نہیں، بلکہ یہ براہِ راست ہمارے بیان کردہ "معاشی یتیمی" اور "روپے کی بے توقیری" کا شاخسانہ ہے۔ طبقاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو جب ریاست بنیادی ضروریات (بجلی، تعلیم، صحت) کو آئی پی پیز جیسے معاشی ضرب کاروں کی نذر کر دیتی ہے، تو سماج میں جرم ایک "ردعمل" کے طور پر ابھرتا ہے۔
ذیل میں اس صورتحال کا تفصیلی اور مدلل تجزیہ پیش ہے:
1. سماجی جرائم کی لہر: معاشی تنگی اور مجرمانہ نفسیات
1994 کے بعد جب آئی پی پیز کی آمد ہوئی اور بجلی کی قیمتوں نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو کچلنا شروع کیا، تو جرائم کی نوعیت بدل گئی۔
· 1994 سے پہلے: پاکستان میں جرائم کی بڑی وجہ قبائلی دشمنیاں یا ذاتی تنازعات تھے۔ اسٹریٹ کرائم (Street Crime) اور معاشی جرائم کی شرح نسبتاً کم تھی۔
· 1994 کے بعد: پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور روپے کی گراوٹ نے "بقا کے جرائم" (Survival Crimes) کو جنم دیا۔ چھینا جھپٹی، ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان میں اچانک تیزی آئی۔
تقابلی اعدادوشمار (تقریبی سالانہ اوسط):
جرم کی نوعیت 1990 - 1994 (اوسط سالانہ) 2010 - 2024 (اوسط سالانہ) اضافہ
ڈکیتی و راہزنی ~15,000 کیسز ~90,000+ کیسز 500% سے زائد
اغوا برائے تاوان محدود (صرف مخصوص علاقوں میں) ملک گیر (بشمول کچے کے علاقے) 800%
منشیات فروشی کم (سماجی ڈھانچہ مضبوط تھا) خوفناک حد تک زیادہ 1000%
2. جیلوں کی صورتحال: گنجائش سے زیادہ بوجھ
پاکستان کی جیلیں اس طبقاتی تقسیم کا سب سے بڑا ثبوت ہیں۔ 1994 کے بعد جیلوں میں قیدیوں کی تعداد میں جو اضافہ ہوا، وہ ملکی آبادی میں اضافے کی شرح سے کہیں زیادہ ہے۔
· قیدیوں کی تعداد: 1990 کی دہائی کے اوائل میں پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی کل تعداد تقریباً 40,000 سے 50,000 کے درمیان تھی۔
· موجودہ صورتحال (2024-25): آج پاکستان کی جیلوں میں 100,000 سے زائد قیدی موجود ہیں، جبکہ جیلوں کی کل گنجائش تقریباً 65,000 ہے۔
· طبقاتی موازنہ: ان جیلوں میں 90 فیصد قیدی وہ "فقراء و غرباء" ہیں جو معمولی معاشی جرائم یا سالہا سال سے جاری عدالتی پیچیدگیوں کی وجہ سے قید ہیں۔ جبکہ وہ "10 فیصد شرفاء" جنہوں نے آئی پی پیز کے ذریعے ملک کا اربوں ڈالر لوٹا، وہ ان جیلوں سے نہ صرف آزاد ہیں بلکہ ریاستی مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں۔
3. معاشی قتلِ عام اور خودکشیاں
ایک ایسا جرم جس کا ذکر 1994 سے پہلے پاکستان میں نہ ہونے کے برابر تھا، وہ ہے "معاشی تنگی کی وجہ سے خودکشی"۔
· نفسیاتی اثر: جب باپ بجلی کا بل ادا کرنے اور بچوں کو دودھ پلانے کے درمیان کسی ایک کا انتخاب نہیں کر پاتا، تو وہ جرم یا خودکشی کی طرف مائل ہوتا ہے۔
· اعدادوشمار: انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق، گزشتہ ایک دہائی میں بجلی کے بلوں اور قرضوں سے تنگ آکر خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں 400% اضافہ ہوا ہے۔ یہ وہ "سفید پوش" طبقہ ہے جسے آئی پی پیز کے ڈالر انڈیکسیشن نے جیتے جی مار دیا۔
4. عدالتی نظام اور شرفاء کا تحفظ
1994 کے بعد ایک نیا رجحان یہ دیکھا گیا کہ ریاست نے "کارپوریٹ جرائم" کو قانونی تحفظ دیا۔
· وائٹ کالر کرائم: آئی پی پیز کے مالکان نے منی لانڈرنگ اور ڈالر کی قیمت میں ہیرا پھیری کے ذریعے جو اثاثے بنائے، انہیں "انویسٹمنٹ فرینڈلی پالیسی" کا نام دیا گیا۔
· جیل صرف غریب کے لیے: آج پاکستان کی جیلوں کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ وہاں موجود 70 فیصد قیدی "انڈر ٹرائل" (زیرِ سماعت) ہیں، جن کے پاس ضمانت کے پیسے نہیں ہیں۔ یعنی روپیہ جتنا بے توقیر ہوا، غریب کی آزادی اتنی ہی مہنگی ہو گئی۔
حاصلِ بحث (سیاسی کارکن کے لیے):
1994 سے پہلے کا پاکستان معاشی طور پر "خود کفیل" تھا جس کی وجہ سے سماجی استحکام موجود تھا۔ 1994 کے بعد جب ریاست نے اپنے وسائل (بجلی و پانی) عالمی سرمایہ داروں کو لیز پر دے دیے، تو سماج میں انتشار پھیلا۔
یہ جرائم دراصل "سماجی بیماری" نہیں ہیں، بلکہ اس "معاشی کینسر" کی علامات ہیں جس کی جڑیں آئی پی پیز کے ان معاہدوں میں ہیں جنہوں نے روپے کو کوڑیوں کا کر دیا۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی جیلوں میں بند 90 فیصد قیدی دراصل ان "10 فیصد شرفاء آئی پی پیز مالکان" کی پالیسیوں کا شکار ہیں؟ جی ہاں، ہمیں اس پر بولنا ہوگا، لکھنا ہوگا، شور مچانا ہوگا۔ اپنا سماجی نوحہ گلی، محلے، گاؤں، کارخانوں، بازاروں، سکولوں، مدرسوں، مسجدوں، کھیتوں اور کھلیانوں میں لے کر جانا ہوگا، تاکہ ہم امیدِ سحر بن سکیں اپنی نسلوں کے لیے جو صدیوں سے نوآبادیاتی نظام پر مشتمل ریاستی مشینری کی غلامِ بن غلام بن کر جی رہی ہیں، جو ادھوری زندگی جی کر دورِ غلامی / نوآبادیاتی نظام کو اپنا مقدر سمجھ بیٹھیں۔ ہمیں اپنے آپ کو، اپنے نوے فیصد فقراء و غرباء کو جگانا ہوگا کہ نوآبادیاتی دور حقیقت میں دورِ غلامی ہے، جس کو نیست و نابود کیے بغیر ہم عوامی، جمہوری، فلاحی پاکستان نہیں بنا سکتے۔
ہمیں اس ریاست کی پارلیمان کو، سول و عسکری ڈھانچے کو، عدلیہ کو عوامی اور مقامی بنانا ہوگا، جو ہم سب کی ضروریات کو پورا کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہو، جو رئیل اسٹیٹ، ٹرانسپورٹ، بنکاری، ادویات سازی، کھادیں بنانے اور توانائی کے کاروبار سے نکل کر سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ جو ہم میں مقبول ہو اور جسے ہم قبول کریں۔ اسی نکتۂ واحدہ سے نوے فیصد فقراء و غرباء کی شاندار، جاندار تاریخ کا آغاز ہوگا، جو بہرحال ہو چکا۔ باقی اس کی تدوین کا کام آئندہ کا مؤرخ کرے گا، وہ بتائے گا کہ کیسے 1757 سے شروع ہونے والی نوآبادیاتی ریاست کو پونے تین سو سال بعد جڑ سے اکھاڑنے کے لیے سماج نے کروٹ لی۔
از قلم!! عمر وارث
عوامی اتحاد پارٹی
شرفاء کے کھیل (2) ۔۔ آئی پی پیز
قسط نمبر 2/2
پاکستان میں متبادل توانائی کا ایک سرسری جائزہ!!
ریاست کی حقیقی ترجیحات: عوام یا اشرافیہ؟
یہ وہ بنیادی سوال ہے جس میں پوری طبقاتی کشمکش کا درست جواب چھپا ہوا ہے۔ یہی وہ مقام ہے کہ جس سے ہم نے اپنے سماجی و سیاسی شعور کو اپنے طبقہ میں لے کر جانا ہے۔ آئیں ایک حالیہ جاری تلخ حقیقت سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں!
1. پاکستان میں متبادل توانائی کی لامحدود ممکنات (Potential)
پاکستان میں قدرتی وسائل کی اتنی فراوانی ہے کہ اگر انہیں بروئے کار لایا جائے تو نہ صرف پورا ملک بلکہ پڑوسی ممالک کو بھی بجلی فراہم کی جا سکتی ہے۔
متبادل بجلی ذرائع کا سرکاری تخمینہ!
* سولر پینلز سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت! 2.9 ملین میگا واٹ
* موجودہ پیداوار! 8444 میگا واٹ
* ہوا کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت! 50,000 میگا واٹ
* موجودہ پیداوار! 1,845 میگا واٹ
* آبی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت! 60,000 میگا واٹ
* موجودہ پیداوار! 11,853 میگا واٹ
* متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت! 3 ملین میگا واٹ سے زائد
* موجودہ قومی ضرورت: ~25,000 میگا واٹ (قومی ضرورت سے 120 گنا زیادہ)
یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی کل ضرورت (جو تقریباً 25-30 ہزار میگا واٹ ہے) صرف شمسی توانائی کی ممکنات کا 1 فیصد بھی نہیں۔ یعنی ہم اپنی ضرورت سے 100 گنا زیادہ بجلی صرف شمسی توانائی سے پیدا کر سکتے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ جب اتنی لامحدود ممکنات موجود ہیں تو پھر عوام کو مہنگی بجلی کیوں برداشت کرنی پڑتی ہے؟ جواب: آئی پی پیز کے کمیشن اور نوآبادیاتی معاہدے۔
کیا کبھی خود مختاری، خود اعتمادی اور خود انحصاری کی منازل ہم بحیثیت قوم انگریز کے بنائے ہوئے نوآبادیاتی اداروں کے ساتھ حاصل کر پائیں گے؟ تو جواب ہے سو فیصد نہیں کبھی نہیں۔ اور نہ ہی دو سو ممالک کی دو سو سالہ تاریخ۔ تو پھر یہ انہونی وطن عزیز پاکستان میں کیسے رونما ہو جائے گی؟
کیوں؟ کیونکہ میرے دوستو اس انگریزی نوآبادیاتی ریاستی اداروں کی یہ منزل ہی نہیں، وہ اس طرف توجہ کیوں دیں گے؟ وہ کیوں نہ کبھی ٹرمپ کو نوبل انعام سے نوازنے کے لیے عالمی برادری سے درخواست نہ دیں جہاں سے ان کی اقتدار کی ان کو ضمانت ملتی ہے؟
کبھی امریکی اشاروں پر!
۔ اپنے بچوں کو مدرسوں و مساجد میں زندہ جلانے
۔ کبھی اپنی بستیوں پر میری کمائی کے ٹینک چڑھانے
۔ کبھی بلوچستان کے لوگوں کو غائب کرنا، ان کے بچوں اور والدین کو سر عام گولیوں سے چھلنی کرنا
۔ کبھی چند دن دنوں میں انصاف پر مبنی انتخابات کروا کر حقیقی عوامی نمائندوں کے ہاتھوں اختیار دینے کا وعدہ کرتے ہوئے خود گیارہ سال اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر پوری سرکاری مشینری کی قوت سے ملک کے اندر منشیات اور اسلحہ کو پھیلانے کے ساتھ ملکی معیشت کو آئی ایم ایف کے سپرد کرنا۔
۔ کبھی جاگیر دارانہ پس منظر کے ساتھ سوشلزم کا نعرہ لگا کر ملک میں جمہوری آزادیوں کو سلب کرنا
کیا یہ عوامی و مقامی اور جمہوری پیداوار تھیں ؟؟ کیا یہ سب نوآبادیاتی ریاستی اداروں کی قوت کے زریعے ہم سب کی جان مال عزت تعلیم صحت روزگار رہائش کے لٹیرے نہ تھے؟ کیا ان کی زندگیوں کے حتمی نتائج مجھے بے گھر کرنا، غربت کی دلدل میں دھکیلنا نہ تھا؟ کیا ہم نے بحیثیت قوم ان کی قوت کی پوجا نہ کی؟
تو کیا آج ہم ان عالمی سامراجی طاقتوں کے قائم کردہ نوآبادیاتی ریاستی اداروں سے بغیر آئینی جمہوری سیاسی سماجی اخلاقی مقامی مزاحمت کے حقیقی آزادی و خودمختاری حاصل کر پائیں گے؟؟ آئیں زرا ان کی مالیاتی قانونی اور انتظامی قوت کا اندازہ لگائیں تاکہ اس کے مطابق ہم اپنا احتساب کرتے ہوئے اپنے طبقہ کے ساتھ جڑنے کی کوشش کریں۔
2. نوآبادیاتی ریاست کا نیا حربہ: نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ
جب عوام نے خود سولر لگا کر ان آئی پی پیز سے نجات حاصل کرنا چاہی تو ریاستی اداروں نے ایک اور نوآبادیاتی چال چلی۔
فروری 2026 میں نیپرا نے پرانے نیٹ میٹرنگ قوانین کو ختم کر دیا اور نیا "پروزیومر" ریگولیشن لاگو کر دیا:
| خصوصیت | پرانا نظام | نیا نظام |
| تبادلہ | یونٹ کے بدلے یونٹ (1-to-1) | بجلی بیچیں گے کم قیمت پر، خریدیں گے زیادہ پر |
| خریداری قیمت | 25.9 روپے فی یونٹ | نئی قیمت: ~11 روپے فی یونٹ |
| معاہدہ دورانیہ | 7 سال | 5 سال (باہمی رضامندی سے توسیع) |
| بوجھ | صارفین کو آئی پی پیز کی ادائیگی نہیں کرنی تھی | اب آئی پی پیز کی کیپیسٹی پیمنٹس کا بوجھ سولر صارفین پر بھی |
اس کا مطلب ہے کہ جس عوام نے خود بجلی پیدا کر کے ریاستی نظام سے آزاد ہونا چاہا، اب انہیں بھی انہی بیکار آئی پی پیز کی ادائیگی کرنی ہوگی۔ یہ نوآبادیاتی ذہنیت ہے - عوام کو آزاد نہیں ہونے دیں گے، انہیں اسی جبری نظام میں رکھیں گے۔
* سولر نیٹ میٹرنگ سے FY26 تک 7,794 میگا واٹ بجلی گرڈ میں شامل ہو جائے گی۔
* آف گرڈ سولر (چھتوں پر) کی صلاحیت 12,000 میگا واٹ سے تجاوز کر گئی۔
* نیٹ میٹرنگ صارفین میں تقریباً 198,000 کا اضافہ ہو رہا ہے۔
لیکن جب عوام نے بجلی کے بلوں سے نجات پانا شروع کی تو ریاستی ادارے گھبرا گئے۔ کیوں؟ کیونکہ:
* اگر عوام گرڈ سے الگ ہو گئے تو آئی پی پیز کو کیپیسٹی پیمنٹس کون دے گا؟
* اگر سولر پھیل گیا تو سرکاری ڈسکوز کا کاروبار ختم ہو جائے گا۔
* اگر بجلی سستی ہو گئی تو آئی پی پیز کے کمیشن بند ہو جائیں گے۔
نوآبادیاتی عناصر کی نشاندہی:
* وسائل کا استخراج، مقامی استعمال نہیں: جس طرح انگریز ہندوستان سے وسائل نکال کر لے جاتے تھے، اسی طرح آج آئی پی پیز (جن میں سے بیشتر غیر ملکی یا مقامی اشرافیہ کی ہیں) منافع نکال رہی ہیں اور عوام کو قرضوں میں ڈبو رہی ہیں۔
* مقامی حل کو نظرانداز کرنا: 2.9 ملین میگا واٹ شمسی صلاحیت موجود ہے، لیکن اسے استعمال کرنے کی بجائے مہنگے آئی پی پیز کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
* عوام کو فیصلہ سازی سے باہر رکھنا: جب عوام نے خود سولر لگا کر بجلی کے مسئلے کا حل نکالا تو فوری طور پر نیپرا نے وہ حل بھی چھین لیا۔
* غیر ملکی قرضوں کی غلامی: آئی پی پیز کے معاہدے بین الاقوامی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف) کے دباؤ پر کیے گئے، اور اب آئی ایم ایف ہی انہیں تبدیل کرنے کی شرائط دے رہا ہے۔
نتیجہ!!
پاکستان میں متبادل توانائی کی صلاحیت قومی ضرورت سے 100 گنا زیادہ ہے۔ تین لاکھ میگا واٹ شمسی، 50 ہزار میگا واٹ ہوا، 60 ہزار میگا واٹ پانی - یہ وہ وسائل ہیں جو اس ملک کو توانائی میں خود کفیل بلکہ برآمد کنندہ بنا سکتے ہیں۔
ضروری یاداشت!! الجزائر کی مثال
یاد رہے کہ ہم اپنے طبقہ سے منظم طریقے سے جڑے، اس پر اعتماد کئے بغیر ہزاروں سال کی جدوجہد کے بعد بھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے!!
الجزائر کی نوآبادیات آقا کے خلاف باقاعدہ جنگ ناکہ قانونی کارروائی!!
دوستو!! الجزائر نے خون کی جو قیمت اپنی آزادی کے لیے ادا کی، وہ تاریخِ انسانی میں بہت کم قوموں کے حصے میں آئی، مگر معاشی طور پر وہ اسی جال میں پھنس گیا جس کا نوحہ ہم اپنے آئی پی پیز کے تناظر میں کر رہے ہیں۔
1. الجزائر کے تیل اور گیس کے ذخائر
الجزائر افریقہ کے ان ممالک میں شامل ہے جو قدرتی وسائل سے مالامال ہیں۔
* تیل کے ذخائر: الجزائر کے پاس تقریباً 12.2 ارب بیرل ثابت شدہ خام تیل کے ذخائر ہیں (یہ دنیا میں 16 ویں نمبر پر ہے)۔
* گیس کے ذخائر: اس کی اصل طاقت گیس ہے۔ اس کے پاس تقریباً 4.5 ٹریلین مکعب میٹر قدرتی گیس کے ذخائر ہیں، جو اسے دنیا کے ٹاپ 10 ممالک میں شامل کرتے ہیں۔
* اہمیت: یہ یورپ کو گیس فراہم کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے، جو اس کی تزویراتی اہمیت کو بڑھاتا ہے۔
2. سامراج کے خلاف عوامی جدوجہد (1954 - 1962)
الجزائر کی آزادی کی تحریک (War of Independence) سامراج کے خلاف مزاحمت کا استعارہ ہے۔
* خونی تاریخ: فرانس نے 1830 میں الجزائر پر قبضہ کیا اور اسے اپنی "کالونی" نہیں بلکہ اپنا "حصہ" قرار دیا۔ فرانسیسیوں نے وہاں کی مقامی ثقافت اور زبان کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
* دس لاکھ شہداء کی زمین: الجزائر کو "ملین شہداء کی سرزمین" کہا جاتا ہے۔ 1954 میں FLN (نیشنل لبریشن فرنٹ) نے مسلح جدوجہد کا آغاز کیا۔ آٹھ سالہ جنگ میں 15 لاکھ کے قریب الجزائری شہید ہوئے، لیکن انہوں نے فرانس جیسے طاقتور سامراج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
* نفسیاتی فتح: اس جدوجہد نے پوری دنیا کے مظلوم طبقات کو یہ حوصلہ دیا کہ ایک نہتی قوم جدید ترین ہتھیاروں سے لیس سامراج کو شکست دے سکتی ہے۔
لیکن دوستو یاد رہے کہ آج الجزائر ہماری طرح تعلیم و صحت رہائش و روزگار کو اپنے لوگوں تک نہیں پہنچا سک رہا ۔۔۔۔ وجہ بھی وہی جو ہماری ہے یعنی!!
1۔ "طاقت کا مرکز" (Le Pouvoir) - نئی اشرافیہ کا جنم
آزادی کے بعد، وہ انقلابی جو پہاڑوں میں لڑ رہے تھے، شہروں میں آ کر "کالے انگریزوں" (یا یہاں "کالے فرانسیسیوں") کی شکل اختیار کر گئے۔
* فوجی و بیوروکریٹک گٹھ جوڑ: الجزائر میں ایک اصطلاح استعمال ہوتی ہے "Le Pouvoir"۔ یہ فوج کے اعلیٰ افسران اور بااثر بیوروکریٹس کا ایک ایسا غیر مرئی گروہ ہے جو پردے کے پیچھے سے ملک چلاتا ہے۔
* اثر: یہ گروہ وسائل کی بندر بانٹ میں مصروف رہتا ہے اور عوامی نمائندگی کو صرف ایک ڈھونگ بنا کر رکھ دیتا ہے۔ انہوں نے وہی نوآبادیاتی ڈھانچہ برقرار رکھا جو فرانس نے بنایا تھا، بس اب مالک بدل گئے تھے۔
ج: تعلیمی اور ذہنی نوآبادیات کا تسلسل
فرانس نے الجزائر کے تعلیمی اور انتظامی ڈھانچے کو اس طرح ڈیزائن کیا تھا کہ وہاں سے نکلنے والا ذہن ہمیشہ مغرب کی طرف دیکھتا رہے۔
* مسئلہ: آزادی کے بعد بھی الجزائر اپنی "شناخت" کی جنگ ہار گیا۔ بیوروکریسی فرانسیسی زبان اور طرزِ عمل میں جکڑی رہی۔ جب تک انتظامی ڈھانچہ اور سوچ آزاد نہیں ہوتی، محض جھنڈا بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتی۔
مختصر یہ کہ، الجزائر نے سیاسی آزادی تو بندوق کے زور پر لے لی، لیکن معاشی اور ذہنی آزادی کے لیے جس "طبقاتی جدوجہد" اور "پیداواری ڈھانچے" کی ضرورت تھی، وہاں وہ اشرافیہ کے ہاتھوں میں مرکوز رہی۔
خلاصہ! آج بھی الجزائر میں نوآبادیاتی دور کے بنائے ہوئے ریاستی ادارے رواں دواں اور نتیجہ بھی وہی کہ دس فیصد آدم خور اشرافیہ امیر سے امیر تر ہوتی جا رہی ہے اور عوام ہماری طرح فقراء و غرباء جیسی اجیرن زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا گئی۔
یعنی اصل معاملہ قدرتی وسائل اور افرادی قوت کی بہتات کا نہیں بلکہ ان کو استعمال لانے والی ریاستی مشینری، اس کی ثقافتی شناخت اور ان اداروں کی بناوٹ جس میں ان اداروں کے ادارہ جاتی مقاصد کو اولیت دی جا رہی ہوتی ہے۔
اب اگر اداروں کا کام ریاستی جبر کے ذریعے عوام کو خوف میں مبتلا رکھنا ہو ،،، قدرتی وسائل اور لوگوں کی محنت پر ڈاکہ ڈال کر سرمایہ بیرون ملک بھیجنا ہو تو دوستو ایمان رکھیں کہ نتائج ہمیشہ میرے پاکستان اور الجزائر جیسے ہی برآمد ہونگے ۔۔۔ یہی تاریخ کا سبق ۔
لیکن نوآبادیاتی ریاست کے خلاف جدو جہد کی بنیاد کو!
جب تک عوامی اتحاد کے طبقاتی نظریہ سے عوام کی تمام سماجی تہوں تک رسائی نہیں حاصل کی جائے گی ؟؟ جب تک لوگوں کو اپنی جدو جہد کا باقاعدہ حصہ نہیں بنایا جائے گا ؟؟ جب تک عوامی بیداری کی لہر کو مزدوروں کسانوں طلبہ چھوٹے تاجروں غریب مولویوں مدرسوں تک نہیں پہنچایا جائے گا ۔۔۔ یقین کریں کہ ہم کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ طبقاتی لیڈرشپ پر اعتماد لانا اور پارٹی کی مضبوطی کے لیے باہمی جڑنا اور جدوجہد کا حصہ بننا اصل مقصد ہو گا تو ہم بھی اپنی ریاست کو عوامی بناتے ہوئے اپنے قدرتی وسائل کو اپنے لیے اپنی ضروریات کے مطابق استعمال کرنے کی صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں۔
آئیں اسی ضمن میں واپس لوٹ کر اپنے ایک حالیہ اور دوسرا نوآبادیاتی دور کا بنا معاہدہ کا موازنہ کریں یقیناً اس سے ہمیں کافی کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا ۔
1994 کا موازنہ 1849 کے ساتھ!!
جی ہاں! 1849 کے انڈین ریلوے معاہدے اور 1994 کے آئی پی پیز معاہدوں میں حیرت انگیز حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔
1849 کا انڈین ریلوے معاہدہ: نوآبادیاتی استحصال کا نمونہ
1849 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے برطانیہ کی نجی کمپنیوں کے ساتھ ریلوے تعمیر کا معاہدہ کیا۔ اس کی شرائط درج ذیل تھیں:
شرائط کا جائزہ:
* گارنٹیڈ منافع (Guaranteed Return): برطانوی حکومت نے ان کمپنیوں کو 5% سالانہ منافع کی گارنٹی دی۔ چاہے ریلوے نقصان میں چلے یا نہ چلے، یہ منافع ہندوستانی ٹیکس دہندگان سے وصول کیا جاتا تھا۔
* ڈالر (پاؤنڈ) میں طے شدہ معاہدہ: تمام ادائیگیاں برطانوی کرنسی (پاؤنڈ سٹرلنگ) میں طے پائیں، جس سے کرنسی کے اتار چڑھاؤ کا سارا بوجھ ہندوستان پر پڑا۔
* ریاستی گارنٹی: اگر کوئی کمپنی دیوالیہ ہو جائے تو حکومت اس کے قرضے ادا کرنے کی ذمہ دار تھی۔
* طویل المدتی معاہدہ: معاہدے عام طور پر 99 سال کے لیے کیے گئے۔
* غیر ملکی کنٹرول: تمام ریلوے لائنوں کا انتظام اور انجینئرنگ برطانوی کمپنیوں کے پاس رہی، ہندوستانیوں کو صرف مزدور بنایا گیا۔
* مقابلے کی بندش: حکومت نے ان کمپنیوں کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی اور ریلوے لائن نہیں بنے گی جو ان کے منافع کو متاثر کرے۔
اثرات:
* 1900 تک ہندوستان نے ریلوے پر 350 ملین پاؤنڈ خرچ کیے، لیکن زیادہ تر منافع برطانیہ چلا گیا۔
* ٹیکسوں میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا، عوام پر بوجھ بڑھتا گیا۔
* ریلوے کا نظام ہندوستان کی ضروریات کے مطابق نہیں، بلکہ برطانوی مفادات (خام مال کی نقل و حمل) کے مطابق ڈیزائن ہوا۔
1994 کا آئی پی پیز معاہدہ: نوآبادیات کا نیا روپ
1994 میں پاکستان نے بجلی کے بحران کو حل کرنے کے لیے نجی پاور پلانٹس (IPPs) کو مدعو کیا۔ ان معاہدوں کی شرائط دوبارہ دیکھیں:
شرائط کا جائزہ:
* گارنٹیڈ منافع (Capacity Payments): آئی پی پیز کو "ٹیک اور پے" کی بنیاد پر معاہدے دیے گئے۔ یعنی چاہے بجلی لی جائے یا نہ لی جائے، انہیں کیپیسٹی پیمنٹس دینا ہوں گی۔ 2025-26 میں یہ کیپیسٹی پیمنٹس 3500 ارب روپے سالانہ ہیں۔
* ڈالر انڈیکسیشن: آئی پی پیز کے معاہدے ڈالر میں طے پائے۔ سیکرٹری پاور ڈویژن کے مطابق، ڈالر کی قدر بڑھنے سے کیپیسٹی پیمنٹس دوگنی ہو گئی ہیں۔
* ریاستی گارنٹی: حکومت نے ان کمپنیوں کو گارنٹی دی کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو حکومت ادائیگی کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج سرکلر ڈیٹ 5,082 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔
* طویل المدتی معاہدہ: معاہدے 25-30 سال کے لیے کیے گئے۔
* غیر ملکی کنٹرول: ان میں سے کچھ آئی پی پیز غیر ملکی کمپنیوں کی ہیں (جیسے ہبکو، ایس جی پاور وغیرہ)۔ ٹیکنالوجی، ایندھن، اور انتظام سب غیر ملکی کنٹرول میں ہے۔
* مقابلے کی بندش: جب عوام نے سولر لگا کر خود بجلی پیدا کرنا شروع کی تو ریاستی اداروں نے نیٹ میٹرنگ ختم کر کے اسے روک دیا تاکہ آئی پی پیز کے منافع متاثر نہ ہوں۔
اثرات:
* فی یونٹ بجلی میں 19 روپے کیپیسٹی پیمنٹس کے نام پر اضافی وصول کیے جا رہے ہیں۔
* عوام پر 3500 ارب روپے سالانہ کا بوجھ ہے۔
* سرکلر ڈیٹ 5,082 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔
* پاکستان میں متبادل توانائی کی 2.9 ملین میگا واٹ صلاحیت موجود ہونے کے باوجود استعمال نہیں کی جا رہی۔
نوآبادیاتی ڈھانچے کی بقا: تاریخی تسلسل
یہ موازنہ واضح کرتا ہے کہ 1849 کا ریلوے معاہدہ اور 1994 کا آئی پی پیز معاہدہ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ دونوں میں:
* وسائل کا استخراج (Resource Extraction)
* 1849: ریلوے کے ذریعے کپاس، چائے، کوئلہ برطانیہ لے جایا جاتا تھا۔
* 1994: آئی پی پیز کے ذریعے منافع غیر ملکی کمپنیوں کو منتقل کیا جا رہا ہے۔
* ریاستی گارنٹی کا نظام
* 1849: برطانوی حکومت نے کمپنیوں کو گارنٹی دی کہ انہیں نقصان نہیں ہوگا۔
* 1994: پاکستانی حکومت نے آئی پی پیز کو گارنٹی دی کہ وہ کیپیسٹی پیمنٹس لیں گے۔
* عوام کو یرغمال بنانا
* 1849: ہندوستانی عوام ریلوے کے نام پر ٹیکس دیتے رہے، لیکن ریلوے ان کی ضروریات کے مطابق نہیں تھی۔
* 1994: پاکستانی عوام آئی پی پیز کے نام پر مہنگی بجلی خرید رہے ہیں، لیکن سستے متبادل (سولر) کو روکا جا رہا ہے۔
نوآبادیاتی ذہنیت کا تسلسل!!
ایک محقق نے اسے "نوآبادیات کا تسلسل" کہا ہے۔ انگریز چلے گئے، لیکن ان کا بنایا ہوا ڈھانچہ (ریاستی ادارے، معاہدے، قوانین) وہیں کے وہیں ہیں۔ آج بھی فیصلے وہی لوگ کر رہے ہیں جو نوآبادیاتی ذہن رکھتے ہیں - چاہے وہ بیوروکریسی ہو، فوج ہو، یا عدلیہ۔
نتیجہ!!
1849 کا انڈین ریلوے معاہدہ اور 1994 کا آئی پی پیز معاہدہ نوآبادیاتی استحصال کی دو کڑیاں ہیں۔ پونے دو سو سال گزرنے کے باوجود، ڈھانچہ وہیں کا وہیں ہے - صرف رنگ بدلا ہے، حقیقت نہیں۔
پاکستان میں آج بھی وہی "گارنٹیڈ منافع" کا نظام چل رہا ہے، وہی "ڈالر انڈیکسیشن" ہے، وہی "ریاستی گارنٹی" ہے، اور وہی "عوام پر بوجھ" ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے ریلوے تھی، اب بجلی ہے۔ پہلے انگریز تھے، اب آئی ایم ایف اور عالمی سرمایہ دار ہیں۔
طبقاتی جدوجہد کا کام اس ڈھانچے کو بے نقاب کرنا اور عوام کو یہ باور کرانا ہے کہ یہ ریاست ان کی نہیں، اشرافیہ کی ہے۔ جب تک یہ ڈھانچہ نہیں بدلے گا، عوام کی فلاح ممکن نہیں۔
آئیں ملتے ہیں اپنے آج کے کالے انگریز مالکان سے!!
ذیل میں ان گروہوں کا تنقیدی جائزہ پیش ہے جو اس نوآبادیاتی توانائی نظام کے اصل "مالک" ہیں:
پاکستان میں آئی پی پیز کے مالکان: طبقاتی شناخت
1. سیاسی خاندان: جمہوریت کا استحصالی چہرہ
پاکستان میں جمہوریت کا المیہ یہ ہے کہ الیکشن جیتنے والے سیاستدان عوام کے نمائندے نہیں بلکہ بجلی کے تاجر بن کر سامنے آئے ہیں۔
| نام | آئی پی پی / کاروبار | وصول شدہ ادائیگیاں (سالانہ) | طبقاتی شناخت |
| سلمان شہباز | چنیوٹ پاور لمیٹڈ | 1.55 ارب روپے (صرف 33% بجلی پر) | صنعتی خاندان |
| جہانگیر خان ترین | جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز | 1.9 ارب + 77 کروڑ روپے | جاگیردار/شوگر بیرن |
| عبدالرزاق داؤد | روش پاور لمیٹڈ | 6.88 ارب روپے (صرف 4% بجلی پر) | صنعتی گھرانہ |
| ندیم بابر | اورینٹ پاور پراجیکٹ | 5.80 ارب روپے | سیاسی بیوروکریٹ |
تنقیدی نکات!!
* یہ وہی سیاستدان ہیں جو عوام سے بجلی کے بلوں پر "ریلیف" کا وعدہ کرتے ہیں، لیکن اپنے پلانٹس سے چاہے بجلی بنے یا نہ بنے، انہیں پیسے ملتے ہیں۔
* سلمان شہباز کا پلانٹ صرف 33% بجلی پیدا کر رہا تھا، لیکن انہیں پوری کیپیسٹی پیمنٹ ملی۔ یہ ہے "ٹیک اور پے" کا نظام جو صرف نوآبادیاتی اشرافیہ کے لیے ہے۔
2. فوجی ادارے: ریاست کے اندر ریاست
فوجی ادارے نہ صرف ملک کی سلامتی بلکہ اس کی معیشت پر بھی قابض ہیں۔ توانائی کا شعبہ ان کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔
| ادارہ | شراکت داری / کنٹرول | صلاحیت |
| Fauji Foundation | Fauji Cement, KAPCO | مختلف |
| KAPCO | فوجی اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے | ملٹی فیول پاور پلانٹ |
تنقیدی نکات!!
* فوجی ادارے (Fauji Foundation, Askari Foundation) نجی کمپنیوں کی طرح کام کرتے ہیں، لیکن ان پر کوئی پارلیمانی نگرانی نہیں۔
* جب KAPCO جیسی کمپنیاں فوجی اداروں کے ساتھ مل کر سیمنٹ انڈسٹری میں داخل ہوتی ہیں، تو یہ ریاستی طاقت کو نجی منافع میں بدلنے کی واضح مثال ہے۔
3. صنعتی گھرانے: نوآبادیاتی جاگیرداروں کی نئی شکل!!
پاکستان کے چند صنعتی خاندان توانائی کے شعبے پر قابض ہیں، بالکل اسی طرح جیسے 1849 میں انگریز کمپنیاں ریلوے پر قابض تھیں۔
| گروپ | آئی پی پیز / منصوبے | صلاحیت |
| حب پاور کمپنی (HUBCO) | حب، نارووال، تھر انرجی وغیرہ | 2,289 MW |
| نشاط گروپ (میاں منشا) | نشاط پاور، نشاط چونیاں، پاکجن | 4 IPPs، 4 ارب روپے کیپیسٹی پیمنٹس |
| لکی سیمنٹ (یونس برادرز) | لکی الیکٹرک + ونڈ فارم | 710 MW سے زائد |
| سفائر گروپ | سفائر ونڈ + ٹرائکون بوسٹن | 200 MW سے زائد |
تنقیدی نکات!!
* میاں منشا کے گروپ کو صرف کیپیسٹی پیمنٹس میں اربوں روپے ملے۔ یہ رقم عوام کی جیب سے نکلی۔
* HUBCO الیکٹرک گاڑیوں (BYD) کے کاروبار میں بھی داخل ہو چکی ہے۔ یعنی منافع کے نئے ذرائع، لیکن بجلی پھر بھی مہنگی۔
* لکی الیکٹرک کا پلانٹ 2022 میں بنا، لیکن اس کا استعمال (utilization factor) انتہائی کم رہا، لیکن عوام اس کی ادائیگی کر رہے ہیں۔
4. بین الاقوامی کمپنیاں: نوآبادیات کا نیا روپ
آج کے آئی پی پیز میں 18 بین الاقوامی کمپنیاں شامل ہیں۔
| ملک | کمپنیاں | کردار |
| چین | CMEC, SEPCOIII, Hydro China | تعمیراتی معاہدے، مشترکہ منصوبے |
| امریکہ | OPIC | سفائر پراجیکٹ کی فنانسنگ |
طبقاتی کارکن کے لیے سوچ: چند اہم سوالات
* سیاستدان بجلی کے تاجر کیسے بنے؟
* فوجی ادارے منافع کیسے کماتے ہیں؟
* صنعتی گھرانے عوام کو کیوں لوٹ رہے ہیں؟
* بین الاقوامی کمپنیاں منافع کیوں نکال رہی ہیں؟
نتیجہ!!
پاکستان میں آئی پی پیز کا نظام نوآبادیاتی ڈھانچے کا آئینہ دار ہے۔ جس طرح 1849 میں انگریز کمپنیوں کو 5% گارنٹیڈ منافع ملتا تھا، اسی طرح آج یہ گروہ کیپیسٹی پیمنٹس کی صورت میں عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اب انگریز کی جگہ مقامی اشرافیہ نے لے لی ہے۔
طبقاتی جدوجہد کا کام ان چہروں کو بے نقاب کرنا ہے کیونکہ جب تک یہ ڈھانچہ نہیں بدلے گا، عوام کی فلاح ممکن نہیں۔
از قلم!! عمر وارث
عوامی اتحاد پارٹی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Khayaban E Amin
Lahore
